مقصد معراج
اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے رسول ؑ کو تبلیغ دین کی رغبت دلا رہا ہے اور آپ کے بچاؤ کی ذمہ داری لے رہا ہے کہ سب لوگ اسی کی قدرت تلے ہیں، وہ سب پر غالب ہے، سب اس کے ماتحت ہیں، وہ ان سب سے تجھے بچاتا رہے گا۔ جو ہم نے تجھے دکھایا وہ لوگوں کے لیے ایک صریح آزمائش ہے۔ یہ دکھانا معراج والی رات تھا، جو آپ کی آنکھوں نے دیکھا۔ نفرتی درخت سے مراد زقوم کا درخت ہے۔ بہت سے تابعین اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ دکھانا آنکھ کا دکھانا، مشاہدہ تھا جو شب معراج میں کرایا گیا تھا۔ معراج کی حدیثیں بہت پوری تفصیل کے ساتھ اس سورت کے شروع میں بیان ہوچکی ہیں۔ یہ بھی گزر چکا ہے کہ معراج کے واقعہ کو سن کے بہت سے…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 70
یعنی تمہاری دعوت پیغمبرانہ کے ابتدائی دور میں ہی، جبکہ قریش کے ان کافروں نے تمہاری مخالفت و مزاحمت شروع کی تھی، ہم نے صاف صاف یہ اعلان کردیا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے، یہ ایڑی چوٹی کا زور لگا کر دیکھ لیں، یہ کسی طرح تیری دعوت کا راستہ نہ روک سکیں گے، اور یہ کام جو تو نے اپنے ہاتھ میں لیا ہے، ان کی ہر مزاحمت کے باوجود ہو کر رہے گا۔ اب اگر ان لوگوں کو معجزہ دیکھ کر ہی خبردار ہونا ہے، تو انہیں یہ معجزہ دکھایا جا چکا ہے کہ جو کچھ ابتدا میں کہہ دیا گیا تھا وہ پورا ہو کر رہا، ان کی کوئی مخالفت بھی دعوت اسلامی کو پھیلنے سے نہ روک سکی، اور یہ تیرا بال…
Read the full tafseer →معارف و مسائل
(آیت) وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ (یعنی شب معراج میں جو تماشا ہم نے آپ کو دکھلایا تھا وہ لوگوں کے لئے ایک فتنہ تھا) لفظ فتنہ عربی زبان میں بہت سے معانی کے لئے استعمال ہوتا ہے اس کے ایک معنی وہ ہیں جو خلاصہ تفسیر میں لئے گئے یعنی گمراہی۔ ایک معنی آزمائش کے بھی آتے ہیں ایک معنی کسی ہنگامہ و فساد کے برپا ہونے کے بھی آتے ہیں یہاں ان سب معانی کا احتمال ہے حضرت عائشہ ؓ اور معاویہ ؓ اور حسن اور مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس جگہ فتنہ سے مراد یہی آخری معنی لئے ہیں اور فرمایا کہ یہ فتنہ ارتداد کا تھا کہ جب رسول کریم ﷺ نے شب معراج میں بیت…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ۭ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا۔
تنبیہی نشانیوں کے باب میں قریش کا رویہ : تخویفی و تنبیہی نشانیوں کے باب میں پچھلی قوموں کا جو رویہ رہا ہے اوپر کی آیات میں اس کی طرف اشارہ فرمایا۔ اب یہ خاص آنحضرت ﷺ کی قوم کی بعض باتوں کا حوالہ دیا ہے جس سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اگر ان کی طلب پر ان کو بھی کوئی تخویفی نشانی دکھائی گئی تو ان کا رویہ بھی پچھلی قوموں سے کچھ مختلف نہ ہوگا۔ یہ بھی اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
60۔ 1 یعنی لوگ اللہ کے غلبہ و تصرف میں ہیں اور جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا نہ کہ جو وہ چاہیں گے، یا مراد اہل مکہ ہیں کہ وہ اللہ کے زیر اقتدار ہیں، آپ بےخوفی سے تبلیغ رسالت کیجئے، وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، ہم ان سے آپ کی حفاظت فرمائیں گے۔ یا جنگ بدر اور فتح مکہ کے موقع پر جس طرح اللہ نے کفار مکہ کو عبرت ناک شکست سے دو چار کیا، اس کو واضح کیا جارہا ہے۔
60۔ 2 صحابہ وتابعین نے اس رویا کی تفسیر عینی رویت سے کی ہے اور مراد اس سے معراج کا واقعہ ہے، جو بہت سے کمزور لوگوں کے لئے فتنے کا باعث بن گیا اور وہ مرتد ہوگئے۔ اور درخت سے مراد (تھوہر) کا درخت ہے، جس کا مشاہدہ نبی ﷺ نے شب معراج، جہنم میں کیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
32: یعنی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بتادیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ یہ ہٹ دھرم لوگ کسی صورت میں ایمان نہیں لائیں گے، چنانچہ ان کی ہٹ دھرمی کی دو مثالیں دی گئی ہیں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو معراج کے موقع پر جو نظارہ دکھایا وہ آپ کے پیغمبر ہونے کی کھلی دلیل تھی، کافروں نے آپ سے بیت المقدس کے بارے میں مختلف سوالات کئے، اور آپ نے سب کے ٹھیک ٹھیک جوابات دے دئیے، جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ واقعی آپ نے راتوں رات یہ سفر کیا ہے ؛ لیکن اتنی کھلی ہوئی بات سامنے آجانے کے بعد بھی یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے رہے، دوسری مثال یہ ہے کہ قرآن کریم نے فرمایا تھا کہ زقوم کا درخت دوزخیوں کی غذا…
