انسان پر اللہ کے انعامات
سب سے اچھی پیدائش انسان کی ہے جیسے فرمان ہے آیت (لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْٓ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ ۡ) 95۔ التین :4) ہم نے انسان کو بہترین مسافت پر پیدا کیا ہے۔ وہ اپنے پیروں پر سیدھا کھڑا ہو کر صحیح چال چلتا ہے، اپنے ہاتھوں سے تمیز کے ساتھ اپنی غذا کھاتا ہے اور حیوانات ہاتھ پاؤں سے چلتے ہیں منہ سے چارہ چگتے ہیں۔ پھر اسے سمجھ بوجھ دی ہے جس سے نفع نقصان بھلائی برائی سوچتا ہے۔ دینی دنیوی فائدہ معلوم کرلیتا ہے۔ اس کی سواری کے لئے خشکی میں جانور چوپائے گھوڑے خچر اونٹ وغیرہ۔ اور تری کے سفر کے لئے اسے کشتیاں بنانی سکھا دیں۔ اسے بہترین، خوشگوار اور خوش ذائقہ کھانے پینے…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 85
یعنی یہ ایک بالکل کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ نوع انسانی کو زمین اور اس کی اشیاء پر یہ اقتدار کسی جن یا فرشتے یا سیارے نے نہیں عطا کیا ہے، نہ کسی ولی یا نبی نے اپنی نوع کو یہ اقتدار دلوایا ہے۔ یقینا یہ اللہ ہی کی بخشش اور اس کا کرم ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر حماقت اور جہالت کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اس مرتبے پر فائز ہو کر اللہ کے بجائے اس کی مخلوق کے آگے جھکے۔
Read the full tafseer →معارف و مسائل
بنی آدم کی فضیلت اکثر مخلوقات پر کس وجہ سے ہے
آخری آیت میں اولاد آدم کی اکثر مخلوقات پر فوقیت اور افضیلت کا ذکر ہے اس میں دو باتیں قابل غور ہیں اول یہ کہ یہ افضلیت کن صفات اور کن وجوہ کی بناء پر ہے دوسرے یہ کہ اس میں یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے بنی آدم کو مختلف حیثیات سے ایسی خصوصیات عطا فرمائی ہیں جو دوسری مخلوقات میں نہیں مثلا حسن صورت اعتدال جسم اعتدال مزاج اعتدال قد و قامت جو انسان کو عطا ہوا ہے کسی دوسرے حیوان میں نہیں اس کے علاوہ عقل و شعور میں اس کو خاص امتیاز بخشا گیا ہے جس کے ذریعہ وہ تمام کائنات علویہ اور سفلیہ سے اپنے کام نکالتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اس کی قدرت بخشی ہے کہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا۔
انسان کو اس کی ذمہ داری کی یاد دہانی : اب یہ انسان کو اس کی ذمہ داری یاد دلائی ہے کہ ہم نے انسان کو جو عزت بخشی ہے، خشکی اور تری دونوں میں اس کے لیے سواری کا جو انتظام کیا ہے، اس کو جو پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اور اس کو اپنی بہت سی مخلوقات پر جو فضیلت دی ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ ان نعمتوں کا حق پہچانے اور اپنے رب کی ان نعمتوں کو پا کر اس سے اکڑنے اور اس کی نعمتوں کی ناشکری کرنے کے بجائے اس کا شکر گزار اور فرماں بردار بندہ بنے۔…
Read the full tafseer →70۔ ا یہ شرف اور فعل، بحیثیت انسان کے، ہر انسان کو حاصل ہے چاہے مومن ہو یا کافر۔ کیونکہ یہ شرف دوسری مخلوقات، حیوانات، جمادات و نباتات وغیرہ کے مقابلے میں ہے۔ اور یہ شرف متعدد اعتبار سے ہے جس طرح کی شکل و صورت، قدو قامت اور ہیئت اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے، وہ کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں، جو عقل انسان کو دی گئی ہے، جس کے ذریعے سے اس نے اپنے آرام و راحت کے لئے بیشمار چیزیں ایجاد کیں۔ حیوانات وغیرہ اس سے محروم ہیں۔ علاوہ ازیں اسی عقل سے صحیح، مفید و مضر اور حسین قبیح کے درمیان تمیز کرنے پر قادر ہے۔ علاوہ ازیں کائنات کی تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت پر لگا رکھا ہے۔ چاند سورج،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
