Explained with ayahs 76–77
وطنی عصبیت اور یہودی
کہتے ہیں کہ یہودیوں نے حضور ﷺ سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدینہ کو چھوڑ دینا چاہئے اس پر یہ آیت اتری۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے اس لئے کہ آیت مکی ہے اور مدینے میں آپ کی رہائش اس کے بعد ہوئی ہے کہتے ہیں کہ تبوک کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یہودیوں کے کہنے سے کہ شام جو نبیوں کی اور محشر کی زمین ہے آپ کو وہیں رہنا چاہئے، اگر آپ سچے ہی سورة بنی اسرائیل کی آیتیں اتریں، اس کے بعد سورت ختم کردی گئی تھی آیت (وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا سُنَّةَ مَنْ…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 90
یعنی سارے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ اللہ کا یہ معاملہ رہا ہے کہ جس قوم نے ان کو قتل یا جلا وطن کیا، پھر وہ زیادہ دیر تک اپنی جگہ نہ ٹھیر سکی۔ پھر یا تو خدا کے عذاب نے اسے ہلاک کیا، یا کسی دشمن قوم کو اس پر مسلط کیا گیا، یا خود اسی نبی کے پیروؤں سے اس کو مغلوب کرا دیا گیا۔
Read the full tafseer →(آیت) سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا اس آیت میں بتلایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی عام سنت اور قاعدہ پہلے سے یہی چلا آیا ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی کو اس کے وطن سے نکالتی یا نکالنے پر مجبور کرتی ہے تو پھر وہ قوم بھی وہاں باقی نہیں رکھی جاتی اس پر خدا تعالیٰ کا عذاب آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
تفسیر آیات 76 تا 77: وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا۔ سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا۔
استفزاز کے معنی گھبرا دینے، پریشان کردینے اور اکھاڑ دینے کے ہیں اور " الارض " سے مراد یہاں سرزمین مکہ ہے۔
مخالفین جب سمجھوتے کی کسی تجویز کے بروئے کار آنے سے بھی ماویس ہوگئے تو ظاہر ہے کہ ان کی مخالفت جو پہلے بھی کچھ کم نہ تھی اس مایوسی کے بعد دوچند ہوگئی۔ انہوں نے اپنا ایری چوٹی کا زور صرف کردیا کہ آپ کے قدم سرزمین مکہ سے اکھاڑ دیں کہ آپ یہاں سے نکلنے پر…
Read the full tafseer →77۔ 1 یعنی یہ دستور پرانا چلا آرہا ہے جو آپ سے پہلے رسولوں کے لئے بھی برتا جاتا رہا ہے کہ جب ان قوموں نے انھیں اپنے وطن سے نکال دیا یا انھیں نکلنے پر مجبور کردیا تو پھر وہ قومیں بھی اللہ کے عذاب سے محفوظ نہ رہیں۔
77۔ 2 چناچہ اہل مکہ کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ رسول اللہ نبی ﷺ کی ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد ہی میدان بدر میں وہ عبرت ناک ذلت و شکست سے دو چار ہوئے اور چھ سال بعد 8 ہجری میں مکہ ہی فتح ہوگیا اور اس ذلت و ہزیمیت کے بعد وہ سر اٹھانے کے قابل نہ رہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
42: یعنی آپ ﷺ کے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمانے کے بعد یہ کافر لوگ بھی مکہ مکرمہ میں زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ہجرت کے آٹھ سال بعد مکہ مکرمہ فتح ہوگیا۔ اور نویں سال تمام کافروں کو یہاں سے نکل جانے کا حکم مل گیا جس کی تفصیل سورة توبہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →سنۃ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا ولا تحد لسنتنا تحویلا (71 : 77) ” یہ ہمارا مستقبل طریق کار ہے جو ان سب رسولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا تھا اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پائو گے “۔