Read the full tafseer →واقعہ اسرا کے بعد بعض وہ لوگ جو حضور اکرم ﷺ پر ایمان لاچکے تھے ، مرتد ہوگئے اور دوسرے اہل ایمان اس واقعہ کع سن کر مزید ثابت قد ہوگئے اور ان کے یقین میں ضافہ ہوگیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس رات اللہ نے اپنے بندے کو جو کچھ دکھایا ، وہ لوگوں کے لئے فتنے کا موجب بنا اور یہ اہل ایمان کے لئے آزمائش تھی۔ ” اللہ نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے “ کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اللہ کا یہ وعدہ تھا کہ لوگ آپ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور ان کی رسائی آپ تک نہ ہوسکے گی۔
حضور اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ ان کی رسائی ان تک نہیں ہوسکتی کیونکہ آپ کو سچے خواب میں یہ بات من عند اللہ بتا دی گئی تھی اور سفرا…
Read the full tafseer →4 شاید آپ کو خیال ہوا ہوگا کہ فرمائشی نشان نہ دکھلانے پر کفار کو ہنسنے اور طعن کرنے کا موقع ملے گا کہ اگر سچے پیغمبر ہوتے تو ہماری طلب کے موافق نشان دکھلاتے۔ اس لیے آپ کو مطمئن کیا کہ سب لوگوں کو تیرے رب کے علم وقدرت نے گھیر رکھا ہے نہ کوئی اس کے علم سے باہر ہے نہ قدرت کے نیچے سے نکل کر جاسکتا ہے سب اس کے قبضہ میں ہیں آپ ان کے طعن وتشنیع کی طرف قطعاً التفات نہ کریں۔ وہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اپنا کام کیے جائیے اور ان کے فیصلوں کو بالکلیہ ہم پر چھوڑ دیجئے۔ ہم جانتے ہیں کہ فرمائشی نشان دیکھ کر بھی یہ لوگ آپ کی بات ماننے والے نہیں تھے اور اس کے بعد ہماری سزا سے چھوٹ کر نکل بھاگنا بھی ممکن نہ…
Read the full tafseer →آیت 60 وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ
قرآن حکیم کی بہت سی ایسی آیات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ‘ مثلاً : وَّاللّٰہُ مِنْ وَّرَآءِہِمْ مُّحِیْطٌ البروج ”اور اللہ ان کا ہر طرف سے احاطہ کیے ہوئے ہے“۔ یہ لوگ جب ایسی آیات سنتے ہیں تو ڈرنے کی بجائے فضول بحث پر اتر آتے ہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے ؟ کہاں ہے اللہ ؟ ہمارا احاطہ کیوں کر ہوا ہے ؟
اگر فلسفیانہ پہلو سے دیکھا جائے تو اس آیت میں ”حقیقت و ماہیت وجود“ کے موضوع سے متعلق اشارہ پایا جاتا ہے جو فلسفے کا مشکل ترین مسئلہ ہے اور آسانی سے سمجھ میں آنے والا نہیں ہے یعنی ایک وجود خالق کا ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
75 اس سے مراد سورة بروج کی آیت نمبر 19 اور 20 ہیں، یعنی کافر تو آپ کو اور اس دعوت قرآن کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ اللہ انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور سورة بروج اس سورة بنی اسرائیل سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ کفار مکہ اپنی معاندانہ سرگرمیوں میں جتنی بھی کوشش چاہے کرلیں۔ یہ ایک حد سے آگے نہ جاسکیں گے اور ان کی ان کوششوں کے علی الرغم دعوت اسلام پھیل کر رہے گی۔
76 کافر حسی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے :۔ واقعہ معراج ایک خرق عادت واقعہ اور معجزہ تھا۔ کفار نے اس معجزہ کا اتنا مذاق اڑایا کہ بعض ضعیف الاعتقاد مسلمان بھی شک میں پڑگئے۔ پھر کافر جنہوں نے پہلے بیت…
Read the full tafseer →88۔ (اپنے احاطہ علم سے) حق تعالیٰ کی احاطت علمی اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ ہے۔ خدائے اسلام مشرکوں کے خدا کی طرح محدود علم والا نہیں۔ اسے بندوں کے سارے حالات کا علم ہے ان کے حال کا بھی، استقبال کا بھی۔ اے علما کما رواہ غیر واحد عن ابن عباس ؓ (روح)
89۔ اشارہ اس واقعہ اسراء یا معراج کی جانب ہے، جس کا ذکر سورة کے بالکل شروع میں آچکا ہے۔ یعنی وہ عجائب قدرت جو ہم نے آپ کو شباشب کے سفر بیت المقدس میں دکھا دیئے تھے۔ وھی مارای فی لیلۃ الاسراء من العجائب (بحر) المراد بھا ما اراہ اللہ تعالیٰ لیلۃ الاسراء وھو قول اکثر المفسرین (کبیر) المراد بالرؤیا ما عانیہ ﷺ لیلۃ اسری بی من العجائب السماویۃ والارضیۃ کما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت نمبر 53 تا 60
