Explained with ayahs 78–79
اوقات صلوۃ کی نشاندہی
نمازوں کو وقتوں کی پابندی کے ساتھ ادا کرنے کا حکم ہو رہا ہے دلوک سے مراد غرب ہے یا زوال ہے۔ امام ابن جریر زوال کے قول کو پسند فرماتے ہیں اور اکثر مفسرین کا قول بھی یہی ہے۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں میں نے حضور ﷺ کی اور آپ کے ساتھ ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جنہیں آپ نے چاہا دعوت کی، کھانا کھا کر سورج ڈھل جانے کے بعد آپ میرے ہاں سے چلے، حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا، چلو یہی وقت دلوک شمس کا ہے۔ پس پانچوں نمازوں کا وقت اس آیت میں بیان ہوگیا۔ غسق سے۔ مراد اندھیرا ہے جو کہتے ہیں کہ دلوک سے مراد غروبي ہے، ان کے نزدیک ظہر عصر مغرب عشا کا بیان تو اس میں ہے اور فجر کا بیان وقران…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 91
مشکلات و مصائب کے اس طوفان کا ذکر کرنے کے بعد فورا ہی نماز قائم کرنے کا حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے یہ لطیف اشارہ فرمایا ہے کہ وہ ثابت قدمی جو ان حالات میں ایک مومن کو درکار ہے اقامت صلوۃ سے حاصل ہوتی ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 92
”زوال آفتاب“ ہم نے دلوک الشمس کا ترجمہ کیا ہے۔ اگرچہ بعض صحابہ وتابعین نے دلوک سے مراد غروب بھی لیا ہے، لیکن اکثریت کی رائے یہی ہے کہ اس سے مراد آفتاب کا نصف النہار سے ڈھل جاتا ہے۔ حضرت عمر، ابن عمر، انس بن مالک، ابو برزة الاسلمی ؓ حسن بصری۔ شعبی، عطاء۔ مجاہد رحمہم اللہ اور ایک روایت کی رو سے ابن عباس ؓ بھی اسی کے قائل ہیں۔ امام محمد…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آفتاب ڈھلنے کے بعد سے رات کے اندھیرے تک نمازیں ادا کیجئے (اس میں ظہر عصر مغرب عشاء چار نمازیں آگئیں جیسا کہ حدیث میں اس اجمال کی تفصیل بیان کردی گئی ہے) اور صبح کی نماز بھی (اداکریں) بیشک صبح کی نماز (فرشتوں کے) حاضر ہونے کا وقت ہے (صبح کا وقت چونکہ نیند سے بیدار ہونے کا وقت ہے جس میں سستی کا خطرہ تھا اس لئے اس کو الگ کر کے اہتمام کے ساتھ بیان فرمایا اور اس کی ایک مزید فضیلت بھی یہ بیان کردی کہ اس وقت میں فرشتے جمع ہوتے ہیں اس کی تفصیل حدیث سے یہ معلوم ہوئی کہ انسان کی حفاظت اور اس کے اعمال کو لکھنے والے فرشتے دن کے الگ اور رات کے الگ ہیں صبح کی نماز میں دونوں جماعتیں فرشتوں کی…
Read the full tafseer →اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ۭ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا۔
" اقامت صلوۃ " کا مفہوم صرف نماز پڑھنا ہی نہیں بلکہ نماز کا اہتمام کرنا ہے۔ " دلوک " کے معنی زوال کے ہیں۔ سورج کے زوال کے تین درجے ہیں۔ ایک وہ جب وہ سمت راس سے ڈھلتا ہے۔ دوسرا جب " مرئ العین " سے نیچے کی طرف جھکتا ہے۔ تیسرا جب وہ افق سے غائب ہوتا ہے۔ یہ تینوں اوقات ظہر، عصر اور مغرب کی نمازوں کے ہیں۔ " دلوک " پر " ل " وقت کے مفہوم میں ہے۔ اس معنی کے لیے یہ عربی میں معروف ہے۔ جس مفہوم کو ہم لفظ " پر " سے ادا کرتے ہیں بعض مواقع میں وہی مفہوم " ل " ادا کرتا ہے مثلا…
Read the full tafseer →78۔ 1 دلوک کے معنی زوال کے اور غسق کے معنی تاریکی کے ہیں۔ آفتاب کے ڈھلنے کے بعد، ظہر اور عصر کی نماز اور رات کی تاریکی تک مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اور قرآن الفجر سے مراد فجر کی نماز ہے۔ قرآن، نماز کے معنی میں ہے۔ اس کو قرآن سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ فجر میں قرأت لمبی ہوتی ہے۔ اس طرح اس آیت میں پانچوں فرض نمازوں کا اجمالی ذکر آجاتا ہے۔ جن کی تفیصلات احادیث میں ملتی ہیں اور جو امت کے لئے عملی تواتر سے بھی ثابت ہیں۔
78۔ 2 یعنی اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں بلکہ دن کے فرشتوں اور رات کے فرشتوں کا اجتماع ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے (صحیح بخاری) ، تفسیر بنی اسرائیل) ایک اور حدیث میں ہے کہ…
Read the full tafseer →43:: سورج ڈھلنے کے بعد سے رات کے اندھیرے تک ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی چار نمازوں کی طرف اشارہ ہے، اور فجر کی نماز کا ذکر الگ سے اس لئے فرمایا گیا ہے کہ اس وقت لوگوں کو نماز کے لئے اٹھنا پڑتا ہے، جس میں دوسری نمازوں کے مقابلے میں زیادہ مشقت ہوتی ہے، اس لئے اس کو خاص اہمیت کے ساتھ الگ ذکر فرمایا گیا ہے۔
