آسانیاں ہی آسانیاں
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بناتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی آسانی اور سہولت کے لئے اور ان کی تجارت و سفر کے لئے دریاؤں میں کشتیاں چلا دی ہیں، اس کے فضل و کرم لطف و رحم کا ایک نشان یہ بھی ہے کہ تم دور دراز ملکوں میں جا آسکتے ہو اور خاص فضل یعنی اپنی روزیاں حاصل کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 82
اوپر کے سلسلہ بیان سے اس کا تعلق سمجھنے کے لیے اس رکوع کے ابتدائی مضمون پر پھر ایک نگاہ ڈال لی جائے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ابلیس اول روز آفرنیش سے اولاد آدم کے پیچھے پڑا ہوا ہے تاکہ اس کو آرزؤوں اور تمناؤں اور جھوٹے وعدوں کے دام میں پھانس کر راہ راست سے ہٹا لے جائے اور یہ ثابت کر دے کہ وہ اس بزرگی کا مستحق نہی ہے جو اسے خدا نے عطا کی ہے۔ اس خطرے سے اگر کوئی چیز انسان کو بچا سکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی بندگی پر ثابت قدم رہے اور ہدایت و اعانت کے لیے اسی کی طرف رجوع کرے اور اسی کو اپنا وکیل (مدار توکل) بنائے۔ اس کے سوا دوسری جو راہ بھی انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
خلاصہ تفسیر
سابقہ آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال تھا آیات مذکورہ میں یہی مضمون ایک خاص انداز سے بیان کیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ کی بیشمار عظیم الشان نعمتیں جو انسانوں پر ہر وقت مبذول ہیں ان کو بیان کر کے یہ بتلانا منظور ہے کہ ان تمام نعمتوں کا بخشنے والا بجز ایک حق تعالیٰ کے کوئی نہیں ہوسکتا اور سب نعمتیں اس کی ہیں تو اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا بڑی گمراہی ہے ارشاد فرمایا کہ) تمہارا رب ایسا (منعم) ہے کہ تمہارے (نفع کے) لئے کشتی کو دریا میں لے چلتا ہے تاکہ تم اسکے ذریعہ رزق تلاش کرو (اس میں اشارہ ہے کہ بحری سفر تجارت کے لئے عموما بڑے نفع کا سبب ہوتا ہے) بیشک وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
آگے کا مضمون۔ آیات 66 تا 72:۔ سرکشوں اور غافلوں کی تمثیل : آگے انسان کی اس حالت کی تمثیل ہے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پکڑا جاتا ہے تب وہ خدا خدا پکارتا اور اسی کے آگے روتا اور گڑگڑاتا ہے لیکن جوں ہی اس مصیبت سے نجات پا جاتا ہے پھر اکڑنے اور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ اسے یہ بات بالکل فراموش ہوجاتی ہے کہ اگر خدا چاہے تو اس کو پھر اسی حالت میں گرفتار کرسکتا ہے اور اس طرح گرفتار کرسکتا ہے کہ پھر اس سے کبھی رہائی نصیب نہ ہو۔ اس کے بعد دو گروہوں کی تمثیل ہے ایک ان لوگوں کی جو دنیا کو کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اس سے صحیح سبق حاصل کرتے ہیں اور دوسری ان لوگوں کی جو ہمیشہ اندھے بنے رہتے ہیں۔ ان دونوں قسم کے…
Read the full tafseer →66۔ 1 یہ اس کا فضل اور رحمت ہی ہے کہ اس نے سمندر کو انسانوں کے تابع کردیا اور وہ اس پر کشتیاں اور جہاز چلا کر ایک ملک سے دوسرے ملک میں آتے جاتے اور کاروبار کرتے ہیں، نیز اس نے ان چیزوں کی طرف رہنمائی بھی فرمائی جن میں بندوں کے لئے منافع اور مصالح ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