ترجمہ : اور میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ کفار سے اچھی بات کہو بلاشبہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے، یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، یعنی اس کی عداوت بالکل ظاہر ہے، اور وہ کلمہ جو بہتر ہے وہ یہ کہ ” تمہارا رب تمہارے بارے میں تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ جانتا ہے، اگر وہ چاہے تو توبہ اور ایمان کے ذریعہ تمہارے اوپر رحم فرمائے یا اگر تم کو عذاب دینا چاہے تو تم کو کفر پر موت دے کر تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں اور یہ حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اور وہ آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے اور ان…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ : اور (یاد کرو) جب ہم نے آپ ﷺ سے کہا تھا (آپ کے پاس وحی
بھیجی تھی) کہ آپ کا رب سب لوگوں کو گھیرے ہوئے ہے یعنی اللہ کی ذات علم قدرت سب کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے لہٰذا تم کسی کی پروا نہ کرو اور جو پیام آپ کو دے کر بھیجا گیا وہ پہنچاؤ یا (الناس سے مراد قریش ہیں) مطلب یہ ہے کہ اللہ قریش کو گھیرے ہوئے ہے یعنی ان کو ہلاک کر دے گا (احاط بہم ان کو ہلاک کردیا) اس مطلب پر یہ آیت واقعۂ بدر کی بشارت ہوگی اور چونکہ آئندہ واقعۂ بدر کا ظہور پذیر ہونا یقینی تھا اس لئے ماضی کے صیغہ سے تعبیر کردی گئی (گویا ایسا ہوچکا)
ابو یعلی نے حضرت ام ہانی ؓ کی روایت سے…
Read the full tafseer →(60) اور آپ وہ وقت یاد کیجیے، جب کہ ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کا رب تمام مکہ والوں سے بخوبی واقف ہے کہ کون ان میں سے ایمان لایا اور کون ایمان نہیں لائے گا۔
اور ہم نے واقعہ معراج میں جو تماشا حالت بیداری میں آپ ﷺ کو دکھا دیا تھا، اور شجرۃ زقوم جس کی قرآن کریم میں مذمت کی گئی ہے، ان دونوں چیزوں کو ان مکہ والوں کے لیے موجب گمراہی کردیا۔
اور ہم ان کو شجرۃ زقوم سے جو کہ طعام کفار ہے ڈراتے رہتے ہیں مگر اس وعید سے ان کی بڑی سرکشی بڑھی چلی جاتی ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس“۔ (الخ)
ابویعلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ام ہانی ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو جب رات کے وقت…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ : لوگوں سے مراد کفار مکہ ہیں اور ان کا احاطہ کرلینے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا پورا زور لگانے کے باوجود محمد ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور نہ آپ کی دعوت کو پھیلنے سے روک سکے۔ اس سے مقصود آپ ﷺ کو حوصلہ دلانا ہے کہ آپ بےخوف و خطر اپنی دعوت پیش کرتے رہیے، ان لوگوں کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کیجیے، یہ آپ کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے، کیونکہ یہ سب پوری طرح ہماری گرفت میں ہیں۔ rnۭ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ : ”اَلرُّویَا“ ”رَأَی یَرَی“ (ف) کا مصدر ہے، آیت میں مذکور ”لاتی ارینک“ سے مراد زمین اور آسمانوں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 60
قولہ تعالیٰ : واذقلنا لک ان ربک احاطہ بالناس حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہاں الناس سے مراد اہل مکہ ہیں، اور اس کے انہیں گھیرنے سے مراد اس کا انہیں ہلاک کرنا ہے، یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ عنقریب انہیں ہلاک کردے گا۔ اور اس کو ماضی کے لفظ کے ساتھ ذکر کرنا اس کے تحقیق اور وقوع کے یقینی ہونے کی وجہ سے ہے۔ اور وہ ہلاک کرنا جس کا وعدہ کیا گیا ہے اس سے مراد وہ ہے جو کچھ یوم بدر اور یوم فتح کو ہوا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ احاطہ بالناس کا معنی ہے، یعنی اس کی قدرت نے ان کا احاطہ کیا ہوا ہے، پس وہ اس کے قبضے میں ہیں اور وہ اس کی مشیت سے نکلنے پر قدرت نہیں رکھتے : یہ حضرت مجاہد اور ابن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
