Al-Israa 17:62

Al-Israa · from ayah 62

17:62

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ ؗ— لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا ۟قَالَ اَرَءَيۡتَكَ هٰذَا الَّذِىۡ كَرَّمۡتَ عَلَىَّ لَئِنۡ اَخَّرۡتَنِ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَاَحۡتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِيۡلًا

(اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Iblees] said, "Do You see this one whom You have honored above me? If You delay me until the Day of Resurrection, I will surely destroy his descendants, except for a few."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 7 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:62

پھر وہ بولا "دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اچھا دیکھ لے اسے تو نے مجھ پر بزرگی تو دی ہے، لیکن اگر مجھے بھی قیامت تک تو نے ڈھیل دی تو میں اس کی اوﻻد کو بجز بہت تھوڑے لوگوں کے، اپنے بس میں کرلوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہنے لگا : بھلا بتاؤ یہ ہے وہ مخلوق جسے تو نے میرے مقابلے میں عزت بخشی ہے۔ اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت دی تو میں اس کی اولاد میں سے تھوڑے سے لوگوں کو چھوڑ کر باقی سب کو جبڑوں میں لگام ڈالوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولا دیکھ تو جو یہ تو نے مجھ سے معزز رکھا اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو ضرور میں اس کی اولاد کو پیس ڈالوں گا مگر تھوڑا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اور شیطان یہ بھی) کہنے لگا: مجھے بتا تو سہی کہ یہ وہ شخص ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے (آخر اس کی کیا وجہ ہے؟) اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں اس کی اولاد کو سوائے چند افراد کے (اپنے قبضہ میں لے کر) جڑ سے اکھاڑ دوں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا کیا تو نے دیکھا، یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یقینا اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی اولاد کو ہر صورت جڑ سے اکھاڑ دوں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر کہنے لگا : بھلا دیکھو ! یہ شخص جسے تو نے مجھ پر بزرگی دی ہے۔ اگر تو مجھے روز قیامت تک مہلت دے دے تو میں چند لوگوں کے سوا اس کی تمام تر اولاد کی بیخ کنی کر دوں گا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا ذرا دیکھ تو اس کو جس کو تو نے مجھ پر عزت بخشی ہے اگر تو نے مجھے روز قیامت تک مہلت دے دی تو میں، ایک قدرے قلیل کے سوا، اس کی ساری ذریت کو چٹ کرجاؤں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مزید کہا کہ بھلا دیکھ تو سہی، یہ جس کو تو نے مجھ پر فوقیت دی ہے اگر تو نے مجھے مہلت دے دی قیامت کے دن تک، تو میں جڑ نکال کر رکھ دوں گا اس کی سب نسل کی، بجز تھوڑے سے لوگوں کے

— مولانا اسحاق مدنی

(اور) وہ بولا بھلا دیکھ تو یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فوقیت دے رکھی ہے اگر تو نے مجھے مہلت دے دی روز قیامت تک تو میں اس کی (ساری) اولاد کو اپنے بس میں کرلوں گا بجز ایک قدرے قلیل (گروہ کے)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے (مزید) کہا کہ ذرا دیکھ تو اس کو جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھے مہلت دے دے قیامت کے دن تک تو میں اس کی پوری نسل کو قابو میں کر کے چھوڑوں گا سوائے بہت تھوڑے سے لوگوں کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اور طنزیہ) کہنے لگادیکھو تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک کی مہلت دے تو میں کچھ لوگوں کے سوا اس کی اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا

— محترمہ رفعت اعجاز

He then continued: "Look! This is he whom You have exalted above me! If you will grant me respite till the Day of Resurrection I shall uproot the whole of his progeny except only a few."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Iblis) added, :Tell me, this one whom You have honored more than me, if You give me respite till the Doomsday, I will subdue his progeny, except a few of them.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Iblis) added, :Tell me, this one whom You have honored more than me, if You give me respite till the Doomsday, I will subdue his progeny, except a few of them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "See this one whom You have honored above me, if You give me respite to the Day of Resurrection, I will surely, seize and mislead his offspring, all but a few!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Seest Thou this (creature) whom Thou hast honoured above me, if Thou give me grace until the Day of Resurrection I verily will seize his seed, save but a few.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Iblees] said, "Do You see this one whom You have honored above me? If You delay me until the Day of Resurrection, I will surely destroy his descendants, except for a few."

— Saheeh International

He continued, "Remember, this one whom you have honored more than me I shall bring him and most of his offspring under my sway if you will give me respite until the Day of Judgment."

