Al-Israa 17:72

Al-Israa · from ayah 72

17:72

وَمَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰی فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰی وَاَضَلُّ سَبِیْلًا ۟وَمَنۡ كَانَ فِىۡ هٰذِهٖۤ اَعۡمٰى فَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ اَعۡمٰى وَاَضَلُّ سَبِيۡلًا

اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) رستے سے بہت دور

— Fateh Muhammad Jalandhari

And whoever is blind in this [life] will be blind in the Hereafter and more astray in way.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:72

اور جو اِس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) رستے سے بہت دور

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو کوئی اس جہان میں اندھا رہا، وه آخرت میں بھی اندھا اور راستے سے بہت ہی بھٹکا ہوا رہے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو شخص دنیا میں اندھا بنا رہا، وہ آخرت میں بھی اندھا، بلکہ راستے سے اور زیادہ بھٹکا ہوا رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو اس زندگی میں اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے اور اوربھی زیادہ گمراہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو شخص اس (دنیا) میں (حق سے) اندھا رہا سو وہ آخرت میں بھی اندھا اور راہِ (نجات) سے بھٹکا رہے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو اس میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور راستے سے بہت زیادہ بھٹکا ہوا ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو اس دنیا میں اندھا بنا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راہ پانے کے لحاظ سے اندھے سے بھی زیادہ بھٹکا ہوا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو اس دنیا میں اندھا بنا رہے گا وہ آخرت میں بھی اندھا اور گمراہ تر ہوگا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو کوئی اندھا بن کر رہا ہوگا، اس (دنیا کی زندگی) میں تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا، بلکہ اس سے بھی زیادہ گمراہ،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو کوئی اس (دنیا) میں اندھا رہے گا سو وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا اور راہ سے بالکل بھٹکا ہوا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور راہ سے بہت دور بھٹکا ہوا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو کوئی اس جہان میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ بھٹکا ہوا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Whoever lived in this world as blind shall live as blind in the Life to Come; rather, he will be even farther astray than if he were (just) blind.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But whoever is (too) blind in this (world to see the right path) will be (too) blind in the Hereafter (to reach the salvation), and much more astray from the path.

— Muhammad Taqi Usmani

But whoever is (too) blind in this (world to see the right path) will be (too) blind in the Hereafter (to reach the salvation), and much more astray from the path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And whoever is blind in this [world] then he will be blind in the Hereafter, and most astray from the path.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Whoso is blind here will be blind in the Hereafter, and yet further from the road.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And whoever is blind in this [life] will be blind in the Hereafter and more astray in way.

— Saheeh International

Those who are blind in this life will also be blind in the life to come and in terrible error.

— Muhammad Sarwar

And whoever is blind in this, he shall (also) be blind in the hereafter; and more erring from the way.

— Muhammad Habib Shakir

And whosoever hath been in this life blind will in the Hereafter be blind, and far astray from the way.

— Abdul Majid Daryabadi

But those who were blind in this world, will be blind in the hereafter, and most astray from the Path.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:72

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 71–72

الکتاب ہی ہدایت و امام ہے امام سے مراد یہاں نبی ہیں ہر امت قیامت کے دن اپنے نبی کے ساتھ بلائی جائے گی جیسے اس آیت میں ہے (وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 47؀) 10۔ یونس :47) ہر امت کا رسول ہے، پھر جب ان کے رسول آئیں گے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ حساب کیا جائے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ اس میں اہل حدیث کی بہت بڑی بزرگی ہے، اس لئے کہ ان کے امام آنحضرت محمد ﷺ ہیں۔ ابن زید کہتے ہیں مراد یہاں امام سے کتاب اللہ ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی۔ ابن جریر اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں۔ مجاہد ؒ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 71–72

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 86 یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ خوشی خوشی اسے دیکھیں گے، بلکہ دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ رہے بداعمال لوگ، تو ان کا نامہ سیاہ ان کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اسے لیتے ہی پیٹھ پیچھے چھپانے کی کوشش کریں گے۔ ملاحظہ ہو سورة الحاقہ آیت 19۔ 28۔ اور سورة انشقاق آیت 7۔ 13

