Explained with ayahs 80–81
حکم ہجرت
مسند احمد میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مکہ شریف میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور یہ آیت اتری۔ امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے مشورہ کیا کہ آپ کو قتل کردیں یا نکال دیں یا قید کرلیں پس اللہ کیا یہی ارادہ ہوا کہ اہل مکہ کو ان کی بداعمالیوں کا مزہ چکھا دے۔ اس نے اپنے پیغمبر ﷺ کو مدینے جانے کا حکم فرمایا۔ یہی اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں مدینے میں داخل ہونا اور مکہ سے نکلنا یہی قول سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سچائی کے داخلے سے مراد موت ہے اور سچائی سے نکلنے سے مراد موت کے بعد کی…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 99
اس دعا کی تلقین سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہجرت کا وقت اب بالکل قریب آ لگا تھا۔ اس لیے فرمایا کہ تمہاری دعا یہ ہونی چاہیے کہ صداقت کا دامن کسی حال میں تم سے نہ چھوٹے، جہاں سے بھی نکلو صداقت کی خاطر نکلو اور جہاں بھی جاؤ صداقت کے ساتھ جاؤ۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 100
یعنی یا تو مجھے خود اقتدار عطا کر، یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے تاکہ اس کی حمایت سے میں دنیا کے اس بگاڑ کو درست کرسکوں، فواحش اور معاصی کے اس سیلاب کو روک سکوں، اور تیرے قانون عدل کو جاری کرسکوں۔ یہی تفسیر ہے اس آیت کی جو حسن بصری اور قتادہ رحمہما اللہ نے کی ہے، اور اسی کو ابن جریر اور ابن کثیر…
Read the full tafseer →(آیت) وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ الآیہ سابقہ آیات میں اول کفار مکہ کی ایذاؤں اور ان تدبیروں کا ذکر تھا جو وہ رسول کریم ﷺ کو تکلیف پہونچانے کے لئے کرتے تھے اس کے ساتھ یہ بھی مذکور ہوا کہ ان کی یہ تدبیریں کامیاب نہیں ہوں گی اور ان کے مقابلہ میں رسول کریم ﷺ کو اصل تدبیر کے درجہ میں تو صرف پنجگانہ نماز قائم کرنے اور تہجد گذاری کی تلقین فرمائی اس کے بعد آخرت میں آپ کو سب انبیاء سے اعلیٰ مقام یعنی مقام محمود عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا جو آخرت میں پورا ہوگا مذکورہ آیت وَقُلْ رَّبِّ میں حق تعالیٰ نے اسی دنیا میں اول آپ کو کفار کے مکائد اور ایذاؤں سے نجات دینے کی تدبیر بصورت ہجرت مدینہ ارشاد فرمائی اور…
Read the full tafseer →وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا۔
لفظ " قل " یہاں دعا کرنے کے مفہوم میں ہے۔ اس مفہوم میں یہ لفظ قرآن میں جگہ جگہ آیا ہے۔ ملاحظہ ہو آیت 29 مومنون۔ لفظ صدق کی اصل روح، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، عزت، رسوخ اور استحکام ہے۔ " سلطان " کے معنی غلبہ اور تمکن کے ہیں۔
قرب ہجرت کا اشارہ اور ایک عظیم بشارت : اوپر کی آیات سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ حالات اتنے سخت ہوچکے تھے کہ اب آنحضرت ﷺ کے لیے مکہ سے ہجرت ناگزیر ہوچکی تھی لیکن اللہ کا رسول اللہ کے اذن کے بغیر ہجرت نہیں کرتا۔ اس وجہ سے آں حضرت ﷺ…
Read the full tafseer →80۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت کے موقع پر نازل ہوئی جب آپ کو مدینے میں داخل ہونے اور مکہ سے نکلنے کا مسئلہ درپیش تھا، بعض کہتے ہیں اس کے معنی ہیں مجھے سچائی کے ساتھ موت دینا اور سچائی کے ساتھ قیامت والے دن اٹھانا۔ بعض کہتے ہیں کہ مجھے قبر میں سچا داخل کرنا اور قیامت کے دن جب قبر سے اٹھائے تو سچائی کے ساتھ قبر سے نکالنا وغیرہ۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ دعا ہے اس لئے اس کے عموم میں سب باتیں آجاتی ہیں۔
Read the full tafseer →47: یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب آنحضرت ﷺ کو مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کو اپنا مستقر قرار دینے کا حکم ہوا تھا، اس وقت آپ کو یہ دعا مانگنے کی تلقین فرمائی گئی تھی اور اس میں داخل کرنے سے مدینہ منورہ میں داخل کرنا اور نکالنے سے مکہ مکرمہ سے نکالنا مراد ہے، لیکن الفاظ عام ہیں اس لئے یہ دعا ہر اس موقع پر کی جاسکتی ہے جب کوئی کسی نئی جگہ جانے یا نیا کام شروع کرنے کا ارادہ کررہا ہو۔
