Explained with ayahs 80–81
حکم ہجرت
مسند احمد میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مکہ شریف میں تھے پھر آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور یہ آیت اتری۔ امام ترمذی ؒ فرماتے ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے مشورہ کیا کہ آپ کو قتل کردیں یا نکال دیں یا قید کرلیں پس اللہ کیا یہی ارادہ ہوا کہ اہل مکہ کو ان کی بداعمالیوں کا مزہ چکھا دے۔ اس نے اپنے پیغمبر ﷺ کو مدینے جانے کا حکم فرمایا۔ یہی اس آیت میں بیان ہو رہا ہے۔ قتادہ ؒ فرماتے ہیں مدینے میں داخل ہونا اور مکہ سے نکلنا یہی قول سب سے زیادہ مشہور ہے۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ سچائی کے داخلے سے مراد موت ہے اور سچائی سے نکلنے سے مراد موت کے بعد کی…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 101
یہ اعلان اس وقت کیا گیا تھا جبکہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد مکہ چھوڑ کر حبشہ میں پناہ گزین تھی، اور باقی مسلمان سخت بیکسی و مظلومی کی حالت میں مکہ اور اطراف مکہ میں زندگی بسر کر رہے تھے اور خود نبی ﷺ کی جان ہر وقت خطرے میں تھی۔ اس وقت بظاہر باطل ہی کا غلبہ تھا اور غلبہ حق کے آثار کہیں دور دور نظر نہ آتے تھے۔ مگر اسی حالت میں نبی ﷺ کو حکم دے دیا گیا کہ تم صاف صاف ان باطل پرستوں کو سنا دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ ایسے وقت میں یہ عجیب اعلان لوگوں کو محض زبان کا پھاگ محسوس ہوا اور انہوں نے اسے ٹھٹھوں میں اڑا دیا۔ مگر اس پر نو برس ہی گزرے تھے کہ نبی ﷺ اسی شہر مکہ…
Read the full tafseer →وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ یہ آیت ہجرت کے بعد فتح مکہ کے بارے میں نازل ہوئی حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول کریم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو اس وقت بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بتوں کے مجسمے کھڑے ہوئے ہوئے تھے بعض علماء نے اس خاص تعداد کی وجہ یہ بتلائی ہے کہ مشرکین مکہ سال بھر کے دنوں میں ہر دن کا بت الگ رکھتے تھے اس دن میں اس کی پرستش کرتے تھے (قرطبی) آپ جب وہاں پہنچنے تو یہ آیت آپ کی زبان مبارک پر تھی وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اور اپنی لکڑی ایک ایک بت کے سینے میں مارتے جاتے تھے (بخاری ومسلم)
بعض روایات میں ہے کہ اس چھڑی کے نیچے رانگ یا لوہے…
Read the full tafseer →وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔
" حق " سے مراد قرآن اور وہ دین حق ہے جس کو لے کر قرآن آیا تھا اور باطل سے مراد وہ دین باطل ہے جس کو مٹانے کے لیے قرآن نازل ہوا تھا۔
حق کی فتح اور باطل کی شکست کا اعلان : اوپر آپ کو ہجرت کی دعا سکھائی گئی تھی اب یہ انہیں نازک حالات کے اندر حق کی فتح اور باطل کی شکست کے اعلان کا آپ کو حکم ہوا۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم اس کے محل میں اشارہ کرچکے ہیں کہ ہجرت در حقیقت رسول کی فتح کا دیباچہ ہوتی ہے۔ اس کے بعد رسول کے مخالفین لازماً مٹ جاتے ہیں اور دین حق کا بول بالا ہو کے رہتا ہے۔ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا میں…
Read the full tafseer →81۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب نبی ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں تین سو ساٹھ بت تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ چھڑی کی نوک سے ان بتوں کو مارتے جاتے اور (وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ) 17۔ الاسراء :81)۔ اور (قُلْ جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ) 34۔ سبأء :49) پڑھتے جاتے (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
