Al-Israa 17:103

Al-Israa · from ayah 103

17:103

فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًا ۟ۙفَاَرَادَ اَنۡ يَّسۡتَفِزَّهُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ فَاَغۡرَقۡنٰهُ وَ مَنۡ مَّعَهٗ جَمِيۡعًا

تو اس نے چاہا کہ ان کو سر زمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا

— Fateh Muhammad Jalandhari

So he intended to drive them from the land, but We drowned him and those with him all together.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 12 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:103

آخرکار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے، مگر ہم نے اس کو اوراس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کر دیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو اس نے چاہا کہ ان کو سر زمین (مصر) سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آخر فرعون نے پختہ اراده کر لیا کہ انہیں زمین سے ہی اکھیڑ دے تو ہم نے خود اسے اور اس کے تمام ساتھیوں کو غرق کر دیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر فرعون نے یہ ارادہ کیا تھا کہ ان سب (بنو اسرائیل) کو اس سرزمین سے اکھاڑ پھینکے، لیکن ہم نے اسے اور جتنے لوگ اس کے ساتھ تھے، ان سب کو غرق کردیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اس نے چاہا کہ ان کو زمین سے نکال دے تو ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو سب کو ڈبو دیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر (فرعون نے) ارادہ کیا کہ ان کو (یعنی موسٰی علیہ السلام اور ان کی قوم کو) سر زمینِ (مصر) سے اکھاڑ کر پھینک دے پس ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو اس نے ارادہ کیا کہ انھیں اس سر زمین سے پھسلا دے تو ہم نے اسے اور جو اس کے ساتھ تھے، سب کو غرق کردیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اب فرعون نے یہ چاہا کہ بنی اسرائیل کو اس ملک سے اکھاڑ پھینکے تو ہم نے اسے اور جو اس کے ہمراہ تھے سب کو غرق کردیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کے بعد اس نے ارادہ کیا کہ ان کے قدم اس سرزمین سے اکھاڑ دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو فرعون نے چاہا تھا کہ اکھاڑ پھینکے ان سب کو اس سرزمین سے، مگر اس کے نتیجے میں ہم نے غرق کردیا خود فرعون کو اور ان سب کو جو اس کے ساتھ تھے یکجا طور پر،

— مولانا اسحاق مدنی

سو اس نے چاہا کہ ان کا قدم (اس) سرزمین سے اکھاڑ دے سو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو اس نے ارادہ کیا کہ انہیں اکھاڑ پھینکے زمین سے لیکن ہم نے غرق کردیا اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو اس نے چاہا کہ ان کو مصر سے نکال دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو ڈبو دیا

— محترمہ رفعت اعجاز

At last Pharaoh decided to uproot Moses and the Children of Israel from the land, but We drowned him together with all who were with him;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then he (Pharaoh) tried to harass them to drive them out of the land, so We drowned him and those with him altogether,

— Muhammad Taqi Usmani

Then he (Pharaoh) tried to harass them to drive them out of the land, so We drowned him and those with him altogether,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So he resolved to turn them out of the land. But We drowned him and all who were with him.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he wished to scare them from the land, but We drowned him and those with him, all together.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So he intended to drive them from the land, but We drowned him and those with him all together.

— Saheeh International

The Pharaoh wanted to expel the Israelites from the land so We drowned him and all who were with him.

— Muhammad Sarwar

So he desired to destroy them out of the earth, but We drowned him and those with him all together;

— Muhammad Habib Shakir

Then he besought to unsettle them from the land; wherefore We drowned him and those with him, all together.

— Abdul Majid Daryabadi

So he resolved to remove them from the face of the earth: but We did drown him and all who were with him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:103

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 101–104

پانچ معجزے حضرت موسیٰ ؑ کو تو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں ہاتھ کا چمکیلا بن جانا۔ لکڑی کا سانپ ہوجانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورة اعراف میں ہے اور مالوں کا مٹ جانا اور پتھر۔ ابن عباس وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ معجزے آپ کا ہاتھ، آپ کی لکڑی، قحط سالیاں پھلوں کی کمی طوفان ٹڈیان جوئیں مینڈگ اور خون ہیں۔ یہ قول زیادہ ظاہر، بہت صاف، بہتر اور قوی ہے۔ حسن بصری ؒ نے ان میں سے قحط سالی اور پھلوں کی کمی کو ایک گن کر نواں معجزہ آپ کی لکڑی کا جادو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 102–103