1:۔ احمد، نسائی، بزار، ابن جریر، ابن منذر، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی نے دلائل اور ضیاء نے مختارہ میں (حاکم نے تصیحح بھی فرمائی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ ان کے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیجئے اور یہ کہ ان سے پہاڑ ہٹ جائیں تو وہ کھیتی باڑی کریں اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی اگر آپ چاہیں تو میں ان کو مہلت دے دوں اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کا سوال پورا کردوں لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو میں ان کو ہلاک کردوں گا جیسے ان سے پہلی امتیں ہلاک ہوئیں آپ نے فرمایا نہیں (ان کا مطالبہ پورا نہ کریں) بلکہ ان کو مہلت دیجئے تو اس پر (یہ آیت نازل ہوئی) ”…
Read the full tafseer →[وَاِذْ : اور جب ] [قُلْنَا : ہم نے کہا ] [لَكَ : آپ ﷺ سے ] [ان : (کہ) بیشک ] [رَبَّكَ : آپ ﷺ کے رب نے ] [اَحَاطَ : گھیرے میں لیا ] [بِالنَاسِ : لوگوں کو ] [وَمَا جَعَلْنَا : اور ہم نے نہیں بنایا ] [الرُّءْيَا الَّتِيْٓ: اس خواب کو جو ] [اَرَيْنٰكَ : ہم نے دکھایا آپ ﷺ کو ] [اِلَّا : مگر ] [فِتْنَةً : ایک آزمائش ] [لِلنَاسِ : لوگوں کے لئے ] [وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ : اور لعنت کئے ہوئے درخت کو (بھی)] [فِي الْقُرْاٰنِ : جو قرآن میں ہے ] [وَنُخَوِّفُهُمْ : اور ہم خوف دلاتے ہیں ان کو ] [فَمَا يَزِيْدُهُمْ : پھر وہ زیادہ نہیں کرتا ان کو ] [اِلَّا : مگر ] [طُغْيَانا كَبِيْرًا : ایک بڑی سرکشی ]
Read the full tafseer →آپ کے رب کا علم سب کو محیط ہے، آپ کی رؤیا اور شجرہ ملعونہ لوگوں کے لیے فتنہ میں پڑنے کا سبب ہیں
اس آیت میں اول تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خطاب کرکے یوں فرمایا کہ آپ وہ وقت یاد کریں جب ہم نے آپ کو یہ بتایا کہ آپ کا رب اپنے علم کے اعتبار سے سب لوگوں کو احاطہ کیے ہوئے ہے اسے سب احوال ظاہرہ و باطنہ، گزشتہ موجودہ اور آئندہ سب کا علم ہے انہیں احوال میں سے یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ ایمان نہ لائیں گے اور بہت سے لوگ ایمان لاکر بعض آزمائشوں کی باتوں میں مبتلا ہو کر ایمان پر جمنے کی بجائے ایمان سے پھرجائیں گے۔
اس کے بعد یوں فرمایا کہ ہم نے جو کچھ آپ کو عجیب چیزیں دکھائیں اور قرآن میں جو ایک ملعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
تلقین حسن خطاب با اہل کتاب و جوابات از شبہات مشرکین
قال اللہ تعالیٰ : وقل لعبادی یقولوا التی ہی احسن .... الیٰ .... الا طغیانا کبیرا۔
(ربط) توحید اور قیامت کی حقانیت پر دلائل قائم کرکے مسلمانوں کو تعلیم فرماتے ہیں کہ مخالفین سے جب بحث کی نوبت آئے تو الفاظ نرم ہونے چاہیں کیونکہ سختی سے بسا اوقات سب و شتم کی نوبت آجاتی ہے اور شیطان باہمی نفرت اور عداوت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور مخالف ضد پر اتر آتا ہے ایسی ھالت میں دعوت و تبلیغ بےسود ہوجاتی ہے۔ بعد ازاں مشرکین کے چند شبہات کے جوابات دئیے جو نہایت نرم ہیں اور باوجود نرم ہونے کے نہایت محکم ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ! میرے بندوں یعنی…
Read the full tafseer →58:۔ ہم نے آپ سے کہہ دیا اب ان مشرکین پر عذاب آنے کو ہے کیونکہ وہ ایک عظیم الشان معجزہ اسراء دیکھ کر بھی ایمان لانے پر تیار نہیں ہوئے اس لیے ان کی ہلاکت کا وقت اب بہت قریب ہے۔ الرویا سے واقعہ معراج مراد ہے۔ واقعہ معراج چونکہ عالم بالا سے تعلق رکھتا ہے جو اس عالم دنیا کے اعتبار سے خواب اور رویا ہے اس لیے اسے رویا کہا گیا لہذا اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ معراج جسمانی نہیں تھا بلکہ روحانی تھا۔ محاورات عرب میں یہ استعمال موجود ہے کہ جو کچھ عالم بیداری میں آنکھوں سے دیکھا جائے اس پر رویا کا اطلاق کردیا جائے۔ عن ابن عباس قالھی رویا عین اریھا رسول اللہ ﷺ لیلۃ اسری بہ الی بیت المقدس (قرطبی ج 10 ص 282)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ربط آیات :