48: اس آیت کریمہ میں یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ حق یعنی اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہونے والا ہے، چنانچہ جب آنحضرت ﷺ نے مکہ مکرمہ فتح کرلیا اور حرم میں داخل ہو کر کعبے میں بنے ہوئے بت گرائے تو اس وقت آپ کی زبان مبارک پر یہی آیات تھیں۔
Read the full tafseer →وقل ……(71 : 18) ” اور اعلان کر دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تو مٹنے ہی والا ہے “۔ یعنی اللہ کی جانب سے جو اقتدار نبی اور داعیوں کو ملتا ہے اس کی بدولت۔ اے نبی ﷺ اعلان کردو کہ یہ اقتدار اب آہی گیا اور اس کی وجہ سے باطل گویا مٹ ہی گیا کیونکہ حق اپنے اندر قوت ، سچائی اور ثبات رکھتا ہے۔ اور باطل کے مزاج میں کمزوری اور مٹنا ہے۔ سچائی کا مزاج یہ یہ کہ وہ زندہ رہے ، پھلے پھولے اور قائم و دوائم رہے اور باطل کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ مٹ جائے ، ختم ہوجائے اور اس کا نام و نشان تک نہ رہے۔
” باطل مٹنے والا ہے “۔ یہ ایک الٰہی حقیقت ہے اور اللہ اسے نہایت ہی تاکیدی الفاظ میں بیان فرما تا ہے۔ اگرچہ بظاہر…
Read the full tafseer →14 یہ عظیم الشان پیشگوئی مکہ میں کی گئی جہاں بظاہر کوئی سامان غلبہ حق کا نہ تھا۔ یعنی کہہ دو قرآن کریم مومنین کو بشارتیں سناتا ہوا اور باطل کو کچلتا ہوا آپہنچا۔ بس سمجھ لو کہ اب دین حق غالب ہوا اور کفر بھاگا۔ نہ صرف مکہ سے بلکہ سارے عرب سے۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اس وقت کعبہ کے گرد تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے۔ آپ ایک چھڑی سے سب پر ضرب لگاتے اور فرماتے تھے۔ (جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) 17 ۔ الاسراء :81) ۔ (جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ ) 34 ۔ سبأ :49) ہر ایک اوندھے منہ گر جاتا تھا۔ اس طرح…
Read the full tafseer →آیت 81 وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ
بظاہر تو ابھی اس انقلاب کے آثار نمودار نہیں ہوئے تھے ابھی آٹھ سال بعد جا کر کہیں مکہ فتح ہونے والا تھا ‘ لیکن عالم امر میں چونکہ اس کا فیصلہ ہوچکا تھا لہٰذا ابھی سے آپ کی زبان مبارک سے حق کی آمد اور باطل کے فرار کا اعلان کرایا جا رہا ہے۔
اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا
باطل کو ثبات نہیں۔ جب بھی اس کا حق کے ساتھ معرکہ ہوگا تو حق کے مقابلے میں باطل ہمیشہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →103 فتح مکہ کی پیشگوئی :۔ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کفار کے ظلم و ستم سے تنگ آکر بہت سے مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے اور باقی مسلمانوں پر ان کی سختیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ ان حالات میں ایسی پیشین گوئی اور اس قسم کا اعلان قریش مکہ کے لیے ایک اضحوکہ پھبتی اور مذاق کا سامان بن گیا تھا۔ مگر اللہ کی مہربانی سے حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ اس واقعہ کے نو سال بعد آپ فاتحانہ انداز سے بیت اللہ شریف میں داخل ہوئے تو اس وقت آپ یہی آیت تلاوت فرما رہے تھے مگر اس وقت یہ آیت ایک واضح حقیقت بن کر قریش مکہ کے سامنے آچکی تھی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
1۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب مکہ…
