Al-Israa 17:65

Al-Israa · from ayah 65

17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ ؕ— وَكَفٰی بِرَبِّكَ وَكِیْلًا ۟اِنَّ عِبَادِىۡ لَـيۡسَ لَـكَ عَلَيۡهِمۡ سُلۡطٰنٌ‌ ؕ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيۡلًا

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر) تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, over My [believing] servants there is for you no authority. And sufficient is your Lord as Disposer of affairs.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:65

یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا، اور توکل کے لیے تیرا رب کافی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر) تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

میرے سچے بندوں پر تیرا کوئی قابو اور بس نہیں۔ تیرا رب کارسازی کرنے واﻻ کافی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین رکھ کہ جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی بس نہیں چلے گا۔ اور تیرا پروردگار (ان کی) رکھوالی کے لیے کافی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا کچھ قابو نہیں، اور تیرا رب کافی ہے کام بنانے کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا تسلط نہیں ہو سکے گا، اور تیرا رب ان (اﷲ والوں) کی کارسازی کے لئے کافی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں اور تیرا رب کافی کار ساز ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو میرے بندے ہیں ان پر قطعاً تیرا بس نہیں چلے گا۔ اور (اے نبی ! آپ کے لئے) آپ کے پروردگار کا کارساز ہونا کافی ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک میرے اپنے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا اور تیرا رب کارسازی کے لیے کافی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(پر واضح رہے کہ) میرے خاص بندوں پر یقیناً تیرا کوئی زور نہیں چل سکے گا، اور کافی ہے تمہارا رب کارسازی کیلئے،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جو میرے (خاص) بندے ہیں ان پر تیرا ذرا قابو نہ چلے گا اور آپ کا پروردگار ہی کافی کارساز ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں ہوگا اور کافی ہے تیرا رب بطور کار ساز

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں اور (اے پیغمبر !) آپ کا رب کار ساز کافی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

but know well that you will have no power against My servants. Your Lord suffices for them to place their trust in."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

:As for My servants, you have no control over them, and your Lord is enough to look after (everything).

— Muhammad Taqi Usmani

:As for My servants, you have no control over them, and your Lord is enough to look after (everything).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Verily, My servants, you have no authority over them. And All-Sufficient is your Lord as a Guardian."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! My (faithful) bondmen - over them thou hast no power, and thy Lord sufficeth as (their) guardian.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, over My [believing] servants there is for you no authority. And sufficient is your Lord as Disposer of affairs.

— Saheeh International

You have no authority over My servants. Your Lord is a Sufficient Protector."

— Muhammad Sarwar

Surely (as for) My servants, you have no authority over them; and your Lord is sufficient as a Protector.

— Muhammad Habib Shakir

Verily My bondmen; over them thou hast no authority; and thy Lord sufficeth as a Trustee.

— Abdul Majid Daryabadi

"As for My servants, no authority shalt thou have over them:" Enough is thy Lord for a Disposer of affairs.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–65

شیطانی آواز کا بہکاوا ابلیس نے اللہ سے مہلت چاہی، اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لی اور ارشاد ہوا کہ وقت معلوم تک مہلت ہے، تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے، جو پوری سزا ہے۔ اپنی آواز سے بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے۔ اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لگ کر جس پر تجھ سے حملہ ہو سکے۔ حملہ کرلے۔ رجل جمع ہے راجل کی جیسے رکب جمع راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم۔ شیطانوں کی یہی خصلت ہے کہ وہ بندگان رب کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 80 اس کے دو مطلب ہیں، اور دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ ایک یہ کہ میرے بندوں، یعنی انسانوں پر تجھے یہ اقتدار حاصل نہ ہوگا کہ تو انہیں زبردستی اپنی راہ پر کھینچ لے جائے۔ تو فقط بہکانے اور پھسلانے اور غلط مشورے دینے اور جھوٹے وعدے کرنے کا مجاز کیا جاتا ہے۔ مگر تیری بات کو قبول کرنا یا نہ کرنا ان بندوں کا اپنا کام ہوگا۔ تیرا ایسا تسلط ان پر نہ ہوگا کہ وہ تیری راہ پر جانا چاہیں یا نہ چاہیں، بہرحال تو ہاتھ پکڑ کر ان کو گھسیٹ لے جائے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ میرے خاص بندوں، یعنی صالحین پر تیرا بس نہ چلے گا۔ کمزور اور ضعیف الارادہ لوگ تو ضرور تیرے وعدوں سے دھوکا کھائیں گے، مگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 64–65