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا کہ وہ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ، وہ نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں ، ان میں سے بعض وہ ہیں جو خود اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں پھر اللہ نے قیامت سے پہلے تمام بستیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا کہ انہیں سخت سزا دیں گے اور یہ بھی کہ اللہ کے علم میں یہ حتمی فیصلہ ہے کہ ایسا ضرور ہوگا اور نافرمانوں کو انکی نافرمانی کی ضرور سزا دی جائیگی ،
(شان نزول)
اب آج پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا ہے جو حضور ﷺ سے طرح طرح کی نشانیاں اور معجزات طلب کرتے تھے اس آیت کے شان نزول میں طبرانی اور بعض…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ۭ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا 60ۧ
حيط
الحائط : الجدار الذي يَحُوط بالمکان، والإحاطة تقال علی وجهين :
أحدهما : في الأجسام
نحو : أَحَطْتُ بمکان کذا، أو تستعمل في الحفظ نحو : إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ [ فصلت/ 54] ،
والثاني : في العلم
نحو قوله : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12]
( ح و ط ) الحائط ۔
دیوار جو کسی چیز کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہو اور
احاطۃ ( افعال ) کا لفظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ترکیب : ان کذب فی موضع رفع فاعل منعنا وفیہ حذف تقدیرہ الا اھلاک المکذبین ونحن ما یزید اھلاک قریش فلذالم نرسل بالآیات المسئولۃ بہا 1 ؎۔ 1 ؎ ومانرسل بالآیات المقترحۃ الاتخویفالمن ارسلت نبی علیھم مما یعصبھا من العذاب المستاصل (ابوالمسعود) ۔
تفسیر : مشرکین مکہ جواب سے عاجز آ کر یہ بھی کہا کرتے تھے اگر آپ نبی ہیں تو کوہ صفا کو سونے کا بنا دیں اور مکہ کے پہاڑوں کو ہٹا دیں تاکہ کھیتی کیا کریں۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی و ما منعنا الخ کہ ہم یہ بھی کرسکتے ہیں مگر یوں نہیں کرتے کہ پہلی امتوں میں بھی لوگوں نے انبیاء سے سوال کر کے معجزات طلب کئے تھے اور پہلے وعدہ کرلیا تھا کہ اگر ہماری خواہش کے…
Read the full tafseer →وَاِذْقُلْنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ ط وَمَا جَعَلْنَا الرُّئْ یَا الَّتِیْٓ اَرَیْنٰکَ اِلاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَ فِی الْقُرْاٰنِ ط وَنُخَوِّفُھُمْ لا فَمَا یَزِیْدُ ھُمْ اِلاَّ طُغْیَانًا کَبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 60)
(اور اس وقت کو یاد کرو جس وقت ہم نے آپ ﷺ سے کہا تھا کہ بیشک آپ ﷺ کا رب لوگوں کو گھیر چکا ہے اور ہم نے وہ دکھاوا آپ ﷺ کو نہیں دکھایا، مگر م لوگوں کے لیے آزمائش اور وہ درخت بھی جس پر قرآن کریم میں لعنت کی گئی ہے، اور ہم انھیں ڈراتے ہیں لیکن ان کے اندر سوائے ایک بڑی سرکشی کے کسی اور چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔ )
ہدایت کے لیے چند…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نیا خطاب۔
اس آیت مبارکہ میں جس خواب کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کہ ہم نے آپ کو پہلے ہی بتلادیا تھا کہ آپ کا رب لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ لوگوں کے لیے آزمائش ہے۔
اس آیت مبارکہ میں جس خواب کا تذکرہ کیا گیا ہے اس کے بارے میں صحابہ کرام ؓ کی دو آراء ہیں۔
1۔ صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ یہ خواب غزوہ بدر سے پہلے آپ کو دکھلایا گیا کہ آپ ﷺ اس معرکہ میں کامیاب ہوں گے اور آپ کا دشمن ناکام ہوگا۔ یہ خواب مشرکین کے لیے کڑی آزمائش ثابت ہوا۔ جسے کفار اور مشرکین نے مذاق کا نشانہ بنایا۔
2۔ مفسر قرآن حضرت…
Read the full tafseer →الرئویا سے مراد :
60: وَاِذْقُلْنَا لَکَ اِنَّ رَبَّکَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّئْ یَا الَّتِیْ اَرَیْنٰکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ (جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپکا رب تمام لوگوں کا احاطہ کرنے والا ہے۔ اور وہ دکھاوا جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا۔ اس کو ہم نے لوگوں کیلئے موجب فتنہ بنادیا) اذ سے پہلے اذکر محذوف ہے۔ یعنی یاد کیجئے اس بات کو کہ جب ہم نے آپ کی طرف وحی کی کیا آپ کا رب اپنے علم وقدرت سے قریش کا احاطہ کرنے والا ہے۔ وہ تمام اس کی مٹھی میں ہیں آپ ہرگز ان کی پرواہ نہ کریں اور اپنا کام کرتے رہیں اور پیغام کو پہنچاتے رہیں۔