Read the full tafseer →وقل رب ……نصیرا (71 : 08) ۔ ” اور دعا کرو ، کہ پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے “۔ یہ دعا ہے جو اللہ اپنے نبی ﷺ کو سکھاتا ہے تاکہ وہ ان الفاظ میں اللہ کو پکارے۔ اور آپ ﷺ کے بعد آپ کی امت کو بھی معلوم ہو کہ وہ کس طرح اللہ کو پکارے اور کن معاملات میں اللہ کی طرف متوجہ ہو ، سچائی کے ساتھ دخول اور سچائی کے ساتھ خروج کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ میرا دل اور آخر ، اور اولیٰ اور آخری کے مابین تمام مراحل میں مجھے سچائی پر قائم رکھ۔ اور یہاں سچائی کی دعا کی اہمیت یوں بڑھ جاتی ہے کہ جس مرحلے…
Read the full tafseer →12 یعنی جہاں مجھے پہنچانا ہے (مثلاً مدینہ میں) نہایت آبرو اور خوبی و خوش اسلوبی سے پہنچا کہ حق کا بول بالا رہے۔ اور جہاں سے نکالنا یعنی علیحدہ کرنا ہو (مثلاً مکہ سے) تو وہ بھی آبرو اور خوبی و خوش اسلوبی سے ہو کہ دشمن ذلیل و خوار اور دوست شاداں وفرحاں ہوں اور بہرصورت سچائی کی فتح اور جھوٹ کا سر نیچا ہو۔
13 یعنی غلبہ اور تسلط عنایت فرما جس کے ساتھ تیری مدد و نصرت ہو۔ تاکہ حق کا بول بالا رہے اور معاندین ذلیل و پست ہوں۔ دنیا میں کوئی قانون ہو سماوی یا ارضی اس کے نفاذ کے لیے ایک درجہ میں ضروری ہے کہ حکومت کی مدد ہو۔ جو لوگ دلائل وبراہین سننے اور آفتاب کی طرح حق واضح ہو چکنے کے بعد بھی ضد وعناد پر…
Read the full tafseer →آیت 80 وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ
یہ ہجرت کی دعا ہے۔ جب ہجرت کا اذن آیا تو ساتھ ہی یہ دعا بھی تعلیم فرما دی گئی کہ اے اللہ ! تو مجھے جہاں بھی داخل فرمائے یعنی یثرب مدینہ میں عزت و تکریم کے ساتھ داخل فرما وہاں پر میرا داخلہ سچا داخلہ ہو اور یہاں مکہ سے مجھے نکالنا ہے تو باعزت طریقے سے نکال۔ یاد کیجیے کہ سورة یونس کی آیت 93 میں بنی اسرائیل کو اچھا ٹھکانہ عطا کیے جانے کا ذکر بھی ”مُبَوَّاَ صِدْقٍ“ کے الفاظ سے ہوا ہے۔
وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا
یعنی مدینہ میں جس نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے اس میں اپنے دین کے غلبے کے…
Read the full tafseer →101 اس آیت میں آپ کی ہجرت کی طرف واضح اشارہ ہے جو اس آیت کے نزول کے تقریباً ایک سال بعد واقع ہونے والی تھی اور جو دعا آپ کو سکھائی گئی وہ یہ تھی کہ یا اللہ ایسی صورت پیدا فرما کہ میں جہاں بھی جاؤں حق و صداقت کی خاطر جاؤں اور جہاں سے نکلوں (مثلاً مکہ سے) تو حق و صداقت ہی کی خاطر نکلوں یا یہ مطلب ہے کہ جہاں مجھے پہنچانا ہے نہایت آبرو اور خوش اسلوبی کے ساتھ مجھے وہاں لے جا کہ حق و صداقت کا بول بالا رہے اور جہاں سے مجھے نکالنا ہے تو اس وقت بھی آبرو اور خوش اسلوبی سے نکال کہ دشمن ذلیل و خوار اور دوست شاداں وفرحاں ہوں، سچائی کی فتح ہو اور باطل سرنگوں ہو۔
102 دین کے نفاذ کے لئے اقتدار کی ضرورت :۔ اس…
Read the full tafseer →117۔ یعنی جب ہجرت کا وقت آئے تو مجھے اس دارالہجرت میں خیر و راحت کے ساتھ اتارئیو۔ (آیت) ” ادخلنی “۔ واخرجنی “۔ کی تفسیر حدیث ترمذی میں ہجرت ہی کے ساتھ آئی ہے۔ (آیت) ” مدخل صدق “۔ سے مراد مدینہ منورہ لی گئی ہے۔ ایالمدینۃ حین ھاجر الیھا (ابن جریر، عن ابن زید)
118۔ (سرزمین مکہ سے) یعنی ہجرت کے وقت یہاں سے خیروخوبی کے ساتھ نکالیو۔ مخرج صدق “۔ یعنی مکہ معظمہ۔ اے مکۃ حین خرج منھا (ابن جریر) مفہوم میں توسیع پیدا کرکے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ ہمیں قبر میں داخل کیجیوا ایمان وصدق کے ساتھ اور خیر سے باہر نکالیو قیامت کے دن ایمان وصدق کے ساتھ۔ اے ادخلنی فی القبر مدخل واخرجنی من القبر یوم القیمۃ مخرج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
آیت نمبر 78 تا 84
