سمندر ہو یا صحرا ہر جگہ اسی کا اقتدار ہے
ارشاد ہو رہا ہے کہ اے منکرو سمندر میں تم میری توحید کے قائل ہوئے باہر آ کر پھر انکار کر گئے تو کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ پھر تم دوبارہ دریائی سفر کرو اور باد تند کے تھپیڑے تمہاری کشتی کو ڈگمگا دیں اور آخر ڈبو دیں اور تمہیں تمہارے کفر کا مزہ آجائے پھر تو کوئی مددگار کھڑا نہ ہو نہ کوئی ایسا مل سکے کہ ہم سے تمہارا بدلہ لے۔ ہمارا پیچھا کوئی نہیں کرسکتا، کس کی مجال کہ ہمارے فعل پر انگلی اٹھائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 84
یعنی اس بات کی دلیل ہے کہ تمہاری اصلی فطرت ایک خدا کے سوا کسی رب کو نہیں جانتی، اور تمہارے اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ شعور موجود ہے کہ نفع و نقصان کے حقیقی اختیارات کا مالک بس وہی ایک ہے۔ ورنہ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ جو اصل وقت دستگیری کا ہے اس وقت تم کو ایک خدا کے سوا کوئی دوسرا دستگیر نہیں سوجھتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
خلاصہ تفسیر
سابقہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال تھا آیات مذکورہ میں یہی مضمون ایک خاص انداز سے بیان کیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی بیشمار عظیم الشان نعمتیں جو انسانوں پر ہر وقت مبذول ہیں ان کو بیان کر کے یہ بتلانا منظور ہے کہ ان تمام نعمتوں کا بخشنے والا بجز ایک حق تعالیٰ کے کوئی نہیں ہوسکتا اور سب نعمتیں اس کی ہیں تو اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑی گمراہی ہے ارشاد فرمایا کہ) تمہارا رب ایسا (منعم) ہے کہ تمہارے (نفع کے) لئے کشتی کو دریا میں لے چلتا ہے تاکہ تم اسکے ذریعہ رزق تلاش کرو (اس میں اشارہ ہے کہ بحری سفر تجارت کے لئے عموما بڑے نفع کا سبب ہوتا ہے) بیشک وہ…
Read the full tafseer →اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا۔
قاصف کے معنی توڑدینے والی اور تبیع کے معنی ناصر اور مددگار کے ہیں۔ یعنی تم ایک مرتبہ خدا سے چھوٹ جانے کے بعد یہ کیوں سمجھ بیٹھے کہ خدا سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہوگئے۔ آخر یہ بھی تو ممکن ہے کہ خدا تمہیں کفرانِ نعمت کی سزا دینے کے لیے پھر ایسے حالات پیدا کردے کہ تمہیں دوبارہ پھر اسی سمندر سے سابقہ پیش آئے اور وہ تم پر ایسی باد تند بھیجے جو سب کچھ توڑ پھوڑ کر تمہیں غرق کردے اور تمہارا کوئی حامی تمہاری حمایت میں…
Read the full tafseer →69۔ 1 قَاصِف ایسی تند تیز سمندری ہوا جو کشتیوں کو توڑ دے اور انھیں ڈوب دے تَبِیْعًا انتقام لینے والا، پیچھا کرنے والا، یعنی تمہارے ڈوب جانے کے بعد ہم سے پوچھے کہ تو نے ہمارے بندوں کو کیوں ڈبویا ؟ مطلب یہ ہے کہ ایک مرتبہ سمندر سے بخریت نکلنے کے بعد، کیا تمہیں دوبارہ سمندر میں جانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی ؟ اور وہاں وہ تمہیں بھنور میں نہیں پھنسا سکتا ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
39: یعنی اس معاملہ میں نہ کوئی ہم سے کسی قسم کی باز پرس کرسکتا ہے کہ ہم نے ایسے لوگوں کو کیوں ہلاک کیا، اور نہ کوئی ہمارے فیصلے کو ٹالنے کے لئے ہمارا پیچھا کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
