Explained with ayahs 76–77
وطنی عصبیت اور یہودی
کہتے ہیں کہ یہودیوں نے حضور ﷺ سے کہا تھا کہ آپ کو ملک شام چلا جانا چاہئے وہی نبیوں کا وطن ہے اس شہر مدینہ کو چھوڑ دینا چاہئے اس پر یہ آیت اتری۔ لیکن یہ قول ضعیف ہے اس لئے کہ آیت مکی ہے اور مدینے میں آپ کی رہائش اس کے بعد ہوئی ہے کہتے ہیں کہ تبوک کے بارے میں یہ آیت اتری ہے یہودیوں کے کہنے سے کہ شام جو نبیوں کی اور محشر کی زمین ہے آپ کو وہیں رہنا چاہئے، اگر آپ سچے ہی سورة بنی اسرائیل کی آیتیں اتریں، اس کے بعد سورت ختم کردی گئی تھی آیت (وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا سُنَّةَ مَنْ…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 89
یہ صریح پیشین گوئی ہے جو اس وقت تو صرف ایک دھمکی نظر آتی تھی، مگر دس گیارہ سال کے اندر ہی حرف بحرف سچی ثابت ہوگئی۔ اس سورة کے نزول پر ایک ہی سال گزرا تھا کہ کفار مکہ نے نبی ﷺ کو وطن سے نکل جانے پر مجبور کردیا اور اس پر 8 سال سے زیادہ نہ گزرے تھے کہ آپ فاتح کی حیثیت سے مکہ معظمہ میں داخل ہوئے۔ اور پھر دو سال کے اندر اندر سر زمین عرب مشرکین کے وجود سے پاک کردی گئی۔ پھر جو بھی اس ملک میں رہا مسلمان بن کر رہا، مشرک بن کر وہاں نہ ٹھیر سکا۔
Read the full tafseer →(آیت) وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ۔ استفزاز کے لفظی معنی قطع کرنے کے ہیں یہاں مراد نبی کریم ﷺ کو اپنے مستقر مکہ یا مدینہ سے نکال دینا ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ قریب تھا کہ یہ کفار آپ کو اپنی زمین سے نکال دیں اور اگر وہ ایسا کرلیتے تو اس کی سزاء ان کو یہ ملتی کہ وہ بھی آپ کے بعد زیادہ دیر اس شہر میں نہ رہ پاتے یہ ایک دوسرے واقعہ کا بیان ہے اور اس کی تعیین میں بھی دو روایتیں منقول ہیں ایک واقعہ مدینہ طبیہ کا ہے کہ یہود مدینہ ایک روز رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے ابو القاسم ﷺ اگر آپ اپنی نبوت کے دعوے میں سچے ہیں تو آپ کو چاہئے کہ ملک شام میں جا کر رہیں کیونکہ ملک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
تفسیر آیات 76 تا 77: وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا۔ سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيْلًا۔
استفزاز کے معنی گھبرا دینے، پریشان کردینے اور اکھاڑ دینے کے ہیں اور " الارض " سے مراد یہاں سرزمین مکہ ہے۔
مخالفین جب سمجھوتے کی کسی تجویز کے بروئے کار آنے سے بھی ماویس ہوگئے تو ظاہر ہے کہ ان کی مخالفت جو پہلے بھی کچھ کم نہ تھی اس مایوسی کے بعد دوچند ہوگئی۔ انہوں نے اپنا ایری چوٹی کا زور صرف کردیا کہ آپ کے قدم سرزمین مکہ سے اکھاڑ دیں کہ آپ یہاں سے نکلنے پر…
Read the full tafseer →76۔ 1 یہ سازش کی طرف اشارہ ہے جو نبی ﷺ کو مکہ سے نکالنے کے لئے قریش مکہ نے تیار کی تھی، جس سے اللہ نے آپ کو بچا لیا۔
76۔ 2 یعنی اگر اپنے منصوبے کے مطابق یہ آپ کو مکہ سے نکال دیتے تو یہ بھی اس کے بعد زیادہ دیر نہ رہتے یعنی عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
42: یعنی آپ ﷺ کے مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمانے کے بعد یہ کافر لوگ بھی مکہ مکرمہ میں زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ہجرت کے آٹھ سال بعد مکہ مکرمہ فتح ہوگیا۔ اور نویں سال تمام کافروں کو یہاں سے نکل جانے کا حکم مل گیا جس کی تفصیل سورة توبہ کے شروع میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →واذالا یلبثون خلفک الا قلیلا (71 : 67) ” اگر وہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے “۔ کیونکہ یہ اللہ کی جاری وساری سنت ہے۔