38: میرے بندوں سے مراد مخلص بندے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی فکر رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہاں قرآن کریم ایک عجیب منظر کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ ایک کشتی ہے جو گہرے سمندروں میں چلتی ہے۔ اس سفر میں بعض نہایت ہی کر بناک مناظر آتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک منظر ہمارے سامنے ہے۔ سمندر کی گہرائیوں اور طلاطم مین انسان کے اندر کسی فوق الفطرت ہستی کا شعور بہت ہی پیدا ہوت ا ہے۔ سمندر کی تاریکیوں اور پہنائیوں میں جہاز لکڑی کا یا دھات کا ہو ایک چھوٹا سا نکتہ ہوتا ہے۔ جو سمندر کی پہاڑ جیسی لہروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ موجیں اور طوفان اسے ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر دھکیلتے چلے جاتے ہیں۔ لوگ مارے کوکے اس نکتے جیسے چھوٹے سے جہاز سے چمٹے ہوتے ہیں۔
یہ وہ منظر ہے جس کا گہرا احساس ہر اس شخص کو…
Read the full tafseer →1 یہ خدا کی کارسازی کا ایک نمونہ پیش کیا ہے، جس میں ایک مشرک کو بھی اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس کے سوا کوئی کار ساز نہیں۔
ع کہ ہیں عاضی زور کمزور سارے
2 یعنی روزی۔ روزی کو اکثر قرآن میں " فضل " فرمایا ہے۔ " فضل " کے معنی زیادہ کے ہیں۔ سو مسلمان کی بندگی ہے آخرت کے واسطے اور دنیا لبھاؤ میں ملتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آیت 65 اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ
تم انسانوں کو بہکانے اور پھسلانے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہو کرلو ان کے دلوں میں وسوسے ڈالو ان سے جھوٹے سچے وعدے کرو اور انہیں سبز باغ دکھاؤ۔ یہ تمام حربے تو تم استعمال کرسکتے ہو لیکن تمہیں یہ اختیار ہرگز نہیں ہوگا کہ تم میرے کسی بندے کو اس کی مرضی کے خلاف گمراہی کے راستے پر لے جاؤ۔
وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا
وہ بندے جو شیطان سے بچنا چاہیں گے اللہ ان کی مدد کرے گا اور جس کسی کا مدد گار اور کارساز اللہ ہو اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی وہی اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
84 شیطان کا داؤکن پر چلتا ہے ؟:۔ شیطان کا داؤ صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو ضعیف الاعتقاد اور پہلے ہی شیطانی عمل پر لیبک کہنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور جن کے لیے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے کئی دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ ایک دروازے سے مقصد حل نہ ہو تو دوسرے دروازے پر چلے جاتے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو محض ظاہری اسباب پر تکیہ کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگ فوراً شیطان کی چالوں میں پھنس جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ صرف ایک اللہ پر نظر رکھتے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر شیطان کا داؤ کارگر نہیں ہوسکتا۔
85 یعنی جو لوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اللہ بھی ان کے کام ایسے حیرت انگیز طریقوں سے سنوارتا اور…
Read the full tafseer →97۔ (چنانچہ یہ سامان بھی تمہارے نفع و آسائش کیلئے کردیا ہے) (آیت) ” لتبتغوا من فضلہ “۔ یعنی تجارت بحری سے نفع کرو۔ بحری تجارت کا اگر وجوب نہیں تو استحسان تو اس آیت سے صاف نکل رہا ہے۔ بحری تجارت کا تعلق ذاتی ثروت اور ملی خوشحالی دونوں سے بالکل ظاہر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…
Read the full tafseer →رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا
تمہارا رب وہی ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا رزق تلاش کرو۔ بیشک وہ تمہارے حال پر بہت مہربان ہے۔ یزجی ہنکاتا ہے چلاتا ہے۔ فضل تجارتی نفع اور طرح طرح کا وہ رزق جو تمہارے پاس نہیں ہوتا۔ اللہ تم پر مہربانی ہے اسی نے تمہارے لئے تمام ضرورت کی چیزیں فراہم کردی ہیں اور تمہاری مشکلوں کو آسان کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(66) وہ ایسا غنی ہے کہ تمہارے نفع کے لیے کشتیوں کو چلاتا ہے تاکہ تم اس کے رزق کی یا یہ کہ اس کے علم کی تلاش کرو اور وہ عذاب کے مؤخر کرنے یا یہ کہ تم میں سے جو توبہ کرے اس کے حال پر بہت مہربان ہے۔
Read the full tafseer →رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ۔۔ : ”أَزْجٰی یُزْجِیْ إِزْجَاءً“ کا معنی آہستہ آہستہ چلانا ہے۔ ”أَزْجٰی فُلاَنٌ الإِْبِلَ“ فلاں نے اونٹوں کو آہستہ آہستہ ہانکا۔ بادلوں کو آہستہ آہستہ چلانے کے لیے بھی یہی لفظ استعمال ہوتا ہے۔ (دیکھیے نور : 43) ”الْفُلْكَ“ واحد، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے، بہت بڑی کشتی یعنی بحری جہاز۔ ”مِنْ فَضْلِهٖ“ قرآن مجید میں روزی کو اکثر فضل فرمایا ہے، کیونکہ دنیا میں جو بھی نعمتیں انسان کو میسر ہیں، یا آخرت میں عطا ہوں گی، وہ محض اللہ کا فضل ہیں، کسی کا اللہ پر کوئی حق واجب نہیں اور اگر کہیں بندوں کا حق کہا گیا ہے تو وہ بھی اللہ ہی کا فضل ہے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 66
قولہ تعالیٰ : ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر، الإزجاء کا معنی ” چلانا “ ہے۔ اور اسی سے یہ قول باری تعالیٰ بھی ہے : الم تران اللہ یزجی سجابًا (النور : 43) (کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ تعالیٰ آہستہ آہستہ لے جاتا ہے بادل کو ) ۔ اور شاعر نے کہا ہے :
یأیھا الراکب المزجی مطیتہ سائل نبی أسد ما ھذہ الصوت
تو اس میں بھی مزجی چلانے والے کے معنی میں ہے۔
اور ازجاء الفلک کا معنی ہے کشتیوں کو نرم ہوا کے ساتھ چلانا۔ اور الفلک یہاں جمع ہے، اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔ اور البحر سے مراد کثیر پانی ہے چاہے وہ میٹھا ہو یا نمکین ہو، اور یہ اسم مشہور معنی پر غالب ہے۔ اور یہ آیت اللہ تعالیٰ کی نعمتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” یزجی “ سے مراد ہے یجری یعنی چلتا ہے۔
2:۔ عبدالرزاق ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عطاء خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یزجی لکم الفلک “ سے مراد کشتیوں کو تمہارے لئے سمندر میں چلاتا ہے۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے عطاء خراسنی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الفلک “ سے مراد ہے کشتی۔
4:۔ اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انہ کان بکم رحیما “ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی۔
5:۔ ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اویرسل علیکم حاصبا “ یعنی پتھروں کی بارش۔
6:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[رَبُّكُمُ : تمہارا رب ] [الَّذِي : وہ ہے جو ] [يُزْجِيْ : چلاتا ہے ] [لَكُمُ : تمہارے لئے ] [الْفُلْكَ : کشتی کو ] [فِي الْبَحْرِ : سمندر میں ] [لِتَبْتَغُوْا : تاکہ تم لوگ تلاش کرو ] [مِنْ فَضْلِهٖ : اس کے فضل میں سے ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : ہے ] [بِكُمْ : تم لوگوں پر ] [رَحِـيْمًا : ہر حال میں رحم کرنے والا ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں جاری فرماتا ہے، وہ چاہے تو تمہیں زمین میں دھنسا دے یا سخت ہوا بھیج دے، بنی آدم کو ہم نے عزت دی، بحر و بر میں سفر کرایا، پاکیزہ کھانے کے لیے چیزیں دیں، اور ان کو بہت سی مخلوق پر فضیلت دی