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–72

خلاصہ تفسیر (اس دن کو یاد کرنا چاہئے) جس روز ہم تمام آدمیوں کو ان کے نامہ اعمال سمیت (میدان حشر میں) بلاویں (اور نامہ اعمال اڑا دیئے جاویں گے پھر کسی کے داہنے ہاتھ اور کسی کے بائیں ہاتھ میں آجاویں گے) پھر جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاوے گا (اور یہ اہل ایمان ہوں گے) تو ایسے لوگ اپنا نامہ اعمال (خوش ہو کر) پڑھیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا (یعنی ان کے ایمان اور اعمال کا ثواب پورا پورا ملے گا ذرا کم نہ ہوگا خواہ زیادہ مل جائے اور عذاب سے نجات بھی ہوگی خواہ اول ہی یا گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد) اور جو شخص دنیا میں (راہ نجات دیکھنے سے) اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی (منزل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اصحاب الشمال کا انجام : وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا۔ اصحاب الیمین کے بعد یہ اصحاب الشمال کا انجام بیان ہورہا ہے کہ چونکہ یہ لوگ دنیا میں اندھے بنے رہے اس وجہ سے یہ آخرت میں بھی اندھے ہی اٹھیں گے اور اصل منزل سے جو دوری آج ان کو ہے وہ دوری آج کی نسبت کہیں زیادہ ہوجائے گی، اس لیے کہ آخرت کے ظہور کے بعد ان کے لیے صراط مستقیم کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جائے گا۔ اس آیت سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑتی ہے کہ اصحاب الیمین کو جو مرتبہ و مقام حاصل ہوگا وہ اس بنا پر حاصل ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں آنکھیں بند کرکے زندگی نہیں گزاری بلکہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 72–73

72۔ 1 اَ عْمَیٰ (اندھا) سے مراد دل کا اندھا ہے یعنی جو دنیا میں حق کے دیکھنے، سمجھنے اور اسے قبول کرنے سے محروم رہا، وہ آخرت میں اندھا، اور رب کے خصوصی فضل و کرم سے محروم رہے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 72–74

40: یہاں اندھا ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ دنیا میں حق کو دیکھنے سے محروم رہا، چنانچہ وہ آخرت میں بھی نجات کا راستہ نہیں دیکھ سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 71–72

یہ ایک نیا منظر ہے ، مناظر قیامت میں سے۔ تمام لوگ میدان میں حشر میں ہوں گے۔ ہر جماعت کو اس کے نام و عنوان اور اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اگر کسی کا کوئی نبی ہوگا تو وہ ان کا امام ہوگا۔ یا دنیا میں اگر ان کا کوئی پیشوا اور مقتداء ہوگا تو اس کے ساتھ۔ امام کے سامنے ان کو ان کا نامہ اعمال تھمایا جائے گا۔ دائیں ہاتھ ، جن کو اعمال نامے دئیے جا رہے ہیں وہ ان کو خوشی خوشی سے پرھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اعمال کا پورا پورا اجر ان کو مل رہا ہے۔ ایک فقیل (وہ دھاگہ جو گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے) کے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔ جس شخص نے اس دنیا میں دلائل ہدایت کے دیکھنے میں اندھے پن کا ثبوت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی یہاں ہدایت کی راہ سے اندھا رہا، ویسا ہی آخرت میں بہشت کی راہ سے اندھا ہے اور بہت دور پڑا ہے۔ (موضح القرآن) یہ " اصحاب یمین " کے بالمقابل " اصحاب شمال " کا ذکر ہوا۔ بعض نے " وَاَضَلُّ سَبِیْلًا " کا مطلب یہ لیا ہے کہ دنیا میں تو تلافیٔ مافات کا امکان تھا، آخرت میں اس سے بھی دور جا پڑا۔ کیونکہ اب تدارک و تلافی کا امکان ہی نہیں رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 72 وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا جس شخص نے اس دنیا میں اپنی پوری زندگی حیوانوں کی طرح گزار دی جس کا دیکھنا اور سننا حیوانوں کا سا دیکھنا اور سننا تھا جس نے نہ تو انفس و آفاق میں بکھری ہوئی اللہ تعالیٰ کی اَن گنت نشانیوں کو چشم بصیرت سے دیکھا نہ ان کے ذریعے سے اپنے خالق ومالک کو پہچانا اس نے اپنی زندگی گویا اندھے پن میں گزار دی۔ ایسے شخص کو قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھایا جائے گا کہ وہ اندھا ہوگا۔ اسی اندھے پن سے بچنے کے لیے علامہ اقبال نے کیا خوب نصیحت کی ہے : ”دیدن دگر آموز شنیدن دگر آموز !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

92 یعنی دنیا میں ہدایت کے راستہ کو دیکھنے کی کوشش ہی نہ کی اور اندھا بنا رہا۔ وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور جنت کی راہ نظر ہی نہ آئے گی۔ دنیا میں اس کا اندھاپن اختیاری تھا اور اس کی اصلاح ممکن تھی۔ لیکن آخرت میں اس کا اندھا پن اضطراری ہوگا جو دنیا کے اندھا پن کے نتیجہ میں واقع ہوگا اور چونکہ اس کی اصلاح کی اب کوئی صورت ممکن نہ ہوگی نہ کسی دوسرے کا اسے راستہ دکھانا کام آسکے گا۔ لہذا ایسا شخص جنت سے دور ہی کہیں بھٹکتا رہے گا اور اسے صرف اپنے سامنے جہنم کے مختلف طرح کے عذاب ہی نظر آئیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

