Explained with ayahs 63–65
شیطانی آواز کا بہکاوا
ابلیس نے اللہ سے مہلت چاہی، اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لی اور ارشاد ہوا کہ وقت معلوم تک مہلت ہے، تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے، جو پوری سزا ہے۔ اپنی آواز سے بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے۔ اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لگ کر جس پر تجھ سے حملہ ہو سکے۔ حملہ کرلے۔ رجل جمع ہے راجل کی جیسے رکب جمع راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم۔ شیطانوں کی یہی خصلت ہے کہ وہ بندگان رب کو…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 76
اصل میں لفظ ”استفزاز“ استعمال ہوا ہے، جس کے معنی استحفاف کے ہیں۔ یعنی کسی کو ہلکا اور کمزور پا کر اسے بہا لے جانا، یا اس کے قدم پھسلا دینا۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 77
اس فقرے میں شیطان کو اس ڈاکو سے تشبیہ دی گئی ہے جو کسی بستی پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لائے اور ان کو اشارہ کرتا جائے کہ ادھر لوٹو، ادھر چھاپہ مارو، اور وہاں غارتگری کرو۔ شیطان کے سواروں اور پیادوں سے مراد وہ سب جن اور انسان ہیں جو بیشمار مختلف شکلوں اور حیثیتوں میں ابلیس کے مشن کی خدمت کر رہے ہیں۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 78
یہ ایک بڑا ہی معنی خیز فقرہ ہے جس میں شیطان اور اس کے پیروؤں کے باہمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
دوسری بات یہ کہی تھی کہ اگر قیامت زندگی ملنے کی میری درخواست منظور کرلی گئی تو میں آدم کی ساری اولاد کو بجز قدر قلیل کے گمراہ کر ڈالوں گا آیات مذکورہ میں حق تعالیٰ نے اس کا جواب دے دیا کہ میرے خاص بندے جو مخلص ہیں ان پر تو تیرا قابو نہ چلے گا چاہے تو اپنا سارا لاؤ لشکر لے آوے اور پورا زور خرچ کرے باقی غیر مخلص اگر وہ تیرے قابو میں آگئے تو ان کا بھی وہی حال ہوگا جو تیرا ہے کہ جہنم کے عذاب میں تم سب گرفتار ہو گے اس میں (آیت) اَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ میں جو شیطانی لشکر کے سوار اور پیادوں کا ذکر ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ واقع میں بھی شیطان کے کچھ افراد سوار ہوں کچھ پیادے بلکہ…
Read the full tafseer →وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۭ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا۔
" استفزاز " کے معنی گھبرا دینے اور پریشان کردینے کے ہیں اور " صوت " سے مراد یہاں شور و غوغا، ہنگامہ اور پروپیگنڈا ہے۔
ابلیس کی مہلت کی حد : ابلیس اور اس کی ذریات کو اضلال کی مہم چلانے کی جس حد تک مہلت ملی ہوئی ہے یہ اس کی طرف اشارہ ہے تاکہ لوگ اس کو کوئی آسان بازی نہ سمجھیں بلکہ جو اس کے فتنوں سے اپنے ایمان کو بچانا چاہتے ہوں وہ ہر وقت اس کا مقابلہ کرنے کے لیے چوکس رہیں۔
ابلیس کے فتنوں کی…
Read the full tafseer →64۔ 1 آواز سے مراد پرفریب دعوت یا گانے، موسیقی اور لہو و لعب کے دیگر آلات ہیں، جن کے ذریعے سے شیطان بکثرت لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔
64۔ 2 ان لشکروں سے مراد، انسانوں اور جنوں کے وہ سوار اور پیادے لشکر ہیں جو شیطان کے چیلے اور اس کے پیروکار ہیں اور شیطان ہی کی طرح انسانوں کو گمراہ کرتے ہیں، یا مراد ہے ہر ممکن ذرائع جو شیطان گمراہ کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔
64۔ 3 مال میں شیطان کے شامل ہونے کا مطلب حرام ذریعے سے مال کمانا اور حرام طریقے سے خرچ کرنا ہے اور اسی طرح مویشیوں کو بتوں کے ناموں پر وقف کردینا مثلًا بحیرہ، سائبہ وغیرہ اور اولاد میں شرکت کا مطلب، زنا کاری، عبدالات، عبدالعزیٰ وغیرہ نام…
Read the full tafseer →35: آواز سے بہکانے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے دلوں میں گناہ کے وسوسے پیدا کرے، اور بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد گانے بجانے کی آواز ہے جو انسان کو گناہ میں مبتلا کرتی ہے۔
