Al-Israa 17:104

Al-Israa · from ayah 104

17:104

وَّقُلْنَا مِنْ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًا ۟ؕوَّقُلۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ لِبَنِىۡۤ اِسۡرَاۤءِيۡلَ اسۡكُنُوا الۡاَرۡضَ فَاِذَا جَآءَ وَعۡدُ الۡاٰخِرَةِ جِئۡنَا بِكُمۡ لَفِيۡفًا

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We said after Pharaoh to the Children of Israel, "Dwell in the land, and when there comes the promise of the Hereafter, We will bring you forth in [one] gathering."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 12 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:104

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لا حاضر کریں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو سہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کرکے لے آئیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرما دیا کہ اس سرزمین پر تم رہو سہو۔ ہاں جب آخرت کا وعده آئے گا ہم تم سب کو سمیٹ اور لپیٹ کر لے آئیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اس کے بعد بنو اسرائیل سے کہا کہ : تم زمین میں بسو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے حاضر کردیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے فرمایا اس زمین میں بسو پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تم سب کو گھال میل (لپیٹ کر) لے آئیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل سے فرمایا: تم اس ملک میں آباد ہو جاؤ پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا (تو) ہم تم سب کو اکٹھا سمیٹ کر لے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس سرزمین میں رہو، پھر جب آخرت کا وعدہ آئے گا ہم تمہیں اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اس سرزمین میں آباد ہوجاؤ۔ پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آئے گا تو ہم تمہیں اکٹھا کرکے لے آئیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم ملک میں رہو بسو، پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو اکٹھا کرکے لائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم لوگ رہو بسو، اس زمین میں، پھر جب آپہنچے گا آخرت کے وعدے کا وقت، تو ہم لے آئیں گے تم سب کو اکٹھا کر کے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے اس کے (غرق ہونے کے) بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ روئے زمین پر رہو بسو پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا ہم تم (سب) کو سمیٹ لائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ تم لوگ زمین میں آباد ہوجاؤ پھر جب آئے گا پچھلے وعدے کا وقت تو ہم لے آئیں گے تم سب کو سمیٹ کر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس ملک میں رہو پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لے آئیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and thereafter We said to the Children of Israel: "Now dwell in the land, but when the promised time of the Hereafter comes, We shall bring you all together."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and thereafter We said to the children of Isra‘il, :Live in the land. So, when the appointed time of the Hereafter will come, We shall bring you all joined together.

— Muhammad Taqi Usmani

and thereafter We said to the children of Isra‘il, :Live in the land. So, when the appointed time of the Hereafter will come, We shall bring you all joined together.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We said to the Children of Israel after him: "Dwell in the land, then, when the final and the last promise comes near, We shall bring you altogether as mixed crowd."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We said unto the Children of Israel after him: Dwell in the land; but when the promise of the Hereafter cometh to pass We shall bring you as a crowd gathered out of various nations.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We said after Pharaoh to the Children of Israel, "Dwell in the land, and when there comes the promise of the Hereafter, We will bring you forth in [one] gathering."

— Saheeh International

We told the Israelites after this to settle in the land until Our second promise will come true. We would then gather them all together (on the Day of Judgment).

— Muhammad Sarwar

And We said to the Israelites after him: Dwell in the land: and when the promise of the next life shall come to pass, we will bring you both together in judgment.

— Muhammad Habib Shakir

And We said, after him, unto the Children of Isra'l: dwell on the earth, then when there cometh the promise of the Hereafter, We shall bring you as a crowd.

— Abdul Majid Daryabadi

And We said thereafter to the Children of Israel, "Dwell securely in the land (of promise)": but when the second of the warnings came to pass, We gathered you together in a mingled crowd.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:104