دوسری بات یہ کہی تھی کہ اگر قیامت زندگی ملنے کی میری درخواست منظور کرلی گئی تو میں آدم کی ساری اولاد کو بجز قدر قلیل کے گمراہ کر ڈالوں گا آیات مذکورہ میں حق تعالیٰ نے اس کا جواب دے دیا کہ میرے خاص بندے جو مخلص ہیں ان پر تو تیرا قابو نہ چلے گا چاہے تو اپنا سارا لاؤ لشکر لے آوے اور پورا زور خرچ کرے باقی غیر مخلص اگر وہ تیرے قابو میں آگئے تو ان کا بھی وہی حال ہوگا جو تیرا ہے کہ جہنم کے عذاب میں تم سب گرفتار ہو گے اس میں (آیت) اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ میں جو شیطانی لشکر کے سوار اور پیادوں کا ذکر ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقع میں بھی شیطان کے کچھ افراد سوار ہوں کچھ پیادے بلکہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا۔ ایمان پر جمے رہنے والوں کو تسلی : " سلطان " کے معنی اختیار اور قدرت کے ہیں۔ یعنی مذکورہ سارے فتنے برپا کرنے کی تو تجھے مہلت دی گئی لیکن تجھے یہ اختیار حاصل نہیں ہوگا کہ میرے جو بندے میری بندگی پر قائم و ثابت قدم رہنا چاہیں ان کو تو بزور برگشتہ کردے۔ یہ ایمان پر جمے رہنے والوں کے لیے تسلی ہے کہ شیطان جو کچھ بھی گزرے لیکن یہ اختیار مطلق اس کو حاصل نہیں ہے کہ وہ جس کو چاہے ایمان سے پھیر دے۔ اخیار مطلق صرف اللہ ہی کو حاصل ہے۔ پھر مزید تسلی کے لیے فرمایا کہ وکفی بربک وکیلا، یعنی اللہ کے جو بندے شیطان کے فتنوں کے علی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

65۔ 1 بندوں کی نسبت اپنی طرف کی، بطور شرف اور اعزاز کے ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے خاص بندوں کو شیطان بہکانے میں ناکام رہتا ہے۔ 65۔ 2 یعنی جو صحیح معنوں میں اللہ کا بندہ بن جاتا ہے، اسی پر اعتماد اور توکل کرتا ہے تو اللہ بھی اس کا دوست اور کار ساز بن جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 65–68

38: میرے بندوں سے مراد مخلص بندے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کی فکر رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان عبادی ………(71 : 56) ” یقینا میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار نہ ہوگا اور توکل کے لئے تیرا رب کافی ہے “۔ جب دل اللہ کے ساتھ جڑ جائیں گے ، اللہ کی بندگی میں مشغول ہوں گے ، جب انسان ایسی رسی تھام لیں گے جو مضبوط ہوگی اور جو ٹوٹنے والی نہ ہوگی۔ جب عالم بالا کی روح ان میں سرایت کر جائے گی تو اس وقت شیطان کی قوت کچھ کام نہ کرے گی۔ یہ دل محفوظ ہوں گے۔ ایسی روحیں اللہ کے نور سے منور ہوں گے اور ایسے لوگوں کا وکیل تمہارا رب ہوگا اور توکل اور بھروسے کے لئے وہ قابل اعتماد ذریعہ ہے۔ وہ بڑا ناصر اور مددگار ہے اور شیطان سے وہی بچانے والا ہے۔ یوں شیطان اپن وعدے اور اپنے چیلنج کو پورا کرنے میں لگ گیا ، بندوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

15 یعنی جو خدا پر اعتماد و توکل کریں وہ ان کا کام بناتا ہے اور شیطان کے جال سے نکالتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 65–66

