Al-Israa 17:63

Al-Israa · from ayah 63

17:63

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا ۟قَالَ اذۡهَبۡ فَمَنۡ تَبِعَكَ مِنۡهُمۡ فَاِنَّ جَهَـنَّمَ جَزَآؤُكُمۡ جَزَآءً مَّوۡفُوۡرًا‏

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے (اور وہ) پوری سزا (ہے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "Go, for whoever of them follows you, indeed Hell will be the recompense of you - an ample recompense.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:63

اللہ تعالیٰ نے فرمایا "اچھا تو جا، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں، تجھ سمیت اُن سب کے لیے جہنم ہی بھرپور جزا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے (اور وہ) پوری سزا (ہے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

ارشاد ہوا کہ جا ان میں سے جو بھی تیرا تابعدار ہوجائے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پورا پورا بدلہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے کہا : جا پھر ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا تو جہنم ہی تم سب کی سزا ہوگی، مکمل اور بھرپور سزا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا، دور ہو تو ان میں جو تیری پیروی کرے گا تو بیشک سب کا بدلہ جہنم ہے بھرپور سزا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اﷲ نے فرمایا: جا (تجھے مہلت ہے) پس ان میں سے جو بھی تیری پیروی کرے گا تو بیشک دوزخ (ہی) تم سب کی پوری پوری سزا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا جا، پھر ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا تو بیشک جہنم تمہاری جزا ہے، پوری جزا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جا (تجھے مہلت دی جاتی ہے) پھر اولاد آدم میں سے جو بھی تیرے پیچھے لگے گا تو تیرے سمیت ان سب کے لئے جہنم ہی پورا پورا بدلہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا، جا، جو ان میں سے تیرے پیرو بن جائیں گے تو جہنم تم سب کا پورا پورا بدلہ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ارشاد ہوا کہ جا (اور جو کچھ تجھ سے ہو سکے کر گزر، پر یاد رکھنا کہ) ان میں سے جو بھی کوئی تیرے پیچھے چلا، تو یقینی طور پر جہنم ہی بدلہ ہوگا تم سب کا پورا پورا بدلہ،

— مولانا اسحاق مدنی

ارشاد ہوا چل نکل جو کوئی بھی ان میں سے تیری راہ پر چلے گا سو بیشک تم (سب) کے لئے سزائے جہنم سزا ہے پوری۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے فرمایا : جاؤ (دفع ہوجاؤ !) ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے تو یقیناً تم سب کی سزا جہنم ہوگی وافر سزا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے فرمایا یہاں سے چلے جاؤ، جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے اور وہ پوری سزا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereupon He retorted: "Be gone! Hell shall be the recompense - and a most ample one - of whosoever of them who follows you.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Allah) said, :Go then, for whoever of them follows you, the Hell shall be the recompense of you all, a full recompense.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Allah) said, :Go then, for whoever of them follows you, the Hell shall be the recompense of you all, a full recompense.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah) said: "Go, and whosoever of them follows you, surely, Hell will be the recompense of you (all) an ample recompense.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Go, and whosoever of them followeth thee - lo! hell will be your payment, ample payment.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] said, "Go, for whoever of them follows you, indeed Hell will be the recompense of you - an ample recompense.

— Saheeh International

God said, "Go away. All those who follow you will have hell as ample recompense for their deeds.

— Muhammad Sarwar

He said: Be gone! for whoever of them will follow you, then surely hell is your recompense, a full recompense:

— Muhammad Habib Shakir

Allah said: be thou gone; then who soever of them followeth thee, Hell is your meed, a meed ample.