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنے بعض ان انعامات کا تذکرہ فرمایا جو بنی آدم پر ہیں اور انسانوں کی ناشکری کا بھی تذکرہ فرمایا اور یہ فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی ہے۔
اول تو کشتیوں کا ذکر فرمایا کہ تمہارا رب دریا میں کشتیوں کو چلاتا ہے یعنی ایسی ہوائیں چلاتا ہے جو کشتیوں کو لے کر چلتی ہیں۔ اور ہوا نہ ہو تو تم خود بھی کشتیوں کو اپنی تدبیروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
رجوع بسوئے توحید
قال اللہ تعالیٰ : ربکم الذی یزجی لکم الفلک فی البحر .. الیٰ .. وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا
(ربط) اب پھر توحید کی طرف رجوع کرتے ہیں اور توحید کے دلائل بیان فرماتے ہیں نیز گزشتہ رکوع میں شیطان کا یہ قول نقل کیا تھا قال ارء یتک ھذا الذی کر مت علی : اس لیے ان آیات میں بنی آدم کی کرامت اور فضیلت کو بیان فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ شیطان بر اور بحر میں کس طرح اغواء کرتا ہے اور نبی آدم کی تکریم اور تفضیل کے بیان سے مقصود یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ منعم حقیقی کا شکر گزار بندہ بنے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کرے چناچہ فرماتے ہیں۔
تمہارا پروردگا وہ ہے جو تمہارے نفع کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
62:۔ یہ توحید پر پانچویں عقلی دلیل ہے۔ سمندروں اور دریاؤں میں تمہاری کشتیاں محض اپنی رحمت سے اللہ تعالیٰ ہی چلاتا اور طوفان سے بچا کر کنارے لگاتا ہے وہ تو ہر حال میں تم پر مہربان ہے۔ اور سمندروں اور دریاؤں میں وہی کارساز ہے تو خشکی میں بھی وہی کارساز ہے پھر اس کے سوا اوروں کو کیوں پکارتے ہو۔ ” واذا مسکم الضر “ یہ زجر ہے جب دریاؤں میں طوفان کا سامنا ہوتا ہے تو اپنے مزعومہ معبودوں کو چھوڑ کر خالص اللہ کو پکارتے ہو لیکن جب اللہ تعالیٰ تمہیں صحیح سلامت کنارے پر پہنچا دیتا ہے تو پھر شرک کرنے اور معبودان باطلہ کو کارساز سمجھنے لگتے ہو۔ یہ کس قدر ناشکری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا مضمون بیان فرمایا پھر شیطان کی نافرمانی اور وسوسہ اندازی کا ذکر ہوا کہ جس کے ذریعہ وہ انسان کو گمراہ کرتا ہے اب آج کی آیات میں ایک تو اللہ تعالیٰ نے بحری نقل وحمل کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا ہے اور دوسرے اسی مناسبت سے شرک کی تردید فرمائی ہے کہ جب ان کی کشتی بھنور میں پھنس جاتی ہے ، تو خالص اللہ کو پکارتے ہیں اور جب اس مصیبت سے نجات مل جاتی ہے تو پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے وعید بھی فرمائی ہے کہ اگر تم کفر پر اصرار کرتے رہے یا اس کی نعمتوں کی ناشکر گزاری کی تو وہ تمہیں خشکی پر بھی سزا دینے…
Read the full tafseer →رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا 66
زجا
التَّزْجِيَةُ : دَفْعُ الشّيء لينساق، كَتَزْجِيَةِ ردیء البعیر، وتَزْجِيَةِ الرّيح السّحاب، قال : يُزْجِي سَحاباً [ النور/ 43] ، وقال : رَبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ [ الإسراء/ 66] ، ومنه : رجل مُزْجًى، وأَزْجَيْتُ ردیء التّمر فَزَجَا، ومنه استعیر : زَجَا الخراج يَزْجُو، وخراج زَاجٍ ، وقول الشاعر : وحاجة غير مُزْجَاةٍ من الحاج أي : غير يسيرة، يمكن دفعها وسوقها لقلّة الاعتداد بها .
