Explained with ayahs 61–62
ابلیس کی قدیمی دشمنی
ابلیس کی قدیمی عداوت سے انسان کو اگاہ کیا جا رہا ہے کہ وہ باپ حضرت آدم ؑ کا کھلا دشمن تھا، اس کی اولاد برابر اسی طرح تمہاری دشمن ہے، سجدے کا حکم سن کر سب فرشتوں نے تو سر جھکا دیا لیکن اس نے تکبر جتایا، اسے حقیر سمجھا اور صاف انکار کردیا کہ ناممکن ہے کہ میرا سر کسی مٹی سے بنے ہوئے کے سامنے جھکے، میں اس سے کہیں افضل ہوں، میں آگ ہوں یہ خاک ہے۔ پھر اس کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اللہ جل و علی کے دربار میں گستاخانہ لہجے سے کہتا ہے کہ اچھا اسے اگر تو نے مجھ پر فضیلت دی تو کیا ہوا میں بھی اس کی اولاد کو برباد کر کے ہی چھوڑوں گا، سب کو اپنا تابعدار بنا لوں گا اور بہکا دوں گا، بس تھوڑے سے…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 74
تقابل کے لیے ملاحظہ ہو البقرہ آیات 30 تا 39، النساء آیات 117۔ 121، الاعراف آیات 11۔ 25، الحجر آیات 26۔ 42، اور ابراہیم آیت 22۔
اس سلسلہ کلام میں یہ قصہ دراصل یہ بات ذہن نشین کرنے کے لیے بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے مقابلے میں ان کافروں کا یہ تمرد، اور تنبیہات سے ان کی یہ بےاعتنائی، اور کجروی پر ان کا یہ اصرار ٹھیک ٹھیک اس شیطان کی پیروی ہے جو ازل سے انسان کا دشمن ہے، اور اس روش کو اختیار کر کے درحقیقت یہ لوگ اس جال میں پھنس رہے ہیں جس میں اولاد آدم کو پھانس کر تباہ کردینے کے لیے شیطان نے آغاز تاریخ انسانی میں چلینج کیا تھا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ وقت یاد رکھنے کے قابل ہے) جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے (نہ کیا اور) کہا کہ کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو آپ نے مٹی سے بنایا ہے (اس پر مردود ہوگیا اس وقت) کہنے لگا کہ اس شخص کو جو آپ نے مجھ پر فوقیت دی ہے (اسی بناء پر اس کو سجدہ کرنے کا مجھے حکم دیا ہے) تو بھلا بتلائیے تو (اس میں کیا فضیلت ہے جس کی وجہ سے میں مردود ہوا) اگر آپ نے (میری درخواست کے مطابق) مجھ کو قیامت کے زمانے تک (موت سے) مہلت دے دیتو میں (بھی) بجز قدر قلیل لوگوں کو (جو مخلصین ہوں گے باقی) اس کی تمام اولاد کو اپنے قابو میں کرلوں گا (یعنی گمراہ کر دوں گا)…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 61 تا 65:۔ استکبار کا اصلی سبب : آگے ان لوگوں کے طغیان و استکبار کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے کہ اس کا اصل سبب وہ نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ ان کو عذاب کی کوئی نشانی نہیں دکھائی گئی بلکہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اپنی نعمتوں سے نوازا تو یہ نعمتوں کو پا کر اس کے شکر گزار بندے بننے کے بجائے غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے۔ یہ روش اختیار کرنے میں انہوں نے ٹھیک ٹھیک ابلیس کے نقش قدم کی پیروی کی ہے اور ابلیس نے ذریت آدم کے بارے میں اپنا جو گمان ظاہر کیا تھا۔ ان کے اوپر اپنے اس گمان کو حرف حرف سچ کردکھایا۔ آیات کی تلاوت کیجیے۔
وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
60۔ 1 یعنی لوگ اللہ کے غلبہ و تصرف میں ہیں اور جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا نہ کہ جو وہ چاہیں گے، یا مراد اہل مکہ ہیں کہ وہ اللہ کے زیر اقتدار ہیں، آپ بےخوفی سے تبلیغ رسالت کیجئے، وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، ہم ان سے آپ کی حفاظت فرمائیں گے۔ یا جنگ بدر اور فتح مکہ کے موقع پر جس طرح اللہ نے کفار مکہ کو عبرت ناک شکست سے دو چار کیا، اس کو واضح کیا جارہا ہے۔