— Muhammad Sarwar

He said: Tell me, is this he whom Thou hast honored above me? If Thou shouldst respite me to the day of resurrection, I will most certainly cause his progeny to perish except a few.

— Muhammad Habib Shakir

lblis said; bethinkest Thou: This one whom Thou hast honoured above me- if Thou deferrest me till the Day of Judgment, shall surely seize his progeny save a few.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "Seest Thou? this is the one whom Thou hast honoured above me! If Thou wilt but respite me to the Day of Judgment, I will surely bring his descendants under my sway - all but a few!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 61–62

ابلیس کی قدیمی دشمنی ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو اگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ باپ حضرت آدم ؑ کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کردیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 62–63

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 75 ”بیخ کنی کر ڈالوں“ ، یعنی ان کے قدم سلامتی کی راہ سے اکھاڑ پھینکوں۔”احتناک“ کے اصل معنی کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے ہیں۔ چونکہ انسان کا اصل مقام خلافت الہی ہے جس کا تقاضا اطاعت میں ثابت قدم رہنا ہے، اس لیے اس مقام سے اس کا ہٹ جانا بالکل ایسا ہے جیسے کسی درخت کا بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جانا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–63

معارف و مسائل لَاَحْتَنِكَنَّ احتناک کے معنی ہیں کسی چیز کا استیصال اور فنا کردینا یا پوری طرح اس پر غالب آنا (قرطبی) وَاسْتَفْزِزْ استفزاز کے اصلی معنی قطع کرنے کے ہیں مراد اس جگہ حق سے قطع کردینا ہے بِصَوْتِكَ صوت بمعنے آواز معروف ہے اور شیطان کی آواز کیا ہے اس کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ گانے اور مزا میرا اور لہو و لعب کی آوازیں یہی شیطان کی آواز ہے جس سے وہ لوگوں کو حق سے قطع کرتا ہے (قرطبی) اس سے معلوم ہوا کہ مزامیر موسیقی اور گانا بجانا حرام ہے (قرطبی) ابلیس نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ نہ کرنے کے وقت دو باتیں کہی تھیں اول یہ کہ آدم ؑ مٹی سے پیدا کئے گئے اور میں آگ کی مخلوق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا۔ " ارء یتک " کا اسلوب خطاب طنز و تحقیر کے لیے بھی آتا ہے اور احتنک الجراد الارض، کے معنی ہوں گے کہ ٹڈی دل نے زمین کی ساری روئیدگی چٹ کرلی۔ قصہ آدم و ابلیس کا سبق : یعنی آدم و ابلیس کی یہ دشمنی ختم نہیں ہوگئی بلکہ یہ قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔ اس نے جوش حسد میں خدا سے یہ مہلت مانگی تھی کہ اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دے دی تو میں آدم کی ساری ذریت کو چٹ کرجاؤں گا اور یہ ثابت کردوں گا کہ آدم اور اس کی ذریت میرے اور میری ذریت کے مقابل میں کسی شرف کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 62–63

62۔ 1 یعنی اس پر غلبہ حاصل کرلوں گا اور اسے جس طرح چاہوں گا، گمراہ کرلوں گا۔ البتہ تھوڑے سے لوگ میرے داؤ سے بچ جائیں گے۔ آدم ؑ و ابلیس کا یہ قصہ اس سے قبل سورة بقرہ، اعراف اور حجر میں گزر چکا ہے۔ یہاں چوتھی مرتبہ اسے بیان کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں سورة کہف طٰہٰ اور سورة ص میں بھی اس کا ذکر آئے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 62–63

34: یعنی انہیں اس طرح اپنے قابو میں کرلوں گا جیسے گھوڑے وغیرہ کو جبڑوں میں لگام دے کر قابو میں کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال ارائیتک ھذا الذی کر مت علی (71 : 26) ” ذرا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے اسے مجھ پر فضیلت دی “۔ اس پر نظر تو ڈالو ! کیا اس کو تو نے مجھ سے برتر قرار دیا ، اور لقد کرمنا بنی ادم کہا۔ لئن اخرتن الی یوم القیمۃ لا حتنکن ذریتہ الا قلیلا (71 : 26) ” اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے دے تو میں اس کی پوری نسل کی بیخ کنی کر ڈالوں ، بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے “۔ میں ان پر حاوی ہوجائوں گا اور ان کو اپنی گرفت میں لے لوں گا ، ان کی لگام میرے ہاتھ میں ہوگی ، بلکہ یہ میری مٹھی میں ہوں گے اور جس طرح چاہوں گا ان کے معاملات میں تصرف کردوں گا۔ شیطان کے دہن میں چیلنج دیتے وقت یہ حقیقت نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی تھوڑے سے چھوڑ کر باقی سب کو اپنا مسخر کرلوں جیسے گھوڑے کو لگام دے کر قابو کرلیا جاتا ہے، پھر جو میرے سامنے اتنا کمزور ہے اسے مجھ پر فضیلت دینا کس طرح جائز ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 61–63

قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا حضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع 4 ‘ سورة الاعراف رکوع 2 اور سورة الحجر رکوع 3 میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 62–63

78 قصہ آدم و ابلیس پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر 30 تا 39، سورة انعام آیت نمبر 11 تا 25، سورة الحجر آیت نمبر 26 تا 42 میں گذر چکا ہے۔ ان آیات کے حواشی بھی ملحوظ رکھے جائیں۔ 79 ابلیس کا آدم پر قابو پانے کا دعوی :۔ احتنک الفرس بمعنی گھوڑے کے منہ میں رسی یا لگام دینا اور المحنک اس آدمی کو کہتے ہیں جسے زمانہ نے تجربہ کار بنادیا ہو (منجد) گویا احتنک کے معنی کسی پر عقل اور تجربہ سے قابو پانا ہے اور شیطان کا دعویٰ یہ تھا کہ آدم اچھی طرح میرا دیکھا بھالا ہے اور میں اس پر اور اس کی اولاد پر پوری طرح قابو پاسکتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

93۔ (اور وہ گروہ مومنین مخلصین کا ہے) یہ ساری گفتگو اس وقت کی ہے، جب ابلیس نافرمانی کی پاداش میں مردود ومطر ود ہوچکا ہے۔ اسی لئے اس کے آغاز میں یہ جتانے کو کہ یہ مستقل کلام ہے لفظ قال الگ آیا ہے۔ حالانکہ اوپر سے بھی قول ابلیس ہی کا چلاآرہا ہے۔ (آیت) ” لئن اخرتن الی یوم القیمۃ “۔ ابلیس اس کی درخواست کرچکا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ درخواست منظور ہوجائے گی، (آیت) ” لاحتنکن۔۔ قلیلا “۔ انسان کی جسمانی ساخت اور دماغی ترکیب پر نظر کر کے شیطان اپنی فراست سے ابتداہی میں سمجھ گیا تھا کہ میں اپنی کوشش اغوا واضلال میں کامیاب ہوجاوں گا۔ (آیت) ” لاحتنکن “۔ حنک کے معنی پوری طرح چھا جانے اور چھاپ بیٹھنے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–70

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ۚقَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ (ابلیس نے کہا بھلا بتا تو یہ وہی ہے جس کو تو نے مجھ پر برتری عطا کی ہے اور مجھے اس کو سجدہ کرنے کا حکم دے رہا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا : اگر روز قیامت تک تو نے مجھے مہلت دے دی تو سوائے چند لوگوں کے میں اس کی (ساری) اولاد کو اپنے بس میں کرلوں گا ‘ یعنی اگر تو مجھے مہلت دے گا اور قیامت تک زندہ رکھے گا تو اغوا کر کے میں اس کی نسل کی بیخ کنی کر دوں گا۔ اِحتَنَکَ الْجَزَادُا الزَّرْعَ محاورہ ہے ٹڈی نے ساری کھیتی کھالی۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں اس کو جدھر چاہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(62) کہنے لگا کہ ان کو جو مجھ پر سجدہ کرا کے فضیلت دی ہے تو اگر آپ نے میری درخواست کے مطابق مجھے مہلت دی ہے تو میں سوائے ان تھوڑے آدمیوں کے جو مجھ سے محفوظ ہیں، سب کو راہ حق سے پھسلاؤں گا اور گمراہ کروں گا اور اپنے قبضہ میں کرلوں گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۚقَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ۔۔ : ”اَرَءَيْتَكَ“ اصل ”أَرَأَیْتَ“ ہی ہے، کاف حرف خطاب ہے، جو مخاطب کے مطابق بدلتا رہتا ہے، مثلاً مخاطب واحد مذکر ہو تو ”أَرَأَیْتَکَ“ ، تثنیہ مذکر ہو تو ”أَرَأَیْتَکُمَا“ اور جمع مذکر ہو تو ”أَرَأَیْتَکُمْ“ ، معنی سب کا یہی ہے کہ ”کیا تو نے دیکھا“ مگر مراد ہوتی ہے ”أَخْبِرْنِیْ“ یعنی ”مجھے بتا۔“ ”لَاَحْتَنِكَنَّ“ یہ اصل میں ”حَنَکٌ“ سے مشتق ہے جس کا معنی جبڑا ہے۔ عرب کہتے ہیں ”حَنَکْتُ الْفَرَسَ أَحْنُکُہُ“ (باب ضرب و نصر) ”وَاحْتَنَکْتُہُ“ میں نے گھوڑے کے (نچلے) جبڑے میں رسی باندھی اور اسے اپنے پیچھے چلایا۔ مراد یہ ہے کہ میں اس کی اولاد…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 61–62