انسان جہاں ہوا اور جس دور میں ، جس لمحے میں ہو ، وہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس طرح خشکی میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، اسی طرح سمندر میں بھی وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں۔ تو وہ کس طرح امن میں ہوں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی زلزلے میں ، زمین دھنس میں جائیں ، کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے یا دوسری کوئی آفت سماوی ان پر ٹوٹ پڑے۔ اگر کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے تو ان پر گرم لاوے ، گرم پانی ، کیچڑ اور پتھروں کا سیلاب آجائے ، اور وہ اس طرح ہلاکت کا شکار ہوجائیں کہ اللہ کے سوا کوئی ان کے لئے ناصر و مددگار نہ رہے۔ کوئی ان کی حمایت نہ کرسکے اور کوئی انہیں بچا نہ سکے۔
پھر کیا گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ سفر…
Read the full tafseer →5 یعنی کوئی ضرورت کھڑی کر دے جس کے لیے ناچار دریائی سفر کرنا پڑے۔
6 خدا سے کون باز پرس کرسکتا ہے یا کسی کی مجال ہے کہ پیچھا کر کے اس سے مجرمین کا خون بہا وصول کرے ؟
Read the full tafseer →فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا
پھر ایسا نہیں کہ کوئی ہم سے باز پرس کرسکے کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ کیوں کیا ؟
Read the full tafseer →87 اللہ کی گرفت کی صورتیں :۔ پھر اللہ کی گرفت کا معاملہ سمندر سے ہی متعلق نہیں وہ سمندر سے باہر خشکی پر بھی تم پر عذاب نازل کرسکتا ہے وہ یہ بھی کرسکتا ہے کہ زمین شق ہوجائے اور وہ تمہیں اس میں ایسے غرق کردے کہ کسی کو پتہ تک نہ چل سکے اور یہ بھی کرسکتا ہے کہ تم پر کنکروں اور سنگریزوں والی تند و تیز آندھی کا طوفان بھیج کر تمہیں ہلاک کردے اور اس سے بچنے کے لیے تمہیں کوئی پناہ گاہ نہ مل سکے اور یہ بھی کرسکتا ہے کہ سمندری سفر کے لیے دوبارہ کوئی صورت پیدا کر دے اور تمہارے کفر و شرک کی پاداش میں تمہیں طوفانی تھپیڑوں کے حوالے کرکے تمہیں کشتی سمیت غرق کردے تو ایسی صورت میں تمہارا کوئی معبود تمہارا ایسا…
Read the full tafseer →100۔ یعنی تمہارے اس غرقابی پر ہم سے نہ بدلہ لے سکے نہ کوئی باز پرس کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…
Read the full tafseer →اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا۔ یا تم اس بات سے بےفکر ہو بیٹھے ہو کہ خدا تعالیٰ پھر تم کو دوبارہ دریا میں ہی
لے جائے ‘ پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے۔ پھر تم کو تمہارے کفر کے سبب غرق کر دے پھر اس بات پر ہمارا پیچھا کرنے والا تم کو کوئی بھی نہ ملے۔
یعنی ہوسکتا ہے کہ اللہ ایسے اسباب تمہارے لئے پیدا کر دے کہ دوبارہ تم کو سمندر کا سفر کرنا پڑجائے اور پھر ایک طوفان بھیج دے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے قاصف کا ترجمہ کیا عاصف تیز آندھی ‘ طوفان۔…
Read the full tafseer →(69) یا اے مکہ والو اس سے بےفکر ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں پھر دریا ہی میں دوبارہ لے جائے پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے اور پھر تمہیں دریا میں تمہارے کفر کے سبب جو کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا ہے اور اس کا کفران نعمت کیا ہے، غرق کردے اور پھر اس غرق کرنے پر تمہیں کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا اور بدلہ لینے والا نہ ملے ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ۔۔ : ”خَسْفٌ“ کا معنی زمین میں دھنسا دینا ہے۔ ”جَانِبَ الْبَرِّ“ خشکی کا کنارا، یہ اس لیے فرمایا کہ زمین میں پانی کا کنارا خشکی اور خشکی کا کنارا پانی ہے۔ ”حَاصِبًا“ سنگریزے اڑانے والی آندھی، یا وہ بادل جس سے اولے برسیں۔ ”قَاصِفًا“ ”ضَرَبَ“ سے اسم فاعل ہے، درختوں، کشتیوں اور ہر چیز کو توڑ دینے والی آندھی۔ ”تَبِيْعًا“ قرض یا انتقام کا مطالبہ کرنے والا جو پیچھا نہ چھوڑے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی نادانی اور کم عقلی بیان فرمائی ہے کہ تم جب خشکی پر پہنچ جاتے ہو تو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بےخوف ہو کر دوبارہ کفر و شرک میں مبتلا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 69
قولہ تعالیٰ : ام امنتم ان یعید کم فیہ تارۃً اخرٰی (کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دوسری مرتبہ لے جائے) سمندر میں۔ فیرسل علیکم قاصفًا من الریح، القاصف، وہ سخت اور تیز ہوا جو اپنی شدت کے ساتھ (ہرشے کو) توڑ دیتی ہے۔ یہ قصف الشئ یقصفہ سئ ماخوذ ہے، یعنی اس نے اسے شدت اور سختی کے ساتھ توڑ دیا۔ اور القصف کا معنی توڑنا ہے۔ کہا جاتا ہے : قصفت الریح السفینۃ (ہوا نے کشتی کو توڑدیا) اور ریح قاصف یعنی شدید آندھی۔ اور رعد قاصف، سخت آواز والی گرج۔ کہا جاتا ہے : قصف الرعد وغیرہ قصیفا (گرج وغیرہ نے سخت آواز نکالی) اور لتقصف کا معنی ہے درختوں کو توڑنے والی۔ اور التقصگ، اس کا معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یزجی “ سے مراد ہے یجری یعنی چلتا ہے۔
2:۔ عبدالرزاق ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یزجی لکم الفلک “ سے مراد کشتیوں کو تمہارے لئے سمندر میں چلاتا ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء خراسنی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الفلک “ سے مراد ہے کشتی۔
4:۔ اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ کان بکم رحیما “ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔
5:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویرسل علیکم حاصبا “ یعنی پتھروں کی بارش۔
6:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[اَمْ : یا ] [اَمِنْتم : تم لوگ امن میں ہو ] [ان : (اس سے) کہ ] [يُّعِيْدَ : واپس لے جائے ] [كُمْ : تم کو ] [فِيْهِ : اسی (سمندر) میں ] [تَارَةً اُخْرٰى: دوسری مرتبہ ] [فَيُرْسِلَ : پھر وہ بھیجے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [قَاصِفًا : توڑنے والی شدید ہوا ] [مِّنَ الرِّيْحِ : ہوا میں سے ] [فَيُغْرِقَكُمْ : نتیجۃً وہ غرق کر دے تم کو ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [كَفَرْتم : تم نے ناشکری کی ] [ثُمَّ : پھر ] [لَا تَجِدُوْا : تم لوگ نہیں پائو گے ] [لَكُمْ : اپنے لئے ] [عَلَيْنَا : ہمارے خلاف ] [بِهٖ : اس کے سبب سے ] [تَبِيْعًا : کوئی پیچھے لگنے والا ]
ت ء ر
تَارًا جھڑکنا۔ دھمکانا۔
تَارَۃٌ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
