Explained with ayahs 71–72
الکتاب ہی ہدایت و امام ہے
امام سے مراد یہاں نبی ہیں ہر امت قیامت کے دن اپنے نبی کے ساتھ بلائی جائے گی جیسے اس آیت میں ہے (وَلِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ ۚ فَاِذَا جَاۗءَ رَسُوْلُھُمْ قُضِيَ بَيْنَھُمْ بالْقِسْطِ وَھُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 47) 10۔ یونس :47) ہر امت کا رسول ہے، پھر جب ان کے رسول آئیں گے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ حساب کیا جائے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ اس میں اہل حدیث کی بہت بڑی بزرگی ہے، اس لئے کہ ان کے امام آنحضرت محمد ﷺ ہیں۔ ابن زید کہتے ہیں مراد یہاں امام سے کتاب اللہ ہے جو ان کی شریعت کے بارے میں اتری تھی۔ ابن جریر اس تفسیر کو بہت پسند فرماتے ہیں اور اسی کو مختار کہتے ہیں۔ مجاہد ؒ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 86
یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے کہ قیامت کے روز نیک لوگوں کو ان کا نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ خوشی خوشی اسے دیکھیں گے، بلکہ دوسروں کو بھی دکھائیں گے۔ رہے بداعمال لوگ، تو ان کا نامہ سیاہ ان کو بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور وہ اسے لیتے ہی پیٹھ پیچھے چھپانے کی کوشش کریں گے۔ ملاحظہ ہو سورة الحاقہ آیت 19۔ 28۔ اور سورة انشقاق آیت 7۔ 13
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
خلاصہ تفسیر
(اس دن کو یاد کرنا چاہئے) جس روز ہم تمام آدمیوں کو ان کے نامہ اعمال سمیت (میدان حشر میں) بلاویں (اور نامہ اعمال اڑا دیئے جاویں گے پھر کسی کے داہنے ہاتھ اور کسی کے بائیں ہاتھ میں آجاویں گے) پھر جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جاوے گا (اور یہ اہل ایمان ہوں گے) تو ایسے لوگ اپنا نامہ اعمال (خوش ہو کر) پڑھیں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا (یعنی ان کے ایمان اور اعمال کا ثواب پورا پورا ملے گا ذرا کم نہ ہوگا خواہ زیادہ مل جائے اور عذاب سے نجات بھی ہوگی خواہ اول ہی یا گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد) اور جو شخص دنیا میں (راہ نجات دیکھنے سے) اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی (منزل…
Read the full tafseer →يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا۔
" اناس " کے معنی انسانوں کے گروہ کے ہیں اور امام سے مراد لیڈر اور پیشوا ہیں۔
جزا و سزا کے دن کی یاد دہانی : یہ اس دن کی یاد دہانی فرمائی ہے جس دن جزا اور سزا کی خدائی عدالت قائم ہوگی۔ فرمایا کہ اس دن ہم ہر گروہ کو ان کے لیڈروں اور پیشواؤں سمیت اپنے حضور حاضر ہونے کا حکم دیں گے۔ نیک بھی اپنے صالح پیشواؤں اور مقتداؤں کے ساتھ حاضر ہوں گے اور اشرار و مفسدین بھی اپنے ناہنجار لیڈروں کے ساتھ حاضر کیے جائیں گے پھر نیکوں کو ان کے اعمال نامے ان کے…
Read the full tafseer →71۔ 1 اِ مَام کے معنی پیشوا، لیڈر اور قائد کے ہیں، یہاں اس سے کیا مراد ہے ؟ اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد پیغمبر ہے یعنی ہر امت کو اس کے پیغمبر کے حوالے سے پکارا جائے گا، بعض کہتے ہیں، اس سے آسمانی کتاب مراد ہے جو انبیاء کے ساتھ نازل ہوتی رہیں۔ یعنی اے اہل تورات ! اے اہل انجیل ! اور اے اہل قرآن ! وغیرہ کہہ کر پکارا جائے گا بعض کہتے ہیں یہاں ' امام سے مراد نامہ اعمال ہے یعنی ہر شخص کو جب بلایا جائے گا تو اس کا نامہ اعمال اس کے ساتھ ہوگا اور اس کے مطابق اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اسی رائے کو امام ابن کثیر اور امام شوکانی نے ترجیح دی ہے۔
71۔ 2 فَتِیل اس جھلی یا تاگے کو کہتے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
39: یعنی اس معاملہ میں نہ کوئی ہم سے کسی قسم کی باز پرس کرسکتا ہے کہ ہم نے ایسے لوگوں کو کیوں ہلاک کیا، اور نہ کوئی ہمارے فیصلے کو ٹالنے کے لئے ہمارا پیچھا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