اللہ تعالیٰ نے یہ اٹل قانون بنایا ہے کہ جو قوم رسول کو ملک بدر کردیتی ہے اللہ اے نیست و نابود کردیتا ہے۔ کیونکہ رسولوں کا ملک بدر کرنا اس قدر بڑا جرم ہے کہ اسے سرزنش کے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ اللہ کی اس کائنات کو اس کے اٹل قوانیں اور سنن چلا رہے ہیں اور لوگوں کے انفرادی اعمال کا اس میں کوئی لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ کائنات محض اتفاقات کے مطابق نہیں چل رہی ہے کہ کچھ واقعات ہوجائیں اور…
Read the full tafseer →5 یعنی ہمارا یہ ہی دستور رہا ہے کہ جب کسی بستی میں پیغمبر خدا کو نہ رہنے دیا تو بستی والے خود نہ رہے۔
Read the full tafseer →آیت 77 سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا
یعنی آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ان کے بارے میں ہمارا قاعدہ اور قانون یہی رہا ہے کہ رسول کی ہجرت کے بعد متعلقہ قوم پر سے اللہ کی امان اٹھا لی جاتی ہے اور اس کے بعد وہ قوم بہت جلد عذاب کی گرفت میں آجاتی ہے۔
Read the full tafseer →95 عذاب کے متعلق اللہ کی سنت :۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ جب تک کسی نافرمان قوم میں اللہ کا نبی موجود رہے اس وقت تک اس پر عذاب نہیں آتا۔ اور جب عذاب مقدر ہوجائے تو نبی کو وہاں سے نکال لیا جاتا ہے یا ہجرت کرنے کا حکم دے دیا جاتا ہے اور جب نبی نکل جاتا ہے تو پھر عذاب کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ براہ راست اس قوم پر عذاب نازل کرکے اس قوم کو تباہ کردے اور دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے ہاتھوں اس سرکش قوم کو پٹوا دے۔ جن کو ان مجرموں نے ہجرت پر مجبور کردیا تھا یا ان کے بجائے کسی دوسری قوم سے انھیں سزا دلوا دے۔
Read the full tafseer →111۔ یعنی صابرین مطیعین کی مدد ونصرت اور منکرین کی مغلوبی وپامالی تو ہماری قطعی قانون ہے۔ آپ اس باب میں کوئی شک وتردد لائیں ہی نہیں۔ (آیت) ” لسنتنا “۔ یہ سنت ہے سنت الہی ہی، جیسا کہ اس جزء میں بالکل صاف ارشاد ہوا ہے اور اس کے قبل جو (آیت) ” سنۃ “ کی اضافت (آیت) ” رسلنا “۔ کے ساتھ آئی ہے تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ یہ سنت الہی رسولوں کے باب میں ہے۔ فالسنۃ للہ عزوجل واضیفت للرسل (علیہ السلام) لانھا سنۃ لاجلھم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
آیت نمبر 71 تا 77
ترجمہ : اس دن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس دن ہم ہر گروہ (امت) کو اس کے نبی کے ساتھ بلائیں گے، یوں کہا جائے گا اے فلاں نبی کی امت یا ان کو ان کے نامۂ عمل کے ساتھ بلایا جائیگا، یوں ندا دی جائے گی اے صاحب خیر اور اے صاحب شر اور وہ قیامت کا دن ہوگا، تو ان میں سے جس کو دائیں ہاتھ میں نامہ عمل دیا جائیگا تو یہ لوگ خوش نصیب اور دنیا میں صاحب بصیرت تھے تو وہ لوگ اپنے اعمال ناموں کو (خوشی خوشی) پڑھیں گے اور ان کے اعمال میں سے گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کمی نہ کی جائے گی اور جو اس دنیا میں حق (بینی) سے اندھا رہا ہوگا تو وہ آخرت میں بھی راہ نجات اور نامۂ عمل کے پڑھنے سے اندھا رہے گا اور…
Read the full tafseer →سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا : اور یہی ہمارا ان
لوگوں کے ساتھ قاعدہ رہا ہے جن کو آپ سے پہلے ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا تھا اور آپ ہمارے اس قاعدے میں تغیر نہیں پائیں گے۔ یعنی اللہ نے یہ طریقہ جاری کردیا ہے کہ جس امت نے اپنے پیغمبر کو اپنے اندر سے نکال باہر کردیا ‘ اللہ نے بھی اس امت کو تباہ کردیا اور چونکہ اللہ کا یہ طریقۂ عمل پیغمبروں کی وجہ سے جاری تھا اور آپ بھی پیغمبر ہیں 1 اس لئے اگر آپ کے ساتھ بھی وہ لوگ ایسا سلوک کرتے تو اللہ بھی ان کو تباہ کردیتا۔ تحویل کا معنی ہے تغیر و تبدل۔
Read the full tafseer →(77) جیسا کہ ہم نے آپ سے پہلے رسولوں کی قوموں کو ہلاک کیا جب کہ اپنے رسولوں کو انہوں نے اپنے درمیان سے نکال دیا اور آپ ہمارے اس عذاب میں کوئی تبدیلی نہ پاتے۔