44: اکثر مفسرین نے اس کا یہ مطلب بیان فرمایا ہے کہ صبح کی نماز میں جو تلاوت کی جاتی ہے اس میں فرشتوں کا مجمع حاضر ہوتا ہے، احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی نگرانی کے لئے جو فرشتے مقرر ہیں وہ باری باری اپنے فرائض انجام دیتے ہیں، چنانچہ ایک جماعت فجر کے وقت آتی ہے جو سارے دن اپنے فرائض انجام…
Read the full tafseer →دلوک الشمس سے مراد ہے سورج کا غروب کی طرف مائل ہونا یعنی غروب آفتاب سے لے کر اندھیرے تک۔ یہ حکم خاص نبی ﷺ کو ہے۔ جہاں تک پانچ فرض نمازوں کا تعلق ہے تو ان کے اپنے اوقات ہیں اور تواتر سے احادیث رسول کے ذریعہ ثابت ہیں۔ نیز آپ ﷺ کی عملی سنت بھی متواتر ہے۔ بعض نے دلوک الشمس سے مراد زوال آفتاب لیا ہے یعنی آسمان کے درمیان سے آفتاب کا گزر جانا اور غسق اللیل کی تفسیر بعض لوگوں نے اول لیل سے کی ہے۔ اور قرآن الفجر سے مراد صبح کی نماز کی گئی ہے۔ اور یوں اس آیت سے زوال آفتاب سے رات کے اندھیروں تک۔ دلوک الشمس الی غسق الیل (71 : 87) سے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نمازیں لی گئی ہیں اور تہجد کا حکم حضور اکرم…
Read the full tafseer →6 یعنی ان کی منصوبہ بازیوں کی کچھ فکر نہ کیجئے۔ تعلق مع اللہ وہ چیز ہے جو انسان کو تمام مشکلات و نوائب پر غالب کردیتی ہے۔ (وَاسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ) 2 ۔ البقرۃ :45)
7 اس میں چار نمازیں آگئیں ظہر، عصر، مغرب، عشاء جمع بین الصلوٰتین کے مسئلہ سے اس کا کچھ تعلق نہیں۔ اور اگر جمع کا اشارہ نکالا جائے تو دو نہیں چار نمازوں کے جمع کرنے کی مشروعیت اس سے نکلے گی۔ ہاں بشرط ذوق صحیح یہ استنباط کیا جاسکتا ہے کہ ظہر میں تعجیل اور عشاء میں تاخیر مستحب ہونی چاہیے الاّ لعارض۔
8 یعنی نماز فجر میں شاید " قرآن الفجر " سے تعبیر کرنے میں یہ اشارہ ہو کہ تطویل قرأت فجر میں مطلوب ہے۔
9 حدیث میں ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت 78 اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ
یہ حکم پنج گانہ نماز کے نظام کے بارے میں ہے۔ سورج کے ڈھلنے کے ساتھ ہی ظہر کی نماز کا وقت ہوجاتا ہے۔ پھر عصر مغرب اور عشاء کی نمازوں کا ایک سلسلہ ہے جو رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ پانچویں نماز یعنی فجر کو یہاں پر ”قرآن الفجر“ سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ اس میں طویل قرأت کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ نماز پنجگانہ کے اوقات کے بارے میں یہ حکم عمومی نوعیت کا ہے جبکہ ہر نماز کے وقت کی خصوصیت کے ساتھ نشاندہی بعد میں حضرت جبرائیل نے کی جس کی تفصیل کتب احادیث میں ملتی ہے۔
اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا
گویا فجر…
Read the full tafseer →96 پانچ نمازوں کا ذکر :۔ معراج کی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ اس آیت میں ان نمازوں کے اوقات کا ذکر ہے۔ چار نمازیں یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء تو زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک ہوئیں اور پانچویں نماز پوپھٹنے یا طلوع آفتاب سے پیشتر ہے۔ اس سے پہلی آیت میں کفار کی ایذا رسانیوں اور ان سے متعلق اللہ کے دستور کا ذکر تھا۔ یہاں نمازوں کا ذکر اس وجہ سے لایا گیا ہے اور مشکلات اور مصائب کے وقت صبر اور نماز سے ہی مدد طلب کرنے کا حکم ہے۔ نماز سے تعلق باللہ پیدا ہوتا ہے قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ اور مشکلات کے سامنے سینہ سپر ہوجانے کی قوت پیدا ہوتی ہے ان پانچ نمازوں کے اوقات کا اس آیت میں مجملاً ذکر آیا…
Read the full tafseer →112۔ وقت کی قدرتی تقسیم حرکت آفتاب کے تابع ہے، اور قرآن مجید نے اس کو اوقات عبادت کے لیے معیار قرار دیا ہے۔ قرآن کا ” اسٹینڈرڈ ٹائم “ یہی ہے، ہر ” گرنیچ ٹائم “۔ ،” مدراس ٹائم “ سے بےنیاز۔ (آیت) ” الصلوۃ “ سے مراد ظاہر ہے کہ نماز مفروضہ ہے اور اسی نماز فرض کے اوقات کا بیان ہورہا ہے۔ (آیت) ” دلوک “۔ کے مطلق معنی جھکاؤ یا میلان کے ہیں۔ معنی الدلوک فی کلام العرب ھو المیل (ابن جریر) عن ابن عباس ؓ وابی برزۃ الاسلمی و جابر وابن عمر دلوک الشمس میلھا وکذلک روی عن جماعۃ من التابعین قال ابوبکر ھؤلآء الصحابۃ قالوا ان الدلوک المیل وقولھم مقبول فیہ لانھم من اھل اللغۃ (جصاص) وقال ابن عباس ؓ وابن عمر و جابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