آیت نمبر 61 تا 62 قولہ تعالیٰ : واذقلنا للملٰٓئکۃ اسجدو الاٰدم شیطان کے انسان کا دشمن ہونے کا ذکر پہلے ہوچکا ہے، پس کلام کو ذکر آدم کی طرف متوجہ کیا۔ اور اس کا معنی ہے : ان مشرکین کی سرکشی اور اپنے رب کے بارے میں ان کی رعونت کے ساتھ ابلیس کے قصہ کو یاد کرو جس وقت اس نے رب کی نافرمانی کی تھی اور سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا ؛ اور وہ کہا جو کہا، اور وہ وہ ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول میں دی ہے : فسجدوٓا الا ابلس قالء اسجد لمن خلقت طینا یعنی کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو کیچڑ سے پیدا کیا ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بارے بحث سورة البقرہ اور الانعام میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–65

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت عطا فرمائی تھی اور اس نے کہا میں آگ میں سے ہوں اور یہ مٹی میں سے ہیں پس گناہوں کا آغاز تکبر سے ہوا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس نے کہا آد م (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور مٹی سے کمزور پیدا کیا گیا اور میں آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے (پھر کہنے لگا) (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ یعنی میں اس کی اولاد کو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اور اس کا گمان ان پر سچا نکلا۔ 3:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : اس نے کہا ] [اَرَءَيْتَكَ : بھلا تو دیکھ تو سہی ] [هٰذَا الَّذِي : یہ وہ ہے جس کو ] [كَرَّمْتَ : تو نے معزز کیا ] [عَلَيَّ : مجھ پر ] [لَىِٕنْ : یقینا اگر ] [اَخَّرْتَنِ : تو نے مہلت دی مجھ کو ] [اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن تک ] [لَاَحْتَنِكَنَّ : تو میں لازماً قابو پالوں گا ] [ذُرِّيَّتَهٗٓ: اس کی اولاد پر ] [اِلَّا : سوائے ] [قَلِيْلًا : تھوڑے سے (ان میں سے)] ح ن ک [حَنْکًا : (ن۔ ض) ] (1) کسی چیز کو چبا کر نرم کرنا۔ (2) گھوڑے کے منھ میں لگام دے کر اسے قابو میں کرنا۔ (افتعال) اِحْتِنَاکًا (1) اہتمام سے چبا کر چٹ کر جانا جیسے ٹڈی دل کاشت کو کھا کر صاف کردیتا ہے۔ (2) کسی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–63

حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم سننے پر ابلیس کا جواب دینا کیا میں اسے سجدہ کروں جو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ؟ پھر بنی آدم کو بہکانے کا عزم ظاہر کرنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جن پر تیرا قابو چل سکے ان پر قابو کرلینا اللہ تعالیٰ نے جنات کو انسان سے پہلے پیدا فرمایا تھا جنات کی تخلیق آگ سے ہوئی تھی اور آدم کو (جو سارے انسانوں کے باپ ہیں) مٹی سے پیدا فرمایا ابلیس جنات میں سے تھا یہ عالم بالا میں فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور عبادت الٰہی اس کا شغل تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے آدم (علیہ السلام) میں روح ڈالنے کے بعد تمام فرشتوں کو اور ابلیس کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں (یہ سجدہ تعظیمی تھا جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–65

ذکر عداوت شیطان با بنی نوع انسان قال اللہ تعالیٰ : واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وکفی بربک وکیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کافروں کی سرکشی اور عناد اور آنحضرت ﷺ سے ان کی مخالفت اور عداوت کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور شیطان کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ شیطان تمہارا قدیمی دشمن ہے تم اس کے بہکائے میں نہ آنا اور اس کے بہکانے سے ہمارے نبی ﷺ کی مخالفت نہ کرنا شیطان کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کی شبہات ڈالتا ہے تاکہ لوگ اللہ کے حکم سے برگشتہ ہوجائیں۔ آدم (علیہ السلام) کا مفصل قصہ اور اس کی تفسیر سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 61–62

