Explained with ayahs 73–75
مکار و فجار کی چلاکیوں سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول کو بچاتا رہا آپ کو معصوم اور ثابت قدم ہی رکھا خود ہی آپ کا ولی و ناصر رہا اپنی ہی حفاظت اور صیانت میں ہمیشہ آپ کو رکھا آپ کی تائید اور نصرت برابر کرتا رہا آپ کے دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کردیا آپ کے مخالفین کے بلند بانگ ارادوں کو پست کردیا مشرق سے مغرب تک آپ کا کلمہ پھیلا دیا اسی کا بیان ان دونوں آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر قیامت تک بیشمار درود وسلام بھیجتا رہے۔ آمین۔
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 88
اللہ تعالیٰ اس ساری روداد پر تبصرہ کرتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرماتا ہے۔ ایک یہ کہ اگر تم حق کو حق جان لینے کے بعد باطل سے کوئی سمجھوتہ کرلیتے تو یہ بگڑی ہوئی قوم تو ضرور تم سے خوش ہوجاتی، مگر خدا کا غضب تم پر بھڑک اٹھتا اور تمہیں دنیا و آخرت، دونوں میں دہری سزا دی جاتی۔ دوسرے یہ کہ انسان خواہ وہ پیغمبر ہی کیوں نہ ہو، خود اپنے بل بوتے پر باطل کے ان طوفانوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا جب تک کہ اللہ کی مدد اور اس کی توفیق شامل حال نہ ہو۔ یہ سراسر اللہ کا بخشا ہوا صبر ثبات تھا جس کی بدولت نبی ﷺ حق و صداقت کے مؤقف پر پہاڑ کی طرح جمے رہے اور کوئی سیلاب بلا آپ کو بال برابر بھی…
Read the full tafseer →(آیت) اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَات یعنی اگر بفرض محال آپ ان کی غلط روش کی طرف میلان کے قریب ہوجاتے تو آپ کا عذاب دنیا میں بھی دوہرا ہوتا اور موت کے بعد قبر یا آخرت میں بھی دوہرا ہوتا کیونکہ مقربان بارگاہ کی معمولی سی غلطی بھی بہت بڑی سمجھی جاتی ہے اور یہ مضمون تقریبا وہی ہے جو ازواج مطہرات کے متعلق قرآن کریم میں آیا ہے (آیت) يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۭ یعنی اے نبی کی عورتوں اگر تم میں سے کسی نے کھلی بےحیائی کا کام کیا تو اس کو دوہرا عذاب دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
آگے کا مضمون۔ آیات 73 تا 87: آنحضرت ﷺ کو موقف حق پر جمے رہنے کی تاکید : آگے نبی ﷺ کو یہ تاکید ہے کہ مخالفین کی تمام مخالفتوں کے علی الرغم اپنے موقف حق پر جمے رہو۔ یہ کتنا ہی زور لگائیں کہ تم قرآن میں ان کے حسب منشا کچھ ترمیم کردو تو وہ تمہارے دوست اور ساتھی بن جائیں گے۔ لیکن تم کو ایک شوشہ کے برابر بھی اس میں ترمیم و تغییر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ تمہاری مخالفت میں یہ زیادہ سے زیادہ جو کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ تم کو یہ اتنا تنگ کریں کہ تم یہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوجاؤ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر تمہارے بعد ان کو بھی اس شہر میں زیادہ ٹکنا نصیب نہ ہوگا۔ رسولوں کی ہجرت کے بعد ان کی قوموں کا جو حشر ہوا ہے…
Read the full tafseer →75۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ سزا قدرو منزلت کے مطابق ہوتی ہے
Read the full tafseer →41: آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے گناہوں سے معصوم بنایا تھا، جس کی بنا پر آپ ہر موقع پر ثابت قدم رہے، اگرچہ آپ سے کافروں کی بات ماننے کا دور دور احتمال نہیں تھا، لیکن آپ ﷺ کے لئے بھی فرضی نافرمانی کی صورت میں سزا کا تذکرہ کرکے اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح فرمادی کہ کسی بھی شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقرب ہونے کا اصل مدار اس کے اعمال پر ہے، اور کوئی شخص کتنا ہی مقرب ہو اگر گناہ کا ارتکاب کرے گا تو سزا کا مستحق ہوگا ؛ بلکہ مقرب ہونے کی وجہ سے اسے دگنی سزا دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
درس نمبر 921 ایک نظر میں۔