60۔ 2 صحابہ وتابعین نے اس رویا کی تفسیر عینی رویت سے کی ہے اور مراد اس سے معراج کا واقعہ ہے، جو بہت سے کمزور لوگوں کے لئے فتنے کا باعث بن گیا اور وہ مرتد ہوگئے۔ اور درخت سے مراد (تھوہر) کا درخت ہے، جس کا مشاہدہ نبی ﷺ نے شب معراج، جہنم میں کیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
32: یعنی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بتادیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ یہ ہٹ دھرم لوگ کسی صورت میں ایمان نہیں لائیں گے، چنانچہ ان کی ہٹ دھرمی کی دو مثالیں دی گئی ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو معراج کے موقع پر جو نظارہ دکھایا وہ آپ کے پیغمبر ہونے کی کھلی دلیل تھی، کافروں نے آپ سے بیت المقدس کے بارے میں مختلف سوالات کئے، اور آپ نے سب کے ٹھیک ٹھیک جوابات دے دئیے، جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ واقعی آپ نے راتوں رات یہ سفر کیا ہے ؛ لیکن اتنی کھلی ہوئی بات سامنے آجانے کے بعد بھی یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے رہے، دوسری مثال یہ ہے کہ قرآن کریم نے فرمایا تھا کہ زقوم کا درخت دوزخیوں کی غذا…
Read the full tafseer →یہاں بتایا جاتا ہے کہ گمراہ لوگوں کی گمراہی کا اصل سبب کیا ہوتا ہے۔ چناچہ قصہ آدم و ابلیس کا یہ منظر یہاں پیش کیا جاتا ہے ، تاکہ وہ لوگ جو گمراہی کے اصل اسباب معلوم کرنا چاہتے ہیں ان کو معلوم ہوجائے کہ یہ اسباب کیا ہیں اور یہ کہ شیطان ان کا بنیادی دشمن ہے۔ یہ ان کے جد امجد کا بھی دشمن تھا ، یوں انسانوں کے ابو الاباء کا رشتہ بتا کر انہیں ڈرایا جاتا ہے کہ شیطان ان کا جدی دشمن ہے۔
واذ قلنا للملئکۃ اسجدو……(71 : 16) ” اور یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ اس نے کہا :” میں اس جو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے “۔ یہ کبر کی وجہ سے شیطان کے…
Read the full tafseer →8 یہ قصہ کئی جگہ گزر چکا ہے۔ یہاں اس پر متنبہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا بےچون و چرا ماننا فرشتوں کا اور اس میں شبہات نکالنا شیطان کا کام ہے۔ یہ کافر بھی اس کی چال چل رہے ہیں۔ جو بات بات میں کج بحثیاں کرتے ہیں۔ مگر یاد رہے کہ ان کا انجام بھی وہی ہونے والا ہے جو ان کے امام ابلیس لعین کا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا
حضرت آدم اور ابلیس کا یہ قصہ یہاں چوتھی مرتبہ بیان ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے سورة البقرۃ رکوع 4 ‘ سورة الاعراف رکوع 2 اور سورة الحجر رکوع 3 میں اس قصے کا ذکر ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
75 اس سے مراد سورة بروج کی آیت نمبر 19 اور 20 ہیں، یعنی کافر تو آپ کو اور اس دعوت قرآن کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ اللہ انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور سورة بروج اس سورة بنی اسرائیل سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ کفار مکہ اپنی معاندانہ سرگرمیوں میں جتنی بھی کوشش چاہے کرلیں۔ یہ ایک حد سے آگے نہ جاسکیں گے اور ان کی ان کوششوں کے علی الرغم دعوت اسلام پھیل کر رہے گی۔
76 کافر حسی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے :۔ واقعہ معراج ایک خرق عادت واقعہ اور معجزہ تھا۔ کفار نے اس معجزہ کا اتنا مذاق اڑایا کہ بعض ضعیف الاعتقاد مسلمان بھی شک میں پڑگئے۔ پھر کافر جنہوں نے پہلے بیت…
