مصیبت ختم ہوتے ہی شرک
اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ بندے مصیبت کے وقت تو خلوص کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف جھکتے ہیں اور اس سے دلی دعائیں کرنے لگتے ہیں اور جہاں وہ مصیبت اللہ تعالیٰ نے ٹال دی تو یہ آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ فتح مکہ کے وقت جب کہ ابو جہل کا لڑکا عکرمہ حبشہ جانے کے ارادے سے بھاگا اور کشتی میں بیٹھ کر چلا اتفاقا کشتی طوفان میں پھنس گئی، باد مخالف کے جھونکے اسے پتے کی طرح ہلانے لگے، اس وقت کشتی میں جتنے کفار تھے، سب ایک دوسرے سے کہنے لگے اس وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی کچھ کام نہیں آنے گا۔ اسی کو پکارو۔ عکرمہ کے دل میں اسی وقت خیال آیا کہ جب تری میں صرف وہی کام کرسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 84
یعنی اس بات کی دلیل ہے کہ تمہاری اصلی فطرت ایک خدا کے سوا کسی رب کو نہیں جانتی، اور تمہارے اپنے دل کی گہرائیوں میں یہ شعور موجود ہے کہ نفع و نقصان کے حقیقی اختیارات کا مالک بس وہی ایک ہے۔ ورنہ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ جو اصل وقت دستگیری کا ہے اس وقت تم کو ایک خدا کے سوا کوئی دوسرا دستگیر نہیں سوجھتا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
خلاصہ تفسیر
سابقہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال تھا آیات مذکورہ میں یہی مضمون ایک خاص انداز سے بیان کیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی بیشمار عظیم الشان نعمتیں جو انسانوں پر ہر وقت مبذول ہیں ان کو بیان کر کے یہ بتلانا منظور ہے کہ ان تمام نعمتوں کا بخشنے والا بجز ایک حق تعالیٰ کے کوئی نہیں ہوسکتا اور سب نعمتیں اس کی ہیں تو اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑی گمراہی ہے ارشاد فرمایا کہ) تمہارا رب ایسا (منعم) ہے کہ تمہارے (نفع کے) لئے کشتی کو دریا میں لے چلتا ہے تاکہ تم اسکے ذریعہ رزق تلاش کرو (اس میں اشارہ ہے کہ بحری سفر تجارت کے لئے عموما بڑے نفع کا سبب ہوتا ہے) بیشک وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
آگے کا مضمون۔ آیات 66 تا 72:۔ سرکشوں اور غافلوں کی تمثیل : آگے انسان کی اس حالت کی تمثیل ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پکڑا جاتا ہے تب وہ خدا خدا پکارتا اور اسی کے آگے روتا اور گڑگڑاتا ہے لیکن جوں ہی اس مصیبت سے نجات پا جاتا ہے پھر اکڑنے اور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ اسے یہ بات بالکل فراموش ہوجاتی ہے کہ اگر خدا چاہے تو اس کو پھر اسی حالت میں گرفتار کرسکتا ہے اور اس طرح گرفتار کرسکتا ہے کہ پھر اس سے کبھی رہائی نصیب نہ ہو۔ اس کے بعد دو گروہوں کی تمثیل ہے ایک ان لوگوں کی جو دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اس سے صحیح سبق حاصل کرتے ہیں اور دوسری ان لوگوں کی جو ہمیشہ اندھے بنے رہتے ہیں۔ ان دونوں قسم کے…
Read the full tafseer →67۔ 1 یہ مضموں پہلے بھی کئی جگہ گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
38: میرے بندوں سے مراد مخلص بندے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی فکر رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →آپ اس کشتی رانی اور خوشگوار سفر کے دوران اچانک مشکلات اور اضطرابات سے دوچار ہوتے ہیں ، کشی موجوں کے تھپیڑوں میں گھری ہوتی ہے۔ وہ اس قدر ہچکولے کھاتی ہے کہ اس کے سواروں کو اب اللہ کے سوا تمام باطل الہہ بھول جاتے ہیں ۔ اب اس ہمہ گیر خطرے میں وہ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں اور صرف اللہ کا پکارتے ہیں۔