سورة اسرا کا یہ آخری سبق بھی اس سورت کے بنیادی محور کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات اور ان کی قوم کا ان کے بارے میں موقف۔ قرآن اور اس کی خصوصیات۔ یہ اس سورت کا بھی اور اس سبق کا بھی اہم موضوع ہے۔
اس سبق کا آغاز ان مساعی پر تبصرے سے ہوتا جو مشرکین نبی ﷺ کو آپ ﷺ کے عقائد و اعمال میں بعض سے ہٹانے کے سلسلے میں کر رہے تھے۔ پھر یہ کہ وہ آپ کو مکہ سے نکالنے کے سلسلے میں جو منصوبے بنا رہے تھے اور آپ ﷺ کو کمزور کرکے اور آپ ﷺ کے حامیوں کو کم کرکے وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے ان ارداوں میں ناکام کردیا۔ اور اللہ نے آپ ﷺ کو ان کے فتنوں…
Read the full tafseer →3 اس سے بھی حضور ﷺ کے فضل و شرف کا نہایت لطیف پیرایہ میں اظہار مقصود ہے۔ مقربین کے لیے جیسے انعامات بہت بڑے ہیں " نزدیکاں را بیش بود حیرانی " کے قاعدہ سے ان کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی یا کوتاہی پر عتاب بھی کہیں زیادہ ہوتا ہے جیسے ازواج مطہرات کو فرمایا (يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ) 33 ۔ الاحزاب :30) تو بتلا دیا کہ آپ کا مرتبہ معمولی نہیں۔ اگر بفرض محال ادنیٰ سے ادنیٰ غلطی ہو تو دنیا میں اور برزخ و آخرت میں دوگنا مزہ چکھنا پڑے۔ مومن کو چاہیے کہ ان آیات کو تلاوت کرتے وقت دو زانو بیٹھ کر انتہائی خوف و خشیت کے ساتھ حق…
Read the full tafseer →آیت 75 اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ
اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ
وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی
”رب تو آخر رب ہے جتنا بھی تنزل فرما لے اور بندہ بہر حال بندہ ہی ہے جس قدر بھی ترقی پالے !“
ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا
آیت کا مضمون بہت نازک ہے۔ بہر حال میں نے الفاظ کے مطابق ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن موقع محل اور سیاق وسباق کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اصل مفہوم کو دقت نظری سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ یہ خطاب نبی اکرم سے ہے مگر سختی کا رخ ان لوگوں کی طرف ہے جنہوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے آپ کے مقابلے میں ایسے حالات پیدا کر رکھے تھے۔ ان الفاظ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
93 کفار مکہ کی آپ سے سمجھوتہ کی کوششیں :۔ کفار مکہ نے جب دیکھا کہ ان کی مقدور بھر کوششوں کے باوجود اسلام پھیلتا ہی جارہا ہے۔ تو انہوں نے کئی بار آپ سے باہمی سمجھوتہ کی کوششیں کیں۔ ایک دفعہ یہ پیش کش کی اگر آپ ہمارے بتوں سے متعلقہ آیات پڑھنا چھوڑ دیں تو ہم آپ کے مطیع بننے کو تیار ہیں۔ لیکن آپ ان کی یہ بات کیسے مان سکتے تھے ؟ اور ایک دفعہ یہ پیشکش کی کہ اگر آپ حکومت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا حاکم بنانے پر تیار ہیں۔ اگر مال و دولت چاہتے ہیں تو تمہارے قدموں میں مال و دولت کے ڈھیر لگا دیتے ہیں اور اگر آپ کو کسی عورت سے محبت ہے تو ہم اس سے آپ کی شادی کردیں گے بشرطیکہ آپ جو دعوت پیش کر رہے ہیں اس…
Read the full tafseer →108۔ (مگر آپ چونکہ معصوم ہیں اور ثابت قدم رہے اس لیے قرب میلان بھی نہیں ہوا۔ اور ان وعیدوں سے بھی بالکل بچ گئے) فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ استنباط کیا ہے کہ علماء و خواص پر جاہل عوام سے سخت تر گرفت ہوگی، مباح ان کی شان سے بعید اور مکروہ ان کے حق میں سزا واروعید ہوجاتا ہے۔ (آیت) ” اذا یعنی اگر اس میلان ورجحان کا ترتب وتحقق ہوجاتا جو کہ نہیں ہوا۔ وہ صورت حال اگر ہوجاتی جس کی ابھی نفی کی جاچکی ہے۔ اردو مصرعہ ” جن کے رتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے “ اور فارسی مقولہ ” نزدیکاں رابیش بود حیرانی “ ان ہی مقامات کے ترجمان ہیں۔ رسول کا مرتبہ جتنا اونچا ہوتا ہے، اسی نسبت سے گرفت بھی سخت تر رکھی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
