Explained with ayahs 78–79
اوقات صلوۃ کی نشاندہی
نمازوں کو وقتوں کی پابندی کے ساتھ ادا کرنے کا حکم ہو رہا ہے دلوک سے مراد غرب ہے یا زوال ہے۔ امام ابن جریر زوال کے قول کو پسند فرماتے ہیں اور اکثر مفسرین کا قول بھی یہی ہے۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں میں نے حضور ﷺ کی اور آپ کے ساتھ ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جنہیں آپ نے چاہا دعوت کی، کھانا کھا کر سورج ڈھل جانے کے بعد آپ میرے ہاں سے چلے، حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا، چلو یہی وقت دلوک شمس کا ہے۔ پس پانچوں نمازوں کا وقت اس آیت میں بیان ہوگیا۔ غسق سے۔ مراد اندھیرا ہے جو کہتے ہیں کہ دلوک سے مراد غروبي ہے، ان کے نزدیک ظہر عصر مغرب عشا کا بیان تو اس میں ہے اور فجر کا بیان وقران…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 96
تہجد کے معنی ہیں نیند توڑ کر اٹھنے کے۔ پس رات کے وقت تہجد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رات کا ایک حصہ سونے کے بعد پھر اٹھ کر نماز پڑھی جائے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 97
نفل کے معنی ہیں " فرض سے زائد "۔ اس سے خود بخود یہ اشارہ نکل آیا کہ وہ پانچ نمازیں جن کے اوقات کا نظام پہلی آیت میں بیان کیا گیا تھا، فرض ہیں، اور یہ چھٹی نماز فرض سے زائد ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 98
یعنی دنیا اور آخرت میں تم کو ایسے مرتبے پر پہنچا دے جہاں تم محمود خلائق ہو کر رہو، ہر طرف سے تم پر مدح و ستائش کی بارش ہو، اور تمہاری ہستی ایک قابل تعریف ہستی بن کر رہے۔ آج تمہارے مخالفین تمہاری تواضع…
Read the full tafseer →نماز تہجد کا وقت اور اسکے احکام و مسائل
(آیت) وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ لفظ تہجد ہجود سے مشتق ہے اور یہ لفظ دو متضاد معنے کیلئے استعمال ہوتا ہے اس کے معنے سونے کے بھی آتے ہیں اور جاگنے بیدار ہونے کے بھی اس جگہ وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ کے معنی یہ ہیں کہ رات کے کچھ حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہا کرو کیونکہ بہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے (مظہری)
قرآن کے ساتھ بیدار رہنے کا مطلب نماز ادا کرنا ہے اسی رات کی نماز کو اصطلاح شرع میں نماز تہجد کہا جاتا ہے اور عموما اس کا یہ مفہوم لیا گیا ہے کہ کچھ دیر سو کر اٹھنے کے بعد جو نماز پڑھی جائے وہ نماز تہجد ہے لیکن تفسیر مظہری میں ہے کہ مفہوم…
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔
" تہجد " سے مراد : " تہجد " کے معنی لغت میں تو شب میں کچھ سونے کے بعد اٹھنے کے ہیں لیکن اصطلاح قرآن میں اس سے مراد وہ نماز ہے جو شب میں کچھ سونے کے بعد اٹھ کر پڑھی جائے۔ " بہ " میں " ب " میرے نزدیک ظرفیہ ہے اور ضمیر مجرور کا مرجع " لیل " ہے۔
نافلۃ کا مفہوم : " نافلۃ " اصل پر جو شے زائد ہو اس کو کہتے ہیں۔ اس کا استعمال کسی نعمت و رحمت پر زیادتی کے لیے ہوتا ہے، کسی بار اور مصیبت پر زیادتی کے لیے نہیں ہوتا۔ یعنی یہ نماز ان پنجوقتہ نمازوں پر تمہارے لیے مزید ہے۔ " لک " سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ…
Read the full tafseer →79۔ 1 بعض کہتے ہیں تہجد اضداد میں سے ہے جس کے معنی سونے کے بھی ہیں اور نیند سے بیدار ہونے کے بھی۔ اور یہاں یہی دوسرے معنی ہیں کہ رات کو سو کر اٹھیں اور نوافل پڑھیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ہجود کے اصل معنی تو رات کو سونے کے ہی ہیں، لیکن باب تفعل میں جانے سے اس میں پرہیز کے معنی پیدا ہوگئے جیسے تأثم کے معنی ہیں اس نے گناہ سے اجتناب کیا، یا بچا، اس طرح تہجد کے معنی ہونگے، سونے سے بچنا جو رات کو سونے سے بچا اور قیام کیا۔ بہرحال تہجد کا مفہوم رات کے پچھلے پہر اٹھ کر نوافل پڑھنا۔ ساری رات قیام اللیل کرنا خلاف سنت ہے۔ نبی رات کے پہلے حصے میں سوتے اور پچھلے حصے میں اٹھ کر تہجد پڑھتے۔ یہی طریقہ سنت ہے۔
79۔ 2…