Read the full tafseer →92۔ (درآنحالیکہ مٹی کا بنا ہوا مخلوق مجھ سے جیسے آتشیں مخلوق سے کہیں پست ہوتا ہے) اس ابلیسی منطق کی پردہ دری ان تفسیری حاشیوں میں بیشتر کی جاچکی ہے۔ اس کے استدلال منطقیانہ کے صضری کبری دونوں غلط ہیں۔ نہ تو یہی ثابت ہے کہ مٹی ہر حال میں آگ سے پست تر ہے اور نہ یہ مسلم ہے کہ افضل ہے کسی حال میں بھی غیر افضل کے آگے نہ جھکے ! (آیت) ” اذقلنا للمآئکۃ ملائکہ جو افضل ترین مخلوق اس وقت تک تھے ان کے ضمن میں دوسری مخلوق کا بھی آجانا۔ (آیت) ” اسجدوا “۔ سجدہ سے یہاں لغوی نہ کہ اصطلاحی معنی کا مراد لیاجانا۔ (آیت) ” لادم “۔ آدم کا کعبۃ اللہ کی طرح صرف سمت سجدہ ہونا نہ کہ مسجود ہونا۔ (آیت) ” ابلیس “۔ ابلیس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
آیت نمبر 61 تا 70
ترجمہ : اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے سامنے تعظیم کے طور پر جھکو تو سب جھکے سوائے ابلیس کے، اس نے کہا کیا میں اس کو جھکوں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ؟ (طینًا) حذف حرف جر کی وجہ سے منصوب ہے، ای من طینٍ (ابلیس نے) کہا بھلا دیکھ تو سہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تو نے مجھے اس کو (جھکنے) سجدہ کا حکم دیکر مجھ پر فضیلت دی، حالانکہ میں اس سے بہتر ہوں اسلئے کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، مجھے قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے مجھے قیامت تک مہلت دی تو میں بھی اگواء کرکے اس کی پوری نسل کو بیخ کنی کر ڈالوں گا ان میں سے بہت کم لوگ بچ سکیں گے جن کو تو بچائے، اللہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا :
اور یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا آدم کے لئے (یعنی کو یا طرف) سجدہ کرو فوراً سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا ‘ ابلیس بولا کیا میں اس شخص کو سجدہ کروں جس کو تو نے گارے سے بنایا ہے۔ ابلیس نے اپنے انکار کی وجہ آدم کی تخلیقی (وگری ہوئی) حالت کو قرار دیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم کو پیدا کیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ایک مٹھی زمین کی خاک لی ‘ شیریں بھی اور نمکین بھی اس سے آدم کا پتلا بنایا ‘…
Read the full tafseer →(61) وہ وقت بھی قابل ذکر ہے جب کہ ہم نے ان فرشتوں سے بھی کہا جو کہ زمین پر تھے کہ حضرت آدم ؑ کو سجدہ تحیت کرو، ابلیس کہنے لگا کیا میں ایسے شخص کو سجدہ کروں جس کو آپ نے مٹی سے بنایا۔
Read the full tafseer →ۧوَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ۔۔ : مہائمی ؓ نے فرمایا کہ اس آیت میں اشارہ ہے کہ گزشتہ آیت میں مذکور کفار کی سرکشی کی اصل وجہ شیطان کی پیروی ہے، کیونکہ وہ بھی تکبر اور سرکشی ہی کی وجہ سے راندۂ درگاہ ہوا تھا، اس لیے آگے اس کے آدم ؑ کو بہکانے کا ذکر فرمایا۔
فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ۔۔ : اس سجدے کی حقیقت اور ابلیس کے بہتر ہونے کے دعوے کے متعلق دیکھیے سورة بقرہ (34) ، سورة اعراف (11) اور اس کے بعد کی آیات۔ ”طِیْنَاً“ اصل میں ”مِنْ طِیْنٍ“ تھا، ”مِنْ“ حذف ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
آیت نمبر 61 تا 62
قولہ تعالیٰ : واذقلنا للملٰٓئکۃ اسجدو الاٰدم شیطان کے انسان کا دشمن ہونے کا ذکر پہلے ہوچکا ہے، پس کلام کو ذکر آدم کی طرف متوجہ کیا۔ اور اس کا معنی ہے : ان مشرکین کی سرکشی اور اپنے رب کے بارے میں ان کی رعونت کے ساتھ ابلیس کے قصہ کو یاد کرو جس وقت اس نے رب کی نافرمانی کی تھی اور سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا ؛ اور وہ کہا جو کہا، اور وہ وہ ہے جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے اپنے اس قول میں دی ہے : فسجدوٓا الا ابلس قالء اسجد لمن خلقت طینا یعنی کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تو کیچڑ سے پیدا کیا ہے۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بارے بحث سورة البقرہ اور الانعام میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ابلیس نے آدم (علیہ السلام) پر حسد کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت عطا فرمائی تھی اور اس نے کہا میں آگ میں سے ہوں اور یہ مٹی میں سے ہیں پس گناہوں کا آغاز تکبر سے ہوا۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابلیس نے کہا آد م (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور مٹی سے کمزور پیدا کیا گیا اور میں آگ سے پیدا کیا گیا اور آگ ہر چیز کو جلا دیتی ہے (پھر کہنے لگا) (آیت) ” لاحتنکن ذریتہ الا قلیلا “ یعنی میں اس کی اولاد کو جڑ سے اکھیڑ پھینکوں گا اور اس کا گمان ان پر سچا نکلا۔
3:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے…
Read the full tafseer →[وَاِذْ : اور جب ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں سے ] [اسْجُدُوْا : تم لوگ سجدہ کرو ] [لِاٰدَمَ : آدم (علیہ السلام) کو ] [فَسَجَدُوْٓا : تو انھوں نے سجدہ کیا ] [اِلَّآ : سوائے ] [اِبْلِيْسَ : ابلیس کے ] [قَالَ : اس نے کہا ] [ءَ : کیا ] [اَسْجُدُ : میں سجدہ کروں ] [لِمَنْ : اس کو جسے ] [خَلَقْتَ : تو نے پیدا کیا ] [طِيْنًا : مٹی سے ]
(آیت۔ 61) ۔ جَعَلْنَا کا مفعول اوّل اَلرُّئْ یَا ہے جبکہ اَلشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ اس کا مفعول ثانی ہے۔ سادہ جملہ اس طرح ہوتا۔ وَمَا جَعَلْنَا الرُّئْ یَا الَّتِیْ اَرَیْنٰکَ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِ اِلَّا فِتْنَۃً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے کا حکم سننے پر ابلیس کا جواب دینا کیا میں اسے سجدہ کروں جو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے ؟ پھر بنی آدم کو بہکانے کا عزم ظاہر کرنا، اللہ تعالیٰ کا فرمان کہ جن پر تیرا قابو چل سکے ان پر قابو کرلینا
اللہ تعالیٰ نے جنات کو انسان سے پہلے پیدا فرمایا تھا جنات کی تخلیق آگ سے ہوئی تھی اور آدم کو (جو سارے انسانوں کے باپ ہیں) مٹی سے پیدا فرمایا ابلیس جنات میں سے تھا یہ عالم بالا میں فرشتوں کے ساتھ رہتا تھا اور عبادت الٰہی اس کا شغل تھا اللہ تعالیٰ شانہ نے آدم (علیہ السلام) میں روح ڈالنے کے بعد تمام فرشتوں کو اور ابلیس کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کریں (یہ سجدہ تعظیمی تھا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
ذکر عداوت شیطان با بنی نوع انسان
قال اللہ تعالیٰ : واذ قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم .... الیٰ .... وکفی بربک وکیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں کافروں کی سرکشی اور عناد اور آنحضرت ﷺ سے ان کی مخالفت اور عداوت کا ذکر فرمایا اب ان آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور شیطان کا قصہ ذکر فرماتے ہیں جس سے مقصود یہ ہے کہ شیطان تمہارا قدیمی دشمن ہے تم اس کے بہکائے میں نہ آنا اور اس کے بہکانے سے ہمارے نبی ﷺ کی مخالفت نہ کرنا شیطان کا کام یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کی شبہات ڈالتا ہے تاکہ لوگ اللہ کے حکم سے برگشتہ ہوجائیں۔ آدم (علیہ السلام) کا مفصل قصہ اور اس کی تفسیر سورة بقرہ اور سورة اعراف میں گزر چکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
