Al-Israa 17:68

Al-Israa · from ayah 68

17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًا ۟ۙاَفَاَمِنۡتُمۡ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمۡ جَانِبَ الۡبَرِّ اَوۡ يُرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوۡالَـكُمۡ وَكِيۡلًا

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then do you feel secure that [instead] He will not cause a part of the land to swallow you or send against you a storm of stones? Then you would not find for yourselves an advocate.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:68

اچھا، تو کیا تم اِس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے، یا تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پاؤ؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ تمہیں خشکی کی طرف (لے جاکر زمین) میں دھنسا دے یا تم پر پتھروں کی آندھی بھیج دے۔ پھر تم اپنے لئے کسی نگہبان کو نہ پاسکو

— مولانا محمد جوناگڑہی

تو کیا تمہیں اس بات کا کوئی ڈر نہیں رہا کہ اللہ تمہیں خشکی ہی کے ایک حصے میں دھنسا دے، یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے، اور پھر تمہیں اپنا کوئی رکھوالا نہ ملے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا تم اس سے نڈر ہوئے کہ وہ خشکی ہی کا کوئی کنارہ تمہارے ساتھ دھنسادے یا تم پر پتھراؤ بھیجے پھر اپنا کوئی حمایتی نہ پاؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا تم اس بات سے بے خوف ہو گئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی کے کنارے پر ہی (زمین میں) دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے پھر تم اپنے لئے کوئی کارساز نہ پاسکو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو کیا تم بےخوف ہوگئے کہ وہ تمہیں خشکی کے کنارے دھنسا دے، یا تم پر کوئی پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیج دے، پھر تم اپنے لیے کوئی کارساز نہ پاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہیں خشکی پر ہی (زمین میں) دھنسا دے یا تم پر (ایسی آندھی) بھیج دے جس میں پتھر ہوں۔ پھر تمہیں اپنے لئے کوئی کارساز بھی نہ ملے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تم اس بات سے نچنت ہوگئے کہ وہ خشکی کی جانب تمہارے سمیت زمین کو دھنسا دے یا تم پر باد تند بھیج دے، پھر تم کسی کو اپنا کارساز نہ پاؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اچھا تو کیا تم لوگ نڈر (اور بےخوف) ہوگئے ہو اس بات سے کہ وہ کبھی تم کو خشکی کی جانب ہی زمین میں دھنسا دے یا وہ بھیج دے تم پر پتھر برسانے والی کوئی آندھی، پھر تم نہ پاسکو اپنے لئے کوئی کار ساز

— مولانا اسحاق مدنی

کیا تم اس سے بےفکر ہوگئے ہو کہ وہ تم کو خشکی کی طرف لاکر زمین میں دھنسا دے یا تم پر کوئی تند ہوا بھیج دے تو تم کسی کو (بھی) اپنا کارساز نہ پاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ دھنسا دے تمہیں کہیں خشکی میں ہی یا وہ تم پر بھیج دے کنکر برسانے والی تیز ہوا پھر تم نہ پاؤ اپنے لیے کوئی بچانے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ اللہ تمہیں خشکی کی طرف لے جا کر زمین میں دھنسا دے یا تم پر پتھر برسانے والی آندھی بھیج دے، پھر تم اپنا کوئی بچانے والا نہ پائو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do you, then, feel secure against His causing you to be swallowed up by a tract of the earth, or letting loose a deadly whirlwind charged with stones towards you, and there you will find none to protect you?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do you, then, feel secure from that He makes a part of the land sink down along with you, or that He sends down a rain of stones on you, whereupon you will find no one to protect you?

— Muhammad Taqi Usmani

Do you, then, feel secure from that He makes a part of the land sink down along with you, or that He sends down a rain of stones on you, whereupon you will find no one to protect you?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Do you then feel secure that He will not cause a side of the land to swallow you up, or that He will not send against you a Hasib Then, you shall find no guardian.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Feel ye then secure that He will not cause a slope of the land to engulf you, or send a sand-storm upon you, and then ye will find that ye have no protector?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then do you feel secure that [instead] He will not cause a part of the land to swallow you or send against you a storm of stones? Then you would not find for yourselves an advocate.

— Saheeh International

Do you feel secure that We will not cause a part of the land to sink or engulf you with sand storms when you would find no one to protect you?

— Muhammad Sarwar

What! Do you then feel secure that He will not cause a tract of land to engulf you or send on you a tornado? Then you shall not find a protector for yourselves.

— Muhammad Habib Shakir

Are ye then secure that he will not cause a side of the land to swallow you up, or send over you a sand-storm, and then ye will not find for yourselves a trustee?