36: شیطان کو دشمن کی فوج سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح ایک فوج میں سواروں کے بھی دستے ہوتے ہیں اور پیدل چلنے والے دستے بھی، اسی طرح شیطان اپنی ایک فوج رکھتا ہے جس میں شریر جنات اور انسان شامل ہیں، یہ سب مل کر انسانوں کو بہکانے میں شیطان کی مدد کرتے ہیں۔
37: اس میں اشارہ ہے کہ جب کوئی شخص اپنے مال اور اولاد کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف حاصل کرتا یا انہیں ناجائز کاموں میں استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →واستفزز……(71 : 46) ” تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھسلا سکتا ہے پھسلا دے ، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا “۔ یہاں شیطان کے وسائل گمراہی اور ضلالت کو مجسم طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ کسی طرح شیان انسانوں کے دل ، ان کے شعور اور ان کی عقل پر تسلط اختیار کرلیتا ہے۔ گویا آدم و ابلیس کے درمیان کھلی جنگ ہے۔ ہمہ گیر جنگ ہے۔ اس میں آواز ، گھوڑے اور ٹینک پیارے اور تمام دوسرے وسائل شیطان استعمال کرتا ہے جیسا کہ تمام روایتی جنگوں کے درمیان ہر قسم کے ہتھیار استعمال ہوتے ہیں۔ آوازیں بھی دی جاتیں اور آوازوں اور مبارزت کی وجہ سے دشمن کو خوفزدہ کیا جاتا ہے۔ استدراج اور کیمو فلاج سے کام لیا جاتا ہے۔ جنگی چالیں…
Read the full tafseer →11 یعنی وہ آواز جو خدا کے عصیان کی طرف بلاتی ہو، مراد اس سے وسوسہ ڈالنا ہے اور مزامیر (باجا گاجا) تھی اس میں داخل ہوسکتا ہے۔
12 یعنی ساری طاقت صرف کر ڈال ! اور پوری قوت سے لشکر کشی کر ! خدا کی معصیت میں لڑنے والے سب شیطان کے سوار اور پیا دے ہیں۔ جن ہوں یا انس۔
13 یعنی دل میں ارمان نہ رکھ، ان کو ہر طرح ابھار، کہ مال و اولاد میں تیرا حصہ لگائیں، یعنی یہ چیزیں ناجائز طریقہ سے حاصل کریں اور ناجائز کاموں میں صرف کریں۔
14 یعنی شیطان جو سبز باغ دکھاتا ہے اس سے فریب کھانا احمق کا کام ہے اس کے سب وعدے دغا بازی اور فریب سے ہیں، چناچہ وہ خود اقرار کرے گا۔ (وَوَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ ) 14 ۔ ابراہیم…
Read the full tafseer →آیت 64 وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ
عربی میں بکری کے ایسے نوزائیدہ بچے کو فزّ کہتے ہیں جو ابھی ٹھیک سے چلنے کے قابل نہ ہو اور کھڑا ہونے کی کوشش میں اس کی ٹانگیں لڑ کھڑاتی ہوں۔ اس مناسبت سے یہ لفظ محاورۃً اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جس کی ٹانگیں کسی معاملے میں لڑ کھڑا جائیں قدم ڈگمگا جائیں اور ہمت جواب دے دے۔
Read the full tafseer →80 شیطان کی آواز سے مراد :۔ شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ پکار ہے جو اسے اللہ کی نافرمانی پر اکساتی ہو اور یہ آواز عموماً شیطانوں کے چیلوں چانٹوں ہی سے آتی ہے پھر اس شیطانی آواز میں ہر قسم کا گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا، گانابجانا، موسیقی، راگ رنگ اور مزامیر طرب و نشاط کی محفلیں سب کچھ آتا ہے جو اللہ کی یاد سے انسان کو غافل بنائے رکھتی ہیں اور اس کی اصل فطرت پر پردہ ڈالے رکھتی ہیں۔
81 یعنی تجھے اس بات کی بھی اجازت ہے کہ ڈاکوؤں کی طرح اپنی پوری جمعیت کے ساتھ۔ خواہ وہ انسانوں سے تعلق رکھتی ہو یا جنوں اور شیطانوں سے، اولاد آدم پر پوری شان و شوکت کے ساتھ حملہ آور ہو اور ان میں جس قدر تباہی اور گمراہی…
Read the full tafseer →95۔ (تو چاہیے کہ انسان اب اس کے ہتھکنڈوں کو سمجھ کر اس کے دام میں پھنسنے سے باز رہے) (آیت) ” بصوتک “۔ یعنی اپنے اغواء اور وسوسہ اندازی سے اپنے مخفی پروپیگنڈے سے۔ صوت کا خاص تعلق گانے اور کھیل تماشہ کی آواز سے بھی سمجھا گیا ہے۔ روی عن مجاھد انہ الغناء واللھو (جصاص) قیل اراد بصوتک الغناء واللھو (جصاص) قیل اراد بصوتک الغناء واللھو واللعب (کبیر) یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو آواز بھی معصیت وفسق کی جانب لائے یا بلائے وہ سب شیطان ہی کی آواز ہے۔ قال ابن عباس ؓ ھو الصوت الذی یدعوابہ الی معصیۃ وکل صوت دعی بہ الی النساء فھومن صوت الشیطان (جصاص) وصوتہ دعاء ہ الی مصیۃ اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” واجلب علیھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…