Read the full tafseer →45: اضافی عبادت کا مطلب بعض مفسرین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ یہ نماز آنحضرت ﷺ پر اضافی طور پر فرض تھی، عام مسلمانوں کے لئے فرض نہیں تھی اور بعض مفسرین نے اضافی عبادت کا مطلب یہ لیا ہے کہ وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح آنحضرت ﷺ کے لئے بھی نفلی عبادت ہے۔
46: مقام محمود کے لفظی معنی قابل تعریف مقام، اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد آنحضرت ﷺ کا وہ منصب ہے جس کے تحت آپ کو شفاعت کا حق دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →ومن الیل فتحجد بہ نافلۃ لک (71 : 97) ” اور رات کو قرآن کے ساتھ تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے “۔ تہجد سے مراد پچھلی رات کی وہ نماز ہے جو رات کے اول حصے میں سونے کے بعد اٹھ کر پڑھی جاتی ہے اور بہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہے یعنی رات کو قرآن کے ساتھ تہجد پڑھو کیونکہ قرآن مجید نماز کی روح ہے اور نماز کی بنیادی عنصر ہے۔
عسی ان یبعثک ربک مقاما محمودا (71 : 97) ” بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر فائز کردے “۔ یعنی نماز کی پابندی ، قرآن فجر کی تلاوت اور تہجد گزاری اور اللہ کے ساتھ اس پختہ اور دائمی تعلق کی وجہ سے۔ کیونکہ مقام محمود تک پہنچنے کا یہی راستہ ہے۔ جب مقام محمود تک پہنچنے کے لئے…
Read the full tafseer →10 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی " نیند سے جاگ کر (تہجد میں) قرآن پڑھا کر۔ یہ حکم سب سے زیادہ تجھ پر کیا ہے کہ تجھ کو مرتبہ (سب سے) بڑا دینا ہے۔
11 " مقام محمود " شفاعت عظمیٰ کا مقام ہے۔ جب کوئی پیغمبر نہ بول سکے گا تب آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ سے عرض کر کے خلقت کو تکلیف سے چھڑائیں گے۔ اس وقت ہر شخص کی زبان پر آپ کی حمد (تعریف) ہوگی اور حق تعالیٰ بھی آپ کی تعریف کرے گا۔ گویا شان محمدیت کا پورا پورا ظہور اس وقت ہوگا۔
(تنبیہ) " مقام محمود " کی یہ تفسیر صحیح حدیثوں میں آئی ہے اور بخاری و مسلم اور دیگر کتب حدیث میں شفاعت کبریٰ کا نہایت مفصل بیان موجود ہے۔ شارحین نے حضور ﷺ کے لیے دس قسم کی شفاعتیں…
Read the full tafseer →آیت 79 وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ
یہاں لفظ ”بِہٖ“ میں وہی انداز ہے جس کی تکرار اس سے پہلے ہم سورة الانعام میں دیکھ چکے ہیں۔ اَنْذِر بِہٖ ‘ ذَکِّر بِہٖ یعنی انذار تذکیر تبشیر تبلیغ سب قرآن کے ذریعے سے ہو۔ چناچہ یہاں پر رسول اللہ کو تہجد کا حکم دیا گیا تو فرمایا گیا کہ رات کا ایک حصہ آپ قرآن کے ساتھ جاگیے۔ تہجد کی نماز آپ قرآن کے ساتھ پڑھیں۔ گویا تہجد کا مقصد اور اس کی اصل روح یہی ہے کہ اس میں زیادہ سے زیادہ قرآن پڑھا جائے۔ چھوٹی چھوٹی سورتوں کے ساتھ رکعتوں کی مخصوص تعداد پوری کرلینے سے یہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔
نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا
”مقام…
Read the full tafseer →98 نماز تہجد کی رکعات :۔ تہجد کے لغوی معنی تو صرف رات کو ایک دفعہ سونے کے بعد رات کے ہی کسی حصہ میں بیدار ہونا ہے اور اس سے شرعاً وہ نماز مراد ہے جو رات کو سونے کے بعد طلوع فجر سے پہلے پہلے رات کے کسی حصہ میں نصف شب کے بعد ادا کی جائے۔ اس نماز کی تعداد رکعات اور وقت کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔
1۔ سیدنا ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ایک رات میں اپنی خالہ ام المومنین میمونہ (بنت حارث) کے ہاں سویا میں تو بچھونے کی چوڑان میں لیٹا اور آپ اور آپ کی بیوی لمبے رخ میں آپ نے کچھ آرام فرمایا۔ اور کم و بیش آدھی رات کے وقت آپ اٹھے۔ بیٹھ کر اپنی آنکھیں ملنے لگے۔ پھر اچھی طرح وضو کرکے نماز پڑھنے لگے۔…
Read the full tafseer →115۔ یعنی یہ ان پانچ نمازوں کے علاوہ۔ فرض یہ نہیں، ہے زائد ہی لیکن آپ اسے بھی پڑھتے رہیے۔ (آیت) ” نافلۃ لک “۔ قال قتادۃ تطوعا وفضیلۃ (جصاص) قال مجاھد وانما کانت نافلۃ للنبی ﷺ لانہ قد غفرلہ ماتقدم من ذنبہ وما تاخر فکانت طاعاتہ نافلۃ اے زیادۃ فی الثواب ولغیرہ کفارۃ لذنوبہ (جصاص) (آیت) ” فتھجد “۔ تہجد وہ نماز ہے جو شب میں سوتے سوتے اٹھ کر پڑھی جائے۔ التھجد فی اللغۃ السھر للصلاۃ اولذکر اللہ وقیل التھجد التیقظ بما ینفی النوم (جصاص) التھجد التیقظ والسھر بعد نومۃ من اللیل (ابن جریر) (آیت) ” من اللیل “۔ من تبعیضیہ ہے۔ یعنی رات کے کچھ حصہ میں۔ اے بعض اللیل (کشاف) نماز تہجد کا پر مشقت ہونا ظاہر ہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
