عجیب و غریب مانگ
حضور ﷺ کے زمانے کے کافروں نے آپ سے کہا کہ حضرت آپ کے پہلے کے انبیاء میں سے بعض کے تابع ہوا تھی، بعض مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے، وغیرہ۔ اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم بھی آپ پر ایمان لائیں تو آپ اس صفا پہاڑ کو سونے کا کر دیئجے، ہم آپ کی سچائی کے قائل ہوجائیں گے۔ آپ پر وحی آئی کہ اگر آپ کی بھی یہی خواہش ہو تو میں اس پہاڑ کو ابھی سونے کا بنا دیتا ہوں۔ لیکن یہ خیال رہے کہ اگر پھر بھی یہ ایمان نہ لائے تو اب انہیں مہلت نہ ملے گی، فی الفور عذاب آجائے گا اور تباہ کر دئے جائیں گے۔ اور اگر آپ کو انہیں تاخیر دینے اور سوچنے کا موقع دینا منظور ہے تو میں ایسا کروں۔ آپ نے فرمایا اے اللہ میں…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 67
یعنی محسوس معجزات جو دلیل نبوت کی حیثیت سے پیش کیے جائیں، جن کا مطالبہ کفار قریش بار بار نبی ﷺ سے کیا کرتے تھے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 68
مدعا یہ ہے کہ ایسا معجزہ دیکھ لینے کے بعد جب لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں، تو پھر لا محالہ ان پر نزول عذاب واجب ہوجاتا ہے، اور پھر ایسی قوم کو تباہ کیے بغیر نہیں چھوڑا جاتا۔ پچھلی تا ریخ اس بات کی شاہد ہے کہ متعدد قوموں نے صریح معجزے دیکھ لینے کے بعد بھی ان کو جھٹلایا اور پھر تباہ کردی گئیں۔ اب یہ سراسر اللہ کی رحمت ہے کہ وہ ایسا کوئی معجزہ نہیں بھیج رہا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمہیں سمجھنے اور سنبھلنے کے لیے مہلت دے رہا ہے۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم کو خاص (فرمائشی) معجزات کے بھیجنے سے صرف یہی بات مانع ہے کہ پہلے لوگ ان (کے ہم جنس فرمائشی معجزات) کی تکذیب کرچکے ہیں (اور مزاج و طبائع سب کافروں کے ملتے جلتے ہیں تو ظاہر یہ ہے کہ یہ بھی تکذیب کریں گے) اور (نمونے کے طور پر ایک قصہ بھی سن لو کہ) ہم نے قوم ثمود کو (ان کی فرمائش کے مطابق حضرت صالح ؑ کے معجزہ کے طور پر) اونٹنی دی تھی (جو عجیب طور پر پیدا ہوئی اور) جو کہ (معجزہ ہونے کے سبب فی نفسہ) بصیرت کا ذریعہ تھی سو ان لوگوں نے (اس سے بصیرت حاصل نہ کی بلکہ) اس کے ساتھ ظلم کیا (کہ اس کو قتل کر ڈالا تو ظاہر یہ ہے کہ اگر موجودہ لوگوں کے فرمائشی معجزے دکھلائے گئے تو یہ بھی ایسا…
Read the full tafseer →وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ ۭ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا ۭ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا۔
نشانی نہ بھیجنے کی حکمت : یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وہ حکمت و رحمت واضح فرمائی ہے جس کے سبب سے وہ لوگوں کے شدید مطالبہ کے باوجود کوئی نشانی عذاب نہیں بھیج رہا ہے۔ فرمایا کہ نشانیوں کا مقصد تو لوگوں کو ڈرانا اور متنبہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ ان کو دیکھ کر اس عذاب الٰہی سے ڈریں جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے لیکن پچھلی قوموں نے اپنی شامت اعمال سے ہمیشہ یہ کیا کہ ان نشانیوں سے متنبہ ہونے کے بجائے ان کی تکذیب کر…
Read the full tafseer →59۔ 1 یہ آیت اس وقت اتری جب کفار مکہ نے مطالبہ کیا کوہ صفا کو سونے کا بنادیا جائے یا مکہ کے پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیئے جائیں تاکہ وہاں کاشت کاری ممکن ہو سکے، جس پر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کے ذریعے سے پیغام بھیجا کہ ان کے مطالبات ہم پورے کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن اگر اس کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو پھر ان کی ہلاکت یقینی ہے۔ پھر انھیں مہلت دی جائے گی۔ نبی ﷺ نے بھی اس بات کو پسند فرمایا کہ ان کا مطالبہ پورا نہ کیا جائے تاکہ یہ ہلاکت سے بچ جائیں، اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی مضمون بیان فرمایا کہ ان کی خواہش کے مطابق نشانیاں اتار دینا ہمارے لئے کوئی مشکل نہیں۔ لیکن ہم اس سے گریز اس لئے کر…