ضل من تدعون الا ایاہ (71 : 76) ” تو اس کے سوا تم جن جن کو پکارتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں “۔
لیکن انسان بہرحال انسان تو ہے ہی۔ جونہی یہ طوفان بیٹھتا ہے ، جونہی اس کے قدم خشکی پر پڑتے ہیں ، تو یہ کرب اور کوکے وہ لمحات فوراً بھول جاتا ہے ، پھر وہ اللہ کو بھی بھول…
Read the full tafseer →3 یعنی مصیبت سے نکلتے ہی محسن حقیقی کو بھول جاتا ہے چند منٹ پہلے دریا کی موجوں میں خدا یاد آرہا تھا کنارہ پر قدم رکھا اور بےفکر ہو کر سب فراموش کر بیٹھا۔ اس سے بڑھ کر ناشکر گذاری کیا ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 67 وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ
جب کشتی طوفان میں گھر جاتی ہے اور موت سامنے نظر آنے لگتی ہے تو :
ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ
اس وقت تمہیں اپنے ان معبودوں میں سے کوئی بھی یاد نہیں رہتا جنہیں تم عام حالات میں اپنا مددگار سمجھتے ہو۔ اس آڑے وقت میں تم صرف اللہ ہی کو مدد کے لیے پکارتے ہو۔ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
86 گرداب میں صرف اللہ کو پکارنا :۔ شیطانی اغوا کی کیفیت بیان کرنے کے بعد پھر سے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید پر دلائل ذکر کیے جارہے ہیں۔ مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ جب ان کی کشتی گرداب میں پھنس جاتی یا سمندر کے طوفانی تھپیڑے کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے اور کشتی والوں کو سب ظاہری اسباب ختم ہوتے نظر آنے لگتے تو اس وقت وہ صرف ایک اللہ کو پکارتے اور اپنے دوسرے سب معبودوں کو بھول جاتے تھے۔ اسی فطری داعیہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور مختار کل ہونے کے ثبوت پر پیش فرمایا ہے اور باقی معبودوں کی تردید کی ہے مگر آج کا مشرک اس دور کے مشرکوں سے اپنے شرک میں پختہ تر نظر آتا ہے وہ اس آڑے وقت میں…
Read the full tafseer →98۔ (کہ ایسی جلدی منعم کا انعام و احسان اور اپنا عجز والحاح سب بھول جاتا ہے) (آیت) ” ضل من تدعون “۔ یعنی وہ دیوی دیوتا جن پر تمہیں اتنا بھروسہ ہوتا ہے۔ اور جنہیں مدد کے لیے پکارتے رہتے ہو، سب گئے گزرے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی کام نہیں آتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ
اور جب تم کو دریا میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بجز خدا کے تم جتنوں کی عبادت کرتے تھے ‘ سب غائب ہوجاتے ہیں۔
الضر یعنی ڈوبنے کا سخت خوف۔ مطلب یہ ہے کہ کہ ایسے خوف کے وقت تم اللہ کے سوا کسی معبود کو یاد نہیں کرتے سب باطل معبود تمہارے ذہن سے غائب ہوجاتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ تمام باطل معبود تمہاری مدد کرنے سے غائب ہوجاتے ہیں اور سوائے اللہ کے کوئی تمہاری فریاد رسی نہیں کرتا۔
فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا : پھر جب اللہ تم کو ڈوبنے سے بچا کر
خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم…
Read the full tafseer →(67) اور جس وقت دریا میں تمہیں کوئی تکلیف یا غرق ہونے کا ڈر ہوتا ہے تو جن بتوں کو تم پوجتے ہو، سب کو چھوڑ دیتے ہو ان میں سے کسی سے بھی نجات کی درخواست نہیں کرتے، سوائے خدائے وحدہ لاشریک کے اسی کے سامنے نجات کی درخواست کرتے ہو۔