39: یعنی اس معاملہ میں نہ کوئی ہم سے کسی قسم کی باز پرس کرسکتا ہے کہ ہم نے ایسے لوگوں کو کیوں ہلاک کیا، اور نہ کوئی ہمارے فیصلے کو ٹالنے کے لئے ہمارا پیچھا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →وحملنھم فی البر والبحر (71 : 07) ” او انہیں خشکی اور تری میں سواریاں عطا کیں “۔ خشکی اور تری میں انسانی ٹرانسپورٹ کا مہیا ہونا صرف اسی وجہ سے ممکن ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو ایک ایسی فطرت دی ہے اور ایسا نظام فطرت دیا ہے کہ وہ انسانی زندگی اور اس کی سہولیات کے لئے زر و معاون ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کے نظام اور خصوصاً زمین و آسمان کی گردش اور ساخت کو انسانی حیات کے موافق نہ بناتا تو اس کے لئے یہاں زندگی گزار تا یا زندہ رہنا ہی مشکل ہوتا۔ نظام فطرت کی تو اے طیبہ کو دیکھا جائے تو بہ نسبت انسان کے وہ بہت ، سرکش اور پر قوت ہیں اور انسان کے لئے بحر و بر میں یہ حکمرانی ممکن…
Read the full tafseer →7 یعنی آدمی کو حسن صورت، نطق، تدبیر اور عقل و حواس عنایت فرمائے جن سے دنیاوی و اخروی مضار و منافع کو سمجھتا اور اچھے برے میں تفریق کرتا ہے۔ ہر طرف ترقی کی راہیں اس کے لیے کھلی ہیں دوسری مخلوقات کو قابو میں لا کر اپنے کام میں لگاتا ہے۔ خشکی میں جانوروں کی پیٹھ پر یا دوسری طرح طرح کی گاڑیوں میں سفر کرتا اور سمندروں کو کشتیوں اور جہازوں کے ذریعہ بےتکلف طے کرتا چلا جاتا ہے۔ قسم قسم کے عمدہ کھانے، کپڑے، مکانات اور دنیاوی آسائش و رہائش کے سامانوں سے منتفع ہوتا ہے۔ ان ہی آدمیوں کے سب سے پہلے باپ آدم (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ نے مسجود ملائکہ اور ان کے آخری پیغمبر (علیہ السلام) کو کل مخلوقات کا…
Read the full tafseer →آیت 70 وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ
یہ آیت بہت واضح انداز میں اس حقیقت کا اظہار کر رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کی معراج climax انسان ہے۔ اس فلسفے کی وضاحت سورة النحل کی آیت 40 کی تشریح کے ضمن میں ہوچکی ہے۔ وہاں میں نے بہت تفصیل سے کائنات اور انسان کی تخلیق کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا نقطہ آغاز اللہ تعالیٰ کا امر کن ہے۔ حرف کن سے خنک نور کا ظہور ہوا اس نور سے ملائکہ اور انسانی ارواح کی تخلیق ہوئی پھر Big Bang کے نتیجے میں حرارت کا گولا وجود میں آیا جس کے متحرک ذرات سے کہکشائیں ستارے اور سیارے بنے۔ اسی دور میں اس حرارت سے جنات کی تخلیق…
Read the full tafseer →88 انسان اشرف المخلوقات کیسے ہے ؟ انسان کی دوسری تمام مخلوق پر فضیلت اور تکریم یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا جو سیدھا کھڑا ہو کر چلتا ہے پھر جس قدر توازن و اعتدال انسانی جسم میں ہے اور جس قدر اس کے اعضاء جسم کثیر المقاصد ہیں اتنے کسی دوسری کے نہیں۔ مخلوق میں سب سے برتر اللہ کے فرشتے تھے۔ اللہ نے ان سے بھی آدم کو سجدہ کروایا اور اس طرح سب مخلوق پر واضح کردیا کہ انسان ہی اشرف المخلوقات ہے۔ پھر انسان کا بچہ جو باقی تمام جانوروں کے بچوں سے کمزور پیدا ہوتا ہے اسے اتنی عقل عطا کی کہ وہ دنیا جہاں کی چیزوں کو اپنے کام میں لائے۔ بڑے بڑے جسیم اور طاقتور جانوروں کو رام کرکے ان پر…
Read the full tafseer →101۔ (اور اسے ایک معزز مخلوق بنایا ہے) بعض ادیان باطل خصوصا یہودیت ونصرانیت کی طرح اسلام کا یہ عقیدہ ہرگز نہیں کہ انسان ایک ذلیل ترین مخلوق ہے، جسے پید اکرکے اس کا خالق خود پچھتایا ! ملاحظہ ہوتوریت :۔” اور خداوند نے دیکھا کہ زمین پر انسان کی بدی بہت بڑھ گئی اور اس کے دل کے تصور اور خیال روز بروز صرف بد ہی ہوتے ہیں۔ تب خداوند زمین پر انسان کے پیدا کرنے سے پچھتایا اور نہایت دلگیر ہوا۔ اور خداوند نے کہا کہ میں انسان کو جسے میں نے پیدا کیا روئے زمین پر سے مٹا ڈالوں گا۔ انسان کو بھی اور حیوان کو بھی اور کیڑے مکوڑے اور آسمان کے پرندوں تک، کیونکہ میں ان کے بنانے سے پچھتاتا ہوں “۔ (پیدائش۔ 6: 6) آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ
اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور خشکی اور دریا میں ان کو سوار کیا اور نفیس نفیس (کھانے پینے) کی چیزیں ان کو عطا کیں۔
یعنی آدمی کو بہت خاص نعمتیں عطا کیں ‘ حسن صورت۔ سب سے زیادہ معتدل مزاج ‘ قد کا اعتدال ‘ عقل سے اشیاء میں امتیاز ‘ زبان ‘ تحریر اور اشاروں سے سمجھانے کی قوت معاش و معاد کی ہدایت ‘ زمین کی موجودات پر تسلط یعنی تمام چیزوں سے کام لینا اور مختلف ہنر اور پیشے اور تمام مادی عنصری اور فلکی کائنات کا ربط تاکہ انسان کو مختلف منافع حاصل ہوں اور اسباب رزق فراہم ہوں ‘ پھر دوسرے…
Read the full tafseer →(70) اور ہم نے آدم کی اولاد کو ہاتھ اور پیر عطا کر کے عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی میں جانوروں پر اور دریا میں کشتیوں پر سوار کیا اور ان کو جانوروں کی روزی کی بہ نسبت بہتر اور پاکیزہ روزی عطا کی، اور ہم نے ان کو جانوروں پر شکل و صورت اور ہاتھ پیروں کے اعتبار سے فوقیت دی۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کو بیشمار نعمتوں کے ساتھ عزت بخشی کہ ان کے جد امجد کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا فرمایا، جب کہ دوسری ساری مخلوق کو کلمۂ ”کُنْ“ سے پیدا فرمایا، پھر انھیں سیدھا قد عطا فرمایا، ہاتھوں سے کھانے کا طریقہ سکھایا، احسن تقویم (بہترین شکل و صورت) میں پیدا کیا، عقل و اختیار سے نوازا، لکھ کر اپنا علم اور تجربہ اگلی نسل کو منتقل کرنا سکھایا، ہر لمحہ نئی سے نئی ایجاد کی لیاقت بخشی۔ زمین کی ہر چیز اور ہر جانور کو اپنے کام میں لانے کا سلیقہ بخشا۔ سمندر میں جہازوں پر، زمین میں سواریوں پر اور فضا میں طیاروں پر (جن کا ذکر سورة نحل : 5 تا 8 میں ہے)…
Read the full tafseer →آیت نمبر 70
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولقد کرمنا بنی ادم الآیہ۔ جب ترہیب اور ڈرانے والی چیزوں میں سے جن کا ذکر کیا سو کیا تو ساتھ ہی ان پر انعام وکرام کا بھی ذکر کیا۔ کرمنا یہ کرم کو مضاعف بنا کر (یعنی عین کلمہ کو مشدد کرکے) پڑھا ہے، یعنی ہم نے انہیں عزت اور شرف وفضل عطا فرمایا۔ یہ وہ عزت ہے جس نے نقصان اور کمی کی نفی کی ہے نہ کہ اس سے مراد مال کی عزت ہے۔ اور اس عزت و کرامت میں انہیں اس ہیئت یعنی سیدھے قد اور حسین صورت پر پیدا کرنا بھی داخل ہے۔ اور انہیں بروبحر میں سوار کرنا ان چیزوں سے ہے جو سوائے انسان کے کسی حیوان کے لئے صحیح نہیں کہ وہ اپنے ارادہ۔ قصد اور تدبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
1:۔ طبرانی، بیہقی نے شعب میں اور خطیب نے تاریخ میں عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بنو آدم سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ عزت والی نہ ہوگی پوچھا گیا یا رسول اللہ ! مقرب فرشتے بھی (زیادہ عزت والے نہ ہوں گے) فرمایا فرشتے تو سورج اور چاند کی طرح مجبور ہیں۔
2:۔ بیہقی نے طریق آخر سے ابن عمر ؓ سے موقوفا روایت کیا کہ یہ روایت بھی صحیح ہے۔
3:۔ بیہقی نے شعب میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ مومن اللہ کے نزدیک فرشتوں سے زیادہ عزت والا ہے۔
4:۔ طبرانی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب آپ نے بنو آدم کو دنیاعطا فرمائی وہ اس میں کھاتے ہیں…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ كَرَّمْنَا : اور بیشک ہم نے معزز کیا ہے ] [بَنِيْٓ اٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کو ] [وَحَمَلْنٰهُمْ : اور ہم نے سواری دی ان کو ] [فِي الْبَرِّ : خشکی میں ] [وَالْبَحْرِ : اور سمندر میں ] [وَرَزَقْنٰهُمْ : اور ہم نے رزق دیا ان کو ] [مِّنَ الطَّيِّبٰتِ : پاکیزہ (چیزوں) میں سے ] [وَفَضَّلْنٰهُمْ : اور ہم نے فضیلت دی ان کو ] [عَلٰي كَثِيْرٍ : اکثر پر ] [مِّمَنْ : ان میں سے جن کو ] [خَلَقْنَا : ہم نے پیدا کیا ] [تَفْضِيْلًا : جیسے فضیلت دیتے ہیں ]