( ز ج و ) التزجیۃ
کے معنی کسی چیز کو دفع کرنے کے ہیں تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
ترکیب : الا ایاہ استثناء منقطع وقیل متصل ان یخسف مفعول امنتم بکم حال ہے یایخسف کا صلہ جانب البر مفعول بہ الار جاء السوق والاجراء والتیسر بمعنی راندن۔ الحصب قال ابوعبیدہ والقنیبی ھوالرمی ریحًا شدید الحاصۃ التی ترمی بالحصاء الصفاء وقال الزجاج الحاصب القراب الذی فیہ حصاء وقیل الحصاء صب حجارۃ من السماء تارۃ مصدر یجمع علی تیرہ و تارات والفھا واویاء۔ القاصف الریح الشدیدہ التی تکسر بشدۃ من قصف الشیء یقصف من ضرب یضرب تبعانصیرا اومن تبعینًا بانکار مانزلنا۔
تفسیر : یہاں سے پھر دلائلِ توحید شروع کرتا ہے اور مشرکین کی عادات ناپسندیدہ کی برائی اور نیز یہ بات بھی بتلاتا ہے کہ خدا کے احسان یاد رکھا کرو اور…
Read the full tafseer →رَبُّـکُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَـکُمُ الْفُلْکَ فِی الْبَحْرِلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہِ ط اِنَّـہٗ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 66)
(تمھارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو، بیشک وہ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہے۔ )
انعاماتِ الٰہی کی فراوانی
سابقہ آیات میں شیطان کے ان عزائم کو ذکر کیا گیا جس کا اظہار اس نے قیامت تک کے لیے مہلت طلب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے حضور کیا جس کا ایک ایک لفظ انسان دشمنی کے زہر میں بجھا ہوا ہے، لیکن یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ شیطان جس کی دشمنی میں کوئی شک و شبہ ہی نہیں، انسان ہمیشہ اس کی فرمانبرداری کی طرف لپکتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
فہم القرآن
ربط کلام : جو ذات اپنے بندوں کو شیطان کے تسلط سے محفوظ رکھتی ہے وہی تمہارا رب ہے جو تمہیں سمندر کی طغیانیوں سے بچاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی قدرت وسطوت کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دیتا ہے کہ تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو بیشک وہ تم پر بڑا مہر بان ہے۔ جب تمہیں سمندر میں کوئی پریشانی آتی ہے تو جنہیں تم مشکل کشا سمجھ کر پکارتے ہو۔ وہ تمہیں بھول جاتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ تمہیں خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو اپنے رب سے انحراف کرتے ہو وجہ یہ کہ انسان اپنے رب کا ناقدر دان اور ناشکرا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مرتبہ سمندر میں چلنے والی…
Read the full tafseer →سمندروں میں جہاز چلانے والا وہی تو ہے پھر اس کی پکڑ سے کیسے بچ سکتے ہو :
66: رَبُّکُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ (تمہارا رب وہ ہے جو تمہارے لئے چلاتا ہے) چلاتا اور جاری کرتا ہے۔ لَکُمُ الْفُلْکَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ (کشتیاں سمندر میں تاکہ تم اس کے فضل کو تلاش کرو) فضل سے یہاں تجارتی نفع مراد ہے۔ اِنَّہٗ کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا (بیشک وہ تمہارے حال پر بہت مہربان ہے) ۔
Read the full tafseer →66۔” ربکم الذی یزجی لکم الفلک “ جو کھینچتا ہے اور چلاتا ہے کشتی کو ۔ ” فی البحر لتبتغوا من فضلۃ “ تا کہ وہ اس کے رزق سے تلاش کریں۔” انہ کان بکم رحیما ً “