(2) ہم نے آپ کو جو واقعہ بدر کے متعلق خوشخبری دی اور…
Read the full tafseer →60۔” واذقلنا لک ان ربک احاط بالناس “ وہ ہمارے قبضہ میں ہیں ہم سے بھاگ کر نکلنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ تمہاری محافظ ہے اور تمہارے آنے والے دشمنوں کو تم سے رک دے گی ، لہٰذا تبلیغ کے کام میں کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنے کام کو انجام دیجئے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ” واللہ یعصک من الناس “۔۔۔ ” وما جعلنا الرویا التی اریناک الافتنۃ للناس “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کے نزدیک اس آیت سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات عجائبات اور آیات نہیں دیکھیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ رئویا سے مراد رئویت یعنی آنکھوں سے دیکھنا ۔ سعید بن جبیر ، حسن بصری ، مسروق ، قتادہ ، مجاہد ، عکرمہ ابن جریج اور اکثر…
Read the full tafseer →60:۔ مسند ابویعلی موصلی تفسیر ابراہیم بن مندر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردویہ میں جو شان نزول اس آیت کی کئی صحابہ سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس رات آنحضرت ﷺ کو معراج ہوتی اس کی صبح کو آپ ﷺ نے لوگوں سے معراج کا حال بیان کیا تاکہ لوگ ان کو سچا نبی جان کر ایمان لاویں مشرکوں نے بیت المقدس کے پنے آپ ﷺ سے پوچھے اور کئی قافلے عرب کے ملک شام کو گئے ہوئے تھے ان قافلوں کا حال بھی آپ ﷺ سے پوچھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی وقت بیت المقدس اور ان قافلوں کو آپ ﷺ کے آگے کردیا آپ ﷺ نے بیت المقدس کی سب نشانیاں اور ان قافلوں کا سب حال معراج اور دوزخ میں زقوم کا درخت لوگوں کے آزمانے کی نشانیاں ہیں بہت لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–69
(آیت نمبر (59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
اس رئویا سے کیا مراد ہے۔
قول باری ہے (وما جعلنا الرویا التی اریناک الا فتنۃ للناس اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے اس کو ہم نے ان لوگوں کے لئے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا) حضرت ابن عباس سے سعید بن جبیر کی روایت کے مطابق ، نیز قتادہ حسن، ابراہیم، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ یہ رئویا بیت المقدس تک رات کے سفر یعنی سفر معراج کے علاوہ ہے۔ جب آپ نے مشرکین سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے آپ کو جھٹلایا ۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس رئویا سے مراد ہے کہ آپ کو یہ دکھلایا گیا تھا کہ آپ بہت جلد مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوں گے۔
شجرئہ ملعونہ کیا ہے
قول باری ہے (والشجرۃ الملعونتہ فی القران۔ اور…
Read the full tafseer →108۔ تنبیہی نشانیوں کے بارے میں کفار قریش کا رویہ :۔
کہ انہوں نے بھی ایسی نشانیوں کا مذاق اڑایا اور ان کی تکذیب کی۔ مثلا جب ہم نے آپ کو خبر دی کہ بیشک آپ کے رب نے سب لوگوں کو گھیرے میں لے کر رکھا ہے اپنے علم قدرت کے اعتبار سے۔ سو یہ نہ تو اس کے علم محیط سے باہر ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اس کی گرفت وپکڑ اور دائرہ قدرت سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی یہ اس بل بوتے کے مالک ہوسکتے ہیں کہ حق کے غلبہ و انتظار کو روک سکیں۔ سو یہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکیں گے۔ لہذا آپ ان کی پرواہ کیے بغیر حق کی تبلیغ کیے جائیں۔ یہ اب تک آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکے نہ آئندہ بگاڑ سکیں گے۔ اور یہ ایک بڑا ثبوت ہے اس بات کا کہ آپ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
انسان کی آزمائش کے طریقے
تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو ہر وقت کہتے ہیں کہ ہمیں معجزہ دکھائیں جیسا کہ پچھلی قوموں کو دکھائے گئے۔ پہلے انسان بالکل ہی سیدھا سادھا تھا تو اس وقت کے مطابق ان کو معجزے دکھائے گئے، مثلاً حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کو اونٹنی کا معجزہ دیا گیا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے ایمان قبول نہ کیا اور یہ آخری حد ہوتی ہے، لہٰذا ان کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :” کہ آپ کا معجزہ تو یہ ہے کہ ہم نے کہا کہ ” آپ کا رب لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ “ (بنی اسرائیل :60)