— Abdul Majid Daryabadi

Do ye then feel secure that He will not cause you to be swallowed up beneath the earth when ye are on land, or that He will not send against you a violent tornado (with showers of stones) so that ye shall find no one to carry out your affairs for you?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اظہار قدرت و اختیار رب العالمین لوگوں کو ڈرا رہا ہے کہ جو تری میں تمہیں ڈبو سکتا تھا، وہ خشکی میں دھنسانے کی قدرت بھی رکھتا ہے پھر وہاں تو صرف اسی کو پکارنا اور یہاں اس کے ساتھ اوروں کو شریک کرنا یہ کس قدر ناانصافی ہے ؟ وہ تو تم پر پتھروں کی بارش بھی برسا کر ہلاک کرسکتا ہے جیسے لوطیوں پر ہوئی تھے۔ جس کا بیان خود قرآن میں کئی جگہ ہے۔ سورة تبارک میں فرمایا کہ کیا تمہیں اس اللہ کا ڈر نہیں جو آسمانوں میں ہے کہ کہیں وہ تمہیں زمین میں نہ دھنسا دے کہ یکایک زمین جنبش کرنے لگے۔ کیا تمہیں آسمانوں والے اللہ کا خوف نہیں کہ کہیں وہ تم پر پتھر نہ برسا دے پھر جان لو کہ ڈرانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ پھر فرماتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 67–69

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 84 یعنی اس بات کی دلیل ہے کہ تمہاری اصلی فطرت ایک خدا کے سوا کسی رب کو نہیں جانتی، اور تمہارے اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ شعور موجود ہے کہ نفع و نقصان کے حقیقی اختیارات کا مالک بس وہی ایک ہے۔ ورنہ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ جو اصل وقت دستگیری کا ہے اس وقت تم کو ایک خدا کے سوا کوئی دوسرا دستگیر نہیں سوجھتا ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–69

خلاصہ تفسیر سابقہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال تھا آیات مذکورہ میں یہی مضمون ایک خاص انداز سے بیان کیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی بیشمار عظیم الشان نعمتیں جو انسانوں پر ہر وقت مبذول ہیں ان کو بیان کر کے یہ بتلانا منظور ہے کہ ان تمام نعمتوں کا بخشنے والا بجز ایک حق تعالیٰ کے کوئی نہیں ہوسکتا اور سب نعمتیں اس کی ہیں تو اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑی گمراہی ہے ارشاد فرمایا کہ) تمہارا رب ایسا (منعم) ہے کہ تمہارے (نفع کے) لئے کشتی کو دریا میں لے چلتا ہے تاکہ تم اسکے ذریعہ رزق تلاش کرو (اس میں اشارہ ہے کہ بحری سفر تجارت کے لئے عموما بڑے نفع کا سبب ہوتا ہے) بیشک وہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سرکشوں سے چند سوالات : اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا۔ اب یہ سوال فرمایا ہے کہ دریا سے خشکی میں آجانے کے بعد خدا سے بےخوف اور بےپروا کیوں ہوجاتے ہو ؟ کیا سمجھتے ہو کہ خدا کی خدائی دریا ہی تک محدود ہے۔ خشکی اس کی خدائی سے باہر ہے ؟ اگر وہ خشکی میں زمین کو تمہارے سمیت دھنسا دے یا تم پر کنکر پتھر برسا دینے والی باد تند بھیج دے جو تم کو اور تمہارے مکانوں کو تہس نہس کر کے رکھ دے تو آخر کون ہے جو تم کو خدا سے بچانے والا بن سکے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

68۔ 1 یعنی سمندر سے نکلنے کے بعد تم جو اللہ کو بھول جاتے ہو تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہ خشکی میں بھی تمہاری گرفت کرسکتا ہے، تمہیں وہ زمین میں دھنسا سکتا ہے یا پتھروں کی بارش کر کے تمہیں ہلاک کرسکتا ہے، جس طرح بعض گزشتہ قوموں کو اس نے اس طرح ہلاک کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 65–68

38: میرے بندوں سے مراد مخلص بندے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی فکر رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 68–69