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 115 یہ بات حضرت موسیٰ ؑ نے اس لیے فرمائی کہ کسی ملک پر قحط آجانا، یا لاکھوں مربع میل زمین پر پھیلے ہوئے علاقے میں مینڈکوں کا ایک بلا کی طرح نکلنا، یا تمام ملک کے غلے کے گوداموں میں گھن لگ جانا، اور ایسے ہی دوسرے عام مصائب کسی جادو گر کے جادو، یا کسی انسانی طاقت کے کرتب سے رونما نہیں ہو سکتے۔ پھر جبکہ ہر بلا کے نزول سے پہلے حضرت موسیٰ ؑ فرعون کو نوٹس دے دیتے تھے کہ اگر تو اپنی ہٹ سے باز نہ آیا تو یہ بلا تیری سلطنت پر مسلط کی جائے گی، اور ٹھیک ان کے بیان کے مطابق وہی بلا پوری سلطنت پر نازل ہوجاتی تھی، تو اس صورت میں صرف ایک دیوانہ یا ایک سخت ہٹ دھرم آدمی ہی یہ کہہ سکتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–108

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کھلے ہوئے نو معجزے دیئے (جنکا ذکر پارہ نہم کے رکوع ششم آیت اول میں ہے) جبکہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے سو آپ بنی اسرائیل سے (بھی چاہے) پوچھ دیکھئے (اور چونکہ آپ فرعون کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور فرعون وآل فرعون کے ایمان نہ لانے سے وہ عجائبات معجزات ظاہر ہوئے تھے اس لئے موسیٰ ؑ نے فرعون کو دوبارہ ایمان لانے کے لئے یاد دہانی کی اور ان آیات بینہ سے ڈرایا) تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو ضرور تم پر کسی نے جادو کردیا ہے (جس سے تمہاری عقل مخبوط ہوگئی کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو) موسیٰ ؑ نے فرمایا تو (دل میں) خوب جانتا ہے (گو عار کیوجہ سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَفِزَّهُمْ مِنَ الأرْضِ فَأَغْرَقْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ جَمِيعًا۔ چناچہ اس کے بعد اس نے اپنا پورا زور صرف کردیا کہ حجرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کے قدم سرزمین مصر سے اکھاڑ دے اور اس کی سزا اس کو یہ ملی کہ خدا نے اس کو اور اس کے سارے ساتھیوں کو غرق کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 101–103

11۔ 1 وہ نو معجزے ہیں۔ ہاتھ، لاٹھی، قحط سالی، نقص ثمرات، طوفان، جراد (ٹڈی دل) قمل (کھٹمل، جوئیں) ضفاد (مینڈک) اور خون، امام حسن بصری کہتے ہیں، کہ قحط سالی اور نقص ثمرات ایک ہی چیز ہے اور نواں معجزہ لاٹھی کا جادو گروں کی شعبدہ بازی کو نگل جانا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ کو ان کے علاوہ بھی معجزات دیئے گئے تھے مثلًا لاٹھی کا پتھر پر مارنا، جس سے بارہ چشمے ظاہر ہوگئے تھے، بادلوں کا سایہ کرنا، من وسلوی وغیرہ۔ لیکن یہاں آیات تسعہ سے صرف وہی نو معجزات مراد ہیں، جن کا مشاہدہ فرعون اور اس کی قوم نے کیا۔ اسی لیے حضرت ابن عباس ؓ نے انفلاق بحر (سمندر کا پھٹ کر راستہ بن جانے) کو بھی ان نو معجزات میں شمار کیا ہے اور…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 101–107

53: ایک صحیح حدیث میں ان نو نشانیوں کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ نو احکام تھے : شرک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی کو ناحق قتل نہ کرو، کسی پر جھوٹا الزام لگا کر اسے قتل یا سزا کے لئے پیش نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو، اور جہاد میں پیٹھ دکھاکر نہ بھاگو۔ (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 103–104