Read the full tafseer →120۔ آیت کے آخری ٹکڑے نے یہ حقیقت صاف کردی کہ پائداری اور قیام باطل کے نصیب میں نہیں (آیت) ” الحق۔ الباطل “۔ حق سے مراد ہے دین توحید اور باطل اس کی ضد ہے اور ہر قسم کے کفر اور غیر پرستی پر شامل ہے۔ حدیث وسیر کی روایتوں میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ فتح مکہ کے بعد جب خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو کعبہ کے اندر کے بتوں اور مورتیوں کو توڑتے جاتے تھے اور زبان سے یہ آیت تلاوت فرماتے جاتے۔ محققین صوفیہ نے الفاظ آیت کے عموم سے فائدہ اٹھاکرحق کے تحت میں نور باطن اور حب الہی کو بھی داخل کیا اور باطل کے تحت میں ظلمت اور حب خلق کو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
آیت نمبر 78 تا 84
ترجمہ : سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی چھا جانے تک رات کی تاریکی کے آنے تک نماز قائم کرو یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی نماز، اور فجر کا قرآن یعنی فجر کی نماز قائم کرو، یقیناً فجر کی نما (کا وقت) حاضری کا وقت ہے جس میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور رات کے کسی قدر حصے میں (نماز پڑھیں) نماز تہجد قرآن کے ساتھ پڑھا کریں یہ آپ ہی کیلئے اضافی فریضہ ہے آپ کیلئے نہیں یا زائد ہے فرض نمازوں پر (یعنی نفل ہے) امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو آخرت میں مقام محمود پر فائز کرے گا کہ جہاں اولین اور آخرین آپ کی ستائش کریں گے اور وہ مقام شفاعت ہے مقدمات کے فصیل کرنے…
Read the full tafseer →وَقُلْ اور (اے محمد ﷺ فتح مکہ کے وقت جب آپ شہر میں داخل ہوں تو) کہئے۔
جَاۗءَ الْحَقُّ حق (یعنی اسلام یا قرآن یا خالص اللہ کی عبادت کا وقت) آگیا۔
وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ: اور باطل گیا ‘ یعنی شرک برباد ہوگیا ‘ بتوں کی پوجا کا دور گیا۔ زَہَقَ کا معنی ہے خَرَجَ ۔ زَہَقَ رُوْحُہٗ اس کی روح نکل گئی۔
اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا : باطل بلاشبہ برباد ہونے والا ہی ہے۔ یعنی باطل اس قابل ہی ہے کہ فنا ہوجائے قائم نہ رہے۔ باطل ہوتا ہی بےبنیاد ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن (کعبہ میں) داخل ہوئے اس زمانہ میں کعبہ کے گرداگرد 360 استھان تھے ‘ اس وقت دست مبارک میں لکڑی تھی ‘ آپ اس…
Read the full tafseer →(81) اور کہہ دیجیے کہ اب رسول اکرم ﷺ قرآن کریم کے ساتھ تشریف لے آئے ہیں یا یہ کہ اب اسلام کا غلبہ ہوگیا ہے اور مسلمانوں کی کثرت ہوگئی ہے اور شیطان اور شرک اور مشرکین سب ہلاک ہوئے اور واقعی یہ باطل چیزیں تو یوں ہی آتی جاتی رہتی ہیں۔
Read the full tafseer →وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی یہ بشارت سنا دینے کا حکم دیا جو تھوڑے ہی عرصے کے بعد پوری ہوگئی اور آپ ﷺ فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے گرد تین سو ساٹھ بت تھے، آپ ﷺ انھیں ایک لکڑی کے ساتھ کچو کے مارتے جاتے تھے جو آپ کے ہاتھ میں تھی اور یہ کہتے جاتے تھے : (جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا) ”حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل ہمیشہ سے مٹنے والا ہے۔“ (جَاۗءَ الْحَـقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ) [ سبا : 49 ] ”حق آگیا اور باطل…
Read the full tafseer →آیت نمبر 81
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ امام بخاری اور ترمذی نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت بیان کی ہے انہوں نے بیان کیا ہے : حضور نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو اس وقت کعبہ معظمہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے۔ پس حضور نبی مکرم ﷺ اپنے ہتھ کی چھڑی سے انہیں کچو کے دینے لگے۔۔۔ اور کبھی فرمایا : بعود (لکڑی سے مراد چھڑی ہی ہے) ۔۔۔ اور ساتھ فرماتے : جآء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقًا (آگیا ہے حق اور مٹ گیا ہے باطل بیشک باطل مٹنے والا ہی تھا) حق آگیا ہے اور باطل کبھی نہیں آئے گا “۔ یہ الفاظ ترمذی کے ہیں۔ اور انہوں نے کہا ہے : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