— Abdul Majid Daryabadi

(Allah) said: "Go thy way; if any of them follow thee, verily Hell will be the recompense of you (all)- an ample recompense.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–65

شیطانی آواز کا بہکاوا ابلیس نے اللہ سے مہلت چاہی، اللہ تعالیٰ نے منظور فرما لی اور ارشاد ہوا کہ وقت معلوم تک مہلت ہے، تیری اور تیرے تابعداروں کی برائیوں کے بدلہ جہنم ہے، جو پوری سزا ہے۔ اپنی آواز سے بہکا سکے بہکا لے یعنی گانے اور تماشوں سے انہیں بہکاتا پھر۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانے والی صدا ہو وہ شیطانی آواز ہے۔ اسی طرح تو اپنے پیادے اور سوار لگ کر جس پر تجھ سے حملہ ہو سکے۔ حملہ کرلے۔ رجل جمع ہے راجل کی جیسے رکب جمع راکب کی اور صحب جمع ہے صاحب کی۔ مطلب یہ ہے کہ جس قدر تجھ سے ہو سکے ان پر اپنا تسلط اور اقتدار جما۔ یہ امر قدری ہے نہ کہ حکم۔ شیطانوں کی یہی خصلت ہے کہ وہ بندگان رب کو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–63

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 75 ”بیخ کنی کر ڈالوں“ ، یعنی ان کے قدم سلامتی کی راہ سے اکھاڑ پھینکوں۔”احتناک“ کے اصل معنی کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے ہیں۔ چونکہ انسان کا اصل مقام خلافت الہی ہے جس کا تقاضا اطاعت میں ثابت قدم رہنا ہے، اس لیے اس مقام سے اس کا ہٹ جانا بالکل ایسا ہے جیسے کسی درخت کا بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جانا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–63

معارف و مسائل لَاَحْتَنِكَنَّ احتناک کے معنی ہیں کسی چیز کا استیصال اور فنا کردینا یا پوری طرح اس پر غالب آنا (قرطبی) وَاسْتَفْزِزْ استفزاز کے اصلی معنی قطع کرنے کے ہیں مراد اس جگہ حق سے قطع کردینا ہے بِصَوْتِكَ صوت بمعنے آواز معروف ہے اور شیطان کی آواز کیا ہے اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ گانے اور مزا میرا اور لہو و لعب کی آوازیں یہی شیطان کی آواز ہے جس سے وہ لوگوں کو حق سے قطع کرتا ہے (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ مزامیر موسیقی اور گانا بجانا حرام ہے (قرطبی) ابلیس نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ نہ کرنے کے وقت دو باتیں کہی تھیں اول یہ کہ آدم ؑ مٹی سے پیدا کئے گئے اور میں آگ کی مخلوق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاۗؤُكُمْ جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا۔ یعنی ابلیس نے خدا سے قیامت تک کے لیے ذریت آدم کو ورغلانے کی جو مہلت مانگی تھی خدا نے اس کو وہ مہلت دے دی تھی کہ جا جو کچھ تجھے کرنا ہے کر، تیرا اور تیری پیروی کرنے والوں کا پورا پورا بدلہ چکا دینے کے لیے جہنم کافی ہے۔ یعنی تجھ کو یہ مہلت دینے سے کسی فرصت کے ضائع ہونے کا اندیشہ نہیں ہے کہ تمہاری سزا میں کوئی کسر رہ جائے گی اس لیے کہ جہنم ایسی چیز ہے کہ وہ ایک ہی ساتھ ساری کسر پوری کردے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 62–63

62۔ 1 یعنی اس پر غلبہ حاصل کرلوں گا اور اسے جس طرح چاہوں گا، گمراہ کرلوں گا۔ البتہ تھوڑے سے لوگ میرے داؤ سے بچ جائیں گے۔ آدم ؑ و ابلیس کا یہ قصہ اس سے قبل سورة بقرہ، اعراف اور حجر میں گزر چکا ہے۔ یہاں چوتھی مرتبہ اسے بیان کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں سورة کہف طٰہٰ اور سورة ص میں بھی اس کا ذکر آئے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–63