59:۔ قصہ آدم و ابلیس ذکر کر کے بتایا گیا کہ شیطان تمہارا پرانا دشمن ہے اس لیے مکر و فریب سے خبردار رہنا، اس کی پیروی کر کے شرک میں مبتلا نہ ہوجانا معجزہ اسراء اس لیے ظاہر کیا گیا تاکہ تم مسئلہ توحید کو مان لو مگر دیکھنا شیطان سے ہوشیار رہنا مبادا وہ تمہارے دلوں میں وسوسے اور شبہات ڈال کر تمہیں راہ توحید سے بہکا دے ” قال ارایتک الخ “ اس سے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد سے شیطان کی انتہائی دشمنی ظاہر ہوتی ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا اے اللہ ! اگر تو مجھے قیامت تک مہلت عطا کرے تو میں یہ آدم جس کو تو نے مجھ پر برتری اور بزرگی دی ہے اس کی اولاد کو گمراہ کر کے اس کا ستیا ناس کردوں اور بہت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–65

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ان کی منہ مانگی نشانیوں کے متعلق واضح کیا کہ وہ سخت عذاب میں مبتلا ہو سکتے ہیں ، اللہ نے یاد دلایا کہ وہ سب لوگوں کا احاطہ کرنے والا ہے اور کوئی فرد واحد اس کی پہنچ سے باہر نہیں ہے ، پھر اللہ نے واقعہ معراج کے تذکرہ میں بتایا کہ یہ واقعہ لوگوں کے لیے ذریعہ آزمائش بن گیا اور اس طرح دوزخ کا درخت ملعونہ بھی ایمانداروں اور بےایمانوں کے لیے وجہ امتحان بن گیا فرمایا اس قسم کی نشانیاں ہم محض خوف دلانے کے لیے ظاہر کرتے ہیں مگر یہ لوگ تعصب میں مزید اندھے ہوجاتے ہیں ۔ (ابلیس کا انکار سجدہ اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا 62؀ كرم الكَرَمُ إذا وصف اللہ تعالیٰ به فهو اسم لإحسانه وإنعامه المتظاهر، نحو قوله : فَإِنَّ رَبِّي غَنِيٌّ كَرِيمٌ [ النمل/ 40] ، وإذا وصف به الإنسان فهو اسم للأخلاق والأفعال المحمودة التي تظهر منه، ولا يقال : هو كريم حتی يظهر ذلک منه . قال بعض العلماء : الكَرَمُ کالحرّيّة إلّا أنّ الحرّيّة قد تقال في المحاسن الصّغيرة والکبيرة، والکرم لا يقال إلا في المحاسن الکبيرة، كمن ينفق مالا في تجهيز جيش في سبیل الله، وتحمّل حمالة ترقئ دماء قوم، وقوله تعالی:…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 61–65

ترکیب : ھذا منصوب بارایت والذی لغت لہ و المفعول الثانی محذوف تقدیرہ تفضیلہ۔ لاحتنکن جواب لئن۔ طینًا منصوب مبرع الخافض ای من طین۔ قال الواحدی لاحتنکن اصلہ من احتناک الجرادالزرع وھوان تستاصلہ باحنا کھا ثم استعمل علی الاستیلاء علی شیء و قیل ماخوذ من حنک الدابۃ اواجعل الرسن فی حنکھا والحنک ماتحت الذقن ودمنہ التحنیک الاستفراز والا زعاج والاستخفاف یقال افزہ واستفرہ ای ازعجہ واجلب قال الفراء وابوعبیدہ من الجلبۃ وقال الزجاج الاجلاب الجمع ای اجمع علیھم العساکر وقال ابن السکیت الاجلاب الاستعانۃ ای استعن علیھم لکل باتقدر والامر للتھدید۔ تفسیر : اب ان کی سرکشی کا سبب بیان فرماتا ہے کہ یہ شیطان کا اثر ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 61–62

وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْالِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآاِبْلِیْسَ ط قَالَ ئَ اَسْجُدُلِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 61) (اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ بولا کہ میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔ ) کفار کے انکار کا اصل سبب سورة البقرہ میں اس آیت کی وضاحت اور قصہ ٔ آدم و ابلیس تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اس لیے اب اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ بہتر ہے کہ اس مقام کو نکال کر دیکھ لیا جائے۔ البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہاں یہ واقعہ کس غرض کے لیے لایا جارہا ہے۔ یہ آیت اور اس کے بعد کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–62