59:۔ قصہ آدم و ابلیس ذکر کر کے بتایا گیا کہ شیطان تمہارا پرانا دشمن ہے اس لیے مکر و فریب سے خبردار رہنا، اس کی پیروی کر کے شرک میں مبتلا نہ ہوجانا معجزہ اسراء اس لیے ظاہر کیا گیا تاکہ تم مسئلہ توحید کو مان لو مگر دیکھنا شیطان سے ہوشیار رہنا مبادا وہ تمہارے دلوں میں وسوسے اور شبہات ڈال کر تمہیں راہ توحید سے بہکا دے ” قال ارایتک الخ “ اس سے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد سے شیطان کی انتہائی دشمنی ظاہر ہوتی ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا اے اللہ ! اگر تو مجھے قیامت تک مہلت عطا کرے تو میں یہ آدم جس کو تو نے مجھ پر برتری اور بزرگی دی ہے اس کی اولاد کو گمراہ کر کے اس کا ستیا ناس کردوں اور بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کا رد فرمایا اور ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ان کی منہ مانگی نشانیوں کے متعلق واضح کیا کہ وہ سخت عذاب میں مبتلا ہو سکتے ہیں ، اللہ نے یاد دلایا کہ وہ سب لوگوں کا احاطہ کرنے والا ہے اور کوئی فرد واحد اس کی پہنچ سے باہر نہیں ہے ، پھر اللہ نے واقعہ معراج کے تذکرہ میں بتایا کہ یہ واقعہ لوگوں کے لیے ذریعہ آزمائش بن گیا اور اس طرح دوزخ کا درخت ملعونہ بھی ایمانداروں اور بےایمانوں کے لیے وجہ امتحان بن گیا فرمایا اس قسم کی نشانیاں ہم محض خوف دلانے کے لیے ظاہر کرتے ہیں مگر یہ لوگ تعصب میں مزید اندھے ہوجاتے ہیں ۔
(ابلیس کا انکار سجدہ اور…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا 61ۚ
ملك ( فرشته)
وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102]
( م ل ک ) الملک
الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
ترکیب : ھذا منصوب بارایت والذی لغت لہ و المفعول الثانی محذوف تقدیرہ تفضیلہ۔ لاحتنکن جواب لئن۔ طینًا منصوب مبرع الخافض ای من طین۔ قال الواحدی لاحتنکن اصلہ من احتناک الجرادالزرع وھوان تستاصلہ باحنا کھا ثم استعمل علی الاستیلاء علی شیء و قیل ماخوذ من حنک الدابۃ اواجعل الرسن فی حنکھا والحنک ماتحت الذقن ودمنہ التحنیک الاستفراز والا زعاج والاستخفاف یقال افزہ واستفرہ ای ازعجہ واجلب قال الفراء وابوعبیدہ من الجلبۃ وقال الزجاج الاجلاب الجمع ای اجمع علیھم العساکر وقال ابن السکیت الاجلاب الاستعانۃ ای استعن علیھم لکل باتقدر والامر للتھدید۔
تفسیر : اب ان کی سرکشی کا سبب بیان فرماتا ہے کہ یہ شیطان کا اثر ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اسْجُدُوْالِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآاِبْلِیْسَ ط قَالَ ئَ اَسْجُدُلِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 61)
(اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ بولا کہ میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا۔ )
کفار کے انکار کا اصل سبب
سورة البقرہ میں اس آیت کی وضاحت اور قصہ ٔ آدم و ابلیس تفصیل سے گزر چکا ہے۔ اس لیے اب اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ بہتر ہے کہ اس مقام کو نکال کر دیکھ لیا جائے۔ البتہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہاں یہ واقعہ کس غرض کے لیے لایا جارہا ہے۔ یہ آیت اور اس کے بعد کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کی قرآن مجید سے عداوت اور بغاوت شیطان کی پیروی کی وجہ سے ہے۔ شیطان اپنے رب کا سب سے بڑاباغی اور نافرمان ہے۔ جس کی واضح اور پہلی دلیل حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم سے پہلے ملائکہ کے سامنے اعلان فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ ملائکہ نے عرض کی کیا آپ زمین میں اس شخص کو خلیفہ بنائیں گے جو اس میں فساد کرے گا اور خون بہائے گا ؟ ہم تیری حمد وثناء کے ساتھ تسبیح و تقدیس بیان کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر تمام…
Read the full tafseer →واقعہ آدم ( علیہ السلام) و ابلیس :
1 6: وَاِذْقُلْنَا لِلْمَلٰٓپکَۃِ اسْجُدُ وْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلَّآ اِبْلِِیْسَ قَالَ ئَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا (اور یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا آدم کو سجدہ کرو وہ فورًا سوائے ابلیس کے سجدہ میں پڑگئے ابلیس بولا کیا میں اس شخص کو سجدہ کروں جس کو تو نے گارے سے بنایا ہے)