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 101–104

پانچ معجزے حضرت موسیٰ ؑ کو تو ایسے معجزے ملے جو آپ کی نبوت کی صداقت اور نبوت پر کھلی دلیل تھی۔ لکڑی، ہاتھ، قحط، دریا، طوفان، ٹڈیاں، جوئیں، مینڈک اور خون۔ یہ تھیں تفصیل وار آیتیں۔ محمد بن کعب کا قول ہے کہ یہ معجزے یہ ہیں ہاتھ کا چمکیلا بن جانا۔ لکڑی کا سانپ ہوجانا اور پانچ وہ جن کا بیان سورة اعراف میں ہے اور مالوں کا مٹ جانا اور پتھر۔ ابن عباس وغیرہ سے مروی ہے کہ یہ معجزے آپ کا ہاتھ، آپ کی لکڑی، قحط سالیاں پھلوں کی کمی طوفان ٹڈیان جوئیں مینڈگ اور خون ہیں۔ یہ قول زیادہ ظاہر، بہت صاف، بہتر اور قوی ہے۔ حسن بصری ؒ نے ان میں سے قحط سالی اور پھلوں کی کمی کو ایک گن کر نواں معجزہ آپ کی لکڑی کا جادو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 117 یہ ہے اصل غرض اس قصے کو بیان کرنے کی۔ مشرکین مکہ اس فکر میں تھے کہ مسلمانوں کو اور نبی ﷺ کو سر زمین عرب سے ناپید کردیں۔ اس پر انہیں یہ سنایا جا رہا ہے کہ یہی کچھ فرعون نے موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کے ساتھ کرنا چاہا تھا۔ مگر ہوا یہ کہ فرعون اور اس کے ساتھی ناپید کردیے گئے اور زمین پر موسیٰ ؑ اور پیروان موسیٰ ؑ ہی بسائے گئے۔ اب اگر اسی روش پر تم چلو گے تو تمہارا انجام اس سے کچھ بھی مختلف نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–108

خلاصہ تفسیر اور ہم نے موسیٰ ؑ کو کھلے ہوئے نو معجزے دیئے (جنکا ذکر پارہ نہم کے رکوع ششم آیت اول میں ہے) جبکہ وہ بنی اسرائیل کے پاس آئے تھے سو آپ بنی اسرائیل سے (بھی چاہے) پوچھ دیکھئے (اور چونکہ آپ فرعون کی طرف بھی بھیجے گئے تھے اور فرعون وآل فرعون کے ایمان نہ لانے سے وہ عجائبات معجزات ظاہر ہوئے تھے اس لئے موسیٰ ؑ نے فرعون کو دوبارہ ایمان لانے کے لئے یاد دہانی کی اور ان آیات بینہ سے ڈرایا) تو فرعون نے ان سے کہا کہ اے موسیٰ میرے خیال میں تو ضرور تم پر کسی نے جادو کردیا ہے (جس سے تمہاری عقل مخبوط ہوگئی کہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو) موسیٰ ؑ نے فرمایا تو (دل میں) خوب جانتا ہے (گو عار کیوجہ سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرعون کو غرق کرنے کے بعد بنی اسرائیل پر انعام : وَقُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ اسْكُنُوا الأرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا۔ فرعون کو غرق کرنے کے بعد یہ بنی اسرائیل پر انعام ہوا کہ اللہ نے ان کو ارض مقدس میں بسایا۔ " الارض " سے مراد یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ارض مقدس ہے جس کا بنی اسرائیل سے وعدہ تھا۔ اس وعدے کو پورا کرتے وقت اللہ نے ان کو آخرت کا وعدہ بھی یاد دلا دیا تھا کہ اس کامیابی کی خوشیوں میں آخرت کو نہ بھول جانا۔ جس طرح اپنے وعدے کے مطابق ہم تم کو سمیٹ کر یہاں لائے ہیں اسی طرح اپنے وعدے کے بموجب ایک دن سمیٹ کر حساب کتاب کے لیے حشر کے میدان میں جمع…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 بظاہر اس سرزمین جس سے فرعون نے موسیٰ ؑ اور ان کی قوم کو نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر تاریخ بنی اسرائیل کی شہادت یہ ہے کہ مصر سے نکلنے کے بعد دوبارہ مصر نہیں گئے، بلکہ چالیس سال میدان تیہ میں گزار کر فلسطین میں داخل ہوئے۔ اس کی شہادت سورة اعراف وغیرہ میں قرآن کے بیان سے ملتی ہے۔ اس لئے صحیح یہی ہے کہ اس سے مراد فلسطین کی سرزمین ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 101–107

53: ایک صحیح حدیث میں ان نو نشانیوں کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ نو احکام تھے : شرک نہ کرو، چوری نہ کرو، زنا نہ کرو، کسی کو ناحق قتل نہ کرو، کسی پر جھوٹا الزام لگا کر اسے قتل یا سزا کے لئے پیش نہ کرو، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ، پاک دامن عورتوں پر بہتان نہ باندھو، اور جہاد میں پیٹھ دکھاکر نہ بھاگو۔ (ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 103–104