انسان جہاں ہوا اور جس دور میں ، جس لمحے میں ہو ، وہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ جس طرح خشکی میں وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ، اسی طرح سمندر میں بھی وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہوں۔ تو وہ کس طرح امن میں ہوں گے۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی زلزلے میں ، زمین دھنس میں جائیں ، کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے یا دوسری کوئی آفت سماوی ان پر ٹوٹ پڑے۔ اگر کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے تو ان پر گرم لاوے ، گرم پانی ، کیچڑ اور پتھروں کا سیلاب آجائے ، اور وہ اس طرح ہلاکت کا شکار ہوجائیں کہ اللہ کے سوا کوئی ان کے لئے ناصر و مددگار نہ رہے۔ کوئی ان کی حمایت نہ کرسکے اور کوئی انہیں بچا نہ سکے۔ پھر کیا گارنٹی ہے کہ وہ دوبارہ سفر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی سمندر کے کنارے خشکی پر دھنسا دے۔ مثلاً زلزلہ آجائے اور زمین شق ہو کر قارون کی طرح اس میں دھنس جاؤ۔ خلاصہ یہ کہ ہلاک کرنا کچھ دریا کی موجوں پر موقوف نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 68 اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ جب تم جان بچا کر سمند رسے خشکی پر آتے ہو تو پھر اللہ کی نا شکری کرتے ہوئے اس سے منہ موڑ لیتے۔ کیا تمہیں اس بات سے خوف نہیں آتا کہ اگر اللہ چاہے تو تمہیں خشک زمین ہی کے اندر دھنسا دے ؟ کیا خشکی پر لوگوں کو موت نہیں آتی ؟ آسودۂ ساحل توُ ہے مگر شاید یہ تجھے معلوم نہیں ساحل سے بھی موجیں اٹھتی ہیں خاموش بھی طوفاں ہوتے ہیں ! اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ چاہے تو سنگریزوں والی خوفناک آندھی سے بھی تمہیں ہلاک کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–68

86 گرداب میں صرف اللہ کو پکارنا :۔ شیطانی اغوا کی کیفیت بیان کرنے کے بعد پھر سے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید پر دلائل ذکر کیے جارہے ہیں۔ مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ جب ان کی کشتی گرداب میں پھنس جاتی یا سمندر کے طوفانی تھپیڑے کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے اور کشتی والوں کو سب ظاہری اسباب ختم ہوتے نظر آنے لگتے تو اس وقت وہ صرف ایک اللہ کو پکارتے اور اپنے دوسرے سب معبودوں کو بھول جاتے تھے۔ اسی فطری داعیہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور مختار کل ہونے کے ثبوت پر پیش فرمایا ہے اور باقی معبودوں کی تردید کی ہے مگر آج کا مشرک اس دور کے مشرکوں سے اپنے شرک میں پختہ تر نظر آتا ہے وہ اس آڑے وقت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

99۔ یعنی ایسا جو اللہ کے مقابلہ میں تمہاری حمایت ونصرت کچھ اور کسی درجہ میں بھی کرسکے (آیت) ” اویرسل علیکم حاصبا “۔ ایسی تند ہوا یا طوفانی آندھی چلا دے یا تم پر کنکر پتھر برسا دے۔ (آیت) ” افامنتم۔۔۔ حاصبا “۔ یعنی یہ تمہاری کیسی غفلت ونادانی ہے کہ تم خدا کو شاید صرف سمندرہی پر قادر سمجھتے ہو، یہ خیال نہیں کرتے کہ عذاب الہی کا خشکی میں بھی تو ہر وقت آجانا ممکن ہے، خواہ نیچے سے یا اوپر سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–70

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا : سو کیا تم اس بات سے بےفکر ہو بیٹھے کہ تم کو خشکی کی طرف لا کر زمین میں دھنسا دے یا تم پر کوئی ایسی آندھی بھیج دے جو کنکر پتھر برسانے لگے پھر کسی کو تم اپنا کارساز نہ پاؤ۔ یعنی خشکی کے جس حصّہ پر تم موجود ہو اللہ اس کو الٹ دے یا تمہاری وجہ سے اس کو الٹ دے اور تم کو اس طرح ہلاک کر دے۔ حاصب وہ آندھی اور طوفان جس میں سنگریزے بھی اڑ جاتے ہیں اور کہیں سے کہیں جا گرتے ہیں 1 ؂۔ وکیل سے اس جگہ مراد ہے بچانے والا ‘ حفاظت کرنے والا ‘ روک دینے والا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(68) مکہ والو تو کیا تم اس بات سے مطمئن بیٹھے ہو کہ وہ تمہیں قارون کی طرح خشکی کی طرف لا کر دھنسا دے یا تم پر قوم لوط ؑ کی طرح پتھر برسا دیے جائیں پھر تم کسی کو اپنا مددگار نہ پاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 68–69