اس کے بعد انسانوں کو تنبیہ فرمائی کہ سمندر کی مصیبت سے نکل کر جو تم مطمئن ہوگئے اور باطل معبودوں کے پھر سے پجاری بن گئے ہو تو کیا تم یہ سمجھ کر مطمئن ہوگئے ہو کہ خشکی میں اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک نہیں کرسکتا۔ سمندر سے باسلامت نکل کر پھر شرکیہ کاموں میں لگ جانے سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ اب تم بالکل بےخوف ہوگئے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ یہ تمہاری بیوقوفی ہے اللہ تعالیٰ کو جیسے سمندر میں غرق کردینے کی قدرت ہے۔ ایسے ہی یہ بھی قدرت ہے کہ وہ تمہیں خشکی میں لاکر زمین میں دھنسا دے۔ اور یہ بھی قدرت ہے کہ تم پر ایسی سخت ہوا بھیجے جو پتھر برسانے والی ہو اور اسے یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں دوبارہ سمندر میں واپس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
رجوع بسوئے توحید
قال اللہ تعالیٰ : ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر .. الیٰ .. وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا
(ربط) اب پھر توحید کی طرف رجوع کرتے ہیں اور توحید کے دلائل بیان فرماتے ہیں نیز گزشتہ رکوع میں شیطان کا یہ قول نقل کیا تھا قال ارء یتک ھذا الذی کر مت علی : اس لیے ان آیات میں بنی آدم کی کرامت اور فضیلت کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ شیطان بر اور بحر میں کس طرح اغواء کرتا ہے اور نبی آدم کی تکریم اور تفضیل کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ منعم حقیقی کا شکر گزار بندہ بنے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرے چناچہ فرماتے ہیں۔
تمہارا پروردگا وہ ہے جو تمہارے نفع کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
63:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ خشکی میں تم مصائب و بلیات سے محفوظ اور اپنے خود ساختہ کارسازوں کی پناہ میں ہو مگر یاد رکھو اگر اللہ چاہے تو نیچے سے زمین کو چیر کر تم کو اس میں دھنسا دے یا اوپر سے تم پر پتھروں کی بارش برسا کر تمہیں نیست و نابود کردے تو اس وقت بھی تمہارا کوئی خود ساختہ کار ساز ہرگز تمہاری مدد نہیں کرسکے گا۔ ” ام امنتم ان یعیدکم الخ “ وہ یوں بھی کرسکتا ہے کہ تمہیں اپنی ضرورتوں کے تحت پھر سے بحری سفر پر گامزن کردے اور عین وسط سمندر میں ایک ہولناک طوفان باد بھیج کر تمہیں غرق کردے اس وقت بھی تم کسی کو اپنا غمخوار اور ناصر و مددگار نہیں پاؤ گے۔ یعنی لا تجدو ناصرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا مضمون بیان فرمایا پھر شیطان کی نافرمانی اور وسوسہ اندازی کا ذکر ہوا کہ جس کے ذریعہ وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اب آج کی آیات میں ایک تو اللہ تعالیٰ نے بحری نقل وحمل کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے اور دوسرے اسی مناسبت سے شرک کی تردید فرمائی ہے کہ جب ان کی کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے ، تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اس مصیبت سے نجات مل جاتی ہے تو پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے وعید بھی فرمائی ہے کہ اگر تم کفر پر اصرار کرتے رہے یا اس کی نعمتوں کی ناشکر گزاری کی تو وہ تمہیں خشکی پر بھی سزا دینے…
Read the full tafseer →اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا 69
عود
الْعَوْدُ : الرّجوع إلى الشیء بعد الانصراف عنه إمّا انصرافا بالذات، أو بالقول والعزیمة . قال تعالی: رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/ 107]
( ع و د ) العود ( ن)