Read the full tafseer →4 یعنی چاہتے ہیں کہ تجھے تنگ کر کے اور گھبرا کر مکہ سے نکال دیں۔ لیکن یاد رکھیں کہ ایسا کیا تو وہ خود زیادہ دنوں تک یہاں نہ رہ سکیں گے چناچہ اسی طرح واقع ہوا۔ ان کے ظلم و ستم حضور ﷺ کی ہجرت کا سبب بنے۔ آپ ﷺ کا مکہ سے تشریف لے جانا تھا کہ تقریباً ڈیڑھ سال بعد مکہ کے بڑے بڑے نامور سردار گھروں سے نکل کر میدان " بدر " میں نہایت ذلت کے ساتھ ہلاک ہوئے۔ اور اس کے پانچ چھ سال بعد مکہ پر اسلام کا قبضہ ہوگیا۔ کفار کی حکومت و شوکت تباہ ہوگئی اور بالآخر بہت قلیل مدت گزرنے پر مکہ بلکہ پورے جزیرۃ العرب میں پیغمبر ﷺ کا ایک مخالف بھی باقی نہ رہا۔
Read the full tafseer →آیت 76 وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا
یہ مکی دور کے آخری ایام کے ان حالات کی جھلک ہے جب اس کش مکش کی شدت انتہا کو پہنچ چکی تھی اور حالات بیحد نازک رخ اختیار کرچکے تھے۔ یہاں پر رسول اللہ کو معاذ اللہ مکہ سے نکالنے کے لیے قریش کی منصوبہ بندی کا صرف ذکر کیا گیا ہے مگر اس کی نفی کرنے کے بجائے یہ پیشین گوئی کی گئی ہے کہ اگر ایسا ہوا تو آپ کے بعد وہ خود بھی یہاں پر زیادہ عرصہ نہیں رہ سکیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ قریش کے اکثر سردار تو ہجرت کے دوسرے برس ہی جنگ بدر میں قتل ہوگئے جبکہ صرف آٹھ سال بعد مکہ شہر…
Read the full tafseer →94 ہجرت کے ساتھ ہی کفار مکہ کے زوال کا آغاز :۔ جن ایام میں یہ آیت نازل ہوئی اس وقت مسلمانوں پر کفار مکہ کا تشدد اپنی انتہا کو پہنچ گیا تھا ان ایام میں ایسی آیت کا نزول کفار مکہ کے حق میں ایک صریح پیشینگوئی تھی جسے انہوں نے اپنی طاقت کے نشہ میں محض ایک دھمکی ہی سمجھا جیسا کہ دوسری عذاب کی آیات متعلقہ اقوام سابقہ میں بھی ایسے اشارات پائے جاتے تھے مگر آنے والے حالات اور واقعات نے اس پیشینگوئی کو حرف بحرف سچا ثابت کردیا۔ اس آیت کے نزول کے ایک سال بعد آپ مکہ کو چھوڑنے اور مدینہ کی طرف ہجرت کر جانے پر مجبور ہوگئے۔ اس کے بعد قریش کی طاقت میں دم بدم زوال آنا شروع ہوا اور صرف آٹھ سال بعد معاملہ بالکل…
Read the full tafseer →109۔ یعنی انہیں بھی مہلت نہ ملنے پاتی، اور یہ بھی زمانہ قریب میں عذاب الہی کی گرفت میں آجاتے (آیت) ” وان۔۔ من الارض “۔ ملک عرب میں آپ کے قدم اکھیڑ دینا خواہ جبر سے ہوتا یا مکر سے۔ بعض نے یہاں کافروں سے مراد یہود سے لی ہے۔ انہوں نے آپ سے کہنا شروع کیا تھا کہ انبیاء کی سرزمین تو شام ہے، یہ آپ حجاز میں کیسے پڑے ہوئے ہیں۔ وہیں چلے جائیے۔ اور بعض نے مراد قریش سے لی ہے کہ وہی مکہ معظمہ سے آپ کے اخراج کے درپے تھے۔ بہرحال وہ مخالفین معاندین میں سے خواہ مشرکین خواہ یہود، دیکھا تو یہ گیا، اور یہ کوئی بہت بڑی مدت کے بعد نہیں، چند ہی سال کے اندر، کہ سارے جزیرۃ العرب میں اس سرے سے اس سرے تک نہ کوئی مشرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
آیت نمبر 71 تا 77
ترجمہ : اس دن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس دن ہم ہر گروہ (امت) کو اس کے نبی کے ساتھ بلائیں گے، یوں کہا جائے گا اے فلاں نبی کی امت یا ان کو ان کے نامۂ عمل کے ساتھ بلایا جائیگا، یوں ندا دی جائے گی اے صاحب خیر اور اے صاحب شر اور وہ قیامت کا دن ہوگا، تو ان میں سے جس کو دائیں ہاتھ میں نامہ عمل دیا جائیگا تو یہ لوگ خوش نصیب اور دنیا میں صاحب بصیرت تھے تو وہ لوگ اپنے اعمال ناموں کو (خوشی خوشی) پڑھیں گے اور ان کے اعمال میں سے گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کمی نہ کی جائے گی اور جو اس دنیا میں حق (بینی) سے اندھا رہا ہوگا تو وہ آخرت میں بھی راہ نجات اور نامۂ عمل کے پڑھنے سے اندھا رہے گا اور…
Read the full tafseer →وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا
اور وہ لوگ اس سرزمین سے آپ کے قدم ہی اکھاڑنے لگے تھے تاکہ آپ کو یہاں سے نکال دیں۔