آیت نمبر 78 تا 84
ترجمہ : سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی چھا جانے تک رات کی تاریکی کے آنے تک نماز قائم کرو یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی نماز، اور فجر کا قرآن یعنی فجر کی نماز قائم کرو، یقیناً فجر کی نما (کا وقت) حاضری کا وقت ہے جس میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور رات کے کسی قدر حصے میں (نماز پڑھیں) نماز تہجد قرآن کے ساتھ پڑھا کریں یہ آپ ہی کیلئے اضافی فریضہ ہے آپ کیلئے نہیں یا زائد ہے فرض نمازوں پر (یعنی نفل ہے) امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو آخرت میں مقام محمود پر فائز کرے گا کہ جہاں اولین اور آخرین آپ کی ستائش کریں گے اور وہ مقام شفاعت ہے مقدمات کے فصیل کرنے…
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ : اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد کی نماز پڑھو جو تمہارے لئے
زائد چیز ہے۔ یعنی نماز کے لئے نیند کو ترک کر دو ۔ بہٖ کی ضمیر قرآن کی طرف لوٹ رہی ہے۔ (اور قرآن سے مراد ہے نماز) صاحب قاموس نے لکھا ہے ہَجَدَ ہُجُودًا (ثلاثی مجرد) اور تَہَجَّدَ (باب تفعل) سو گیا اور بیدار ہوگیا دونوں معنی کے لئے مستعمل ہے لغات اضداد میں سے ہے۔ ہجد تہجیدا (باب تفعیل) بیدار کردیا اور سلا دیا یہ بھی اضداد میں سے ہے۔ اَہَجَدَ (باب افعال) ہجد کی طرح سو گیا اور سلا دیا (لازم بھی ہے اور متعدی بھی) حاصل بیان یہ ہے کہ جیم کی تشدید اگر (سلب ماخذ اور) ازالہ کے لئے قرار دی جائے تو…
Read the full tafseer →(79) اور کسی قدر رات کے حصہ میں بھی قرأت قرآن کریم کیا کیجیے اور سو کر اٹھنے کے بعد تہجد پڑھا کیجیے یہ آپ کے لیے فضیلت کی چیز ہے یا یہ کہ خاص آپ کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ۔۔ : ”مِنْ“ بعض کے معنی میں ہے۔ ”ھُجُوْدٌ“ نیند کو کہتے ہیں۔ تہجد ترک ہجود، یعنی نیند ترک کرنے کا نام ہے، خواہ رات سونے کے بعد اٹھ کر ہو یا عشاء کے فوراً بعد نیند کے بجائے قیام کیا جائے۔ تہجد کے لیے سو کر اٹھنا ضروری نہیں۔ سورة مزمل میں فرمایا، رات کا کچھ حصہ قرآن کی تلاوت پر مشتمل نماز کے ساتھ نیند کو ترک کیجیے۔ تفصیل سورة مزمل کی ابتدائی اور آخری آیات میں ملاحظہ فرمائیں۔
نَافِلَةً لَّكَ : ”نَافِلَةً“ جو فرض سے زائد ہو، جمع نوافل۔ بعض لوگ اس کا معنی یہ کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے لیے تہجد ایک زائد فرض ہے، باقی عوام کے لیے نفل ہے۔ مگر ”ۧاَقِمِ الصَّلٰوةَ“ سے لے کر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 79
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ومن الیل یہ من تبعیض کے لئے ہے۔ اور فتھجد میں فا مضمر کلام پر عطف کے لئے ہے ای قم فتھجد (یعنی اٹھو اور نماز تہجد اد اکرو) بہٖ یعنی تل اورت قرآن کریم کے ساتھ۔ اور التھجد ھجود سے ہے اور یہ اضداد میں سے ہے۔ کہا جاتا ہے : ھجد بمعنی نام (وہ سوگیا) اور ھجد بمعنی سھر (وہ جاگ گیا ( ، تو یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے بھی کہا ہے :
ألا زارت و اھل منی ھجود ولیت خیالھا بمنیٰ یعود
اور دوسرا کہتا ہے :
ألا طرقتنا والرفاق ھجود فباتت بعلات النوال تجود
مراد نیام (سونا) ہے۔ اور ھجد اور تھجد دونوں ہم معنی ہیں۔ اور ھجدتہ أی أنمتہ (میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کے کہا انبیاء (علیہم السلام) شام میں ٹھہرا کرتے تھے آپ مدینہ میں کیوں رہتے ہیں اور آپ ﷺ مدینہ منورہ سے روانگی کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “ نازل فرمائیں۔
2:۔ ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ خبر پہنچی کہ بعض یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہا کہ انبیاء (علیہم السلام) سرزمین شام کی سرزمین ہے اور یہ (یعنی مدینہ) انبیاء کی سرزمین نہیں ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “۔
فتنہ میں مبتلا کرنے کی کوشش سے متعلق ایک روایت :
3:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[وَمِنَ الَّيْلِ : اور رات میں سے ] [فَتَهَجَّدْ : پھر آپ ﷺ بیدار ہیں ] [بِهٖ : اس (قرآن) کے ساتھ ] [نَافِلَةً : اضافی ہوتے ہوئے ] [لَّكَ : آپ ﷺ کے لئے ] [عَسٰٓي : ہوسکتا ہے ] [ان : کہ ] [يَّبْعَثَكَ : پہنچائے آپ ﷺ کو ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کا رب ] [مَقَامًا مَّحْمُوْدًا : مقام محمود تک ]
ھـ ج د
[ھُجُوْرًا : (ن) ] (1) نیند میں سونا۔ (2) نیند سے جاگنا۔
(تفعل) تَھَجُّدًا (1) بتکلف سونا۔ (2) بتکلف جاگنا۔ بیدار رہنا۔ زیر مطالعہ۔ آیت 79 ۔
(آیت۔ 79) فَتَھَجَّدْبِہٖ میں ہٖ کی ضمیر قرآن کے لئے ہے۔ مَقَامًا مَحْمُوْدًا ظرف ہونے کی وجہ سے حالت نصب میں ہے۔
نوٹ۔ 2: مقام محمود تک پہنچانے کا مطلب یہ ہے کہ تم…
Read the full tafseer →(فتھجدبہ نافلۃ لک) اور رات کے حصہ میں نماز تہجد پڑھا کیجیے جو آپ کے لیے زائد چیز ہے۔
لفظ تہجد ہجود سے لیا گیا ہے، ہجود سونے کو کہتے ہیں اور تہجد ترک النوم یعنی سونے کے بعد اٹھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ (لان التفعل للتجنب مثل التاثم والتحنث) وقال بعضھم ان الھجود من الاضداد والمراد بالتھجد تکلف الھجود بمعنی الیقظۃ ذکرہ صاحب الروح۔
رات عبادت کے لیے مناسب ترین وقت ہے، اس میں جتنی بھی نماز پڑھی جائے ذکر و تسبیح و تلاوت میں وقت گزارا جائے بہت مبارک ہے اور بہت بڑی فضیلت کی بات ہے اگر سونے سے پہلے نفل نماز پڑھ لے، یہ بھی بہت بڑے ثواب کی چیز ہے۔ حضرت ثوبان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
حکم بہ مشغولی عبادت رب معبور و بشارت مقام محمود و تلقین دعاء ہجرت و اشارہ بسوئے قیام آسمانی بادشاہت و سلطنت
قال اللہ تعالیٰ : اقم الصلوۃ لدلوک الشمس .... الیٰ .... اھدی سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے ہیں اب ان آیات میں آپ ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کی عبادت میں مشغول رہئے ان دشمنوں کی طرف التفات نہ کیجئے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا حامی و ناصر ہے۔
تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ اور اشرف عبادت تماز ہے اس لیے اولا فرض نمازوں کی تاکید فرمائی اور آخر میں نماز تہجد کا تاکد عوام کے لئے نہیں بلکہ خواص کے لیے ہے بعد ازاں آپ…
Read the full tafseer →71:۔ ” نافلۃ لک “ سے استدلال کیا گیا ہے کہ نماز تہجد پانچ نمازوں کے علاوہ امت کی نسبت زائد آپ پر فرض کی گئی جو امت پر فرض نہیں۔ ای نافلۃ لک ای زیادۃ لک یرید فریضۃ زائدۃ علی سائر الفرائض التی فرضھا اللہ علیک الخ (خازن ج 5 ص 174) ۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ نماز تہجد کا وجوب آپ پر سے منسوخ ہوگیا اور امت کی طرح آپ پر بھی اس کی نفلی حیثیت باقی رہی (خازن) ۔
مقام محمود شفاعت کبریٰ کا مقام ہے۔ قیامت کے دن جب تمام انبیاء (علیہم السلام) گنہگاروں کی شفاعت کرنے سے معذوری ظاہر کرینگے تو حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی بےانتہاء حمد و ثنا کرینگے اور گڑ گڑا کر شفاعت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا اور انسان کی تکریم کا مسئلہ بیان فرمایا ، پھر دنیا کی زندگی میں ہدایت اور گمراہی کی بات ہوئی اور مشرکین کی سازشوں کا بیان ہوا جس کے ذریعے حضور خاتم النبیین ﷺ کو راہ راست سے ہٹانا چاہتے تھے مگر اللہ نے فرمایا کہ مشرکین اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی کہ اگر یہ لوگ آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیں گے تو پھر یہ بھی یہاں پر زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کا شکار ہوجائیں گے ۔
(اقامت صلوۃ)
مشرکین مکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو سخت تکالیف پہنچا رہے…
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ڰ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا 79
ليل
يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل :
أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33]
( ل ی ل ) لیل ولیلۃ
کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