105۔ یہاں ایک بار اور اس حقیقت کو واضح کردیا گیا ہے کہ حشر میں جو کچھ بھی ہوگا، اسی دنیا ہی کے اعمال کا پورا ظہور اور صرف نتائج وثمرات کا تحقق ہوگا۔ کوئی اور نئی بات نہ ہوگی۔ آخرت ناسوت ہی کے تکملہ کا نام ہے۔ (آیت) ” ومن کان فی ھذہ اعمی “۔ یعنی جو کوئی اس دارالعمل میں اپنی آنکھیں راہ نجات کی طرف سے اندھی رکھے گا۔ (آیت) ” فھو فی الاخرۃ اعمی “۔ سو ایسا شخص دارالجزاء میں جمال حق کی دید سے اور جنت کے نظاروں سے محروم رہے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–77

آیت نمبر 71 تا 77 ترجمہ : اس دن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس دن ہم ہر گروہ (امت) کو اس کے نبی کے ساتھ بلائیں گے، یوں کہا جائے گا اے فلاں نبی کی امت یا ان کو ان کے نامۂ عمل کے ساتھ بلایا جائیگا، یوں ندا دی جائے گی اے صاحب خیر اور اے صاحب شر اور وہ قیامت کا دن ہوگا، تو ان میں سے جس کو دائیں ہاتھ میں نامہ عمل دیا جائیگا تو یہ لوگ خوش نصیب اور دنیا میں صاحب بصیرت تھے تو وہ لوگ اپنے اعمال ناموں کو (خوشی خوشی) پڑھیں گے اور ان کے اعمال میں سے گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کمی نہ کی جائے گی اور جو اس دنیا میں حق (بینی) سے اندھا رہا ہوگا تو وہ آخرت میں بھی راہ نجات اور نامۂ عمل کے پڑھنے سے اندھا رہے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا : اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا رہے گا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔ بعض روایات میں حضرت ابن عباس ؓ : کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے۔ کہ ہٰذِہٖ سے مراد ہیں اللہ کی وہ نعمتیں جن کا اظہار اللہ نے رَبُّکُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَکُمُ الْفُلْکَ سے تفضیلاً تک کیا ہے اور فِی الْاٰخِرَۃِسے مراد آخرت کے معاملے ہیں یعنی اللہ کی ان کھلی ہوئی نعمتوں کو دیکھتے ہوئے جو شخص نابینا رہا ‘ وہ آخرت کے معاملے میں تو بہت ہی زیادہ اندھا ہوگا کیونکہ آخرت کو تو اس نے دیکھا ہی نہیں۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک ہٰذہٖسے دنیا کی طرف اشارہ ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(72) اور جو شخص دنیا میں ان نعمتوں کے شکر کی بجا آوری سے اندھا رہے گا وہ جنت کی نعمتوں سے بھی اندھا رہے گا اور زیادہ گمراہ ہوگا یا یہ کہ جو شخص اس دنیا میں راہ نجات اور حجت وبیان کے دیکھنے سے اندھا رہے گا اور زیادہ گمراہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى۔۔ : اس سے مراد دل کا اندھا ہونا ہے، کیونکہ دنیا میں تو آنکھیں مسلم و کافر دونوں کو دی گئی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ) [ الحج : 46 ] ”پس بیشک قصہ یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں اور لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔“ وَاَضَلُّ سَبِيْلًا : زیادہ گمراہ اس لیے کہ دنیا میں گمراہ کے راہ راست پر آنے کی امید ہے، قیامت کو اس کا موقع نہیں ہوگا۔ یہاں اندھے اٹھائے جانے کا ذکر ہے اور دوسرے مقامات پر ان کے دیکھنے کا ذکر ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 72 قولہ تعالیٰ : ومن کان فی ھٰذہ اعمیٰ یعنی جو دنیا میں نظر وفکر کرنے سے اور حق کو دیکھنے سے اندھا بنا رہے گا۔ فھو فی الاٰخرۃ تو وہ آخرت کے معاملہ میں بھی اعمٰی اندھا ہوگا۔ اور حضرت عکرمہ (رح) نے کہا ہے : اہل یمن کی ایک جماعت حضرت ابن عباس ؓ کے پاس حاضر ہوئی اور انہوں نے اس آیت کے بارے سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اس کے ماقبل کو پڑھو۔ ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر۔۔۔ تاقولہٖ ۔۔۔۔ تفضیلاً ۔ (الاسراء) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جو آدمی ان نعمتوں اور ان آیات اور نشانیوں کے بارے جو اس نے دیکھیں اندھا بنا رہا تو اس آخرت کے بارے میں جسے اس نے دیکھا نہیں اندھا ہی ہوگا اور بڑا گم کردہ راہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 70–72