Read the full tafseer →31: آنحضرت ﷺ کے متعدد معجزات دیکھنے کے باوجود مشرکین آپ سے نت نئے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے، یہ ان مطالبات کا جواب ہے : فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کافروں کو کوئی فرمائشی معجزہ دکھادیا جاتا ہے، اور وہ اس کے باوجود ایمان نہیں لاتے تو انہیں عذاب سے ہلاک کردیا جاتا ہے، جس کی ایک مثال یہ ہے کہ قوم ثمود کے مطالبے پر پہاڑ سے اونٹنی نکال دی تھی، مگر وہ پھر بھی نہ مانے اس لئے عذاب کا شکار ہوئے، اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ یہ مشرکین عرب بھی فرمائشی معجزہ دیکھنے کے باوجود اسی طرح پیغمبر کو جھٹلاتے رہیں گے جس طرح پچھلی قوموں نے جھٹلایا تھا، چونکہ ابھی ان کو ہلاک کرنا اللہ…
Read the full tafseer →اسلام کا معجزہ و فقط یہ قرآن ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو زندگی کا ایک مکمل نظام عطا کرتی ہے۔ یہ کتاب انسان کے دل و دماغ اور عقل و خرد کو اپیل کرتی ہے۔ انسان کی فطرت سلیمہ کو اپیل کرتی ہے۔ پھر یہ ایک زندہ جاوید اور مسلسل معجزہ ہے ، قیامت تک لوگ اسے پڑھیں گے اور ایمان لاتے رہیں گے۔ رہے خارچ عادت معجزات تو وہ صرف مخصوص نسل کو اپیل کرتے ہیں ، جنہوں نے انہیں دیکھا۔ بعد میں آنے والوں کے لئے وہ ایک تاریخی واقعہ بن جاتے ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے انبیائے سابقین کے ان معجزات کو دیکھا ان میں سے اکثریت نے ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اللہ نے بطور نمونہ قوم ثمود کے معجزہ ناقہ کا ذکر کیا۔ انہوں…
Read the full tafseer →1 حدیث میں ہے کہ اہل مکہ نے حضور سے چند نشانیاں طلب کیں مثلاً یہ کہ " کوہ صفا کو سونا بنا دیجئے یا پہاڑوں کو ہمارے گردو پیش سے ہٹا کر زراعت کے قابل زمین ہموار کر دیجئے۔ وغیر ذالک۔ ایسا کرو تو ہم آپ کو مان لیں گے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی ایسے فرمائشی نشان دکھلانا خدا تعالیٰ کو کچھ دشوار نہ تھا۔ لیکن پہلے لوگوں کو ان کی فرمائش کے مطابق نشان دکھلائے گئے تب بھی نہ مانے۔ بلکہ سرکشی میں اور ترقی کر گئے۔ آخر سنت اللہ کے موافق اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بالکل نیست و نابود کردیئے گئے۔ اب اگر تمہاری سب فرمائشیں پوری کردی جائیں۔ اور خدا کے علم میں ہے بلکہ تمہارے احوال سے بھی ظاہر ہے کہ تم پھر…
Read the full tafseer →آیت 59 وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ
اللہ تعالیٰ نے حسی معجزات دکھانے صرف اس لیے بند کردیے ہیں کہ سابقہ قوموں کے لوگ ایسے معجزات کو دیکھ کر بھی کفر پر ڈٹے رہے اور ایمان نہ لائے۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة الانعام اور اس کے بعد نازل ہونے والی مکی سورتوں میں تسلسل سے دہرایا جا رہا ہے۔
وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا
قوم ثمود کو ان کے مطالبے پر اونٹنی کا بصیرت افروز معجزہ دکھایا گیا مگر انہوں نے اس واضح معجزے کو دیکھ لینے کے بعد بھی حضرت صالح پر ایمان لانے کے بجائے اس اونٹنی ہی کو مار ڈالا۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ کو مٹی…
Read the full tafseer →73 یعنی جب ضدی اور ہٹ دھرم لوگ کوئی حسی معجزہ یا اپنا فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے تو اس صورت میں ان پر عذاب الٰہی کا نزول لازم ہوجاتا ہے۔ مگر چونکہ ہم مکہ کے رہنے والوں کو ایسے عذاب سے ہلاک نہیں کرنا چاہتے۔ اور ان کے زندہ رہنے اور رکھنے میں بہت سی حکمتیں مضمر ہیں لہذا انھیں ان کا فرمائشی معجزہ نہ دینے میں ہی مصلحت اور ان کی عافیت ہے۔
74 معجزہ دکھانے کا مقصد محض خوف دلانا ہوتا ہے :۔ قوم ثمود کے حالات ان کے سامنے ہیں۔ انہوں نے فرمائشی اور حسی معجزہ طلب کیا تھا۔ یہ معجزہ دیکھنے کے باوجود وہ ایمان نہ لائے۔ تو اس کے نتیجہ میں انھیں تباہ کردیا گیا۔ حالانکہ فرمائشی معجزہ کو پورا کردینا…
Read the full tafseer →85۔ یعنی یہ موجودہ منکرین جو فلاں فلاں مخصوص و متعین معجزوں کی فرمائش کررہے ہیں ان معجزات کے نزول سے امر مانع بس یہ ہوا کہ ایسے فرمائشی معجزات پہلے، ایسے ہی منکرین کے اصرار پر نازل کئے جاچکے ہیں، لیکن وہ سب بےاثر رہے۔ (آیت) ” بالایت “۔ ایت سے مراد منکرین کے طلب کئے ہوئے، فرمائش معجزات ہیں۔ الایات التی اقترحھا قریش (بیضاوی)
86۔ یعنی اس سے بصیرت تو کچھ نہ حاصل کی بلکہ اور الٹا ظلم کرکے اسے مار ہی ڈالا (آیت) ” مبصرۃ “۔ کے معنی ایک تو خود روشن چیز کے ہیں، اور دوسرے اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس سے دوسری چیزوں پر روشنی پڑے۔ اے ذات بصیرۃ یبصرھا الغیر ویبصربھا (روح) (آیت) ” فظلموا بھا “۔ کے معنی یہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت نمبر 53 تا 60