34: یعنی انہیں اس طرح اپنے قابو میں کرلوں گا جیسے گھوڑے وغیرہ کو جبڑوں میں لگام دے کر قابو میں کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال……(71 : 32) ” اللہ نے فرمایا ، اچھا تو جا ، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں تجھ سمیت ان کے لئے جہنم ہی بھرپور جزاء ہے “۔ جائو جو کرنا چاہتے ہو کرو ، تمہیں اجازت ہے جس قدر لوگوں کو گمراہ کرسکتے ہو کرو ، اس نے ان کو بھی عقل و ارادے کا ہتھیار دے دیا ہے۔ انکو بھی یہ قوت و اختیار حاصل ہے کہ وہ تیرے مطیع فرمان ہوجائیں یا تم سے اعراض کریں۔ فمن تبعک (71 : 32) ” ان میں سے جو تیری پیروی کرے گا “۔ یعنی اپنی ذات کے اندر گمراہی کی استعداد کو زیادہ کرتے ہوئے اور ہدایت کی استعداد کو کمزور کرتے ہوئے ، اللہ کی پکار سے اعراض کرتے ہوئے اور شیطان کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ، اس کائنات میں موجود اللہ کی تکوینی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی جا ! جتنا زور لگا سکتا ہے لگا لے، یہاں بھی تیرے اور تیرے ساتھیوں کے واسطے جیل خانہ تیار ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 61–63

قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا حضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع 4 ‘ سورة الاعراف رکوع 2 اور سورة الحجر رکوع 3 میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–63

78 قصہ آدم و ابلیس پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر 30 تا 39، سورة انعام آیت نمبر 11 تا 25، سورة الحجر آیت نمبر 26 تا 42 میں گذر چکا ہے۔ ان آیات کے حواشی بھی ملحوظ رکھے جائیں۔ 79 ابلیس کا آدم پر قابو پانے کا دعوی :۔ احتنک الفرس بمعنی گھوڑے کے منہ میں رسی یا لگام دینا اور المحنک اس آدمی کو کہتے ہیں جسے زمانہ نے تجربہ کار بنادیا ہو (منجد) گویا احتنک کے معنی کسی پر عقل اور تجربہ سے قابو پانا ہے اور شیطان کا دعویٰ یہ تھا کہ آدم اچھی طرح میرا دیکھا بھالا ہے اور میں اس پر اور اس کی اولاد پر پوری طرح قابو پاسکتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

94۔ (تو چاہیے کہ اس سزا کو سن کر اب تو اہل باطل اپنے دلوں میں ڈریں) (آیت) ” جزآؤ کم “۔ کم کے صیغہ جمع میں شیطان خود اور اس کے سارے پیرو آگئے۔ اے جزاءک وجزاء ھم (روح) فاذھب۔ ذھاب سے یہاں مراد پیروں سے جانا (” آنے “ کے مقابل) نہیں۔ بلکہ محاورہ میں مراد یہ ہے کہ جا، جو کچھ تیرے بس میں ہے کہ دیکھ۔ وھذا لیس من الذھاب الذی ھو نقیض المجیء وانما معناہ امضی الشانک الذی اخترتہ والمقصود التخلیۃ وتفویض الامر الیہ (کبیر) لیس المراد بہ حقیقۃ الامر بالذھاب ضد المجیء بل المراد تخلیۃ، وما سولتہ نفسہ اھانۃ لہ کماتقول لمن یخالفک افعل ما ترید (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–70

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاۗؤُكُمْ جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا : اللہ نے نے فرمایا جا اور ان میں سے جو بھی تیرے پیچھے چلے گا ‘ جہنم تم سب کی کامل سزا ہوگی۔ یعنی جا اور جو تیرا دل چاہے کر یہ اللہ کی طرف سے دھتکار اور نکل جانے کا حکم تھا اور نفس کے کہے پر چلنے کی خودمختاری تھی ‘ موفورا بمعنی وافر ہے یعنی مکمل پوری پوری عرب بولتے ہیں وَفِّرْ لِصَاحِبِکَ عِرْضَہٗاپنے ساتھی کی پوری پوری عزت کر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا یہ بات کان کھول کر سن لے جو ان میں سے تیرے طریقہ پر چلے گا تو تم سب کی پوری سزا جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ۔۔ : شیطان کی درخواست قبول ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ نافرمان کی دعا بھی قبول کرلیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ دعا کی قبولیت اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی علامت نہیں، بلکہ بعض اوقات وہ ناراضگی کی وجہ سے دعا قبول کرلیتا ہے، مثلاً حرام کمائی اور عشق و بدکاری میں کامیابی کی دعا قبول ہونا رضائے الٰہی کی دلیل نہیں، بلکہ اس کے عذاب کا پیش خیمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 63 قولہ تعالیٰ : قول اذھب یہ امر برائے اہانت (و حقارت) ہے، یعنی تو پوری کوشش کرلے تحقیق ہم تجھے دیکھ لیں گے۔ فمن تبعک اولاد آدم میں سے جس نے تیری اطاعت وپیروی کی۔ فان جھنم جزآؤکم جزآءً موفورًا تو بیشک جہنم تم سب کی پوری اور وافر سزا ہے۔ یہ معنی حضرت مجاہد (رح) وغیرہ سے منقول ہے۔ اور یہ مصدر ہونے کی بناء پر منصوب ہے، کہا جاتا ہے : وفرتہ أفرہ وفرا (میں نے اسے پورا کردیا) ، اور قفر المال بنفسہ یفروفورا فھو وافر (مال خود بخود پورا ہوگیا) ، پس یہ لازم بھی ہے اور متعدی بھی