1:۔ طبرانی، بیہقی نے شعب میں اور خطیب نے تاریخ میں عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بنو آدم سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ عزت والی نہ ہوگی پوچھا گیا یا رسول اللہ ! مقرب فرشتے بھی (زیادہ عزت والے نہ ہوں گے) فرمایا فرشتے تو سورج اور چاند کی طرح مجبور ہیں۔ 2:۔ بیہقی نے طریق آخر سے ابن عمر ؓ سے موقوفا روایت کیا کہ یہ روایت بھی صحیح ہے۔ 3:۔ بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مومن اللہ کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت والا ہے۔ 4:۔ طبرانی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب آپ نے بنو آدم کو دنیاعطا فرمائی وہ اس میں کھاتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَمَنْ : اور وہ جو ] [كَان : تھا ] [فِيْ هٰذِهٖٓ: اس (دنیا) میں ] [اَعْمٰى: اندھا ] [فَهُوَ : تو وہ ] [فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں (بھی)] [اَعْمٰى: اندھا ہوگا ] [وَاَضَلُّ : اور (وہ) زیادہ گمراہ ہوگا ] [سَبِيْلًا : بلحاظ راستہ کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 71–72

قیامت کے دن جن کے داہنے ہاتھ میں اعمالنامے دئیے جائیں گے وہ اپنے اعمالنامے پڑھ لیں گے جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے آخرت میں بھی اندھا ہوگا اوپر دو آیتوں کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں اعمال ناموں کی تفصیل اور دوسری آیت میں راہ ہدایت سے منہ موڑنے والوں کا اور قصداً اندھا بننے والوں کا تذکرہ ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ قرآن مجید میں لفظ ” امام “ کئی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مفسر قرطبی نے حضرت ابن عباس اور حسن اور قتادہ ؓ سے یہاں بِاِمَامِھِمْ کی تفسیر ” بکتابھم “ نقل کی ہے۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ والکتاب یسمی اماما لانہ یرجع الیہ فی تعرف اعمالھم لفظ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–72

بیان فرق مراتب در روز قیامت قال اللہ تعالیٰ یوم ندعوا کل اناس بامامہم .... الیٰ .... واضل سبیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں انسان کے دنیوی حالات بیان فرمائے اب اس کے بعد کچھ اخروی حالات بیان کرتے ہیں جہاں فرق مراتب کا ظہور ہوگا کہ نیک لوگوں کے نامہائے اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور بدوں کے بائیں ہاتھ میں اور انسان کی حقیقی تکریم و تفضیل اس دن ظاہر ہوگی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو جب ہم پر فرقہ کو اس کے پیشوا سمیت بلائیں گے یعنی ہر امت اپنے نبی اور کتاب کے ساتھ بلائی جائے گی اور جو نبی کو نہیں مانتے وہ اپنے سرداروں کے ساتھ بلائے جائیں گے جن کو وہ اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے تھے اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 71–72

65:۔ بشارت و تخویف اخری ہے۔ قیامت کے دن ہر گروہ اپنے پیشوا کے ساتھ میدان حشر میں حاضر ہوگا۔ ہر امت کے نیک و موحد مومنین اپنے انبیاء (علیہم السلام) کیساتھ حاضر ہوں گے اور ہر امت کے مشرک اور بدکار اپنے مشرک پیشواؤں کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ ” فمن اوتی کتابہ الخ “ یہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے یعنی مومنوں کو اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائینگے وہ انہیں پڑھ کر خوش ہوں گے اور انہیں ان کی تمام نیکیوں کی پوری پوری جزا دیجائیگی۔ ای ولا ینقصون من ثواب اعمالھم ادنی شیء (خازن ج 4 ص 171) ۔ ” ومن کان فی ھذہ اعمی الخ “ یہ اصحاب الیمین کے مقابلے میں اصحاب الشمال کا ذکر ہے اور جو دنیا میں اندھا رہا اور راہ توحید کو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 71–72