Read the full tafseer →سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ۔۔ : یعنی پہلے رسولوں کے زمانے میں بھی ہمارا یہ طریقہ رہا کہ جوں ہی ان کی قوم نے انھیں نکالا ان پر عذاب آگیا اور وہ تباہ ہوگئی، البتہ مکہ میں چونکہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت کرنے کے بعد بھی کئی مسلمان موجود تھے جو استغفار کرتے تھے اور بعض کفار اور ان کی آئندہ اولاد کے مسلمان ہونے کی امید تھی، اس لیے مکہ کو پہلی قوموں کی بستیوں کی طرح تباہ نہیں کیا گیا۔ دیکھیے سورة فتح (25) اور انفال (33)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 77
قولہ تعالیٰ : سنۃ من قدارسلنا قبلک من رسلنا یعنی یہ عذاب دیئے جائیں گے جیسا کہ ان کے بارے ہمارا دستور ہے جہنیں ہم نے بھیجا، پس یعذبون کو مضمر کرکے سنۃ کو نصب دی گئی ہے پس جب جردینے والا حرب (کاف، کسنۃ میں) ساقط ہوگیا تو فعل نے عمل کیا، یہ فراء نے کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ اس معنی کی وجہ سے منصوب ہے سنتا سنۃ من قدأرسلنا (ہم نے ان کے لئے دستور بنارکھا ہے جنہیں ہم نے بھیجا) اور یہ بھی کہا گیا ہے : کہ یہ کاف کے حذف کی تقدیر پر منصوب ہے : تقدیر کلام ہوگی : لا یلبثون خلفک الا قلیلا کسنۃ من قد أرسلنا (وہ نہیں ٹھہریں گے آپ کے بعد مگر تھوڑا عرصہ جیسا کہ ان کے بارے ہمارا دستور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کے کہا انبیاء (علیہم السلام) شام میں ٹھہرا کرتے تھے آپ مدینہ میں کیوں رہتے ہیں اور آپ ﷺ مدینہ منورہ سے روانگی کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “ نازل فرمائیں۔
2:۔ ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ خبر پہنچی کہ بعض یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہا کہ انبیاء (علیہم السلام) سرزمین شام کی سرزمین ہے اور یہ (یعنی مدینہ) انبیاء کی سرزمین نہیں ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “۔
فتنہ میں مبتلا کرنے کی کوشش سے متعلق ایک روایت :
3:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[سُنَّةَ مَنْ : (آپ ﷺ مستخضر رکھیں) ان کی سنت کو جن کو ] [قَدْ اَرْسَلْنَا : ہم بھیج چکے ہیں ] [قَبْلَكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [مِنْ رُّسُلِنَا : اپنے پیغمبروں میں سے ] [وَلَا تَجِدُ : اور آپ ﷺ نہیں پائیں گے ] [لِسُنَّتِنَا : ہمارے سنت کے لئے ] [تَحْوِيْلًا : کوئی تبدیلی کرنا ]
Read the full tafseer →(سُنَّۃ مَنْ اَرْسَلْنَا) یہ مصدریت کی بنا پر منصوب ہے یعنی سننا سنۃ من قد ارسلنا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ آپ کو نکال دیتے تو ہم انہیں ہلاک کردیتے آپ ﷺ سے پہلے جو رسول ہم نے بھیجے تھے ان کے بارے میں ہمارا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب ان کی امتوں نے نکال دیا تو پھر امتیں بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں تھوڑے سے وقفے کے بعد ہی ہلاک کردی گئیں۔ (وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا) (اور آپ ہمارے طریقہ میں تغیر نہ پائیں گے) اپنی مخلوق کے بارے میں جو طریقے ہم نے جاری کیے ہیں انہیں کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
ذکر عداوت کفار باسید الابرار، درامور دینیہ و دنیویہ ووعدہ عصمت و حفاظت
قال اللہ تعالیٰ : وان کادوا لیتنونک .... الیٰ .... ولا تجد لسنتنا تحویلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی تکذیب کا بیان تھا کہ وہ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اب ان آیتوں میں ان کی عداوت کا بیان ہے کہ وہ دین میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے آپ ﷺ کو اپنی خواہشوں پر مجبور کرنا چاہتے تھے کہ آپ ﷺ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں یا اس پر قدرے سکوت کریں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس سے محفوظ رکھا اور دنیا میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے اور آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے تھے مگر خیریت ہوئی کہ وہ نکالنے پر قادر نہ ہوئے اللہ نے آپ ﷺ کو وہاں سے ہجرت کرنے اور نکل جانے…
