وہ نوشتہ جو لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے وہ حکم جو جاری کردیا گیا ہے اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ گنہگاروں کی بستیاں یقینا ویران کردی جائیں گی یا ان کے گناہوں کی وجہ سے تباہی کے قریب ہوجائیں گی اس میں ہماری جانب سے کوئی ظلم نہ ہوگا بلکہ انکے اپنے کرتوت کا خمیازہ ہوگا، رب کی آیتوں اور اسکے رسولوں سے سرکشی کرنے کا پھل ہوگا۔
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 66
یعنی بقائے دوام کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔ ہر بستی کو یا تو طبعی موت مرنا ہے، یا خدا کے عذاب سے ہلاک ہونا ہے۔ تم کہاں اس غلط فہمی میں پڑگئے کہ ہماری یہ بستیاں ہمیشہ کھڑی رہیں گی ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
معارف و مسائل
(آیت) يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ لفظ وسیلہ کے معنی ہر وہ چیز جس کو کسی دوسرے تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا جائے اور اللہ کے لئے وسیلہ یہ ہے کہ علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کی ہر وقت رعایت رکھی اور احکام شرعیہ کی پابندی کرے مطلب یہ ہے کہ یہ سب حضرات اپنے عمل صالح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کی طلب میں لگے ہوئے ہیں۔
(آیت) يَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ حضرت سہل بن عبداللہ نے فرمایا کہ رجاء اور خوف یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار بھی رہنا اور ڈرتے بھی رہنا یہ انسان کے دو مختلف حال ہیں جب یہ دونوں برابر درجے میں رہیں تو انسان صحیح راستہ پر چلتا…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 58 تا 60:
عذاب کے باب میں سنت الٰہی : پیچھے آیت 11 میں یہ بات گزر چکی ہے کہ پیغمبر ﷺ جب مشرکین کو عذاب الٰہی سے ڈراتے ہیں تو وہ جھٹ عذاب کا مطالبہ شروع کردیتے کہ جس عذاب کی روز دھمکی سنا رہے ہو اس کو لا کر دکھاتے کیوں نہیں۔ اب یہاں اوپر والی آیات میں اس کا ذکر آیا تو اس باب میں جو سنت الٰہی ہے اس کی وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی طلب پر عذاب کی نشانیاں اگر نہیں دکھاتا تو کیوں نہیں دکھاتا۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا۔
"…
Read the full tafseer →58۔ 1 کتاب سے مراد لوح محفوظ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے شدہ ہے، جو لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے کہ ہم کافروں کی ہر بستی کو یا تو موت کے ذریعے سے ہلاک کردیں گے اور بستی سے مراد، بستی کے باشندگان ہیں اور ہلاکت کی وجہ ان کا کفر و شرک اور ظلم و طغیان ہے۔ علاوہ ازیں یہ ہلاکت قیامت سے قبل وقوع پذیر ہوگی، ورنہ قیامت کے دن تو بلا تفریق ہر بستی ہی شکست و ریخت کا شکار ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →30: یعنی اگر کافروں پر ابھی جلدی سے کوئی عذاب نہیں آرہا ہے تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیشہ کے لئے عذاب سے بچ گئے ہیں، واقعہ یہ ہے کہ یا تو ان پر کوئی سخت عذاب دنیا ہی میں آجائے گا، ورنہ قیامت سے پہلے پہلے سبھی کو ہلاک ہونا ہے، اور پھر آخرت میں ان کافروں کو دائمی عذاب ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →درس نمبر 821 ایک نظر میں
درس سابق کا خاتمہ یوں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک اپنے بندوں کے معاملات میں متصرف ہے چاہے تو ان پر حم کردے اور چاہے تو انہیں سزا دے دے۔ اور لوگ جن الہوں کی بندگی کرتے ہیں وہ نہ ان سے کوئی مصیبت ٹال سکتے ہیں اور نہ کسی مصیبت کا منہ دوسروں کی طرف موڑسکتے ہیں۔
اب یہاں یہ بتایا جاتا ہے تمام انسانوں کا آخری انجام کیا ہوگا۔ کیونکہ اللہ نے اپنے علم کے مطابق جو فیصلے کیے ہیں ، وہ اٹل ہیں۔ اور یہ آخری انجام یوں ہوگا کہ قیامت سے قبل اللہ تمام بستیوں کو ہلاک کردے گا۔ اگر ان بستیوں میں سے کوئی بستی ایسے جرائم کا ارتکاب کرے جسے دنیا میں سزا دینا لازمی ہو تو یہاں ہی اسے عذاب…
Read the full tafseer →12 یعنی باوجود غایت قرب کے ان کی امیدیں محض حق تعالیٰ کی مہربانی سے وابستہ ہیں اور اسی کے عذاب سے ہمیشہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ہر قسم کا نفع پہنچانا، یا ضرر کو روکنا ایک خدا کے قبضہ میں ہے۔