Read the full tafseer →66:۔ اللہ پاک نے اوپر کی آیت میں بندوں کے کام بنانے کا ذکر فرما کر اب یہ باین کیا کہ تمہارا رب وہ ہے کہ تم مشرک ہو اور وہ تمہاری کشتیوں کو بڑے بڑے دریاؤں میں چلاتا ہے ہوا کہ موافق بنا دیتا ہے اور تم ان کشتیوں اور جہازوں میں بیٹھ کر اپنی روزی کی جستجو میں تجارت کے خیال سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہو وہ کیسا تم پر مہربان ہے کہ تمہاری آسائش کے لیے یہ سامان بنا رکھا ہے اگر کشتیاں نہ پیدا کرتا جہاز رانی کا علم تمہیں نہ سکھاتا اور ہوا کو تمہارے مقصود کے موافق نہ کرتا تو تمہارا ایک شہر سے دوسرے شہر میں کشتی پر جانا سخت مشکل تھا پھر تمہاری تجارت اور کاروبار میں سخت ابتری پھیلتی غرض کہ اللہ پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–69
(آیت نمبر (59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
شیطان کے وار سب پر کارگر نہیں ہوتے
قول باری ہے (واستفززمن استطعت منھم بصوتک اور تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھیلا سکتا ہے پھسلا لے) جسے یہ بات کہی جا رہی ہے یعنی شیطان کو یہ دھمکی ہے اور اسے خربدار کیا جا رہا ہے کہ اس کی کارستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے نیز یہ کہ وہ اس کی سزا ضرور پا کر رہ یگا اور اس سے ضرور اس کا اتنقا ملیا جائے گا۔ اس کی مثال کا یہ قول ہے ۔ ” تم اپنا پورا زور لگا لو پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا کیا بنتا ہے۔ “ استفزز کے معنی استزل ، کے ہیں یعنی پھسلا دے۔ محاورہ میں استفزہ اور استنزلہ ہم معنی فعل ہیں۔
قول باری (بصوتک) کی تفسیر میں مجاہد سے مروی ہے کہ یہ غناء اور لہو یعنی…
Read the full tafseer →121۔ دلائل توحید و عظمت خداوندی :۔
سو ارشاد فرمایا گیا اور انسان کے قلب وضمیر اور عقل وفکر کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” تمہارا رب وہی ہے جو تمہارے لئے کشتیاں (اور طرح طرح کے جہاز) چلاتا ہے سمندر میں “۔ حالانکہ پانی کی طبیعت اور خاصیت یہ ہے کہ اس میں معمولی سا کنکر پتھر بھی اگر پھینکا جائے تو وہ ڈوب جاتا ہے مگر تمہارے فائدے کیلئے اس قادر مطلق نے اس کو تمہارے لئے ایسا مسخر کردیا کہ طرح طرح کی کشتیاں اور ہزاروں ٹن وزن کے یہ دیوہیکل جہاز اس پر اس سہولت اور آسانی سے تیرتے پھرتے ہیں اور تمہارے لئے طرح طرح کے فوائد اور قسما قسم کے منافع کا ذریعہ بنتے ہیں کہ انہی بحری ذرائع حمل ونقل سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–70
اللہ کی رحمتیں برکتیں اور انسان کی ناشکری
تشریح : یہاں پھر ان تمام احسانات کا ذکر کیا گیا ہے جو انسانوں کی سہولت آرام و آسائش کے لیے اللہ نے انسان کو دے رکھے ہیں مثلاً اتنے بڑے بڑے پانی سے بھرے ہوئے موجیں مارتے دریا اور زبردست سمندر سب کو انسان کے لیے اس طرح مسخر (تابع) کردیا کہ انسان اپنی عقل سے کام لے کر جو اللہ نے اس کو دی ہے بڑی بڑی کشتیاں اور جہاز بنا کر ان کے ذریعے سفر کرتا ہے، تجارت کرتا ہے، مگر پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا مگر کیونکہ فطرتاً انسان اللہ کو ہی رب مانتا ہے، اس لیے جب طوفان اور مصیبت میں گھر جاتا ہے تو پھر مدد کے لیے بےاختیار اللہ ہی کو پکارتا ہے اس وقت وہ اپنے کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…