آیت 65 اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ تم انسانوں کو بہکانے اور پھسلانے کے لیے جو کچھ کرسکتے ہو کرلو ان کے دلوں میں وسوسے ڈالو ان سے جھوٹے سچے وعدے کرو اور انہیں سبز باغ دکھاؤ۔ یہ تمام حربے تو تم استعمال کرسکتے ہو لیکن تمہیں یہ اختیار ہرگز نہیں ہوگا کہ تم میرے کسی بندے کو اس کی مرضی کے خلاف گمراہی کے راستے پر لے جاؤ۔ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا وہ بندے جو شیطان سے بچنا چاہیں گے اللہ ان کی مدد کرے گا اور جس کسی کا مدد گار اور کارساز اللہ ہو اسے کسی اور سہارے کی ضرورت نہیں رہتی وہی اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 65–66

84 شیطان کا داؤکن پر چلتا ہے ؟:۔ شیطان کا داؤ صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو ضعیف الاعتقاد اور پہلے ہی شیطانی عمل پر لیبک کہنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور جن کے لیے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے کئی دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ ایک دروازے سے مقصد حل نہ ہو تو دوسرے دروازے پر چلے جاتے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو محض ظاہری اسباب پر تکیہ کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگ فوراً شیطان کی چالوں میں پھنس جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ صرف ایک اللہ پر نظر رکھتے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر شیطان کا داؤ کارگر نہیں ہوسکتا۔ 85 یعنی جو لوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اللہ بھی ان کے کام ایسے حیرت انگیز طریقوں سے سنوارتا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

96۔ (تو ایسوں کو فکر وتردد ہی کیا، بس وہ اپنا تعلق عبدیت ہمارے ساتھ جوڑے رکھیں، ہم خود ہی ان کی ہر حفاظت شیطان کے حملوں سے کرتے رہیں گے اس مردود میں قوت ہی کتنی ہے) آیت سے ضمنا ان مذاہب کی بھی تردید ہوگئی جنہوں نے شیطان کو بھی خدا ہی کی طرح قوت و طاقت کا مستقل مالک سمجھا، اور اہرمن نام دے کر اسے بدی کا خدا مانا ہے۔ (آیت) ” ان۔۔۔ سلطن “۔ مومنین مخلصین کی تسکین و تسلی کیلئے ایک بار پھر اس حقیقت کی وضاحت کردی گئی کہ ڈرنے کے قابل تو صرف خالق ومالک کی نافرمانی ہے، شیطان مردود میں قوت ہی کتنی ہے۔ (آیت) ” عبادی “۔ یعنی وہ بندے جو اپنے تعلق عبدیت کو اللہ کے ساتھ جوڑے ہوئے ہیں۔ المراد اھل العقل والعلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–70

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا : بلاشبہ میرے (مخلص) بندوں (کے اغواء) پر تجھے قدرت نہ ہوگی اور تیرا رب (ان کی حفاظت کا) ذمہ دار ہونے کے لئے کافی ہے۔ یعنی جو مخلص بندے اللہ پر بھروسہ رکھیں گے اس کی پناہ کے خواستگار ہوں گے اور اپنے تمام امور اس کے سپرد کردیں گے اللہ ان کو اپنی حفاظت میں رکھے گا (ان پر تیری دسترس نہ ہوگی)

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(65) میرے ان بندوں پر جو تجھ سے محفوظ ہیں تیرا بالکل قابو اور بس نہیں چلے گا اور آپ کے رب نے جو وعدے فرمائے ہیں وہ ان کا ذمہ دار اور کافی کار ساز ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے اس سلسلۂ کلام کو سچے ایمان والوں کے اطمینان کے لیے اس بات پر ختم کیا کہ میرے خاص بندوں پر تو غالب نہیں آسکے گا، کیونکہ انھوں نے اپنا سب کچھ اپنے رب کے سپرد کردیا ہے اور رب تعالیٰ بہت کافی وکیل ہے۔ مزید دیکھیے سورة حجر (42، 43) اور سورة نحل (98 تا 100)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 65 قولہ تعالیٰ : ان عبادی لیس لک علیھم سلطٰن حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : وہ مومنین ہیں۔ اس پر بحث پہلے گزرچکی ہے۔ وکفیٰ بربک وکیلاً یعنی تیرا رب قبول کرکے ابلیس سے بچانے کے لئے، اس کے فریب اور اس کے مکر کی برائی سے حفاظت کرنے کے لئے کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–65