1:۔ ابن ابی شیبہ بخاری مسلم ترمذی نسائی ابن جریر ابن منذر اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے اردگرد ساٹھ بت تھے آپ نے ان کو ایک لکڑی کے ساتھ چبھونا شروع کیا جو آپ کے ہاتھ میں تھی اور فرماتے جاتے تھے (آیت) وقل جآء الحق وزھق الباطل، ان الباطل کان زھوقا “ (الاسراء : 81) (آیت) ” جآء الحق وما یبدئ الباطل وما یعید “ (سبا آیت 29)
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابویعلی، ابن منذر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کو حکم فرمایا تو چہروں کے بل اوندھے منہ گرپڑے آپ نے یہ آیت…
Read the full tafseer →[وَقُلْ : اور آپ ﷺ کہیے ] [جَاۗءَ : آیا ] [الْحَقُّ : حق ] [وَزَهَقَ : اور نابود ہوا ] [الْبَاطِلُ : باطل ] [ان : بیشک ] [الْبَاطِلَ : باطل ] [كَان : ہے ] [زَهُوْقًا : بالکل نابود ہونے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
دوسری آیت میں فتح مکہ کا ذکر ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔ اس وقت بیت اللہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ آپ انہیں اپنے ہاتھ کی ایک ٹہنی سے گراتے جاتے تھے اور یہ پڑھتے جاتے تھے۔ (جَآءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا) اور یہ بھی پڑھتے جاتے تھے۔ (جَآءَ الْحَقُّ وَمَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ ) سورة سبا کی آیت ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ حق کے آنے اور باطل کے چلے جانے کا اعلان کردیں۔ چناچہ آپ نے بتوں کو گراتے ہوئے سورة بنی اسرائیل کی آیت پر بھی عمل کیا اور سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
حکم بہ مشغولی عبادت رب معبور و بشارت مقام محمود و تلقین دعاء ہجرت و اشارہ بسوئے قیام آسمانی بادشاہت و سلطنت
قال اللہ تعالیٰ : اقم الصلوۃ لدلوک الشمس .... الیٰ .... اھدی سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے ہیں اب ان آیات میں آپ ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کی عبادت میں مشغول رہئے ان دشمنوں کی طرف التفات نہ کیجئے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا حامی و ناصر ہے۔
تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ اور اشرف عبادت تماز ہے اس لیے اولا فرض نمازوں کی تاکید فرمائی اور آخر میں نماز تہجد کا تاکد عوام کے لئے نہیں بلکہ خواص کے لیے ہے بعد ازاں آپ…
Read the full tafseer →73:۔ یہ غلبہ اسلام کی بشارت اور پیشگوئی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ سے پورا فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کے تعصب کا ذکر کرکے ان کا رد فرمایا ، پھر ان کی سازشوں اور ایذا رسانیوں کا علاج اقامت صلوۃ کی صورت میں تجویز فرمایا اللہ نے تہجد پڑھنے کی طرف رغبت دلائی تاکہ مخالفین کی حیلہ سازیں آپ اور آپ کے ساتھیوں پر اثر انداز نہ ہوسکیں ، اللہ نے اشارۃ پانچوں نمازوں کا ذکر فرمایا اور نماز تہجد کی خصوصی فضیلت بیان فرمائی پھر حضور ﷺ کے مقام محمود پر فائز ہونے کی بات کی ۔
اب آج کی دو آیات میں سے پہلی آیت میں اللہ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کا اشارہ دیا ہے کہ کفار ومشرکین کی بڑھتی ہوئی ایذارسانیوں کے پیش نظر آپ کو یہاں سے ہجرت کرنا پڑے گی اور دوسری آیت…
Read the full tafseer →وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا 81