پھر جب وہ تمہیں خشکی کی طرف بچا لاتا ہے تو پھر شکر خداوندی اور توحید خداوندی سے پھرجاتے ہو، واقعی کافر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا بڑا ناشکرا ہے
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ۔۔ : زمانۂ جاہلیت اور زمانۂ نبوت کے کفار کی بت پرستی کے باوجود ان کی فطرت میں رکھی گئی توحید کا ذکر بطور دلیل ہو رہا ہے کہ جب سمندر میں طوفان آتا ہے تو پہاڑوں جیسی موجوں میں جہاز گھر جاتا ہے اور موت صاف نظر آنے لگتی ہے تو تم اپنے تمام خداؤں، داتاؤں، مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کو بھول کر اپنی فطرت میں رکھی ہوئی توحید کی وجہ سے صرف ایک اللہ کو پکارتے ہو، پھر جب وہ تمہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو منہ پھیر لیتے ہو، جیسے اپنے رب سے تمہاری کوئی آشنائی ہی نہ تھی اور پھر اپنے خود ساختہ خداؤں کو پکارنے لگتے ہو اور انھی کا احسان ماننے لگتے ہو۔ کس قدر احسان…
Read the full tafseer →آیت نمبر 67
قولہ تعالیٰ : واذمسکم الضر فی البحر، والضر کا لفظ غرق ہونے اور چلنے سے روکنے کے خوف اور اس کے حالات کے خوفناک ہونے (یعنی) اس کے اضطراب اور اس کے موجیں مارنے وغیرہ سبھی کو شامل ہے۔ ضل من تدعون الا ایاہ، ضل اس کا معنی ضائع ہونا اور مفقود ہونا، اور گم ہونا ہے اور یہ ان کی تحقیر سے عبارت ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا بطور الہٰ پکارا جاتا ہے۔ اور اس آیت میں اس کا معنی یہ ہے کہ کفار بلاشبہ اپنے بتوں کے بارے یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ شفاعت اور سفارش کرنے والے ہیں، اور یہ کہ ان کو فضیلت حاصل ہے، اور ان میں سے ہر ایک فطرت کے مطابق یہ علم رکھتا ہے جو وہ اپنے دفاع پر قدرت نہیں رکھتا کہ ان بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یزجی “ سے مراد ہے یجری یعنی چلتا ہے۔
2:۔ عبدالرزاق ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یزجی لکم الفلک “ سے مراد کشتیوں کو تمہارے لئے سمندر میں چلاتا ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء خراسنی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الفلک “ سے مراد ہے کشتی۔
4:۔ اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ کان بکم رحیما “ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔
5:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویرسل علیکم حاصبا “ یعنی پتھروں کی بارش۔
6:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[وَاِذَا : اور جب بھی ] [مَسَّكُمُ : چھوتی ہے تم لوگوں کو ] [الضُّرُّ : تکلیف (یعنی آفت)] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [ضَلَّ : تو گم ہوجاتے ہیں ] [مَنْ : وہ جن کو ] [تَدْعُوْنَ : تم لوگ پکارتے ہو ] [اِلَّآ : مگر ] [اِيَّاهُ : اس (اللہ) کو ہی (پکارتے ہو)] [فَلَمَا : پھر جب ] [نَجّٰىكُمْ : وہ نجات دیتا ہے تم کو ] [اِلَى الْبَرِّ : خشکی کی طرف ] [اَعْرَضْتم : تو تم لوگ بےرخی برتے ہو ] [وَكَان : اور ہے ] [الْانسَان : انسان ] [كَفُوْرًا : ہے انتہا ناشکری کرنے والا ]