فاراد ان یستفزھم من الارض (71 : 301) ” آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے “۔ تمام ڈکٹیٹر اور سرکش لوگ کلمہ حق کے بارے میں یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ ان کے پاس کلمہ حق کا یہی جواب ہوتا ہے۔ اس مقام پر آکر ایسے سرکشوں پر اللہ کا کلمہ اور اللہ کی سنت کا اطلاق برحق ہوجاتا ہے اور پھر اللہ کی اٹل سنت کے مطابق ، ظالموں کو ہلاک کردیا جاتا ہے اور زمین کے اندر جو کمزور اہل ایمان اور صبر کرنے والے طبقات ہوتے ہیں ، ان کو زمین کو وارث بنا دیا جاتا ہے۔ فاغرقنہ………(401) (71 : 301۔ 401) ” مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 جب فرعون نے دیکھا کہ موسیٰ کا اثر بڑھتا جاتا ہے۔ سمجھا کہ بنی اسرائیل کہیں زور نہ پکڑ جائیں اس لیے ان کو اور زیادہ ستانا شروع کیا کہ یہ مصر میں امن چین سے رہنے نہ پائیں۔ آخر ہم نے اسی کو نہ رہنے دیا اور بحرقلزم میں سب ظالموں کا بیڑہ غرق کردیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 103 فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فرعون باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا تھا۔ وہ ان کے لڑکوں کو قتل کروا دیتا اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ اور کسی بھی قوم کے مکمل استیصال کا اس سے زیادہ مؤثر طریقہ بھلا اور کیا ہوسکتا ہے !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

122 فرعون کی بنی اسرائیل کے استیصال کی کوشش اور تعاقب میں غرقابی :۔ فرعون نے بنی اسرائیل پر صرف اس جرم کی پاداش میں کہ وہ سیدنا موسیٰ پر ایمان لانے لگے تھے، طرح طرح کی سختیاں شروع کردی تھیں نیز اس سزا کو نئے سرے سے نافذ کردیا جو پہلے اس کے باپ نے نافذ کی تھی۔ یعنی بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکوں کو قتل کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ باپ فرعون رعمیس کا اس سزا سے یہ مقصد تھا کہ موسیٰ اگر پیدا ہوں تو اسی وقت انھیں ختم کردیا جائے تاکہ اس کی حکومت پر آنچ نہ آنے پائے اور بیٹے فرعون منفتاح نے یہ سزا اس لیے جاری کی کہ بنی اسرائیل کی اس طرح نسل کشی کرکے اس ملک سے ان کا خاتمہ ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

149۔ یعنی قبل اس کے کہ وہ خدا پرستوں کو مٹا سکے وہ خود ہی ملیامیٹ کردیا گیا، فرعون کی غرقابی پر مفصل چاشیے پارہ اول میں گزر چکے۔ (آیت) ” یستغفزھم “۔ ضمیر بنی اسرائیل کی جانب ہے۔ آیت میں اشارہ فرعون کی اس کوشش کی جانب ہے کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ملک بدر کردے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–111

آیت نمبر 101 تا 111 ترجمہ : اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو معجزے بالکل واضح عطا کئے تھے اور وہ یہ ہیں (1) یدبیضاء، (2) عصا، (3) طوفان، (4) ٹڈیاں، (5) جوئیں، (6) مینڈک، (7) خون، (8) ہلاکت اموال، (9) خشک سالی اور پھلوں کی کمی (اے محمد) تم خود موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل سے پوچھ لو یہ سوال آپ کی صداقت کا مشرکین سے اقرار کرانے کے طور پر ہے یا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کا سوال کرو اور ایک قراءت میں (سَئَلَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہے، (یعنی سوال کیا) جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو سحر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ : پھر اس نے چاہا کہ اس سرزمین سے بنی اسرائیل کا قدم اکھاڑ دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ فرعون حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کو برحق جانتا تھا ‘ لیکن عناد کی وجہ سے انکار کرتا تھا۔ اللہ نے فرمایا ہے (وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَا اَنْفُسُہُمْ ) انہوں نے معجزات کا انکار کیا مگر دل سے وہ یقین رکھتے تھے۔ بصَائربصیرت کی جمع ہے یعنی یہ آیات و معجزات میری سچائی کو تیرے سامنے ظاہر کر رہے ہیں مگر تو عناداً انکار کر رہا ہے۔ مَثْبُوْرًا کا ترجمہ حضرت ابن عباس ؓ نے ملعون کیا ہے اور مجاہد نے ہلاک شدہ اور قتادہ نے ہلاک کردہ۔ فراء نے کہا عرب کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(103) یہ دیکھ کر فرعون نے چاہا کہ سرزمین اردن یا فلسطین سے بنی اسرائیل کے قدم اکھاڑ دے نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اس سے پہلے ہی اس کو اور اس کے ساتھیوں کو دریا میں غرق کردیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ۔۔ : ”الْاَرْضِ“ میں الف لام عہد کا ہے، یعنی زمین مصر۔ یعنی فرعون کا ارادہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل کو بےدریغ قتل کرکے اتنا خوف زدہ کردے کہ وہ ایک ایک کرکے ملک سے نکل جائیں۔ وہ انھیں اطمینان سے اکھٹے ہجرت کی اجازت نہیں دینا چاہتا تھا، مگر اس کے منصوبے دھرے رہ گئے اور اللہ تعالیٰ نے سارے بنی اسرائیل کو اکٹھے خیریت سے نکال لیا اور فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔ ان کے غرق ہونے کا واقعہ سورة یونس (88 تا 92) میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔ ابن کثیر ؓ نے فرمایا، اس آیت میں فتح مکہ کی طرف بھی اشارہ ہے، اگرچہ سورت مکی ہے۔ یہاں فرعون کا ارادہ ہے : (فَاَرَادَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 103–104