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ۔۔ : ”خَسْفٌ“ کا معنی زمین میں دھنسا دینا ہے۔ ”جَانِبَ الْبَرِّ“ خشکی کا کنارا، یہ اس لیے فرمایا کہ زمین میں پانی کا کنارا خشکی اور خشکی کا کنارا پانی ہے۔ ”حَاصِبًا“ سنگریزے اڑانے والی آندھی، یا وہ بادل جس سے اولے برسیں۔ ”قَاصِفًا“ ”ضَرَبَ“ سے اسم فاعل ہے، درختوں، کشتیوں اور ہر چیز کو توڑ دینے والی آندھی۔ ”تَبِيْعًا“ قرض یا انتقام کا مطالبہ کرنے والا جو پیچھا نہ چھوڑے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی نادانی اور کم عقلی بیان فرمائی ہے کہ تم جب خشکی پر پہنچ جاتے ہو تو اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت سے بےخوف ہو کر دوبارہ کفر و شرک میں مبتلا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 68 قولہ تعالیٰ : افامنتم ان یخسف بکم جانب البر یہ بیان فرمایا کہ وہ خشکی میں بھی انہیں ہلاک کرنے پر قادر ہے اگرچہ وہ سمندر سے صحیح سالم بچ جائیں۔ اور الخسف کا معنی ہے زمین کا کسی چیز کے ساتھ دھنس جانا) ۔ کہا جاتا ہے : بئر خسیف جب کنوئیں کی اصل اور بنیاد گرجائے۔ اور عین خاسف یعنی آنکھ کی سیاہی سر میں دھنس گئی اور عین من الماء خاسفۃ یعنی چشمے کا پانی دھنس گیا۔ اور خسفت الشمس یعنی سورج زمین سے چھپ گیا (سورج کو گرہن لگ گیا) ۔ اور ابوعمر و نے کہا ہے : الخسیف وہ کنواں ہے جو پتھروں میں کھودا جاتا ہے۔ اور اس کا پانی کثیر اور زیادہ ہونے کے سبب ختم نہ ہو۔ اور اس کی جمع خسف ہے۔ اور جانب البر سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 66–69

1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یزجی “ سے مراد ہے یجری یعنی چلتا ہے۔ 2:۔ عبدالرزاق ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یزجی لکم الفلک “ سے مراد کشتیوں کو تمہارے لئے سمندر میں چلاتا ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء خراسنی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الفلک “ سے مراد ہے کشتی۔ 4:۔ اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ کان بکم رحیما “ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔ 5:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویرسل علیکم حاصبا “ یعنی پتھروں کی بارش۔ 6:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَاَمِنْتم : تو کیا تم لوگ امن میں ہو ] [ان : (اس سے) کہ ] [يَّخْسِفَ : وہ دھنسا دے ] [بِكُمْ : تمہارے ساتھ ] [جانب الْبَرِّ : خشکی کے کنارے کو ] [اَوْ : یا ] [يُرْسِلَ : وہ بھیج دے ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [حَاصِبًا : کنکریاں مارنے والی تند ہوا کو ] [ثُمَّ : پھر ] [لَا تَجِدُوْا : تم لوگ نہیں پائو گے ] [لَكُمْ : اپنے لئے ] [وَكِيْلًا : کوئی کارساز ] ح ص ب [حَصْبًا : (ن۔ ض) ] کنکری سے مارنا۔ فرش بنانے کے لئے چھوٹے پتھر بچھانا۔ حَصَبٌ اسم ذات ہے۔ چھوٹے پتھر۔ ایندھن۔ اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ (بیشک تم لوگ اور وہ جس کی تم لوگ پرستش کرتے ہو، اللہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 68–69

اس کے بعد انسانوں کو تنبیہ فرمائی کہ سمندر کی مصیبت سے نکل کر جو تم مطمئن ہوگئے اور باطل معبودوں کے پھر سے پجاری بن گئے ہو تو کیا تم یہ سمجھ کر مطمئن ہوگئے ہو کہ خشکی میں اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک نہیں کرسکتا۔ سمندر سے باسلامت نکل کر پھر شرکیہ کاموں میں لگ جانے سے تو یہی واضح ہوتا ہے کہ اب تم بالکل بےخوف ہوگئے تمہیں کوئی خطرہ نہیں۔ یہ تمہاری بیوقوفی ہے اللہ تعالیٰ کو جیسے سمندر میں غرق کردینے کی قدرت ہے۔ ایسے ہی یہ بھی قدرت ہے کہ وہ تمہیں خشکی میں لاکر زمین میں دھنسا دے۔ اور یہ بھی قدرت ہے کہ تم پر ایسی سخت ہوا بھیجے جو پتھر برسانے والی ہو اور اسے یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں دوبارہ سمندر میں واپس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–70