آیت نمبر 78 تا 84
ترجمہ : سورج ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی چھا جانے تک رات کی تاریکی کے آنے تک نماز قائم کرو یعنی ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء کی نماز، اور فجر کا قرآن یعنی فجر کی نماز قائم کرو، یقیناً فجر کی نما (کا وقت) حاضری کا وقت ہے جس میں رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور رات کے کسی قدر حصے میں (نماز پڑھیں) نماز تہجد قرآن کے ساتھ پڑھا کریں یہ آپ ہی کیلئے اضافی فریضہ ہے آپ کیلئے نہیں یا زائد ہے فرض نمازوں پر (یعنی نفل ہے) امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو آخرت میں مقام محمود پر فائز کرے گا کہ جہاں اولین اور آخرین آپ کی ستائش کریں گے اور وہ مقام شفاعت ہے مقدمات کے فصیل کرنے…
Read the full tafseer →اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ : دلوک آفتاب کے وقت نماز قائم کرو۔ حضرت ابن عباس : ؓ ‘ حضرت ابن
عمر ‘ حضرت جابر ؓ :‘ عطاء ‘ قتادہ ‘ حسن بصری اور اکثر علماء تابعین کے نزدیک دلوک کا (اس جگہ) معنی ہے زوال ‘ سورج ڈھلنا۔ ابن مردویہ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کی روایت سے رسول اللہ ﷺ : کی طرف بھی اس تفسیر کی نسبت کی ہے۔ ابن مردویہ اور بزار نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے اس کو مرفوع کہا ہے لیکن دلوک سے مراد زوال ہونے کی تائید رسول اللہ ﷺ کے اس لفظ سے ہوتی ہے جو حضرت ابو مسعود انصاری ؓ : کی روایت سے اسحاق بن راہویہ نے مسند میں اور ابن مردویہ نے اپنی تفسیر میں اور بیہقی نے المعرفۃ میں…
Read the full tafseer →(78) اے محمد ﷺ سورج غروب ہونے کے بعد نماز ظہر اور عصر اور رات آنے پر مغرب و عشاء کی نماز ادا کیجیے اور صبح کی نماز بھی ادا کیجیے، بیشک صبح کی نماز رات اور دن کے فرشتوں کے حاضر ہونے کا وقت ہے۔
Read the full tafseer →اَقِمِ الصَّلٰوةَ۔۔ : شروع سورت سے توحید و رسالت اور آخرت کے دلائل اور ان پر اعتراضات کے جوابات کے بعد اعمال کا ذکر فرمایا۔ (رازی) پچھلی آیات کے ساتھ ایک اور مناسبت یہ ہے کہ دشمنوں کے مقابلے کے لیے نماز قائم کیجیے، یہ آپ کے لیے ان سے مقابلے کی قوت کا ذریعہ بنے گی، اسی لیے آپ ﷺ کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو نماز پڑھتے۔ [ أبوداوٗد، التطوع، باب وقت قیام النبي ﷺ من اللیل : 1316 ] اعمال میں سب سے افضل نماز ہے، کیونکہ کلمۂ اسلام کے بعد یہ مسلمان ہونے کی پہلی شرط اور علامت ہے (دیکھیے توبہ : 5، 11) اور اس میں دوسرے ارکان اسلام کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ شامل ہے۔ زکوٰۃ اس طرح کہ مالی منفعت قربان کیے بغیر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 78
اس میں سات مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس جب مشرکین کے مکروفریب کو ذکر کر چلے تو ساتھ ہی اپنے نبی ﷺ کو صبر کرنے اور نماز کی محافظت کا حکم ارشاد فرمایا، اور اس میں دشمنوں کے خلاف مدد ونصرت کی طلب موجود ہے۔ اور اسی کی مثل یہ ارشاد بھی ہے ولقد نعلم انک یضیق صدرک بما یقولون۔ فسبح بحمد ربک وکن من السجدین۔ (الحجر) (اور ہم خوب جانتے ہیں کہ آپ کا دل تنگ ہوتا ہے ان باتوں سے جو وہ کیا کرتے تھے سو آپ پاکی بیان کیجئے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اور جایئے سجدہ کرنے والوں سے) اور إقامۃ الصلوٰۃ کے بارے میں بحث سورة البقرہ کے آغاز میں گزر چکی ہے۔ اور باجماع مفسرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کے کہا انبیاء (علیہم السلام) شام میں ٹھہرا کرتے تھے آپ مدینہ میں کیوں رہتے ہیں اور آپ ﷺ مدینہ منورہ سے روانگی کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “ نازل فرمائیں۔
2:۔ ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ خبر پہنچی کہ بعض یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہا کہ انبیاء (علیہم السلام) سرزمین شام کی سرزمین ہے اور یہ (یعنی مدینہ) انبیاء کی سرزمین نہیں ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “۔