یہ ایک نیا منظر ہے ، مناظر قیامت میں سے۔ تمام لوگ میدان میں حشر میں ہوں گے۔ ہر جماعت کو اس کے نام و عنوان اور اس کے امام کے ساتھ پکارا جائے گا۔ اگر کسی کا کوئی نبی ہوگا تو وہ ان کا امام ہوگا۔ یا دنیا میں اگر ان کا کوئی پیشوا اور مقتداء ہوگا تو اس کے ساتھ۔ امام کے سامنے ان کو ان کا نامہ اعمال تھمایا جائے گا۔ دائیں ہاتھ ، جن کو اعمال نامے دئیے جا رہے ہیں وہ ان کو خوشی خوشی سے پرھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ان کے اعمال کا پورا پورا اجر ان کو مل رہا ہے۔ ایک فقیل (وہ دھاگہ جو گٹھلی کے درمیان ہوتا ہے) کے برابر بھی ان پر ظلم نہ ہوگا۔ جس شخص نے اس دنیا میں دلائل ہدایت کے دیکھنے میں اندھے پن کا ثبوت…
Read the full tafseer →8 یہاں یہ بتلانا ہے کہ دنیا میں فطری حیثیت سے انسان کو جو عزت و فضیلت بخشی تھی اس نے کہاں تک قائم رکھی اور کتنے ہیں جنہوں نے انسانی عز و شرف کو خاک میں ملا دیا۔ خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن ہر فرقہ اس چیز کی معیت میں حاضر ہوگا جس کی پیروی اور اتباع کرتا تھا۔ مثلاً مومنین کے نبی، کتاب، دینی پیشوا، یا کفار کے مذہبی سردار، بڑے شیطان اور جھوٹے معبود، جنہیں فرمایا ہے (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ) 28 ۔ القصص :41) اور حدیث میں ہے " لتتبع کل امۃٍ ماکانت تعبد " اس وقت تمام آدمیوں کے اعمالنامے ان کے پاس پہنچا دیے جائیں گے۔ کسی کا اعمالنامہ سامنے سے داہنے ہاتھ میں اور کسی کا…
Read the full tafseer →آیت 71 يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ
پھر ذرا اس دن کا خیال کرو جس دن تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے لیے اس طرح بلایا جائے گا کہ ہر گروہ اپنے راہنما یا لیڈر کے ساتھ حاضر ہوگا۔ پچھلی آیات میں تمام مخلوق پر انسان کی فضیلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ جب انسان کو اس کائنات میں اس قدر اعلیٰ مقام اور مرتبے سے نوازا گیا ہے تو پھر اس کا محاسبہ بھی ہونا چاہیے : ”جن کے رتبے ہیں سوا ‘ ان کی سوا مشکل ہے !“
Read the full tafseer →89 امام سے مراد کسی امت کا نبی بھی ہوسکتا ہے اور وہ شخص بھی جسے آپ کی زندگی کے بعد پیشوا سمجھا گیا ہو۔ اور یہ بلانا اس طرح ہوگا : اے موسیٰ کی امت، اے محمد ﷺ کی امت، اے عیسیٰ کی امت یا اے قرآن والو ! اے انجیل والو، اے تورات والو، اسی طرح ہر گروہ والوں کو اس گروہ کے بانی کے نام سے پکارا جائے گا۔
90 اللہ کے فرمانبرداروں کو ان کا اعمال نامہ سامنے سے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہ ایک حسی مشاہدہ ہوگا جسے دیکھ کر ہر شخص اس کے جنتی ہونے کا اندازہ لگا سکے گا۔ ایسے شخص بہت خوش و خرم ہوں گے اور خوشی سے اپنا اعمال نامہ دوسروں کو بھی پڑھنے کو کہیں گے اور انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا اجر مل جائے گا…
Read the full tafseer →103۔ (میدان حشر میں حساب کتاب کے لیے) امام کی تشریح یہاں عام طور پر یہی سمجھی گئی ہے۔ الامام ماعمل واملی فکتب علیہ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ اے بکتابھم الذی فیہ اعمالھم (ابن جریر، عن الحسن) قال ابن عباس والحسن والضحاک امامہ کتاب عملہ (جصاص) لیکن دوسرے معنی یہ بھی اکابر ہی سے مروی ہیں کہ انسان گروہ در گروہ اپنے پیشواؤں اور لیڈروں یا اپنے زمانہ کے انبیاء کے ساتھ بلائے جائیں گے۔ قال مجاھد وقتادۃ امامہ نبیہ (جصاص) قال ابوعبیدۃ بمن کانوا یاتمون بہ فی الدنیا (جصاص) اور امام ابن جریر نے ترجیح اسی دوسرے مفہوم کو دی ہے۔ فان الاغلب من استعمال العرب الامام فی ما ائتم واقتدی بہ (ابن جریر) ۔
104۔ یعنی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
آیت نمبر 71 تا 77
ترجمہ : اس دن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس دن ہم ہر گروہ (امت) کو اس کے نبی کے ساتھ بلائیں گے، یوں کہا جائے گا اے فلاں نبی کی امت یا ان کو ان کے نامۂ عمل کے ساتھ بلایا جائیگا، یوں ندا دی جائے گی اے صاحب خیر اور اے صاحب شر اور وہ قیامت کا دن ہوگا، تو ان میں سے جس کو دائیں ہاتھ میں نامہ عمل دیا جائیگا تو یہ لوگ خوش نصیب اور دنیا میں صاحب بصیرت تھے تو وہ لوگ اپنے اعمال ناموں کو (خوشی خوشی) پڑھیں گے اور ان کے اعمال میں سے گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کمی نہ کی جائے گی اور جو اس دنیا میں حق (بینی) سے اندھا رہا ہوگا تو وہ آخرت میں بھی راہ نجات اور نامۂ عمل کے پڑھنے سے اندھا رہے گا اور…