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–65

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت عطا فرمائی تھی اور اس نے کہا میں آگ میں سے ہوں اور یہ مٹی میں سے ہیں پس گناہوں کا آغاز تکبر سے ہوا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس نے کہا آد م (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور مٹی سے کمزور پیدا کیا گیا اور میں آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے (پھر کہنے لگا) (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ یعنی میں اس کی اولاد کو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اور اس کا گمان ان پر سچا نکلا۔ 3:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : (اللہ نے) کہا ] [اذْهَبْ : دفع ہوجا (تو مہلت دیا ہوا ہے)] [فَمَنْ : پس جو ] [تَبِعَكَ : پیروی کرے گا تیری ] [مِنْهُمْ : ان میں سے ] [فَان : تو یقینا ] [جَهَنَّمَ : جہنم ] [جَزَاۗؤُكُمْ : تم لوگوں کا بدلہ ہے ] [جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا : مکمل بدلہ ہوتے ہوئے ] ور [وَفْرًا : (ض) ] زیادہ کرنا۔ پورا کرنا۔ مَوْفُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ پورا کیا ہوا۔ مکمل کیا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 63

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–63

حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم سننے پر ابلیس کا جواب دینا کیا میں اسے سجدہ کروں جو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ؟ پھر بنی آدم کو بہکانے کا عزم ظاہر کرنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جن پر تیرا قابو چل سکے ان پر قابو کرلینا اللہ تعالیٰ نے جنات کو انسان سے پہلے پیدا فرمایا تھا جنات کی تخلیق آگ سے ہوئی تھی اور آدم کو (جو سارے انسانوں کے باپ ہیں) مٹی سے پیدا فرمایا ابلیس جنات میں سے تھا یہ عالم بالا میں فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور عبادت الٰہی اس کا شغل تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے آدم (علیہ السلام) میں روح ڈالنے کے بعد تمام فرشتوں کو اور ابلیس کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں (یہ سجدہ تعظیمی تھا جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–65

ذکر عداوت شیطان با بنی نوع انسان قال اللہ تعالیٰ : واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وکفی بربک وکیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کافروں کی سرکشی اور عناد اور آنحضرت ﷺ سے ان کی مخالفت اور عداوت کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور شیطان کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ شیطان تمہارا قدیمی دشمن ہے تم اس کے بہکائے میں نہ آنا اور اس کے بہکانے سے ہمارے نبی ﷺ کی مخالفت نہ کرنا شیطان کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کی شبہات ڈالتا ہے تاکہ لوگ اللہ کے حکم سے برگشتہ ہوجائیں۔ آدم (علیہ السلام) کا مفصل قصہ اور اس کی تفسیر سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 63–64