طینًا یہ تمیز ہے نمبر 2۔ موصول سے حال ہے اور اس کا عامل أاسْجُد ہے تقدیر عبارت یہ ہوگی : ء اسجد لَہٗ وَھُوَ طِیْن یعنی اَصْلُہ طین کیا میں اس کو سجدہ کروں اس حال میں کہ وہ مٹی ہے یعنی اس کی اصل مٹی ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 61۔” واذ قلنا ۔۔۔۔ تا ۔۔۔ خلقت طینا ً “ اس کو مٹی سے بنایا اور میں اس کو دیکھ چکا ہوں ۔ سعید بن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو بھیجا تا کہ وہ زمین کی مٹی سے ایک مٹھی لے آئے جو شیریں بھی اور نمکین بھی ۔ اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کو پتلا بنایا ۔ پس جس کو میٹھی خاک سے بنایا وہ تو خوش نصیب ہوگیا ، خواہ اس کے ماں باپ کافر ہوں اور جس کی تخلیق نمکین خاک سے بنی وہ بدبخت ہوا، خواہ وہ انبیاء زادہ ہی کیوں نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
61۔ 62:۔ یہ قصہ قرآن میں سات جگہ آیا ہے اول سورة بقرہ میں پھر سورة اعراف میں اور پھر سورة حجر میں اور اس سورة بنی اسرائیل میں اور سورة کہف اور سورة طہ اور سورة ص میں۔ حاصل اس قصہ کا یہ ہے کہ اللہ پاک نے جس وقت حضرت آدم ( علیہ السلام) کو پیدا کیا تو فرشتوں کو حکم دیا کہ تم سب کے سب حضرت آدم ( علیہ السلام) کو سجدہ کرو اور ابلیس بھی قوم جنات میں سے ایک مقرب فرشتہ ہوگیا تھا اس نے اپنے کو بڑا جانا اور حضرت آدم ( علیہ السلام) کو حقیر سمجھ کر سجدہ کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ یا اللہ تو نے حضرت آدم ( علیہ السلام) کو خاک سے پیدا کیا ہے اور میری پیدائش آگ خاک سے لطیف ہے اس لیے جوہر کثیف کو جوہر لطیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–69
(آیت نمبر (59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
اس رئویا سے کیا مراد ہے۔
قول باری ہے (وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے اس کو ہم نے ان لوگوں کے لئے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا) حضرت ابن عباس سے سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق ، نیز قتادہ حسن، ابراہیم، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ رئویا بیت المقدس تک رات کے سفر یعنی سفر معراج کے علاوہ ہے۔ جب آپ نے مشرکین سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس رئویا سے مراد ہے کہ آپ کو یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ بہت جلد مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوں گے۔
شجرئہ ملعونہ کیا ہے
قول باری ہے (والشجرۃ الملعونتہ فی القران۔ اور…
Read the full tafseer →113۔ قصہ آدم کی تذکیر ویاد دہائی برائے عبرت پذیری :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور وہ بھی یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کیلئے سجدہ کرو۔ “ کیونکہ آدم و ابلیس کے اس قصے میں بھی تمہارے لئے یہ بڑا اہم اور بنیادی درس ہے کہ ابلیس لعین تمہارا سب سے بڑا اور خطرناک دشمن ہے۔ پس اس کے دھوکے میں آکر کہیں تم راہ حق سے پھسل نہیں جانا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ نیزیہ کہ تکبر اور سرکشی ابلیس کا کام ہے نہ کہ کسی بنی آدم کا۔ اور یہ کہ اسی تکبر اور سرکشی کی بناء پر ابلیس ہمیشہ کیلئے مردود ہوگیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جو لوگ حق کے آگے جھکنے اور اس کو قبول کرنے کی بجائے تمردو سرکشی سے کام لیتے ہیں وہ دراصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
شیطان، اس کی چالیں اور اس کا دعو ٰی