فہم القرآن ربط کلام : کفار کی قرآن مجید سے عداوت اور بغاوت شیطان کی پیروی کی وجہ سے ہے۔ شیطان اپنے رب کا سب سے بڑاباغی اور نافرمان ہے۔ جس کی واضح اور پہلی دلیل حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم سے پہلے ملائکہ کے سامنے اعلان فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ ملائکہ نے عرض کی کیا آپ زمین میں اس شخص کو خلیفہ بنائیں گے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا ؟ ہم تیری حمد وثناء کے ساتھ تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر تمام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

62: قَالَ اَرَئَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ (ابلیس نے کہا تو بتلا ! یہ وہی ہے جس کو تو) کؔ اس کا کوئی موضع اعراب نہیں کیونکہ یہ تاکید خطاب کیلئے ذکر کیا گیا ہے۔ اور ھذاؔ یہ مفعول بہٖ ہے۔ معنی یہ ہے تو مجھے اس کے متعلق بتلا جس کو کَرَّمْتَ عَلَیَّ (تو نے مجھ پر برتری دی ہے) اس کو تو نے فضیلت دی تو کیوں اسکو مجھ پر فضیلت دی ہے۔ حالانکہ انا خیرمنہ خلقتنی من نار وخلقتہ من طین ] ص : 76[ ماقبل کی دلالت اس کے متعلق موجود ہونے کی وجہ سے اختصار کے طور پر اس کو حذف کردیا پھر ابتدا کرتے ہوئے فرمایا۔ لَپنْ اَخَّرْ تَنِ (اگر تم نے مجھے مہلت دے دی) ۔ قراءت : ابن کثیر و یعقوب وغیرہ نے یاءؔ سے پڑھا۔ جبکہ کوفی،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

62۔” قال “ ابلیس نے کہا ” ارایتک “ کہ میں خبر دیتا ہوں کاف مخالف کی تاکید کے لیے ہے۔ ” ھذا الذی کر مت علی “ اس کو مجھ پر فضلیت بخشی ۔ ” لئن اخرتنی “ مجھے مہلت دے دے ۔ ” الی یوم القیامۃ لا حتنکن ذریتہ “ ان کو گمراہی کی طرف کھینچ لوں گا ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” احتناک الجراد الزرع “ جب ٹڈ ی سارے کھیت کو کھاجائے اور بعض نے کہا کہ عرب کا قول ہے ” حنک الدابۃ یحنک ‘ ‘ گھوڑے کا نچلا جبڑا ، رسی سے باندھ دیا تا کہ جس طرف چاہے مالک کھینچ کرلے جائے۔ بعض نے کہا کہ ان کو اغواء کرکے ان کی بیخ کنی کر دوں گا ۔” الا قیلا “ مگر وہ لوگ جن کو اللہ نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے۔ ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطان “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 61–62

61۔ 62:۔ یہ قصہ قرآن میں سات جگہ آیا ہے اول سورة بقرہ میں پھر سورة اعراف میں اور پھر سورة حجر میں اور اس سورة بنی اسرائیل میں اور سورة کہف اور سورة طہ اور سورة ص میں۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ اللہ پاک نے جس وقت حضرت آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کیا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ تم سب کے سب حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کرو اور ابلیس بھی قوم جنات میں سے ایک مقرب فرشتہ ہوگیا تھا اس نے اپنے کو بڑا جانا اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کو حقیر سمجھ کر سجدہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یا اللہ تو نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو خاک سے پیدا کیا ہے اور میری پیدائش آگ خاک سے لطیف ہے اس لیے جوہر کثیف کو جوہر لطیف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 59–69

(آیت نمبر (59 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–63

اس رئویا سے کیا مراد ہے۔ قول باری ہے (وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے اس کو ہم نے ان لوگوں کے لئے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا) حضرت ابن عباس سے سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق ، نیز قتادہ حسن، ابراہیم، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ رئویا بیت المقدس تک رات کے سفر یعنی سفر معراج کے علاوہ ہے۔ جب آپ نے مشرکین سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس رئویا سے مراد ہے کہ آپ کو یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ بہت جلد مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوں گے۔ شجرئہ ملعونہ کیا ہے قول باری ہے (والشجرۃ الملعونتہ فی القران۔ اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 62–65