Read the full tafseer →اس کے بعد انسانوں کے شرک اختیار کرنے اور آڑے وقت میں باطل معبودوں کو چھوڑ کر معبود حقیقی ہی کی طرف متوجہ ہونے کا تذکرہ فرمایا۔ یہ انسان کا عجیب طریقہ کار ہے کہ اچھی حالت میں باطل معبودوں کی عبادت کرتا رہتا ہے اور پھر جب کسی بڑی مصیبت میں گھر گیا مثلاً دریا کے سفر میں گیا وہ کشتی ڈگمگانے لگی تو سارے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اللہ ہی سے مانگنے لگتا ہے اور اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اسے سمندر کی مصیبت سے نجات دے دیتا ہے اور عافیت کے ساتھ باسلامت خشکی میں پہنچا دیتا ہے تو پھر وہی پرانی حرکت کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روگردانی کرتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
رجوع بسوئے توحید
قال اللہ تعالیٰ : ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر .. الیٰ .. وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا
(ربط) اب پھر توحید کی طرف رجوع کرتے ہیں اور توحید کے دلائل بیان فرماتے ہیں نیز گزشتہ رکوع میں شیطان کا یہ قول نقل کیا تھا قال ارء یتک ھذا الذی کر مت علی : اس لیے ان آیات میں بنی آدم کی کرامت اور فضیلت کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ شیطان بر اور بحر میں کس طرح اغواء کرتا ہے اور نبی آدم کی تکریم اور تفضیل کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ منعم حقیقی کا شکر گزار بندہ بنے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرے چناچہ فرماتے ہیں۔
تمہارا پروردگا وہ ہے جو تمہارے نفع کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
62:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ سمندروں اور دریاؤں میں تمہاری کشتیاں محض اپنی رحمت سے اللہ تعالیٰ ہی چلاتا اور طوفان سے بچا کر کنارے لگاتا ہے وہ تو ہر حال میں تم پر مہربان ہے۔ اور سمندروں اور دریاؤں میں وہی کارساز ہے تو خشکی میں بھی وہی کارساز ہے پھر اس کے سوا اوروں کو کیوں پکارتے ہو۔ ” واذا مسکم الضر “ یہ زجر ہے جب دریاؤں میں طوفان کا سامنا ہوتا ہے تو اپنے مزعومہ معبودوں کو چھوڑ کر خالص اللہ کو پکارتے ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ تمہیں صحیح سلامت کنارے پر پہنچا دیتا ہے تو پھر شرک کرنے اور معبودان باطلہ کو کارساز سمجھنے لگتے ہو۔ یہ کس قدر ناشکری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا مضمون بیان فرمایا پھر شیطان کی نافرمانی اور وسوسہ اندازی کا ذکر ہوا کہ جس کے ذریعہ وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اب آج کی آیات میں ایک تو اللہ تعالیٰ نے بحری نقل وحمل کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے اور دوسرے اسی مناسبت سے شرک کی تردید فرمائی ہے کہ جب ان کی کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے ، تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اس مصیبت سے نجات مل جاتی ہے تو پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے وعید بھی فرمائی ہے کہ اگر تم کفر پر اصرار کرتے رہے یا اس کی نعمتوں کی ناشکر گزاری کی تو وہ تمہیں خشکی پر بھی سزا دینے…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا 67
مسس
المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد
والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ،
( م س س ) المس کے
معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش
کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔
اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ترکیب : الا ایاہ استثناء منقطع وقیل متصل ان یخسف مفعول امنتم بکم حال ہے یایخسف کا صلہ جانب البر مفعول بہ الار جاء السوق والاجراء والتیسر بمعنی راندن۔ الحصب قال ابوعبیدہ والقنیبی ھوالرمی ریحًا شدید الحاصۃ التی ترمی بالحصاء الصفاء وقال الزجاج الحاصب القراب الذی فیہ حصاء وقیل الحصاء صب حجارۃ من السماء تارۃ مصدر یجمع علی تیرہ و تارات والفھا واویاء۔ القاصف الریح الشدیدہ التی تکسر بشدۃ من قصف الشیء یقصف من ضرب یضرب تبعانصیرا اومن تبعینًا بانکار مانزلنا۔