تشریح : جیسا کہ شیطان کی ابتدا ہوئی اللہ کی نافرمانی سے اور انسان کی ابتدا ہوئی اللہ کی رحمت سے اور یہ قصہ بڑی تفصیل سے سورة بقرہ آیات 30 تا 39، سورة النساء آیات 117 سے 121 الاعراف آیات 11 سے 25، الحجر آیات 26 تا 42 ابراہیم آیت 22 ۔ ان تمام سورتوں میں شیطان اور انسان کی ہمیشہ کی لڑائی کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ پچھلی آیات میں اچھے اور نیک انسان کی صفات بیان کردی گئی ہیں پھر دہرائے دیتے ہیں۔ جو بھی شخص اللہ کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے گا دنیا و آخرت میں بھلائی حاصل کرے گا، مگر جو اس کے علاوہ راستہ اختیار کرے گا تو وہ گویا شیطان کا دوست بن گیا اور وہ شیطان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
(رکوع نمبر 7)
اسرارومعارف
آج جو تکبر انہوں نے اختیار کیا ہے یہ شیطان نے کیا تھا اور گمراہ ہوا یہ لوگ بھی اس کی باتوں میں آگئے اس کا واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نے سب فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو انہیں میں موجود تھا اور اسے بھی یہ حکم شامل تھا مگر وہ کہنے لگا بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جسے تو نے اے اللہ مٹی سے پیدا کیا ہے میں اس کے سامنے سجدہ کروں یعنی خود کو اس سے بڑا سمجھا اور اسی تکبر میں اللہ جل جلالہ کے حکم کو بھی ماننے سے انکار کردیا ، بلکہ دل کی بات زبان پر لے آیا اور کہنے لگا کہ آپ نے اس شخص کو مجھ پر فضیلت دے دی ، یعنی یہ تو ابھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–62
ف 1 کہ وہ میرے مکر و فریب میں آنے سے بچ جائیں گے۔
Read the full tafseer →(17:61) طینا۔ ای من طین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 65
طین مٹی۔ کر مت تو نے عزت دی۔ احتکن جڑیں اکھاڑ دوں گا۔ موفور بھرپور، پوری طرح۔ استفزز پھسلا لے، آمادہ کرلے۔ اجلب چڑھا کرلے آ۔ خیل گھوڑے ، سوار۔ رجل پیادے، پاؤں۔ غرور دھوکہ، فریب ۔
تشریح :- آیت نمبر 61 تا 65
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زندگی کی سچائیوں کو کہانیوں اور قصوں کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ عبرت و نصیحت کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور عملی زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے واقعہ کے صرف اسی پہلو کو بیان کیا ہے جس کی اس موقع پر ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت آدم اور شیطان کے واقعہ کو سورة نبی اسرائیل کے علاوہ چھ اور بڑی سورتوں میں بیان کیا گیا ہے۔ ان میں سورة البقرہ، سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
معراج کا ذکر
شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جس رات آنحضرت ﷺ کو معراج ہوئی۔ اس کی صبح کو آپ نے لوگوں سے معراج کا حال بیان کیا تاکہ لوگ ان کو سچا نبی جان کر ایمان لاویں۔ مشرکوں نے بیت المقدس کے پتے آپ سے پوچھے اور کئی قافلے عرب کے شام کو گئے ہوئے تھے ان قافلوں کا حال بھی پوچھا۔ آپ نے سب نشانیاں اور قافلوں کا سب حال بیان کردیا، مگر مشرک لوگ آپ کے جھٹلانے سے باز نہیں آئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ معراج اور دوزخ میں زقوم کا درخت لوگوں کے آزمانے کی نشانیاں ہیں۔ بہت لوگ غیب کی باتوں پر ایمان لا کر نجات پاویں گے اور بہت لوگ شیطان کی طرح اللہ کی حکمت میں اپنا وہم و قیاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
[46] اشارہ ہے معراج کی طرف۔ یہاں لفظ رؤیا خواب کے معنی میں نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں ہے۔
[47] یعنی کسی نے تصدیق اور کسی نے تکذیب کی۔