Read the full tafseer →يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ: جس روز ہم تمام آدمیوں کو ان کے امام کے ساتھ طلب کریں گے۔
یعنی یاد کرو اس دن کو یا اس روز لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ جب سب لوگوں کو ہم حساب فہمی کے لئے طلب کریں گے۔
مجاہد اور قتادہ نے کہا امام سے مراد ہے ہر امت کا نبی۔ ابو صالح اور ضحاک نے کہا وہ الٰہی کتاب مراد ہے جو ہر امت کو دی گئی تھی۔ ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر امت کو ان کے امام اور ان کے رب کی کتاب کے ساتھ طلب کیا جائے گا۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ امام سے مراد ہے ہر قوم کا وہ امام وقت جو اپنی قوم کو گمراہ کرتا…
Read the full tafseer →(71) قیامت کے دن جب کہ ہم تمام انسانوں کو ان کے انبیاء کرام ؑ کے ساتھ یا ان کے نامہ اعمال سمیت یا یہ کہ ان کے دعوت ہدایت دینے والے یا دعوت گمراہی دینے والے کے ساتھ ملا دیں گے۔
پھر جس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو ایسے حضرات اپنی نیکیوں کو خوش ہو کر پڑھیں گے اور ان کی نیکیوں میں ذرا کمی نہ کی جائے گی اور نہ ان کی برائیوں میں ذرا اضافہ کیا جائے گا۔
کھجور کی گٹھلی کے درمیان جو لکیر ہوتی ہے اس میں جو چیز ہو اس کو فتیل کہتے ہیں اور انگلیوں کی جڑوں میں جو معمولی سا میل کچیل ہو، اس معنی میں بھی لفظ فتیل کا استعمال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ : امام کا معنی پیشوا بھی ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِيْنَ اِمَامًا) [ الفرقان : 74 ] ”اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا۔“ دوسرا معنی کتاب ہے، فرمایا : (وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ) [ یٰسٓ : 12 ] ”اور ہم نے ہر چیز کو ایک واضح کتاب میں محفوظ کر رکھا ہے۔“ پہلا معنی مراد ہو تو اہل ایمان کے امام انبیاء ؑ ہوں گے اور کفار و مشرکین کے امام ان کے باطل سردار ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (وَجَعَلْنٰهُمْ اَىِٕمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ) [ القصص : 41 ] ”اور ہم نے انھیں ایسے سردار بنایا جو آگ کی طرف دعوت دیتے تھے۔“ وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 71
قولہ تعالیٰ : یوم ندعواکل اناس بامامھم ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی مکرم ﷺ نے قول باری تعالیٰ : یوم ندعوا کل اناس بامامھم کے بارے میں فرمایا :” ان میں سے ایک کو بلایا جائے گا اور اس کا بامۂ عمل اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اور اس کا جسم اس کے لئے ساٹھ گز تک پھیلادیا جائے گا اور اس کا چہرہ روشن کردیا جائے گا اور اس کے سر پر موے تیوں کا تاج رکھا جائے گا جو چمک رہا ہوگا پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف چل کر آئے گا اور وہ دور سے ہی اسے دیکھ لیں گے اور کہنے لگیں گے : اے اللہ ! ہمیں اس کی مثل عطا فرما اور ہمارے لئے اس میں برکت عطا فرما یہاں تک کہ وہ ان کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
1:۔ طبرانی، بیہقی نے شعب میں اور خطیب نے تاریخ میں عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بنو آدم سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ عزت والی نہ ہوگی پوچھا گیا یا رسول اللہ ! مقرب فرشتے بھی (زیادہ عزت والے نہ ہوں گے) فرمایا فرشتے تو سورج اور چاند کی طرح مجبور ہیں۔
2:۔ بیہقی نے طریق آخر سے ابن عمر ؓ سے موقوفا روایت کیا کہ یہ روایت بھی صحیح ہے۔
3:۔ بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مومن اللہ کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت والا ہے۔
4:۔ طبرانی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب آپ نے بنو آدم کو دنیاعطا فرمائی وہ اس میں کھاتے ہیں…