کسی کام کو ابتداء کرنے کے بعد دوبارہ اس کی طرف پلٹنے کو عود کہاجاتا ہی خواہ وہ پلٹا ھذایۃ ہو ۔ یا قول وعزم سے ہو ۔ قرآن میں ہے : رَبَّنا أَخْرِجْنا مِنْها فَإِنْ عُدْنا فَإِنَّا ظالِمُونَ [ المؤمنون/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ترکیب : الا ایاہ استثناء منقطع وقیل متصل ان یخسف مفعول امنتم بکم حال ہے یایخسف کا صلہ جانب البر مفعول بہ الار جاء السوق والاجراء والتیسر بمعنی راندن۔ الحصب قال ابوعبیدہ والقنیبی ھوالرمی ریحًا شدید الحاصۃ التی ترمی بالحصاء الصفاء وقال الزجاج الحاصب القراب الذی فیہ حصاء وقیل الحصاء صب حجارۃ من السماء تارۃ مصدر یجمع علی تیرہ و تارات والفھا واویاء۔ القاصف الریح الشدیدہ التی تکسر بشدۃ من قصف الشیء یقصف من ضرب یضرب تبعانصیرا اومن تبعینًا بانکار مانزلنا۔
تفسیر : یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع کرتا ہے اور مشرکین کی عادات ناپسندیدہ کی برائی اور نیز یہ بات بھی بتلاتا ہے کہ خدا کے احسان یاد رکھا کرو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لاَ تَجِدُوْا لَـکُمْ وَکِیْلاً ۔ اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَکُمْ فِیْہِ تَارَۃً اُخْرٰی فَیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَـکُمْ بِمَا کَـفَرْتُمْ لا ثُمَّ لاَ تَجِدُوْا لَـکُمْ عَلَیْنَا بِہٖ تَبِیْعًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 68۔ 69)
(کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ خشکی کے کنارے کو تمہارے سمیت دھنسا دے یا تم پر بادتند بھیج دے، پھر نہ پائو تم اپنے لیے کوئی کارساز۔ یا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ تم کو دوبارہ سمندر میں لوٹائے، پھر بھیج دے تم پر کشتیوں کو توڑنے والی سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو پے درپے تین چیلنج دیئے گئے ہیں۔
پہلے مشرکین کی عادت کا ذکر ہوا ہے کہ جب دریائی سفر میں طوفان سے دوچار ہوتے ہیں تو صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں اور اسی کے حضور فریادیں کرتے ہیں۔ اس سے وعدے کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! اگر تو نے ہمیں اس گرداب سے نکال لیا تو ہم صرف تیرے ہی حضور جھکیں گے اور تجھ ہی سے فریاد کریں گے۔ یقیناتو ہی مشکل کشا ہے تیرے سوا کوئی بھی اس بھنور سے نہیں نکال سکتا مگر جب خشکی پر اترتے ہیں تو فوراً اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پے در پے تین چیلنج کیے گئے ہیں کہ یہ لوگ بھول گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں خشکی ہی میں دھنسا دے۔ کیا رب ذوالجلال…
Read the full tafseer →69: اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَکُمْ فِیْہِ تَارَۃً اُخْرٰی فَیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ (کیا تم اس بات سے بےفکر ہوگئے کہ خدا تعالیٰ تم کو دو بارہ دریا ہی میں لے جائے پھر وہ تم پر بھیج دے) یعنی یا تم بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہاری ضروریات کو بڑھادے اور دواعی کو پختہ کر کے دوبارہ تم سمندر کے سفر کی طرف لوٹ جائو جس سے اس نے تمہیں نجات دی پھر وہ تم سے اس طرح انتقام لے کہ تم پر قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ (ہوا کا سخت طوفان) قَاصِف اس ہوا کو کہتے ہیں جس میں سخت آواز ہو۔ نمبر 2۔ ایسی ہوا جو کشتی کو توڑ پھوڑ کردینے والی ہو۔ فَیُغْرِ قَکُمْ بِمَا کَفَرْتُمْ (پس وہ تمہارے کفر کے باعث تمہیں ڈبو دے) اس وجہ سے کہ…