Read the full tafseer →اس کے بعد تکریم بنی آدم کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہے (وَ لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ ) (اور ہم نے انسان کو عزت دی) (وَحَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ ) (اور ہم نے انہیں خشکی میں اور سمندر میں سوار کیا) (وَ رَزَقْنٰھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ) (اور ہم نے انہیں پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں) (وَ فَضَّلْنٰھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا) (اور ہم نے انہیں اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی۔ )
اس آیت میں اول تو اجمالی طور پر بنی آدم کی تکریم بیان فرمائی کہ وہ ان صفات سے متصف ہے جو اس کے ساتھ خاص ہیں۔ قوت گویائی کا عطا کیا جانا فصیح وبلیغ ہونا مختلف اسالیب سے بیان کرنا کتابت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
رجوع بسوئے توحید
قال اللہ تعالیٰ : ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر .. الیٰ .. وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا
(ربط) اب پھر توحید کی طرف رجوع کرتے ہیں اور توحید کے دلائل بیان فرماتے ہیں نیز گزشتہ رکوع میں شیطان کا یہ قول نقل کیا تھا قال ارء یتک ھذا الذی کر مت علی : اس لیے ان آیات میں بنی آدم کی کرامت اور فضیلت کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ شیطان بر اور بحر میں کس طرح اغواء کرتا ہے اور نبی آدم کی تکریم اور تفضیل کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ منعم حقیقی کا شکر گزار بندہ بنے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرے چناچہ فرماتے ہیں۔
تمہارا پروردگا وہ ہے جو تمہارے نفع کے لیے…
Read the full tafseer →64:۔ یہ دعوت توحید کو قبول کرنے کی ترغیب ہے۔ اولاد آدم کو انعامات بےپایاں یاد دلا کر مسئلہ توحید ماننے کی ترغیب دی گئی۔ اے بنی آدم میں نے تمہیں ساری مخلوق پر فضیلت اور بزرگی عطا کی، خشکی اور تری پر تمہیں اقتدار عطا کیا اور پاکیزہ روزی کے بیشمار وسائل تمہیں دئیے اب تمہارا فرض ہے کہ میرا احسان مانو اور میرے انعامات کا شکر کرو، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور میرے سوا کسی کو عبادت اور پکار کے لائق نہ سمجھو۔
Read the full tafseer →ربط آیات : پہلے اللہ نے شرک کا ابطال اور توحید کا اثبات بیان کیا ، پھر انسان کی عاجزی اور بےچارگی کا ذکر کیا کہ مصیبت کے وقت وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک کو پکارتے ہیں مگر جب وہ مصیبت دور ہوجاتی ہے تو دوبارہ شرکیہ کام کرنے لگتے ہیں اللہ نے فرمایا ہے کہ انسان بہت ہی ناشکر گزار ہے اس کے بعد اللہ نے وعید سنائی کہ لوگوں کو اس بات سے بےفکر نہیں ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ انہیں خشکی میں دھنسا دے یا دوبارہ سمندر میں جانے پر مجبور کر دے اور وہیں ان کو ڈبو دے ، اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے کوئی باز پرس کرنے والا بھی نہیں ہوگا ۔
(شرف انسانیت)
گذشتہ سے پیوستہ درس میں گزر چکا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا 70ۧ
كرم
الكَرَمُ إذا وصف اللہ تعالیٰ به فهو اسم لإحسانه وإنعامه المتظاهر، نحو قوله : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وإذا وصف به الإنسان فهو اسم للأخلاق والأفعال المحمودة التي تظهر منه، ولا يقال : هو كريم حتی يظهر ذلک منه . قال بعض العلماء : الكَرَمُ کالحرّيّة إلّا أنّ الحرّيّة قد تقال في المحاسن الصّغيرة والکبيرة، والکرم لا يقال إلا في المحاسن الکبيرة، كمن ينفق مالا في تجهيز جيش في سبیل الله، وتحمّل حمالة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ترکیب : الا ایاہ استثناء منقطع وقیل متصل ان یخسف مفعول امنتم بکم حال ہے یایخسف کا صلہ جانب البر مفعول بہ الار جاء السوق والاجراء والتیسر بمعنی راندن۔ الحصب قال ابوعبیدہ والقنیبی ھوالرمی ریحًا شدید الحاصۃ التی ترمی بالحصاء الصفاء وقال الزجاج الحاصب القراب الذی فیہ حصاء وقیل الحصاء صب حجارۃ من السماء تارۃ مصدر یجمع علی تیرہ و تارات والفھا واویاء۔ القاصف الریح الشدیدہ التی تکسر بشدۃ من قصف الشیء یقصف من ضرب یضرب تبعانصیرا اومن تبعینًا بانکار مانزلنا۔