Read the full tafseer →[يَوْمَ : جس دن ] [نَدْعُوْا : ہم بلائیں گے ] [كُلَّ اناسٍۢ: ہر گروہ کو ] [بِاِمَامِهِمْ : ان کے ریکارڈ کے ساتھ ] [فَمَنْ : پس وہ جس کو ] [اُوْتِيَ : دی گئی ] [كِتٰبَهٗ : اس کی کتاب ] [بِيَمِيْنِهٖ : اس کے داہنے ہاتھ میں ] [فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [يَقْرَءُوْنَ : پڑھیں گے ] [كِتٰبَهُمْ : اپنی کی کتاب ] [وَلَا يُظْلَمُوْنَ : اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ] [فَتِيْلًا : کسی دھاگے برابر بھی ]
نوٹ۔ 1: آیت نمبر۔ 2:78 کی لغت میں ہم بتا چکے ہیں کہ قرآن مجید میں لفظ ” امام “ تین معانی میں استعمال ہوا ہے۔ (1) راستہ، (2) ریکارڈ اور (3) پیشوا۔ ہم نے جو بھی دوچار تفاسیر دیکھی ہیں ان سب نے زیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
قیامت کے دن جن کے داہنے ہاتھ میں اعمالنامے دئیے جائیں گے وہ اپنے اعمالنامے پڑھ لیں گے
جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے آخرت میں بھی اندھا ہوگا
اوپر دو آیتوں کا ترجمہ لکھا گیا ہے پہلی آیت میں اعمال ناموں کی تفصیل اور دوسری آیت میں راہ ہدایت سے منہ موڑنے والوں کا اور قصداً اندھا بننے والوں کا تذکرہ ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔ قرآن مجید میں لفظ ” امام “ کئی معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مفسر قرطبی نے حضرت ابن عباس اور حسن اور قتادہ ؓ سے یہاں بِاِمَامِھِمْ کی تفسیر ” بکتابھم “ نقل کی ہے۔
علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ والکتاب یسمی اماما لانہ یرجع الیہ فی تعرف اعمالھم لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
بیان فرق مراتب در روز قیامت
قال اللہ تعالیٰ یوم ندعوا کل اناس بامامہم .... الیٰ .... واضل سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں انسان کے دنیوی حالات بیان فرمائے اب اس کے بعد کچھ اخروی حالات بیان کرتے ہیں جہاں فرق مراتب کا ظہور ہوگا کہ نیک لوگوں کے نامہائے اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور بدوں کے بائیں ہاتھ میں اور انسان کی حقیقی تکریم و تفضیل اس دن ظاہر ہوگی۔
چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو جب ہم پر فرقہ کو اس کے پیشوا سمیت بلائیں گے یعنی ہر امت اپنے نبی اور کتاب کے ساتھ بلائی جائے گی اور جو نبی کو نہیں مانتے وہ اپنے سرداروں کے ساتھ بلائے جائیں گے جن کو وہ اپنا مقتدا اور پیشوا مانتے تھے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
65:۔ بشارت و تخویف اخری ہے۔ قیامت کے دن ہر گروہ اپنے پیشوا کے ساتھ میدان حشر میں حاضر ہوگا۔ ہر امت کے نیک و موحد مومنین اپنے انبیاء (علیہم السلام) کیساتھ حاضر ہوں گے اور ہر امت کے مشرک اور بدکار اپنے مشرک پیشواؤں کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ ” فمن اوتی کتابہ الخ “ یہ اصحاب الیمین کا ذکر ہے یعنی مومنوں کو اعمالنامے دائیں ہاتھ میں دئیے جائینگے وہ انہیں پڑھ کر خوش ہوں گے اور انہیں ان کی تمام نیکیوں کی پوری پوری جزا دیجائیگی۔ ای ولا ینقصون من ثواب اعمالھم ادنی شیء (خازن ج 4 ص 171) ۔ ” ومن کان فی ھذہ اعمی الخ “ یہ اصحاب الیمین کے مقابلے میں اصحاب الشمال کا ذکر ہے اور جو دنیا میں اندھا رہا اور راہ توحید کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں باقی مخلوق پر انسان کی فطری برتری کا ذکر تھا ، اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اولاد آدم کو عزت بخشی اور اس کے لیے بری اور بحری سواریاں مہیا کیں ۔ اب انسان کو فضاؤں پر بھی تسلط حاصل ہے اور انہیں ہوا کے دوش پر تیز ترین سفر کی سہولتیں حاصل ہیں ، پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو روزی کے طور پر پاکیزہ اور عمدہ چیزیں عطا فرمائیں اور اس طرح اللہ کی مخلوق میں سے اکثریت پر اسے فضیلت عطا فرمائی اب اصل سوال یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو جو عزت افزائی کی ہے اس نے اپنے آپ کو کس حد تک اس کا اہل ثابت کرکے اسے قائم رکھا ہے ، آگے محاسبے اور جزائے عمل کی منزل آنے والی ہے اس وقت پتہ چلے گا کہ انسان…
Read the full tafseer →يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا 71
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
ترکیب : یوم ندعوا مفعول اونصب اذکر محذوف کا اے اذکر یوم الخ یوم ندعوانصب یا باضمارا ذکر یا ظرف ولایظلمون۔