Read the full tafseer →69۔” ام منتم ان یعید کم فیہ “ کیا وہ تمہیں دوبارہ دریا میں نہیں لوٹائے گا ۔ ” تارۃ “ کبھی کبھار ” اخری فیرسل علیکم فاصفاً من الریح “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ عاصف تیز آندھی طوفان کو کہتے ہیں ۔ ابو عبیدہ کا قول ہے کہ قصف کا معنی ہے کوٹنا توڑ دینا ۔ قاصف وہ ہوا جو اپنی قوت سے ہر چیز کو توڑ پھوڑ ڈالے۔ قتیبی (رح) کا قول ہے کہ وہ ہوا جو درختوں کو توڑڈالے۔
” فیغرقکم بما کفر تم ثم لا تجدورا لکم علینا بہ تبیعا ً “ مدد گار یا انتقام کا طلب گار ۔ تبیع بمعنی تابع کے ہے وہ تابع جو انتقام لینے کا منتظر ہو ۔ بعض نے کہا کہ جو تابع ہونے سے منکرہو جائے۔ ابن کثیر ، ابوعمر نے ( نخسف ، نرل ، نعید کم ، فنرسل ،…
Read the full tafseer →69:۔ اوپر فرمایا تھا کہ تم دریا سے خشکی میں آکر خدا کی نعمت کو بھول جاتے ہو اور اس کی ناشکری کرتے ہو اور اس بات کا ذرا خوف نہیں کرتے کہ وہ جس طرح دریا میں تمہاری کشتیوں کو دبا کر تمہیں غرق کرسکتا تھا اسی طرح وہ خشکی میں بھی تمہیں دھنسا سکتا ہے اور تم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کرسکتا ہے اب اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ اگر ان باتوں سے بھی تم نڈر ہو تو کیا اس کا بھی تمہیں خوف نہیں رہا کہ پھر کبھی جب تم دریا میں کشتیوں پر سوار ہو کر جاؤ تو تیز ہوا ایسی چلے کہ تمہاری کشتیوں کا تختہ تختہ الگ ہوجائے اور تمہاری ناشکری اور کفران نعمت کے پاداش میں تمہیں غرق دریا کردے اور جب تم دریا میں بےدست وپا ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–69
(آیت نمبر (59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
شیطان کے وار سب پر کارگر نہیں ہوتے
قول باری ہے (واستفززمن استطعت منھم بصوتک اور تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھیلا سکتا ہے پھسلا لے) جسے یہ بات کہی جا رہی ہے یعنی شیطان کو یہ دھمکی ہے اور اسے خربدار کیا جا رہا ہے کہ اس کی کارستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے نیز یہ کہ وہ اس کی سزا ضرور پا کر رہ یگا اور اس سے ضرور اس کا اتنقا ملیا جائے گا۔ اس کی مثال کا یہ قول ہے ۔ ” تم اپنا پورا زور لگا لو پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا کیا بنتا ہے۔ “ استفزز کے معنی استزل ، کے ہیں یعنی پھسلا دے۔ محاورہ میں استفزہ اور استنزلہ ہم معنی فعل ہیں۔
قول باری (بصوتک) کی تفسیر میں مجاہد سے مروی ہے کہ یہ غناء اور لہو یعنی…
Read the full tafseer →127۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی پوچھ نہیں سکتا۔ سبحانہ وتعالیٰ :۔
کہ وہ ایسے تمام تصورات سے اعلی وبالا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” پھر تم نہ پاس کو اپنے لئے ہمارے خلاف کوئی پوچھنے والا “۔ جو ہمارا پیچھا کرکے تمہارے لئے کسی بدلے کا مطالبہ کرسکے اور ہم سے کوئی باز پرس کرسکے۔ یعنی ان قسما قسم عذابوں میں سے کوئی بھی عذاب تم پر کبھی بھی اور کہیں بھی آسکتا ہے تو پھر اس قادر مطلق کی گرفت اور پکڑ سے بےفکری اور بےخوفی آخر کس طرح روا ہوسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس کی گرفت وپکڑ سے بےفکری اور لاپرواہی بڑے ہی ہولناک خسارے کا پیش خیمہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف وہ اس طرح کے کسی بھی عذاب کے ذریعے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
اللہ کی رحمتیں برکتیں اور انسان کی ناشکری