فتنہ میں مبتلا کرنے کی کوشش سے متعلق ایک روایت :
3:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[اَقِمِ : آپ ﷺ قائم کریں ] [الصَّلٰوةَ : نماز کو ] [لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ : سورج کے ڈھلنے سے ] [اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ : رات کے تاریک ہونے تک ] [وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ : اور فجر کے قرآن کو (قائم کریں)] [ان : بیشک ] [قُرْاٰنَ الْفَجْرِ : فجر کا قرآن ] [كَان : ہے ] [مَشْهُوْدًا : موجود کیا ہوا ]
د ل ک
دَلْکًا ملنا۔ رگڑنا
دُلُوْکًا جھکنا۔ ڈھلنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78 ۔
غ س ق
[غَسَقًا : (ض) ] تاریک ہونا۔ اندھیرا ہونا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 78 ۔
غَاسِقٌ اسم الفاعل ہے۔ تاریک ہونے والا۔ وَمِنْ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَ قَبَ (اور تاریک ہونے والے کے شر سے جب وہ گہرا ہو) 113:3
[غَسَقَانًا : (س) ] آنکھ میں آنسو…
Read the full tafseer →صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اللہ جل شانہ نے کافروں کے مکرو فریب کو بیان فرمانے اور آپ کو تسلی دینے کے بعد حکم دیا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر متوجہ رہیں آپ کو نمازیں قائم کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی آپ سے یہ وعدہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مقام محمود عطا فرمائے گا یہ ایسا مقام ہے کہ جس پر اولین و آخرین سب رشک کریں گے پس جبکہ آپ کو اتنا بڑا مقام ملنے والا ہے تو اہل دنیا کی ایذاؤں پر صبر کیجیے ان کی طرف توجہ نہ فرمائیے۔
آیت شریفہ میں (لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ ) سے لے کر (غَسَقِ الَّیْلِ ) تک نماز پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔ دلوک لفظ مشترک ہے اس کا اصل معنی مائل ہونے کا ہے، مجمع البحار میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
حکم بہ مشغولی عبادت رب معبور و بشارت مقام محمود و تلقین دعاء ہجرت و اشارہ بسوئے قیام آسمانی بادشاہت و سلطنت
قال اللہ تعالیٰ : اقم الصلوۃ لدلوک الشمس .... الیٰ .... اھدی سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی عداوت کا ذکر تھا اور اس بات کا ذکر تھا کہ کفار آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے ہیں اب ان آیات میں آپ ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ کی عبادت میں مشغول رہئے ان دشمنوں کی طرف التفات نہ کیجئے اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کا حامی و ناصر ہے۔
تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ اور اشرف عبادت تماز ہے اس لیے اولا فرض نمازوں کی تاکید فرمائی اور آخر میں نماز تہجد کا تاکد عوام کے لئے نہیں بلکہ خواص کے لیے ہے بعد ازاں آپ…
Read the full tafseer →70:۔ یہ جملہ معترضہ ہے اور اس میں امر مصلح نماز اور تلاوت قرآن کا ذکر ہے۔ معجزہ اسراء کے بعد مشرکین مسئلہ توحید کو ماننے کے بجائے آپ کو مکہ سے نکالیں گے اس لیے آپ نماز قائم کریں گے قرآن مجید کی خاص طور سے تلاوت فرمائیں اور نماز تہجد کا التزام کریں کیونکہ یہ امور صبر و استقامت میں ممد ہیں۔ ان سے مصائب و بلیات میں آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ ” لدلوک الشمس الخ “ یعنی زوال آفتاب سے رات کو اندھیرا چھا جانے تک نماز قائم کرو ان دونوں وقتوں کے درمیان جس قدر نمازیں ہیں انہیں اپنے اپنے وقتوں میں قائم کرو اس میں چار نمازوں کا ذکر ہے ظہر، عصر، مغرب اور عشا۔ ” و قرآن الفجر “ یعنی نماز فجر کو بھی قائم کرو۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا اور انسان کی تکریم کا مسئلہ بیان فرمایا ، پھر دنیا کی زندگی میں ہدایت اور گمراہی کی بات ہوئی اور مشرکین کی سازشوں کا بیان ہوا جس کے ذریعے حضور خاتم النبیین ﷺ کو راہ راست سے ہٹانا چاہتے تھے مگر اللہ نے فرمایا کہ مشرکین اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی کہ اگر یہ لوگ آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیں گے تو پھر یہ بھی یہاں پر زیادہ دیر تک نہیں ٹھہر سکیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کا شکار ہوجائیں گے ۔