آیت نمبر 71 تا 77
ترجمہ : اس دن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس دن ہم ہر گروہ (امت) کو اس کے نبی کے ساتھ بلائیں گے، یوں کہا جائے گا اے فلاں نبی کی امت یا ان کو ان کے نامۂ عمل کے ساتھ بلایا جائیگا، یوں ندا دی جائے گی اے صاحب خیر اور اے صاحب شر اور وہ قیامت کا دن ہوگا، تو ان میں سے جس کو دائیں ہاتھ میں نامہ عمل دیا جائیگا تو یہ لوگ خوش نصیب اور دنیا میں صاحب بصیرت تھے تو وہ لوگ اپنے اعمال ناموں کو (خوشی خوشی) پڑھیں گے اور ان کے اعمال میں سے گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کمی نہ کی جائے گی اور جو اس دنیا میں حق (بینی) سے اندھا رہا ہوگا تو وہ آخرت میں بھی راہ نجات اور نامۂ عمل کے پڑھنے سے اندھا رہے گا اور…
Read the full tafseer →ڎاِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا
اور اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ کو حالت حیات میں اور بعد موت کے دہرا عذاب چکھاتے پھر آپ کو ہمارے مقابلہ میں اپنے لئے کوئی مددگار بھی نہ ملتا۔
یعنی اگر آپ ﷺ ان کی طرف مائل ہونے کے قریب بھی پہنچ جاتے تو دنیا اور آخرت میں ہم دوسروں سے دوگنے عذاب کا مزہ آپ کو چکھاتے۔ مقصد یہ کہ اس فعل کے مجرموں کو جتنا عذاب ہوگا اس سے دوگنا عذاب آپ پر ہوتا بڑے مرتبے والے کی تھوڑی فروگزاشت بھی بڑی ہوتی ہے۔ عذاب حیات سے مراد ہے عذاب دنیوی اور عذاب ممات سے مراد ہے مرنے کے بعد کا عذاب۔ بعض علماء کے نزدیک ضعف الحیات سے عذاب…
Read the full tafseer →(75) اور اگر آپ کو ان کے مطالبہ کے موافق ان کی طرف میلان اور رجحان ہوجاتا تو ہم آپ کو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دوہرا عذاب چکھاتے، پھر آپ کوئی مددگار بھی نہ پاتے۔
Read the full tafseer →ڎاِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ۔۔ : اس لیے کہ کسی کا مرتبہ جتنا بلند ہوتا ہے گناہ کرنے پر اسے اتنی ہی سخت سزا ملتی ہے، چناچہ آپ ﷺ کی بیویوں کے متعلق فرمایا : (يٰنِسَاۗءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۭ) [ الأحزاب : 30 ] ”اے نبی کی بیویو ! تم میں سے جو کھلی برائی کا ارتکاب کرے گی اسے دگنا عذاب دیا جائے گا۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
آیت نمبر 74 تا 75
قولہ تعالیٰ : ولولا ان ثبتنٰک یعنی اگر ہم نے آپ کو حق پر ثابت قدم نہ رکھا ہوتا اور ہم نے آپ کو ان کی موافقت سے نہ بچایا ہوتا۔ لقد کدت ترکن الیھم تو آپ اس کی طرف مائل ہوجاتے۔ شیئا قلیلاً یعنی تھوڑا اور کچھ نہ کچھ۔ حضرت قتادہ نے کہا ہے : جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے یہ عرض کی : اللھم لاتکلنی إلی نفسی طرفۃ عین (اے اللہ ! تو مجھے آنکھ جھپکنے کی دیر بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔ ) اور کہا گیا ہے : خطاب کا ظاہر حضور نبی کریم ﷺ کے لئے ہے اور اس کا باطن ثقیف کے بارے خبر دے رہا ہے۔ اور اس کا معنی ہے : وان کا دوالیرکنونک، یعنی قریب تھا کہ وہ آپ کے بارے یہ خبر دیتے کہ آپ ان کے قول کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
مشرکین کی آپ ﷺ کو فتنہ میں مبتلا کرنے کی کوشش :
1:۔ ابن اسحاق ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ امیہ بن خلف ابوجہل بن ہشام اور قریش میں سے کچھ اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ آئے اور ہمارے معبودوں کے سامنے جھکیں اور ہم تیرے ساتھ دین میں داخل ہوجائیں گے رسول اللہ ﷺ پر اپنی قوم کی جدائی بہت بھاری گذری اور آپ ان کے اسلام لانے کو پسند فرماتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وان کادوا لیفتنونک “ سے لے کر ” نفیرا “ تک۔
2:۔ ابن مردویہ نے کلبی کے طریق سے باذان سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔
3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن…