ترجمہ : سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی چھا جانے تک رات کی تاریکی کے آنے تک نماز قائم کرو یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی نماز، اور فجر کا قرآن یعنی فجر کی نماز قائم کرو، یقیناً فجر کی نما (کا وقت) حاضری کا وقت ہے جس میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور رات کے کسی قدر حصے میں (نماز پڑھیں) نماز تہجد قرآن کے ساتھ پڑھا کریں یہ آپ ہی کیلئے اضافی فریضہ ہے آپ کیلئے نہیں یا زائد ہے فرض نمازوں پر (یعنی نفل ہے) امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو آخرت میں مقام محمود پر فائز کرے گا کہ جہاں اولین اور آخرین آپ کی ستائش کریں گے اور وہ مقام شفاعت ہے مقدمات کے فصیل کرنے…
Read the full tafseer →وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ
اور دعا کرو کہ اے میرے رب مجھے خوبی کے ساتھ پہنچانا اور مجھے خوبی کے ساتھ لے جانا۔
مُدْخَلَ صِدْقٍ سے مراد مدینہ اور مُخْرَجَ صِدْقٍ سے مراد مکہ ہے۔ حسن اور قتادہ کا یہی قول ہے۔ مدخل اور مخرج اسم ظرف ہیں۔ داخل اور خارج ہونے کی جگہ۔ یہ دونوں مصدر ہیں اس صورت میں آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ مجھے مدینے میں اس طرح داخل فرما کہ میرے سامنے کوئی ناگوار صورت نہ آئے اور مکہ سے ایسے پسندیدہ طریقہ سے نکال کہ میری قلبی توجہ اور میلان خاطر بھی مکہ کی سکونت کی جانب باقی نہ رہے۔ ضحاک نے تشریح معنی اس طرح کی ہے کہ مجھے مکہ سے امن کی…
Read the full tafseer →(80) اور آپ یوں دعا کیا کیجیے کہ اے میرے پروردگار مجھے مدینہ منورہ میں اچھے طریقے سے داخل کیجیے، اس وقت آپ مدینہ منورہ میں نہیں تھے اور جب میں مدینہ منورہ میں ہوں تو مجھے وہاں سے اچھے طریقے سے لے جائیے اور مکہ مکرمہ میں داخل کیجیے یا یہ کہ مجھے قبر میں خوبی اور راحت کے ساتھ پہنچائیے اور قیامت کے دن قبر سے خوبی و راحت کے ساتھ نکالیے اور مجھے اپنے پاس سے ایسا غلبہ اور قوت عطا کیجیے، جس میں کسی قسم کی کوئی کمی اور نہ کسی کے قول کی تردید ہو۔
شان نزول : (آیت) ”۔ وقل رب ادخلنی مدخل صدقہ“۔ (الخ)
امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ مکہ مکرمہ میں تھے، پھر…
Read the full tafseer →وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ اور آپ کے ہر امتی کو یہ دعا سکھائی کہ اے میرے رب ! تو مجھے دنیا و آخرت میں جس جگہ بھی داخل کرے باعزت اور آبرو مندانہ طریقے سے داخل کر اور جس جگہ سے بھی نکالے باعزت طریقے سے نکال اور میرے لیے دلیل وبرہان کے ساتھ قوت و سلطنت کا ایسا غلبہ عطا فرما جو میرا مددگار ہو۔ دلیل کے غلبے کے لیے دعوت اور سلطنت کے غلبے کے لیے جہاد ضروری ہے، جس کا پہلا قدم دار الکفر سے ہجرت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا گیا، چناچہ یہ دعا قبول ہوئی اور آپ آبرو مندانہ طور پر مدینہ وارد ہوئے، انصار سے اور مہاجرین سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 80
کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے تو مجھے موت عطا فرما سچائی کی موت، اور مجھے قیامت کے دن اٹھا سچائی کے ساتھ، تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول سے متصل ہوجائے : عسیٰ ان یبعتک ربک مقامًا محمودًا گویا جب آپ کے ساتھ اس کا وعدہ فرمایا تو آپ کو حکم دیا کہ دعا مانگا کریں تاکہ آپ کے لئے وعدہ پورا کردیا جائے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تو مجھے ان امور میں داخل فرما دے جن کا حکم دیا گیا ہے اور ان سے مجھے نکال لے جن سے منع کیا گیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دعا کی تعلیم دی کہ آپ حالت نماز اور دیگر اوقات میں مشرکین کے درمیان سے نکالے جانے اور پر امن جگہ میں پہنچائے جانے کی دعا…
Read the full tafseer →1:۔ احمد، ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ، ابونعیم، اور بیہقی دونوں نے دلائل میں اور ضیاء نے مختارہ میں (ترمذی اور حاکم دونوں نے تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ مکہ میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وقل رب ادخلنی مدخل صدق واخرجنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطنا نصیرا “