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت عطا فرمائی تھی اور اس نے کہا میں آگ میں سے ہوں اور یہ مٹی میں سے ہیں پس گناہوں کا آغاز تکبر سے ہوا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس نے کہا آد م (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور مٹی سے کمزور پیدا کیا گیا اور میں آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے (پھر کہنے لگا) (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ یعنی میں اس کی اولاد کو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اور اس کا گمان ان پر سچا نکلا۔ 3:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : بیشک ] [عِبَادِيْ : میرے بندے (جو ہیں)] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [لَكَ : تیرے لئے ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [سُلْطٰنٌ: کوئی اختیار ] [وَكَفٰى: اور کافی ہے ] [بِرَبِكَ : آپ ﷺ کا رب ] [وَكِيْلًا : بطور کارساز کے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا کہ (اِنَّ عَبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ) یہ بھی ابلیس کو خطاب ہے مطلب یہ ہے کہ تو بنی آدم کو بہکانے، ورغلانے اور راہ حق سے ہٹانے کی وہ سب تدبیریں کرلینا جو تو کرسکتا ہے لیکن تجھے ایسا کوئی اختیار نہیں دیا جا رہا ہے کہ تو انسانوں کو اپنی قوت سے مجبور کرکے کوئی کام کرالے تیری ساری تدبیروں اور شرارتوں کے باوجود سب اپنے عمل میں مختار رہیں گے (اور اسی اختیار کی وجہ سے ان کا مواخذہ ہوگا) سورة حجر میں فرمایا کہ (اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغٰوِیْنَ ) (بلاشبہ میرے بندوں پر تیرا تسلط نہیں ہوگا سوائے ان گمراہوں کے جو تیرا اتباع…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–65

ذکر عداوت شیطان با بنی نوع انسان قال اللہ تعالیٰ : واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وکفی بربک وکیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کافروں کی سرکشی اور عناد اور آنحضرت ﷺ سے ان کی مخالفت اور عداوت کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور شیطان کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ شیطان تمہارا قدیمی دشمن ہے تم اس کے بہکائے میں نہ آنا اور اس کے بہکانے سے ہمارے نبی ﷺ کی مخالفت نہ کرنا شیطان کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کی شبہات ڈالتا ہے تاکہ لوگ اللہ کے حکم سے برگشتہ ہوجائیں۔ آدم (علیہ السلام) کا مفصل قصہ اور اس کی تفسیر سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

61:۔ اے ابلیس ! تو اولاد آدم کو گمراہ کرنے اور انہیں شرک میں مبتلا کرنے کے لیے اپنے سارے ہتھکنڈے استعمال کرلے اور مکر و فریب کے تمام جال پھیلا لے مگر یاد رکھ میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں چل سکے گا۔ میں اپنے بندوں کے لیے کافی کارساز ہوں میرے جو بندے مجھ پر بھروسہ کرینگے اور تیرے مکر و فریب سے میری پناہ ڈھونڈیں گے میں انہیں تیرے دام تزویر سے محفوظ رکھوں گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–65

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ان کی منہ مانگی نشانیوں کے متعلق واضح کیا کہ وہ سخت عذاب میں مبتلا ہو سکتے ہیں ، اللہ نے یاد دلایا کہ وہ سب لوگوں کا احاطہ کرنے والا ہے اور کوئی فرد واحد اس کی پہنچ سے باہر نہیں ہے ، پھر اللہ نے واقعہ معراج کے تذکرہ میں بتایا کہ یہ واقعہ لوگوں کے لیے ذریعہ آزمائش بن گیا اور اس طرح دوزخ کا درخت ملعونہ بھی ایمانداروں اور بےایمانوں کے لیے وجہ امتحان بن گیا فرمایا اس قسم کی نشانیاں ہم محض خوف دلانے کے لیے ظاہر کرتے ہیں مگر یہ لوگ تعصب میں مزید اندھے ہوجاتے ہیں ۔ (ابلیس کا انکار سجدہ اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا 65؀ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–65