ترجمہ : اور میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ کفار سے اچھی بات کہو بلاشبہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے، یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، یعنی اس کی عداوت بالکل ظاہر ہے، اور وہ کلمہ جو بہتر ہے وہ یہ کہ ” تمہارا رب تمہارے بارے میں تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ جانتا ہے، اگر وہ چاہے تو توبہ اور ایمان کے ذریعہ تمہارے اوپر رحم فرمائے یا اگر تم کو عذاب دینا چاہے تو تم کو کفر پر موت دے کر تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں اور یہ حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اور وہ آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے اور ان…
Read the full tafseer →وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ اور ہم کو (مطلوبہ) نشانیاں بھیجنے سے صرف
یہ امرمانع ہے کہ (ایسے مطلوبہ معجزات ہم نے گزشتہ قوموں کے لئے ظاہر کئے تھے پھر ان) پہلے لوگوں نے ان آیات کی تکذیب کی (اور ہم نے ان کو تباہ کردیا) یعنی مکہ کے کافر بھی طبیعت اور خود خصلت میں گزشتہ کافروں کی طرح ہیں انہوں نے بھی اسی طرح کی نشانیاں طلب کی تھیں اور جب ہم نے ان کی مطلوبہ نشانیاں ظاہر کردیں تو انہوں نے نہ مانا اور ہم نے ان کو غارت کردیا یہ کافر بھی انہی کی طرح ہیں ‘ اگر ان کے مطلوبہ معجزات ظاہر کردیئے جائیں گے اور یہ نہ مانیں گے تو ان کو تباہ کردیا جائے گا اور…
Read the full tafseer →(59) اور ہمیں خاص فرمایشی معجزات بھیجنے سے یہی امر مانع ہوا کہ پہلے لوگ ان معجزات کو جھٹلا چکے ہیں اور اس جھٹلانے پر ہم نے انکو ہلاک کردیا ہے تو اسی طرح اگر یہ تکذیب کریں گے تو یہ بھی ہلاک کردیے جائیں گے۔
اور ہم نے حضرت صالح ؑ کو انکی نبوت پر معجزہ کے طور پر ان کی قوم کی فرمایش پر ایک اونٹنی دی تھی جو کہ عجیب طور پر پیدا ہوئی تھی سو ان لوگوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کے پیر کاٹ ڈالے اور ہم ایسے معجزات کو صرف عذاب سے ڈرانے کے لیے بھیجا کرتے ہیں یعنی اگر یہ اس پر ایمان نہ لائیں تو ہم ان سب کو ہلاک کردیں گے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ وما منعنآ ان نرسل“۔ (الخ)
امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور طبرانی…
Read the full tafseer →وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ پر، جو آخری امت ہے، اپنے خاص فضل اور رحمت کا ذکر فرمایا ہے۔ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے بہت سی چیزیں نشانی کے طور پر دکھانے کا مطالبہ کیا (دیکھیے بنی اسرائیل : 90 تا 93) مگر اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سنت رہی ہے کہ نشانی دکھانے کے بعد اگر کوئی قوم ایمان نہ لائے تو اسے عذاب کے ساتھ نیست و نابود کردیا جاتا ہے، جیسا کہ قوم ثمود کے مطالبے پر بطور نشانی اونٹنی دی گئی، انھوں نے اس پر ظلم کیا تو ”صَیْحَۃٌ“ (چیخ) اور ”رَجْفَۃٌ“ (زلزلے) سے تمام کفار ہلاک کردیے گئے۔ ہمارے رسول ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی نشانی نہیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 59
قولہ تعالیٰ : وما منعنآ انرسل بالاٰیٰت الا ان کذب بھا الا ولون اس کلام میں حذف ہے، اور تقدیر کلام ہے : وما منعنا أن نرسل بالآیات ألتی اقتر حوھا إلا أن یکذبوا بھا فیھلکوا کما فعل بمن کان قبلھم (اور نہیں روکا ہمیں اس امر سے کہ ہم وہ نشانیاں بھیجیں جن کو کفار نے تجویز کیا مگر اس بات نے کہ وہ انہیں جھٹلائیں اور ہلاک کردیئے جائیں جیسا کہ ان کے ساتھ کیا گیا جو ان سے پہلے تھے۔ )
اس کا یہ معنی قتادہ اور ابن جریج وغیرہ نے بیان کیا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے کفار قریش سے عذاب کو مؤخر کردیا کیونکہ اس کے علم میں تھا کہ ان میں وہ بھی ہیں جو ایمان لائیں گے اور ان میں وہ بھی ہیں جو مومنوں کو جنم دیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