اسی طرح ایک جگہ فرمایا :
” مگر یہ کافر جھٹلانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ میرے بندوں یعنی مسلمانوں سے کہئے کہ بات خوبصورت انداز میں کیا کریں اس میں سختی یا سب وشتم نہ ہو کہ سب وشتم سے یا سخت کلامی سے شیطان کو فساد پھیلانے کا موقع ملتا ہے اور انسانوں کو آپس میں لڑاتا ہے تو بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔
(عام گفتار میں بھی اور دینی تبلیغ میں بھی سخت کلامی درست نہیں خواہ بات کفار ہی سے کیوں نہ کی جائے)
مسلمانوں کو آپس میں تو بات زیب ہی اخلاق سے دیتی ہے اور پھر جب بات دین کی وہ اور اللہ جل جلالہ اور اس کے نبی ﷺ کے حوالے سے کی جائے تو اور زیادہ محتاط لب و لہجہ ضروری ہے ، خواہ مخاطب بدکار اور بےدین ہی کیوں نہ ہو یہ بات بات پہ دوسروں کو…
Read the full tafseer →ف 7 لوگوں سے مراد کفار مکہ ہیں اور ان کا احاطہ کرلینے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنا پورا زور لگانے کے باوجود محمد ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے اور نہ آپ کی دعوت کو پھیلنے سے روک سکے۔ اس سے مقصود آنحضرت کو حوصلہ دلانا ہے کہ آپ بےخطر اپنی دعوت پیش کرتے رہئے ان لوگوں کی مخالفت کی کوئی پروا نہ کیجیے۔ یہ آپ کا بال تک بیکا نہیں کرسکتے۔8 کہ کون اسے سچا مان کر اپنے ایمان کا ثبوت دیتا ہے اور کون سا یجھٹلا کر کفر کی دلدل میں پڑا رہتا ہے یا کفر کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ مراد معراج کا واقعہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ جب نبی ﷺ نے واپسی کے عبد اسے لوگوں سے بیان فرمایا تو قریش نے اس کی سخت تکذیب کی اور آپ کا حد سے…
Read the full tafseer →(17:60) واذ قلنا۔ واذکر زمان قولنا بواسطۃ الوحی۔ یاد کرو وہ وقت جب ہم نے بواسطہ وحی کہا تھا۔
احاط۔ اس نے گھیر لیا۔ اس نے احاطہ کرلیا۔ اس نے قابو میں کرلیا۔ احاطۃ مصدر جس کے معنی کسی شے پر اس طرح چھا جانے کے ہیں (علمی طور پر، نفسیاتی طور پر، یا جسمانی طور پر) کہ اس سے فرار ممکن نہ ہو۔ حضرت ابن عباس کے نزدیک یہاں احاطہ علمی مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے ماضی ۔ حال۔ مستقبل۔ ظاہروباطن سب کا دقیق عمیق علم کامل ہے۔
الرء یا۔ خواب ۔ قرآن مجید میں یہ لفظ بغیر وائو کے صرف ہمزہ کے ساتھ بغیر مرکز ہمزہ (یبغیر نقطہ کے) لکھا جاتا ہے۔ یہ رأی یری کا مصدر ہے اور بروزن فعلی اسم بھی ہے بمعنی خواب ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 60
مامنعنا ہمیں نہیں روکا۔ نرسل ہم بھیجتے ہیں۔ مبصرۃ دیکھنے کو، ذریعہ بصیرت۔ تخویف ڈرانے کو۔ احاط گھیر لیا، قابو کرلیا۔ الرؤ یا خواب ، دکھاوا۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ الملعونۃ لعنت کی گئی۔ طغیان سرکشی، نافرمانی۔
تشریح : آیت نمبر 59 تا 60
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے کبھی کہتے کوہ صفا کو سونے کا بنا دیا جائے کبھی کہتے مکہ کے چاروں طرف جو پہاڑ ہیں ان کو ہٹا کر صاف اور کھلا ہوا میدان بنا دیا جائے تاکہ کھیتی باڑی کی جاسکے، کبھی کہتے کہ ہمارے وہ رشتہ دار جو مر چکے ہیں ان کو زندہ کردیا جائے تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
معراج کا ذکر
شان نزول : اس کا حاصل یہ ہے کہ جس رات آنحضرت ﷺ کو معراج ہوئی۔ اس کی صبح کو آپ نے لوگوں سے معراج کا حال بیان کیا تاکہ لوگ ان کو سچا نبی جان کر ایمان لاویں۔ مشرکوں نے بیت المقدس کے پتے آپ سے پوچھے اور کئی قافلے عرب کے شام کو گئے ہوئے تھے ان قافلوں کا حال بھی پوچھا۔ آپ نے سب نشانیاں اور قافلوں کا سب حال بیان کردیا، مگر مشرک لوگ آپ کے جھٹلانے سے باز نہیں آئے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ یہ معراج اور دوزخ میں زقوم کا درخت لوگوں کے آزمانے کی نشانیاں ہیں۔ بہت لوگ غیب کی باتوں پر ایمان لا کر نجات پاویں گے اور بہت لوگ شیطان کی طرح اللہ کی حکمت میں اپنا وہم و قیاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–63
[46] اشارہ ہے معراج کی طرف۔ یہاں لفظ رؤیا خواب کے معنی میں نہیں بلکہ آنکھوں سے دیکھنے کے معنی میں ہے۔