تفسیر : یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع کرتا ہے اور مشرکین کی عادات ناپسندیدہ کی برائی اور نیز یہ بات بھی بتلاتا ہے کہ خدا کے احسان یاد رکھا کرو اور…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّفِی الْبَحْرِضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِیَّاہُ ج فَلَمَّا نَجّٰکُمْ اِلَی الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ط وَکَانَ الْاِنْسَانُ کَـفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 67)
(اور جب تمہیں سمندر میں مصیبت پہنچتی ہے تو گم ہوجاتے ہیں وہ، جن کو تم پکارتے ہو، اللہ تعالیٰ کے سوا۔ پھر جب وہ تم کو خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم روگردانی کرنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ )
انسان کی ناشکری
جس پروردگار نے زمینی قوتوں کے ساتھ ساتھ بحری قوتیں بھی انسان کے لیے ہموار کردی ہیں اور ان کے خزانے انسانوں کے لیے وقف کردیے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ انسان ہمیشہ اپنے پروردگار کی مہربانیوں کو یاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات اپنے بندوں کو شیطان کے تسلط سے محفوظ رکھتی ہے وہی تمہارا رب ہے جو تمہیں سمندر کی طغیانیوں سے بچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت وسطوت کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دیتا ہے کہ تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو بیشک وہ تم پر بڑا مہر بان ہے۔ جب تمہیں سمندر میں کوئی پریشانی آتی ہے تو جنہیں تم مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہو۔ وہ تمہیں بھول جاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو اپنے رب سے انحراف کرتے ہو وجہ یہ کہ انسان اپنے رب کا ناقدر دان اور ناشکرا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ سمندر میں چلنے والی…
Read the full tafseer →67: وَاِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ (جب تمہیں دریا میں کوئی تکلیف چھو لیتی ہے) اَلضُّر سے یہاں ڈوبنے کا خوف مراد ہے۔ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّا اِیَّاہُ (تو غائب ہوجاتے ہیں جن کو تم پکارتے تھے سوائے اس کی ذات باری تعالیٰ کے) ایک اللہ تعالیٰ وحدہ کے علاوہ تمہارے اوہام سے وہ تمام گم ہوجاتے ہیں جن کی تم عبارت کرتے تھے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کا تذکرہ بھی نہیں کرتے۔ نمبر 2۔ غائب ہوگئے جن کو تم ٰالہہ میں سے فریاد رسی کیلئے پکارتے ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ اکیلا کہ جس کے تم امیدوارہو۔ اس صورت میں مستثنیٰ منقطع ہے۔
فَلَمَّا نَجّٰکُمْ اِلَی الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ (پھر جب اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →67۔” واذا مسکم الضر ‘ جب ڈوبنے کا سخت خوف و اندیشہ ہو۔ ” فی البحر ضل “ سمندروں کی موجوں میں چڑھتے ہوئے تو اس وقت یہ بت باطل اور تمہاری نظروں سے ساقط ہوجاتے ہیں ۔ ” من تدعون “ جن معبودوں کو تم پکارتے تھے۔” الاآیہ “ ان بتوں کو چھوڑ کر اللہ کو پکارتے ہو۔ اس کے علاوہ تم کسی کو مدد گار نہیں پاتے۔” فلما نجاکم ‘ ‘ وہ تمہاری پکار سنتا ہے اور تمہیں سمندر کے ہول سے نجات دیتا ہے اور تمہیں اس سے نکالتا ہے۔ ” الی ابراء عرضتم “ تم ایمان سے اعراض کرتے ہو اور اخلاص وطاعت سے منہ موڑنے لگتے ہو اور اس کی اس نعمت کا انکار کرتے ہو۔” وکان الانسان کفوراً “۔