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
تہجدّ کی کیفیت : مجاہدوقتادہ کہتے ہیں نافلۃ کا لفظ حضرت ﷺ کے لیے بھی نفلی رہ جانے پر دلالت کرتا ہے مگر آپ ہمیشہ تہجد پڑھا کرتے تھے یہاں تک رات کو عبادت و نماز میں کھڑے رہتے تھے کہ پائے مبارک ورم کر آئے تھے۔ چناچہ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ قیام شب سے آپ کے پائوں ورم کر آئے تھے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے گناہ معاف کئے پھر آپ اس قدر مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ فرمایا، افلا اکون عبدًا شکورًا کہ کیا میں اس کی شکرگزاری نہ کروں، شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟ صحیح احادیث میں آنحضرت ﷺ کی نماز تہجد کی پوری کیفیت مذکور ہے کہ کبھی آدھی رات کے بعد اٹھ کر وضو کر کے نماز میں مصروف ہوتے، دو دو رکعت کی نیت باندھتے، کبھی…
Read the full tafseer →وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زُھُوْقًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 81)
(اور آپ ﷺ اعلان کردیجیے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، اور باطل تھا ہی مٹنے والا۔ )
حق کی فتح اور باطل کی شکست کا اعلان
سابقہ آیت کریمہ میں غلبہ دین کی جو بات اشاروں میں کہی جارہی تھی، اب آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ ﷺ کھل کر اعلان کردیجیے کہ اسلام کا راستہ روکنے والو ! سن لو، تم اب اس شمع کو جلنے سے نہیں روک سکو گے۔ مشعل برداروں کا قافلہ دنیا کی تاریکیاں دور کرنے کے لیے نکلا ہے، تم ان سے مشعلیں نہیں چھین سکو گے۔ مستقبل اگرچہ ابھی تک تاریک پردوں میں ہے، اس لیے تم اسے دیکھ نہیں سکتے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے بنی کریم ﷺ کی مشکلات کا ذکر ہوا اور اس کے بعد آپ ﷺ کو نماز اور تہجد کا حکم دیا۔ اب آپ کو ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا اور اس کی دعا سکھلائی گئی ہے۔
رسول معظم ﷺ نے مکہ میں نبوت کے تیرہ سال بڑی مشکلات سے گزارے۔ سجدے کی حالت میں آپ کی گردن پر اونٹ کی گندی اوجڑی رکھی گئی۔ کئی بار قاتلانہ حملے ہوئے۔ آپ اور آپ کے ساتھیوں کا تین سال تک سوشل بائیکاٹ ہوا۔ ابو لہب کے بیٹوں نے آپ کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح کی نسبت منقطع کی۔ آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔ آپ کی ننھی منی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ کے چہرے پر ابوجہل نے تھپڑ مارا۔ آپ کے بیٹے کی وفات پر آپ کے…
Read the full tafseer →استجابتِ حق :
81: وَقُلْ جَآ ئَ الْحَقُّ (اور کہہ دو حق آیا) حق سے اسلام مراد ہے۔ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ (اور باطل گیا) ہلاک و برباد ہوا۔ باطل سے شرک مراد ہے۔ نمبر 2۔ قرآن آیا اور شیطان ہلاک ہوا۔ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا (بیشک باطل برباد ہونے والا ہے) ہر زمانہ میں باطل اسی لائق ہے کہ وہ برباد ہوجائے۔
Read the full tafseer →81۔” وقل جاء الحق “ اس سے مراد قرآن ہے۔” وزھق الباطل “ اس سے مراد شیطان ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ حق سے مراد اسلام اور باطل سے مراد شرک ہے۔ بعض نے کہا کہ حق سے مراد اللہ کی عبادت ہے اور باطل سے مراد بتوں کی عبادت ہے۔
” ان الباطل کان زھوقاً “ جانے والا ہے ۔ جیسے کہا جاتا ہے ” زھقت نفسہ “ اس کی جان نکل گئی ۔ حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے ۔ بیت اللہ کے قریب تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے اور اپنی لاٹھی کے ساتھ ان کو کچوکا دینے لگے اور فرمانے لگے ” جاء الحق وزھق الباطل ، جاء الحق وما یبدی الباطل ومایعید “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