ترکیب : ھذا منصوب بارایت والذی لغت لہ و المفعول الثانی محذوف تقدیرہ تفضیلہ۔ لاحتنکن جواب لئن۔ طینًا منصوب مبرع الخافض ای من طین۔ قال الواحدی لاحتنکن اصلہ من احتناک الجرادالزرع وھوان تستاصلہ باحنا کھا ثم استعمل علی الاستیلاء علی شیء و قیل ماخوذ من حنک الدابۃ اواجعل الرسن فی حنکھا والحنک ماتحت الذقن ودمنہ التحنیک الاستفراز والا زعاج والاستخفاف یقال افزہ واستفرہ ای ازعجہ واجلب قال الفراء وابوعبیدہ من الجلبۃ وقال الزجاج الاجلاب الجمع ای اجمع علیھم العساکر وقال ابن السکیت الاجلاب الاستعانۃ ای استعن علیھم لکل باتقدر والامر للتھدید۔ تفسیر : اب ان کی سرکشی کا سبب بیان فرماتا ہے کہ یہ شیطان کا اثر ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ ط وَکَـفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 65) (بیشک جو میرے بندے ہیں ان پر تیرا غلبہ نہیں ہوسکتا، اور آپ ﷺ کا رب اپنے بندوں کی کارگزاری کے لیے کافی ہے۔ ) مخلص بندوں کو تسلی گزشتہ آیت میں انسانوں کو گمراہ کرنے کے لیے شیطان کو جو مہلت دی گئی ہے اور جو وسائل دیے گئے ہیں انھیں دیکھ کر آدمی یہ سوچنے لگتا ہے کہ ان حربوں سے بچنا تو شاید انسان کے بس میں نہیں، تو یہ کیا بات ہوئی کہ ایک طرف تو انسان کو عبدیت کا حکم دیا گیا اور بندگی اس کا مقصد ٹھہرایا اور اسی پر اس کی دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار ٹھہرا اور دوسری طرف شیطان کو وہ کچھ دے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–65

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابلیس نے گستاخی اور بغاوت کی حدیں پھیلانگتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اے رب ! تیری عزت کی قسم میں چند مخلص لوگوں کے علاوہ سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن میرا فرمان بھی سچ اور اٹل ہے کہ میں تجھے اور تیری تابعداری کرنے والوں کو جہنم میں داخل کروں گا (آ : 82 تا 85) اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری بارگاہ سے نکل جا۔ تو ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہوا اور تجھ پر قیامت تک پھٹکار برستی رہے گی۔ (الحجر : 34، 35) رب ذوالجلال نے یہ بھی ارشاد فرمایا۔ اے ابلیس ! تو نکل جا، جو شخص تیری پیروی کرے گا اس کی سزا جہنم ہوگی۔ جس میں سب کو پوری پوری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعلانِ باری تعالیٰ : 65: اِنَّ عِبَادِیْ (بیشک میرے بندے) صالحین پر لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطٰنٌ (تجھے ان پر قدرت نہ ہوگی) یعنی ان کے ایمان کو تبدیل کرنے کی طاقت نہ ہوگی البتہ گناہوں کی تسویل کی طاقت تو باقی ہے۔ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا (اور تیرا رب ذمہ دار ہونے کیلئے کافی ہے) ان کے لئے۔ وہ تجھ سے بچنے کیلئے اسی پر بھروسہ کریں گے۔ نمبر 2۔ تجھ سے بچانے کیلئے انکا نگہبان ہے ان میں سے ہر حکم تہدیدی ہے جس پر سزا ہوگی نمبر 2۔ امراہانت کیلئے ہے یعنی اس سے میری مملکت میں کچھ بھی نقصان نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 65۔” ان عبادی لیس لک علیھم سلطان وکفی بربک وکیلا ً “ وہی تمام امور کا محافظ ہے ۔ اس شخص کے لیے جو اپنے تمام امور اسی کے سپرد کردیتا ہے

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–65

63۔ 65:۔ جب شیطان نے اللہ پاک سے بنی آدم کے بہکانے کی درخواست کی تو اللہ پاک نے اس کی درخواست کو قبول کیا اور جس وقت اسرائیل پہلی دفعہ صور پھونکیں گے اس وقت تک شیطان کو مہلت دی گئی اس کی غرض یہ تھی کہ نفخہ ثانیہ تک مہلت مل جاتی ‘ کیونکہ نفخہ ثانیہ کے بعد پھر کسی کو موت نہیں ہے مگر اللہ پاک نے اس مدت کی مہلت نہیں دی اور شیطان اور شیطان کی پیروی کرنیوالوں کے لیے جہنم کی سزا مقرر کر کے فرما دیا کہ جہاں تک تیرا زور چلے اور جتنا تجھ سے ممکن ہو بنی آدم کو بہکا اور کجرو بنا اور خدا کی نافرمانی کی طرف ان کو بلا پھر فرمایا کہ بنی آدم کے بہکانے کے واسطے چاہے تو اپنے سوار اور پیادوں کو چڑھا لا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–69