1:۔ احمد، نسائی، بزار، ابن جریر، ابن منذر، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ، بیہقی نے دلائل اور ضیاء نے مختارہ میں (حاکم نے تصیحح بھی فرمائی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ والوں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ ان کے لئے صفا پہاڑ کو سونے کا بنا دیجئے اور یہ کہ ان سے پہاڑ ہٹ جائیں تو وہ کھیتی باڑی کریں اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی اگر آپ چاہیں تو میں ان کو مہلت دے دوں اور اگر آپ چاہیں تو میں ان کا سوال پورا کردوں لیکن اگر یہ ایمان نہ لائے تو میں ان کو ہلاک کردوں گا جیسے ان سے پہلی امتیں ہلاک ہوئیں آپ نے فرمایا نہیں (ان کا مطالبہ پورا نہ کریں) بلکہ ان کو مہلت دیجئے تو اس پر (یہ آیت نازل ہوئی) ”…
Read the full tafseer →[وَمَا مَنَعَنَآ : اور نہیں روکا ہم کو ] [ان : کہ ] [نُّرْسِلَ : ہم بھیجیں (ان رسول ﷺ کو)] [بِالْاٰيٰتِ : نشانیوں (یعنی معجزوں) کے ساتھ ] [اِلَّآ : مگر (اس لئے)] [ان : کہ ] [كَذَّبَ : جھٹلایا ] [بِهَا : ان کو ] [الْاَوَّلُوْنَ : پہلوں نے ] [وَاٰتَيْنَا : اور ہم نے دی ] [ثَمُوْدَ : ثمود کو ] [النَاقَةَ : اونٹنی ] [مُبْصِرَةً : ایک بینا کرنے والی (نشانی) ہوتے ہوئے ] [فَظَلَمُوْا : پھر انھوں نے ظلم کیا (اپنے آپ پر)] [بِهَا : اس (اونٹنی) کے سبب سے ] [وَمَا نُرْسِلُ : اور ہم نہیں بھیجتے (رسولوں کو)] [بِالْاٰيٰتِ : نشانیوں کے ساتھ ] [اِلَّا : مگر ] [تَخْوِيْفًا : ڈرانے کو ]
ترکیب : (آیت۔ 59) ارسل…
Read the full tafseer →فرمائشی معجزات ہم صرف اس لیے نہیں بھیجتے کہ سابقہ امتوں نے ان کی تکذیب کی
معالم التنزیل (ج 3/121) اور روح المعانی (ص 103 ج 15) بحوالہ حاکم و احمد و نسائی و طبرانی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ آپ صفا پہاڑ کو سونا بنا دیجیے اور مکہ میں جو پہاڑ ہیں ان کو ہٹا دیجیے تاکہ ہمیں کھیتی کرنے کا موقع مل جائے (اگر ایسا ہوجائے تو ہم آپ کی رسالت پر ایمان لے آئیں گے) اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے اپنے رسول ﷺ پر وحی بھیجی کہ آپ چاہیں تو میں ان کو ڈھیل دے دوں اور اگر چاہیں تو ان کا سوال پورا کردوں پھر اگر ایمان نہ لائے تو انہیں ہلاک کردوں گا۔ جیسے ان سے پہلے (ایمان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
تلقین حسن خطاب با اہل کتاب و جوابات از شبہات مشرکین
قال اللہ تعالیٰ : وقل لعبادی یقولوا التی ہی احسن .... الیٰ .... الا طغیانا کبیرا۔
(ربط) توحید اور قیامت کی حقانیت پر دلائل قائم کرکے مسلمانوں کو تعلیم فرماتے ہیں کہ مخالفین سے جب بحث کی نوبت آئے تو الفاظ نرم ہونے چاہیں کیونکہ سختی سے بسا اوقات سب و شتم کی نوبت آجاتی ہے اور شیطان باہمی نفرت اور عداوت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور مخالف ضد پر اتر آتا ہے ایسی ھالت میں دعوت و تبلیغ بےسود ہوجاتی ہے۔ بعد ازاں مشرکین کے چند شبہات کے جوابات دئیے جو نہایت نرم ہیں اور باوجود نرم ہونے کے نہایت محکم ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ! میرے بندوں یعنی…
Read the full tafseer →56:۔ ” و ما منعنا ان نرسل الخ “ یہ تیسری آیت معجزہ اور تخویف ہے اور ” سبحن الذی اسری بعبدہ الخ “ سے متعلق ہے۔ مشرکین بار بار معجزے طلب کرتے ہیں مگر ہم معجزات اس لیے نہیں دکھاتے کہ معجزات تخویف کے لیے ہوتے ہیں اگر معجزہ دیکھ کر بھی وہ انکار کریں تو ہلاک کردئیے جائیں۔ جیسا کہ پہلی قوموں نے معجزات کے بعد بھی مسئلہ توحید کا انکار کیا تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ چناچہ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ اگر آپ فلاں چٹان سے اونٹنی نکال دیں تو ہم آپ کو مان لیں گے اللہ تعالیٰ نے اس چٹان سے اونٹنی نکال دی مگر وہ اپنا فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو انہیں فوراً ہلاک کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ربط آیات :
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا کہ وہ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں ، وہ نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں ، ان میں سے بعض وہ ہیں جو خود اللہ کا قرب تلاش کرتے ہیں اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں پھر اللہ نے قیامت سے پہلے تمام بستیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا کہ انہیں سخت سزا دیں گے اور یہ بھی کہ اللہ کے علم میں یہ حتمی فیصلہ ہے کہ ایسا ضرور ہوگا اور نافرمانوں کو انکی نافرمانی کی ضرور سزا دی جائیگی ،