Read the full tafseer →[اِذًا : تب تو ] [لَّاَذَقْنٰكَ : ہم ضرور چکھاتے آپ ﷺ کو ] [ضِعْفَ الْحَيٰوةِ : زندگی (کے عذاب) کا دوگنا ] [وَضِعْفَ الْمَمَاتِ : اور موت (کے عذاب) کا دوگنا ] [ثُمَّ : پھر ] [لَا تَجِدُ : آپ ﷺ نہ پاتے ] [لَكَ : اپنے لئے ] [عَلَيْنَا : ہمارے خلاف ] [نَصِيْرًا : کوئی مدد کرنے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
مشرکین کی خواہش تھی کہ آپ کو اپنی طرف کرلیں اور اپنا دوست بنالیں
ان آیات کا نزول بیان کرتے ہوئے مفسرین نے کئی روایات لکھی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی قابل اعتماد نہیں۔ صحت کے قریب جو روایت ہے جسے صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن ابی حاتم جبیر بن نفیر سے نقل کیا ہے یہی ہے کہ قریش مکہ نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ اگر ہماری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں تو آپ ان لوگوں کو ہٹا دیں جو گرے پڑے لوگ آپ کے تابع ہوگئے ہیں۔ تاکہ ہم آپ کے اصحاب میں شامل ہوجائیں۔ اتنی بات آیت کریمہ (وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ ) کے سبب نزول سے موید ہوتی ہے جس کا سورة انعام میں ذکر گزر چکا ہے اس کے بعد صاحب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
ذکر عداوت کفار باسید الابرار، درامور دینیہ و دنیویہ ووعدہ عصمت و حفاظت
قال اللہ تعالیٰ : وان کادوا لیتنونک .... الیٰ .... ولا تجد لسنتنا تحویلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی تکذیب کا بیان تھا کہ وہ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اب ان آیتوں میں ان کی عداوت کا بیان ہے کہ وہ دین میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے آپ ﷺ کو اپنی خواہشوں پر مجبور کرنا چاہتے تھے کہ آپ ﷺ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں یا اس پر قدرے سکوت کریں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس سے محفوظ رکھا اور دنیا میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے اور آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے تھے مگر خیریت ہوئی کہ وہ نکالنے پر قادر نہ ہوئے اللہ نے آپ ﷺ کو وہاں سے ہجرت کرنے اور نکل جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
67:۔ اگر ہم آپ کو ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ آپ ذرا سا ان کی طرف جھک جاتے لیکن اگر بفرض محال آپ ذرا بھی ان کی طرف جھک جاتے تو ہم دنیا و آخرت میں آپ کو عذاب کا مزہ چکھاتے اور کوئی آپ کی مدد نہ کرسکتا۔ یہ امر ثانی ہے اور آنحضرت ﷺ سے بطور زجر خطاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
ربط آیات :
پہلے اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا ، پھر انسان کی برتری اور عزت واحترام کو بیان کیا اس کے بعد محاسبے کا ذکر کیا کہ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو اپنے پیشواؤں سمیت بلائے گا اس دن بہت ہی خوفناک منظر ہوگا ، لوگوں کو اعمالنامے دیے جائیں گے جنہیں وہ پڑھیں گے اور اس سلسلے میں کسی کے ساتھ ذرہ بھر بھی زیادتی نہیں ہوگی ۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اس دنیا کی زندگی میں ہدایت کے راستے سے اندھا رہا وہ آخرت میں بھی ہدایت کے راستے سے اندھا رہے گا ، اور گم کردہ راہ بن کر بہت دور جا پڑے گا ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کے خلاف مشرکین کی عداوت کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ لوگ آپ کے خلاف طرح…
Read the full tafseer →اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَيٰوةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيْرًا 75
ذوق
الذّوق : وجود الطعم بالفم، وأصله فيما يقلّ تناوله دون ما يكثر، فإنّ ما يكثر منه يقال له :
الأكل، واختیر في القرآن لفظ الذّوق في العذاب، لأنّ ذلك۔ وإن کان في التّعارف للقلیل۔ فهو مستصلح للکثير، فخصّه بالذّكر ليعمّ الأمرین، وکثر استعماله في العذاب، نحو : لِيَذُوقُوا الْعَذابَ [ النساء/ 56]