(اقامت صلوۃ)
مشرکین مکہ حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو سخت تکالیف پہنچا رہے…
Read the full tafseer →اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ۭ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا
صلا
أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64]
والصَّلاةُ ،
قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103]
وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین…
Read the full tafseer →ترکیب : الی غسق الخ متعلق ہے اقم کے قرآن الفجر معطوف الصلوٰۃ پر یا اس کا نصب علی الاعزاء ہے اے علیک قرآن الفجر نافلہ مصدر بمعنی تہجد اے تنفل نفلاو فاعلہ ھنا مصدر کا العاقبہ۔ مقاما منصوب ہے ظرف ہو کر۔
تفسیر : اقم الصلوٰۃ الٰہیات و معاد و نبوت کے مباحث کے بعد طاعت الٰہی کا حکم دیتا ہے اور نیز شیطان کی گمراہی اور بندے کی ناشکری اور قیامت میں نامہ اعمال کے دیے جانے اور کفار کا حضرت ﷺ کی طرف قصد بد کرنے کا اور آپ کو محفوظ رکھنے کا ذکر کر کے وہ عمل تعلیم فرماتا ہے جو شیطان کی گمراہی اور بندے کی ناشکری کی رسوائی اور کفار کے فریبوں سے بچاوے (یعنی نماز) اور نیز تیرہ حکموں کی تکمیل نماز بغیر ممکن نہیں۔…
Read the full tafseer →اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ ط اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْھُوْدًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 78)
(نماز کا اہتمام کیجیے زوال آفتاب کے اوقات سے لے کر رات کے تاریک ہونے تک (نیز ادا کیجیے) فجر کی نماز، بیشک فجر کی نماز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ )
نماز کا حکم دینے کی وجہ
گزشتہ رکوع کی آخری آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نہایت ناگفتہ بہ حالات سے گزر رہے تھے۔ مسلمانوں کی اکثریت حبشہ کی طرف ہجرت کرچکی تھی۔ کچھ لوگ مدینہ منورہ میں سکونت پذیر ہوچکے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے ساتھ مسلمانوں کی نہایت مختصر تعداد مکہ معظمہ میں باقی تھی۔ اور دوسری طرف حال…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشکل کے وقت نماز کی اہمیت اور اس کا فائدہ :
جب بھی نبی کریم ﷺ کی پریشانی اور مشکلات کا ذکر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب پیغمبر ﷺ کو اپنے ذکر اور نماز کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ کیونکہ ذکر اور نماز قائم کرنے سے اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی طرف سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں بھی آپ ﷺ کی مشکلات کے ذکر کے بعد حکم ہوا ہے۔ کہ آپ سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی نماز قائم کریں اور رات کے اندھیرے میں بھی نماز پڑھیں اور فجر کے وقت قرآن کی تلاوت کریں۔ کیونکہ صبح کے وقت قرآن مجید کی تلاوت کرنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کی غالب اکثریت نے ثابت کیا ہے کہ اس آیت سے…
Read the full tafseer →تشکر الٰہی :
78: اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْکِ الشَّمْسِ (آپ سورج کے زوال پر نماز قائم کریں) دلوک زوال کو کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ آیت تمام نمازوں کو جامع ہے۔ نمبر 2۔ دلوک کا معنی غروب ہو۔ اس صورت میں ظہر و عصر نکل جائے گی۔ (اصل دلک کا معنی ملنا ہے) اِلٰی غَسَقِ الَّیْلِ (رات کے چھاجانے تک) اندھیرے کو غسق کہا جاتا ہے اور یہ عشاء کا وقت ہے۔
وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ (اور فجر کا قرآن) فجر کی نماز کو قرآن یعنی قراءت کہا۔ کیونکہ قراءت ایک رکن صلوۃ ہے جیسا کہ رکوع و سجود سے نام رکھتے ہیں (اس کی طوالت کی وجہ سے) اس آیت میں اصمّ کے خلاف دلیل پائی جاتی ہے کیونکہ اس کا خیال یہ ہے کہ قراءت رکن صلوۃ نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →اقم الصلوٰۃ للدلوک الشمس کی تفسیر میں ائمہ کے اقوال