115۔ ابلیس کا چیلنج حضرت حق جل مجدہ کے حضور :۔ سو اس ملعون نے کہا کہ ” اگر تو نے مجھے مہلت دی تو میں جڑنکال دونگا اس کی سب نسل کی “ اور ان سب کو راہ حق سے پھسلا کر دوزخ میں پہنچا کر چھوڑوں گا سوائے ان میں کے ان تھوڑے سے لوگوں کے جن پر میرا زور نہیں چل سکے گا۔ جیسا کہ حق تعالیٰ نے خود بھی ارشاد فرمایا ان عبادی لیس لک علیہم سلطان الا من اتبعک من الغاوین (الحجر : 42) کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بہکے بھٹکے ہوئے گمراہوں کے جو تیرے پیچھے چلیں گے اور انہوں نے اپنے کئے کرائے کا بھگتنان بھگتنا اور تیرے ساتھ دوزخ میں داخل ہونا ہے کہ یہی تقاضا ہے عدل وانصاف ومکافات عمل کا۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–65

شیطان، اس کی چالیں اور اس کا دعو ٰی تشریح : جیسا کہ شیطان کی ابتدا ہوئی اللہ کی نافرمانی سے اور انسان کی ابتدا ہوئی اللہ کی رحمت سے اور یہ قصہ بڑی تفصیل سے سورة بقرہ آیات 30 تا 39، سورة النساء آیات 117 سے 121 الاعراف آیات 11 سے 25، الحجر آیات 26 تا 42 ابراہیم آیت 22 ۔ ان تمام سورتوں میں شیطان اور انسان کی ہمیشہ کی لڑائی کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات میں اچھے اور نیک انسان کی صفات بیان کردی گئی ہیں پھر دہرائے دیتے ہیں۔ جو بھی شخص اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے گا دنیا و آخرت میں بھلائی حاصل کرے گا، مگر جو اس کے علاوہ راستہ اختیار کرے گا تو وہ گویا شیطان کا دوست بن گیا اور وہ شیطان کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

(رکوع نمبر 7) اسرارومعارف آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:62) قال۔ ای قال ابلیس۔ ارء یتک۔ الاتقان میں ہے جب ہمزہ استفہام رأیت پر داخل ہوتا ہے تو اس وقت رؤیت کا آنکھوں یا دل سے دیکھنے کے معنی میں آنا ممنوع ہوتا ہے اور اس کے معنی اخبرنی (مجھ کو بتا۔ مجھ کو خبر دے) کے ہوتے ہیں۔ ارء یتک تو مجھے بتا۔ الذی کر مت علی۔ جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ آیت میں حذف ہے تقدیر کلام یوں ہے ۔ ارء یت ھذا الذی کر مت علی لم کرمتہ۔ مجھے بتا تو یہ آدم جس کو تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ اخرتن۔ تاخیر (تفعیل) سے ماضی واحد مذکر حاضر۔ نون وقایہ یضمیر واحد متکلم بوجہ عمل ان ساقط ہوگئی۔ لئن اخرتن اگر تو مجھے مہلت دے۔ لاحتنکن۔ لام تاکید کے لئے ہے احتنکن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–65

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65 طین مٹی۔ کر مت تو نے عزت دی۔ احتکن جڑیں اکھاڑ دوں گا۔ موفور بھرپور، پوری طرح۔ استفزز پھسلا لے، آمادہ کرلے۔ اجلب چڑھا کرلے آ۔ خیل گھوڑے ، سوار۔ رجل پیادے، پاؤں۔ غرور دھوکہ، فریب ۔ تشریح :- آیت نمبر 61 تا 65 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زندگی کی سچائیوں کو کہانیوں اور قصوں کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ عبرت و نصیحت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے واقعہ کے صرف اسی پہلو کو بیان کیا ہے جس کی اس موقع پر ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت آدم اور شیطان کے واقعہ کو سورة نبی اسرائیل کے علاوہ چھ اور بڑی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سورة البقرہ، سورة…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 60–63

معراج کا ذکر شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جس رات آنحضرت ﷺ کو معراج ہوئی۔ اس کی صبح کو آپ نے لوگوں سے معراج کا حال بیان کیا تاکہ لوگ ان کو سچا نبی جان کر ایمان لاویں۔ مشرکوں نے بیت المقدس کے پتے آپ سے پوچھے اور کئی قافلے عرب کے شام کو گئے ہوئے تھے ان قافلوں کا حال بھی پوچھا۔ آپ نے سب نشانیاں اور قافلوں کا سب حال بیان کردیا، مگر مشرک لوگ آپ کے جھٹلانے سے باز نہیں آئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ معراج اور دوزخ میں زقوم کا درخت لوگوں کے آزمانے کی نشانیاں ہیں۔ بہت لوگ غیب کی باتوں پر ایمان لا کر نجات پاویں گے اور بہت لوگ شیطان کی طرح اللہ کی حکمت میں اپنا وہم و قیاس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–63