60:۔ اللہ نے فرمایا جا تجھے مہلت ہے لیکن تیری اور تیری پیروی کرنے والوں کی جزاء جہنم ہے ” واستفزز من استطعت الخ “ جا انہیں ہر طرح سے گمراہ کرنے کی کوشش کر دیکھ۔ ” بصوتک “ طبلہ سارنگی اور دیگر آلات لہو ولعب۔ مجاھد الغناء والمزامیر واللھو۔ الضحاک۔ صوت المزمار (قرطبی ج 10 ص 288) ۔ ان شیطانی اوزاروں سے ان کو پھسلا لے۔ ” و اجلب علیھم الخ “ اور اپنے پیادوں اور سواروں کیساتھ ان پر حملہ کرنے یعنی انہیں راہ ھق سے گمراہ کرنے کے لیے ہر وہ مکر و فریب استعمال کرلے جو تو کرسکتا ہے۔ فالمعنی اجمع علیھم کل ما تقدر علیہ من مکایدک (قرطبی) ” و شارکھم الخ “ اور ان کے مال و اولاد میں اپنا حصہ مقرر کرا کر انہیں شرک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–65

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ان کی منہ مانگی نشانیوں کے متعلق واضح کیا کہ وہ سخت عذاب میں مبتلا ہو سکتے ہیں ، اللہ نے یاد دلایا کہ وہ سب لوگوں کا احاطہ کرنے والا ہے اور کوئی فرد واحد اس کی پہنچ سے باہر نہیں ہے ، پھر اللہ نے واقعہ معراج کے تذکرہ میں بتایا کہ یہ واقعہ لوگوں کے لیے ذریعہ آزمائش بن گیا اور اس طرح دوزخ کا درخت ملعونہ بھی ایمانداروں اور بےایمانوں کے لیے وجہ امتحان بن گیا فرمایا اس قسم کی نشانیاں ہم محض خوف دلانے کے لیے ظاہر کرتے ہیں مگر یہ لوگ تعصب میں مزید اندھے ہوجاتے ہیں ۔ (ابلیس کا انکار سجدہ اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاۗؤُكُمْ جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا 63؀ ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–65

ترکیب : ھذا منصوب بارایت والذی لغت لہ و المفعول الثانی محذوف تقدیرہ تفضیلہ۔ لاحتنکن جواب لئن۔ طینًا منصوب مبرع الخافض ای من طین۔ قال الواحدی لاحتنکن اصلہ من احتناک الجرادالزرع وھوان تستاصلہ باحنا کھا ثم استعمل علی الاستیلاء علی شیء و قیل ماخوذ من حنک الدابۃ اواجعل الرسن فی حنکھا والحنک ماتحت الذقن ودمنہ التحنیک الاستفراز والا زعاج والاستخفاف یقال افزہ واستفرہ ای ازعجہ واجلب قال الفراء وابوعبیدہ من الجلبۃ وقال الزجاج الاجلاب الجمع ای اجمع علیھم العساکر وقال ابن السکیت الاجلاب الاستعانۃ ای استعن علیھم لکل باتقدر والامر للتھدید۔ تفسیر : اب ان کی سرکشی کا سبب بیان فرماتا ہے کہ یہ شیطان کا اثر ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ اذْھَبْ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ فَاِنَّ جَھَنَّمَ جَزَآؤْکُمْ جَزَآئً مَّوْفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 63) (فرمایا جا، چلا جا (جو مرضی ہو کر) جو ان میں سے تیرے پیرو بن جائیں گے تو جہنم تم سب کا پورا پورا بدلہ ہے۔ ) بارگاہِ خداوندی سے ذریت آدم کو ورغلانے کی جو مہلت ابلیس نے مانگی تھی، اسے دے دی گئی۔ اور ایک طرح سے کھلی چھوٹ دے دی گئی کہ انسانوں کو بہکانے کے لیے تو جو کرنا چاہتا ہے، کر گزر، تیرے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ البتہ ایک بات یاد رکھ کہ جو لوگ تیری پیروی کریں گے انھیں بھی اور تمہیں بھی جہنم کی ایسی سزا دی جائے گی کہ تمہاری زندگی بھر کی کارگزاریوں کے بدلے کے لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–65