ربط آیات : گذشتہ آیات میں باقی مخلوق پر انسان کی فطری برتری کا ذکر تھا ، اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی اور اس کے لیے بری اور بحری سواریاں مہیا کیں ۔ اب انسان کو فضاؤں پر بھی تسلط حاصل ہے اور انہیں ہوا کے دوش پر تیز ترین سفر کی سہولتیں حاصل ہیں ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو روزی کے طور پر پاکیزہ اور عمدہ چیزیں عطا فرمائیں اور اس طرح اللہ کی مخلوق میں سے اکثریت پر اسے فضیلت عطا فرمائی اب اصل سوال یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جو عزت افزائی کی ہے اس نے اپنے آپ کو کس حد تک اس کا اہل ثابت کرکے اسے قائم رکھا ہے ، آگے محاسبے اور جزائے عمل کی منزل آنے والی ہے اس وقت پتہ چلے گا کہ انسان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا 72؀ عمی العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني : أَعْمَى وعَمٍ ، وعلی الأوّل قوله : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] ، وعلی الثاني ما ورد من ذمّ العَمَى في القرآن نحو قوله : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ( ع م ی ) العمی ٰ یہ بصارت اور بصیرت دونوں قسم اندھے پن کے لئے بولا جاتا ہے لیکن جو شخص بصارت کا اندھا ہو اس کے لئے صرف اعمیٰ اور جو بصیرت کا اندھا ہو اس کے لئے اعمیٰ وعم دونوں کا استعمال ہوتا ہے اور آیت کریمہ : أَنْ جاءَهُ الْأَعْمى[ عبس/ 2] کہ ان کے پاس ایک نا بینا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–77

ترکیب : یوم ندعوا مفعول اونصب اذکر محذوف کا اے اذکر یوم الخ یوم ندعوانصب یا باضمارا ذکر یا ظرف ولایظلمون۔ تفسیر : انسانوں کا باہمی فرق مراتب بیان فرما کر آخرت کا فرق مراتب جو حقیقی تفصیل ہے بیان فرماتا ہے یوم ندعوا کل اناس بامامہم یعنی یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہر ایک شخص اپنے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا۔ امام لغت میں اس کو کہتے ہیں کہ جس کی پیروی اقتدار کی جاتی ہے ہدایت میں خواہ گمراہی میں۔ پس نبی امت کا امام ہے اور خلیفہ رعیت کا اور قرآن مسلمانوں کا امام ہے اور نمازیوں کا امام نماز پڑھانے والا ہے اور اسی طرح انسان کا دلی منشاء جو اس کو نیک یا بدکام پر تحریک کرتا ہے وہ بھی اس کا امام ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَا فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَاَضَلُّ سَبِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 72) (اور جو شخص اس دنیا میں اندھا بنا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا اور بہت گمراہ ہوگا۔ ) دنیا کی بےبصیرتی آخرت میں اندھے پن کا سبب بنے گی اس آیت میں دوسرے گروہ کی طرف اشارہ گہے جنھیں اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔ انھوں نے دنیا میں اندھوں کی طرح زندگی گزاری۔ وہ آخرت کے معاملے میں اندھے بنے رہے۔ جب دنیا میں انھوں نے آنکھیں نہیں کھولیں اور حقائق کا سامنا نہیں کیا تو آخرت میں بھی انھیں اندھا اٹھایا جائے گا۔ وہ حیران ہو کر کہیں گے کہ ہم تو دنیا میں بینا تھے، ہمیں اندھا کیوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–75

فہم القرآن ربط کلام : ہدایت سے اندھے لوگ صرف خود گمراہ اور اندھے نہیں ہوتے۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ اور اندھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گمراہ لوگ انبیاء (علیہ السلام) کو ورغلانے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ نبی معظم ﷺ کے مخالفوں کی بھی یہی کوشش تھی کی کسی طرح آپ کو بہکا دیں۔ آپ ﷺ کے مخالفوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طریقہ سے آپ کو بہکانے میں کامیاب ہوجائیں۔ ان کی سازشوں اور کوششوں کے پیش نظر آپ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ استعمال فرمائے۔ ان آیات کا ترجمہ بریلوی مکتبہ فکرکے ایک عالم نے اپنی تفسیر میں یوں کیا ہے۔ اے پیغمبر ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثابت قدم رکھا۔ اگر اس کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دنیا میں کفر آخرت کا اندھا پن : 72: وَمَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖٓ (اور جو شخص اس دنیا کی زندگی میں) اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی (اندھا ہے۔ وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ ) اسی طرح وَاَضَلُّ سَبِیْلًا (اور زیادہ راستہ سے بھٹکا ہوگا) یعنی اندھے سے بھی زیادہ گمراہ ہوگا۔ اعمٰی کے لفظ کو استعارۃً اس کے لئے استعمال فرمایا جو مبصرات کو بھی نہ دیکھے۔ کیونکہ اس کے حواس میں خرابی ہے اس شخص کی طرح کہ نجات کے راستے کی طرف راہ نہ پائے۔ دنیا میں تو اس لئے کہ غور و فکر نہیں پائی جاتی اور آخرت میں اس لئے کہ اب رہنمائی فائدہ نہیں دے سکتی۔ علماء نے یہ بھی جائز قرار دیا کہ دوسرا اعمی کا لفظ تفصیل کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 72۔” ومن کان فی ھذہ عمی “ اس اشارے میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ ھذہ سے مراد اللہ کی وہ نعمتیں جن کا اظہار اللہ نے ” ربکم الذی یزجی لم الفلک سے تفصیلاً “ تک ذکر کیا ہے۔ یعنی اللہ کی ان کھلی ہوئی نعمتوں کو دیکھتے ہوئے جو شخص نابینا رہا وہ آخرت کے مقابلے میں تو بہت ہی زیادہ اندھا ہوگا کیونکہ آخرت کو تو اس نے دیکھا ہی نہیں ۔ ” فھو فی الاخرۃ اعمی و اضل سبیلا ً “ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے اور دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ راجع ہے دنیا کی طرف راجع ہے۔ یعنی جو شخص اس دنیا میں دلائل توحید اور حق کو دیکھنے سے اللہ تعالیٰ کی آیات اور معجزات انبیاء کو دیکھنے سے نابنیا ہے تو وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

72:۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے یہ بات بیان فرمائی تھی کہ آخرت میں جن لوگوں کے داہنے ہاتھ میں عمل کا کاغذ ہوگا وہ تو خوش ہو ہو کر پڑھیں گے اور دوسروں کو دکھلائیں گے۔ یہ لوگ وہ ہیں جن کے اعمال نیک ہیں اب بائیں ہاتھ میں جن کے نامہ اعمال دیئے جائیں گے ان کے حق میں یہ آیت ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں راہ حق سے دور رہے اور اچھے برے میں انہوں نے تمیز نہیں کی گویا اندھے تھے کہ خدا کی ظاہر قدرت کو بھی دیکھ کر ایمان نہیں لائے۔ آسمان و زمین دریا پہاڑ اور بہتیری مخلوق خدا نے بنائی ہے وہ کل خدا کی توحید ثابت کر رہی ہے ان میں کسی ایک کے دیکھنے سے بھی راہ یاب نہ ہوئے ایسا شخص آخرت میں اندھا ہوگا بلکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 71–72

(آیت نمبر (71: قیامت کے روز مخلوق کا جو حال ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو ( اپنی عدالت میں) بلائے گا ان کے ساتھ ان کے امام اور رشدو ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والے راہ نما یعنی انبیاء ومرسلین اور ان کے نائبین بھی ہوں گے۔ پس ہر امت اللہ کے حضور پیش ہوگی اور اس امت کو وہی رسول ‘ اللہ کے حضور پیش کرے گا جس نے دنیا میں اسے دعوت توحید پیش کی تھی۔ ان کے اعمال اس کتاب کے سامنے پیش کیے جائیں گے ‘ جسے لے کے رسول اس امت میں مبعوث ہوا تھا کہ آیا ان کے اعمال اس کتاب کے موافق ہیں یا نہیں۔ تب یہ لوگ دو قسم کے گروہوں میں منقسم ہوجائیں گے۔ (فمن اوتی کتبہ بیمینہ) ” پس جس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 72–77

قول باری ہے (ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا) حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ جو شخص اس دنیا کے اندر حق کے اعتقاد سے اندھا رہا جو اس دنیا کا متقضی ہے اس لئے کہ یہ دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ بچشم خود اس کے انتظام، اس کی گردش اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں کی لگاتار آمد و رفت کا مشاہدہ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود حق سے بےبہرہ ہے تو ایسا شخص آخرت میں بھی جو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہے اندھا ہی رہے گا اور راہ ہدایت پانے میں زیادہ ناکام ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

131۔ نورحق و ہدایت سے منہ موڑنے والے اندھے اور اوندھے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور جو کوئی اندھا بن کر رہا ہوگا دنیا میں “ حق کے دیکھنے اور اس کے ماننے اور قبول کرنے سے اور اس نے اپنی زندگی کی پونجی اپنے پیٹ کو بھرنے اور خواہشات نفس کی تکمیل ہی میں صرف کردی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح اس نے اپنے آپ کو انسانیت کے منصب شرف و امتیاز سے گرا کر حیوانیت کے قعر مذلت میں ڈال دیا ہوگا۔ جس کے نتیجہ میں وہ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہوگیا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑنے والے اندھے اور اوندھے ہیں اگرچہ وہ چاند پر کمندیں ڈالنے والے ہوں۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 71–72