Read the full tafseer →67:۔ اللہ پاک نے اس آیت میں انسان کی ناشکری کا حال بیان فرمایا کہ جب انسان کو کسی مصیبت سے پالا پڑتا ہے تو فقط خدا ہی یاد آتا ہے اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی ہے وہی پہلی نافرمانیاں پھر کرنے لگتا ہے اور اسے یہ بھی تو یاد نہیں رہتا کہ اس پر کوئی وقت آیا تھا اور اس نے خدا کو پکار کر اس سے مدد چاہی تھی غرض کہ یہ لوگ پرلے درجے کے ناشکرے ہیں اور تم جان لیتے ہو کہ اب ہم سب کے سب ڈوبے اور اس مرنے کے خیال کے آتے ہی اپنے سارے جھوٹے معبودوں کو بالکل بھول جاتے ہو اور نرے اللہ وحدہ لاشریک سے مدد چاہتے ہو اللہ پاک تمہاری منت وعاجزی پر رحم کھا کر گرداب بلا سے کشتیاں پار لگا دیتا ہے پھر تم خدا کو ایسا بھول جاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–69
(آیت نمبر (59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
شیطان کے وار سب پر کارگر نہیں ہوتے
قول باری ہے (واستفززمن استطعت منھم بصوتک اور تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھیلا سکتا ہے پھسلا لے) جسے یہ بات کہی جا رہی ہے یعنی شیطان کو یہ دھمکی ہے اور اسے خربدار کیا جا رہا ہے کہ اس کی کارستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے نیز یہ کہ وہ اس کی سزا ضرور پا کر رہ یگا اور اس سے ضرور اس کا اتنقا ملیا جائے گا۔ اس کی مثال کا یہ قول ہے ۔ ” تم اپنا پورا زور لگا لو پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا کیا بنتا ہے۔ “ استفزز کے معنی استزل ، کے ہیں یعنی پھسلا دے۔ محاورہ میں استفزہ اور استنزلہ ہم معنی فعل ہیں۔
قول باری (بصوتک) کی تفسیر میں مجاہد سے مروی ہے کہ یہ غناء اور لہو یعنی…
Read the full tafseer →122۔ انسان کی فطرت میں دلیل توحید کا وجود :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور جب تمہیں سمندر میں کوئی مصیبت اور مشکل پیش آتی ہے تو تم اسی وحدہ لاشریک کو پکارتے ہو “۔ اور کھوجاتے ہیں تم سے تمہارے تمام وہ خود ساختہ معبود جن کو تم لوگ پکارتے ہو آگے پیچھے اور یسر و آسانی کے حالات میں۔ مگر تنگی کے اور مصیبت کے ایسے وقت میں تم ان سب کو بھول جاتے ہو سوائے اللہ وحدہ لاشریک کے اور تمہارے یہ خود ساختہ معبود خواہ لکڑی پتھر وغیرہ کے بت ہوں یا کوئی جن اور فرشتہ یا کوئی زندہ و مردہ انسان۔ (المراغی، الفتح وغیرہ) مگر افسوس کہ آج کا کلمہ گو اس وقت بھی اللہ کے سوا اس کی عاجز اور بےبس مخلوق ہی میں سے کسی کو پکارتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
اللہ کی رحمتیں برکتیں اور انسان کی ناشکری
تشریح : یہاں پھر ان تمام احسانات کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانوں کی سہولت آرام و آسائش کے لیے اللہ نے انسان کو دے رکھے ہیں مثلاً اتنے بڑے بڑے پانی سے بھرے ہوئے موجیں مارتے دریا اور زبردست سمندر سب کو انسان کے لیے اس طرح مسخر (تابع) کردیا کہ انسان اپنی عقل سے کام لے کر جو اللہ نے اس کو دی ہے بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز بنا کر ان کے ذریعے سفر کرتا ہے، تجارت کرتا ہے، مگر پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا مگر کیونکہ فطرتاً انسان اللہ کو ہی رب مانتا ہے، اس لیے جب طوفان اور مصیبت میں گھر جاتا ہے تو پھر مدد کے لیے بےاختیار اللہ ہی کو پکارتا ہے اس وقت وہ اپنے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…