Read the full tafseer →وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ
اور ان میں سے جس جس پر تیرا قابو چلے اپنی چیخ پکار سے اس کا قدم اکھاڑ دینا اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لانا۔ اِسْتِفْزَازْابھار دینا ‘ پھسلا دینا ‘ بیوقوف بنا لینا۔ قاموس میں ہے اِسْتَفَزَّہٗاس کو ابھارا دے کر اکھاڑ دیا اور گھر سے نکال دیا۔ بِصَوْتِکَحضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک صوت سے اس جگہ دعوت گناہ مراد ہے۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی دعوت دے وہ ابلیس کی جماعت میں شامل ہے۔ ازہری نے استَفْزِزْ بِصَوْتِکَ سے یہ مراد لی ہے کہ ان کو اپنی طرف بلانا اور اکھاڑ کر اپنی جانب مائل کرلینا۔ مجاہد نے کہا…
Read the full tafseer →(64) اور جا ان میں سے جس پر تیرا بس چلے، اپنی تبلیغ سے اس کے قدم پھسلا دینا یا یہ کہ امیر اور تمام گانوں کی آوازوں اور ہر قسم کی برائیوں سے ان کو گمراہ کردینا۔
اور ان پر اپنے سوار مشرکین اور پیادہ مشرکین چڑھا لانا اور ان کے خلاف مشرکین کے لشکر سے مدد حاصل کرنا اور ان کو اموال حرام اور اولاد حرام میں گرفتار کردینا اور ان سے وعدے کرنا کہ جنت اور دوزخ کچھ نہیں اور شیطان ان لوگوں سے بالکل جھوٹے وعدے کرتا ہے۔
Read the full tafseer →وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ۔۔ : ”اسْتَفْزِزْ“ ”فَزٌّ“ سے مشتق ہے جس کا معنی ہلکا و خفیف ہے۔ ”رَجُلٌ فَزٌّ أَیْ خَفِیْفٌ“ ہلکا آدمی، یعنی تو جسے اپنی آواز سے ہلکا اور بےوقعت بنا سکے بنا لے۔ شاہ رفیع الدین ؒ نے ترجمہ کیا ہے ”اور بہکا جس کو بہکا سکے“ کیونکہ آدمی ہلکا اور بےقدر و قیمت ہو کر ہی بہکتا ہے۔
بِصَوْتِكَ : شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ آواز ہے جو اللہ کی نافرمانی کی دعوت دے، اس میں گانا بجانا، بدکاری اور ہر برے کام کی دعوت اور ترغیب شامل ہے۔
وَاَجْلِبْ عَلَيْهِم۔۔ : جلب کھینچ کر لانے کو کہتے ہیں اور اس شور کو بھی جس سے گھوڑے کو تیز دوڑانا مقصود ہو۔ ”خَیْلٌ“ گھوڑوں کی جماعت…
Read the full tafseer →آیت نمبر 64
اس میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : واستفزز یعنی تو پھسلا اور دور ہٹا اور اس کا اصل معنی لقطع (کاٹنا) ہے۔ اور اسی سے ہے تفزز الثواب جب کپڑا کٹ جائے، اور اس کا معنی ہے تو اسے حق سے کاٹ کر (یعنی گمراہ کرکے) اسے پھسلا دے۔ اور استفزہ الخوف یعنی خوف نے اسے ہلکا کردیا، دور ہٹادیا اور قعد مستوفزًا یعنی وہ غیر مطمئن بیٹھا۔ واستفزز یہ امر برائے تعجیز (عاجز کرنے کے لئے) ہے، یعنی تو کسی کو گمراہ کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا، اور نہ تجھے کسی پر کوئی غلبہ ہوسکتا ہے پس تو جو چاہے کرلے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : بصوتک اور اس کی آواز ہر وہ داعی ہے جو اللہ تعالیی کی معصیت و نافرمانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت عطا فرمائی تھی اور اس نے کہا میں آگ میں سے ہوں اور یہ مٹی میں سے ہیں پس گناہوں کا آغاز تکبر سے ہوا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس نے کہا آد م (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور مٹی سے کمزور پیدا کیا گیا اور میں آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے (پھر کہنے لگا) (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ یعنی میں اس کی اولاد کو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اور اس کا گمان ان پر سچا نکلا۔
3:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →[وَاسْتَفْزِزْ : اور تو ڈگمگا لے ] [مَنِ : اس کو جس پر ] [اسْـتَـطَعْتَ : تیرا بس چلے ] [مِنْهُمْ : ان میں سے ] [بِصَوْتِكَ : اپنی آواز سے ] [وَاَجْلِبْ : اور تو چڑھا لا ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [بِخَيْلِكَ : اپنے سواروں کو ] [وَرَجِلِكَ : اور اپنے پیادوں کو ] [وَشَارِكْهُمْ : اور تو ساجھی بن ان کا ] [فِي الْاَمْوَالِ : مالوں میں ] [وَالْاَوْلَادِ : اور اولاد میں ] [وَ : اور ] [عِدْ : تو وعدہ دے ] [هُمْ : ان کو ] [وَمَا يَعِدُ : اور وعدہ نہیں دیتا ] [هُمُ : ان کو ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان ] [اِلَّا : سوائے ] [غُرُوْرًا : فریبوں کے ]
ز ز
[فَزًّا : (ن) ہوش اڑا دینا۔ کسی کو گھبرا کر اس کی جگہ سے…
Read the full tafseer →اللہ جل شانہ نے مزید فرمایا (وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَ رَجِلِکَ ) کہ تجھ سے جو کچھ ہوسکے اپنی کوشش کرلینا ان کے بہکانے اور ورغلانے کے لیے آواز لگانا ان پر سوار اور پیادے چڑھا کرلے آنا (اور عرب کا محاورہ تھا جب کسی پر پوری قوت کے ساتھ کوئی شخص حملہ آور ہوتا تو کہا جاتا تھا کہ اس نے اپنے سوار اور پیادے لیکر چڑھائی کردی) تفسیر قرطبی میں اول تو یہ معنی لکھا ہے اجمع علیھم کلما تقدر علیھم من مکائدک یعنی جتنے بھی فریب اور مکر تجھ سے ہوسکیں سب کو اختیار کرلینا اور پھر ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جو بھی گھوڑے اللہ کی معصیت میں چلیں اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
ذکر عداوت شیطان با بنی نوع انسان
قال اللہ تعالیٰ : واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وکفی بربک وکیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کافروں کی سرکشی اور عناد اور آنحضرت ﷺ سے ان کی مخالفت اور عداوت کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور شیطان کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ شیطان تمہارا قدیمی دشمن ہے تم اس کے بہکائے میں نہ آنا اور اس کے بہکانے سے ہمارے نبی ﷺ کی مخالفت نہ کرنا شیطان کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کی شبہات ڈالتا ہے تاکہ لوگ اللہ کے حکم سے برگشتہ ہوجائیں۔ آدم (علیہ السلام) کا مفصل قصہ اور اس کی تفسیر سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
60:۔ اللہ نے فرمایا جا تجھے مہلت ہے لیکن تیری اور تیری پیروی کرنے والوں کی جزاء جہنم ہے ” واستفزز من استطعت الخ “ جا انہیں ہر طرح سے گمراہ کرنے کی کوشش کر دیکھ۔ ” بصوتک “ طبلہ سارنگی اور دیگر آلات لہو ولعب۔ مجاھد الغناء والمزامیر واللھو۔ الضحاک۔ صوت المزمار (قرطبی ج 10 ص 288) ۔ ان شیطانی اوزاروں سے ان کو پھسلا لے۔ ” و اجلب علیھم الخ “ اور اپنے پیادوں اور سواروں کیساتھ ان پر حملہ کرنے یعنی انہیں راہ ھق سے گمراہ کرنے کے لیے ہر وہ مکر و فریب استعمال کرلے جو تو کرسکتا ہے۔ فالمعنی اجمع علیھم کل ما تقدر علیہ من مکایدک (قرطبی) ” و شارکھم الخ “ اور ان کے مال و اولاد میں اپنا حصہ مقرر کرا کر انہیں شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ان کی منہ مانگی نشانیوں کے متعلق واضح کیا کہ وہ سخت عذاب میں مبتلا ہو سکتے ہیں ، اللہ نے یاد دلایا کہ وہ سب لوگوں کا احاطہ کرنے والا ہے اور کوئی فرد واحد اس کی پہنچ سے باہر نہیں ہے ، پھر اللہ نے واقعہ معراج کے تذکرہ میں بتایا کہ یہ واقعہ لوگوں کے لیے ذریعہ آزمائش بن گیا اور اس طرح دوزخ کا درخت ملعونہ بھی ایمانداروں اور بےایمانوں کے لیے وجہ امتحان بن گیا فرمایا اس قسم کی نشانیاں ہم محض خوف دلانے کے لیے ظاہر کرتے ہیں مگر یہ لوگ تعصب میں مزید اندھے ہوجاتے ہیں ۔
(ابلیس کا انکار سجدہ اور…
Read the full tafseer →وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۭ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا 64
فز
قال تعالی: وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ [ الإسراء/ 64] ، أي : أزعج، وقال تعالی: فَأَرادَ أَنْ يَسْتَفِزَّهُمْ مِنَ الْأَرْضِ [ الإسراء/ 103] ، أي : يزعجهم، وفَزَّنِي فلان، أي : أزعجني، والْفَزُّ : ولد البقرة، وسمّي بذلک لما تصوّر فيه من الخفّة، كما يسمّى عجلا لما تصوّر فيه من العجلة .