تفسیر : یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع کرتا ہے اور مشرکین کی عادات ناپسندیدہ کی برائی اور نیز یہ بات بھی بتلاتا ہے کہ خدا کے احسان یاد رکھا کرو اور…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِـْیٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰـھُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْـنٰـھُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰـھُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 70)
(اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، اور خشکی اور تری دونوں میں ان کو سواری عطا کی اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا، اور ہم نے انھیں نمایاں فضیلت دی بہت سی چیزوں پر جن کو ہم نے پیدا فرمایا۔ )
انسان کو ذمہ داری کی یاددہانی
گزشتہ تین آیات میں پروردگارِ عالم نے جو بحری نعمتیں عطا فرمائیں اور بحری سفر کی سہولتیں دے کر بیشمار خزانوں کے راستے کھول دیے، ان کا ذکر فرمایا۔ اور ساتھ ہی ساتھ مشرکین کا وہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : برے لوگوں کا انجام بتانے کے بعد انسان کو اس کا مرتبہ ومقام یاد دلایا گیا ہے۔ کیونکہ انسان کو بحر وبر پر فضیلت دی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے دست مبارک کے ساتھ بنایا اور اس میں اپنی روح القاء فرمائی۔ پھر اس کی خلافت کا اعلان فرمایا اور تمام ملائکہ کو اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ ابلیس کے سواحضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام ملائکہ نے سجدہ کیا۔ سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے شیطان کو ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ سے راندہ درگاہ کرنے کے ساتھ لعنتی قرار دیا۔
” جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں۔ جب اس کو بنالوں اور اس میں اپنی روح…
Read the full tafseer →بنی آدم کو عزت دی :
70: وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ (ہم نے اولاد آدم کو عزت دی) عقل و نطق، خط، خوبصورت شکل، مناسب قد، تدبیر امور معاش اور معاد، تمام پر غلبہ، تسخیرا شیاء، تناول طعام بالایدی وغیرہ سے۔
نکتہ : ہارون رشید نے کھانا منگوایا اور اس نے چمچیاں بھی منگوائیں۔ اس کے پاس اس وقت امام ابو یوسف (رح) بھی موجود تھے۔ امام ابویوسف (رح) نے فرمایا۔ تمہارے دادا ابن عباس ؓ کی تفسیر میں یہ وارد ہے۔ ولقد کرمنا بنی آدمہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ان کو ہاتھ دیئے جن میں انگلیوں سے وہ کھانا کھاتے ہیں۔ ہارون نے تمام چمچیوں کو واپس کردیا اور انگلیوں سے کھانا تناول کیا۔
وَحَمَلْنٰھُمْ فِی الْبَرِّ (اور…
Read the full tafseer →تفسیر 70۔” ولقد کرمنا بنی آدم “ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ انگلیوں سے کھانا بھی عزت بخشی ہے اور انسان کے علاوہ جو چیزیں ہیں وہ زمین سے اپنے منہ کے ذریعہ کھاتے ہیں ۔ ان سے روایت ہے کہ ان کے نزدیک اس سے مراد عقل ہے۔ ولقد کرمنا بنی آدم کی مختلف تفاسیر
ضحاک نے کہا کہ اس سے مراد گویائی ہے۔ عطاء کا قول ہے کہ قد کا اعتدال ، مزاج میں اعتدال اور دواب وہ ہیں جن پر سوار ہوتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ اس عزت سے مراد حسن صورت ہے اور بعض نے کہا کہ مردوں کو عزت بخشی ، داڑھی کے بالوں کے ساتھ اور عورتوں کی زلفوں کے ساتھ ۔ بعض نے کہا کہ ” کرمنا “ سے مراد تمام اشیاء ہیں جو انسانوں کے لیے…