پھر اللہ نے مدینہ کو واپس جانے کا حکم دیا جبرئیل نے کہا اپنے رب سے کچھ مانگو ہر نبی کا (کوئی ایک) سوال قبول ہی کیا جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا مجھے مشورہ دیجئے میں کیا دعا کروں حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا کہئے قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّاجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطَانًا نَصِیْرًا اس آیت کا نزول شام سے مدینہ کو واپس آنے کے زمانے میں راستہ میں ہوا یہ روایت مرسل اور ضعیف ہے لیکن ابن…
Read the full tafseer →(76) اور نیز یہ یہودی اس سرزمین مدینہ منورہ سے آپ کے قدم ہی اکھاڑنے لگے تھے تاکہ آپ کو شام کی طرف نکال دیں۔
Read the full tafseer →وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ۔۔ :”اِسْتَفَزَّ“ کا معنی کسی کو گھبراہٹ میں ڈال کر پھسلا دینا ہے۔ ”اَلْاَرْضَ“ میں الف لام عہد کا ہے، مراد ارض مکہ ہے، یعنی جب قریش کی نبی ﷺ کو توحید سے روکنے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں تو انھوں نے آپ کو سخت تنگ اور پریشان کرنا شروع کردیا، تاکہ آپ گھبرا جائیں اور مکہ سے نکل جائیں۔
وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا : چناچہ ایسا ہی ہوا کہ بعد میں جب آپ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے تو ڈیڑھ سال کے بعد ان کے بڑے بڑے سردار بدر میں مارے گئے، آپ کی بددعا سے اہل مکہ قحط اور خوف کا شکار ہوگئے، حتیٰ کہ آٹھ (8) ہجری میں خود مکہ بھی فتح ہوگیا، جس سے ان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 76
اس آیت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ مدنی ہے، جیسا کہ سورت کے آغاز میں بیان ہوچکا ہے، حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ یہویوں نے حضور نبی مکرم ﷺ کے مدینہ طیبہ میں قیام فرماہونے کے ساتھ حسد کیا اور کہا : بیشک انبیاء (علیہم السلام) شام بھیجے گئے ہیں، پس اگر آپ نبی ہیں تو آپ بھی وہاں چلے وہاں جائیں، کیونکہ اگر آپ نے اس کی طرف خروج کیا تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ نبی ہیں تو آپ کے ساتھ ایمان لے آئیں گے، پس یہ بات آپ ﷺ کے دل میں راسخ ہوگئی کیونکہ آپ اب کے اسلام لانے کو پسند کرتے تھے، چناچہ آپ نے مدینہ طیبہ سے ایک مرحلہ (منزل) تک سفر کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
1:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کے کہا انبیاء (علیہم السلام) شام میں ٹھہرا کرتے تھے آپ مدینہ میں کیوں رہتے ہیں اور آپ ﷺ مدینہ منورہ سے روانگی کا ارادہ فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “ نازل فرمائیں۔
2:۔ ابن جریر نے حضرمی (رح) سے روایت کیا کہ ان کو یہ خبر پہنچی کہ بعض یہودیوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہا کہ انبیاء (علیہم السلام) سرزمین شام کی سرزمین ہے اور یہ (یعنی مدینہ) انبیاء کی سرزمین نہیں ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک “۔
فتنہ میں مبتلا کرنے کی کوشش سے متعلق ایک روایت :
3:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[وَان : اور بیشک ] [كَادُوْا : وہ لوگ قریب تھے کہ ] [لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ : وہ ضرور اکھاڑ دیں آپ ﷺ کو ] [مِنَ الْاَرْضِ : اس زمین پر سے (یعنی مکہ سے)] [لِيُخْرِجوكَ : تاکہ وہ لوگ نکال دیں آپ ﷺ کو ] [مِنْهَا : اس (زمین) سے ] [وَاِذًا : اور تب تو ] [لَّا يَلْبَثُوْنَ : وہ لوگ نہ ٹھہرتے ] [خِلٰفَكَ : آپ ﷺ کے پیچھے ] [اِلَّا : مگر ] [قَلِيْلًا : تھوڑا سا ]
Read the full tafseer →مشرکین چاہتے تھے کہ آپ ﷺ کو زبردستی مکہ مکرمہ سے نکال دیں