(ز ز ) الا ستفزاز
ہلکا سمجھنا گھبرادینا اور جگہ سے ہٹا دینا قرآن میں ہے : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
ترکیب : ھذا منصوب بارایت والذی لغت لہ و المفعول الثانی محذوف تقدیرہ تفضیلہ۔ لاحتنکن جواب لئن۔ طینًا منصوب مبرع الخافض ای من طین۔ قال الواحدی لاحتنکن اصلہ من احتناک الجرادالزرع وھوان تستاصلہ باحنا کھا ثم استعمل علی الاستیلاء علی شیء و قیل ماخوذ من حنک الدابۃ اواجعل الرسن فی حنکھا والحنک ماتحت الذقن ودمنہ التحنیک الاستفراز والا زعاج والاستخفاف یقال افزہ واستفرہ ای ازعجہ واجلب قال الفراء وابوعبیدہ من الجلبۃ وقال الزجاج الاجلاب الجمع ای اجمع علیھم العساکر وقال ابن السکیت الاجلاب الاستعانۃ ای استعن علیھم لکل باتقدر والامر للتھدید۔
تفسیر : اب ان کی سرکشی کا سبب بیان فرماتا ہے کہ یہ شیطان کا اثر ہے…
Read the full tafseer →وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلاَدِ وَعِدْھُمْ ط وَمَا یَعِدُھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلاَّ غُرُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 64)
(اور گھبرا دے ان میں سے جن پر تیرا بس چلے اپنی آواز (صوتی ہتھکنڈوں) سے، اور دھاوا بول دے ان پر اپنے گھوڑسواروں اور پیادہ دستوں کے ساتھ، مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا اور ان سے جھوٹے وعدے کرتا رہ، اور شیطان ان سے وعدہ نہیں کرتا مگر مکروفرویب کا۔ )
شیطان کے اضلال کی وسعت
اس آیت کریمہ کو دیکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پروردگار خود ابلیس کو وہ تمام راستے دکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
ابلیس نے گستاخی اور بغاوت کی حدیں پھیلانگتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اے رب ! تیری عزت کی قسم میں چند مخلص لوگوں کے علاوہ سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن میرا فرمان بھی سچ اور اٹل ہے کہ میں تجھے اور تیری تابعداری کرنے والوں کو جہنم میں داخل کروں گا (آ : 82 تا 85)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری بارگاہ سے نکل جا۔ تو ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہوا اور تجھ پر قیامت تک پھٹکار برستی رہے گی۔ (الحجر : 34، 35)
رب ذوالجلال نے یہ بھی ارشاد فرمایا۔ اے ابلیس ! تو نکل جا، جو شخص تیری پیروی کرے گا اس کی سزا جہنم ہوگی۔ جس میں سب کو پوری پوری…
Read the full tafseer →استفزاز کا مطلب :
64: وَاسْتَفْزِزْ (اور تو قدم اکھاڑ) نیچے اتار۔ نمبر 2۔ بیوقوف بنانا، پھسلانا۔ الفزّ ۔ خفیف کو کہتے ہیں۔ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ (ان میں سے جن پر تیرا قابو چلے اپنی چیخ و پکار سے) وسوسہ ڈال کر نمبر 2۔ گانے بجانے سے نمبر 3۔ باجے گاجے سے۔ وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ (اور چڑھالایا جمع کر اور بھڑکا انکے خلاف) یہ اَلْجَلَبۃ سے ہے جس کا معنی چیخ اور شور ہے۔ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ (اپنے سوار اور پیادے) یعنی سوار اور پیدل سے۔ الخیل : الخیالۃ۔ گھوڑ سوار۔ الرَّجل اسم جمع ہے راجل کی بمعنی پیدل جیسے الرکب اور الصحب۔
قراءت : رَجْلِک نافع نے سکون جیم سے پڑھا جبکہ حفص نے رَجِلِکَ…
Read the full tafseer →تفسیر 64۔” واستفزز “ ان میں سے جس پر تیرا قابول چلے اور جس پر کوشش کر کے ورغلا سکے۔” من استطعت منھم “ آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ” بصوتک “ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک صوت سے مراد گناہ ہے جو بھی اللہ کی نافرمانی کی دعوت دے وہ ابلیس کی جماعت میں شامل ہے۔ ازہری کا بیان ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کو اپنی طرف بلانا اور اکھاڑ کر اپنی جانب مائل کرلینا ۔ مجاہد کا بیان ہے کہ اس سے مراد ہے گانا بجانا ۔ ” واجلب علیھم بخیلک ورجلک “ اپنے لشکر کو اغواء اور مکر کے تمام ذرائع کو جمع کرلیا ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” اجلبوا وجلبوا اذا صاحوا “ لرزا چیخا۔