رجوع بسوئے توحید قال اللہ تعالیٰ : ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر .. الیٰ .. وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا (ربط) اب پھر توحید کی طرف رجوع کرتے ہیں اور توحید کے دلائل بیان فرماتے ہیں نیز گزشتہ رکوع میں شیطان کا یہ قول نقل کیا تھا قال ارء یتک ھذا الذی کر مت علی : اس لیے ان آیات میں بنی آدم کی کرامت اور فضیلت کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ شیطان بر اور بحر میں کس طرح اغواء کرتا ہے اور نبی آدم کی تکریم اور تفضیل کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ منعم حقیقی کا شکر گزار بندہ بنے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرے چناچہ فرماتے ہیں۔ تمہارا پروردگا وہ ہے جو تمہارے نفع کے لیے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 68–69

63:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ خشکی میں تم مصائب و بلیات سے محفوظ اور اپنے خود ساختہ کارسازوں کی پناہ میں ہو مگر یاد رکھو اگر اللہ چاہے تو نیچے سے زمین کو چیر کر تم کو اس میں دھنسا دے یا اوپر سے تم پر پتھروں کی بارش برسا کر تمہیں نیست و نابود کردے تو اس وقت بھی تمہارا کوئی خود ساختہ کار ساز ہرگز تمہاری مدد نہیں کرسکے گا۔ ” ام امنتم ان یعیدکم الخ “ وہ یوں بھی کرسکتا ہے کہ تمہیں اپنی ضرورتوں کے تحت پھر سے بحری سفر پر گامزن کردے اور عین وسط سمندر میں ایک ہولناک طوفان باد بھیج کر تمہیں غرق کردے اس وقت بھی تم کسی کو اپنا غمخوار اور ناصر و مددگار نہیں پاؤ گے۔ یعنی لا تجدو ناصرا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 66–69

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا مضمون بیان فرمایا پھر شیطان کی نافرمانی اور وسوسہ اندازی کا ذکر ہوا کہ جس کے ذریعہ وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اب آج کی آیات میں ایک تو اللہ تعالیٰ نے بحری نقل وحمل کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے اور دوسرے اسی مناسبت سے شرک کی تردید فرمائی ہے کہ جب ان کی کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے ، تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اس مصیبت سے نجات مل جاتی ہے تو پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے وعید بھی فرمائی ہے کہ اگر تم کفر پر اصرار کرتے رہے یا اس کی نعمتوں کی ناشکر گزاری کی تو وہ تمہیں خشکی پر بھی سزا دینے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا 68؀ۙ أمن أصل الأَمْن : طمأنينة النفس وزوال الخوف، والأَمْنُ والأَمَانَةُ والأَمَانُ في الأصل مصادر، ويجعل الأمان تارة اسما للحالة التي يكون عليها الإنسان في الأمن، وتارة اسما لما يؤمن عليه الإنسان، نحو قوله تعالی: وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، أي : ما ائتمنتم عليه، ( ا م ن ) امانت ۔ اصل میں امن کا معنی نفس کے مطمئن ہونا کے ہیں ۔ امن ، امانۃ اور امان یہ سب اصل میں مصدر ہیں اور امان کے معنی کبھی حالت امن کے آتے ہیں اور کبھی اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی کے پاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–70

ترکیب : الا ایاہ استثناء منقطع وقیل متصل ان یخسف مفعول امنتم بکم حال ہے یایخسف کا صلہ جانب البر مفعول بہ الار جاء السوق والاجراء والتیسر بمعنی راندن۔ الحصب قال ابوعبیدہ والقنیبی ھوالرمی ریحًا شدید الحاصۃ التی ترمی بالحصاء الصفاء وقال الزجاج الحاصب القراب الذی فیہ حصاء وقیل الحصاء صب حجارۃ من السماء تارۃ مصدر یجمع علی تیرہ و تارات والفھا واویاء۔ القاصف الریح الشدیدہ التی تکسر بشدۃ من قصف الشیء یقصف من ضرب یضرب تبعانصیرا اومن تبعینًا بانکار مانزلنا۔ تفسیر : یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع کرتا ہے اور مشرکین کی عادات ناپسندیدہ کی برائی اور نیز یہ بات بھی بتلاتا ہے کہ خدا کے احسان یاد رکھا کرو اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 68–69

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لاَ تَجِدُوْا لَـکُمْ وَکِیْلاً ۔ اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَکُمْ فِیْہِ تَارَۃً اُخْرٰی فَیُرْسِلَ عَلَیْکُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَـکُمْ بِمَا کَـفَرْتُمْ لا ثُمَّ لاَ تَجِدُوْا لَـکُمْ عَلَیْنَا بِہٖ تَبِیْعًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 68۔ 69) (کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ خشکی کے کنارے کو تمہارے سمیت دھنسا دے یا تم پر بادتند بھیج دے، پھر نہ پائو تم اپنے لیے کوئی کارساز۔ یا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ تم کو دوبارہ سمندر میں لوٹائے، پھر بھیج دے تم پر کشتیوں کو توڑنے والی سخت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 68–69