فاراد ان یستفزھم من الارض (71 : 301) ” آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے “۔ تمام ڈکٹیٹر اور سرکش لوگ کلمہ حق کے بارے میں یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔ ان کے پاس کلمہ حق کا یہی جواب ہوتا ہے۔ اس مقام پر آکر ایسے سرکشوں پر اللہ کا کلمہ اور اللہ کی سنت کا اطلاق برحق ہوجاتا ہے اور پھر اللہ کی اٹل سنت کے مطابق ، ظالموں کو ہلاک کردیا جاتا ہے اور زمین کے اندر جو کمزور اہل ایمان اور صبر کرنے والے طبقات ہوتے ہیں ، ان کو زمین کو وارث بنا دیا جاتا ہے۔ فاغرقنہ………(401) (71 : 301۔ 401) ” مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی خدا نے ظالم کی جڑ کاٹ دی اور تم کو غلامی سے نجات دی۔ اب مصر و شام میں جہاں چاہو آزادی سے رہو۔ جب قیامت آئے گی پھر ایک مرتبہ تم سب کو اور تمہارے تباہ شدہ دشمنوں کو اکٹھا کر کے شقی وسعید اور ہالک و ناجی کا دائمی فیصلہ کردیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا اکثر وبیشتر مفسرین نے وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ سے آخرت یعنی قیامت مراد لی ہے۔ یعنی جب قیامت آئے گی تو تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو گے سب کو اکٹھا کر کے ہم میدان حشر میں لے آئیں گے۔ لیکن میرے خیال میں ان الفاظ میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ جب آخرت کا وقت قریب آئے گا تو بنی اسرائیل کو ہر کہیں سے اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کرلیا جائے گا۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ کی تکذیب کر کے بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوچکے تھے۔ اس کے بعد نبی آخر الزماں کی رسالت کو جھٹلا کر انہوں نے اپنے اس جرم کی مزید توثیق بھی کردی۔ چناچہ اب اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قوم کی حیثیت اس قیدی کی سی ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

123 کفار مکہ اور فرعون کی کرتوتوں اور انجام میں مماثلت :۔ اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ حکم ہوا تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو لے جاکر شام کا علاقہ فتح کریں اور اس میں آباد ہوں اور کچھ عرصہ بعد ایسا ہوا بھی تھا۔ تاہم اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون اور فرعونیوں کی تباہی کے بعد بنی اسرائیل ہی کے کچھ لوگ مصر کے علاقے پر بھی قابض ہوگئے تھے اور اس مقام پر اس واقعہ کو مختصراً بیان کرنے کا مقصودیہ ہے کہ کفار مکہ بھی مسلمانوں پر ایسے ہی سختیاں کر رہے تھے جیسے آل فرعون بنی اسرائیل پر کرتے تھے لیکن انجام کار ہوا یہ کہ آل فرعون تو تباہ ہوگئے اور بنی اسرائیل ملک پر قابض ہوگئے تھے۔ اور اب چونکہ ان لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

150۔ (جس میں مومن ومنکر، مطیع وفاسق سب ہی ملے جلے ہوں گے) والمعنی جئنا بکم من قبورکم الی المحشر اخلاطا یعنی جمیع الخلق المسلم والکافر والبروالفاجر (کبیر) (آیت) ” اسکنوا الارض “۔ یعنی اب تم فرعون مصر کی محکومی وغلامی سے آزاد ہو، جہاں چاہورہو بسو۔ (آیت) ” من بعدہ “۔ یعنی غرقابی فرعون کے بعد۔ اے من بعد فرعون علی معنی من بعد اغراقہ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 101–111

آیت نمبر 101 تا 111 ترجمہ : اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے نو معجزے بالکل واضح عطا کئے تھے اور وہ یہ ہیں (1) یدبیضاء، (2) عصا، (3) طوفان، (4) ٹڈیاں، (5) جوئیں، (6) مینڈک، (7) خون، (8) ہلاکت اموال، (9) خشک سالی اور پھلوں کی کمی (اے محمد) تم خود موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں بنی اسرائیل سے پوچھ لو یہ سوال آپ کی صداقت کا مشرکین سے اقرار کرانے کے طور پر ہے یا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ فرعون سے بنی اسرائیل کی رہائی کا سوال کرو اور ایک قراءت میں (سَئَلَ ) ماضی کے صیغہ کے ساتھ ہے، (یعنی سوال کیا) جب وہ ان کے پاس آئے تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو سحر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ : اور فرعون کو ڈبونے کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا تم اس زمین میں (جہاں سے تم کو فرعون نکالنا چاہتا تھا) رہو۔ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا : پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم سب کو جمع کر کے حاضر کردیں گے۔ اَلْاٰخِرَۃِ یعنی دوسری مرتبہ یا دوسری زندگی ‘ یا دوسری ساعت یا دار آخرت۔ بہرحال قیامت مراد ہے۔ لفیفاً مخلوط ‘ باہم آمیختہ یعنی تم اور وہ دونوں قیامت کے دن مخلوط ہو کر آؤ گے۔ پھر اہل شقاوت کی جماعت الگ کردی جائے گی۔ لفیف مختلف متعدد قبائل کا مجموعہ ‘ مخلوطہ ‘ قیامت کے دن بھی ایسا ہی ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(104) اور اس کی ہلاکت کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ تم سرزمین اردن یا فلسطین میں رہو سہو، پھر جس وقت قبروں سے مردوں کو زندہ کرکے اٹھایا جائے گا یا یہ کہ نزول حضرت عیسیٰ ؑ ہوچکا ہوگا تو ہم سب کو جمع کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ : ”الْاَرْضَ“ سے مراد ارض شام بیان کی جاتی ہے، مگر سورة شعراء کی آیت (59) سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار بنی اسرائیل کی حکومت فلسطین و شام کے بعد مصر پر بھی قائم ہوگئی تھی، فرمایا : (كَذٰلِكَ ۭ وَاَوْرَثْنٰهَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ) [ الشعراء : 59 ] ”ایسا ہی ہوا اور ہم نے اس (مصر) کا وارث بنی اسرائیل کو بنادیا۔“ اگرچہ یہ سب فتوحات موسیٰ ؑ کی زندگی میں نہ ہو سکیں۔ دیکھیے سورة مائدہ (20 تا 26)۔ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا :”لَفِيْفًا“ ”لَفُّ الشَّیْءِ بالشَّیْءِ أَیْ ضَمُّہُ اِلَیْہِ وَ وَصْلُہُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 103–104