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ابلیس نے گستاخی اور بغاوت کی حدیں پھیلانگتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اے رب ! تیری عزت کی قسم میں چند مخلص لوگوں کے علاوہ سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔ رب ذوالجلال نے ارشاد فرمایا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن میرا فرمان بھی سچ اور اٹل ہے کہ میں تجھے اور تیری تابعداری کرنے والوں کو جہنم میں داخل کروں گا (آ : 82 تا 85) اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری بارگاہ سے نکل جا۔ تو ہمیشہ کے لیے راندہ درگاہ ہوا اور تجھ پر قیامت تک پھٹکار برستی رہے گی۔ (الحجر : 34، 35) رب ذوالجلال نے یہ بھی ارشاد فرمایا۔ اے ابلیس ! تو نکل جا، جو شخص تیری پیروی کرے گا اس کی سزا جہنم ہوگی۔ جس میں سب کو پوری پوری…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

63: قَالَ اذْھَبْ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو جا) یہاں اِذْھَبْ اس ذِھَاب سے نہیں جو المجیٔ (آمد) کی ضد ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ بطور ذلت و رسوائی فرمایا جا جو تیرا دل چاہے کر ( تو خود مختار ہے) پھر اس کے بعد اس کے غلط چنائو کا جزو ذکر کیا پس فرمایا۔ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ فَاِنَّ جَھَنَّمَ جَزَآ ؤُکُمْ (پس جو شخص ان میں سے تیری اتباع کریگا تو جہنم تم سب کی سزا ہوگی) تقدیر عبارت یہ ہے فَاِنَّ جَہَنَّمَ جَزَاؤ ھُمْ وَجَزَاؤُکَ پھر مخاطب کو غائب پر ترجیح دیتے ہوئے فرمایا جَزَاؤُ کُمْ جَزَآئً مَّوْفُوْرًا ( کامل سزا) یہ تجازون محذوف کا مفعول ہونے کی بنا پر منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

63۔” قال “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” اذھب فمن تبعک منھم فان جھنم جزاء کم “ تمہارا بدلہ اور تمہاری اتباع کرنے والوں کا یہی بدلہ ہوگا ۔ ” جزاء موفورا ً “ مکمل بدلہ ، جیسے کہا جاتا ہے ’ ’ وفرتہ او فرہ و فراً “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–65

63۔ 65:۔ جب شیطان نے اللہ پاک سے بنی آدم کے بہکانے کی درخواست کی تو اللہ پاک نے اس کی درخواست کو قبول کیا اور جس وقت اسرائیل پہلی دفعہ صور پھونکیں گے اس وقت تک شیطان کو مہلت دی گئی اس کی غرض یہ تھی کہ نفخہ ثانیہ تک مہلت مل جاتی ‘ کیونکہ نفخہ ثانیہ کے بعد پھر کسی کو موت نہیں ہے مگر اللہ پاک نے اس مدت کی مہلت نہیں دی اور شیطان اور شیطان کی پیروی کرنیوالوں کے لیے جہنم کی سزا مقرر کر کے فرما دیا کہ جہاں تک تیرا زور چلے اور جتنا تجھ سے ممکن ہو بنی آدم کو بہکا اور کجرو بنا اور خدا کی نافرمانی کی طرف ان کو بلا پھر فرمایا کہ بنی آدم کے بہکانے کے واسطے چاہے تو اپنے سوار اور پیادوں کو چڑھا لا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–69

(آیت نمبر (59 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–63

اس رئویا سے کیا مراد ہے۔ قول باری ہے (وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے اس کو ہم نے ان لوگوں کے لئے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا) حضرت ابن عباس سے سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق ، نیز قتادہ حسن، ابراہیم، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ رئویا بیت المقدس تک رات کے سفر یعنی سفر معراج کے علاوہ ہے۔ جب آپ نے مشرکین سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس رئویا سے مراد ہے کہ آپ کو یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ بہت جلد مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوں گے۔ شجرئہ ملعونہ کیا ہے قول باری ہے (والشجرۃ الملعونتہ فی القران۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–65

115۔ ابلیس کا چیلنج حضرت حق جل مجدہ کے حضور :۔ سو اس ملعون نے کہا کہ ” اگر تو نے مجھے مہلت دی تو میں جڑنکال دونگا اس کی سب نسل کی “ اور ان سب کو راہ حق سے پھسلا کر دوزخ میں پہنچا کر چھوڑوں گا سوائے ان میں کے ان تھوڑے سے لوگوں کے جن پر میرا زور نہیں چل سکے گا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ نے خود بھی ارشاد فرمایا ان عبادی لیس لک علیہم سلطان الا من اتبعک من الغاوین (الحجر : 42) کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بہکے بھٹکے ہوئے گمراہوں کے جو تیرے پیچھے چلیں گے اور انہوں نے اپنے کئے کرائے کا بھگتنان بھگتنا اور تیرے ساتھ دوزخ میں داخل ہونا ہے کہ یہی تقاضا ہے عدل وانصاف ومکافات عمل کا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–65