78۔ ” اقم الصلاۃ لدلوک الشمس “ دلوک کی تفسیر میں ائمہ کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ دلوک سے مراد غروب شمس ہے۔ یہی قول ابراہیم نخفی ، مقاتل بن حیان اور ضحاک و سدی کا قول ہے۔ ابن عباس ابن عمر اور جابر ؓ کا قول ہے کہ اس سے زوال شمس مراد ہے۔ یہ قول عطاء قتادہ ، مجاہد ، حسن اور اکثر تابعین کا قول ہے ۔ اس لفظ کا معنی دونوں کا جمع کرنا کیونکہ دلوک کا اصل معنی ہے زائل ہونا اور سورج مائل ہوتا ہے کبھی زوال شمس ہوتا ہے اور کبھی غروب شمس ہوتا ہے۔ زوال پر اس کو محمول کرنا دونوں قولوں میں سے زیادہ راجح قول یہی ہے۔ اس لفظ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
76۔ 77:۔ بیہقی کی دلائل النبوت میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں جو شان نزول اس آیت کی سعید ؓ بن جبیر کی روایت سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت اور مدینہ منورہ میں آجانے کے بعد یہود نے آپ کو ملک شام میں رہنے کی ترغیب دی اور آپ نے اس ترغیب پر تبوک کے سفر کا ارادہ کیا اس پر مقام تبوک میں یہ آیت نازل ہوئی ہے 1 ؎۔ لیکن ابو عیسیٰ ترمذی نے آیت وقل رب ادخلنی کی جو شان نزول بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے 2 ؎، اور مشرکین مکہ نے ہجرت سے پہلے جو آپ کو تکلیفیں دی تھیں اس پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر اور حافظ ابن کثیر نے اسی بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(آیت نمبر (78
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے اوقات میں مکمل طور پر قائم کریں (لد لوک الشمس) ” سورج ڈھلنے سے “ یعنی زوال کے بعد سورج کے مغربی افق کی طرف مائل ہوجانے سے لے کر ‘ اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں (الی عسق الیل ) ” رات کے اندھیرے تک “ ینی رات کی تاریکی میں اور اس میں مغرب اور عشاء کی نمازیں داخل ہیں۔ (وقران الفجر) ” اور فجر کا قرآن پڑھنا “ یعنی فجر کی نماز ‘ اور اسے ” قرآن “ اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس میں قراءت قرآن کی طوالت مشروع ہے۔ یہ قراءت سے زیادہ لمبی ہوتی ہے نیز فجر کی نماز میں قراء کی فضیلت ہے کیونکہ اس میں…
Read the full tafseer →نمازوں کے اوقات کا ذکر
قول باری ہے (اقم الصلوۃ لدلوک الشمس الی غسق اللیل ۔ نماز قائم کرو زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک) حضرت ابن مسعود اور ابو عبدالرحمٰن تسلمی سے مروی ہے کہ دلوک شمس سے غروب آفتاب مراد ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوبرزہ، سلمی، حضرت جابر اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ دلوک شمس سے زوال آفتاب مراد ہے۔ تابعین کی ایک جماعت سے بھی یہی معنی مروی ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان صحابہ کرام کا قول ہے کہ دلوک، میلان اور جھکائو کو کہتے ہیں۔ اس بارے میں ان کی رائے قابل قبول ہے اس لئے کہ یہ تمام تمام اہل زبان تھے ۔ جب بات اس طرح ہے تو یہ درست ہے کہ دلوک سے وہ جھکائو مراد لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
141۔ اقامت صلوۃ نصرت خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ :۔
سو اقامت صلوۃ کے اس حکم وارشاد سے یہ درس دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے سرفرازی کا سب سے اہم ذریعہ نماز ہے۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کے حصول اور دشمنوں کے شروروفتن سے بچنے کا سب سے اہم اور بنیادی ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس عبادت مقدسہ میں انسان اپنے ظاہر وباطن، قلب و قالب اور اعضاء وجوارح سب کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی میں مشغول ہوتا ہے۔ اور اس میں وہ نہایت عاجزی کے ساتھ اس قادر مطلق خدائے مہربان سے مدد کی درخواست ودعاء کرتا ہے۔ اس لئے حدیث میں وارد ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جب کوئی دشواری پیش آتی تو فوری طور پر نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
اوقات عبادت، نماز اور قرآن کی فضیلت
تشریح : پچھلی آیات میں اللہ کی وحدانیت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا ذکر ہے۔ تو یہاں اس کی عبادت کے چند اصول بتائے گئے ہیں دعا کا طریقہ حق و باطل کا مطلب اور قرآن کی برکتیں بتائی گئی ہیں۔ سب سے پہلے تو نماز کا ذکر ہے نماز کے فضائل تو کافی بیان ہوچکے ہیں یہاں نمازوں کی تعداد اور اوقات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ نے حکم دیا کہ پانچ نمازیں، فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء فرض کی گئی ہیں۔ فجر کی نماز میں تلاوت قرآن لمبی کرنے کا حکم ہے اور صبح کے وقت قرآن پڑھنے کی فضیلت بتائی گئی کہ اس وقت فرشتوں کے نازل ہونے کا وقت ہوتا ہے جو کہ بڑی قبولیت کا وقت ہوتا ہے، اس کے علاوہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