تہجدّ کی کیفیت : مجاہدوقتادہ کہتے ہیں نافلۃ کا لفظ حضرت ﷺ کے لیے بھی نفلی رہ جانے پر دلالت کرتا ہے مگر آپ ہمیشہ تہجد پڑھا کرتے تھے یہاں تک رات کو عبادت و نماز میں کھڑے رہتے تھے کہ پائے مبارک ورم کر آئے تھے۔ چناچہ ترمذی نے روایت کیا ہے کہ قیام شب سے آپ کے پائوں ورم کر آئے تھے۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے گناہ معاف کئے پھر آپ اس قدر مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ فرمایا، افلا اکون عبدًا شکورًا کہ کیا میں اس کی شکرگزاری نہ کروں، شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟ صحیح احادیث میں آنحضرت ﷺ کی نماز تہجد کی پوری کیفیت مذکور ہے کہ کبھی آدھی رات کے بعد اٹھ کر وضو کر کے نماز میں مصروف ہوتے، دو دو رکعت کی نیت باندھتے، کبھی…
Read the full tafseer →وَمِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّکَصلے ق عَسٰٓی اَنْ یَّبـْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 79)
(اور شب میں بھی تہجد پڑھو، یہ آپ ﷺ کے لیے زائد ہے، توقع رکھئے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔ )
ہم اس آیت کے پہلے حصے کی تشریح معارف القرآن سے نقل کرتے ہیں۔
تہجد کا معنی
وَمِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ : لفظ تہجد ہجود سے مشتق ہے اور یہ لفظ دو متضاد معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی سونے کے بھی آتے ہیں اور جاگنے بیدار ہونے کے بھی، اس جگہ وَمِنَ الَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖکے معنی یہ ہیں کہ رات کے کچھ حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہا کرو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : فرض نماز کے بعد تہجد کی تلقین۔
عبادات میں سب سے افضل عبادت فرض نماز ہے۔ فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد کی نماز ہے۔ جسے نفل نماز قرار دیا گیا ہے۔ نفل کا معنیٰ ہوتا ہے ” زائد چیز “۔ رسول محترم نے نوافل کا فائدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قیامت کے دن فرض نماز کی کمی، بیشی نفل نماز سے پوری کی جائے گی۔ بعض اہل علم کے نزدیک پہلے آپ ﷺ پر تہجد فرض تھی۔ بعد ازاں اسے نفل قرار دے دیا گیا۔ تہجد کا لفظ ” جہد “ سے نکلا ہے۔ جس کا مطلب ہے ” نیند کے بعد بیدار ہونا “ ظاہر ہے یہ کام ہمت اور کوشش کے بغیر نہیں ہوتا۔ اس لیے کچھ اہل علم ضروری سمجھتے ہیں کہ تہجد کچھ دیر سونے کے بعداٹھ کر…
Read the full tafseer →79: وَمِنَ الَّیْلِ ( اور رات کو) تم پر رات کا بعض حصہ جاگنا لازم ہے۔ فَتَھَجَّدْ (تم تہجد پڑھو) التھجدؔ نماز کیلئے نیند کو چھوڑنا۔ نیند کے بارے میں کہا جاتا ہے تہجدؔ وہ نیند سے بیدار ہوا۔ بِہٖ (قرآن مجید کے ساتھ) نَافِلَۃً لَّکَ (یہ زائد ہے تیرے لئے) یہ پانچوں نمازوں سے زائد عبادت تم پر لازم کی ہے گویا تہجد اور نافلہ کو ایک ہی معنی جمع کرنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تہجد کی نماز پانچوں نمازوں سے زائد آپ پر بطور غنیمت کے بڑھائی گئی ہے۔ نمبر 2۔ یہ آپ پر فرض ہے اور کسی پر فرض نہیں ہے کیونکہ وہ امت کیلئے نفل ہے۔ عَسٰٓی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُوْدً (امید ہے کہ آپکا رب آپ کو مقام…
Read the full tafseer →79۔” ومن اللیل فتھجدبہ “ اپنی نیند کے بعد کچھ قیام کیجئے کیونکہ تہجد کا وقت رات سونے کے بعد ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سو گیا پھر وہ بیدار ہوگیا ۔ اس آیت سے مراد قیام اللیل ہے۔ تہجد کی نماز ابتداء ً نبی کریم ﷺ پر فرض تھی اور آپ ﷺ کی امت پر بھی فرض تھی ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ” یایھا المزمل قم اللیل الا قلیلا ً “ پھر اس کے بعد تخفیف نازل ہوئی ۔ پھر اس کا وجوب منسوخ ہوگیا ۔ امت کے حق میں اور پانچ نمازیں فرض ہوگئیں اور استحباب باقی رہا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” فاقرء واما تیسر من القرآن “ نبی کریم ﷺ کے حق میں وجوب باقی رہا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا…