حضرت مجاہد اور قتادہ ؓ نے فرمایا کہ مشرکین نے آنحضرت سرور عالم ﷺ کو مکہ مکرمہ سے جلا وطن کرنے اور وہاں سے زبردستی نکالنے کا ارادہ کیا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا کرنے سے باز رکھا اور آپ باذن الٰہی خود ہی ہجرت کرکے مکہ مکرمہ کو چھوڑ کر مدینہ تشریف لے آئے مشرکین اپنے ارادوں میں ناکام ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قریب تھا کہ یہ لوگ اس سرزمین سے آپ کے قدموں کو اکھاڑ دیتے (لیکن وہ ایسا نہ کرسکے) اور اگر وہ ایسا کرلیتے اور آپ کو نکال کر خود رہنا چاہتے تو خود بھی وہاں نہ رہ پاتے اور وہاں ان کا ٹھہرنا بس ذرا سا ہی ہوتا، اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
ذکر عداوت کفار باسید الابرار، درامور دینیہ و دنیویہ ووعدہ عصمت و حفاظت
قال اللہ تعالیٰ : وان کادوا لیتنونک .... الیٰ .... ولا تجد لسنتنا تحویلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی تکذیب کا بیان تھا کہ وہ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اب ان آیتوں میں ان کی عداوت کا بیان ہے کہ وہ دین میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے آپ ﷺ کو اپنی خواہشوں پر مجبور کرنا چاہتے تھے کہ آپ ﷺ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں یا اس پر قدرے سکوت کریں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس سے محفوظ رکھا اور دنیا میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے اور آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے تھے مگر خیریت ہوئی کہ وہ نکالنے پر قادر نہ ہوئے اللہ نے آپ ﷺ کو وہاں سے ہجرت کرنے اور نکل جانے…
Read the full tafseer →68:۔ یہ امر ثالث ہے۔ معجزہ معراج ظاہر کردیا گیا مگر مشرکین مکہ اس کے باوجود مسئلہ توحید کو ماننے پر تیار نہیں ہوئے بلکہ اب آپ کو مکہ سے نکالنے کے منصوبے بنائیں گے۔ مگر آپ کے بعد وہ بھی زیادہ عرصہ مکہ میں نہیں ٹھہر سکیں گے کیونکہ ہماری سنت جاریہ یہی ہے کہ جب سرکش قوموں نے انبیاء (علیہم السلام) کو ستایا اور وطن سے نکالا تو خعد بھی چیں سے اپنے وطنوں میں نہ رہ سکے بلکہ جلد ہی ہلاک کردئیے گئے مکہ والوں سے بھی اب یہی سلوک کیا جائے گا۔ چناچہ ہجرت کے بعد دو سال بھی نہ گذرنے پائے تھے کہ جنگ بدر میں صنادید کفر اور اساطین شرک کو تہ تیغ کردیا گیا۔ ” ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت الخ “ (رکوع 12) ۔ اس کی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
ربط آیات :
پہلے اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا ، پھر انسان کی برتری اور عزت واحترام کو بیان کیا اس کے بعد محاسبے کا ذکر کیا کہ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو اپنے پیشواؤں سمیت بلائے گا اس دن بہت ہی خوفناک منظر ہوگا ، لوگوں کو اعمالنامے دیے جائیں گے جنہیں وہ پڑھیں گے اور اس سلسلے میں کسی کے ساتھ ذرہ بھر بھی زیادتی نہیں ہوگی ۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اس دنیا کی زندگی میں ہدایت کے راستے سے اندھا رہا وہ آخرت میں بھی ہدایت کے راستے سے اندھا رہے گا ، اور گم کردہ راہ بن کر بہت دور جا پڑے گا ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کے خلاف مشرکین کی عداوت کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ لوگ آپ کے خلاف طرح…
Read the full tafseer →وَاِنْ كَادُوْا لَيَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِيُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَاِذًا لَّا يَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِيْلًا 76
كَادَ
ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ
[ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو : وَما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
ترکیب : یوم ندعوا مفعول اونصب اذکر محذوف کا اے اذکر یوم الخ یوم ندعوانصب یا باضمارا ذکر یا ظرف ولایظلمون۔