تشریح : یہاں پھر ان تمام احسانات کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانوں کی سہولت آرام و آسائش کے لیے اللہ نے انسان کو دے رکھے ہیں مثلاً اتنے بڑے بڑے پانی سے بھرے ہوئے موجیں مارتے دریا اور زبردست سمندر سب کو انسان کے لیے اس طرح مسخر (تابع) کردیا کہ انسان اپنی عقل سے کام لے کر جو اللہ نے اس کو دی ہے بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز بنا کر ان کے ذریعے سفر کرتا ہے، تجارت کرتا ہے، مگر پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا مگر کیونکہ فطرتاً انسان اللہ کو ہی رب مانتا ہے، اس لیے جب طوفان اور مصیبت میں گھر جاتا ہے تو پھر مدد کے لیے بےاختیار اللہ ہی کو پکارتا ہے اس وقت وہ اپنے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ف 8 کو تو نے ان پر جھگڑ کیوں بھیجا اور کیوں انہیں غرق کردیا۔ سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں کوئی چوں تک نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
(17:69) ان یعیدکم۔ کہ وہ لے جائے تم کو دوبارہ۔ کہ وہ تمہیں دوبارہ لوٹا دے۔ اعادۃ (افعال) مصدر۔ تارۃ۔ مرتبہ۔ باری۔ دفعہ۔
فیہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع البح رہے جو کہ اوپر آیۃ 67 میں آیا ہے۔ قاصفا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ طوفان ہوا۔ ایسی تیز آندھی کہ جو چیز اس کی زد میں آئے اس کو توڑ دے۔ قصف (باب ضرب) توڑ دینا۔ اور اگر باب سمع سے آئے تو لازم ہے متعدی نہیں۔ قصف العود۔ لکڑی اتنی نرم ہوگئی کہ ٹوٹنے کے قابل بن گئی۔ کہتے ہیں کہ خشکی پر طوفان مہلک حاصب کہلاتا ہے اور سمندر میں ہو تو اس کو قاصف کہتے ہیں۔
بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ارسالِ ریح قاصف ہے ۔ یا اغراق ہے (تمہارا غرق کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
لغات القرآن آیت 66 تا 69
یزجی وہ چلاتا ہے۔ الضر مصیبت، نقصان۔ افامنتم کیا پھر تم مطمئن ہوگئے ؟ ۔ یخسف وہ دھنسا دیتا ہے۔ حاصباً پتھر برسانے والی آندھی۔ تارۃ اخری دوبارہ۔ قاصف سخت طوفانی ہوا۔ یغرق وہ غرق کرتا ہے۔ لاتجدوا تم نہ پاؤ گے۔ تبیع پیچھا کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 66 تا 69
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے ” اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں (دی گئی نعمتوں میں) اور اضافہ کرتا چلا جاؤں گا۔ اس کے برخلاف اگر میری نعمتوں کی ناشکری کی گئی تو پھر میری گرفتا ور پکڑ بہت سخت ہے۔ واقعتاً اگر غور کیا جائے تو انسانی وجود کی ابتداء سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک اللہ اتنی نعمتوں سے نوازتا ہے…
Read the full tafseer →قریش کو دوسری دھمکی یہ دی کہ اگر ان باتوں سے بھی تم نڈر ہو، تو کیا اس کا بھی تم کو خوف نہیں رہا کہ پھر کبھی جب تم دریا میں کشتیوں پر سوار ہو کر جاؤ تو تیز ہوا ایسی چلے کہ تمہاری کشتیوں کا تختہ الگ ہوجاوے، اور تمہاری ناشکری اور کفران نعمت کے سبب تم ڈوب جاؤ، تو کوئی حمایت کرنے والا تمہاری طرف سے نہ کھڑا ہو، کیونکہ خداوند کریم اکیلا دونوں جہان میں جس طرح چاہتا ہے کرتا ہے اس سے کوئی شخص کسی بات کا سوال نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →[51] یعنی تمہاری اس غرقابی پر ہم سے نہ بدلہ لے سکے نہ باز پرس کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
فطرت انسانی کا اقرار :