Read the full tafseer →ف 6 یہ تو زمانہ جاہلیت نے ان لوگوں کا حال تھا جو مشرک تھے اور اللہ و رسول نے انہیں مشرک قرار دیا مگر ہمارے زمانے کے بعض لوگوں کا کمال یہ ہے کہ وہ سخت سے سخت مصیبت میں بھی اللہ کے ساتھ یا اللہ کے علاوہ دوسروں کو مدد کے لئے پکارنا نہیں بھولتے اور پھر بھی ان کی توحید میں کوئی فرق نہیں آتا۔
7 اس سے بڑھ کر احسان فراموشی اور کیا ہوگی کہ جونہی اپنا کام نکل گیا محسن کی طرف پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔
Read the full tafseer →(17:67) ضل۔ ماضی بمعنی حال۔ گم ہوجاتے ہیں۔ غائب ہوجاتے ہیں۔ ضلال۔ گمراہ ہونا بھٹکنا ۔ ہلاک ہونا۔ راہ مستقیم سے بھٹک جانا۔ راہ سے دور جا پڑنا۔
نجکم۔ فعل ماضی واحد مذکر غائب۔ تنجیۃ (تفعیل) سے مصدر۔ کم ضمیر خطاب مفعول ۔ اس نے تم کو نجات دی۔ یہاں بمعنی حال آیا ہے جب وہ تم کو نجات دیتا ہے (زمین کی طرف) تم کو بچا لاتا ہے۔ مادہ ن ج و۔
اعرضتم۔ تم روگردانی کرلیتے ہو۔ تم منہ پھیر لیتے ہو۔ اعراض (افعال) ماضی جمع مذکر حاضر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
لغات القرآن آیت 66 تا 69
یزجی وہ چلاتا ہے۔ الضر مصیبت، نقصان۔ افامنتم کیا پھر تم مطمئن ہوگئے ؟ ۔ یخسف وہ دھنسا دیتا ہے۔ حاصباً پتھر برسانے والی آندھی۔ تارۃ اخری دوبارہ۔ قاصف سخت طوفانی ہوا۔ یغرق وہ غرق کرتا ہے۔ لاتجدوا تم نہ پاؤ گے۔ تبیع پیچھا کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 66 تا 69
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے ” اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں (دی گئی نعمتوں میں) اور اضافہ کرتا چلا جاؤں گا۔ اس کے برخلاف اگر میری نعمتوں کی ناشکری کی گئی تو پھر میری گرفتا ور پکڑ بہت سخت ہے۔ واقعتاً اگر غور کیا جائے تو انسانی وجود کی ابتداء سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک اللہ اتنی نعمتوں سے نوازتا ہے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں انسان کی ناشکری کا حال بیان فرمایا کہ جب انسان کو کسی مصیبت سے پالا پڑتا ہے تو فقط خدا ہی یاد آتا اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو پھر وہی پہلی نافرمانیاں کرنے لگتا ہے اور اسے یاد بھی نہیں رہتا کہ اس پر کوئی وقت آیا اور اس نے خدا کو پکار کر اس سے مدد چاہی تھی۔ غرضیکہ یہ لوگ پر لے درجے کے ناشکرے ہیں۔ یہ بھی فرمایا کہ جب تمہاری کشتیاں دریا میں چلتی ہیں اور پھر یک بیک تیز ہوا سے تہ وبالا ہونے لگتی ہیں تو صرف خدا ہی کو لوگ یاد کرنے لگتے ہیں۔ اس وقت اور کسی اپنے معبود کو نہیں پکارتے اور اللہ تعالیٰ تمہاری منت وعاجزی پر رحم کھا کر کشتیاں پار لگا دیتا ہے۔ پھر تم خدا کو بھول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
[50] یعنی تلاش معاش کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
فطرت انسانی کا اقرار :
(ف 1) انسانی فطرت ہے کہ مصائب ومشکلات کے وقت دل کی تمام قوتیں بیدار ہوجاتی ہیں ، اور ایمان کے مخفی نقوش جو ہواہوس کے توغل کی وجہ سے دب جاتے ہیں ابھر آتے ہیں ، جب کہ مصیبت کے بادل مطلع قلب پر اضطراب و انتشار بن کر چھا جاتے ہیں ، توحید الہی کے عقدوں کو کھلنے کا موقع ملتا ہے ، اسرار منکشف ہوتے ہیں ، اور دل کی گہرائیوں میں یقین چمکنے لگتا ہے ، اس آیت میں اس کیف وحال کی جانب قرآن حکیم نے انسان کو متوجہ کیا ہے ، اور فرمایا ہے جب تم تکلیفوں اور مصیبتوں میں اللہ کو یاد کرتے ہو ، اور اس کے نام کے ساتھ تسلی وتسکین حاصل کرتے ہو تو عافیت وامن کی حالت میں کیوں اس حقیقت کو فراموش…