تفسیر : انسانوں کا باہمی فرق مراتب بیان فرما کر آخرت کا فرق مراتب جو حقیقی تفصیل ہے بیان فرماتا ہے یوم ندعوا کل اناس بامامہم یعنی یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہر ایک شخص اپنے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا۔ امام لغت میں اس کو کہتے ہیں کہ جس کی پیروی اقتدار کی جاتی ہے ہدایت میں خواہ گمراہی میں۔ پس نبی امت کا امام ہے اور خلیفہ رعیت کا اور قرآن مسلمانوں کا امام ہے اور نمازیوں کا امام نماز پڑھانے والا ہے اور اسی طرح انسان کا دلی منشاء جو اس کو نیک یا بدکام پر تحریک کرتا ہے وہ بھی اس کا امام ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
وَلَوْلَآ اَنْ ثَـبَّـتْـنٰـکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْھِمْ شَیْئًا قَلِیْلاً ۔ اِذًا لَّاَ ذَقْـنٰـکَ ضِعْفَ الْحَیٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُلَکَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا۔ وَاِنْ کَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَکَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْکَ مِنْھَا وَاِذًا لاَّ یَلْبَثُوْنَ خِلٰـفَکَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 74۔ 75۔ 76)
(اگر ہم نے آپ ﷺ کو جمائے نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ آپ ﷺ ان کی طرف کچھ نہ کچھ مائل ہوجاتے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ ﷺ کو زندگی اور موت دونوں کا دگنا عذاب چکھاتے، پھر آپ ﷺ ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پاتے۔ اور بیشک انھوں نے ارادہ کرلیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ کے خلاف کفار کا نظریاتی سازشوں اور شرارتوں کے بعد معاشرتی بائیکاٹ اور جلا وطن کردینے کی سازش کرنا۔
اہل مکہ اور ان کے گردونواح کے کفار نے آپ کو اعتقادی اور نظریاتی طور پر پسپا کرنے اور پھسلانے کی کوشش کی۔ جب اس میں سراسر ناکام ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ ، آپ کے خاندان اور صحابہ کرام ؓ کا سوشل بائیکاٹ کیا۔ جس کی بناء پر تین سال تک آپ اور آپ کے ساتھی شعب ابی طالب میں محصور رہے۔ بائیکاٹ اس قدر سخت تھا کہ بعض اوقات بھوک کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے بچوں کے رونے کی آوازیں مکہ شہر میں سنائی دیتی تھیں لیکن کفار آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے پایہ استقلال میں لغزش پیدا نہ کرسکے۔ اس کے بعد…
Read the full tafseer →مکہ سے قدم اکھاڑنے کی کوشش :
76: وَاِنْ کَادُوْا لَیَسْتَفِزُّ وْنَکَ مِنَ الْاَرْضِ (اور قریب تھا کہ وہ لوگ اس سرزمین سے آپ کے قدم اکھاڑ دیتے) کا دوا کی ضمیر اہل مکہ کی طرف لوٹ رہی ہے یَسْتَفِزُّوْنَ کا معنی عداوت کے ذریعے آپ کو تنگ کرنا اور اپنے فریب سے پریشان کرنا اور ارض سے مراد سرزمین مکہ ہے۔ لِیُخْرِجُوْکَ مِنْھَا وَاِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَکَ (تاکہ آپ کو وہاں سے نکال باہر کریں ایسی صورت میں آپ کے پیچھے تھوڑی مدت سے زیادہ نہ ٹھہر سکیں گے) لَایَلْبَثُوْنَ کا معنی باقی نہ رہنا اور خلاف کا معنی بعد ہے یعنی آپ کے نکال دینے کے بعد قراءت : ابوبکر کے علاوہ کوفی قراء نے خلافکؔ پڑھا اور…
Read the full tafseer →76۔” وان کادوا لیستفزونک من الارض لیخر جوک منھا “
وان کا دو الیستفزونک کا تفسیر میں ائمہ کے مختلف اقوال