انسان کا انجام تشریح : ان آیات میں میدان حشر اور حساب کتاب کے دن کا نقشہ بڑے ہی ڈرا دینے والے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیشمار دفعہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ ہم مرنے کے بعد ضرور زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے تو یہاں بھی اسی بات کو دہرایا جارہا ہے کہ سب لوگ اپنے اپنے نبی یا اپنے پیشوا کے ساتھ حاضر ہوں گے اور پھر ان کے اعمال نامے جو کہ دنیا کی زندگی میں تیار کیے جا چکے ہوں گے ان کے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور اسی وقت ان کا نتیجہ اس طرح سامنے آجائے گا کہ اچھے لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے جبکہ برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ ان کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–77

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف اب اگر یہ برائی کرتا ہے یا شیطان کی پیروی کرتا ہے تو آخر ایک روز ہر انسان کو اس کے نامہ اعمال سمیت بلایا جائے گا اور میدان حشر میں اکٹھا کیا جائے گا ۔ (امام) کہ امام سے مراد اعمالنامہ ہے کہ حدیث شریف میں یہ معنی بھی وارد ہے اور امام بمعنی پیشوا ومقتدا بھی مراد ہے کہ جیسے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے والے یا ان کے نائبین مشائخ وعلماء کے پیچھے چلنے والے اور دوسرے شیطان کے پیروکار تو گویا دنیا میں جو عمل اور کردار ہے یا جس کی پیروی کرتا ہے ، اسی کے گروہ یا طبقے میں اٹھایا جائے گا کہ امام کا معنی مطلق پیشوا ہے نیک ہو بد مومن ہو یا کافر کہ امامت نبوت کی طرح کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 72–73

ف 5 کفار مکہ خود تو راہ پر کیا آتے ان کی یہ برابر کوشش رہی کہ کسی طرح آپ خلاص توحید کی دعوت پیش کرنے سے باز آجائیں یا ان احکام کا ایک حصہ چھوڑ دیں یا بدل دیں جو خدا کی طرف سے آپ کو دیئے جا رہے ہیں۔ یا قرآن سے وہ حصہ حذف کردیں جس میں شرک بت پرستی کی مذمت ہے تو ہم ایمان لانے کے لئے تیار ہیں اور آپ کو مقصد سے پھیرنے کے لئے کبھی فریب کاریوں سے، کبھی لالچ سے اور کبھی دھمکیوں سے انہوں نے بہتیرے جتن کئے لیکن آپ کا جواب ہر موقع پر یہ رہا ” خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں چاند اور دوسرے ہاتھ میں سورج بھی رکھ دیں تب بھی میں اس کام کو چھوڑنے والا نہیں جو اللہ نے میرے ذمے کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:72) اعمی۔ اندھا۔ عمی سے جس کے معنی بینائی کے مفقود ہوجانے کے ہیں خواہ یہ بینائی دل کی ہو یا آنکھوں کی۔ اضل ضلال سے اسم التفضیل کا صیغہ ہے بہت بہکا ہوا۔ زیادہ گمراہ۔ زیادہ راہ مستقیم سے ہٹا ہوا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–77

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 77 اوتی دیا گیا۔ یمین داھنا ہاتھ۔ قتیل دھاگہ، ذرہ برابر، اعمی اندھا، نابینا۔ ثبتنا ہم نے ثابت قدم رکھا۔ ضعف دوگنا۔ دوہرا۔ سنۃ طریقہ، قانون الٰہی۔ تحویل تحویل کا معنی صرف تبدیلی ہے۔ تشریح : آیت نمبر 71 تا 77 اصل میں جس شخص کو ایمان قبول کر کے راہ حق پر چلنا ہے اس کو نہ تو معجزات، کرامات اور ادھر ادھر کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ معمولی باتوں سے اس کے قدم ڈگمگاتے ہیں بلکہ اس نے جس سچائی کو قبول کرلیا ہے اس پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہے لیکن جس کو صرف باتیں بنانا ہیں اور اس کو آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی اس کو سوائے اعتراضات کرنے کے دوسرا کام نہیں ہوتا۔ چناچہ کفار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

بائیں ہاتھ میں جن کے نامہ اعمال دیئے جاویں گے ان کے حق میں یہ آیت ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں راہ حق سے دور رہے اور اچھے برے میں انہوں نے تمیز نہیں کی۔ گویا اندھے تھے کہ خدا کی ظاہر ظاہر قدرت کو بھی دیکھ کر ایمان نہیں لائے۔ ایسا شخص آخرت میں اندھا ہوگا بلکہ ور بھی گمراہ ہوگا کیونکہ اگر وہاں غور وفکر کرنے پر ایمان کا ارادہ کرے گا تو کچھ حاصل نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 72–77

[54] ایسا شخص جمال باری تعالیٰ کی دید سے اور جنت کے نظاروں سے محروم رہے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 70–73