آیت نمبر 103 تا 104 قولہ تعالیٰ : فاراد ان یستفزھم من الارض یعنی فرعون نے ارادہ کیا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو مصر کی زمین سے نکال دے یا قتل کرکے یا وہاں سے دور نکال کر، تو اللہ تعالیٰ نے اسے ہلاک کردیا۔ وقلنا من بعدہ اور ہم نے حکم دیا اسے غرق کرنے کے بعد۔ لبنی اسراء یل اسکنوا الارض بنی اسرائیل کو کہ تم شام اور مصر کی زمین میں آباد ہوجاؤ۔ فاذا جآء وعد الاخرۃ پس جب قیامت کا وعدہ آئے گا۔ جئنابکم لفیفا تو ہم تمہیں تمہاری قبروں سے لے آئیں گے اس حال میں کہ ہر جگہ سے اکٹھے ہوگے، تحقیق مومن کافر کے ساتھ مل جائے گا اور ایک دوسرے کی پہچان نہیں کرسکیں گے، اور تم میں سے کوئی بھی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 101–105

1:۔ عبدالرزاق، سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم کے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت “ سے مراد یہ نشانیاں ہیں یدبیضاء، عصا، طوفان، مکڑی، چیچڑی، مینڈک، خون قحط سالی اور پھلوں میں نقصان (یہ نومعجزات موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے) 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” تسع ایت بینت “ سے مراد ہیں موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ انکی لاٹھی انکی زبان، سمندری، مکڑی، جوئیں، مینڈک اور خون (یہ ان کے معجزات تھے) 3:۔ طیالسی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، احمد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابویعلی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّقُلْنَا : اور ہم نے کہا ] [مِنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد ] [لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنی اسرائیل سے ] [اسْكُنُوا : تم لوگ سکونت اختیار کرو ] [الْاَرْضَ : اس سرزمین میں ] [فَاِذَا : پھر جب ] [جَاۗءَ : آئے گا ] [وَعْدُ الْاٰخِرَةِ : آخرت کا وعدہ ] [جِئْنَا بِكُمْ : تو ہم لے آئیں گے تم لوگوں کو ] [لَفِيْفًا : سمیٹنے والا ہوتے ہوئے ] لف [لَفًّا : (ن) ] ایک چیز کو دوسری چیز سے ملا دینا۔ جمع کرنا۔ اکٹھا کرنا۔ لِفٌّ ج اَلْفَافٌ۔ جمع کی ہوئی چیز۔ لِنُخْرِجَ بِہٖ حَبًّا وَّ نَبَاتًا وَّ جَنّٰتٍ اَلْفَافًا (تاکہ ہم نکالیں اس سے اناج اور سبزہ اور اکٹھا کئے ہوئے یعنی گھنے باغات) 78:15 ۔ 16 ۔ لَفِیْفٌ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 101–104

موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں دیں فرعون اپنے ساتھیوں کے ساتھ غرق کردیا گیا اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ زمین میں رہو سہو ابتدائے سورت میں واقعہ معراج کے بعد بنی اسرائیل کے بعض واقعات بیان فرمائے اور ان سے فرمایا (اِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَھَا) اس کے بعد مشرکین کے اعمال و اقوال اور عقیدہ شرک کی تردید فرمائی اور درمیان میں بعض مامورات اور منہیات بھی ذکر فرما دئیے پھر مشرکین کے عناد اور تکذیب کا تذکرہ فرمایا اب سورت کے ختم ہونے کے قریب بھی بنی اسرائیل اور ان کے دشمن فرعون کا تذکرہ فرمایا جس میں بنی اسرائیل یعنی یہود کے لیے اور تمام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–109