تفسیر : انسانوں کا باہمی فرق مراتب بیان فرما کر آخرت کا فرق مراتب جو حقیقی تفصیل ہے بیان فرماتا ہے یوم ندعوا کل اناس بامامہم یعنی یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہر ایک شخص اپنے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا۔ امام لغت میں اس کو کہتے ہیں کہ جس کی پیروی اقتدار کی جاتی ہے ہدایت میں خواہ گمراہی میں۔ پس نبی امت کا امام ہے اور خلیفہ رعیت کا اور قرآن مسلمانوں کا امام ہے اور نمازیوں کا امام نماز پڑھانے والا ہے اور اسی طرح انسان کا دلی منشاء جو اس کو نیک یا بدکام پر تحریک کرتا ہے وہ بھی اس کا امام ہے اور…
Read the full tafseer →یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍ م بِاِمَامِہِمْ ج فَمَنْ اُوْتِیْ کِـتٰبـَہٗ بِیَمِیْـنِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ یَقْرَئُ وْنَ کِـتٰـبَھُمْ وَلاَ یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 71)
(اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم ہر گروہ کو ان کے رہنما سمیت بلائیں گے، سو جن کو ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا گیا تو وہ اپنے اعمال نامہ کو پڑھیں گے اور ذرا بھی ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گی۔ )
یوم حساب کی ہولناکی
انسانوں کو ان کی ذمہ داریاں یاد دلانے کے بعد انھیں آخرت کا دن یاد دلایا گیا، جس دن اللہ تعالیٰ کی عدالت قائم ہوگی اور انسانوں کا ہر گروہ اپنے امام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہوگا۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انسان کو اشرف المخلوقات اور بحروبر میں عزت و عظمت سے نوازنے کے ساتھ کھلا نہیں چھوڑ دیا گیا۔ بلکہ اس کا پورا پورامحاسبہ ہوگا۔
قرآن مجید بار بار یہ حقیقت ازبر کرواتا ہے کہ اے انسان ! تیرے ایک ایک عمل اور لفظ کو ضبط تحریر میں لایا جارہا ہے۔ کراماً کاتبین صبح و شام تیرے اعمال کا اندارج کر کے اسے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر رہے ہیں۔ قیامت کے دن پورے کا پورا ریکارڈ کتاب کی شکل میں تیرے سامنے رکھ دیا جائے گا پھر حکم ہو گا
(اقْرَأْ کِتَابَکَ کَفَی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا )[ بنی اسرائیل : 14]
” اپنی کتاب یعنی اعمال نامے کو پڑھ۔ جو تیرے حساب کے لیے کافی ہے۔ “
انسان…
Read the full tafseer →قیامت کا ایک منظر :
71: یَوْمَ نَدْعُوْا (جس دن ہم بلائیں گے) یہ اذکر محذوف کی وجہ سے منصوب ہے۔ کُلَّ اُنَاسٍم بِاِمَا مِھِمْ (ان کے مقتدا کے ساتھ طلب کریں) باءؔ حال کیلئے ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : مختلطین بامامھم اس حال میں کہ وہ اپنے امام سے ملے جلے ہونگے امام سے ہر وہ مراد ہے جس کی انہوں نے اقتداء کی ہوگی خواہ وہ پیغمبر ہوں نمبر 2۔ دین میں مقدم ہو نمبر 3۔ کتاب نمبر 4۔ دین ‘ محاورہ میں اس طرح نسبت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ یَا اَتْبَاع فُلَان یَا اَہْلَ دِیْن کَذَا کتاب کذا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے نامہ عمل مراد ہے۔ جیسے کہتے ہیں یا اصحاب کتاب الخیر۔ یا اصحاب کتاب الشر۔
فَمَنْ اُوْتِیَ کِتٰبَہٗ…
Read the full tafseer →71۔” یوم ندعوا کل اناس بامامھم “ مجاہد اور قتادہ کا بیان ہے کہ امام سے مراد ہے ہر امت کا نبی ۔ ابو صالح اور ضحاک کا قول ہے کہ وہ کتاب الٰہی مراد ہے جو ہر امت کو دی گئی تھی ۔ حسن اور ابو العال کا قول ہے کہ امر سے مراد ہیں وہ اعمال جو زندگی میں انسان ہی بھیج دینا ہے ۔ قتادہ کا قول ہے کہ امام سے مراد ہے اعمال نامہ ، کتاب کو اماام کہا جاتا ہے ۔ اس آیت کے سیاق کلام سے معلوم ہو رہا ہے۔
” فمن اوتی کتابہ بیمینہ “ اور کتاب کو امام کہا گیا ہے ۔ جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے۔ ” وکل شی احصیناہ فی امام مبین “ سعید بن جبیر اور ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ امام سے مرادہر قوم کا وہ امام وقت جو اپنی قوم کو گمراہ…