Read the full tafseer →70۔ اللہ پاک نے اس آیت میں اس احسان کا ذکر فرمایا جو انسان کو اپنی اور دوسری مخلوق پر فضیلت دی ہے کہ خشکی میں طرح طرح کی سواریاں اسی انسان کے واسطے بنائی ہیں دوسری مخلوق اس سے بالکل بےبہرہ ہے اور جس طرح انسان خشکی میں سواریوں پر سوار ہو کر سیر کرتا ہے ادھر ادھر جاتا ہے اسی طرح دریا میں بھی اس کے واسطے سواری کا انتظام کیا گیا ہے کہ کشتی پر بیٹھ کر انسان دریا کا سفر کرتا ہے۔ دوسری کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو دریا کا سفر اس طرح کرتی ہو یہ انسان کی سواری کا حال تھا اب اس کی روزی کو دیکھئے دوسری مخلوق جانور وغیرہ کو اس کی ذرا بھی تمیز نہیں کہ اپنی روزی صاف ستھری بنا کر کھاویں انسان کو وہ عقل اور وہ…
Read the full tafseer →(آیت نمبر (70
یہ اس کا بےپناہ کرم و احسان ہے جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔۔۔۔ کہ اس نے بنی آدم کو ہر لحاظ سے عزت و تکریم سے نوازا۔ انہیں علم و عقل عطا کر کے ‘ انبیاء و رسل بھیج کر اور ان پر کتابیں نازل کر کے اکرام بخشا ‘ ان میں سے اپنے اولیاء اور دیگر چنے ہوئے بندے پیدا کیے اور ان کو اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا۔ (وحملنھم فی البر ) ” اور ہم نے سواری دی ان کو خشکی میں “ یعنی ہم نے انہیں اونٹوں ‘ خچروں ‘ گدھوں اور دیگر زمینی سواریوں پر سوار کرایا۔ (والبحر ) ” اور دریا میں “ یعنی ہم نے انہیں بحری جہازوں اور کشتیوں پر سوار کرایا۔
(ورزقنھم من الطیبت) ” اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے روزی دی “…
Read the full tafseer →اولاد آدم کی تکریم
قول باری ہے (ولقد کرمنا بنی ادم اور ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی) جنس بنی آدم پر اس کا اطلاق کیا گیا حالانکہ اس جنس میں ذلیل کافر بھی داخل ہے۔ اس کی دو توجیہیں ہیں ایک تو یہ کہ اللہ تعلایٰ نے بنی آدم پر انعام کر کے انہیں بزرگی عطا کی اور ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جو انعام و اکرا م سے نوازے جانے والے انسان کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کے ذریعے اکرام کی صفت میں مبالغہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ دوسری توجیہہ یہ ہے کہ بنی آدم میں بزرگی کی اس صفت سے متصف لوگوں کی موجودگی کی بنا پر پوری جماعت پر اس کا اطلاق کردیا گیا۔ جس طرح یہ قول باری ہے (کنتم خیر امۃ اخرجت للناس اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–71
128۔ بنی آدم کی تکریم و تفضیل اور اس کے مقتضی کی تذکیر ویاد و دہانی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور ہم نے بنی آدم کو تعظیم و تکریم سے نوازا اور ان کو اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت و بزرگی بخشی “۔ ان کو حسن صورت اور عمدہ قامت کے علاوہ عقل کا وہ عظیم جوہر بخش کر جس سے ان کو اس پوری مخلوق پر فوقیت اور غلبہ حاصل ہوجاتا ہے اور ان کو مخدوم ومطاع بنا کر دوسری تمام مخلوق کو ان کے کام اور اس کی خدمت میں لگادیا۔ پھر تم لوگ سوچو کہ یہ کتنا بڑا احسان ہے تمہارے خالق اور مالک کا تم پر۔ اور اس کی بناء پر کیا حق بنتا ہے اس کا تم لوگوں پر۔ پھر کتنا بڑا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے کہ یہ انسان اپنے اسی خالق ومالک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
اللہ کی رحمتیں برکتیں اور انسان کی ناشکری
تشریح : یہاں پھر ان تمام احسانات کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانوں کی سہولت آرام و آسائش کے لیے اللہ نے انسان کو دے رکھے ہیں مثلاً اتنے بڑے بڑے پانی سے بھرے ہوئے موجیں مارتے دریا اور زبردست سمندر سب کو انسان کے لیے اس طرح مسخر (تابع) کردیا کہ انسان اپنی عقل سے کام لے کر جو اللہ نے اس کو دی ہے بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز بنا کر ان کے ذریعے سفر کرتا ہے، تجارت کرتا ہے، مگر پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا مگر کیونکہ فطرتاً انسان اللہ کو ہی رب مانتا ہے، اس لیے جب طوفان اور مصیبت میں گھر جاتا ہے تو پھر مدد کے لیے بےاختیار اللہ ہی کو پکارتا ہے اس وقت وہ اپنے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…