ذکر معجزات موسویہ برائے تحقیق رسالت محمدیہ ﷺ قال اللہ تعالیٰ ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت .... الیٰ .... ویزیدھم خشوعا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں مخالفین کے معاندانہ سوالات کا ذکر تھا اب ان آیات میں معجزات موسویہ یعنی ان نشانیوں کو ذکر کرتے ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون اور اس کی قوم کی تہدید کے لیے عطا کی تھیں مگر باوجود اس کے وہ ایمان نہیں لائے اور بالآخر ہلاک ہوئے اور غرق ہوئے اسی طرح تم محمد رسول اللہ ﷺ سے معجزات طلب کرتے ہو اور تمہارا حال یہ ہے کہ اگر تمہاری سفارش کے مطابق وہ معجزات ظاہر کر بھی دئیے جائیں تب بھی تم محمد رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کروگے۔ جس طرح وہ متکبر اور جبار…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 102–104

88:۔ فرعون کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا یہ جادو نہیں بلکہ یہ معجزات ہیں جو آسمان و زمین کے مالک نے اپنی قدرت وو وحدانیت اور میری صداقت پر بطور دلائل ظاہر فرمائے ہیں۔ اے فرعون ! سن لے مجھے یقین ہے کہ تو تباہ و برباد ہوگا اس لیے کہ تو نے معجزوں کو جادو کہا اللہ کی توحید کا انکار کیا اور میری تکذیب کی۔ ” فاراد ان یستفزھم الخ “ اس کے بعد فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو ملک مصر سے نکالنے کی ٹھان لی تو ہم نے اس کو مع لاؤ لشکر غرق کردیا اور بنی اسرائیل سے کہا تم ملک شام میں رہو اور میری ہدایات پر عمل کرو۔ قیامت کو میں تم سب کو حساب کیلئے اکٹھا کروں گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 101–104

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے کفار ومشرکین کے تعصب ، ضد اور عناد کا ذکر کیا کہ وہ بیہودہ فرمائشیں کرتے تھے ، اللہ کی توحید کا انکار کرتے تھے رسالت ونبوت پر اعتراضات کرتے تھے اور معاد کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے ، ان اعتراضات کا جواب گذشتہ درس میں دیا جا چکا ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی نو نشانیوں اور فرعون اور قوم فرعون کی نافرمانی کا ذکر کیا ہے اس سے اہل ایمان کو یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح قوم فرعون موسیٰ (علیہ السلام) کی واض ح نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائی تھی ، اسی طرح مشرکین اپنی مطوبہ نشانیاں پا کر بھی ایمان سے محروم ہی رہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا 104؀ۭ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، ( س ک ن )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 101–104

2 ؎ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ دویہودیوں نے آ کر آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو وہ نو نشانیاں کون سی دی تھیں ؟ آپ نے جواب شافی دیا، ان کو بیان کردیا انہوں نے ہاتھ پائوں چوم لیے اور کہا تو بیشک نبی ہے فقیر کہتا ہے کہ ان نشانیوں سے مراد جو یہود نے پوچھی تھیں احکام عشرہ تھے جو توریت میں موجود ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے جواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ شرک نہ کرو الخ اور یہاں تو معجزات مراد ہیں۔ 12 منہ۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 103–104

فَاَرَادَاَنْ یَّسْتَـفِزَّھُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْـنٰـہُ وَمَنْ مَّعَہٗ جَمِیْعًا۔ وَّقُلْنَا مِنْ م بَعْدِہٖ لِبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اسْکُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآئَ وَعْدُالْاٰخِرَۃِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیْفًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 103۔ 104) (پس فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑ پھینکے، تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیا۔ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو، پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو اکٹھا کرکے لائیں گے۔ ) قریش کے لیے آئینہ فرعون اور آل فرعون کی تمام تر سختیوں اور اذیتوں کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 104–106