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کو پے درپے تین چیلنج دیئے گئے ہیں۔ پہلے مشرکین کی عادت کا ذکر ہوا ہے کہ جب دریائی سفر میں طوفان سے دوچار ہوتے ہیں تو صرف ایک اللہ کو پکارتے ہیں اور اسی کے حضور فریادیں کرتے ہیں۔ اس سے وعدے کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! اگر تو نے ہمیں اس گرداب سے نکال لیا تو ہم صرف تیرے ہی حضور جھکیں گے اور تجھ ہی سے فریاد کریں گے۔ یقیناتو ہی مشکل کشا ہے تیرے سوا کوئی بھی اس بھنور سے نہیں نکال سکتا مگر جب خشکی پر اترتے ہیں تو فوراً اللہ تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو پے در پے تین چیلنج کیے گئے ہیں کہ یہ لوگ بھول گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں خشکی ہی میں دھنسا دے۔ کیا رب ذوالجلال…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

68: اَفَاَ مِنْتُمْ (پس کیا تم اس بات سے بےفکر بیٹھے ہو) ۔ اس میں ہمزہ انکار کا ہے اور فاءؔ عاطفہ ہے جس کا عطف محذوف پر ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے أنجوتم فامنتم فحملکم ذلک علی الاعراض کیا تم نے نجات پالی پس تم امن میں ہوگے اور اس نے تمہیں اعراض پر آمادہ کیا۔ اَنْ یَّخْسِفَ بِکُمْ جَانِبَ الْبَرِّ (کہ وہ تم کو خشکی کے ایک طرف میں لا کر زمین میں دھنسا دے) نحو : جَانِبَ یَخْسِفَ کا مفعول بہٖ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ جیسا کہ الارض خسفنا کی وجہ سے اس آیت میں فَخَسَفْنَا بِہٖ وَبِدَارِہِ الْاَرْضَ ] القصص : 81[ بِکُمْ یہ حال ہے۔ مطلب یہ ہے وہ دھنسا دے خشکی کی جانب میں یعنی اس کو الٹ دے اس حال میں کہ تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

68۔” افامنتم “ اس کے بعد ” ان یخسف بکم “ تمہیں اس میں غرق کردیتا ۔ ” جانب البر “ سمندر کے کنارے پر ۔ ” ویرسل علیکم حاصبا ً “ تم پر ایسے پتھر برساتے جس طرح قوم لوط پر پتھر برسائے۔ ابو عبیدہ اور قتیمی رحمہما اللہ کا قو ل ہے حاصب وہ ہوا ہے جو اپنے ساتھ سنگریزے بھی اڑاے۔” ثم لا تجدوا لکم وکیلا ً قتادہ نے اس کا ترجمہ کیا ہے روک دینے والا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

68۔ اوپر کی آیت میں اللہ پاک نے بیان فرمایا تھا کہ انسان جب دریا میں کشتی پر سوار ہوتا ہے اور تیز ہوا میں کشتی تہ وبالا ہونے لگتی ہے تو صرف خدا ہی کو لوگ یاد کرنے لگتے ہیں اس وقت کسی اور اپنے جھوٹے معبود کو نہیں پکارتے پھر جب اللہ پاک ان کی فریاد سن کر ان پر رحم کرتا ہے اور صحیح و سلامت خشکی پر ان کو پہنچاتا ہے تو پھر یہ لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں ذرا بھی خیال نہیں رہتا کہ خدا کو کبھی یاد کیا تھا بالکل بےخوف ہوجاتے ہیں خدا کے عذاب کا ذرا بھی ڈر ان کے دل میں نہیں ہوتا یہ بھی خیال نہیں کرتے کہ جو دریا میں غرق کرنے پر قادر ہے وہ کیا خشکی میں ہلاک کرنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ غرض کہ اللہ پاک نے اسی بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–69

(آیت نمبر (59 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 64–69

شیطان کے وار سب پر کارگر نہیں ہوتے قول باری ہے (واستفززمن استطعت منھم بصوتک اور تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھیلا سکتا ہے پھسلا لے) جسے یہ بات کہی جا رہی ہے یعنی شیطان کو یہ دھمکی ہے اور اسے خربدار کیا جا رہا ہے کہ اس کی کارستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے نیز یہ کہ وہ اس کی سزا ضرور پا کر رہ یگا اور اس سے ضرور اس کا اتنقا ملیا جائے گا۔ اس کی مثال کا یہ قول ہے ۔ ” تم اپنا پورا زور لگا لو پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا کیا بنتا ہے۔ “ استفزز کے معنی استزل ، کے ہیں یعنی پھسلا دے۔ محاورہ میں استفزہ اور استنزلہ ہم معنی فعل ہیں۔ قول باری (بصوتک) کی تفسیر میں مجاہد سے مروی ہے کہ یہ غناء اور لہو یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