2:۔ حاکم اور بیہقی نے دلائل میں (حاکم نے صحیح بھی کہا) قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقل رب ادخلنی مدخل صدق “ یعنی اللہ نے آپ کو مکہ سے نکالا (آیت) ” مخرج صدق “ اور آپ کو مدینہ میں داخل فرمایا (آیت) ” مدخل صدق “ فرمایا اللہ کے نبی ﷺ نے جان لیا کہ اس…
Read the full tafseer →[وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیے ] [رَّبِ : اے میرے رب ] [اَدْخِلْنِيْ : تو داخل کر مجھ کو ] [مُدْخَلَ صِدْقٍ : سچائی کا داخل کرنا ] [وَّاَخْرِجْنِيْ : اور تو نکال مجھ کو ] [مُخْــرَجَ صِدْقٍ : سچائی کا نکالنا ] [وَّاجْعَلْ : اور تو بنا ] [لِيْ : میرے لئے ] [مِنْ لَّدُنْكَ : اپنے پاس سے ] [سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا : ایک مددگار قوت ]
(آیت۔ 80) ۔ مادہ ” د خ ل “ سے باب افعال میں اِدْخَالًا کے علاوہ ایک مصدر مُدْخَلًا بھی آتا ہے۔ جبکہ باب افعال میں اس کا اسم المفعول بھی مُدْخَلٌ ہے جو کہ ظرف کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے مُدْخَلَ صِدْقٍ کے دونوں طرح کے ترجمے درست ہوں گے۔ ہم مصدر کے لحاظ سے ترجمہ کو…
Read the full tafseer →قرآن مومنین کے لیے شفاء ہے اور رحمت ہے، ظالموں کے نقصان ہی میں اضافہ کرتا ہے
یہ پانچ آیات ہیں جن کا اوپر ترجمہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت سفر ہجرت کے بارے میں ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مکہ معظمہ میں مقیم تھے، پھر جب آپ کو ہجرت کا حکم دیا گیا اس وقت آیت کریمہ (وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ ) آخر تک نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں کہ مجھے بہترین داخل ہونے کی جگہ میں داخل فرمائیے اور میرا اپنے شہر سے نکلنا بھی میرے لیے اچھا بنا دیجیے (جس کا انجام مبارک ہو) اور میرے لیے اپنے پاس سے ایسا غلبہ دیجیے جس میں آپ کی مدد بھی ہو (رواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
حکم بہ مشغولی عبادت رب معبور و بشارت مقام محمود و تلقین دعاء ہجرت و اشارہ بسوئے قیام آسمانی بادشاہت و سلطنت
قال اللہ تعالیٰ : اقم الصلوۃ لدلوک الشمس .... الیٰ .... اھدی سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے ہیں اب ان آیات میں آپ ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کی عبادت میں مشغول رہئے ان دشمنوں کی طرف التفات نہ کیجئے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا حامی و ناصر ہے۔
تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ اور اشرف عبادت تماز ہے اس لیے اولا فرض نمازوں کی تاکید فرمائی اور آخر میں نماز تہجد کا تاکد عوام کے لئے نہیں بلکہ خواص کے لیے ہے بعد ازاں آپ…
Read the full tafseer →72:۔ یہ امر ثالث یعنی ” و ان کادوا لیستفزونک الخ “ سے متعلق ہے۔ مشرکین آپ کو مکہ سے نکالتے ہیں تو آپ غم نہ کریں اور مکہ سے نکلتے وقت یہ دعاء پڑھیں۔ ” رب ادخلنی مدخل صدق الخ “ میں آپ کے مکہ سے نکلنے اور مدینہ میں داخل ہونے کو آپ کے لیے دین اسلام اور مسلمانوں کے لیے سراسر باعث برکت بنا دوں گا اور آپ کو غلبہ اور شان و شوکت کے ساتھ پھر مکہ میں واپس لاؤں گا۔
یوسف گم گشتہ باز آید بکنعان غم مخور
کلبہ احزان شود روزے گلستان غم مخور
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے تعصب کا ذکر کرکے ان کا رد فرمایا ، پھر ان کی سازشوں اور ایذا رسانیوں کا علاج اقامت صلوۃ کی صورت میں تجویز فرمایا اللہ نے تہجد پڑھنے کی طرف رغبت دلائی تاکہ مخالفین کی حیلہ سازیں آپ اور آپ کے ساتھیوں پر اثر انداز نہ ہوسکیں ، اللہ نے اشارۃ پانچوں نمازوں کا ذکر فرمایا اور نماز تہجد کی خصوصی فضیلت بیان فرمائی پھر حضور ﷺ کے مقام محمود پر فائز ہونے کی بات کی ۔
اب آج کی دو آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا اشارہ دیا ہے کہ کفار ومشرکین کی بڑھتی ہوئی ایذارسانیوں کے پیش نظر آپ کو یہاں سے ہجرت کرنا پڑے گی اور دوسری آیت…