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور اس کے ساتھیوں کی غرقابی کے بعد اللہ تعالیٰ کا بنی اسرائیل کو حکم۔ اللہ تعالیٰ نے اسی سورة میں فرمایا ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عنایت کی اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا۔ جس میں پہلا حکم یہ تھا کہ میرے سوا کسی کو اپنا کارساز اور مشکل کشا نہ سمجھنا۔ سورة البقرۃ آیت 83، 84 میں اس فرمان کی تفصیل ہے ” ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کی خیر خواہی کرنا، لوگوں کو اچھی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکٰو ۃ ادا کرنا۔ لیکن تھوڑے لوگوں کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنی اسرائیل کو ٹھکانہ دیا : 104: وَّقُلْنَا مِنْم بَعْدِہٖ لِبَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ اسْکُنُوا الْاَرْضَ (اور ہم نے اس کے بعد بنی اسرائیل کو کہا تم اس سرزمین میں رہو) بعدہ سے مراد فرعون کے بعد۔ الارض سے وہ سرزمین مراد ہے جس سے فرعون نے اس کو نکالنے کا ارادہ کیا۔ فَاِذَا جَآ ئَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ (پس جب آخرت والا وعدہ آجائے گا۔ ) آخرت سے مراد یہاں قیامت ہے۔ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیْفًا (تو ہم سب کو جمع کر کے حاضر کردیں گے۔ ) لفیفا کا معنی جمع کر کے ‘ باہم ملاکر۔ اس حال میں کہ تم اور وہ سب ملے ہوئے ہوں گے پھر ہم تمہارے درمیان فیصلہ کریں گے اور سعادت مند اور بدبختوں کے درمیان امتیاز کردیں گے اللّفیف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

104۔” وقلنا من بعدہ “ فرعون کی ہلاکت کے بعد ” لبنی اسرائیل اسکنوا الارض “ یعنی مصر اور شام کی زمین سے ۔ ” فاذا جاء وعدالاخرۃ “ قیامت کے دن ” جتنابکم لفیفا “ یعنی تم اور وہ دونوں قیامت کے دن مخلوط ہو کر آئو گے۔ لفیف مختلف قبائل کا مجموعہ مخلوط قیامت کے دن ایسا ہی ہوگا ۔ شروع میں مؤمن کافر نیک بد مخلوط ہوں گے۔ کلبی کا بیان ہے وعدہ آخرت آنے سے مراد ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے آنا اور ’ جئنا بکم لفیفاکا یہ مطلب ہے کہ ادھر ادھر ہر طرف سے مختلف قومیں آئیں گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–104

102۔ 104:۔ اللہ تعالیٰ نے اوپر کی آیت میں یہ ذکر فرمایا تھا کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں دے کر فرعون کے پاس رسول بنا کر بھیجا تھا، فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو جادوگر تصور کیا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون کیا تو نہیں جانتا کہ یہ نشانیاں اس نے اتاری ہیں جو آسمان اور زمین سارے جہان کا پیدا کرنے والا ہے اور یہ نشانیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور ان نشانیوں سے اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت کا پورا پورا پتہ چلتا ہے تو جو اس کا انکار کرتا ہے اور اسے نہیں مانتا مجھے جادوگر خیال کرتا ہے ان باتوں سے ضرور ہلاک ہوجائے گا۔ فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–104

(آیت نمبر (101 یعنی اے رسول ! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے۔۔۔ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی ہم نے اپ ﷺ سے پہلے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا ‘ ہم نے انہیں عطا کیے (تسع ایت بینت ) ” نو معجزات “ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں ایک ہی معجزہ کافی ہے۔۔۔ جیسے اژدہا ‘ عصا ‘ طوفانً ‘ طوفان ‘ ٹڈی دل ‘ جوئیں ‘ مینڈ ‘ خون ‘ یدبیضا اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے (فسعل بنی اسرائیل اذا جاء کم فقال لہ فرعون ) ” تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو ( ان معجزات کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 88–105

اعجاز قرآن قول باری ہے (قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القرآن لایاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیراً کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں) اس آیت میں اعجاز قرآن پر بھرپور دلالت موجود ہے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ الفاظ قرآن کی ترتیب میں مستقل طور پر اعجاز موجود ہے اور معانی اور ان کی تنسیق میں مستقل طور پر اعجاز ہے۔ انہوں نے اس پر اس چیز سے استدلال کیا ہے کہ قرآن اس آیت میں تمام اہل عرب و عجم اور جن و انس کو چیلنج کر رہا ہے۔ اب یہ بات تو واضح ہے کہ اہل عجم کو عربی زبان سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

192۔ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کیلئے انعام کا ذکر وبیان :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ رہو بسو تم اس سرزمین میں “۔ جس کو ہم نے ظاہری اور باطنی طرح طرح کی برکتوں سے نوازا ہے اور جو کہ ارض مقدسہ اور ارض مبارکہ کہلاتی ہے۔ یعنی ارض شام و فلسطین۔ (مراغی، و محاسن وغیرہ) سو اس طرح اس ارشاد ربانی سے فتح مکہ کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا کہ جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو سرزمین مصر سے نکالنے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن اس کے نتیجے میں وہ اپنی قوم سمیت خود ہی غرقاب ہو کر فی النار والسقر ہوگیا اسی طرح مشرکین مکہ نے بھی حضرت خاتم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 90–111