Read the full tafseer →ف 9 ان کی شکل و صورت دوسرے تمام جانوروں سے اچھی بنائی۔ ان کے کھانے پینے کا بہتر انتظام کیا اور انہیں عقل و نطق اور تمیز عطا فرمائی جبکہ جانور اس نعمت سے محروم ہیں اور پھر تمام مخلوق کو اس کے فائدے کے لئے مسخر کردیا۔ (از قرطبی)
1 خشکی اور تری میں سفر کے لئے قسم قسم کی سواریاں دے دیں۔
2 اللہ تعالیٰ نے بہتیری مخلوقات “ کے لفظ کو مجمل رکھا یہع اور اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائی۔ بہرحال اس سے یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی جتنی مخلوقات ہے اس میں سے اکثر پر انسانوں کو بزرگی حاصل ہے۔ بعض اہل علم نے بہتری کے لفظ کو تمام کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے یہاں یہ بحث بھی چھیڑی ہے کہ انبیاء اور فرشتوں میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
(17:69) ان یعیدکم۔ کہ وہ لے جائے تم کو دوبارہ۔ کہ وہ تمہیں دوبارہ لوٹا دے۔ اعادۃ (افعال) مصدر۔ تارۃ۔ مرتبہ۔ باری۔ دفعہ۔
فیہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع البح رہے جو کہ اوپر آیۃ 67 میں آیا ہے۔ قاصفا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ طوفان ہوا۔ ایسی تیز آندھی کہ جو چیز اس کی زد میں آئے اس کو توڑ دے۔ قصف (باب ضرب) توڑ دینا۔ اور اگر باب سمع سے آئے تو لازم ہے متعدی نہیں۔ قصف العود۔ لکڑی اتنی نرم ہوگئی کہ ٹوٹنے کے قابل بن گئی۔ کہتے ہیں کہ خشکی پر طوفان مہلک حاصب کہلاتا ہے اور سمندر میں ہو تو اس کو قاصف کہتے ہیں۔
بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ارسالِ ریح قاصف ہے ۔ یا اغراق ہے (تمہارا غرق کردیا…
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 70
کرمنا ہم نے عزت بخشی۔ حملنا ہم نے سوار کیا۔ البر خشکی، زمین البحر تری، سمندر۔ الطیبت پاکیزہ چیزیں۔ فضلنا ہم نے فضیلت دی۔ تفضیل بڑائی دینا۔ بڑائی۔ فضیلت ۔
تشریح آیت نمبر 70
اس ایک آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی چار عظمتوں کا ذکر کیا ہے۔ (1) حضرت ادم کی اولاد کو عزت عطا کی۔ (2) خشکی اور تری میں سوار کیا۔ (3) اس کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔ (4) اور دنیا کی بہت سی مخلوقات پر اس کو فوقیت عطا فرمائی۔ اسی طرح قرآن کریم میں انسان کی تین اہم کمزوریوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ (1) انسان بہت کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ (2) وہ جلد باز ہے اور ہر چیز کا نتیجہ فوری طور پر حاصل کرنے کے لئے…
Read the full tafseer →اللہ پاک نے اس آیت میں اس احسان کا ذکر فرمایا جو انسان کو اپنی اور دوسری مخلوق پر فضیلت دی ہے کہ خشکی میں طرح طرح کی سواریاں اسی انسان کے واسطے بنائی ہیں، دوسری مخلوق اس سے بےبہرہ ہے۔ اور اس طرح دریا میں بھی اس کے واسطے سواری کا انتظام کیا کہ کشتی پر بیٹھ کر انسان دریا کا سفر کرتا ہے دوسری کوئی مخلوق ایسی نہیں ہے جو دریا کا سفر اس طرح کرتی ہو۔ یہ تو سواری کا حال ہے اب روزی دیکھئے کہ انسان کے واسطے کیسی صاف ستھری بنائی ہے۔ اور عمدہ عمدہ چیزیں کھانے کے لئے پیدا کی ہیں ان سب امور پر نظر کرکے دیکھئے تو خدا نے انسان کو اپنی بہت سی مخلوق پر ایک بہت بڑی فضیلت بخشی ہے۔
Read the full tafseer →[52] علم و عقل، نطق و گویائی، حسن و صورت اور موزونی قامت دے کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
(ف 1) اسلام سے قبل انسان کو فی نفسہ گناہگار اور مجرم قرار دیا جاتا تھا ، انسان کے لئے ضروری تھا کہ وہ کائنات کی ہر چیز کا احترام کرے وہ پہاڑوں کے سامنے جھکے دریاؤں کو پوجے بتوں کو سجدہ کرے ، آفتاب ماہتاب اور ستاروں کو معبود سمجھے سانپ اور بچھوؤں کو دیوتا قرار دے ، صندل کی معمولی لکڑی اس کی جبین ناز کا قشقشہ بنے ہر آن ان معبودوں سے خائف رہے ، دنیا کی ہر چیز کو قابل عبادت سمجھے ۔