Read the full tafseer →79:۔ معتبر سند سے مسند امام احمد اور ترمذی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ حضرت مقام محمود سے کیا مراد ہے آپ نے فرمایا کہ یہ وہ مقام ہے جو خدا کی طرف سے تمہارے نبی کو شفاعت کی دعا کرنے کے لیے ملا ہے 1 ؎۔ مسند امام احمد میں کعب بن مالک ؓ کی ایک روایت 2 ؎ بھی اسی مضمون کی ہے اس کی سند بھی معتبر ہے اور صحیح حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقام عرش معلی کے نیچے ہے مسلم وغیرہ کی صحیح حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے 3 ؎، کہ قیامت کے دن آنحضرت ﷺ شفاعت پہلے میدان محشر میں عام خلق اللہ کے لیے اس وقت ہوگی جب ایک میل کے فاصلہ کی بلندی پر آفتاب کے آجانے اور دوزخ کے میدان محشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(آیت نمبر (78
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں (لد لوک الشمس) ” سورج ڈھلنے سے “ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہوجانے سے لے کر ‘ اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں (الی عسق الیل ) ” رات کے اندھیرے تک “ ینی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں۔ (وقران الفجر) ” اور فجر کا قرآن پڑھنا “ یعنی فجر کی نماز ‘ اور اسے ” قرآن “ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراءت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراءت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
نماز تہجد
قول باری ہے (ومن اللیل فتھجد بہ نافلۃ لک اور رات کو تہجد پڑھو یہ تمہارے لئے نفل ہے) حضور ﷺ کے صحابی حضرت حجاج بن عمرو انصاری سے ان کا یہ قول منقول ہے کہ ” تم میں سے جب کوئی شخص رات کی ابتداء سے آخر شب تک قیام کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اس نے تہجد کی نماز ادا ک رلی ہے۔ نہیں اس نے تہجد کی نماز ادا نہیں کی۔ تہجد وہ نماز ہے جو تھوڑی دیر سونے کے بعد اٹھ کر ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے، پھر تھوڑی دیر سونے کے بعد ادا کی جائے۔
حضور ﷺ کی نماز تہجد کی نماز اس طرح ہوتی تھی۔ “ اسود اور علقمہ کا قول ہے کہ تہجد کی نماز سو کر اٹھنے کے بعد ہوتی ہے۔ لغت میں نما ز تہجد کے لئے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
141۔ اقامت صلوۃ نصرت خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ :۔
سو اقامت صلوۃ کے اس حکم وارشاد سے یہ درس دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے سرفرازی کا سب سے اہم ذریعہ نماز ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے حصول اور دشمنوں کے شروروفتن سے بچنے کا سب سے اہم اور بنیادی ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس عبادت مقدسہ میں انسان اپنے ظاہر وباطن، قلب و قالب اور اعضاء وجوارح سب کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول ہوتا ہے۔ اور اس میں وہ نہایت عاجزی کے ساتھ اس قادر مطلق خدائے مہربان سے مدد کی درخواست ودعاء کرتا ہے۔ اس لئے حدیث میں وارد ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کوئی دشواری پیش آتی تو فوری طور پر نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
اوقات عبادت، نماز اور قرآن کی فضیلت
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا ذکر ہے۔ تو یہاں اس کی عبادت کے چند اصول بتائے گئے ہیں دعا کا طریقہ حق و باطل کا مطلب اور قرآن کی برکتیں بتائی گئی ہیں۔ سب سے پہلے تو نماز کا ذکر ہے نماز کے فضائل تو کافی بیان ہوچکے ہیں یہاں نمازوں کی تعداد اور اوقات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے حکم دیا کہ پانچ نمازیں، فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء فرض کی گئی ہیں۔ فجر کی نماز میں تلاوت قرآن لمبی کرنے کا حکم ہے اور صبح کے وقت قرآن پڑھنے کی فضیلت بتائی گئی کہ اس وقت فرشتوں کے نازل ہونے کا وقت ہوتا ہے جو کہ بڑی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اس کے علاوہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
(رکوع نمبر 9)
اسرار و معارف