(شان نزول)
اب آج پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد فرمایا ہے جو حضور ﷺ سے طرح طرح کی نشانیاں اور معجزات طلب کرتے تھے اس آیت کے شان نزول میں طبرانی اور بعض…
Read the full tafseer →وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ ۭ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا ۭ وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا 59
منع
المنع يقال في ضدّ العطيّة، يقال : رجل مانع ومنّاع . أي : بخیل . قال اللہ تعالی: وَيَمْنَعُونَ
الْماعُونَ [ الماعون/ 7] ، وقال : مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ [ ق/ 25] ، ويقال في الحماية، ومنه :
مكان منیع، وقد منع وفلان ذو مَنَعَة . أي : عزیز ممتنع علی من يرومه . قال تعالی: أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ [ النساء/ 141] ، وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَنَعَ مَساجِدَ اللَّهِ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ترکیب : ان کذب فی موضع رفع فاعل منعنا وفیہ حذف تقدیرہ الا اھلاک المکذبین ونحن ما یزید اھلاک قریش فلذالم نرسل بالآیات المسئولۃ بہا 1 ؎۔ 1 ؎ ومانرسل بالآیات المقترحۃ الاتخویفالمن ارسلت نبی علیھم مما یعصبھا من العذاب المستاصل (ابوالمسعود) ۔
تفسیر : مشرکین مکہ جواب سے عاجز آ کر یہ بھی کہا کرتے تھے اگر آپ نبی ہیں تو کوہ صفا کو سونے کا بنا دیں اور مکہ کے پہاڑوں کو ہٹا دیں تاکہ کھیتی کیا کریں۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی و ما منعنا الخ کہ ہم یہ بھی کرسکتے ہیں مگر یوں نہیں کرتے کہ پہلی امتوں میں بھی لوگوں نے انبیاء سے سوال کر کے معجزات طلب کئے تھے اور پہلے وعدہ کرلیا تھا کہ اگر ہماری خواہش کے…
Read the full tafseer →وَمَا مَنَعَنَـآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلاَّ ٓاَنْ کَذَّبَ بِھَا الْاَوَّلُوْنَ ط وَاٰ تَیْنَا ثَمُوْدَالنَّاقَـۃَ مُبْصِرَۃً فَظَلَمُوْا بِھَا ط وَمَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلاَّ تَخْوِیْفًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 59)
(اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا، مگر اس بات نے کہ پہلوں نے ان نشانیوں کو جھٹلایا، اور ہم نے قوم ثمود کو ایک اونٹنی دی، آنکھیں کھول دینے والی، تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں بھیجتے ہیں تو ڈرانے ہی کے لیے بھیجتے ہیں)
منہ مانگے معجزات نہ بھیجنے کی حکمت
آنحضرت ﷺ کے زمانے میں لوگوں کی ہدایت کے لیے زیادہ زور تفہیم پر دیا گیا۔ آنحضرت ﷺ نے کوشش فرمائی کہ لوگوں…
Read the full tafseer →جھٹلا کر تباہ ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو مہلت دینا چاہتا ہے۔ اگر تمہارے مطالبے پر من وعن معجزہ نازل کر دے تو پہلی اقوام کی طرح مہلت کی گنجائش نہ ہوگی۔ البتہ تم غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا جو معجزے رسول کریم ﷺ کو دیئے گئے ہیں۔ وہ اپنی تاثیر اور نتائج کے لحاظ سے پہلے معجزات کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں۔ پہلے جیسے معجزات نازل نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پہلے لوگوں نے ان معجزات کو جھٹلا دیا تھا اور تم بھی ایسا کرو گے۔ اب تمہارے سامنے قوم ثمود کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ قوم ثمود کے مطالبہ پر ان کے سامنے اونٹنی کا معجزہ ظاہر ہوا۔ جو پہاڑ کو چیرتی، لوگوں کے سامنے ہنہناتی ہوئی ظاہر ہوئی۔ حضرت صالح (علیہ…
Read the full tafseer →مطلوبہ نشانی کیوں نہیں ؟ کا جواب :
59: وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّآ اَنْ کَذَّبَ بِھَا الْاَوَّلُوْنَ ( اور ہمیں مطلوبہ نشانیاں بھیجنے سے صرف اس چیز نے روکا۔ پہلے لوگوں نے ان آیات کی تکذیب کی) مطلوبہ معجزات کے نہ بھیجنے کو منعؔ کے لفظ سے ذکر فرمایا۔ پہلا ان ؔ اپنے صلہ سمیت موضع نصب میں ہے کیونکہ وہ مَنَعَنَا کا دوسرا مفعول ہے۔ اور اَنْدوم موضع رفع میں ہے کیونکہ وہ اپنے صلہ کے ساتھ ملکر کر منعنا کا فاعل ہے۔ تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ ومامنعنا ارسال الآیات الاتکذیب الاولین۔ ہمیں مطلوبہ نشانیاں بھیجنے سے صرف پہلے لوگوں کی تکذیب نے روکا۔ آیات سے مراد یہاں وہ ہیں جن کو قریش مکہ…