13 اس آیت کا مطلب کئی طرح لیا جاسکتا ہے (الف) دنیا کی ہر ایک بستی کو عظیم الشان گناہوں کی پاداش میں قیامت سے پہلے پہلے عذاب مستاصل بھیج کر بالکلیہ تباہ و خراب کردیا جائے گا، یا اگر گناہ انتہائی درجہ کے نہ ہوں گے تو درجہ دوئم کے جرائم کی سزا میں عام ہلاکت سے کم کوئی سخت آفت اس بستی پر نازل کی جائے گی۔ باقی ایسی بستی کہاں ہے جو ازل سے ابد تک نہ گناہ کرے نہ کسی آفت میں پھنسے (ب) قیامت سے…
Read the full tafseer →آیت 58 وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا
یہ اشارہ ہے اس بہت بڑی تباہی کی طرف جو قیامت سے پہلے اس دنیا پر آنے والی ہے۔ سورة الکہف کی دوسری آیت میں اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : لِیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ ۔ سورة بنی اسرائیل اور سورة الکہف کا آپس میں چونکہ زوجیت کا تعلق ہے اس لیے یہ مضمون ان دونوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے واضح ہوتا ہے۔ احادیث میں الملحمۃ العُظمٰی کے نام سے ایک بہت بڑی جنگ کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو قیامت سے پہلے دنیا میں برپا ہوگی۔ آیت زیر نظر میں اسی تباہی کا ذکر ہے جس سے روئے زمین…
Read the full tafseer →72 قیامت سے پہلے سب بستیوں کی تباہی :۔ یعنی کچھ بستیاں تو ایسی ہیں جو عذاب میں ماخوذ ہو کر تباہ کی جاچکی ہیں اور قیامت سے پہلے باقی موجود سب بستیوں کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے اور چونکہ قیامت آنے سے پہلے نیک لوگوں کو اٹھا لیا جائے گا اور قیامت شرار الناس پر قائم ہوگی لہذا قیامت کو یہ نظام کائنات درہم برہم کرنے سے پیشتر ایسی شریر بستیوں کو پہلے ہی عذاب سے ہلاک کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →83۔ (قیامت کے دن) یعنی کوئی کافر اگر یہاں بچ بھی گیا تو قیامت کے دن تو بہرحال عذاب شدید سے نہیں بچ سکتا۔ (آیت) ” وان من قریۃ “۔ بستیوں سے کافروں اور معاندین حق کی آبادیاں مراد ہیں۔ قیل المراد قری الکفار (کبیر) (آیت) ” الا نحن مھلکوھا “۔ اھلاک سے یہاں مراد اہلاک بالعذاب ہے ورنہ نفس موت وہلاکت تو طبعی اسباب سے مومن و کافر سب کی ہوتی رہتی ہے :۔
84۔ یعنی ہر کافر کے معذب ہونے کی (وہ دنیا میں ہو یا آخرت میں) صراحت لوح محفوظ میں پہلے ہی سے درج ہے۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد علم الہی کی کتاب ہے یعنی لوح محفوظ۔ اے الکتاب الذی کتب فیہ کل ما ھو کائن وھو اللوح المحفوظ (ابن جریر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت نمبر 53 تا 60
ترجمہ : اور میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ کفار سے اچھی بات کہو بلاشبہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے، یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، یعنی اس کی عداوت بالکل ظاہر ہے، اور وہ کلمہ جو بہتر ہے وہ یہ کہ ” تمہارا رب تمہارے بارے میں تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ جانتا ہے، اگر وہ چاہے تو توبہ اور ایمان کے ذریعہ تمہارے اوپر رحم فرمائے یا اگر تم کو عذاب دینا چاہے تو تم کو کفر پر موت دے کر تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں اور یہ حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اور وہ آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے اور ان…
Read the full tafseer →وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا
اور (کفار کی) ایسی کوئی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا (قیامت کے دن) اس کو سخت عذاب نہ دیں۔ یعنی جو بستی کفر و معصیت کرنے والی ہے ہم اس کو یا تو قیامت سے پہلے ہلاک اور تباہ کردیں گے یا سخت عذاب دیں گے۔ مقاتل وغیرہ نے کہا ہلاک کرنے سے مراد ہے مار ڈالنا ‘ موت کو مسلط کردینا ‘ یعنی بستی والے اگر مؤمن ہوں تو ہم ان پر موت کو مسلط کردیں گے زندگی ختم کردیں گے اور کافر ہوں تو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کردیں گے۔
حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا جب کسی بستی میں زنا اور سود…
Read the full tafseer →(58) کوئی بستی ایسی نہیں جس کے رہنے والوں کو ہم ہلاک نہ کردیں یا ان کو تلوار اور دیگر بیماریوں کا سخت ترین عذاب نہ دیں ان کی ہلاکت اور ان پر عذاب کا نازل ہونا لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے کہ ایسا ضرور ہو کر رہے گا۔