( ذ و ق ) الذاق ( ن )
کے معنی سیکھنے کے ہیں ۔ اصل میں ذوق کے معنی تھوڑی چیز کھانے کے ہیں ۔ کیونکہ کسی چیز کو مقدار میں کھانے پر اکل کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن نے عذاب کے متعلق ذوق کا لفظ اختیار کیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
ترکیب : یوم ندعوا مفعول اونصب اذکر محذوف کا اے اذکر یوم الخ یوم ندعوانصب یا باضمارا ذکر یا ظرف ولایظلمون۔
تفسیر : انسانوں کا باہمی فرق مراتب بیان فرما کر آخرت کا فرق مراتب جو حقیقی تفصیل ہے بیان فرماتا ہے یوم ندعوا کل اناس بامامہم یعنی یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہر ایک شخص اپنے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا۔ امام لغت میں اس کو کہتے ہیں کہ جس کی پیروی اقتدار کی جاتی ہے ہدایت میں خواہ گمراہی میں۔ پس نبی امت کا امام ہے اور خلیفہ رعیت کا اور قرآن مسلمانوں کا امام ہے اور نمازیوں کا امام نماز پڑھانے والا ہے اور اسی طرح انسان کا دلی منشاء جو اس کو نیک یا بدکام پر تحریک کرتا ہے وہ بھی اس کا امام ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
وَلَوْلَآ اَنْ ثَـبَّـتْـنٰـکَ لَقَدْ کِدْتَّ تَرْکَنُ اِلَیْھِمْ شَیْئًا قَلِیْلاً ۔ اِذًا لَّاَ ذَقْـنٰـکَ ضِعْفَ الْحَیٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُلَکَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا۔ وَاِنْ کَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَکَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْکَ مِنْھَا وَاِذًا لاَّ یَلْبَثُوْنَ خِلٰـفَکَ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 74۔ 75۔ 76)
(اگر ہم نے آپ ﷺ کو جمائے نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ آپ ﷺ ان کی طرف کچھ نہ کچھ مائل ہوجاتے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ ﷺ کو زندگی اور موت دونوں کا دگنا عذاب چکھاتے، پھر آپ ﷺ ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار نہ پاتے۔ اور بیشک انھوں نے ارادہ کرلیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–75
فہم القرآن
ربط کلام : ہدایت سے اندھے لوگ صرف خود گمراہ اور اندھے نہیں ہوتے۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ اور اندھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گمراہ لوگ انبیاء (علیہ السلام) کو ورغلانے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ نبی معظم ﷺ کے مخالفوں کی بھی یہی کوشش تھی کی کسی طرح آپ کو بہکا دیں۔
آپ ﷺ کے مخالفوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طریقہ سے آپ کو بہکانے میں کامیاب ہوجائیں۔ ان کی سازشوں اور کوششوں کے پیش نظر آپ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ استعمال فرمائے۔ ان آیات کا ترجمہ بریلوی مکتبہ فکرکے ایک عالم نے اپنی تفسیر میں یوں کیا ہے۔ اے پیغمبر ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثابت قدم رکھا۔ اگر اس کی…
Read the full tafseer →75: اِذًا لَّاَ ذَقْنٰکَ ضِعْفَ الْحَیٰوۃِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ( اور اگر ایسا ہوتا تو ہم آپ کو حالت حیات میں بھی اور موت کے بعد
دگنا عذاب چکھاتے) ۔ اِذًایہاں لَوْکے معنی میں ہے یعنی اگر آپ ان کی طرف ادنیٰ سے جھکائو کے بھی قریب ہوجاتے اِذًا لَّاَذَ قْنٰکَ سے مراد عذاب قبر اور عذاب آخرت ہے کہ وہ دگنا کر کے دیئے جاتے اس لئے کہ آپ کے مرتبہ اور نبوت کے شرف کیوجہ سے گناہ بہت بڑا ہوتا یہ اسی طرح ہے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا : ینساء النبی من یات مِنْکن بفاحشۃ ] الاحزاب : 30[ اصل کلام اس طرح ہے۔ اِذًا لَّاَذَقْنٰکَ عَذَابَ الْحَیَاۃِ وَعَذَابَ الْمَمَاتِ کہ اس وقت ہم آپ کی زندگی میں اور موت کے بعد…