(آیت نمبر (59 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 64–69

شیطان کے وار سب پر کارگر نہیں ہوتے قول باری ہے (واستفززمن استطعت منھم بصوتک اور تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھیلا سکتا ہے پھسلا لے) جسے یہ بات کہی جا رہی ہے یعنی شیطان کو یہ دھمکی ہے اور اسے خربدار کیا جا رہا ہے کہ اس کی کارستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے نیز یہ کہ وہ اس کی سزا ضرور پا کر رہ یگا اور اس سے ضرور اس کا اتنقا ملیا جائے گا۔ اس کی مثال کا یہ قول ہے ۔ ” تم اپنا پورا زور لگا لو پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا کیا بنتا ہے۔ “ استفزز کے معنی استزل ، کے ہیں یعنی پھسلا دے۔ محاورہ میں استفزہ اور استنزلہ ہم معنی فعل ہیں۔ قول باری (بصوتک) کی تفسیر میں مجاہد سے مروی ہے کہ یہ غناء اور لہو یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–65

115۔ ابلیس کا چیلنج حضرت حق جل مجدہ کے حضور :۔ سو اس ملعون نے کہا کہ ” اگر تو نے مجھے مہلت دی تو میں جڑنکال دونگا اس کی سب نسل کی “ اور ان سب کو راہ حق سے پھسلا کر دوزخ میں پہنچا کر چھوڑوں گا سوائے ان میں کے ان تھوڑے سے لوگوں کے جن پر میرا زور نہیں چل سکے گا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ نے خود بھی ارشاد فرمایا ان عبادی لیس لک علیہم سلطان الا من اتبعک من الغاوین (الحجر : 42) کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بہکے بھٹکے ہوئے گمراہوں کے جو تیرے پیچھے چلیں گے اور انہوں نے اپنے کئے کرائے کا بھگتنان بھگتنا اور تیرے ساتھ دوزخ میں داخل ہونا ہے کہ یہی تقاضا ہے عدل وانصاف ومکافات عمل کا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–65

شیطان، اس کی چالیں اور اس کا دعو ٰی تشریح : جیسا کہ شیطان کی ابتدا ہوئی اللہ کی نافرمانی سے اور انسان کی ابتدا ہوئی اللہ کی رحمت سے اور یہ قصہ بڑی تفصیل سے سورة بقرہ آیات 30 تا 39، سورة النساء آیات 117 سے 121 الاعراف آیات 11 سے 25، الحجر آیات 26 تا 42 ابراہیم آیت 22 ۔ ان تمام سورتوں میں شیطان اور انسان کی ہمیشہ کی لڑائی کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات میں اچھے اور نیک انسان کی صفات بیان کردی گئی ہیں پھر دہرائے دیتے ہیں۔ جو بھی شخص اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے گا دنیا و آخرت میں بھلائی حاصل کرے گا، مگر جو اس کے علاوہ راستہ اختیار کرے گا تو وہ گویا شیطان کا دوست بن گیا اور وہ شیطان کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی میرے بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ گمراہ رف وہی ہوں گے جن کا ایمان کچا اور کمزور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:66) بربک۔ میں ک ضمیر واحد مذکر حاضر۔ نبی کریم ﷺ کے لئے ہے۔ اور بعض کے نزدیک انسان کے لئے۔ بعض کے نزدیک جملہ سابقہ کی طرح یہ خطاب بھی شیطان سے ہے ! لیکن اول الذکر زیادہ صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–65

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65 طین مٹی۔ کر مت تو نے عزت دی۔ احتکن جڑیں اکھاڑ دوں گا۔ موفور بھرپور، پوری طرح۔ استفزز پھسلا لے، آمادہ کرلے۔ اجلب چڑھا کرلے آ۔ خیل گھوڑے ، سوار۔ رجل پیادے، پاؤں۔ غرور دھوکہ، فریب ۔ تشریح :- آیت نمبر 61 تا 65 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زندگی کی سچائیوں کو کہانیوں اور قصوں کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ عبرت و نصیحت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے واقعہ کے صرف اسی پہلو کو بیان کیا ہے جس کی اس موقع پر ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت آدم اور شیطان کے واقعہ کو سورة نبی اسرائیل کے علاوہ چھ اور بڑی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سورة البقرہ، سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اور جو میرے خاص بندے ہیں جن کو ہم نے جنت کے لئے پیدا کیا ہے۔ ان پر تیرا قابو نہیں چلے گا اور اللہ تعالیٰ حفاظت کرنے والا ہے اپنے بندوں کی حفاظت کے لئے کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 64–65