Read the full tafseer →وما منعا ان نرسل بالایات کا نشان نزول
تفسیر 59۔” وما منعناان نرسل بالا یات الا ان کذب بھا الاولون “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ صفا پہاڑی کو ہمارے لیے سونا بنا دے اور یہ کہ ان پہاڑوں کو اپنی جگہ سے دو ہٹا دے تا کہ ہم اس جگہ کھیتی باڑی کرلیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو وحی کی ، اگر آپ چاہیں تو ان کی اس بات کے مطابق ہم کرلیں ، اگر آپ چاہیں تو ان کے لیے اس بات کو اختیار نہ کریں ( اگر ان کے سوال کے مطابق ہم اگر صفا پہاڑ کو سونے کا بنادیں اور ان پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیں تا کہ وہ اسی جگہ کھیتی باڑی کریں ) اگر اس پر وہ ایمان نہ لائیں تو پھر ہم ان کو…
Read the full tafseer →59:۔ معتبر سند سے نسائی مسند امام احمد بن حنبل مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں جو شان نزول اس آیت کی حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش نے ایک روز اکٹھے ہو کر آنحضرت سے کہا کہ آپ اپنے آپ کو اللہ کا نبی کہتے ہو اور پہلے انبیاء کو تو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزے دیئے تھے۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے تابع دریا کردیا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے تابع ہوا کردی حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے اگر آپ بھی سچے نبی ہیں تو سر زمین مکہ کے پہاڑ دور ہٹا کر ہماری کھیتی کے لیے زمین نکال دو اور اس زمین میں کچھ نہریں کھیتی کو پانی پہنچانے کے لیے جاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–69
(آیت نمبر (59
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس کی رحمت ہے کہ اس نے اہل تکذیب کے مطالبے کے مطابق معجزات نازل نہیں فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے صرف اس وجہ سے معجزات ارسال نہیں فرمائے کہ وہ ان کو جھٹلا دیں گے اور جب یہ ان معجزات کو جھٹلا دیں گے تو ان پر بغیر کسی تاخیر کے فوراً عذاب نازل ہوجائے گا ‘ جیسا کہ پہلے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا جنہوں نے معجزات کی تکذیب کی اور سب سے بڑا معجزہ جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ثمود کی طرف ارسال کیا وہ عظیم اونٹنی تھی کہ جس کے پاسی پینے کے دن تام قبیلے کو پانی نہ ملتا تھا مگر اس کے باوجود انہوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی پاداش میں ان پر وہ عذاب ٹوٹ پڑا جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
دنیا میں انسان کا قیام بہت تھوڑا ہے
قول باری ہے (وتظنون ان لبثتم الا قلیلاً اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں) حسن کا قول ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی مدت کے متعلق یہ گمان کرو گے اس لئے کہ آخرت میں تمہارے رہنے کی مدت بڑی طویل ہوگی جس طرح یہ قول ہے ۔ ” تم دنیا میں اتنی تھوڑی مدت کے لئے رہو گے کہ گویا رہے ہی نہیں اور آخرت کی مدت کو دیکھ کر کہو گے کہ گویا ہمیشہ سے یہیں رہتے ہے۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ آخرت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان کی نظروں میں دنیا انتہائی حقیر ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
105۔ ظالموں نے اپنے ظلم کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے :۔
کہ یہ مکافات عمل کا لازمی اور طبعی تقاضا ہے۔ پس اس سلسلے میں ملنے والی ڈھیل سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ہر سرکش کو عذاب بہرحال آنا ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ وعمل کو روکنے کی قدرت وطاقت کسی بھی ہستی میں نہیں اور تاکہ ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا پھل مل کر رہے اور اس طرح پاداش عمل کا ظہور ہو اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ اور یہ ان لوگوں کے اپنے کئے کرائے کا لازمی نتیجہ اور طبعی ثمرہ ہوتا ہے۔ ورنہ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہوتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وما ظلمنا ہم ولکن کانوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
انسان کی آزمائش کے طریقے
تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو ہر وقت کہتے ہیں کہ ہمیں معجزہ دکھائیں جیسا کہ پچھلی قوموں کو دکھائے گئے۔ پہلے انسان بالکل ہی سیدھا سادھا تھا تو اس وقت کے مطابق ان کو معجزے دکھائے گئے، مثلاً حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کو اونٹنی کا معجزہ دیا گیا معجزہ دیکھنے کے بعد بھی ان لوگوں نے ایمان قبول نہ کیا اور یہ آخری حد ہوتی ہے، لہٰذا ان کو تباہ و برباد کردیا گیا۔ تو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں :” کہ آپ کا معجزہ تو یہ ہے کہ ہم نے کہا کہ ” آپ کا رب لوگوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ “ (بنی اسرائیل :60)
اسی طرح ایک جگہ فرمایا :
” مگر یہ کافر جھٹلانے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ میرے بندوں یعنی مسلمانوں سے کہئے کہ بات خوبصورت انداز میں کیا کریں اس میں سختی یا سب وشتم نہ ہو کہ سب وشتم سے یا سخت کلامی سے شیطان کو فساد پھیلانے کا موقع ملتا ہے اور انسانوں کو آپس میں لڑاتا ہے تو بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔
(عام گفتار میں بھی اور دینی تبلیغ میں بھی سخت کلامی درست نہیں خواہ بات کفار ہی سے کیوں نہ کی جائے)
مسلمانوں کو آپس میں تو بات زیب ہی اخلاق سے دیتی ہے اور پھر جب بات دین کی وہ اور اللہ جل جلالہ اور اس کے نبی ﷺ کے حوالے سے کی جائے تو اور زیادہ محتاط لب و لہجہ ضروری ہے ، خواہ مخاطب بدکار اور بےدین ہی کیوں نہ ہو یہ بات بات پہ دوسروں کو…
Read the full tafseer →ف 4 مفسرین کا بیان ہے کہ اہل مکہ نے آنحضرت سے فرمائش کی کہ صفا پہاڑی سونے کی بنادی جائے اور مکہ کے گرد جو پہاڑ ہیں انہیں سرکا دیا جائے۔ حضرت جبریل آئے اور کہنے لگے ” اگر آپ چاہیں تو ان کی فرمایش پوری کردی جائے لیکن یہ بھی ایمان نہ لائے تو انہیں کوئی مہلت نہ دی جائے گی اور اگر آپ چاہیں تو ان کی فرمائش پوری نہ کی جائے اور انہیں مہلت دی جائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (فتح القدیر) مطلب یہ ہے کہ ہم جو ان لوگوں کی فرمائش پر نشانیاں نہیں بھیج رہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے پہلے لوگوں کے پاس جب ایسی نشانیاں آئیں اور انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے اپنی سنت کے مطابق ان پر عذاب نازل کردیا۔ چناچہ قوم ثمود کی مثال…
Read the full tafseer →(17:59) مبصرۃ۔ اسم فاعل واحد مؤنث حالت نصب ۔ واضح ، روشن۔ واضح کرنے والی الناقہ کا حال ہے۔
تخویفا۔ بروزن تفعیل مصدر ہے خوف دلانا۔ ڈرانا۔ ڈرانے کے لئے ۔ خوف دلانے کے لئے ۔ نصب بوجہ مفعول لہ ہونے کے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
لغات القرآن آیت نمبر 59 تا 60
مامنعنا ہمیں نہیں روکا۔ نرسل ہم بھیجتے ہیں۔ مبصرۃ دیکھنے کو، ذریعہ بصیرت۔ تخویف ڈرانے کو۔ احاط گھیر لیا، قابو کرلیا۔ الرؤ یا خواب ، دکھاوا۔ ارینا ہم نے دکھایا۔ الملعونۃ لعنت کی گئی۔ طغیان سرکشی، نافرمانی۔
تشریح : آیت نمبر 59 تا 60
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ کرتے رہتے تھے کبھی کہتے کوہ صفا کو سونے کا بنا دیا جائے کبھی کہتے مکہ کے چاروں طرف جو پہاڑ ہیں ان کو ہٹا کر صاف اور کھلا ہوا میدان بنا دیا جائے تاکہ کھیتی باڑی کی جاسکے، کبھی کہتے کہ ہمارے وہ رشتہ دار جو مر چکے ہیں ان کو زندہ کردیا جائے تاکہ…
Read the full tafseer →مشرکین اپنی خواہش کے مطابق معجزات طلب کرتے تھے
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ مکہ کے مشرک جواب سے عاجز آکر یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر آپ نبی ہیں تو کوہ صفا کو سونے کا بنا دیں اور مکہ کے پہاڑوں کو ہٹا دیں تاکہ ہم کھیتی کیا کریں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ ہم کو یہ کرنا مشکل نہیں۔ نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ پہلی امتوں نے بھی انبیاء (علیہ السلام) سے معجزات طلب کئے تھے اور پہلے وعدہ کرلیا تھا کہ اگر ہماری خواہش کے مطابق معجزہ لاوے گا تو ہم ایمان لاویں گے جب وہ معجزہ ظاہر ہوا تو ایمان نہ لائے اور عذاب الہٰی میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوئے۔ کیونکہ عادت الہٰی جاری ہے کہ جو لوگ ضد کرکے معجزات طلب…