Read the full tafseer →75۔” اذا لا ذقناک ضعف الحیوۃ وضعف المماۃ “ اگر آپ اس طرح کرلیتے اور ان کی طرف مائل ہوجاتے تو دنیا و آخرت میں ہم دوسروں سے دگنے عذاب کا مزہ آپ کو چکھاتے۔ مطلب یہ ہے کہ اس فعل کے مجرموں کو جتنا عذاب ہوگا اس سے دگنا عذاب آپ پر ہوتا کیونکہ بڑے رتبے والے کی تھوڑی سی فروگزاشت بھی بڑی ہوتی ہے۔ ” ثم لا تجدلک علینا نصیرا ً “ ہم تمہارے مدد گار ہیں تمہیں عذاب سے بچائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
74۔ 75:۔ تفسیر ابن ابی حاتم، تفسیر ابن مردویہ اور تفسیر ابوالشیخ میں سعید ؓ بن جبیر سے جو شان نزول اس آیت کی اور اوپر کی آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین مکہ نے آنحضرت ﷺ کو حجر اسود کو ہاتھ لگاتے اور چھوتے ہوئے دیکھ کر یہ کہا کہ جس طرح ایک پتھر حجر اسود ہے ویسا ہی ہمارے بت پتھر ہیں اگر ایک دفعہ آپ ہمارے بتوں کو حجر اسود کے چھونے کی طرح ہاتھ لگا لیویں تو ہم آپ کو حجر اسود کو آئندہ چھونے دیں گے ورنہ ہم حجر اسود کو بھی آپ کو ہاتھ نہ لگانے دیں گے 1 ؎۔ مشرکین کی یہ بات سن کر آپ کے دل میں ایک وسوسہ اور پس وپیش تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کا پس وپیش رفع کرنے اور مشرکوں کے بہکاوے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
(آیت نمبر (73:
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد ﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (و ان کا دو الیفتنو نک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیرہ ) ” یقیناً قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا “ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کرچکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے انہوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ ‘ اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
قول باری ہے (ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا) حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ جو شخص اس دنیا کے اندر حق کے اعتقاد سے اندھا رہا جو اس دنیا کا متقضی ہے اس لئے کہ یہ دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ بچشم خود اس کے انتظام، اس کی گردش اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں کی لگاتار آمد و رفت کا مشاہدہ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود حق سے بےبہرہ ہے تو ایسا شخص آخرت میں بھی جو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہے اندھا ہی رہے گا اور راہ ہدایت پانے میں زیادہ ناکام ہوگا۔
Read the full tafseer →137۔ راہ حق سے پھرنے کا انجام بڑا ہی ہولناک۔ والعیاذ باللہ العظیم :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اگر کہیں ایسے ہوجاتا تو یقینا آپ کو دوہرا عذاب چکھاتے، زندگی میں بھی اور موت کے بعد بھی “۔ اس عظیم الشان اور بےمثال مرتبہ ومقام کے باعث جو آپ ﷺ کو ہمارے یہاں حاصل ہے کا قاعدہ اور ضابطہ عام یہی ہے کہ جتنا مرتبہ ومقام بڑا ہوتا ہے اتنا ہی خدشہ وخطرہ بھی سخت اور بہت بڑا ہوتا ہے۔ اور یہ ارشاد ایسے ہی ہے جیسا کہ سورة احزاب میں ازواج مطہرات کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ من یات منکن بفاحشۃ مبینۃ یضاعف لھا العذاب ضعفین۔ الایۃ (الاحزاب : 30) لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور رحمت و عنایت سے آپ ﷺ اس طرح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–77
نبی کے لیے کفار کے فتنہ سے بچنے کا