آیت نمبر 103 تا 104 قولہ تعالیٰ : فاراد ان یستفزھم من الارض یعنی فرعون نے ارادہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو مصر کی زمین سے نکال دے یا قتل کرکے یا وہاں سے دور نکال کر، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کردیا۔ وقلنا من بعدہ اور ہم نے حکم دیا اسے غرق کرنے کے بعد۔ لبنی اسراء یل اسکنوا الارض بنی اسرائیل کو کہ تم شام اور مصر کی زمین میں آباد ہوجاؤ۔ فاذا جآء وعد الاخرۃ پس جب قیامت کا وعدہ آئے گا۔ جئنابکم لفیفا تو ہم تمہیں تمہاری قبروں سے لے آئیں گے اس حال میں کہ ہر جگہ سے اکٹھے ہوگے، تحقیق مومن کافر کے ساتھ مل جائے گا اور ایک دوسرے کی پہچان نہیں کرسکیں گے، اور تم میں سے کوئی بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 101–105

1:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم کے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت “ سے مراد یہ نشانیاں ہیں یدبیضاء، عصا، طوفان، مکڑی، چیچڑی، مینڈک، خون قحط سالی اور پھلوں میں نقصان (یہ نومعجزات موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے) 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تسع ایت بینت “ سے مراد ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ انکی لاٹھی انکی زبان، سمندری، مکڑی، جوئیں، مینڈک اور خون (یہ ان کے معجزات تھے) 3:۔ طیالسی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَاَرَادَ : پھر اس (فرعون) نے ارادہ کیا ] [ان : کہ ] [يَّسْتَفِزَّ : وہ اکھاڑ دے ] [هُمْ : ان لوگوں کو ] [مِّنَ الْاَرْضِ : زمین (ملک) سے ] [فَاَغْرَقْنٰهُ : تو ہم نے غرق کیا اس کو ] [وَمَنْ : اور ان کو جو ] [مَّعَهٗ : اس کے ساتھ تھے ] [جَمِيْعًا : سب کے سب کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 101–104

موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں دیں فرعون اپنے ساتھیوں کے ساتھ غرق کردیا گیا اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ زمین میں رہو سہو ابتدائے سورت میں واقعہ معراج کے بعد بنی اسرائیل کے بعض واقعات بیان فرمائے اور ان سے فرمایا (اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا) اس کے بعد مشرکین کے اعمال و اقوال اور عقیدہ شرک کی تردید فرمائی اور درمیان میں بعض مامورات اور منہیات بھی ذکر فرما دئیے پھر مشرکین کے عناد اور تکذیب کا تذکرہ فرمایا اب سورت کے ختم ہونے کے قریب بھی بنی اسرائیل اور ان کے دشمن فرعون کا تذکرہ فرمایا جس میں بنی اسرائیل یعنی یہود کے لیے اور تمام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–109

ذکر معجزات موسویہ برائے تحقیق رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت .... الیٰ .... ویزیدھم خشوعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مخالفین کے معاندانہ سوالات کا ذکر تھا اب ان آیات میں معجزات موسویہ یعنی ان نشانیوں کو ذکر کرتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی تہدید کے لیے عطا کی تھیں مگر باوجود اس کے وہ ایمان نہیں لائے اور بالآخر ہلاک ہوئے اور غرق ہوئے اسی طرح تم محمد رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہاری سفارش کے مطابق وہ معجزات ظاہر کر بھی دئیے جائیں تب بھی تم محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کروگے۔ جس طرح وہ متکبر اور جبار…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 102–104