[46] اشارہ ہے معراج کی طرف۔ یہاں لفظ رؤیا خواب کے معنی میں نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں ہے۔ [47] یعنی کسی نے تصدیق اور کسی نے تکذیب کی۔ [48] یعنی زقوم کا درخت جس کے متعلق قرآن میں خبر دی گئی ہے کہ وہ دوزخ میں پیدا ہوگا اور دوزخیوں کو اسے کھانا پڑے گا۔ اس پر لعنت کرنے سے مراد اس کا اللہ کی رحمت سے دور ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 62–66

(ف 3) شیطان کو مہلت دی گئی ، کہ وہ ایک وقت مقررہ تک زندہ رہے ، مگر اس کی زندگی کے یہ معنی نہیں ہیں ، کہ وہ لامحالہ سب کو گمراہ کر دے گا ، بلکہ صاف صاف کہہ دیا گیا ، کہ تم اپنی تمام قوتوں کو برروئے کار لے آؤ ، تم انسانوں کو گمراہ کرنے کے لئے وہ سب کچھ کر دیکھو ، جو تمہارے اختیار میں ہے ان سے جھوٹے وعدے کرو ، خواہشات نفس پر قبضہ کرو ، دل کی گہرائیوں میں سما جانے کی کوشش کرو ، اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ متاع ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرو ، مگر یاد رکھو ، میرے خاص بندے تیری دسترس سے باہر ہیں ، ان پر تیرا قبضہ نہیں ہو سکتا ، جن کے دلوں میں میری محبت ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-62 ابلیس نے کہا یہ شخص جس کو تو نے مجھ پر فوقیت اور فضیلت دی ہے اور جس کو تو نے مجھ پر بڑھایا ہے بھلا یہ تو بتا کہ اس میں کونسی فضیلت کی وجہ ہے اچھا اگر تو نے مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دی اور زندہ رہنے کا موقعہ دیا تو میں اس کی تمام اولاد کو اپنے بس میں کرلوں گا اور ڈھانٹی ڈال دوں گا مگر ہاں تھوڑے سے آدمی میرے قابو میں نہیں آئیں گے۔ یعنی قیامت تک مجھ کو زندہ رکھا تو تمام اولاد آدم کو گمراہ کر دوں گا اور اپنے کہنے پر چلا لوں گا۔ مگر ہاں تھوڑے سے آدمی جو مخلصین ہوں گے وہ بیشک میرے بس میں نہ آئیں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اپنا مسخر کرلوں گا جیسے گھوڑے کو لگام دیا ۔ 12 دھانٹی دہلی میں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابلیس یعنی ان سرکش قوتوں کی کہانی ان کی زبانی جو انسان میں ودیعت کی گئیں ۔ 79۔ شر کی طاقتوں کا داعیہ اور اپنی فطرت کا کھلا اعلان تاکہ انسان سمجھ جائے کہ یہ وہی طاقتیں ہیں جو میری فطرت ہیں رکھی گئی ہیں تاکہ وہ اپنی خیر کی طاقتوں سے کام لے کر ان شر کی قوتوں سے جنگ کرے اور اس وقت تک ان کا پیچھا کرے جب تک وہ رام نہ ہوجائیں ۔ لیکن وہ کیا کرتا ہے ؟ اکثر حالات میں وہ شر کی طاقتوں کا ساتھ دے کر خیر کی طاقتوں کو دباتا ہے اور پھر دباتا ہی چلا جاتا ہے اس وجہ سے وہ قابل سزا ہوتا ہے ، شر کی طاقتوں کا نام کیا ہے ؟ ابلیس ‘ بس ابلیس اس طرح گویا ہوتا ہے کہ ” دیکھو تو سہی کہ وہ اس قابل تھا کہ تو نے اس کو مجھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–63

Commentary The word: لَأَحْتَنِكَنَّ (subdue) in verse 62 is from: اِحتِنَاک (ihtinak) which means to exterminate or uproot something, or to subdue and overpower it completely. (Qurtubi) The word: وَاسْتَفْزِزْ (and entice) in verse 64 is from اِستِفزَاز (istifzaz) which basically means to cut off or to tear away from and at this place it means to tear away from the path of truth. This is followed by صَوتک (with your voice). Sawt صَوت the Arabic word for voice is well known. What is the voice of Shaitan? Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ says: The voices of songs, musical instruments and the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–63

75. That is, I will uproot them from the high position of divine vicegerency which demands steadfastness in obedience. Their removal from that high position is just like the tearing of a tree from its roots.

Read the full tafseer →