Read the full tafseer →71:۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء مفسرین نے لفظ امام کے مختلف معنے لیے ہیں لیکن نامہ اعمال کے لفظ کے ساتھ لفظ امام کی تفسیر کا کرنا زیادہ صحیح ہے کس واسطے کہ یہ تفسیر ترمذی اور مسند بزار وغیرہ میں خود آنحضرت ﷺ سے آچکی ہے چناچہ ابوہریرہ ؓ سے ترمذی مسند بزار اور صحیح ابن حبان میں معتبر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بعضے لوگوں کو بلا کر ان کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا جس سے ایسے شخص کے منہ پر ایک طرح کا نور آجائے گا اس شخص کے سر پر ایک تاج رکھ دیا جائے گا جس جماعت سے یہ شخص بلایا گیا تھا اس جماعت میں واپس آن کر باقی کے لوگوں کو خوشخبری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(آیت نمبر (71:
قیامت کے روز مخلوق کا جو حال ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ وہ تمام لوگوں کو ( اپنی عدالت میں) بلائے گا ان کے ساتھ ان کے امام اور رشدو ہدایت کی طرف راہنمائی کرنے والے راہ نما یعنی انبیاء ومرسلین اور ان کے نائبین بھی ہوں گے۔ پس ہر امت اللہ کے حضور پیش ہوگی اور اس امت کو وہی رسول ‘ اللہ کے حضور پیش کرے گا جس نے دنیا میں اسے دعوت توحید پیش کی تھی۔ ان کے اعمال اس کتاب کے سامنے پیش کیے جائیں گے ‘ جسے لے کے رسول اس امت میں مبعوث ہوا تھا کہ آیا ان کے اعمال اس کتاب کے موافق ہیں یا نہیں۔ تب یہ لوگ دو قسم کے گروہوں میں منقسم ہوجائیں گے۔ (فمن اوتی کتبہ بیمینہ) ” پس جس…
Read the full tafseer →روز محشر امام کون ہوگا ؟
قول باری ہے (یوم ندعوا کل اناس بامامھم ۔ پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے) ایک قول کے مطابق یہ اعلا ن ہوگا کہ ابراہیم کے پیروکاروں کو لائو، موسیٰ کے پیروکاروں کو لائو، محمد ﷺ کے پیروکاروں کو لائو، یہ اعلا سن کر انبیاء (علیہم السلام) کے تمام پیروکار ایک ایک کر کے کھڑے ہوجائیں گے اور اپنے اپنے نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑ لیں گے پھر پیشوا یان ضلال کے پیروکاروں کو نام بنام اسی طریقے سے پکارا جائے گا۔ مجاہد اور قتادہ کا قول کہ امام سے مراد نبی ہے۔ حضرت ابن عباس ، حسن اور ضحاک کا قول ہے کہ امام سے مراد نامہ اعمال ہے ابوعبیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
128۔ بنی آدم کی تکریم و تفضیل اور اس کے مقتضی کی تذکیر ویاد و دہانی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم نے بنی آدم کو تعظیم و تکریم سے نوازا اور ان کو اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت و بزرگی بخشی “۔ ان کو حسن صورت اور عمدہ قامت کے علاوہ عقل کا وہ عظیم جوہر بخش کر جس سے ان کو اس پوری مخلوق پر فوقیت اور غلبہ حاصل ہوجاتا ہے اور ان کو مخدوم ومطاع بنا کر دوسری تمام مخلوق کو ان کے کام اور اس کی خدمت میں لگادیا۔ پھر تم لوگ سوچو کہ یہ کتنا بڑا احسان ہے تمہارے خالق اور مالک کا تم پر۔ اور اس کی بناء پر کیا حق بنتا ہے اس کا تم لوگوں پر۔ پھر کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے کہ یہ انسان اپنے اسی خالق ومالک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
انسان کا انجام
تشریح : ان آیات میں میدان حشر اور حساب کتاب کے دن کا نقشہ بڑے ہی ڈرا دینے والے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیشمار دفعہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ ہم مرنے کے بعد ضرور زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے تو یہاں بھی اسی بات کو دہرایا جارہا ہے کہ سب لوگ اپنے اپنے نبی یا اپنے پیشوا کے ساتھ حاضر ہوں گے اور پھر ان کے اعمال نامے جو کہ دنیا کی زندگی میں تیار کیے جا چکے ہوں گے ان کے ہاتھ میں دیے جائیں گے اور اسی وقت ان کا نتیجہ اس طرح سامنے آجائے گا کہ اچھے لوگوں کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے جبکہ برے لوگوں کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے۔ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
(رکوع نمبر 8)
اسرارومعارف
اب اگر یہ برائی کرتا ہے یا شیطان کی پیروی کرتا ہے تو آخر ایک روز ہر انسان کو اس کے نامہ اعمال سمیت بلایا جائے گا اور میدان حشر میں اکٹھا کیا جائے گا ۔
(امام)