[49] شیطان کی آواز کیا ہے۔ اس کے متعلق عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ گانے اور مزامیر اور لہو ولعب کی آوازیں یہی شیطان کی آواز ہے جس سے وہ لوگوں کو اللہ کی یاد سے روکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–66

(ف 3) شیطان کو مہلت دی گئی ، کہ وہ ایک وقت مقررہ تک زندہ رہے ، مگر اس کی زندگی کے یہ معنی نہیں ہیں ، کہ وہ لامحالہ سب کو گمراہ کر دے گا ، بلکہ صاف صاف کہہ دیا گیا ، کہ تم اپنی تمام قوتوں کو برروئے کار لے آؤ ، تم انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر دیکھو ، جو تمہارے اختیار میں ہے ان سے جھوٹے وعدے کرو ، خواہشات نفس پر قبضہ کرو ، دل کی گہرائیوں میں سما جانے کی کوشش کرو ، اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرو ، مگر یاد رکھو ، میرے خاص بندے تیری دسترس سے باہر ہیں ، ان پر تیرا قبضہ نہیں ہو سکتا ، جن کے دلوں میں میری محبت ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-65 یقینا میرے خاص اور مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور اور بس نہ چل سکے گا اور اے پیغمبر آپ کا پروردگار کافی کار ساز ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کے لئے کافی کار ساز ہے اس لئے ان کے مقابلے میں شیطان بےبس اور عاجز ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 65–66

ف 2۔ یہ بات کہ شیطان کو ابتداء کیسے معلوم ہوا کہ میں اغواء بنی آدم پر قادر ہوں، اس کا جواب یہ ہے کہ غالبا انسان کے قوی ترکیبیہ مختلفہ سے اس کو یہ ظن حاصل ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرمایا میرے بندوں پر تو قابو نہیں پاسکتا یہ ایک فیصلہ کن بات ہے : 82۔ آیت کے دو حصے ہیں پہلے حصے میں ارشاد فرمایا کہ ” جو میرے بندے ہیں ان پر تو قابو پانے والا نہیں “۔ (عبادی) کا لفظ بامحاورہ بھی ہو سکتا ہے اور اپنے حقیقی معنوں میں بھی ، اگر حقیقی معنوں میں استعمال ہو تو ظاہر ہے کہ بندے سارے اللہ ہی کے ہیں وہ نیک ہوں یا بد اچھے ہوں یا برے تو اس طرح آیت کے اس حصہ کا مطلب یہ ہوگا کہ میرے بندوں یعنی انسانوں پر تجھے یہ طاقت نہ ہوگی کہ تو ان کو زبردستی اپنی طرف کھینچ لے جائے ، ہاں ! تو اس معاملہ میں اپنی کوشش کرسکتا ہے کہ بہکائے پھسلائے اور ان کی وعدے دے لیکن تیرے بہکانے ‘ پھسلانے اور مشوروں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 64–69

(2) Secondly, he had said if he was given respite till the day of Qiyamah, he will mislead the entire progeny of 'Adam, except a few of them. That Allah Ta’ ala has elected to answer in the later verses. He said that the Shaitan will have no control over His sincere servants even if he were to rally his entire forces against them and as for the insincere who fall into his trap, they will meet the same fate as his, all consigned to Hell. When this verse (64) mentions the horsemen and footmen of the Shaitanic army, it does not necessarily mean that the Shaitan actually has combat support in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

80. It has two meanings: (1) You will have no power over human beings to force them to follow your way. What you are allowed to do is that you may delude them by false counsel and entice them by false promises, but they will have the option to follow or not to follow your counsel. You will not have the power over them to force them to follow your way against their will. (2) You will not succeed in alluring My righteous people. Though the weak minded will be enticed by you. My righteous people who are steadfast in My obedience will not succumb to you. 81. That is, those who will trust in Allah…

Read the full tafseer →