Read the full tafseer →[45] مشرکین مکہ نے نبی ﷺ سے فرمائشی معجزہ کا مطالبہ کیا تھا اس کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اس طرح کے معجزے دکھانے میں جو امر مانع ہے وہ یہ کہ پچھلے لوگ اس طرح کے معجزات کی تکذیب کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ہلاک کردیئے گئے۔ کیونکہ جب کوئی قوم معجزہ دیکھ کر ایمان نہیں لاتی تو اس پر نزول عذاب واجب ہوجاتا ہے جیسا کہ ثمود کے ساتھ ہوا جنہوں نے صالح (علیہ السلام) سے فرمائش کی تھی کہ پہاڑ سے اونٹنی پیدا ہو۔
Read the full tafseer →(ف 1) مشرکین کا ایک اعتراض یہ تھا کہ ہمارے مطالبے کیوں پورے نہیں ہوتے ؟ کیوں مکہ کے پہاڑ درمیان سے نہیں ہٹ جاتے ؟ اور کیوں نہریں نہیں بہتیں ؟ یعنی ہم جو کچھ چاہتے ہیں ، اس کو کیوں پورا نہیں کیا جاتا ؟ قرآن کہتا ہے ، تمہیں معجزہ طلبی کی عادت ہوگئی ہے ، تم عجائب پرستی کے مرض میں مبتلا ہو ، تم سے پہلے تمام معجزات دکھائے جا چکے ہیں ، مگر انکار کرنے والوں نے ہمیشہ انکار ہی کیا ، اور ایماندار لوگوں نے ایمان کی دعوت کو قبول کرلیا ، اس لئے آج اگر تمہارے مطالبوں کو پورا بھی کردیا گیا ، جب بھی تم انکار ہی کرو گے تم سے ایمان کی توقع نہیں ، آیات ومعجزات کا مقصد تو یہ ہے کہ تمہارے دلوں میں خوف پیدا ہو ،…
Read the full tafseer →-59 اور ہم کو ان منکروں کی منہ مانگی نشانیاں اور ان … کی حسب فرمائش نشانیاں بھیجنے میں کوئی بات مانع نہیں ہوئی۔ مگر یہ کہ پہلے لوگ اس قسم کی نشانیوں کی تکذیب کرچکے ہیں اور ان نشانیوں کو جھٹلا چکے ہیں اور ہم نے ثمود والوں کو دلیل کے طور پر اونٹنی دی تھی پھر انہوں نے اس اونٹنی کے ساتھ بڑا ظلم اور زیادتی کی اور ہم اس قسم کے معجزے اور نشانیاں نہیں بھیجا کرتے مگر عذاب سے ڈرانے اور خوف دلانے کو یعنی کفار طرح طرح کے معجزے طلب کیا کرتے تھے اس کو فرمایا کہ پہلے لوگوں نے بھی معجزے طلب کئے تھے پھر ایمان نہ لائے اور ان پر عذاب استیصال بھیجا گیا اور ان کو بالکل برباد کردیا گیا۔
جس امت کو بالکل ہلاک کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
ف 5۔ اور طبیعتیں ان کی اور ان کی مشابہ ہیں، پس یہ بھی تکذیب کریں گے۔
Read the full tafseer →انبیاء کرام کو جو نشانیاں عطا کی جاتی رہیں ان کا ماحصل کیا تھا ؟
73۔ اس آیت نے قطعی طور پر یہ حقیقت واضح کردی کہ پیغمبروں کہ پیغمبروں نے جو نشانیاں تھیں ان کی حقیقت کیا تھی ؟ فرمایا (آیت) ” وما نرسل بالایات الا تخویفا “۔ نشانیاں اس لئے نہیں دی گئیں کہ سچائی کی دلیل تھیں یا ہدایت کا معاملہ ان پر موقوف ہوتا تھا بلکہ صرف اس لئے کہ وہ ظہور عذاب کا مقدمہ تھیں یعنی جو قومیں سرکشی سے باز نہیں آئیں ‘ انہیں ظہور نتائج کی خبر دیدی گئی اور اس خبر کا ظہور ایک نشانی یا زائد از ایک نشانیوں کی صورت ہوا۔ چناچہ قوم ثمود جب سرکشی سے باز نہ آئی تو اونٹنی کا معاملہ اس کے لئے ایک فیصلہ کن نشانی ہوگیا اور اس نشانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
Commentary
The word 'al-wasilah' in: يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ (seek the means of close ness to their Lord - 57) conveys the sense of that which is used as a means of reaching someone. As for reaching Allah, the wasilah or means is to always keep the pleasure of Allah in sight when learning or doing anything while adhering to the injunctions of the Shari` ah strictly. Thus, the sense of the sentence is that all of them are seeking the closeness of Allah Ta’ ala through their righteous deeds.
About the sentence which follows immediately after: يَرْجُونَ رَحْمَتَهُ…
Read the full tafseer →67. Here signs mean those visible miracles which are presented as a proof of Prophethood. The disbelievers from among the Quraish were demanding such signs over and over again.
68. This is to warn the disbelievers, as if to say: It is the mercy of Allah that He is not showing such a sign so that you might mend your ways but in your folly you presume that such a sign cannot be presented. You should know that a sign is not being sent because its denial inevitably brings chastisement and the community is annihilated. You can learn from the past history that those communities which disbelieved in…
Read the full tafseer →