کفار کی حجت بازی اور ان کی سزا تشریح : کفار نے جو معجزات کا مطالبہ کیا تو وہ ایسے ہی تھا، جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کیا تھا وہ 9 معجزات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہ لائے۔ تو جو لوگ ایمان لانے والے ہوتے ہیں وہ تو ویسے ہی سچائی کو دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ان کو معجزے دیکھنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر حجت یہ کہ انسان نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ مضمون سورة الانعام میں بڑی تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں ان لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا کہ کہہ دو ” میرے اور تمہارے درمیان اللہ ہی گواہ کافی ہے کیونکہ وہ ہی اپنے بندوں کو دیکھنے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ پھر کفار ومشرکین کو بڑی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 101–111

(رکوع نمبر 12) اسرارومعارف یہی تکبر اور اپنی بڑائی تو فرعون اور اس کی قوم کو لے ڈوبی تھی جبکہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نو نشانیاں یعنی بیشمار معجزات میں نو بہت بڑے بڑے معجزات دے کر مبعوث فرمایا کہ عصاء یدبیضا ، لکنت کا دور ہونا ، سمندر کا پھٹنا ، ٹڈی کا عذاب مینڈکوں کا عذاب ، جوؤں کا عذاب ، طوفان اور پانی کا خون ہوجانا یہ نو تو ایسے واضح معجزات تھے ، جنہیں ہر عام ذہن کا آدمی بھی دیکھ رہا تھا اور بعض مفسرین کے مطابق وہ نو احکام الہی تھے جو نوآیات شمار کئے گئے ہیں ، مگر بنی اسرائیل بھی خوب وقف ہیں ان ہی سے پوچھئے کہ فرعون نے کیا جواب دیا تھا کہ ان واضح معجزات کے باوجود کہنے لگا موسیٰ میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 یعنی اچھے برے مومن کافر سب کو حشر کے میدان میں جمع کریں گے تاکہ ان کا دائمی فیصلہ کردیا جائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:104) من بعدہ۔ یعنی غرقابیٔ فرعون کے بعد۔ اسکنوا الارض۔ یعنی اب تم فرعون کی غلامی سے آزاد ہو۔ جہاں چاہو رہو بسو۔ یا ال عہد کے لئے ہے۔ اور الارض سے مراد وہی وادیٔ سیناء ہے جس کا وعدہ ان سے کیا گیا تھا۔ لفیفا۔ صفت مشبہ، آدمیوں کا وہ بڑا گروہ جس میں مختلف قبائل کے آدمی جمع ہوں۔ طعام لفیف دو یا زیادہ اقسام سے ملا ہوا کھان۔ لفافۃ لپیٹ کا کپڑا۔ لف الثوب اس نے کپڑا لپیٹ دیا۔ لف والفاف (جمع) وہ باغ جن کے درخت گھنے ہوں اور درختوں کی شاخیں پیچ در پیچ باہم گتھی ہوئی ہوں۔ قرآن مجید میں آیا ہے وجنت الفافا۔ (78:16) اور گھنے گھنے گنجان اور باہم ملے ہوئے باغ ہیں۔ جئنا بکم لفیفا۔ ہم تم سب کو جمع کر کے لے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–109

لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 109 تسع نو۔ اسئل پوچھئے۔ مسحور جادو کیا گیا۔ سحر زدہ۔ بصائر سمجھ بوجھ کی باتیں۔ مثور تباہ کیا جانے اولا۔ اسکنوا آباد ہوجاؤ۔ رہو سہو۔ لفیف سمیٹ کر۔ فرقنا ہم نے جدا کیا۔ مکت ٹھرٹھر کر۔ تنزیل آہستہ آہستہ اتارنا۔ اوتوالعلم علم دیا گیا۔ یتلی پڑھا گیا۔ یخرون وہ گر پڑتے ہیں۔ اذقان تھوڑیاں۔ یبکون وہ روتے ہیں۔ خشوع خشوع۔ عاجزی و انکساری ۔ تشریح : آیت نمبر 101 تا 109 انبیاء کرام کو معجزات اس لئے دیئے جاتے ہیں تاکہ ان کو دیکھ کر کفار اپنے کفر سے توبہ کرلیں اور سالام کی سچائیوں کو قبول کرلیں۔ ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو ایسے نو معجزات عطا کئے تھے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–104

فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر تصور کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون ! کیا تو نہیں جانتا کہ یہ نشانیاں اس نے اتاری ہیں جو آسمان اور زمین سارے جہان کا پیدا کرنے والا ہے اور یہ نشانیاں اس بات کو ثابت کرتی ہیں کہ میں اللہ تعالیٰ کا سچا رسول ہوں اور ان نشانیوں سے اللہ کی ہستی اور اس کی قدرت کا پورا پورا پتہ چلتا ہے۔ تو جو اس کا انکار کرتا ہے اور اسے نہیں مانتا مجھے جادوگر خیال کرتا ہے، ان باتوں سے ضرور ہلاک ہوجائے گا۔ فرعون نے اس بات کو سن کر یہ ارادہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو جلا وطن کرکے مصر سے کہیں دور نکال دیوے گا مگر اللہ عالم…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 101–104

[65] یہاں پھر مشرکین کے معجزوں کے مطالبے کا جواب دیا گیا ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جن معجزوں کا مطالبہ تم کررہے ہو تو فرعون کو بھی ایسے ہی نو صریح معجزات دکھائے گئے تھے پھر بھی اس نے پیغمبر کو جھٹلایا۔ ان نو معجزات کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 103–105

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بن اسرائیل کی آزادی کے لئے تشریف لا کے اور فرعون کو بہت سی نشانیاں دکھائیں اور کہا کہ میں خدا کی طرف سے حریت وآزادی کا پرچم لہرانے آیا ہوں ، میں اس لئے مبعوث ہوا ہوں کہ بنی اسرائیل کی غلامی کو دور کروں ، اور تجھے کیفر کردار تک پہنچاؤں تو فرعون نے از راہ کبر کہا میری رائے میں تمہارا دماغ صحیح نہیں ہے ، میری حکومت کو کون الٹ سکتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ، مجھے اپنی حقانیت پر یقین ہے اور دل میں تو بھی جانتا ہے کہ مجھے میرے رب نے بھیجا ہے ، اور بصائر و دلائل سے نوازا ہے تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارے لئے ہلاکت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 104 اور فرعون کے غرق ہونے کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو کہا کہ اب تم زمین مصر میں مالاکنہ حیثیت سے رہو سہو اور سکونت اختیار کرو پھر جب آخرت آئے گی اور آخرت کے وعدے کا ظہور ہوگا تو ہم تم سب کو جمع کر کے لا حاضر کریں گے۔ یعنی سر زمین مصر کا مالک بنی اسرائیل کو کردیا خواہ وہ اس میں ابھی آباد ہوجائیں یا کچھ عرصہ کے بعد آئیں۔ باقی یہ مالکیت یاداشت بنانا دنیا کی زندی میں ہے جب قیامت آئے گی تو ہم تم سب کو میدان حشر میں لاکھڑا کریں گے اور وہاں سب بحیثیت مملوک کے حاضر ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعونیوں کو غرق کرکے ہم نے اس زمین کو بنی اسرائیل کے سپرد کردیا : 122۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بہت سے ساتھیوں کے ساتھ مصر سے ہجرت کر گئے تھے کہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے ان کا پیچھا کیا اور واپس نہ آسکے وہیں غرق کرکے رکھ دیئے گئے بعد ازیں اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کا واپس آکر مصر میں رہنا ثابت نہیں اور یقینا وہ دوبارہ مصر تشریف لا کر آباد بھی نہ ہوئے تھے تاہم مصر کا انتظام بنی اسرائیل ہی کے سپرد کیا گیا جس طرح نبی اعظم وآخر ﷺ ہجرت کے بعد واپس مکہ مکرمہ جا کر رہائش پذیر نہ ہوئے لیکن اللہ نے مکہ فتح کرا دیا اور وہاں کا سارا نتظام آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں ہی کے سپرد کردیا گیا ، اسی طرح مصر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–108

Commentary The first verse (101): وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ mentions the bestowal of nine clear signs on Sayyidna Musa (علیہ السلام) . The word: آیَہ ('ayah) carries the meaning of miracle or sign as well as that of the آیَت : ayat or verses of the Qur'an, that is, the divine injunctions. At this place, the probability of both meanings exists. Therefore, a number of commentators have taken the word 'ayat' to mean miracles - and the number nine does not make it necessary that they will not be more than nine - but, at this place, the figure 'nine' has been mentioned on the basis…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

117. This part of the story of Pharaoh has been related here because it applied exactly to the mushriks of Makkah who were doing their best to uproot the Prophet (peace be upon him) and the believers from the land of Arabia. This story, so to say, tells them: Pharaoh resolved to uproot Moses (peace be upon him) and the Israelites but was himself completely annihilated along with his followers. But Moses (peace be upon him) and his followers settled down in the land. Likewise, if you persist on the same way, you will surely meet with the same end.

Read the full tafseer →