(رکوع نمبر 9)
اسرار و معارف
تو کفار کی ایذا اور مشرکین کی سازشوں کا مقابلہ آپ اللہ کی عبادت کرکے کریں کہ عبادت سے قرب الہی اور تائید باری نصیب ہوتی ہے اور تائید باری ہی مصائب کا حل اور دشمنوں سے حفاطت کا اعلی ترین ذریعہ ہے لہذا قائم کیجئے صلوۃ کو دن ڈھلے سے رات کے اندھیرے تک اور علی الصبح بھی عبادات اور نماز میں قرآن پڑھیں کہ علی الصبح قرآن کی تلاوت عبادت یعنی نماز میں روبرو ہونے کے برابر ہے کہ شب کی رخصت کے بعد پہلا کام اللہ جل جلالہ کی حضوری کا نصیب ہو جو آئندہ دن بھر اور دوسری صبح تک برکات نصیب ہونے کا سبب بنتا ہے ۔
(حدیث پاک کے بغیر بات سمجھ میں نہیں آسکتی)
اس آیہ مبارکہ میں نماز پنچگانہ…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی ظہر سے عشا تک چار نمازی اکثر مفسرین نے یہی معنی بیان کئے ہیں بعض نے دلوں کے معنی غروب بھی کئے ہیں۔ البتہ اس پر مفسرین کا اجماع ہے کہ یہاں نماز سے پانچ فرض نمازیں مراد ہیں۔ (شوکانی)11 لفظ معنی ہیں صبح کی قرأت اور صبح کی نماز کو قرأت سے تعبیر کرنا اس بنا پر ہے کہ اس میں عموماً قرأت لمبی ہوتی ہے اور مستحیب ہے اور اس سے نماز میں قرأت کی اہمیت بھی ثابت سے ہوتی ہے اور صحیح احادیث میں یہ بیان ہوا ہے کہ سورة فاتحہ کے بغیر نہیں ہوتی۔ (قرطبی)12 جیسا کہ حیدث میں ہے کہ صبح کی نماز میں رلت اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں (بخاری مسلم) آیت میں پانچوں نمازوں کے اوقات کی طرف رہنمائی کردی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →(17:78) اقم الصلوۃ۔ اقم فعل امر۔ واحد مذکر حاضر اقامۃ مصدر (باب افعال) اقام یقیم اقامۃ۔
دلوک الشمس۔ سورج کا ڈھلنا۔ سورج کا غروب ہونا۔ سورج کا مائل بغروب ہونا۔
غسق اللیل۔ کے معنی (ابتدائے) شب کی سخت تاریکی کے ہیں۔ الی غسق اللیلرات کی تاریکی تک۔ الغاسق بمعنی تاریک رات جیسے قرآن مجید میں آیا ہے ومن شرغاسق اذاوقب (113:3) اور شب تاریک کی برائی سے جب اس کی تاریکی چھا جائے
غاسق چاند کو بھی کہتے ہیں جب کہ وہ گھن لگ کر سیاہ ہوجائے۔ الغساق دوزخیوں کے جسموں سے بہنے والا لہو یا پیپ، جیسے کہ قرآن مجید میں ہے الا حمیما و غساقا (78:25) مگر گرم پانی اور بہتی پیپ۔
مشھودا۔ اسم مفعول واحد مذکر منصوب بوجہ خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–84
لغات القرآن آیت نمبر 78 تا 84
دلوک ڈھلنا، زوال۔ غسق اندھیرا۔ تھجد بیدار رہے۔ ذھق مٹ گیا۔ انعمنا ہم نے انعام کیا۔ اعرض منہ پھیرلیا۔ اعراض کیا۔ نا پہلو پھیرلیا۔ شاکلۃ طریقہ۔ اھدی زیادہ صحیح راستہ۔
تشریح : آیت نمبر 78 تا 84
ان آیات میں جو مضامین ارشاد فرمائے گئے ہیں ان کو سمھنے کے لئے اس اصول کو سامنے رکھنا ضروری ہے کہ قرآن کریم ایک مکمل کتاب زندگی ہے جس کے اصول، انوارات اور طریقے کامل و مکمل ہیں لیکن اللہ کی مراد اور انوارات اس وقت تک کھل کر سامنے نہیں آسکتے جب تک نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ یعنی احادیث رسول ﷺ کو سامنے نہ رکھا جائے۔ اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم ہمارے لئے کافی ہے ہم خود اس کو…
Read the full tafseer →پانچوں نماز کے فضائل اور تہجد کا ذکر
اس آیت میں پانچوں نمازوں کا ذکر ہے۔ سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک میں چار نمازیں ہیں، اور صبح کی نماز کا الگ ذکر ہے اس واسطے کہ وہ فرشتے جو لوگوں کے نامہ اعمال لکنے اور آدمی کی حفاظت کرنے کے لئے مقرر ہی، ان کی چوکی عصر کے وقت اور صبح کے وقت بدلتی رہتی ہے اور عصر اور صبح دونوں نمازوں کے وقت دونوں چوکیوں کے فرشتے ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔ لیکن صبح کی نماز کے وقت قرأت سے قرآن شریف پڑھا جاتا ہے اور اس کو بڑے شوق سے دونوں چوکیوں کے فرشتے سنتے ہیں اس لئے یہ فرمایا کہ صبح کی نماز کی قرأت سننے کو فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →[55] یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں۔