Read the full tafseer →69:۔ ” سنۃ “ منصوب ہے اور سَنَّ مقدر کا مفعول مطلق ہے یعن مشرکین مکہ سے اللہ تعالیٰ وہی سلوک کریگا جو اس نے پہلی امتوں سے کیا ہے۔ ای سن اللہ سنۃ والمعنی ان کل قوم اخرجوا رسولھم من بین اظھرھم فسنۃ اللہ ان یھلکھم بعد اخراجہ ویستاصلھم ولا یقیمون بعدہ الا قلیلا (بحر ج 6 ص 67) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
ربط آیات :
پہلے اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا ، پھر انسان کی برتری اور عزت واحترام کو بیان کیا اس کے بعد محاسبے کا ذکر کیا کہ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو اپنے پیشواؤں سمیت بلائے گا اس دن بہت ہی خوفناک منظر ہوگا ، لوگوں کو اعمالنامے دیے جائیں گے جنہیں وہ پڑھیں گے اور اس سلسلے میں کسی کے ساتھ ذرہ بھر بھی زیادتی نہیں ہوگی ۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اس دنیا کی زندگی میں ہدایت کے راستے سے اندھا رہا وہ آخرت میں بھی ہدایت کے راستے سے اندھا رہے گا ، اور گم کردہ راہ بن کر بہت دور جا پڑے گا ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کے خلاف مشرکین کی عداوت کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ لوگ آپ کے خلاف طرح…
Read the full tafseer →سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا 77ۧ
سنن
وتنحّ عن سَنَنِ الطّريق، وسُنَنِهِ وسِنَنِهِ ، فالسُّنَنُ : جمع سُنَّةٍ ، وسُنَّةُ الوجه : طریقته، وسُنَّةُ النّبيّ :
طریقته التي کان يتحرّاها، وسُنَّةُ اللہ تعالی: قد تقال لطریقة حکمته، وطریقة طاعته، نحو :
سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا [ الفتح/ 23] ، وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا [ فاطر/ 43] ، فتنبيه أنّ فروع الشّرائع۔ وإن اختلفت صورها۔ فالغرض المقصود منها لا يختلف ولا يتبدّل، وهو تطهير النّفس، وترشیحها للوصول إلى ثواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
ترکیب : یوم ندعوا مفعول اونصب اذکر محذوف کا اے اذکر یوم الخ یوم ندعوانصب یا باضمارا ذکر یا ظرف ولایظلمون۔
تفسیر : انسانوں کا باہمی فرق مراتب بیان فرما کر آخرت کا فرق مراتب جو حقیقی تفصیل ہے بیان فرماتا ہے یوم ندعوا کل اناس بامامہم یعنی یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہر ایک شخص اپنے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا۔ امام لغت میں اس کو کہتے ہیں کہ جس کی پیروی اقتدار کی جاتی ہے ہدایت میں خواہ گمراہی میں۔ پس نبی امت کا امام ہے اور خلیفہ رعیت کا اور قرآن مسلمانوں کا امام ہے اور نمازیوں کا امام نماز پڑھانے والا ہے اور اسی طرح انسان کا دلی منشاء جو اس کو نیک یا بدکام پر تحریک کرتا ہے وہ بھی اس کا امام ہے اور…
Read the full tafseer →سُنَّۃَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلاَ تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیَلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 77)
(یہی ہمارا قانون ہے ان کے بارے میں جنھیں ہم نے آپ ﷺ سے پہلے رسول بناکر بھیجا اور آپ ﷺ ہمارے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے۔ )