Read the full tafseer →ف 4 روزی کو قرآن میں اکثر فضل فرمایا ہے۔ دنیا میں جو نعمتیں بھی انسان کو حاصل ہیں یہ محض اللہ کا فضل ہی ہے کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ہے۔5 اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم نہ کبھی سمندر میں جہاز چلا سکتے اور نہ سوداگری کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکتے۔
Read the full tafseer →(17:66) یزجی۔ ازجی یزجی ازجاء (افعال) وہ چلاتا ہے وہ ہنکاتا ہے۔ التزجیۃ (تفعیل) کسی چیز کو دفع کرنا کہ چل پڑے۔ مثلاً پچھلے سوار کا اونٹ کو چلانا۔ یا ہوا کا بادلوں کو چلانا مثلاً ۔ یزجی سحابا۔ (24:43) (اللہ ہی) بادلوں کو ہنکاتا ہے۔ یزجی لکم الفلک فی البحر تمہارے لئے سمندروں میں جہازوں کو چلاتا ہے۔ زجی۔ زجو مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
لغات القرآن آیت 66 تا 69
یزجی وہ چلاتا ہے۔ الضر مصیبت، نقصان۔ افامنتم کیا پھر تم مطمئن ہوگئے ؟ ۔ یخسف وہ دھنسا دیتا ہے۔ حاصباً پتھر برسانے والی آندھی۔ تارۃ اخری دوبارہ۔ قاصف سخت طوفانی ہوا۔ یغرق وہ غرق کرتا ہے۔ لاتجدوا تم نہ پاؤ گے۔ تبیع پیچھا کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 66 تا 69
اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا ہے ” اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں (دی گئی نعمتوں میں) اور اضافہ کرتا چلا جاؤں گا۔ اس کے برخلاف اگر میری نعمتوں کی ناشکری کی گئی تو پھر میری گرفتا ور پکڑ بہت سخت ہے۔ واقعتاً اگر غور کیا جائے تو انسانی وجود کی ابتداء سے لے کر زندگی کے آخری سانس تک اللہ اتنی نعمتوں سے نوازتا ہے…
Read the full tafseer →توحید کا بیان
اس آیت سے دلائل توحید شروع ہوتے ہیں کہ تمہارا رب وہ ہے کہ تم مشرک ہو اور وہ تمہاری کشتیوں کو بڑے بڑے دریاؤں میں چلاتا ہے ہوا کو موافق بنا دیتا ہے۔ اور تم ان کشتیوں اور ان جہازوں میں بیٹھ کر اپنی روزی کی جستجو میں تجارت کے خیال سے ایک ملک سے دوسرے ملک میں جاتے ہو، وہ کیسا تم پر مہربان ہے کہ تمہاری آسائش کے لئے یہ سامان بنا رکھا ہے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے بندوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ ہر کام میں خدا پر ہی بھروسہ کریں اسی کو کل امور میں کام بنانے والا سمجھیں اور خاص اسی کی بندگی کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
[50] یعنی تلاش معاش کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
(ف 3) شیطان کو مہلت دی گئی ، کہ وہ ایک وقت مقررہ تک زندہ رہے ، مگر اس کی زندگی کے یہ معنی نہیں ہیں ، کہ وہ لامحالہ سب کو گمراہ کر دے گا ، بلکہ صاف صاف کہہ دیا گیا ، کہ تم اپنی تمام قوتوں کو برروئے کار لے آؤ ، تم انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر دیکھو ، جو تمہارے اختیار میں ہے ان سے جھوٹے وعدے کرو ، خواہشات نفس پر قبضہ کرو ، دل کی گہرائیوں میں سما جانے کی کوشش کرو ، اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرو ، مگر یاد رکھو ، میرے خاص بندے تیری دسترس سے باہر ہیں ، ان پر تیرا قبضہ نہیں ہو سکتا ، جن کے دلوں میں میری محبت ہے ۔