Read the full tafseer →وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا 80
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
دخل
الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58]
( دخ ل ) الدخول
( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
تہجدّ کی کیفیت : مجاہدوقتادہ کہتے ہیں نافلۃ کا لفظ حضرت ﷺ کے لیے بھی نفلی رہ جانے پر دلالت کرتا ہے مگر آپ ہمیشہ تہجد پڑھا کرتے تھے یہاں تک رات کو عبادت و نماز میں کھڑے رہتے تھے کہ پائے مبارک ورم کر آئے تھے۔ چناچہ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ قیام شب سے آپ کے پائوں ورم کر آئے تھے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے گناہ معاف کئے پھر آپ اس قدر مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ فرمایا، افلا اکون عبدًا شکورًا کہ کیا میں اس کی شکرگزاری نہ کروں، شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟ صحیح احادیث میں آنحضرت ﷺ کی نماز تہجد کی پوری کیفیت مذکور ہے کہ کبھی آدھی رات کے بعد اٹھ کر وضو کر کے نماز میں مصروف ہوتے، دو دو رکعت کی نیت باندھتے، کبھی…
Read the full tafseer →وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 80)
(اور دعا کیجیے ! اے میرے رب، داخل کر مجھے عزت اور سچائی کا داخل کرنا، اور مجھے نکال عزت اور سچائی کا نکالنا، اور عطا کر مجھے اپنے پاس سے، اقتدار مدد کرنے والا۔ )
ہجرت کی دعا اور اس کا مفہوم
قریشِ مکہ کے رویئے کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ ہر وقت اس کے انتظار میں تھے کہ کب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے ہجرت کا حکم ملتا ہے۔ حالات تیزی سے اس کا تقاضا کررہے تھے لیکن آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر مکہ معظمہ چھوڑنے کے مجاز نہیں تھے۔ آپ ﷺ ہر طرح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے بنی کریم ﷺ کی مشکلات کا ذکر ہوا اور اس کے بعد آپ ﷺ کو نماز اور تہجد کا حکم دیا۔ اب آپ کو ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا اور اس کی دعا سکھلائی گئی ہے۔
رسول معظم ﷺ نے مکہ میں نبوت کے تیرہ سال بڑی مشکلات سے گزارے۔ سجدے کی حالت میں آپ کی گردن پر اونٹ کی گندی اوجڑی رکھی گئی۔ کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کا تین سال تک سوشل بائیکاٹ ہوا۔ ابو لہب کے بیٹوں نے آپ کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح کی نسبت منقطع کی۔ آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔ آپ کی ننھی منی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کے چہرے پر ابوجہل نے تھپڑ مارا۔ آپ کے بیٹے کی وفات پر آپ کے…
Read the full tafseer →مسلک ِجمہور :
نمبر 1۔ مقام محمود شفاعت کبری کا مقام ہے۔ روایت اس پر دلالت کرتی ہیں۔ نمبر 2۔ یہ وہ مقام ہے جس میں آپ کو لواء الحمد عنایت کیا جائے گا۔
80: وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ (اور کہہ دیں اے میرے رب مجھے خوبی کے ساتھ پہنچانا اور خوبی کے ساتھ لے جانا) مدخلؔ یہ مصدر ہے تقدیر عبارت یہ ہے ادخلنی القبر ادخالا مرضیا علی طہارۃ من الزلات۔ مجھے قبر میں لغزشوں سے طہارت کے ساتھ پسندیدہ حالت میں داخل کرنا۔ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ (اور مجھے اچھی طرح نکالنا) نمبر 1۔ اس قبر سے مجھے پسندیدہ حالت میں نکالنا کہ عزت والی ملاقات ہو۔ ملامت سے محفوظ ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بعث کا…
Read the full tafseer →تفسیر 80۔” وقل رب ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق “ اس سے مراد دخل ہونا اور خارج ہونا ہے۔
وقل رب ادخلنی مدخل صدق کی تفسیر