شیطان، اس کی چالیں اور اس کا دعو ٰی تشریح : جیسا کہ شیطان کی ابتدا ہوئی اللہ کی نافرمانی سے اور انسان کی ابتدا ہوئی اللہ کی رحمت سے اور یہ قصہ بڑی تفصیل سے سورة بقرہ آیات 30 تا 39، سورة النساء آیات 117 سے 121 الاعراف آیات 11 سے 25، الحجر آیات 26 تا 42 ابراہیم آیت 22 ۔ ان تمام سورتوں میں شیطان اور انسان کی ہمیشہ کی لڑائی کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات میں اچھے اور نیک انسان کی صفات بیان کردی گئی ہیں پھر دہرائے دیتے ہیں۔ جو بھی شخص اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے گا دنیا و آخرت میں بھلائی حاصل کرے گا، مگر جو اس کے علاوہ راستہ اختیار کرے گا تو وہ گویا شیطان کا دوست بن گیا اور وہ شیطان کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 63–64

ف 2 صورت سے مراد شیطان کا لوگوں کو نافرمانی کی طرف دعوت دینا ہے۔ بعض علمائے سلف نے اس سے مراد گانا بجانا بھی لیا ہے۔ (قرطبی) مال میں شیطان کی شرکت یہ ہے کہ حرام کاموں میں صرف کیا جائے اور بتوں یا پیروں، بزرگوں کی نیاز دی جائے اور اولاد میں شرکت یہ ہے کہ اسے گمراہی اور بداخلاقی کی تعلیم دی جائے یا سمجھا جائے کہ فلاں نے بخشا ہے۔ مشرکین عرب اپنی اولاد کے نام عبدالعزی وعبد الشمس وغیرہ رکھتے اور ہمارے زمانہ میں رسول بخش حسین بخش، پیر بخش، غلام جیلانی وغیرہ مشرکانہ نام رکھے جاتے ہیں۔ (وحیدی بتصرف)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:63) اذھب۔ امر، واحد مذکر حاضر۔ تو جا۔ چلا جا۔ ای اذھب وافعل ما ترید۔ جا چلا جا۔ اور کر دیکھ جو تو چاہتا ہے۔ جزاء موفورا۔ موصوف صفت، پوری پوری سزا۔ موفورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ وفر سے بمعنی بہت ہونا۔ زیادہ ہونا۔ پورا ہونا۔ جزاء بوجہ مصدر کے منصوب ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–65

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65 طین مٹی۔ کر مت تو نے عزت دی۔ احتکن جڑیں اکھاڑ دوں گا۔ موفور بھرپور، پوری طرح۔ استفزز پھسلا لے، آمادہ کرلے۔ اجلب چڑھا کرلے آ۔ خیل گھوڑے ، سوار۔ رجل پیادے، پاؤں۔ غرور دھوکہ، فریب ۔ تشریح :- آیت نمبر 61 تا 65 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زندگی کی سچائیوں کو کہانیوں اور قصوں کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ عبرت و نصیحت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے واقعہ کے صرف اسی پہلو کو بیان کیا ہے جس کی اس موقع پر ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت آدم اور شیطان کے واقعہ کو سورة نبی اسرائیل کے علاوہ چھ اور بڑی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سورة البقرہ، سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 60–63