تو کفار کی ایذا اور مشرکین کی سازشوں کا مقابلہ آپ اللہ کی عبادت کرکے کریں کہ عبادت سے قرب الہی اور تائید باری نصیب ہوتی ہے اور تائید باری ہی مصائب کا حل اور دشمنوں سے حفاطت کا اعلی ترین ذریعہ ہے لہذا قائم کیجئے صلوۃ کو دن ڈھلے سے رات کے اندھیرے تک اور علی الصبح بھی عبادات اور نماز میں قرآن پڑھیں کہ علی الصبح قرآن کی تلاوت عبادت یعنی نماز میں روبرو ہونے کے برابر ہے کہ شب کی رخصت کے بعد پہلا کام اللہ جل جلالہ کی حضوری کا نصیب ہو جو آئندہ دن بھر اور دوسری صبح تک برکات نصیب ہونے کا سبب بنتا ہے ۔
(حدیث پاک کے بغیر بات سمجھ میں نہیں آسکتی)
اس آیہ مبارکہ میں نماز پنچگانہ…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی فرض نماز کے علاوہ یہ خاص طور آپ کے حق میں نفل ہے کیونکہ آپ مغفور الذنب ہیں بعض نے لکھا ہے یعنی یہ آپ پر ایک زائد فرض ہے حضرت عائشہ کی ایک روایت میں بھی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : وتر مسواک، اور تہجد مجھ پر فرض ہیں اور تمہارے لئے نفل مگر یہ دوسری احادیث صحیحہ کے خلاف ہے۔ واللہ اعلم (قرطبی)2 اللہ تعالیٰ کی طرف سے عی وعدہ ہے اور اس کا وقوع ضروری ہے مقام محمود ‘ کے لفظ معنی ہیں ” ایسا مقام جس کہ تمام لوگ حمد تعریف کرینگے ” اکثر علما کے نزدیک اس سے مراد مقام شفاعت ہے بلکہ بعض نیح اجماع نقل کیا ہے شوکانی شاہ صاحب لکھتے ہیں : نیند سے جاگ کر قرآن پڑھا کر یہ حکم سب سے زیادہ تجھ پر کیا ہے کہ تجھ…
Read the full tafseer →(17:79) من الیل۔ من تبعیضیہ ہے۔ رات کے بعض حصہ میں۔
تھجد۔ امر واحد مذکر حاضر تھجد (تفعل) الفاظِ اضداد میں سے ہے جس کے معنی سونے اور جاگنے دونوں کے ہیں۔ اسی طرح ھجد یھجد (باب نصر) رات کو سونا یا جاگنا دونوں کے ہیں۔ ھجد (باب تفعیل) رات کو سونا یا نیند سے جاگنا دونوں کے ہیں۔ بعض کے نزدیک رات کو نیند سے نماز کے لئے بیدار ہونے کے معنی میں ہے۔ پھر اس کا اطلاق نفس ِ صلوٰۃ کے لئے ہونے لگا۔ تہجد کی نماز پڑھنا۔
بعض کے نزدیک الھجود کے معنی نیند کے ہیں اور سوئے ہوئے آدمی کو باجدکہتے ہیں اور ھجدتہ فتھجد کے معنی ہیں میں نے اس کی نیند کو دور کیا پس وہ جاگ گیا۔ (یہاں تجنب یعنی ازالہ ماخذ ہے جس کی اور مثالیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
لغات القرآن آیت نمبر 78 تا 84
دلوک ڈھلنا، زوال۔ غسق اندھیرا۔ تھجد بیدار رہے۔ ذھق مٹ گیا۔ انعمنا ہم نے انعام کیا۔ اعرض منہ پھیرلیا۔ اعراض کیا۔ نا پہلو پھیرلیا۔ شاکلۃ طریقہ۔ اھدی زیادہ صحیح راستہ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 84
ان آیات میں جو مضامین ارشاد فرمائے گئے ہیں ان کو سمھنے کے لئے اس اصول کو سامنے رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب زندگی ہے جس کے اصول، انوارات اور طریقے کامل و مکمل ہیں لیکن اللہ کی مراد اور انوارات اس وقت تک کھل کر سامنے نہیں آسکتے جب تک نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ یعنی احادیث رسول ﷺ کو سامنے نہ رکھا جائے۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم ہمارے لئے کافی ہے ہم خود اس کو…
Read the full tafseer →اس آیت میں تہجد کا ذکر فرمایا کہ نماز تہجد آنحضرت ﷺ پر فرض ہے امت کے لئے سنت ہے جودو دو رکعت سے پڑھی جائیں۔ تعداد کم سے کم دو رکعت اور زیادہ بارہ رکعت ہیں شب کے تین حصے کریں تو دو تہائی ہوئے اور ایک حصہ درمیانی تہجد پڑھا افضل ہے۔ اگر چاہے کہ آدمی رات عبادت کرے تو نصف آخر رات افضل ہے۔
مسئلہ : جو شخص نماز تہجد کا عادی ہو اس کے لئے تہجد ترک کرنا مکروہ ہے۔ ہر رات کو پچھلی رات سے صبح تک اللہ تعالیٰ کا اول آسمان پر نزول فرمانا اور قبول دعا اور مغفرت کا وعدہ فرمانا ثابت ہے۔
آنحضرت ﷺ کی شفاعت کا ذکر
قیامت کے دن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک سب انبیاء کے پاس لوگ شفاعت کی…
Read the full tafseer →[58] تہجد کے معنی ہیں نیند توڑ کر اٹھنا۔ پس رات کے وقت تہجد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ رات کا ایک حصہ سونے کے بعد پھر اٹھ کر نماز پڑھی جائے۔