اہل تفسیر کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ابن عباس ؓ ، حسن و قتادہ کا بیان ہے کہ ” ادخلنی مدخل صدق “ سے مدینہ مراد ہے ۔ ” واخرجنی مخرج صدق “ سے مراد مکہ ہے۔ یہ اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ کو ہجرت کا حکم دیا ۔ ضحاک کا قول ہے کہ مجھے مکہ سے انم کی حالت میں نکال کر مشرک مجھے دکھ نہ پہنچاسکیں اور مدینہ میں اس طرح داخل فرما کر مجھے وہاں اقتدار اعلیٰ حاصل ہوجائے ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ داخل کرنے سے مراد یہ ہے کہ فریضہ نبوت کی ادائیگی میں داخلہ اور خارج کرنے سے مراد یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
80۔ 81:۔ صحیح سند سے ترمذی اور مستدرک حاکم کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے 1 ؎ جس میں انہوں نے مکہ میں آنحضرت صلعم کے تنگ کرنے کا مشورہ کیا اور چاہا کہ ان کو مکہ سے نکال دیں یا قید کریں تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ آپ یوں دعا کریں جس طرح دعا کا اس آیت میں ذکر ہے اور مکہ سے مدینہ کو چلے جائیں۔ قتاد کہتے ہیں کہ مدخل صدق سے مراد مدینہ ہے اور مخرج صدق مکہ ہے اور سلطانا نصیرا کی تفسیر حسن بصری یہ کہتے ہیں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ملک عرب اور فارس اور روم کافروں سے چھین کر تمہیں دیدویں گے یہ جو ارشاد کیا ہے کہ حق آیا اور باطل گیا اس میں کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(آیت نمبر (78
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں (لد لوک الشمس) ” سورج ڈھلنے سے “ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہوجانے سے لے کر ‘ اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں (الی عسق الیل ) ” رات کے اندھیرے تک “ ینی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں۔ (وقران الفجر) ” اور فجر کا قرآن پڑھنا “ یعنی فجر کی نماز ‘ اور اسے ” قرآن “ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراءت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراءت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
نماز تہجد
قول باری ہے (ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک اور رات کو تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے) حضور ﷺ کے صحابی حضرت حجاج بن عمرو انصاری سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ ” تم میں سے جب کوئی شخص رات کی ابتداء سے آخر شب تک قیام کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس نے تہجد کی نماز ادا ک رلی ہے۔ نہیں اس نے تہجد کی نماز ادا نہیں کی۔ تہجد وہ نماز ہے جو تھوڑی دیر سونے کے بعد اٹھ کر ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے۔
حضور ﷺ کی نماز تہجد کی نماز اس طرح ہوتی تھی۔ “ اسود اور علقمہ کا قول ہے کہ تہجد کی نماز سو کر اٹھنے کے بعد ہوتی ہے۔ لغت میں نما ز تہجد کے لئے یا…
Read the full tafseer →145۔ پیغمبر کو ایک خاص دعاء کی تعلیم و تلقین :۔
سو اس سے پیغمبر کو ہجرت سے قبل ایک خاص دعاء کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ ” اے میرے رب مجھے سچائی کے ساتھ لے جانا اور سچائی کے ساتھ نکالنا “ خواہ وہ مکہ مکرمہ سے خروج اور مدینہ طیبہ کا دخول ہو یا قبر کا دخول اور حشر کا خروج و قیام وغیرہ کہ کلمات کریمہ کا عموم وشمول ان سب ہی کو حاوی و محیط ہے۔ اگرچہ یہ دعاء حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے آپ ﷺ کو ہجرت سے قبل تعلیم و تلقین فرمائی گئی تھی اس لئے اس کا اولین مصداق تو ہجرت مدینہ ہی ہے مگر الفاظ کا عموم ایسے تمام ہی مواقع کو عام اور شامل ہے اور حضور کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر شخص کیلئے بھی یہ تعلیم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
اوقات عبادت، نماز اور قرآن کی فضیلت
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا ذکر ہے۔ تو یہاں اس کی عبادت کے چند اصول بتائے گئے ہیں دعا کا طریقہ حق و باطل کا مطلب اور قرآن کی برکتیں بتائی گئی ہیں۔ سب سے پہلے تو نماز کا ذکر ہے نماز کے فضائل تو کافی بیان ہوچکے ہیں یہاں نمازوں کی تعداد اور اوقات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے حکم دیا کہ پانچ نمازیں، فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء فرض کی گئی ہیں۔ فجر کی نماز میں تلاوت قرآن لمبی کرنے کا حکم ہے اور صبح کے وقت قرآن پڑھنے کی فضیلت بتائی گئی کہ اس وقت فرشتوں کے نازل ہونے کا وقت ہوتا ہے جو کہ بڑی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اس کے علاوہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