Read the full tafseer →-66 لوگو تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے نفع کے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل یعنی روزی تلاش کرو۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم پر بہت مہربان اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ دریا اور سمندر ایک ملک کو دوسرے ملک کے ملنے میں حائل ہے قدرت نے کشتیوں کے سفر سے ایک ملک کا دوسرے ملک سے جوڑ لگا دیا ہے جس سے تجارت میں بڑی ترقی ہوتی ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس کا فضل یعنی روزی، روزی کو قرآن کریم میں اکثر فضل فرمایا ہے فضل کے معنی زیادتی سو مسلمان کی بندگی ہے واسطے آخرت کے اور دنیا ملتی ہے بڑھتی میں کشتی ہانکتا ہے یعنی دریا میں اپنا زور نہیں چلتا بلی یا چپوپر مگر بادسو اسی کے اختیار میں ہے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ف 2۔ یہ بات کہ شیطان کو ابتداء کیسے معلوم ہوا کہ میں اغواء بنی آدم پر قادر ہوں، اس کا جواب یہ ہے کہ غالبا انسان کے قوی ترکیبیہ مختلفہ سے اس کو یہ ظن حاصل ہوا۔
Read the full tafseer →تمہارا رب وہ ہے جس نے تمہاری ضرورت کی ساری چیزیں پیدا کردی ہیں :
83۔ (یزجی) کا اصل زوج ہے واحد مذکر غائب وہ چلاتا ہے وہ ہنکاتا ہے اس سے (مزجاۃ) ہے جس کے معنی حقیر اور قلیل کے ہیں اور ظاہر ہے کہ ہنکایا اور چلایا بھی اس کو جاتا ہے جو حقیر وپابند ہو۔ گزشتہ آیات میں ابلیس کے بہکاوے میں آنے والوں اور بہکاوے میں نہ آنے والوں کا ذکر تھا ، زیر نظر آیت میں ان لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے جو ابلیس کے بہکاوے میں آنے والے ہیں اور شیطان کے پیچھے لگے ہوئے ہیں رب ذوالجلال والاکرام کو بالکل بھول چکے ہیں ‘ ان کو یاد دلایا جارہا ہے کہ جس ذات نے تم کو پیدا کیا ہے اس نے تمہاری ضرورت کی ساری چیزیں بھی پیدا کردی ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
(2) Secondly, he had said if he was given respite till the day of Qiyamah, he will mislead the entire progeny of 'Adam, except a few of them. That Allah Ta’ ala has elected to answer in the later verses. He said that the Shaitan will have no control over His sincere servants even if he were to rally his entire forces against them and as for the insincere who fall into his trap, they will meet the same fate as his, all consigned to Hell. When this verse (64) mentions the horsemen and footmen of the Shaitanic army, it does not necessarily mean that the Shaitan actually has combat support in…
Read the full tafseer →82. This passage (Ayats 66-72) is closely connected with the previous one. It tells man that if he wants to protect himself from the allurements, temptations and false promises of Satan who has been his avowed enemy from the day of his creation, he should recognize his real Lord and be steadfast in His obedience. Satan intends to prove that man is not worthy of the honor with which Allah has blessed him. Therefore if he follows any other way he cannot escape the snares of Satan.
In this passage, arguments of Tauhid have been put forward in order to make man steadfast in his faith and refrain…
Read the full tafseer →