[47] یعنی کسی نے تصدیق اور کسی نے تکذیب کی۔
[48] یعنی زقوم کا درخت جس کے متعلق قرآن میں خبر دی گئی ہے کہ وہ دوزخ میں پیدا ہوگا اور دوزخیوں کو اسے کھانا پڑے گا۔ اس پر لعنت کرنے سے مراد اس کا اللہ کی رحمت سے دور ہونا ہے۔
Read the full tafseer →مدارک روحانیہ کا ارتقاء :
(ف 1) اس آیت بتایا ہے کہ معراج جسمانی کا معجزہ قابل انکار نہ تھا ، مگر تم نے انکار کیا ، حالانکہ اس میں کیا استحالہ ہے ؟ چاہئے تو یہ تھا کہ آپ لوگ اس حیرت انگیز ارتقاء سے عبرت حاصل کرتے ، اور حضور ﷺ کے مدارک روحانیہ کی برتری کے قائل ہوتے اور یہ کہ انکار کرتے ہو ۔
اسی طرح قرآن میں شجر زقوم کا ذکر کیا گیا ، اور تمہیں اعتراض سوجھا ، کہ آگ میں کیونکر اشجار پیدا ہو سکتے ہیں ، حالانکہ تم وہاں کی آگ کی نوعیت سے واقف نہیں ، اور تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کے سب کچھ اختیار میں ہے ۔
جب ان باتوں نے تم میں سوائے انکار کے اور کوئی جذبہ پیدا نہیں کیا تو مزید معجزات سے کیا حاصل ۔
Read the full tafseer →-60 اور وہ وقت یاد کیجیے جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے پروردگار کی قدرت اور اس کے علم نے تمام لوگوں کو احاطہ میں لے رکھا ہے اور سب کو گھیرے میں لے رکھا ہے اور وہ دکھاوا جو ہم نے آپ کو دکھایا تھا یعنی معراج کی شب میں جو عجائبات قدرت آپ کو دکھائے تھے اس دکھاوے کو اور اس درخت کو جس کی مذمت قرآن کریم میں کی گئی ہے یعنی زقوم کا درخت جو دوزخی کھائیں گے۔ ان دونوں چیزوں کو ہم نے محض لوگوں کی آزمائش و ابتلاء کا ذریعہ بنایا اور ان کو خوف دلاتے اور ڈراتے رہتے ہیں مگر ہمارا ڈرانا ان کی سرکشی اور طغیانی کو بہت بڑھاتا ہے اور ان کی حد سے بڑھی ہوئی سرکشی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یعنی جو چیز ہدایت میں دخل رکھتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 5۔ اور طبیعتیں ان کی اور ان کی مشابہ ہیں، پس یہ بھی تکذیب کریں گے۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام ! تیرے رب کی یہ بات کہ ” میں نے لوگوں کو گھیرے میں لے رکھا ہے “ کیسی رہی ؟
74۔ سورة البروج میں اللہ تعالیٰ نے بطور پیش گوئی ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اور تیری تکذیب پر تل چکے ہیں اور انکا کام صرف جھٹلانا ہے ” اللہ نے انکو گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ “ (85 : 20) انکے جھٹلانے سے نہ تو اس قرآن کریم کا کچھ بگڑے گا اور نہ تیرا بلکہ اس قرآن کریم کا لکھا امٹ اور اٹل ہے جو اللہ تعالیٰ کی لوح محفوظ میں ثبت ہوچکا ہے ، جس کے اندر کوئی ردوبدل نہیں کرسکتا اور نہ ہی ہو سکتا ہے جو بات اس میں لکھ دی گئی ہے وہ پوری ہو کر رہنے والی ہے تمام دنیا مل کر بھی اس کو باطل کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
Commentary
The word fitnah' (فِتنَہ) appearing in verse 60: وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ (And We showed you the scene [ in the Night of Ascent - al-Mi` raj ] only to make it a test for the people) is used in the Arabic language to convey many different meanings. It could mean falling into error and going astray, or trial or test or some disorder or upheaval as well. At this place, the probability of all these meanings exists. Early Tafsir authorities - Sayyidah ` A'ishah, Sayyidna Mu` awiyah, Hasan, Mujahid and others - have taken fitnah' as…
Read the full tafseer →70. That is, at the very beginning of your Prophethood, when the disbelievers of the Quraish had started opposition to your message, We declared that We are encircling them. They might try their best to obstruct your message, but they will inevitably fail in this and your mission will succeed regardless of opposition. Can’t they see that this declaration has come out true as a miracle, for their opposition has failed to hinder your message, and they have not been able to do any harm to you at all. This was a clear sign of the fact that the mission of the Prophet (peace be upon him) was being…
Read the full tafseer →