80۔ 81:۔ صحیح سند سے ترمذی اور مستدرک حاکم کی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت اوپر گزر چکی ہے 1 ؎ جس میں انہوں نے مکہ میں آنحضرت صلعم کے تنگ کرنے کا مشورہ کیا اور چاہا کہ ان کو مکہ سے نکال دیں یا قید کریں تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو یہ حکم فرمایا کہ آپ یوں دعا کریں جس طرح دعا کا اس آیت میں ذکر ہے اور مکہ سے مدینہ کو چلے جائیں۔ قتاد کہتے ہیں کہ مدخل صدق سے مراد مدینہ ہے اور مخرج صدق مکہ ہے اور سلطانا نصیرا کی تفسیر حسن بصری یہ کہتے ہیں اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ملک عرب اور فارس اور روم کافروں سے چھین کر تمہیں دیدویں گے یہ جو ارشاد کیا ہے کہ حق آیا اور باطل گیا اس میں کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(آیت نمبر (78
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں (لد لوک الشمس) ” سورج ڈھلنے سے “ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہوجانے سے لے کر ‘ اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں (الی عسق الیل ) ” رات کے اندھیرے تک “ ینی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں۔ (وقران الفجر) ” اور فجر کا قرآن پڑھنا “ یعنی فجر کی نماز ‘ اور اسے ” قرآن “ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراءت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراءت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
نماز تہجد
قول باری ہے (ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک اور رات کو تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے) حضور ﷺ کے صحابی حضرت حجاج بن عمرو انصاری سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ ” تم میں سے جب کوئی شخص رات کی ابتداء سے آخر شب تک قیام کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس نے تہجد کی نماز ادا ک رلی ہے۔ نہیں اس نے تہجد کی نماز ادا نہیں کی۔ تہجد وہ نماز ہے جو تھوڑی دیر سونے کے بعد اٹھ کر ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے۔
حضور ﷺ کی نماز تہجد کی نماز اس طرح ہوتی تھی۔ “ اسود اور علقمہ کا قول ہے کہ تہجد کی نماز سو کر اٹھنے کے بعد ہوتی ہے۔ لغت میں نما ز تہجد کے لئے یا…
Read the full tafseer →147۔ اعلان حق کا حکم وارشاد :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور کہو اور اعلان کردو (اے پیغمبر ! ) کہ حق آگیا “ یعنی دین حق اسلام جو کہ سراسر حق وصدق ہے۔ اور جس کا نہ کوئی بدل ممکن ہوسکتا ہے نہ مقابل۔ پس اب تمہارے لئے اے مشرکو ! اور منکرو ایک ہی صورت ہے کہ تم صدق دل سے حق کو قبول کرکے اہل حق کے زمرے میں شامل ہوجاؤ اور اس طرح اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرلو۔ ورنہ ابدی ہلاکت اور دائمی تباہی و بربادی کیلئے تیار ہوجاؤ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دین حق وہی اور صرف وہی ہے جو قرآن حکیم کی صورت میں اللہ رب العالمین کی طرف سے دنیا کی ہدایت و راہنمائی کیلئے نازل فرمایا گیا ہے تاکہ دنیا کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
اوقات عبادت، نماز اور قرآن کی فضیلت