125۔ خدا کے عذاب سے کبھی بھی بےخوف نہیں ہونا چاہیے :۔ کیونکہ اس کا عذاب کہیں بھی اور کسی بھی شکل میں آسکتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” تو کیا تم لوگ اس بات سے نڈر اور بےخوف ہوگئے کہ وہ تمہیں زمین ہی میں کہیں دھنسادے “ جیسا کہ اس نے قارون اور اس کے لاؤولشکر کے ساتھ کیا کہ اس کو اپنے لاؤ لشکر اور سازوسامان سمیت زمین میں دھنسا کر ہمیشہ کیلئے فی النار والسقر کردیا۔ اور اس کے اس انجام کو رہتی دنیا تک کیلئے نشان عبرت بنادیا۔ اور جیسا کہ زلزلوں، سیلابوں، طوفانوں، زمینی تودوں (Land Slidis) کے گرنے کے ذریعے آج تک جگہ جگہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سوسمندر کی موجوں سے نکل آنے کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 66–70

اللہ کی رحمتیں برکتیں اور انسان کی ناشکری تشریح : یہاں پھر ان تمام احسانات کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانوں کی سہولت آرام و آسائش کے لیے اللہ نے انسان کو دے رکھے ہیں مثلاً اتنے بڑے بڑے پانی سے بھرے ہوئے موجیں مارتے دریا اور زبردست سمندر سب کو انسان کے لیے اس طرح مسخر (تابع) کردیا کہ انسان اپنی عقل سے کام لے کر جو اللہ نے اس کو دی ہے بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز بنا کر ان کے ذریعے سفر کرتا ہے، تجارت کرتا ہے، مگر پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا مگر کیونکہ فطرتاً انسان اللہ کو ہی رب مانتا ہے، اس لیے جب طوفان اور مصیبت میں گھر جاتا ہے تو پھر مدد کے لیے بےاختیار اللہ ہی کو پکارتا ہے اس وقت وہ اپنے کسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 68–69

ف 8 کو تو نے ان پر جھگڑ کیوں بھیجا اور کیوں انہیں غرق کردیا۔ سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں کوئی چوں تک نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:68) افامنتم۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے امنتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ تم امن میں ہوئے ۔ تم مطمئن ہوئے۔ امن سے۔ کیا تم بےفکر ہوگئے ہو۔ نڈر ہوگئے ہو۔ یخسف بکم۔ مضارع واحد مذکر غائب، منصوب بوجہ عمل ان۔ خسف مصدر ان یخسف بکم۔ وہ تم کو دھنسا دے۔ تمہارے سمیت دھنسا دے۔ جانب البر۔ مضاف مضاف الیہ۔ مل کر یخسف کا منفعول فیہ۔ خشکی کا کنارہ۔ یرسل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ ارسال (افعال) مصدر۔ یرسل علیکم تم پر بھیج دے۔ حاصبا۔ باد سنگ بار۔ پتھروں کا مینہ۔ سخت آندھی۔ نیز وہ پتھرائو جو تند ہوا میں ہو حاصب کہلاتا ہے۔ حصباء سے مشتق ہے۔ حصباء کنکریوں کو کہتے ہیں۔ سورة ملک میں ہے ام امنتم من فی السماء…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 66–69

لغات القرآن آیت 66 تا 69 یزجی وہ چلاتا ہے۔ الضر مصیبت، نقصان۔ افامنتم کیا پھر تم مطمئن ہوگئے ؟ ۔ یخسف وہ دھنسا دیتا ہے۔ حاصباً پتھر برسانے والی آندھی۔ تارۃ اخری دوبارہ۔ قاصف سخت طوفانی ہوا۔ یغرق وہ غرق کرتا ہے۔ لاتجدوا تم نہ پاؤ گے۔ تبیع پیچھا کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 66 تا 69 اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے ” اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں (دی گئی نعمتوں میں) اور اضافہ کرتا چلا جاؤں گا۔ اس کے برخلاف اگر میری نعمتوں کی ناشکری کی گئی تو پھر میری گرفتا ور پکڑ بہت سخت ہے۔ واقعتاً اگر غور کیا جائے تو انسانی وجود کی ابتداء سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک اللہ اتنی نعمتوں سے نوازتا ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں فرمایا کہ لوگ کیا بےخوف ہوگئے ہیں، انہیں اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ خدا چاہے تو دریا سے نجات دے کر خشکی میں بھی زمین کے اندر انسان کو دھنسا دے، جیسا قارون کو دھنسا دیا تھا۔ مقصد یہ ہے کہ خشکی وتری سب اس تحت قدرت میں ہے اور اگر چاہے تو آسمان سے سنگساری اور برف باری کرے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ مر کر رہ جاویں اور اس مصیبت اور عذاب سے بچانے والا انہیں کوئی میسر نہ آوے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 67–69