تشریح : یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ نے آپ کو ہر قسم کا لالچ دے کر یہ کہا کہ قرآن میں کچھ آیات بدل دو جو ہمارے مفاد میں، یعنی بت پرستی وغیرہ کے حق میں ہوں تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے جو کہو گے دیں گے، یعنی مال و دولت، بیوی اور عزت و احترام۔ آپ ﷺ دنیاوی راحتوں کو تو خیر کسی گنتی میں ہی نہیں لاتے تھے البتہ یہ خیال آیا ہو کہ اس وقت اگر ان کو تھوڑی سی رعایت دے دی جائے تو شاید بعد میں حق کی طرف آجائیں تو اللہ تعالیٰ نے سختی سے حکم دیا کہ ہرگز کسی کافر کی رعایت دوستی یا مشورہ کا خیال مت کرنا۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ کبھی بھی کسی برے کافر اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اب اگر یہ برائی کرتا ہے یا شیطان کی پیروی کرتا ہے تو آخر ایک روز ہر انسان کو اس کے نامہ اعمال سمیت بلایا جائے گا اور میدان حشر میں اکٹھا کیا جائے گا ۔
(امام)
کہ امام سے مراد اعمالنامہ ہے کہ حدیث شریف میں یہ معنی بھی وارد ہے اور امام بمعنی پیشوا ومقتدا بھی مراد ہے کہ جیسے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے والے یا ان کے نائبین مشائخ وعلماء کے پیچھے چلنے والے اور دوسرے شیطان کے پیروکار تو گویا دنیا میں جو عمل اور کردار ہے یا جس کی پیروی کرتا ہے ، اسی کے گروہ یا طبقے میں اٹھایا جائے گا کہ امام کا معنی مطلق پیشوا ہے نیک ہو بد مومن ہو یا کافر کہ امامت نبوت کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →ف 7 اس لئے کہ کسی کا مرتبہ جتنا بلند ہوتا ہے گناہ کرنے پر اسے اتنی ہی سخت سزا ملتی ہے۔ چناچہ ازواج مطہرات کے متعلق سورة احزاب :30 میں ہے۔ یضاعف لھا العذاب فعفین یعنی کھلی برائی کا ارتکاب کرنے پر اسے دہری سزا دی جائے گی۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(17:75) اذا۔ تب ۔ اس وقت۔ اس صورت میں۔ لاذقنک۔ لام تاکید کے لئے ہے اذقنا ماضی جمع متکلم۔ ہم نے چکھایا۔ ک ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تجھے ضرور چکھاتے۔
ضعف الحیوۃ وضعف الممات۔ اصل کلام یہ تھا۔ لا ذقنک عذابا ضعفا فی الحیوۃ الدنیا ضعفا فی المماۃ۔ پھر موصوف کو حذف کر کے اس کی جگہ صفت کو قائم رکھا۔ یعنی الضعف پھر موصوف کی اضافت صفت کو دی اور الحیوۃ کا مضاف ہو کر ضعف الحیوۃ بن گیا۔ اسی طرح ضعف المماۃ یعنی دوگنا عذاب دنیا ودوگنا عذاب بعد از موت۔
لک۔ تیرے اپنے لئے ۔ علینا ہمارے مقابلہ میں (پھر آپ اپنے لئے ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 77
اوتی دیا گیا۔ یمین داھنا ہاتھ۔ قتیل دھاگہ، ذرہ برابر، اعمی اندھا، نابینا۔ ثبتنا ہم نے ثابت قدم رکھا۔ ضعف دوگنا۔ دوہرا۔ سنۃ طریقہ، قانون الٰہی۔ تحویل تحویل کا معنی صرف تبدیلی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 71 تا 77
اصل میں جس شخص کو ایمان قبول کر کے راہ حق پر چلنا ہے اس کو نہ تو معجزات، کرامات اور ادھر ادھر کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ معمولی باتوں سے اس کے قدم ڈگمگاتے ہیں بلکہ اس نے جس سچائی کو قبول کرلیا ہے اس پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہے لیکن جس کو صرف باتیں بنانا ہیں اور اس کو آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی اس کو سوائے اعتراضات کرنے کے دوسرا کام نہیں ہوتا۔ چناچہ کفار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
کفار کے مکر سے بچنے کا ذکر
اس آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ اگر ہم تم کو ثابت قدم نہ رکھتے تو تم میل (رغبت میلان) کیا چاہتے تھے، مگر ہماری عصمت نے تمہاری مدد کی اور میلان کے قریب ہونے سے بھی تم کو روک لیا۔ یعنی میلان کے قریب بھی نہیں ہوئے اگر تم ان کے دام میں آجاتے تو دنیا اور آخرت میں تم کو دو چند عذاب ہوتا ہمارے مقابلہ میں تمہاری کوئی مدد نہ کرسکتا۔ مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ تو معصوم تھے ان کو میلان کا کیا خوف تھا۔ اس ذکر سے یہاں ان کی امت کا ڈرنا مقصود ہے تاکہ مشرکوں کی باتوں میں نہ آجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–77
[54] ایسا شخص جمال باری تعالیٰ کی دید سے اور جنت کے نظاروں سے محروم رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
پیغمبرانہ ذمہ داریاں :