[59] مقام محمود کے معنی پسندیدہ مقام کے ہیں اور مقام محمود پر فائز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسے مرتبہ پر پہنچا دے گا کہ آپ محمود خلائق ہو کر رہیں گے۔ کوئی ملک ہو، کوئی نسل ہو لیکن کروڑوں دلوں میں آپ کی ستائش ہوگی۔ یہ مقام انسانی عظمت کی انتہا ہے۔ احادیث صحیحہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود میں جگہ دے گا۔ مقام محمود سے مراد شفاعت کبُریٰ کا مقام ہے جو محشر میں تمام بنی آدم کے لئے آپ کو عطا ہوگا۔ میدان حشر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(ف 2) مجوسی سورج کی عبادت کرتے اور عموما اس وقت کرتے جس وقت سورج کامل عروج پر ہو ، قرآن نے نماز کے اوقات ایسے بتانے ہیں جب کہ سورج زوال پذیر ہوجائے ،
دلوک : وہ وقت ہے جب سورج افق نور سے ڈھل جائے اور یہ تین دفعہ ہوتا ہے ظہر کے وقت جب سورج پہلی دفعہ زوال پذیر ہوتا ہے عصر کے وقت جب دوسری دفعہ دوسرے مرتبہ میں افق نور سے سورج ڈھلتا ہے ۔ اور تیسری دفعہ جب افق مغرب میں غروب ہوجاتا ہے ۔
لدلوک الشمس : سے غرض یہ ہوگی کہ کلما دلکت الشمس ، غسق اللیل رات کی نماز ہے یعنی عشاء اور قران الفجر ، صبح کی اس طرح پانچوں نمازوں کا ذکر قرآن کی ایک آیت سے ثابت ہوتا ہے ۔
حل لغات :
نافلۃ لک : یعنی زیارت و برکت :
Read the full tafseer →-79 اور رات کے کچھ حصہ میں بھی سو اس رات کے حصہ میں بیدار ہو کر تہجد کی نما ز پڑھا کیجیے یہ تہجد آپ کے لئے ایک زائد چیز ہے امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں جگہ دے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی نیند سے جاگ کر قرآن کریم پڑھا کر یہ حکم سب سے زیادہ تجھ پر کیا ہے کہ تجھ کو مرتبہ بڑا دیتا ہے وہ تعریف کا مقام ہے شفاعت کا جب کوئی پیغمبر نہ بول سکے گا تب حضرت اللہ سے عرض کر کے خلق کو چھڑا دیں گے تکلیف سے 12
بعض علماء فرماتے ہیں کہ تہجد آپ کے لئے بھی نفل تھا علماء کے دونوں قول ہیں ان احکام کے بعد حضور ﷺ کو مقام محمود کی بشارت دی گئی یہ مقام آپ کی شفاعت کا مقام ہے حضور اکرم ﷺ ہے کہ مجھ کو یہ…
Read the full tafseer →ف 6۔ جو مقام شفاعت کبری ہے، اور شفاعت کبری وہ ہے کہ جس میں تمام خلائق کے حساب و کتاب شروع ہونے کی شفاعت ہوگی۔
Read the full tafseer →تہجد وہ صلوٰۃ ہے جو فرض سے زائد ہے اور مقام محمود پر پہنچانے والی ہے :
97: ” نفل “ کے معنی کسی ایسی بات کے ہیں جو اصل مطلوب سے زیادہ ہو۔ پس زیر نظر آیت میں صلوٰۃ تہجد کو نَافِلَةً لَّكَ 1ۖۗ کہا گیا جس میں نبی اعظم و آخر ﷺ کو رات کا بھی کچھ حصہ جاگنے اور عبادت کرنے میں صرف کرنے کی ہدایت فرمائی گئی اور فرمایا کہ یہ تمہارے لیے عبادت کی مزید زیادتی ہوتی۔ آیت میں خطاب اگرچہ نبی اعظم و آخر ﷺ ہی کو ہے لیکن حکم عام ہے۔ اس سے واضح ہوگیا کہ شب بیداری کی عبادت یعنی تہجد ایک مزید عبادت ہے اگر ہو سکے اور یہ کہ ایک مسلمان کو بلند مرتبہ پر پہنچانے میں اس کا ایک بہت بڑا حصہ ہے اور ذمہ داری سے زیادہ دینے…
Read the full tafseer →The time of the Salah of Tahajjud: Injunctions and rulings
The word: فَتَھَجُّد (tahajjud) in: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ (And during the night, wake up for Salah- 79) has been derived from ھجود :hujud. This word is used for two opposite meanings, that of sleeping and that of waking both. But, the words: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ at this place, mean be awake with the Qur'an in a part of the night' because the pronoun in: بہٖ (bihi: with it) reverts back to the Qur'an. (Mazhari) 'Being awake with the Qur'an' means the making of Salah (with full compliance of what it requires).…
Read the full tafseer →96. The literal meaning of tahajjud is to rise up by breaking sleep. Therefore, it means: Rise up from sleep after the passing of a part of night and then offer your prayer.
97. Nafl literally means: Something done in addition to an obligatory duty. This shows that the tahajjud prayer is in addition to the five prescribed prayers.
98.“Will raise you to an honored position”. You may attain such a high position in this world and in the next world that people from everywhere may be full of praise for you, and you may become a praiseworthy personality. This is, as if to say: Now your opponents…
Read the full tafseer →