پروردگار فرماتے ہیں، ہم نے گزشتہ آیت کریمہ میں جو کچھ کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے ہجرت کر جانے کے بعد ان کی قوم بھی اپنے شہر یا اپنے ملک میں زیادہ دیر تک سکون سے نہیں رہ سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ ضرور آتی ہے یا اہل ایمان کی تلوار ان کا خاتمہ کردیتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی سنت اور قانون ہے جسے کبھی بدلتا نہیں دیکھو گے۔ تاریخ بھی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کے خلاف کفار کا نظریاتی سازشوں اور شرارتوں کے بعد معاشرتی بائیکاٹ اور جلا وطن کردینے کی سازش کرنا۔
اہل مکہ اور ان کے گردونواح کے کفار نے آپ کو اعتقادی اور نظریاتی طور پر پسپا کرنے اور پھسلانے کی کوشش کی۔ جب اس میں سراسر ناکام ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ ، آپ کے خاندان اور صحابہ کرام ؓ کا سوشل بائیکاٹ کیا۔ جس کی بناء پر تین سال تک آپ اور آپ کے ساتھی شعب ابی طالب میں محصور رہے۔ بائیکاٹ اس قدر سخت تھا کہ بعض اوقات بھوک کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے رونے کی آوازیں مکہ شہر میں سنائی دیتی تھیں لیکن کفار آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکے۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →اگر مکہ سے زبردستی نکالتے تو تمام ہلاک کردیئے جاتے :
77: سُنَّۃَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُّسُلِنَا (یہی ہمارا قاعدہ ان لوگوں کے ساتھ رہا ہے جن کو ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بنایا) کہ ہر قوم نے اپنے رسول کو اپنے درمیان سے نکال دیا۔ پس اس نکالنے پر اللہ تعالیٰ کا طریق اس کو ہلاک کردینے کا ہے۔
نحو : سُنَّۃَ یہ مصدر موکد کی طرح منصوب ہے۔ ای سَنَّ اللّٰہ ذٰلِکَ سُنَّۃً وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا (اور آپ ہمارے قاعدہ میں تبدیلی نہ پائیں گے) ۔
Read the full tafseer →تفسیر 77۔” سنہ من قد ارسلنا قبلک من رسلنا “ ہمارا یہ طریقہ چلا آ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب امتیں ان کو جھٹلاتیں ہیں اور ان پر اس وقت تک عذاب نہیں آتا جب تک ان کے اندر نبی موجود ہوتا ہے اور جب نبی ان کے درمیان سے نکل جاتا ہے تو پھر ہم ان کو عذاب میں مبتلا کردیں گے۔” ولا تجدلسنتنا تحویلا ً “ ہم اس کو تبدیل کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
76۔ 77:۔ بیہقی کی دلائل النبوت میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں جو شان نزول اس آیت کی سعید ؓ بن جبیر کی روایت سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت اور مدینہ منورہ میں آجانے کے بعد یہود نے آپ کو ملک شام میں رہنے کی ترغیب دی اور آپ نے اس ترغیب پر تبوک کے سفر کا ارادہ کیا اس پر مقام تبوک میں یہ آیت نازل ہوئی ہے 1 ؎۔ لیکن ابو عیسیٰ ترمذی نے آیت وقل رب ادخلنی کی جو شان نزول بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے 2 ؎، اور مشرکین مکہ نے ہجرت سے پہلے جو آپ کو تکلیفیں دی تھیں اس پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر اور حافظ ابن کثیر نے اسی بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
(آیت نمبر (73:
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد ﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (و ان کا دو الیفتنو نک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیرہ ) ” یقیناً قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا “ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کرچکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے انہوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ ‘ اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