(ف 1) آیت کے شان نزول میں اختلاف ہے ، بعض کے نزدیک یہ آیت مدنی ہے ، اور بعض کے مکی اس اختلاف کی بنا پر واقعات بھی مختلف ہیں ، یہاں ثقیف والوں کا قصہ بیان کیا جاتا ہے ، کہ وہ چند رعایتوں اور خصوصیتوں کے طالب تھے ، جو اسلامی مساوات کے منافی تھیں ، اور مکہ میں حجر اسود کو قصہ یعنی مکہ والے حضور ﷺ کو مجبور کرتے تھے کہ جس طرح آپ اس پتھر کو بوسہ دیتے ہیں ، اسی طرح آپ ہمارے بتوں کا بھی احترام کریں ، تو کیا مضائقہ ہے ؟ اس آیت کا مفہوم بہرحال واضح ہے ، مخالفین چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کو میٹھی میٹھی باتیں کر کے بہکا دیا جائے اور اسلام کی راہ اعتدال سے منحرف کردیا جائے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →-75 اور اگر خدانخواستہ ایسا ہوجاتا کہ آپ کو ان کی خواہش پوا کرنے کا ادنیٰ سا میلان بھی ہوجاتا تو ہم آپ کو اس وقت حالت حیات میں بھی اور آپ کی وفات اور مرنے کے بعد بھی دوہرے عذاب کا اور سزا کا مزہ چکھاتے ۔ مزید برآں یہ کہ پھر آپ ہمارے مقابلہ میں کسی کو اپنا مددگار بھی نہ پاتے۔ یعنی اس کی نوبت ہی نہ آتی چونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معصوم بنایا ہے اور ہر امتحان میں آپ کو ثابت قدم رکھا ہے۔ اس وجہ سے آپ کو میلان سے بھی بچایا اور میلان پر متفرع ہونے والی سزا سے بھی محفوظ رکھا اور اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد بھی آپ کے شامل حال رہی دوگنی سزا یعنی آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے اس لئے بھی مرتبہ کے موافق دی…
Read the full tafseer →ف 1۔ مگر چونکہ آپ کو معصوم اور ثابت قدم بنایا اس لئے کسی قدر میلان بھی نہیں ہوا اور ضعف الحیاة و ضعف المماة سے بھی بچ گئے۔
Read the full tafseer →قانون الہی کی سختی کے ساتھ پابندی کا سبق آپ ﷺ کی امت کو دیا گیا :
93۔ خالق اور مخلوق کا فرق اس آیت نے واضح کردیا اور فرمایا کہ رسول کتنا ہی بلند مرتبہ اور عالی حوصلہ ہوں لیکن پھر بھی آخر مخلوق ہیں اور خالق مخلوق کے سامنے کبھی مجبور نہیں ہوتا اور مخلوق میں سے اگر کوئی بھی لغزش کرے تو خالق اس کو پوچھ سکتا ہے اور خالق کبھی کسی طرح کی لغزش کا امکان اور صدور نہیں ہوتا فرمایا کہ اللہ اپنے وعدہ کا اتنا پابند اور اپنے قانون کا اس قدر محافظ ونگہبان ہے کہ وہ کبھی بھی اس میں خلاف ورزی نہیں ہونے دیتا ۔ رسول اللہ ﷺ سے نہ لغزش ہوئی اور نہ ہی ایسی لغزش کا کوئی امکان تھا یہ امکان انسانی حد تک کہا جارہا ہے رب…
Read the full tafseer →After that, it was said: إِذًا لَّأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ. It means: Supposing the impossible, if you would have come closer to tilting towards their wrong move, your punishment would have been double in life and double after death (in the grave or the Hereafter, because even an insignificant error made by those close to Allah is considered to be very grave). What has been said here is almost the same as was said about the blessed wives of the Holy Prophet ﷺ in Surah al-Ahzab: يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا…
Read the full tafseer →88. This review implies two things: (1) If you had compromised with falsehood after recognizing the truth, you might have pleased your degenerate people but would have incurred the wrath of Allah and would have received double chastisement both in this world and in the Hereafter. (2) No man, not even a Messenger of Allah, can fight singlehanded against the deceitful methods of falsehood, unless he receives the succor of Allah. It was the fortitude which Allah had bestowed upon the Prophet (peace be upon him), which helped him to retrain steadfast on the right position he had taken, so that no…
Read the full tafseer →