مقاتل کا بیان ہے کہ اس کے لیے مدد طلب کی ، اپنے لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
63۔ 65:۔ جب شیطان نے اللہ پاک سے بنی آدم کے بہکانے کی درخواست کی تو اللہ پاک نے اس کی درخواست کو قبول کیا اور جس وقت اسرائیل پہلی دفعہ صور پھونکیں گے اس وقت تک شیطان کو مہلت دی گئی اس کی غرض یہ تھی کہ نفخہ ثانیہ تک مہلت مل جاتی ‘ کیونکہ نفخہ ثانیہ کے بعد پھر کسی کو موت نہیں ہے مگر اللہ پاک نے اس مدت کی مہلت نہیں دی اور شیطان اور شیطان کی پیروی کرنیوالوں کے لیے جہنم کی سزا مقرر کر کے فرما دیا کہ جہاں تک تیرا زور چلے اور جتنا تجھ سے ممکن ہو بنی آدم کو بہکا اور کجرو بنا اور خدا کی نافرمانی کی طرف ان کو بلا پھر فرمایا کہ بنی آدم کے بہکانے کے واسطے چاہے تو اپنے سوار اور پیادوں کو چڑھا لا مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–69
(آیت نمبر (59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
شیطان کے وار سب پر کارگر نہیں ہوتے
قول باری ہے (واستفززمن استطعت منھم بصوتک اور تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھیلا سکتا ہے پھسلا لے) جسے یہ بات کہی جا رہی ہے یعنی شیطان کو یہ دھمکی ہے اور اسے خربدار کیا جا رہا ہے کہ اس کی کارستانیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے نیز یہ کہ وہ اس کی سزا ضرور پا کر رہ یگا اور اس سے ضرور اس کا اتنقا ملیا جائے گا۔ اس کی مثال کا یہ قول ہے ۔ ” تم اپنا پورا زور لگا لو پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارا کیا بنتا ہے۔ “ استفزز کے معنی استزل ، کے ہیں یعنی پھسلا دے۔ محاورہ میں استفزہ اور استنزلہ ہم معنی فعل ہیں۔
قول باری (بصوتک) کی تفسیر میں مجاہد سے مروی ہے کہ یہ غناء اور لہو یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
115۔ ابلیس کا چیلنج حضرت حق جل مجدہ کے حضور :۔
سو اس ملعون نے کہا کہ ” اگر تو نے مجھے مہلت دی تو میں جڑنکال دونگا اس کی سب نسل کی “ اور ان سب کو راہ حق سے پھسلا کر دوزخ میں پہنچا کر چھوڑوں گا سوائے ان میں کے ان تھوڑے سے لوگوں کے جن پر میرا زور نہیں چل سکے گا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ نے خود بھی ارشاد فرمایا ان عبادی لیس لک علیہم سلطان الا من اتبعک من الغاوین (الحجر : 42) کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بہکے بھٹکے ہوئے گمراہوں کے جو تیرے پیچھے چلیں گے اور انہوں نے اپنے کئے کرائے کا بھگتنان بھگتنا اور تیرے ساتھ دوزخ میں داخل ہونا ہے کہ یہی تقاضا ہے عدل وانصاف ومکافات عمل کا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
شیطان، اس کی چالیں اور اس کا دعو ٰی
تشریح : جیسا کہ شیطان کی ابتدا ہوئی اللہ کی نافرمانی سے اور انسان کی ابتدا ہوئی اللہ کی رحمت سے اور یہ قصہ بڑی تفصیل سے سورة بقرہ آیات 30 تا 39، سورة النساء آیات 117 سے 121 الاعراف آیات 11 سے 25، الحجر آیات 26 تا 42 ابراہیم آیت 22 ۔ ان تمام سورتوں میں شیطان اور انسان کی ہمیشہ کی لڑائی کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات میں اچھے اور نیک انسان کی صفات بیان کردی گئی ہیں پھر دہرائے دیتے ہیں۔ جو بھی شخص اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے گا دنیا و آخرت میں بھلائی حاصل کرے گا، مگر جو اس کے علاوہ راستہ اختیار کرے گا تو وہ گویا شیطان کا دوست بن گیا اور وہ شیطان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ف 2 صورت سے مراد شیطان کا لوگوں کو نافرمانی کی طرف دعوت دینا ہے۔ بعض علمائے سلف نے اس سے مراد گانا بجانا بھی لیا ہے۔ (قرطبی) مال میں شیطان کی شرکت یہ ہے کہ حرام کاموں میں صرف کیا جائے اور بتوں یا پیروں، بزرگوں کی نیاز دی جائے اور اولاد میں شرکت یہ ہے کہ اسے گمراہی اور بداخلاقی کی تعلیم دی جائے یا سمجھا جائے کہ فلاں نے بخشا ہے۔ مشرکین عرب اپنی اولاد کے نام عبدالعزی وعبد الشمس وغیرہ رکھتے اور ہمارے زمانہ میں رسول بخش حسین بخش، پیر بخش، غلام جیلانی وغیرہ مشرکانہ نام رکھے جاتے ہیں۔ (وحیدی بتصرف)
Read the full tafseer →(17:64) استفزز۔ امر واحد مذکر حاضر استفزاز (افتعال) مصدر فز مادہ تو گھبرائے۔ فزنی فلان اس نے مجھے پریشان کر کے میری جگہ سے ہٹا دیا۔ یا قرآن مجید میں آیا ہے فاراد ان یستفزہم من الارض (17:103) تو اس نے چاہا کہ انہیں گڑ بڑا کر سرزمین (مصر) میں سے نکال دے پس واستفزز من الستطعت منہم بصوتک اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ ۔
اجلب علیہم۔ امر واحد مذکر حاضر۔ الجلب (نصر۔ ضرب) کے اصل معنی کسی چیز کو ہنکانے اور چلانے کے ہیں۔ اجلاب (باب افعال) سے اس کے معنی اکٹھا کرنے، شور مچانے اور کھینچ لانے کے ہیں اسی سے جلب زر ہے۔ دولت کو کھینچ کر اکٹھا کرنا۔ اجلب علی کسی پر چلا زبردستی اسے آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
طین مٹی۔ کر مت تو نے عزت دی۔ احتکن جڑیں اکھاڑ دوں گا۔ موفور بھرپور، پوری طرح۔ استفزز پھسلا لے، آمادہ کرلے۔ اجلب چڑھا کرلے آ۔ خیل گھوڑے ، سوار۔ رجل پیادے، پاؤں۔ غرور دھوکہ، فریب ۔
تشریح :- آیت نمبر 61 تا 65
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زندگی کی سچائیوں کو کہانیوں اور قصوں کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ عبرت و نصیحت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے واقعہ کے صرف اسی پہلو کو بیان کیا ہے جس کی اس موقع پر ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت آدم اور شیطان کے واقعہ کو سورة نبی اسرائیل کے علاوہ چھ اور بڑی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سورة البقرہ، سورة…
Read the full tafseer →ابلیس کی نافرمانی کا ذکر
اس آیت میں فرمایا کہ جا جو کچھ تجھ سے ہو سکے کرلے یعنی یہ خطاب شیطان سے ہے۔ جو شخص تیری مدد کرے گا اس کو اور تجھ کو پوری سزا ملے گی اور اپنی آواز سے جس کو تو بہکاوے گا اور دل میں برے خیالات پیدا کرے گا، اور جس قدر شہوت انگیز آوازیں ہیں جیسے باجا اور عورت کے زیور کی جنھکار یہ سب شیطانی آواز میں داخل ہیں، اور اپنے سوار اور پیادوں سمیت ان پر دھاوا کر یعنی مکروفریب کر اور انسان کو برائی کی ترغیب دینے والے سب شیطان کے لشکر میں داخل ہیں اور مال واولاد میں ان کا شریک بن جا، مال کی شراکت سے مراد گناہ اور فضول خرچی اور اچھی باتوں صرف کرنے سے روکنا خلاف شریعت مال لینا بھی سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
[49] شیطان کی آواز کیا ہے۔ اس کے متعلق عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ گانے اور مزامیر اور لہو ولعب کی آوازیں یہی شیطان کی آواز ہے جس سے وہ لوگوں کو اللہ کی یاد سے روکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