[48] یعنی زقوم کا درخت جس کے متعلق قرآن میں خبر دی گئی ہے کہ وہ دوزخ میں پیدا ہوگا اور دوزخیوں کو اسے کھانا پڑے گا۔ اس پر لعنت کرنے سے مراد اس کا اللہ کی رحمت سے دور ہونا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) آدم (علیہ السلام) اور فرشتوں کے قصہ کو قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر ذکر کیا ہے ، مقصد یہ ہے کہ بنی نوع انسان کو دینی قدومنزلت سے آگاہی ہو اور وہ اپنے رتبہ فضیلت سے آشنا ہو ، اس میں جذبہ خوداری پیدا ہو ، اور وہ سوائے اللہ کے اور کسی کے چوکھٹ پر نہ جھکے ، انہیں معلوم ہو کہ فرشتے تک ہمارے احترام میں جھک جاتے ہیں ، یہ قصہ بائیبل میں مذکور نہیں ہے ، یہ حضور کے غیوب مختصہ میں سے ہے کہ ابتدائے آفرینش کے واقعات بیان فرمائے ہیں ۔
Read the full tafseer →-6 1 اور وہ وقت قابل ذکر ہے جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم (علیہ السلام) کے روبرو اور آدم کے سامنے سجدہ کرو تو ان سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے سجدہ نہیں کیا اور کہنے لگا کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے بنایا ہے۔ یہ واقعہ کئی جگہ قرآن کریم میں گزر چکا ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی اللہ کے حکم میں شبہے نکالنے کافروں کے وہی چال ہے ابلیس کی۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–63
ف 6۔ اس پر مردود و مطرود ہوا۔
Read the full tafseer →آدم کی فوقیت تسلیم کرانے کے لئے سجدہ کا حکم اور ابلیس کا انکار :
78۔ خیر وشر دو طاقتیں الگ الگ ہیں خیر سے شر سے خیر ممکن نہیں ۔ انسان دونوں طاقتوں کے مجموعہ کا نام ہے گویا اس مرکب میں جو کچھ بیی اللہ نے رکھا ہے اس میں خیر وشر کی قوتیں بھی ودیعت کردی ہیں اور دونوں قوتوں کا چونکہ خالق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے اس نے اپنی مخلوقات میں سے خیر کو الگ مخاطب فرمایا اور شر کو الگ مخاطب کیا اور پھر دونوں کے مجموعہ کی تفہیم کے لئے ان دونوں کی الگ الگ گفتگو جو انکی فطرت اور سرشت کے مطابق تھی بیان فرما کر اس تیسری چیز یعنی انسان کے سامنے اس کو کھول کر رکھ دیا جو دراصل انسان کے اپنے ہی جسم کے مختلف اجزاء کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
Commentary
The word fitnah' (فِتنَہ) appearing in verse 60: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ (And We showed you the scene [ in the Night of Ascent - al-Mi` raj ] only to make it a test for the people) is used in the Arabic language to convey many different meanings. It could mean falling into error and going astray, or trial or test or some disorder or upheaval as well. At this place, the probability of all these meanings exists. Early Tafsir authorities - Sayyidah ` A'ishah, Sayyidna Mu` awiyah, Hasan, Mujahid and others - have taken fitnah' as…
Read the full tafseer →73. That is, We showed you such things during the Miraj so that they should have the first hand knowledge of the reality from a truthful and honest man like you and be warned by it to the right way. They, however, began to make fun of you, though We had already warned them through you that their evil ways would force them to eat of the Az-zaqqum. Instead of this they began to scoff at you, saying, just consider the logic of this man. On the one hand, he says that there is an awful fire burning in Hell and, on the other, he says that trees are growing in it.
74. Please also refer to (Surah…
Read the full tafseer →