[56] اصل الفاظ ہیں '' قرآن الفجر ''۔ فجر کے قرآن سے مراد فجر کی نماز ہے۔
[57] احادیث میں آیا ہے کہ صبح کی نماز میں رات اور دن کے فرشتوں کی جماعتیں حاضر ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–81
(ف 2) مجوسی سورج کی عبادت کرتے اور عموما اس وقت کرتے جس وقت سورج کامل عروج پر ہو ، قرآن نے نماز کے اوقات ایسے بتانے ہیں جب کہ سورج زوال پذیر ہوجائے ،
دلوک : وہ وقت ہے جب سورج افق نور سے ڈھل جائے اور یہ تین دفعہ ہوتا ہے ظہر کے وقت جب سورج پہلی دفعہ زوال پذیر ہوتا ہے عصر کے وقت جب دوسری دفعہ دوسرے مرتبہ میں افق نور سے سورج ڈھلتا ہے ۔ اور تیسری دفعہ جب افق مغرب میں غروب ہوجاتا ہے ۔
لدلوک الشمس : سے غرض یہ ہوگی کہ کلما دلکت الشمس ، غسق اللیل رات کی نماز ہے یعنی عشاء اور قران الفجر ، صبح کی اس طرح پانچوں نمازوں کا ذکر قرآن کی ایک آیت سے ثابت ہوتا ہے ۔
حل لغات :
نافلۃ لک : یعنی زیارت و برکت :
Read the full tafseer →-78 اے پیغمبر زوال آفتاب سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز کو قائم رکھا کیجیے اور فجر کا قرآن کریم پڑھنا بھی بیشک صبح کا قرآن کریم پڑھنا فرشتوں کے حاضر ہونے کا وقت ہے۔ صبح کی نماز میں چونکہ قرأت طول ہوتی ہے اس لئے صبح کی نماز کو فجر کا قرآن کریم پڑھنا فرمایا ۔ زوال کے وقت سے لیکر رات کے اندھیرے تک ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد ہیں اور فجر کے قرآن کریم پڑھنے سے صبح کی نماز مراد ہے۔
یہ پانچ وقت کی نماز کا ذکر فرمایا صبح کی نماز کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں یعنی اعمال لکھنے والے فرشتے یا محافظ فرشتے عصر کے وقت اور صبح کے وقت جمع ہوتے ہیں پہلے چلے جاتے ہیں اور ان کی جگہ دوسرے آجاتے ہیں اس…
Read the full tafseer →ف 4۔ اس میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء، چار نمازیں آگئیں۔
5۔ چونکہ صبح کا وقت نیند سے اٹھنے کا تھا، اس لئے اس کا حکم بھی الگ کیا، اور ایک خاص بزرگی بیان کی۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام ﷺ کو صلوٰۃ ادا کرنے کا حکم دے کر اوقات صلوٰۃ کی طرف اشارہ کردیا :
96: ذمہ داری ڈالی جانے اور ذمہ داری ڈالی جانے کی اطلاع دو الگ الگ باتیں ہیں اور ذمہ داری ڈلی جانے سے پہلے اس کی اطلاع دینا لازم و ضروری ہوتا ہے بلکہ اس کی وضاحت بھی کہ آپ ﷺ کے فرائض میں یہ بات آئے گی اس اصول کے تحت مدینہ منورہ میں رسول اللہ ﷺ پر جو ذمہ داریاں اور فرائض عائد ہونے والے تھے ان کی اطلاع آپ ﷺ کو مکی زندگی کے آخری ایام میں دے دی گئی تھی اور اس اطلاع میں پانچ وقتہ صلوٰۃ بھی ہے جس کا ذکر اس آیت میں کیا گیا۔ چناچہ صلوٰۃ کے اوقات معین کردیئے۔ فرمایا : سورج کے ڈھلنے سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز کے اوقات…
Read the full tafseer →Commentary
Salah is the best defense against enemy hostility
Previous verses have mentioned the hostility of the enemies of Islam, the plans they made to hurt and harass the Holy Prophet ﷺ and what was to be done in response. By giving the Holy Prophet ﷺ the command to establish Salah in the verses cited above, it is being suggested that it is the best remedy against the mischief made and pain caused by enemies. This is similar to what has been said more clearly in a verse of Surah al-Hijr: وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ…
Read the full tafseer →91. The Muslims have been commanded to establish Salat immediately after the mention of obstacles and adversities. This implies that the perseverance required to face adverse circumstances is obtained by the establishment of Salat.
92. We have translated the words of the Arabic text into“the declining of the sun.”Though some of the companions and their followers are of the opinion that it means“the sunset”, the majority of them are of the opinion that it means“the declining of the sun from its zenith.”Umar, Ibn Umar, Anas bin Malik, Abu Barza-tal-Aslami, Hasan Basri, Shaabi, Ata, Mujahid and,…
Read the full tafseer →