88:۔ فرعون کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ جادو نہیں بلکہ یہ معجزات ہیں جو آسمان و زمین کے مالک نے اپنی قدرت وو وحدانیت اور میری صداقت پر بطور دلائل ظاہر فرمائے ہیں۔ اے فرعون ! سن لے مجھے یقین ہے کہ تو تباہ و برباد ہوگا اس لیے کہ تو نے معجزوں کو جادو کہا اللہ کی توحید کا انکار کیا اور میری تکذیب کی۔ ” فاراد ان یستفزھم الخ “ اس کے بعد فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکالنے کی ٹھان لی تو ہم نے اس کو مع لاؤ لشکر غرق کردیا اور بنی اسرائیل سے کہا تم ملک شام میں رہو اور میری ہدایات پر عمل کرو۔ قیامت کو میں تم سب کو حساب کیلئے اکٹھا کروں گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–104

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار ومشرکین کے تعصب ، ضد اور عناد کا ذکر کیا کہ وہ بیہودہ فرمائشیں کرتے تھے ، اللہ کی توحید کا انکار کرتے تھے رسالت ونبوت پر اعتراضات کرتے تھے اور معاد کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، ان اعتراضات کا جواب گذشتہ درس میں دیا جا چکا ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نو نشانیوں اور فرعون اور قوم فرعون کی نافرمانی کا ذکر کیا ہے اس سے اہل ایمان کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح قوم فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کی واض ح نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائی تھی ، اسی طرح مشرکین اپنی مطوبہ نشانیاں پا کر بھی ایمان سے محروم ہی رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ جَمِيْعًا 103؀ۙ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 101–104

2 ؎ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ دویہودیوں نے آ کر آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ نو نشانیاں کون سی دی تھیں ؟ آپ نے جواب شافی دیا، ان کو بیان کردیا انہوں نے ہاتھ پائوں چوم لیے اور کہا تو بیشک نبی ہے فقیر کہتا ہے کہ ان نشانیوں سے مراد جو یہود نے پوچھی تھیں احکام عشرہ تھے جو توریت میں موجود ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرک نہ کرو الخ اور یہاں تو معجزات مراد ہیں۔ 12 منہ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 103–104

فَاَرَادَاَنْ یَّسْتَـفِزَّھُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْـنٰـہُ وَمَنْ مَّعَہٗ جَمِیْعًا۔ وَّقُلْنَا مِنْ م بَعْدِہٖ لِبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اسْکُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآئَ وَعْدُالْاٰخِرَۃِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیْفًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 103۔ 104) (پس فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے، تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا۔ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو اکٹھا کرکے لائیں گے۔ ) قریش کے لیے آئینہ فرعون اور آل فرعون کی تمام تر سختیوں اور اذیتوں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 102–103

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی کشمکش کا ذکر جاری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کا الزام سننے کے بعد نہایت حوصلہ اور سمجھ داری کے ساتھ فرمایا۔ اے فرعون ! تو اچھی طرح جانتا ہے کہ جو معجزے میں تیرے سامنے پیش کر رہا ہوں وہ میرے اور کسی انسان کے بس کا روگ نہیں۔ یہ تو اس رب کی طرف سے ہیں جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس راستے پر تم چل رہے ہو۔ یہ راستہ تیری اور تیری قوم کی تباہی کا راستہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے معجزات پیش کرتے ہوئے ” بَصَاءِرُ “ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس کا واحد بَصِیْرَۃٌہے۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

103: فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّھُمْ (اس نے ارادہ کیا کہ وہ ان کے قدم اکھاڑ دے) یعنی موسیٰ علیہ اسلام اور ان کی قوم کو نکال دے۔ مِّنَ الْاَرْضِ (زمین سے) یعنی ارض مصر سے یا سطح زمین سے ان کو قتل واستیصال سے جلا وطن کرے۔ فَاَغْرَقْنٰہُ وَمَنْ مَّعَہٗ جَمِیْعًا (پس ہم نے اس کو اور اس کے تمام ساتھ والوں کو غرق کردیا) پس اس کی تدابیر اسی پر طاری ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قبطیوں سمیت مصر سے اکھاڑ دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