قول باری ہے (ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا) حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ جو شخص اس دنیا کے اندر حق کے اعتقاد سے اندھا رہا جو اس دنیا کا متقضی ہے اس لئے کہ یہ دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ بچشم خود اس کے انتظام، اس کی گردش اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں کی لگاتار آمد و رفت کا مشاہدہ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود حق سے بےبہرہ ہے تو ایسا شخص آخرت میں بھی جو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہے اندھا ہی رہے گا اور راہ ہدایت پانے میں زیادہ ناکام ہوگا۔
Read the full tafseer →140۔ اللہ کے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ” آپ ہمارے دستور میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے “ سو پیغمبروں کے بارے اللہ تعالیٰ کے اس دستور میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ کہ ان کی قوموں نے جب ان کو اپنے یہاں سے نکالا تو اس کے بعد اللہ کے عذاب نے بالآخر ان کو آپکڑا اور وہ لوگ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ والعیاذ باللہ، سو یہ ہماری سنت اور ہمارا دستور رہا ہے کہ جس کسی قوم نے بھی اپنے رسول کو ہلاک کیا یا اس کو اپنی بستی سے نکالا اس پر ہمارا عذاب آکر رہا اور ہماری اس سنت و دستور میں آپ کو اے پیغمبر یہاں سے نکلنے پر مجبور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
نبی کے لیے کفار کے فتنہ سے بچنے کا
تشریح : یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ نے آپ کو ہر قسم کا لالچ دے کر یہ کہا کہ قرآن میں کچھ آیات بدل دو جو ہمارے مفاد میں، یعنی بت پرستی وغیرہ کے حق میں ہوں تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے جو کہو گے دیں گے، یعنی مال و دولت، بیوی اور عزت و احترام۔ آپ ﷺ دنیاوی راحتوں کو تو خیر کسی گنتی میں ہی نہیں لاتے تھے البتہ یہ خیال آیا ہو کہ اس وقت اگر ان کو تھوڑی سی رعایت دے دی جائے تو شاید بعد میں حق کی طرف آجائیں تو اللہ تعالیٰ نے سختی سے حکم دیا کہ ہرگز کسی کافر کی رعایت دوستی یا مشورہ کا خیال مت کرنا۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ کبھی بھی کسی برے کافر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اب اگر یہ برائی کرتا ہے یا شیطان کی پیروی کرتا ہے تو آخر ایک روز ہر انسان کو اس کے نامہ اعمال سمیت بلایا جائے گا اور میدان حشر میں اکٹھا کیا جائے گا ۔
(امام)
کہ امام سے مراد اعمالنامہ ہے کہ حدیث شریف میں یہ معنی بھی وارد ہے اور امام بمعنی پیشوا ومقتدا بھی مراد ہے کہ جیسے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے والے یا ان کے نائبین مشائخ وعلماء کے پیچھے چلنے والے اور دوسرے شیطان کے پیروکار تو گویا دنیا میں جو عمل اور کردار ہے یا جس کی پیروی کرتا ہے ، اسی کے گروہ یا طبقے میں اٹھایا جائے گا کہ امام کا معنی مطلق پیشوا ہے نیک ہو بد مومن ہو یا کافر کہ امامت نبوت کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →ف 9 جونہی ان کی قوم نے ان کو نکالا ان پر عذاب آگیا اور وہ تباہ ہوگئی (ابن کثیر (رح)
Read the full tafseer →(17:77) سنۃ۔ طریقہ جاریہ۔ راہ ۔ رسم۔ دستور۔ سنۃ بوجہ مصدر تاکیدی کے منصوب ہے یعنی سن اللہ ذلک سنۃ۔۔
من قد ارسلنا قبلک من رسلنا۔ جن کو ہم نے تم سے قبل رسول بنا کر بھیجا۔ یہ جملہ سنۃ کا مضاف الیہ ہے سنۃ مضاف ہے اس کی اضافت رسل کی طرف کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دستور الٰہی ان رسولوں کی کا طرہی تھا۔ ولا تجد لسنتنا تحویلا اور ہمارے دستور میں آپ کوئی ردوبدل نہیں پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 77
اوتی دیا گیا۔ یمین داھنا ہاتھ۔ قتیل دھاگہ، ذرہ برابر، اعمی اندھا، نابینا۔ ثبتنا ہم نے ثابت قدم رکھا۔ ضعف دوگنا۔ دوہرا۔ سنۃ طریقہ، قانون الٰہی۔ تحویل تحویل کا معنی صرف تبدیلی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 71 تا 77