اس آیت کی تفسیر میں علماء کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض نے کہا یہ آیت مدنی ہے۔ کلبی کا قول ہے کہ جب آپ ﷺ مدینہ پہنچے تو وہاں کے یہود نے آپ ﷺ کی موجودگی کو ناپسند کیا ، ان سے حسد کرنے کی وجہ سے ۔ وہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ اے ابو القاسم ! آپ جانتے ہیں کہ یہ سر زمین انبیاء کی نہیں ہے بلکہ انبیاء (علیہم السلام) کی سر زمین شام میں ہے اور وہ ارض مقدسہ ہے اور وہی زمین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی رہنے کی جگہ ہے ۔ اگر آپ ان کی طرح نبی ہیں تو پھر شام چلے جائیے۔ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
76۔ 77:۔ بیہقی کی دلائل النبوت میں اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں جو شان نزول اس آیت کی سعید ؓ بن جبیر کی روایت سے بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہجرت اور مدینہ منورہ میں آجانے کے بعد یہود نے آپ کو ملک شام میں رہنے کی ترغیب دی اور آپ نے اس ترغیب پر تبوک کے سفر کا ارادہ کیا اس پر مقام تبوک میں یہ آیت نازل ہوئی ہے 1 ؎۔ لیکن ابو عیسیٰ ترمذی نے آیت وقل رب ادخلنی کی جو شان نزول بیان کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے 2 ؎، اور مشرکین مکہ نے ہجرت سے پہلے جو آپ کو تکلیفیں دی تھیں اس پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے۔ حافظ ابو جعفر ابن جریر اور حافظ ابن کثیر نے اسی بات کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
(آیت نمبر (73:
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد ﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (و ان کا دو الیفتنو نک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیرہ ) ” یقیناً قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا “ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کرچکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے انہوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ ‘ اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
قول باری ہے (ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا) حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ جو شخص اس دنیا کے اندر حق کے اعتقاد سے اندھا رہا جو اس دنیا کا متقضی ہے اس لئے کہ یہ دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ بچشم خود اس کے انتظام، اس کی گردش اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں کی لگاتار آمد و رفت کا مشاہدہ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود حق سے بےبہرہ ہے تو ایسا شخص آخرت میں بھی جو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہے اندھا ہی رہے گا اور راہ ہدایت پانے میں زیادہ ناکام ہوگا۔
Read the full tafseer →138۔ اہل کفر وباطل کی عداوت و دشمنی کی انتہا :۔
سو اس سے کفار و مشرکین کی حق اور اہل حق سے عداوت و دشمنی کی انتہاواضح ہوجاتی ہے کہ ایسے منحوس اور بدبخت لوگ اہل حق یہاں تک کہ حضرت امام الانبیاء کا وجود بھی اپنے درمیان برداشت نہیں کرتے۔ سو کفار مکہ نے پیغمبر کو اپنی سرزمین سے نکالنے کی پوری کوشش کی۔ یعنی مکہ مکرمہ سے جو کہ آپ کا مولد ومسکن تھا۔ اور جو آپ ﷺ کو سب سے زیادہ پیارا و عزیز تھا۔ لیکن ان ظالموں کو آپ ﷺ کا اس میں رہنا برداشت اور گوارہ نہیں تھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے آپ ﷺ کو وہاں سے نکالنے کی ٹھان لی۔ لیکن یہ ایسا کر نہیں سکے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کو آپ کے رب نے خود وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
نبی کے لیے کفار کے فتنہ سے بچنے کا