103۔” فار اد ان یستفزھم “ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو اس ملک سے اکھاڑ دے۔ ” من الارض “ مصر کی سر زمین سے ۔” فاغرقناہ ومن معہ جمعیاً “ ہم نے موسیٰ علیہ السلا م اور اس کی قوم کو نجات دے دی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–104

102۔ 104:۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیت میں یہ ذکر فرمایا تھا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں دے کر فرعون کے پاس رسول بنا کر بھیجا تھا، فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو جادوگر تصور کیا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون کیا تو نہیں جانتا کہ یہ نشانیاں اس نے اتاری ہیں جو آسمان اور زمین سارے جہان کا پیدا کرنے والا ہے اور یہ نشانیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور ان نشانیوں سے اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت کا پورا پورا پتہ چلتا ہے تو جو اس کا انکار کرتا ہے اور اسے نہیں مانتا مجھے جادوگر خیال کرتا ہے ان باتوں سے ضرور ہلاک ہوجائے گا۔ فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–104

(آیت نمبر (101 یعنی اے رسول ! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے۔۔۔ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی ہم نے اپ ﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا ‘ ہم نے انہیں عطا کیے (تسع ایت بینت ) ” نو معجزات “ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں ایک ہی معجزہ کافی ہے۔۔۔ جیسے اژدہا ‘ عصا ‘ طوفانً ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جوئیں ‘ مینڈ ‘ خون ‘ یدبیضا اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے (فسعل بنی اسرائیل اذا جاء کم فقال لہ فرعون ) ” تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو ( ان معجزات کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 88–105

اعجاز قرآن قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

190۔ فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کو اکھاڑ پھینکنے کا مصوبہ :۔ سو اس کے بعد فرعون نے چاہا کہ اکھاڑ پھینکے ان سب کو اس سرزمین سے۔ یعنی سرزمین مصر سے طرح طرح کے مظالم ڈھا کر اور قسما قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے کام لے کر تاکہ اس طرح اس کیخلاف کہیں سے کوئی آواز نہ اٹھنے پائے۔ مگر اس کی ان سازشوں اور مکر وکید کا وبال الٹا اسی پر پڑا اور وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق قلزم ہو کر فی النار والسقر ہوگیا۔ اور ایسا کہ اس کا نام ونشان بھی ہمیشہ کیلئے مٹ گیا۔ سو سب پر غالب قوت قاہرہ اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنے ترکی بہ ترکی جواب سے فرعون کے سامنے اس بات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–111

کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–111

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:103) یستفزہم۔ مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان۔ استفزاز (استفعال) مصدر کہ ان کے قدم اکھاڑدے۔ ہم ضمیر بنی اسرائیل کی طرف راجع ہے استفزاز کسی کو ہلکا اور حقیر سمجھنا۔ ڈرانا۔ کسی کو اس کی جگہ سے اکھاڑ دینا۔ گھر سے باہر نکال دینا۔ یہاں مؤخر الذکر معنی مراد ہیں۔ نیز ملاحظہ ہو آیت نمبر 76 مذکورہ بالا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–109

لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 109 تسع نو۔ اسئل پوچھئے۔ مسحور جادو کیا گیا۔ سحر زدہ۔ بصائر سمجھ بوجھ کی باتیں۔ مثور تباہ کیا جانے اولا۔ اسکنوا آباد ہوجاؤ۔ رہو سہو۔ لفیف سمیٹ کر۔ فرقنا ہم نے جدا کیا۔ مکت ٹھرٹھر کر۔ تنزیل آہستہ آہستہ اتارنا۔ اوتوالعلم علم دیا گیا۔ یتلی پڑھا گیا۔ یخرون وہ گر پڑتے ہیں۔ اذقان تھوڑیاں۔ یبکون وہ روتے ہیں۔ خشوع خشوع۔ عاجزی و انکساری ۔ تشریح : آیت نمبر 101 تا 109 انبیاء کرام کو معجزات اس لئے دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر کفار اپنے کفر سے توبہ کرلیں اور سالام کی سچائیوں کو قبول کرلیں۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایسے نو معجزات عطا کئے تھے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–104

فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر تصور کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون ! کیا تو نہیں جانتا کہ یہ نشانیاں اس نے اتاری ہیں جو آسمان اور زمین سارے جہان کا پیدا کرنے والا ہے اور یہ نشانیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور ان نشانیوں سے اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت کا پورا پورا پتہ چلتا ہے۔ تو جو اس کا انکار کرتا ہے اور اسے نہیں مانتا مجھے جادوگر خیال کرتا ہے، ان باتوں سے ضرور ہلاک ہوجائے گا۔ فرعون نے اس بات کو سن کر یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو جلا وطن کرکے مصر سے کہیں دور نکال دیوے گا مگر اللہ عالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 101–104

[65] یہاں پھر مشرکین کے معجزوں کے مطالبے کا جواب دیا گیا ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جن معجزوں کا مطالبہ تم کررہے ہو تو فرعون کو بھی ایسے ہی نو صریح معجزات دکھائے گئے تھے پھر بھی اس نے پیغمبر کو جھٹلایا۔ ان نو معجزات کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 103–105

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بن اسرائیل کی آزادی کے لئے تشریف لا کے اور فرعون کو بہت سی نشانیاں دکھائیں اور کہا کہ میں خدا کی طرف سے حریت وآزادی کا پرچم لہرانے آیا ہوں ، میں اس لئے مبعوث ہوا ہوں کہ بنی اسرائیل کی غلامی کو دور کروں ، اور تجھے کیفر کردار تک پہنچاؤں تو فرعون نے از راہ کبر کہا میری رائے میں تمہارا دماغ صحیح نہیں ہے ، میری حکومت کو کون الٹ سکتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ، مجھے اپنی حقانیت پر یقین ہے اور دل میں تو بھی جانتا ہے کہ مجھے میرے رب نے بھیجا ہے ، اور بصائر و دلائل سے نوازا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارے لئے ہلاکت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

103 ۔ پھر فرعون نے ارادہ کیا کہ سر زمین مصر سے بنی اسرائیل کو اکھیڑ دے اور ان کو گھبرا دے یعنی قتل کر دے یا نکال دے اس پر ہم نے فرعون کو اور اس کے ساتھیوں کو سب غرق کردیا اور سمندر میں ڈبو دیا یعنی فرعون کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا جواب بن نہ آیا تو اس نے یہ تدبیر سوچی کہ بنی اسرائیل کو ختم کیا جائے تاکہ یہ فرعون غیر ملکیوں کا قصہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو یہ تدبیر سوچ کر مسلمانوں پر از سر نو زیادتی شروع کردی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون نے موسیٰ اور اسکے ماننے والوں سے ملک کو پاک کردینا چاہا تو ہم نے اسکو غرق کردیا : 121۔ جب فرعون اور اس کے ساتھیوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اور دوسرے بنی اسرائیل کو ملک سے نکل جانے کی اجازت بھی نہ دی اور ان کو اپنے ملک کے اندر ہی رکھ کر مجبور محض بنا دینا چاہا تو ہمارا قانون غیرت جاگ پڑا جس کا نتجہ یہ ہوا کہ ہم نے اس کے اور اس کے ماننے والوں کے غرق کردینے کا پختہ ارادہ کرلیا پھر کوئی نہ ہوا جو ہمارے ارادہ کو روک سکتا ، اسی طرح ہم نے بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے فرعون کو مع اس کے لاؤلشکر کے آن کی آن میں غرق کرکے رکھ دیا اور ہمارے قانون کی گرفت جب آتی ہے تو وہ بہت ہی سخت آتی ہے اس طرح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–108

Commentary The first verse (101): وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ mentions the bestowal of nine clear signs on Sayyidna Musa (علیہ السلام) . The word: آیَہ ('ayah) carries the meaning of miracle or sign as well as that of the آیَت : ayat or verses of the Qur'an, that is, the divine injunctions. At this place, the probability of both meanings exists. Therefore, a number of commentators have taken the word 'ayat' to mean miracles - and the number nine does not make it necessary that they will not be more than nine - but, at this place, the figure 'nine' has been mentioned on the basis…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 102–103

116. That is, I am not a bewitched man but you are indeed a doomed person. As you have been persistent in your disbelief even after seeing such obvious divine signs, you are surety doomed to destruction. 117. This part of the story of Pharaoh has been related here because it applied exactly to the mushriks of Makkah who were doing their best to uproot the Prophet (peace be upon him) and the believers from the land of Arabia. This story, so to say, tells them: Pharaoh resolved to uproot Moses (peace be upon him) and the Israelites but was himself completely annihilated along with his…

Read the full tafseer →