اصل میں جس شخص کو ایمان قبول کر کے راہ حق پر چلنا ہے اس کو نہ تو معجزات، کرامات اور ادھر ادھر کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ معمولی باتوں سے اس کے قدم ڈگمگاتے ہیں بلکہ اس نے جس سچائی کو قبول کرلیا ہے اس پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہے لیکن جس کو صرف باتیں بنانا ہیں اور اس کو آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی اس کو سوائے اعتراضات کرنے کے دوسرا کام نہیں ہوتا۔ چناچہ کفار…
Read the full tafseer →یہاں فرمایا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہی قاعدہ ہے کہ نبی نکالنے کے بعد قوم کے لوگوں کو امن سے نہیں رکھتے ان کو بھی جلاوطنی نصیب ہوتی ہے۔ جو انبیاء تم سے پہلے آئے ہیں ان کی بھی یہی کیفیت ہوئی کہ جب ان کی قوم نے ان کو نکالا تو وہ خود بھی وہاں سے نکالے گئے۔ اور اللہ کے انتظام میں جو دستور ہے اس کو کوئی بدل نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
[54] ایسا شخص جمال باری تعالیٰ کی دید سے اور جنت کے نظاروں سے محروم رہے گا۔
Read the full tafseer →(ف 1) مشرکین کی دسیسہ کاریوں اور ریشہ دوانیوں کا ذکر ہے کہ یہ لوگ آپ کے وطن سے خارج کرنے کے لئے کس قدر کوشاں ہیں اور کس کس طریق سے یہ آپ کو مجبور کررہے ہیں ، کہ آپ اپنا وطن مالوف ترک کردیں ، مگر ان کو یہ معلوم نہیں کہ انبیاء کی ایذا دہی کے بعد اللہ کا عذاب آتا ہے ، اور مخالفین کی قوتون کو نابود کردیا جاتا ہے ، یہ سنت الہی ہے جس میں خلاف نہیں ہوتا ، چناچہ ہجرت کے دوسرے سال بدر میں ان مکہ کے اکابر سے قدرت نے پوری طرح انتقام لے لیا ، جو حضور ﷺ کو مکہ سے نکال دینے کا موجب بنے تھے ۔
Read the full tafseer →-77 اسی جیسا دستور اور قاعدہ ان حضرات انبیاء کے بارے میں رہا ہے جن کو ہم نے آپ سے پہلے رسول بنا کر بھیجا تھا اور آپ ہمارے اس دستور اور قاعدے میں کوئی تغیر اور تفاوت نہ پائیں گے۔ قاعدہ یہی کہ جب کس بستی کے لوگوں نے اپنے نبی کو نکالا تو ان بستی والوں کو بھی تھوڑے دنوں سے زیادہ بستی میں رہنا نصیب نہ ہو۔
Read the full tafseer →ف 3۔ کہ جب ان کی قوم نے ان کو وطن سے نکالا تو خود ان کو بھی رہنا نصیب نہ ہوا۔
Read the full tafseer →جتنے رسول ہم نے بھیجے جو ان کے ساتھ ہوا وہی آپ ﷺ کے ساتھ ہوگا اور ہمارا فیصلہ بدلتا نہیں :
95: نوح (علیہ السلام) سے شروع کر کے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک جتنے نبیوں اور رسولوں کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ایک ایک کے حالات دیئکھتے چلے جاؤ ، اس کے بعد تاریخ و سیر کی کتابیں دیکھتے چلے جاؤ ایک بھی نبی و روسل آپ کو نہیں ملے گا جس کے ساتھ یہی کچھ نہ ہوا ہو ، جو اس جگہ بیان ہوا کہ نبی کی ہجرت کے بعد اس قوم کو تہس نہس کردیا گیا ، گویا نبی و رسول کا قوم میں رہنا ہی ان کی زندگی کا باعث تھا اگرچہ وہ وہ نبی و رسول کو نہیں مانتے تھے۔ اس کی مکمل تفصیل ہم پیچھے سورة الانفال میں کرچکے ہیں ، اس لیے عروۃ…
Read the full tafseer →The last verse (77): سُنَّةَ مَن قَدْ أَرْسَلْنَا (Such has been Our way with the messengers We sent ...) tells us that, according to the customary way and law of Allah Ta` ala, when a people expel their prophet from his home-land, or compel him to leave by scaring and harassing, then, those people too are not left to continue living there. They are visited by the punishment of Allah Ta’ ala.
Read the full tafseer →90. That is, this is how Allah has always dealt with the people who killed or exiled His Messengers. They never survived in the land after this. They were either annihilated by the scourge of Allah or were brought under the sway of an enemy or were subdued by the followers of the Messenger.
Read the full tafseer →