قرآن نے انسان کے مرتبہ کو بلند قرار دیا جنت اس کا مسکن ٹھہرایا اور فرشتے اس کی تعلیم کے لئے جھکے ، احسن تقویم اور تکریم کا خلعت عطا ہوا ، اور طے پایا کہ انسانی مخلوق کائنات کی ہر شے سے افضل ہے ، بحر وبر کی حکومتیں اس…
Read the full tafseer →-70 اور بلاشبہ ہم نے آدم (علیہ السلام) کو عزت اور بزرگی عطا فرمائی اور ہم نے خشکی اور تری میں چلنے والی سواریوں پر ان کو سوار کیا یعنی ان کے لئے خشکی میں اور دریا میں چلنے والی سواریاں پیدا کیں اور ہم نے ان کو ستھری اور نفیس و عمدہ چیزوں سے روزی عطا کی اور ہم نے اولاد آدم کو اپنی پیدا کردہ مخلوقات میں سے بہت سوں پر فوقیت اور برتری عطا فرمائی ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جانوروں کو سواری زمین پر نہ دریا پر آدمی کو دی ہے اور ستھری روزی یہ کہ میوے کا چھلکا دور کرنا اور اناج کی بھوسی اور پیسنا اور پکا کر کھانا اسی کو سکھایا۔ 12
خلاصہ ۔ یہ کہ آدمی میں بہت سی خوبیاں اور بعض صفات خاصہ ایسی ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
ف 4۔ انسان میں بعض صفات کا صہ ایسے ہیں جو اور حیوانات میں نہیں۔ جیسے حسن صورت جس میں موزونی قامت بھی آگیا، اور عقل اور ایجاد ضائع وغیرہا، اور یہ نعم تمام نوع کو عام ہیں، پس بنی آدم سے مراد سب بنی آدم ہیں۔
5۔ چونکہ اوپر کرمنا سے شبہ ہوسکتا تھا کہ ان صفات میں بنی آدم سب سے افضل ہے حالانکہ یہ امر خلاف واقع تھا کیونکہ یہ امور مدار فضیلت علی الملائکہ نہیں ہوسکتے، اور جو صفات مدار فضیلت علی الملائکہ ہیں وہ کل بنی آدم میں متحقق نہیں، اس لئے فضلنا میں یہ ابہام رفع کردیا کہ مراد تکریم سے تفضیل علی بعض الخلائق ہے، یعنی حیوانات اور حیوانات سے جو کم رتبہ ہیں، پس آیت ملائکہ اور بشر کے تفاضل متکلم فیہ بین…
Read the full tafseer →انسان کو بزرگی بخشنے والا اور خشکی اور تری میں رزق بہم پہنچانے والاوہی ہے :
87۔ انسان جو مجسمہ خیر وشر ہے اس کا اکرام اور اس کی عزت افزائی اور کیا ہو سکتی ہے کہ جو کچھ وہ کرتا ہے اگر وہ شرک ہے تو اس طاقت اور قوت کے ذمہ ڈالا جاتا ہے جس کو ابلیس کہا گیا ہے اور فی نفسہ اس کا نام نہیں لیا جاتا کیونکہ اس وقت اس کی خیر کی قوت دب چکی ہوتی ہے اور یہ بھی انسان ہی کی عزت افزائی ہے کہ اس دنیا کی ہرچیز اس کے لئے مطیع وفرمانبردار کردی گئی ہے اور جس چیز کو وہ تسخیر کرنا چاہے کرسکتا ہے ‘ دریاؤں کے سینے چیرے یا کوہستان کی چوٹیوں کو سر کرنا چاہے تو اس کے لئے کوئی چیز مشکل نہیں ، اس کے قالب خاکی میں اللہ…
Read the full tafseer →Commentary
Why are the children of 'Adam (علیہ السلام) superior?
The last of the verses cited above mentions the superiority of the children of 'Adam over most of the Divine creation. Here, we have to consider two things: (1) What are the attributes and reasons of this superiority? (2) What is the sense of the statement in the verse: 'made them much superior to many of those We created'?
(1) The first question can be answered in detail by saying that Allah Ta` ala has blessed the children of 'Adam with such multi-dimensional attributes as are not found in many of those He has created. The…
Read the full tafseer →85. That is, it is an obvious fact that the superiority man enjoys over all other beings on the earth and all that is in it, has not been bestowed upon him by a jinn or an angel or a prophet. Most surely that is Allah’s blessing and favor. Is it not then the height of folly and ignorance that after having achieved such a high rank, man should bow down before any creature of Allah instead of Him?
Read the full tafseer →