تشریح : یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ نے آپ کو ہر قسم کا لالچ دے کر یہ کہا کہ قرآن میں کچھ آیات بدل دو جو ہمارے مفاد میں، یعنی بت پرستی وغیرہ کے حق میں ہوں تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے جو کہو گے دیں گے، یعنی مال و دولت، بیوی اور عزت و احترام۔ آپ ﷺ دنیاوی راحتوں کو تو خیر کسی گنتی میں ہی نہیں لاتے تھے البتہ یہ خیال آیا ہو کہ اس وقت اگر ان کو تھوڑی سی رعایت دے دی جائے تو شاید بعد میں حق کی طرف آجائیں تو اللہ تعالیٰ نے سختی سے حکم دیا کہ ہرگز کسی کافر کی رعایت دوستی یا مشورہ کا خیال مت کرنا۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ کبھی بھی کسی برے کافر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اب اگر یہ برائی کرتا ہے یا شیطان کی پیروی کرتا ہے تو آخر ایک روز ہر انسان کو اس کے نامہ اعمال سمیت بلایا جائے گا اور میدان حشر میں اکٹھا کیا جائے گا ۔
(امام)
کہ امام سے مراد اعمالنامہ ہے کہ حدیث شریف میں یہ معنی بھی وارد ہے اور امام بمعنی پیشوا ومقتدا بھی مراد ہے کہ جیسے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے والے یا ان کے نائبین مشائخ وعلماء کے پیچھے چلنے والے اور دوسرے شیطان کے پیروکار تو گویا دنیا میں جو عمل اور کردار ہے یا جس کی پیروی کرتا ہے ، اسی کے گروہ یا طبقے میں اٹھایا جائے گا کہ امام کا معنی مطلق پیشوا ہے نیک ہو بد مومن ہو یا کافر کہ امامت نبوت کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →ف 8 چناچہ بعد میں جب آنحضرت ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے تو ڈیڑھ سال کے بعد ان کے بڑے بڑے سردار بدر میں مارے گئے اور اس کے پانچ چھ سال بعد خود مکہ بھی فتح ہوگیا جس سے ان کی تمام شان و شوکت اور حکومت خاک میں مل گئی۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(17:76) ان کادوا میں ان۔ ان سے مخففہ ہے۔ تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے (ملاحظہ ہو 17:73) ان کادوا لیستفزونک۔ اور تحقیق یہ (لوگ) تمہیں پریشان کر کے، ڈرا دھمکا کر یا گھبراہٹ اور خوف وہراس پیدا کر کے سرزمین (مکہ) سے تمہارے قدم اکھاڑنے ہی لگے تھے (نیز دیکھو 17:64) لیخرجوک منہا تاکہ آپ کو اس سے نکال دیں۔
لا یلبثون۔ مضارع نفی۔ جمع مذکر غائب لبث یلبث (باب سمع) سے لبث مصدر وہ نہیں رہیں گے۔ وہ نہیں ٹھہریں گے لابثین۔ ٹھہرنے والے۔ خلفک۔ تیرے پیچھے۔ تیرے بعد۔ خلف مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 77
اوتی دیا گیا۔ یمین داھنا ہاتھ۔ قتیل دھاگہ، ذرہ برابر، اعمی اندھا، نابینا۔ ثبتنا ہم نے ثابت قدم رکھا۔ ضعف دوگنا۔ دوہرا۔ سنۃ طریقہ، قانون الٰہی۔ تحویل تحویل کا معنی صرف تبدیلی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 71 تا 77
اصل میں جس شخص کو ایمان قبول کر کے راہ حق پر چلنا ہے اس کو نہ تو معجزات، کرامات اور ادھر ادھر کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ معمولی باتوں سے اس کے قدم ڈگمگاتے ہیں بلکہ اس نے جس سچائی کو قبول کرلیا ہے اس پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہے لیکن جس کو صرف باتیں بنانا ہیں اور اس کو آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی اس کو سوائے اعتراضات کرنے کے دوسرا کام نہیں ہوتا۔ چناچہ کفار…
Read the full tafseer →اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ یہ چاہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو مکہ کی زمین سے فریب دے کر نکال دیں اگر وہ ایسا کرتے تو ان کو کیا فائدہ تھا۔ ان کا قیام کیا ہمیشہ کے لئے ہے وہ بھی تمہارے بعد ہلاک ہی ہوجائیں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ ہجرت کے بعد تھوڑے دنوں میں بدر کی لڑائی پیش آئی اور کفار ہلاک ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
[54] ایسا شخص جمال باری تعالیٰ کی دید سے اور جنت کے نظاروں سے محروم رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
پیغمبرانہ ذمہ داریاں :