کہ امام سے مراد اعمالنامہ ہے کہ حدیث شریف میں یہ معنی بھی وارد ہے اور امام بمعنی پیشوا ومقتدا بھی مراد ہے کہ جیسے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے والے یا ان کے نائبین مشائخ وعلماء کے پیچھے چلنے والے اور دوسرے شیطان کے پیروکار تو گویا دنیا میں جو عمل اور کردار ہے یا جس کی پیروی کرتا ہے ، اسی کے گروہ یا طبقے میں اٹھایا جائے گا کہ امام کا معنی مطلق پیشوا ہے نیک ہو بد مومن ہو یا کافر کہ امامت نبوت کی طرح کوئی…
Read the full tafseer →(شوکانی)3 مثلاً پکارا جائے :” اے محمد (ﷺ) کی امت، اے موسیٰ (علیہ السلام) کی امت والے ! علی ہذا القیاس یا اے قرآن کے ماننے والو ! اے توراۃ کے ماننے والو ! اے انجیل پر عمل کرنے والو۔ “ بعضوں نے امام سے مراد ” نامہ اعمال “ لیا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا :” وکل شی حصینہ فی امام مبین اور ہر چیز کو ہم نے ایک واضح امام میں شمار کر رکھا ہے۔ (یٰسین :12) حافظ ابن کثیر نے اسی قول کو راجح قرار دیا ہے اور امام سے مراد ہر وہ شخص ہوسکتا ہے جس کی دنیا میں پیروی کی جاتی ہے۔ چناچہ اہل ایمان کے امام انبیاء (علیہم السلام) اور کفار و مشرکین کے امام ان کے سرداران باطل ہونگے جیسے فرمایا : وجعلنا ھم اتم یدعون…
Read the full tafseer →(17:71) یوم۔ فعل محذوف اذکرکا مفعول بہٖ ہے ای اذکر یوم ندعوا۔۔ الخ۔
یقرء ون مضارع جمع مذکر غائب قراء ۃ مصدر (باب فتح) وہ پڑھیں گے۔ وہ پڑھتے ہیں۔
فتیلا۔ فتل یفتل (ضرب) فتل رسی بٹنا۔ فتلت الحبل فتلا رسی کو بل دیتا بٹی ہوئی رسی کو مفتول کہتے ہیں۔ کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں جو ایک باریک سا ڈورا ہوتا ہے اسے بھی فتیل کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ رسی کی شکل و صورت پر ہوتا ہے۔
فتیل اصل میں اس دھاگے کو کہتے ہیں جو دو انگلیوں میں پکڑ کر بٹی جاتی ہے۔ یہ حقیر چیز کے لئے ضرب المثل ہے۔ فتیلہ وہ بتی جس سے چراغ روشن کیا جاتا ہے۔ لا یظلمون فتیلا۔ ان پر ذرہ برابر بھی ظلم یا بےانصافی نہیں کی جائے گی۔ نیز ملاحظہ ہو 4:49 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–77
لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 77
اوتی دیا گیا۔ یمین داھنا ہاتھ۔ قتیل دھاگہ، ذرہ برابر، اعمی اندھا، نابینا۔ ثبتنا ہم نے ثابت قدم رکھا۔ ضعف دوگنا۔ دوہرا۔ سنۃ طریقہ، قانون الٰہی۔ تحویل تحویل کا معنی صرف تبدیلی ہے۔
تشریح : آیت نمبر 71 تا 77
اصل میں جس شخص کو ایمان قبول کر کے راہ حق پر چلنا ہے اس کو نہ تو معجزات، کرامات اور ادھر ادھر کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ معمولی باتوں سے اس کے قدم ڈگمگاتے ہیں بلکہ اس نے جس سچائی کو قبول کرلیا ہے اس پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہے لیکن جس کو صرف باتیں بنانا ہیں اور اس کو آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی اس کو سوائے اعتراضات کرنے کے دوسرا کام نہیں ہوتا۔ چناچہ کفار…
Read the full tafseer →اعمال نامے کا ذکر
اس آیت کی تفسیر آنحضرت ﷺ نے فرمائی کہ قیامت کے دن بعضے لوگوں کو بلا کر ان کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جاوے گا جس سے ایسے شخص کے منہ پر ایک طرح کا نور آجاوے گا، اس شخص کے سر پر ایک تاج رکھ دیا جاوے گا۔ جس جماعت میں سے یہ شخص بلایا گیا تھا اس جماعت میں واپس آن کر باقی کے لوگوں کو خوشخبری دیوے گا کہ ہماری ساری جماعت کے لوگوں کے ساتھ یہی معاملہ پیش آوے گا اور جماعت کے لوگ اس کو نجات کی مبارک باد دیویں گے۔ اور بعضے لوگوں کو ایک جماعت میں سے ہر ایک شخص کو بلا کر بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جاوے گا جس سے اس شخص کا منہ کالا ہوجاوے گا۔ اور وہ شخص جس جماعت میں سے گیا تھا اس…
Read the full tafseer →[53] احادیث میں تفصیل یہ بیان ہوئی ہے کہ میدان حشر میں لوگوں کے نامہ اعمال ان کے ہاتھوں میں اڑ اڑ کر پہنچیں گے۔ جنتی کے داہنے ہاتھ میں اور جہنمی کے بائیں ہاتھ میں۔ تو داہنے ہاتھ میں پانے والے مارے خوشی کے جلد جلد انھیں پڑھنے لگیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