(رکوع نمبر 9)
اسرار و معارف
تو کفار کی ایذا اور مشرکین کی سازشوں کا مقابلہ آپ اللہ کی عبادت کرکے کریں کہ عبادت سے قرب الہی اور تائید باری نصیب ہوتی ہے اور تائید باری ہی مصائب کا حل اور دشمنوں سے حفاطت کا اعلی ترین ذریعہ ہے لہذا قائم کیجئے صلوۃ کو دن ڈھلے سے رات کے اندھیرے تک اور علی الصبح بھی عبادات اور نماز میں قرآن پڑھیں کہ علی الصبح قرآن کی تلاوت عبادت یعنی نماز میں روبرو ہونے کے برابر ہے کہ شب کی رخصت کے بعد پہلا کام اللہ جل جلالہ کی حضوری کا نصیب ہو جو آئندہ دن بھر اور دوسری صبح تک برکات نصیب ہونے کا سبب بنتا ہے ۔
(حدیث پاک کے بغیر بات سمجھ میں نہیں آسکتی)
اس آیہ مبارکہ میں نماز پنچگانہ…
Read the full tafseer →ف 3 معلوم ہوا کہ یہ آیت اس وقت اتری جب آنحضرت کو ہجرت کا حکم دیا گیا چناچہ آپ آبرو مندانہ طور پر مدینہ وارد ہوئے۔ انصار سے دین کی مدد بھی ہوئی۔ (کذا فی الموضح)
Read the full tafseer →(17:80) ادخلنی۔ تو مجھے داخل کر ادخال (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر نون وقایہ یضمیر واحد متکلم۔
مدخل۔ مخرج مصدر ہیں۔ مدخل داخل کرنا۔ مخرج نکالنا۔ منصوب بوجہ مضاف ہونے کے ہیں۔ صدق مضاف الیہ ہے جس کے معنی راستی اور سچائی کے ہیں۔ رب ادخلنی مدخل۔۔ مخرج صدق۔ اے میرے پروردگار تو جہاں کہیں مجھے لے جائے سچائی کے ساتھ لے جا۔ اور جہاں کہیں سے بھی مجھے نکالے سچائی کے ساتھ نکال۔
یہ آیت کریمہ ہجرت کے وقت نازل ہوئی جس میں ایک دعا کی تلقین کی گئی ۔ کہ اے میرے رب کریم میرا مکہ سے ہجرت کرنا بھی سچائی کے ساتھ ہو اور مدینہ میں ورود بھی سچائی کے ساتھ ہو۔ یعنی دونوں کا انجام نیک ہو۔
اور بعض کے نزدیک اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
لغات القرآن آیت نمبر 78 تا 84
دلوک ڈھلنا، زوال۔ غسق اندھیرا۔ تھجد بیدار رہے۔ ذھق مٹ گیا۔ انعمنا ہم نے انعام کیا۔ اعرض منہ پھیرلیا۔ اعراض کیا۔ نا پہلو پھیرلیا۔ شاکلۃ طریقہ۔ اھدی زیادہ صحیح راستہ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 84
ان آیات میں جو مضامین ارشاد فرمائے گئے ہیں ان کو سمھنے کے لئے اس اصول کو سامنے رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب زندگی ہے جس کے اصول، انوارات اور طریقے کامل و مکمل ہیں لیکن اللہ کی مراد اور انوارات اس وقت تک کھل کر سامنے نہیں آسکتے جب تک نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ یعنی احادیث رسول ﷺ کو سامنے نہ رکھا جائے۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم ہمارے لئے کافی ہے ہم خود اس کو…
Read the full tafseer →حضور ﷺ کو دعا کا حکم
شان نزول : جب کفار مکہ نے آنحضرت ﷺ کے تنگ کرنے کا مشورہ کیا اور چاہا کہ ان کو مکہ سے نکال دیں یا قید کریں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ اس طرح دعا کریں۔ ” یا الہٰی مجھ کو مکہ سے سلامتی کے ساتھ نکال اور مدینہ میں غنیمت کے ساتھ داخل کر اور اپنے ہاں کی قوت سے میری مدد کر “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
[60] یعنی خیر و خوبی کے ساتھ۔
[61] یعنی یا تو مجھے حکومت عطا کر یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے کہ میں اس کی طاقت کے ذریعے برائی کو مٹا دوں اور تیرے قانون عدل و انصاف کو جاری کرسکوں۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کردیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و نصیحت سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کو نافذ کرنے کے لئے حکومت کی طاقت بھی درکار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(ف 2) مجوسی سورج کی عبادت کرتے اور عموما اس وقت کرتے جس وقت سورج کامل عروج پر ہو ، قرآن نے نماز کے اوقات ایسے بتانے ہیں جب کہ سورج زوال پذیر ہوجائے ،