(ف 1) اسلام سے قبل انسان کو فی نفسہ گناہگار اور مجرم قرار دیا جاتا تھا ، انسان کے لئے ضروری تھا کہ وہ کائنات کی ہر چیز کا احترام کرے وہ پہاڑوں کے سامنے جھکے دریاؤں کو پوجے بتوں کو سجدہ کرے ، آفتاب ماہتاب اور ستاروں کو معبود سمجھے سانپ اور بچھوؤں کو دیوتا قرار دے ، صندل کی معمولی لکڑی اس کی جبین ناز کا قشقشہ بنے ہر آن ان معبودوں سے خائف رہے ، دنیا کی ہر چیز کو قابل عبادت سمجھے ۔ قرآن نے انسان کے مرتبہ کو بلند قرار دیا جنت اس کا مسکن ٹھہرایا اور فرشتے اس کی تعلیم کے لئے جھکے ، احسن تقویم اور تکریم کا خلعت عطا ہوا ، اور طے پایا کہ انسانی مخلوق کائنات کی ہر شے سے افضل ہے ، بحر وبر کی حکومتیں اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-72 اور جو شخص اس عالم میں راہ حق سے اندھا بنا رہا تو وہ آخرت میں بھی راہ نجات پانے سے اندھا ہی رہے گا اور اس عالم سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہوگا۔ یعنی دنیا میں تو راہ حق بتانے والے موجود تھے اور وہاں کوئی راہ بتانے الا بھی نہ ہوگا وانی لھم التناوش من مکان بعید۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ہدایت سے اندھا رہا ویسا ہی آخرت میں بہشت کی راہ سے اندھا ہے اور دور پڑا ہے۔ 12 اوپر ذکر تھا اصحاب یمین کا اور یہ لوگ اصحاب الشمال ہوں گے جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 70–72

ف 4۔ انسان میں بعض صفات کا صہ ایسے ہیں جو اور حیوانات میں نہیں۔ جیسے حسن صورت جس میں موزونی قامت بھی آگیا، اور عقل اور ایجاد ضائع وغیرہا، اور یہ نعم تمام نوع کو عام ہیں، پس بنی آدم سے مراد سب بنی آدم ہیں۔ 5۔ چونکہ اوپر کرمنا سے شبہ ہوسکتا تھا کہ ان صفات میں بنی آدم سب سے افضل ہے حالانکہ یہ امر خلاف واقع تھا کیونکہ یہ امور مدار فضیلت علی الملائکہ نہیں ہوسکتے، اور جو صفات مدار فضیلت علی الملائکہ ہیں وہ کل بنی آدم میں متحقق نہیں، اس لئے فضلنا میں یہ ابہام رفع کردیا کہ مراد تکریم سے تفضیل علی بعض الخلائق ہے، یعنی حیوانات اور حیوانات سے جو کم رتبہ ہیں، پس آیت ملائکہ اور بشر کے تفاضل متکلم فیہ بین…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو دنیوی زندگی میں اندھا رہا وہ آخرت کی زندگی میں بھی اندھا ہی رہے گا : 90۔ اس اندھے سے سے آنکھوں کا اندھا نہیں بلکہ دل کا اندھا مراد ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب کسی پر اندھے پن کا وقت آتا ہے تو آنکھوں کی بصارت نہیں جاتی بلکہ دل کی بصیرت جاتی رہتی ہے حالانکہ دل ہی کی بصیرت سے ساری بصارت ہے ۔ مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مرجائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے : ظاہر ہے کہ جو لوگ اس دنیا میں دل کے اندھے ہیں یعنی وہ ہر سنی ان سنی اور ہر دیکھی ان دیکھی کردیتے ہیں اور اپنی غرض کے بندے ہیں وہ غرض ہی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور جہاں ان کی دنیوی غرض وابستہ نہیں ہوتی ان کو کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ ان کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–72

Commentary The word: اِمَام (Imam) in the first sentence of verse يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ translated as ' (Think of) the Day We will call every people with their book of deeds' appears here in the sense of 'book' as in Surah Ya Sin: وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ (and We have enumerated everything in a clear book - 36:12). Here, إِمَامٍ مُّبِينٍ means a clear book. Then, 'kitab' is called 'imam' for the reason that, in the event of some error or difference, one turns to the book very much like turning to a religious leader who is followed. (Qurtubi) And…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 71–72

86. We learn from the Quran that on the Day of Resurrection, the righteous people will be given their records in their right hands and they will be overjoyed to have a look at it and will show it to others. As regards to the wicked people, they will get their records in their left hands and in their shame will try to hide it behind their backs. Please refer to (Surah Al-Haaqqa, Ayats 19-28), (Surah Al-Inshiqaq, Ayats 7-13).

Read the full tafseer →