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا ذکر ہے۔ تو یہاں اس کی عبادت کے چند اصول بتائے گئے ہیں دعا کا طریقہ حق و باطل کا مطلب اور قرآن کی برکتیں بتائی گئی ہیں۔ سب سے پہلے تو نماز کا ذکر ہے نماز کے فضائل تو کافی بیان ہوچکے ہیں یہاں نمازوں کی تعداد اور اوقات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے حکم دیا کہ پانچ نمازیں، فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء فرض کی گئی ہیں۔ فجر کی نماز میں تلاوت قرآن لمبی کرنے کا حکم ہے اور صبح کے وقت قرآن پڑھنے کی فضیلت بتائی گئی کہ اس وقت فرشتوں کے نازل ہونے کا وقت ہوتا ہے جو کہ بڑی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اس کے علاوہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
(رکوع نمبر 9)
اسرار و معارف
تو کفار کی ایذا اور مشرکین کی سازشوں کا مقابلہ آپ اللہ کی عبادت کرکے کریں کہ عبادت سے قرب الہی اور تائید باری نصیب ہوتی ہے اور تائید باری ہی مصائب کا حل اور دشمنوں سے حفاطت کا اعلی ترین ذریعہ ہے لہذا قائم کیجئے صلوۃ کو دن ڈھلے سے رات کے اندھیرے تک اور علی الصبح بھی عبادات اور نماز میں قرآن پڑھیں کہ علی الصبح قرآن کی تلاوت عبادت یعنی نماز میں روبرو ہونے کے برابر ہے کہ شب کی رخصت کے بعد پہلا کام اللہ جل جلالہ کی حضوری کا نصیب ہو جو آئندہ دن بھر اور دوسری صبح تک برکات نصیب ہونے کا سبب بنتا ہے ۔
(حدیث پاک کے بغیر بات سمجھ میں نہیں آسکتی)
اس آیہ مبارکہ میں نماز پنچگانہ…
Read the full tafseer →ف 4 چناچہ چند ہی سال کے بعد آنحضرت فاتحانہ شان کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ایک روایت میں ہے : آپ کعبہ کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ کے ہاتھ میں لکڑی تھی۔ اس لکڑی سے ایک ایک بت پر ضرب لگاتے اور یہ آیت (قل جاء الحق) تلاوت فرماتے جاتے۔ (بخاری)
Read the full tafseer →(17:81) زھق۔ ماضی واحد مذکر غائب زھوق مصدر (باب فتح) وہ نکل بھاگا۔ مٹ جانے والا۔ زھق بمعنی خرج بھی آتا ہے۔ زھق روحہ اس کی روح نکل گئی۔ اور دوسری جگہ قرآن مجید میں آتا ہے وتزھق انفسہم وہم کافرون (9:85) اور ان کی جانیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ کافرہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
لغات القرآن آیت نمبر 78 تا 84
دلوک ڈھلنا، زوال۔ غسق اندھیرا۔ تھجد بیدار رہے۔ ذھق مٹ گیا۔ انعمنا ہم نے انعام کیا۔ اعرض منہ پھیرلیا۔ اعراض کیا۔ نا پہلو پھیرلیا۔ شاکلۃ طریقہ۔ اھدی زیادہ صحیح راستہ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 84
ان آیات میں جو مضامین ارشاد فرمائے گئے ہیں ان کو سمھنے کے لئے اس اصول کو سامنے رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب زندگی ہے جس کے اصول، انوارات اور طریقے کامل و مکمل ہیں لیکن اللہ کی مراد اور انوارات اس وقت تک کھل کر سامنے نہیں آسکتے جب تک نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ یعنی احادیث رسول ﷺ کو سامنے نہ رکھا جائے۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم ہمارے لئے کافی ہے ہم خود اس کو…
Read the full tafseer →اس آیت میں فرمایا کہ اے محبوب ﷺ ! ان سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے دین حق آگیا ہے اور دین باطل مٹ گیا یعنی حق قرآن ہے اور باطل شیطان جہاں قرآں ظاہر ہوتا ہے شیطان چھپ جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
[60] یعنی خیر و خوبی کے ساتھ۔
[61] یعنی یا تو مجھے حکومت عطا کر یا کسی حکومت کو میرا مددگار بنا دے کہ میں اس کی طاقت کے ذریعے برائی کو مٹا دوں اور تیرے قانون عدل و انصاف کو جاری کرسکوں۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سدباب کردیتا ہے جن کا سدباب قرآن سے نہیں کرتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ و نصیحت سے نہیں ہوسکتی بلکہ اس کو نافذ کرنے کے لئے حکومت کی طاقت بھی درکار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(ف 2) مجوسی سورج کی عبادت کرتے اور عموما اس وقت کرتے جس وقت سورج کامل عروج پر ہو ، قرآن نے نماز کے اوقات ایسے بتانے ہیں جب کہ سورج زوال پذیر ہوجائے ،