دلوک : وہ وقت ہے جب سورج افق نور سے ڈھل جائے اور یہ تین دفعہ ہوتا ہے ظہر کے وقت جب سورج پہلی دفعہ زوال پذیر ہوتا ہے عصر کے وقت جب دوسری دفعہ دوسرے مرتبہ میں افق نور سے سورج ڈھلتا ہے ۔ اور تیسری دفعہ جب افق مغرب میں غروب ہوجاتا ہے ۔
لدلوک الشمس : سے غرض یہ ہوگی کہ کلما دلکت الشمس ، غسق اللیل رات کی نماز ہے یعنی عشاء اور قران الفجر ، صبح کی اس طرح پانچوں نمازوں کا ذکر قرآن کی ایک آیت سے ثابت ہوتا ہے ۔
حل لغات :
نافلۃ لک : یعنی زیارت و برکت :
Read the full tafseer →-80 اور اے پیغمبر ﷺ ! آپ یوں دعا کیجیے کہ اے میرے پروردگار تو مجھ کو جہاں لے جائے خوبی اور راحت کے ساتھ لے جائیو اور جہاں سے مجھ کو نکالے اور لے جائے خوبی اور راحت کے ساتھ نکالیو اور لے جائیو اور مجھ کو اپنے پاس سے ایسا غلبہ اور زور عنایت کیجیو جس کو تیری مدد اور نصرت حاصل ہو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس شہر سے نکال آبرو سے اور کسی جگہ بیٹھا آبرو سے اللہ تعالیٰ نے مدینے میں بٹھایا اور وہاں کے لوگ حکم میں دیئے جن سے دین کو مدد ہوئی۔ 12 چونکہ کوئی غلبہ اور تسلط جب تک حق تعالیٰ کی نصرت اس کو حاصل نہ ہو اس کو پائیداری نہیں ہوتی۔
اس لئے ” واجعل لی من لدنک سلطاناً نصیراً “ سکھایا۔ دعا میں آگے اس…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی مکہ سے جانے کے بعد۔
8۔ جس سے وہ غلبہ بڑہتا ہی جاوے، ورنہ خارجی غلبہ تو کفار کو بھی ہوجاتا ہے، مگر وہ منصور من اللہ نہیں ہوتے، اس لئے جلد زائل ہوجاتا ہے، اس میں تفویض کا حکم ہوگیا۔
Read the full tafseer →ہجرت کی اجازت الٰہی اور بوقت ہجرت ترانہ خداوندی کی ہدایت ِ خاص :
98: زیر نظر آیت میں مُدْخَلَ اور مُخْرَجَ کے الفاظ آئے ہیں۔ مطلب ان کا ” داخل ہونے “ اور ” نکلنے “ اور پھر صِدْقٍ کے لفظ نے یہ وضاحت کردی کہ یہ داخل ہونا اور نکلنا سب اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق اور خیر و خوبی کے ساتھ ہو ۔ قرآن کریم میں ، اور کے الفاظ انہی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔ اس جگہ مُدْخَلَ سے مدینہ منورہ اور مُخْرَجَ سے مکہ مکرمہ ہے اور نبی کریم ﷺ کو وہ ترانہ سکھایا گیا جس کے نتیجہ میں آپ ﷺ بخیریت مکہ سے نکلیں گے اور خیر و خوبی کے ساتھ مدینہ میں داخل ہوں گے اور دنیا نے دیکھا کہ فی الواقعہ وہی ہوا جو رب العزت نے ارشاد…
Read the full tafseer →It has been reported in al-Jami` of Tirmidhi from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ that the Holy Prophet ﷺ was in Makkah al-Mu` azzamah. Then, he was commanded to migrate to Madinah. Thereupon, this verse was revealed: وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ (And say, "0 my Lord, make me enter a rightful entrance and make me exit a rightful exit - so). Here, the word: مُدخَل (mudkhal) and مُخرَج (mukhraj) meaning the place of entry and the place of exit are اِسمَ ظرف (ism-al-zarf: the noun of place and time). The addition of the attribute (na't) of صِدق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
99. This prayer clearly shows that the time of Hijrah (Migration) had come near. That is why Allah has instructed the Prophet (peace be upon him) to this effect: You should follow the truth wherever and in whatever condition you be. If you migrate from a place, you should migrate for the sake of the truth, and wherever you go, you should go for the sake of the truth.
100. That is, either grant me power and authority or make some government my helper so that I may use its power to reform the corrupt world. This is because power is required to check indecency and sin and to enforce the law of…
Read the full tafseer →