Read the full tafseer →-67 اور جب تم کو دریا میں کوئی آفت اور مصیبت پہونچتی ہے تو اس وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے وہ سب معبود ان باطلہ جن کو تم پکارتے ہو تمہارے دلوں سے گم ہوجاتے ہیں پھر جب اللہ تعالیٰ تم کو دریا سے خشکی کی جانب بچا لاتا ہے تو تم پھر سابقہ عادت کے موافق روگردانی اور اعراض کرنے لگتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ور ناسپاس ہے۔ یعنی جب دریا میں ناموافق ہوا کی وجہ سے غرق ہونے کا خطرہ ہوجاتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ سے نجات کی دعائیں مانگتے ہیں اور ایمان لانے کا وعدہ کرتے ہیں اور اپنے جھوٹے معبودوں کو کمزور اور لغو سمجھ کر فراموش کردیتے ہو۔
لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشاکرین۔ اور جہاں نجات ملی اور خشکی پر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
ف 3۔ دل سے بھی کہ ان کا خیال نہیں آتا اور فریاد رسی سے بھی کہ وہ امداد نہیں کرسکتے جس سے بدلالت حال و مقال تمہارے اعتراف سے بطلان شرک لازم آتا ہے ،۔
Read the full tafseer →تمہیں اگر اللہ یاد آتا ہے تو صرف دکھ کے وقت اور سکھ کے وقت تم اس کو بھول جاتے ہو :
84۔ انسان کی حالت بھی بڑی عجیب ہے چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اپنے محسن حقیقی کو ہر وقت یاد رکھتا لیکن انسان اپنے رحیم وکریم مالک کے احسانات کو اکثر بھولا ہی رہتا ہے اور اپنے محسن حقیقی کی جگہ ان کو دیتا ہے جن کو اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں اور پھر وہ ان آنکھوں دیکھی ہستیوں کو اس ذات کے تخت پر بٹھا دیتا ہے جس کو اس کی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں ۔
کبھی وہ اس کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے اور کبھی وہ انہی پر انحصار کر بیٹھتا ہے ، انسان کو اس حماقت کو واضح کرنے کے لے ارشاد ہو رہا ہے کہ جب تم سازوسامان سے لدے ہوئے جہازوں کو لے جا رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
(2) Secondly, he had said if he was given respite till the day of Qiyamah, he will mislead the entire progeny of 'Adam, except a few of them. That Allah Ta’ ala has elected to answer in the later verses. He said that the Shaitan will have no control over His sincere servants even if he were to rally his entire forces against them and as for the insincere who fall into his trap, they will meet the same fate as his, all consigned to Hell. When this verse (64) mentions the horsemen and footmen of the Shaitanic army, it does not necessarily mean that the Shaitan actually has combat support in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–69
84. That is, this is a proof of the fact that your real nature knows no other Lord than Allah, and you feel in the depths of your hearts that He alone possesses the real power of every gain or loss. Had it not been so, man would never have invoked Allah at the time when he realized that no other helper could remove his misfortune.
Read the full tafseer →