دلوک : وہ وقت ہے جب سورج افق نور سے ڈھل جائے اور یہ تین دفعہ ہوتا ہے ظہر کے وقت جب سورج پہلی دفعہ زوال پذیر ہوتا ہے عصر کے وقت جب دوسری دفعہ دوسرے مرتبہ میں افق نور سے سورج ڈھلتا ہے ۔ اور تیسری دفعہ جب افق مغرب میں غروب ہوجاتا ہے ۔
لدلوک الشمس : سے غرض یہ ہوگی کہ کلما دلکت الشمس ، غسق اللیل رات کی نماز ہے یعنی عشاء اور قران الفجر ، صبح کی اس طرح پانچوں نمازوں کا ذکر قرآن کی ایک آیت سے ثابت ہوتا ہے ۔
حل لغات :
نافلۃ لک : یعنی زیارت و برکت :
Read the full tafseer →-8 1 اور آپ کو کہہ دیجیے کہ دین حق یعنی اسلام آ پہونچا اور باطل دین یعنی کفر و شرک کیا گزرا ہوا اور بھا گ گیا اور واقعی باطل تو زائل اور بھاگ جانے الی ہی چیز ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی غلبہ دین آیا اور کفر بھاگا مکہ میں سے اور تمام عرب میں سے 12 چناچہ ہجرت کے بعد مکہ معظمہ فتح ہوا اور کفر کا دھڑ ٹوٹ گیا اور یہ پیشین گوئی شان دار طریقہ سے پوری ہوئی۔
Read the full tafseer →ف 9۔ چناچہ ہجرت کے بعد مکہ فتح ہوا، اور سب وعدے پورے ہوگئے۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ اعلان کردیں کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا کیونکہ باطل مٹنے ہی والا ہے :
99: بعض مفسرین نے اس آیت کا فتح مکہ کے موقع پر نزول بیان کیا ہے حالانکہ یہ بات صحیح نہیں بلکہ صحیح یہی ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور مکہ مکرمہ میں اس وقت بطور پیشگوئی نازل ہوئی ہے جب آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ سخت بےکسی اور مظلومی کی حالت میں دربدر کی ٹھوہریں کھا رہے تھے اور جو مکہ میں موجود تھے ان کو ہر لحاظ سے تنگ کیا جا رہا تھا اور غلبہ حق کے آثار ابھی دور دور تک کہیں نظر نہیں آتے تھے اور خود رسول اللہ ﷺ کی جان سخت خطرے میں تھی ، بظاہر باطل کا غلبہ تھا مگر اسی حالت میں نبی اعظم و آخر ﷺ سے یہ اعلان کروایا گیا اور آپ ﷺ نے بھی…
Read the full tafseer →Verse 81: وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ (And say, "Truth has come and false-hood has vanished" ) was revealed after Hijrah about the conquest of Makkah. Sayyidna Ibn Masud ؓ says that on the day Makkah was conquered, the Holy Prophet ﷺ entered Makkah. At that time, there were three hundred and sixty idols standing around the Baytullah. Some ` Ulama' report a reason for this particular number. They say that the Mushriks of Makkah had a separate idol for each day of the year that they used to worship on the given day. (Qurtubi) When the Holy Prophet ﷺ reached there, this was the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
99. This prayer clearly shows that the time of Hijrah (Migration) had come near. That is why Allah has instructed the Prophet (peace be upon him) to this effect: You should follow the truth wherever and in whatever condition you be. If you migrate from a place, you should migrate for the sake of the truth, and wherever you go, you should go for the sake of the truth.
100. That is, either grant me power and authority or make some government my helper so that I may use its power to reform the corrupt world. This is because power is required to check indecency and sin and to enforce the law of…
Read the full tafseer →