(ف 3) شیطان کو مہلت دی گئی ، کہ وہ ایک وقت مقررہ تک زندہ رہے ، مگر اس کی زندگی کے یہ معنی نہیں ہیں ، کہ وہ لامحالہ سب کو گمراہ کر دے گا ، بلکہ صاف صاف کہہ دیا گیا ، کہ تم اپنی تمام قوتوں کو برروئے کار لے آؤ ، تم انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر دیکھو ، جو تمہارے اختیار میں ہے ان سے جھوٹے وعدے کرو ، خواہشات نفس پر قبضہ کرو ، دل کی گہرائیوں میں سما جانے کی کوشش کرو ، اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرو ، مگر یاد رکھو ، میرے خاص بندے تیری دسترس سے باہر ہیں ، ان پر تیرا قبضہ نہیں ہو سکتا ، جن کے دلوں میں میری محبت ہے ۔
Read the full tafseer →-64 اور اولاد آدم میں سے جس جس کو تو اپنی آواز اور چیخ و پکار سے اکھاڑ سکے اور اس کو اس کی جگہ سے ہلا سکے اور اکھیڑ سکے تو اکھیڑ دیجیو اور ہلا دیجیو اور ان پر اپنے سوار اور پیادوں کو چڑھا لائیو اور ان کے مال اور ان کی اولاد میں شریک ہو جائیو اور ان سے وعدے کیجیو اور شیطان اولاد آدم (علیہ السلام) سے جو وعدے کرتا ہے وہ وعدے نہیں ہوتے مگر فریب اور دھوکہ ۔ آواز یعنی وسوسہ اور اغوا اکھیڑنا یعنی راہ راست سے ان کا قدم ڈگمگانے اور ہلانے میں کسر نہ کیجیو لشکر چڑھالانا یعنی سب مل کر گمراہ کرنا مال اور اولاد کے ذریعے گمراہ کرنا جھوٹے وعدے کرنا یہ سب امور تہدیدی ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ فحشاء اور گناہوں کی…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی اغوا وسوسہ سے۔
8۔ کہ سب مل کر گمراہ کرنے میں خوب زور لگالیں۔
1۔ یعنی مال و اولاد کو ذریعہ گمراہی بنادینا چناچہ مشاہد ہے۔
Read the full tafseer →ابلیس کے اجازت نامہ کی پوری پوری وضاحت فرمادی گئی تاکہ کوئی ابہام نہ رہ جائے :
81۔ (واستفزز) کی اصلز ز ہے اور یہ مادہ صرف سورة بنی اسرائیل ہی میں استعمال ہوا ہے باقی قرآن کریم میں نہیں ۔ اس سورة میں تین بار اس کا استعمال ہوا ہے ایک زیر نظر آیت 64 میں (آیت) ” وان کادوا لیستفزونک من الارض “۔ 76 آیت میں اور (آیت) ” فارادان یستفزھم “۔ آیت 103 میں ۔ (استفزز) امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر تو گھبرالے ‘ تو پھسلا لے ‘ تو ہلاکت میں ڈال لے ‘ تو ڈرالے اور تو خفیف بنا لے ۔ (صوت) ہر آواز کو کہتے ہیں ۔ جو دو چیزوں کے ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے ۔ (اجلب) ج ل ب سے اکٹھا کر ‘ شور مچا اور کھینچ لا ۔ یہ امر کے صیغے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–69
(2) Secondly, he had said if he was given respite till the day of Qiyamah, he will mislead the entire progeny of 'Adam, except a few of them. That Allah Ta’ ala has elected to answer in the later verses. He said that the Shaitan will have no control over His sincere servants even if he were to rally his entire forces against them and as for the insincere who fall into his trap, they will meet the same fate as his, all consigned to Hell. When this verse (64) mentions the horsemen and footmen of the Shaitanic army, it does not necessarily mean that the Shaitan actually has combat support in…
Read the full tafseer →76. The literal meaning of the Arabic text is: You may sweep away those whom you find superficial and weak minded.
77. Here, Satan has been likened to that robber who assaults a habitation with cavalry and infantry and orders them to rob. The cavalry and the infantry of Satan are those jinns and human beings who are engaged in numerous forms and positions in carrying out his mission.
78. This is a very meaningful sentence which depicts a true and perfect picture of the relationship between Satan and his followers. On the one hand, Satan becomes a partner with the one who follows him in the…
Read the full tafseer →