فطرت انسانی کا اقرار : (ف 1) انسانی فطرت ہے کہ مصائب ومشکلات کے وقت دل کی تمام قوتیں بیدار ہوجاتی ہیں ، اور ایمان کے مخفی نقوش جو ہواہوس کے توغل کی وجہ سے دب جاتے ہیں ابھر آتے ہیں ، جب کہ مصیبت کے بادل مطلع قلب پر اضطراب و انتشار بن کر چھا جاتے ہیں ، توحید الہی کے عقدوں کو کھلنے کا موقع ملتا ہے ، اسرار منکشف ہوتے ہیں ، اور دل کی گہرائیوں میں یقین چمکنے لگتا ہے ، اس آیت میں اس کیف وحال کی جانب قرآن حکیم نے انسان کو متوجہ کیا ہے ، اور فرمایا ہے جب تم تکلیفوں اور مصیبتوں میں اللہ کو یاد کرتے ہو ، اور اس کے نام کے ساتھ تسلی وتسکین حاصل کرتے ہو تو عافیت وامن کی حالت میں کیوں اس حقیقت کو فراموش…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-68 آگے اس کا فرانہ روش پر تنبیہہ فرماتے ہیں تو کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ تم کو خشکی کے کنارے پر لا کر اور خشکی کی طرف لا کر تم کو زمین میں دھنسا دے یا تم پر کوئی کنکر پتھر برسانے والی سخت تند و تیز ہوا بھیج دے پھر تم کسی کو اپنا مددگار اور کار ساز بھی نہ پائو۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زمین زلزلہ سے یا کسی اور وجہ سے پھٹ جائے یا کسی دلدل میں پھنس کر زمین میں دھنس جائو یا کوئی تیز آندھی آجائے جس میں کنکر پتھر ہوں اور تم اس آندھی سے ہلاک کردیئے اور تمہارئی کوئی مدد کرنے والا بھی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 67–69

ف 3۔ دل سے بھی کہ ان کا خیال نہیں آتا اور فریاد رسی سے بھی کہ وہ امداد نہیں کرسکتے جس سے بدلالت حال و مقال تمہارے اعتراف سے بطلان شرک لازم آتا ہے ،۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

غور کرو کہ تم خشکی پر پہنچ کر نچنت کیسے ہوگئے ؟ کیا موت صرف سمندر ہی میں تھی : 85۔ کبھی سوچنے اور سمجھنے کی بھی کوشش کرو ‘ تمہاری مت شرک نے کیسے ماری دی اور تمہاری حماقت کی بھی آخر کوئی حد ہے کہ سمندر میں تم عذاب الہی سے ڈر کر شرک سے تائب ہوگئے اور تم نے خالص اللہ کو پکارنا شروع کردیا اور جب خشکی پر پہنچے تو پھر وہی ” علی مشکل کشا “ ” عبدالحق بیڑادھک “ اور ” یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئا اللہ “ ” میراں موج کے دریا کھول رحم کی گلی “ عجیب لچھن ہیں تمہارے ؟ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ خشکی پر شرک کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اس جگہ کوئی عذاب نہیں آئے گا گویا موت سمندر ہی میں آتی ہے ؟ بیوقوفو ! اللہ چاہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–69

(2) Secondly, he had said if he was given respite till the day of Qiyamah, he will mislead the entire progeny of 'Adam, except a few of them. That Allah Ta’ ala has elected to answer in the later verses. He said that the Shaitan will have no control over His sincere servants even if he were to rally his entire forces against them and as for the insincere who fall into his trap, they will meet the same fate as his, all consigned to Hell. When this verse (64) mentions the horsemen and footmen of the Shaitanic army, it does not necessarily mean that the Shaitan actually has combat support in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 67–69

84. That is, this is a proof of the fact that your real nature knows no other Lord than Allah, and you feel in the depths of your hearts that He alone possesses the real power of every gain or loss. Had it not been so, man would never have invoked Allah at the time when he realized that no other helper could remove his misfortune.

Read the full tafseer →