(ف 1) اسلام سے قبل انسان کو فی نفسہ گناہگار اور مجرم قرار دیا جاتا تھا ، انسان کے لئے ضروری تھا کہ وہ کائنات کی ہر چیز کا احترام کرے وہ پہاڑوں کے سامنے جھکے دریاؤں کو پوجے بتوں کو سجدہ کرے ، آفتاب ماہتاب اور ستاروں کو معبود سمجھے سانپ اور بچھوؤں کو دیوتا قرار دے ، صندل کی معمولی لکڑی اس کی جبین ناز کا قشقشہ بنے ہر آن ان معبودوں سے خائف رہے ، دنیا کی ہر چیز کو قابل عبادت سمجھے ۔
قرآن نے انسان کے مرتبہ کو بلند قرار دیا جنت اس کا مسکن ٹھہرایا اور فرشتے اس کی تعلیم کے لئے جھکے ، احسن تقویم اور تکریم کا خلعت عطا ہوا ، اور طے پایا کہ انسانی مخلوق کائنات کی ہر شے سے افضل ہے ، بحر وبر کی حکومتیں اس…
Read the full tafseer →-7 1 اور وہ دن قابل ذکر ہے جس دن ہم ہر فرقے کو ان کے سرداروں اور پیشوائوں کے ساتھ بلائیں گے پھر جس شخص کا نامہ اعمال اور اس کی کتاب دائیں ہاتھ میں دی جائے گی تو ایسے لوگ اپنی اپنی کتاب کو پڑھتے ہونگے اور خوش ہو کر پڑھنے لگیں گے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ یعنی جو شخص اور جو فرقہ جس کے کہنے پر چلتا تھا اس پیشوا کو بھی ساتھ ہی طلب کیا جائے گا۔ پھر تمام لوگوں کے نامہ اعمال اڑا دیئے جائیں گے اور نیک لوگوں کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں آجائیں گے تب خوش ہو کر پڑھیں گے بلکہ دوسروں کو بھی بلا کر کہیں گے آئو میری کتاب اور میرا نامہ اعمال پڑھو۔ ھائوم اقرئو اکتابیہ
حضرت شاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ف 4۔ انسان میں بعض صفات کا صہ ایسے ہیں جو اور حیوانات میں نہیں۔ جیسے حسن صورت جس میں موزونی قامت بھی آگیا، اور عقل اور ایجاد ضائع وغیرہا، اور یہ نعم تمام نوع کو عام ہیں، پس بنی آدم سے مراد سب بنی آدم ہیں۔
5۔ چونکہ اوپر کرمنا سے شبہ ہوسکتا تھا کہ ان صفات میں بنی آدم سب سے افضل ہے حالانکہ یہ امر خلاف واقع تھا کیونکہ یہ امور مدار فضیلت علی الملائکہ نہیں ہوسکتے، اور جو صفات مدار فضیلت علی الملائکہ ہیں وہ کل بنی آدم میں متحقق نہیں، اس لئے فضلنا میں یہ ابہام رفع کردیا کہ مراد تکریم سے تفضیل علی بعض الخلائق ہے، یعنی حیوانات اور حیوانات سے جو کم رتبہ ہیں، پس آیت ملائکہ اور بشر کے تفاضل متکلم فیہ بین…
Read the full tafseer →ایک دن آنے والا ہے کہ ہم ہر ایک گروہ کو اس کے پیشوا کی پہچان سے پکاریں گے :
88۔ نکرہ اور معرفہ کی بحث کو اٹھا کر طوفان بدتمیزی بپا کرنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ زیر نظر آیت میں (یوم) کا لفظ نکرہ ہے معرفہ نہیں لیکن اس (یوم) سے مراد سب کے نزدیک ایک خاص دن ہے جو معرفہ ہے نکرہ نہیں اور آنے والی عبارت یا جملہ نے ہی اس کو معرفہ بنا دیا یعنی حشر کا دن وہ دن ہے جس دن ہم انسانوں کو ان کے پیشواؤں کے نام سے پکارا جائے گا ۔ مفسرین (امام) کے بہت سے مفہوم بتاتے ہیں اور نتیجہ سب کا ایک ہی نکلتا ہے ، کہا گیا ہے کہ امام سے مراد ہر امت کا رسول ہے گویا ہر امت کو اس کے رسول کے نام سے پکارا جائے گا اور یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
Commentary
The word: اِمَام (Imam) in the first sentence of verse يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ translated as ' (Think of) the Day We will call every people with their book of deeds' appears here in the sense of 'book' as in Surah Ya Sin: وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ (and We have enumerated everything in a clear book - 36:12). Here, إِمَامٍ مُّبِينٍ means a clear book. Then, 'kitab' is called 'imam' for the reason that, in the event of some error or difference, one turns to the book very much like turning to a religious leader who is followed. (Qurtubi)
And…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
86. We learn from the Quran that on the Day of Resurrection, the righteous people will be given their records in their right hands and they will be overjoyed to have a look at it and will show it to others. As regards to the wicked people, they will get their records in their left hands and in their shame will try to hide it behind their backs. Please refer to (Surah Al-Haaqqa, Ayats 19-28), (Surah Al-Inshiqaq, Ayats 7-13).
Read the full tafseer →