معراج کا ذکر شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جس رات آنحضرت ﷺ کو معراج ہوئی۔ اس کی صبح کو آپ نے لوگوں سے معراج کا حال بیان کیا تاکہ لوگ ان کو سچا نبی جان کر ایمان لاویں۔ مشرکوں نے بیت المقدس کے پتے آپ سے پوچھے اور کئی قافلے عرب کے شام کو گئے ہوئے تھے ان قافلوں کا حال بھی پوچھا۔ آپ نے سب نشانیاں اور قافلوں کا سب حال بیان کردیا، مگر مشرک لوگ آپ کے جھٹلانے سے باز نہیں آئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ معراج اور دوزخ میں زقوم کا درخت لوگوں کے آزمانے کی نشانیاں ہیں۔ بہت لوگ غیب کی باتوں پر ایمان لا کر نجات پاویں گے اور بہت لوگ شیطان کی طرح اللہ کی حکمت میں اپنا وہم و قیاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–63

[46] اشارہ ہے معراج کی طرف۔ یہاں لفظ رؤیا خواب کے معنی میں نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں ہے۔ [47] یعنی کسی نے تصدیق اور کسی نے تکذیب کی۔ [48] یعنی زقوم کا درخت جس کے متعلق قرآن میں خبر دی گئی ہے کہ وہ دوزخ میں پیدا ہوگا اور دوزخیوں کو اسے کھانا پڑے گا۔ اس پر لعنت کرنے سے مراد اس کا اللہ کی رحمت سے دور ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–66

(ف 3) شیطان کو مہلت دی گئی ، کہ وہ ایک وقت مقررہ تک زندہ رہے ، مگر اس کی زندگی کے یہ معنی نہیں ہیں ، کہ وہ لامحالہ سب کو گمراہ کر دے گا ، بلکہ صاف صاف کہہ دیا گیا ، کہ تم اپنی تمام قوتوں کو برروئے کار لے آؤ ، تم انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر دیکھو ، جو تمہارے اختیار میں ہے ان سے جھوٹے وعدے کرو ، خواہشات نفس پر قبضہ کرو ، دل کی گہرائیوں میں سما جانے کی کوشش کرو ، اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرو ، مگر یاد رکھو ، میرے خاص بندے تیری دسترس سے باہر ہیں ، ان پر تیرا قبضہ نہیں ہو سکتا ، جن کے دلوں میں میری محبت ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-63 ارشاد ہوا جاتو جو کرنا چاہے وہ کر پھر اولاد آدم میں سے جو شخص تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی سزا جہنم ہے جو پوری سزا ہے۔ یعنی جو ہو سکے وہ کرلے ہم نے تیری اور تیرے متبعین کی سزا جہنم رکھی ہے جو پوری اور ہمیشہ کی سزا ہے۔ 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قادر مطلق نے جو سوانگ رچایا تھا ضروری تھا کہ ان کو اجازت دی جائے : 80۔ خیر وشر دونوں میں سے ایک کی موت کا نتیجہ کیا ہے ؟ یہی کہ انسان زندہ نہ رہے یا یہ کہ انسان انسان نہ رہے اگر انسان موجود ہو تو خیر وشر دونوں کا رہنا لازم وضروری قرار پاتا ہے ، دونوں طرح کی طاقتوں کے دنگل کا مقام کیا ہے ؟ انسان ! یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم صادر ہوتا ہے ” اچھا تو جا ‘ ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں تجھ سمیت ان سب کے لئے جہنم ہی بھرپور جزاء ہے ۔ “ وہ تم کو دی جائے گی ، اپنے ہی بچے کو روٹی آپ نے دی اور آپ نے ہی اس سے مانگنی شروع کردی لیکن کتنے بچے ہیں جو دے دیں گے اور کتنے دینے سے انکار کردیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–63

Commentary The word: لَأَحْتَنِكَنَّ (subdue) in verse 62 is from: اِحتِنَاک (ihtinak) which means to exterminate or uproot something, or to subdue and overpower it completely. (Qurtubi) The word: وَاسْتَفْزِزْ (and entice) in verse 64 is from اِستِفزَاز (istifzaz) which basically means to cut off or to tear away from and at this place it means to tear away from the path of truth. This is followed by صَوتک (with your voice). Sawt صَوت the Arabic word for voice is well known. What is the voice of Shaitan? Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ says: The voices of songs, musical instruments and the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–63

75. That is, I will uproot them from the high position of divine vicegerency which demands steadfastness in obedience. Their removal from that high position is just like the tearing of a tree from its roots.

Read the full tafseer →