(ف 1) انسانی فطرت ہے کہ مصائب ومشکلات کے وقت دل کی تمام قوتیں بیدار ہوجاتی ہیں ، اور ایمان کے مخفی نقوش جو ہواہوس کے توغل کی وجہ سے دب جاتے ہیں ابھر آتے ہیں ، جب کہ مصیبت کے بادل مطلع قلب پر اضطراب و انتشار بن کر چھا جاتے ہیں ، توحید الہی کے عقدوں کو کھلنے کا موقع ملتا ہے ، اسرار منکشف ہوتے ہیں ، اور دل کی گہرائیوں میں یقین چمکنے لگتا ہے ، اس آیت میں اس کیف وحال کی جانب قرآن حکیم نے انسان کو متوجہ کیا ہے ، اور فرمایا ہے جب تم تکلیفوں اور مصیبتوں میں اللہ کو یاد کرتے ہو ، اور اس کے نام کے ساتھ تسلی وتسکین حاصل کرتے ہو تو عافیت وامن کی حالت میں کیوں اس حقیقت کو فراموش…
Read the full tafseer →-69 یا تم اس بات سے نڈر ہوگئے ہو کہ اللہ تعالیٰ تم کو پھر دریا میں لوٹا کرلے جائے پھر تم پر سخت ہوا کا کوئی طوفان بھیج دے اور تمہارے کفر کی وجہ سے تم کو غرق کر دے پھر تم کسی کو اپنے لئے ہمارا پیچھا کرنے والا بھی نہ پائو۔ یعنی کوئی ایسی ضرورت پیش آجائے جس کی وجہ سے دوبارہ دریا کا سفر کرنے پر مجبور ہو جائو اور پھر کسی طوفان میں مبتلا کر کے تم کو غرق کر دے اور تم کسی کو ہمارا پیچھا کرنیوالا بھی نہ پائو۔ جو تمہارا انتقام لینے کے لئے ہمارا پیچھا کرے اور ہم سے تمہارا بدلا لے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
ف 3۔ دل سے بھی کہ ان کا خیال نہیں آتا اور فریاد رسی سے بھی کہ وہ امداد نہیں کرسکتے جس سے بدلالت حال و مقال تمہارے اعتراف سے بطلان شرک لازم آتا ہے ،۔
Read the full tafseer →کیا زندگی میں تم کو ایک بار ہی بحری سفر کرنا تھا دوبارہ اس کی ضرورت پیش نہیں آسکتی ؟
86۔ غور کرو کہ کیا زندگی میں پھر تم کو ایسا سفر نہیں درپیش آسکتا ؟ اگر آسکتا ہے تو پھر جب تم ساحل سمندر سے دور گہرے پانیوں میں پہنچ جاؤ تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم کو اللہ تعالیٰ تیز وتند ہوا میں پھنسا دے کیا اب تم نے اس کا انتظام کرلیا کہ پھر ایسا نہیں ہو سکتا ؟ اگر نہیں تو تم اس سے نچنت کیوں ہوگئے ہوگئے ہو حالانکہ ایسا ممکن ہے کہ پہلے تو تم پر حاصب چلائی گئی تھی اور اب کی دفعہ تم پر فاصب چلا دے ۔ (فاصب) اس ہوا کو کہتے ہیں کہ جس چیز سے وہ گزرے اس کو توڑ موڑ کر اور چیر پھاڑ کر رکھ دے ، مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
(2) Secondly, he had said if he was given respite till the day of Qiyamah, he will mislead the entire progeny of 'Adam, except a few of them. That Allah Ta’ ala has elected to answer in the later verses. He said that the Shaitan will have no control over His sincere servants even if he were to rally his entire forces against them and as for the insincere who fall into his trap, they will meet the same fate as his, all consigned to Hell. When this verse (64) mentions the horsemen and footmen of the Shaitanic army, it does not necessarily mean that the Shaitan actually has combat support in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
84. That is, this is a proof of the fact that your real nature knows no other Lord than Allah, and you feel in the depths of your hearts that He alone possesses the real power of every gain or loss. Had it not been so, man would never have invoked Allah at the time when he realized that no other helper could remove his misfortune.
Read the full tafseer →