(ف 1) آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے ، بعض کے نزدیک یہ آیت مدنی ہے ، اور بعض کے مکی اس اختلاف کی بنا پر واقعات بھی مختلف ہیں ، یہاں ثقیف والوں کا قصہ بیان کیا جاتا ہے ، کہ وہ چند رعایتوں اور خصوصیتوں کے طالب تھے ، جو اسلامی مساوات کے منافی تھیں ، اور مکہ میں حجر اسود کو قصہ یعنی مکہ والے حضور ﷺ کو مجبور کرتے تھے کہ جس طرح آپ اس پتھر کو بوسہ دیتے ہیں ، اسی طرح آپ ہمارے بتوں کا بھی احترام کریں ، تو کیا مضائقہ ہے ؟ اس آیت کا مفہوم بہرحال واضح ہے ، مخالفین چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کو میٹھی میٹھی باتیں کر کے بہکا دیا جائے اور اسلام کی راہ اعتدال سے منحرف کردیا جائے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →-76 اور وہ کافر تو آپ کے قدم ہی اس سر زمین سے اکیھڑنے اور پھسلانے لگیت ہے تاکہآپکو یہاں سے نکال دیں اور اگر ایسا ہوجاتا تو آپ کیت شریف لے جانے کے بعد ان کو بھی یہاں رہنا نصیب نہیں ہوتا مگر بہت تھوڑا۔
اس آیت میں بھی مفسرین کے مشہور دو قول ہیں اگر مکہ سے اخراج کا معاملہ ہے تو ظاہر ہے کہ یہ پیشین گوئی پوری ہوگئی اور تھوڑے ہی عرصے کے بعد مکہ فتح ہو اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے غلبہ دیا اور تمام کفاروں کو وہاں سے اجڑنا پڑا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدینہ منورہ میں سازش ہوئی ہو جیسا کہ بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہود نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ نبی ہیں آپ کو شام میں جا کر بسنا چاہئے کیونکہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی مکہ یا مدینہ سے۔
Read the full tafseer →اگر آپ ﷺ کو وہ اس زمین سے نکال دیں گے تو وہ آپ ﷺ کے بعد دیر تک نہیں ٹھہر سکتے :
94: سنت الٰہی کا اعلان کیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنے کی انہوں نے ہر ممکن کوش کی لیکن جب تک اللہ نے چاہا وہ آپ ﷺ کو نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے اور جب آپ ﷺ کو یہاں سے نکل جانے کا حکم ہم صادر کریں گے تو وہ وہی وقت ہوگا کہ ان کے یہاں سے نکل جانے کا وقت بھی قریب آچکا ہوگا کیونکہ ہماری سنت یہ ہے کہ جب ہم کسی رسول کو اس کے علاقہ سے کل جانے کا حکم دیتے ہیں اور وہ ہمارے حکم سے ہجرت کرجاتا ہے تو اس کے بعد اس کی قوم بھی زیادہ دیر تک وہاں نہیں رہ سکتی پھر اب بھی یہ کچھ ہوگا جو ہوتا چلا آیا ہے۔ آپ ﷺ…
Read the full tafseer →Istifzaz in: وَإِن كَادُوا لَيَسْتَفِزُّونَكَ (And they were likely to harass you - 76) literally means to cut off, or tear away from, or to provoke into moving from a place. At this place, the sense is to expel the Holy Prophet ﷺ from his station at Makkah or Madinah. The verse means: Had they done that, their punishment would have been that they themselves would have not been able to live there much longer after you. This is the description of another event. There are two reports about it. One event relates to Madinah al-Tayyibah. The Jews of the city came to the Holy Prophet ﷺ . They told…
Read the full tafseer →89. This was a clear prophecy which was made at the time when it appeared to be no more than a mere threat, but it was fulfilled literally in a decade or so. A year after the revelation of this Surah, the disbelievers of Makkah compelled the Prophet (peace be upon him) to leave his home. Then within eight years he entered Makkah as a conqueror, and within two years after this, the entire Arabia was totally freed from mushriks. Then whosoever stayed in that country, he remained there as a Muslim and not as a mushrik.
Read the full tafseer →