Read the full tafseer →وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا۔۔ : ابن کثیر ؓ اور کئی مفسرین نے اس آیت کی تفسیر یہ کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں شروع سے لکھ دیا ہے کہ ہر بستی جو ظلم پر اتر آئے، قیامت سے پہلے یا تو ہم اسے ہلاک کردینے والے ہیں کہ اس کے تمام رہنے والوں کو تباہ و برباد کردیں، یا انھیں سخت عذاب دینے والے ہیں، باہمی قتل و غارت کے ساتھ، یا دشمن کے حملے سے، یا جس مصیبت سے ہم چاہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ اقوام کا ذکر فرمایا، سورة طلاق میں ہے : (وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَرُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِيْدًا ۙ وَّعَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا …
Read the full tafseer →آیت نمبر 58
قولہ تعالیٰ : وان قریۃٍ الانحن مھلکوھا اور کوئی ایسی بستی نہیں ہے مگر اسے خراب اور برباد کریں گے۔ قبل یوم القیٰمۃ او معذ بوھا عذابًا شیدیدًا مقاتل نے کہا ہے : اگر اس بستی کے رہنے والے نیک اور صالح لوگ ہیں تو موت کے ساتھ اس بستی کو ختم کردیں گے، اور وہ بدکار اور نافرمان ہیں تو پھر عذاب کے ساتھ اسے برباد کردیں گے۔ اور حضرت ابن مسعود ؓ نے بیان فرمایا : جب کسی بستی میں زنا اور سود عام ہوجائے تو اللہ تعالیٰ ان کی ہلاکت و بربادی کا اعلان فرما دیتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے اور اگر وہ ظالموں کی بستی میں سے ہو۔ اور اسے یہ قول باری تعالیٰ تقویت دیتا ہے : وماکنا مھل کی…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شیبہ ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وان من قریۃ الا نحن مھلکوھا قبل یوم القیمۃ “ سے مراد ہے مبیدوھا اومعذبوھا (یعنی تباہ و برباد کرنے والے یا ان کو عذاب دینے والے) یا دوسرے مصائب کے ساتھ راوی نے کہا زمین کی ہر بستی کو قیامت سے پہلے اس عذاب کا کچھ نہ کچھ پہنچنے والا ہے اس کو اس (عذاب) کا بعض حصہ پہنچے گا۔
2:۔ ابن جریر نے سماک بن حرب کے طریق سے عبدالرحمن بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ جب زنا اور سود عام ہوجاتا ہے کسی بستی میں میں تو اللہ تعالیٰ اس کے ہلاک ہونے کا حکم دے دیتے ہیں۔
3:۔ ابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کان ذلک فی الکتب…
Read the full tafseer →[وَان : اور نہیں ہے ] [مِّنْ قَرْيَةٍ : کوئی بھی بستی ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ)] [نَحْنُ : ہم ] [مُهْلِكُوْهَا : ہلاک کرنے والے ہیں اس کو ] [قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن سے پہلے ] [اَوْ : یا ] [مُعَذِّبُوْهَا : عذاب دینے والے ہیں اس کو ] [عَذَابًا شَدِيْدًا : ایک سخت عذاب ] [كَان : ہے ] [ذٰلِكَ : یہ ] [فِي الْكِتٰبِ : کتاب میں ] [مَسْطُوْرًا : لکھا ہوا ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْھَا عَذَابًا شَدِیْدًا) (اور کوئی بستی ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کردیں یا اسے سخت عذاب نہ دیں) آیت کا مفہوم ظاہر ہے کہ قیامت سے پہلے بہت سی بستیاں ہلاک ہونگی یعنی ان بستیوں کے رہنے والے اپنی اپنی موت مرجائیں گے اور بہت سی بستیاں اسی طرح ہلاک ہوں گی کہ ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا جائے گا چاہے قتل و خون سے ہلاک ہوں اور خواہ مختلف قسم کی مصیبتوں اور بلاؤں میں مبتلا ہوکر۔ قیامت کے دن صور پھونکے جانے سے جو ہلاک ہوں گی وہ بھی اسی ذیل میں آگئیں۔ لہٰذا یہ بات عمومی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
تلقین حسن خطاب با اہل کتاب و جوابات از شبہات مشرکین
قال اللہ تعالیٰ : وقل لعبادی یقولوا التی ہی احسن .... الیٰ .... الا طغیانا کبیرا۔
(ربط) توحید اور قیامت کی حقانیت پر دلائل قائم کرکے مسلمانوں کو تعلیم فرماتے ہیں کہ مخالفین سے جب بحث کی نوبت آئے تو الفاظ نرم ہونے چاہیں کیونکہ سختی سے بسا اوقات سب و شتم کی نوبت آجاتی ہے اور شیطان باہمی نفرت اور عداوت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور مخالف ضد پر اتر آتا ہے ایسی ھالت میں دعوت و تبلیغ بےسود ہوجاتی ہے۔ بعد ازاں مشرکین کے چند شبہات کے جوابات دئیے جو نہایت نرم ہیں اور باوجود نرم ہونے کے نہایت محکم ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ! میرے بندوں یعنی…
Read the full tafseer →55:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ یہ فیصلہ بالکل حتمی ہے اور لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے کہ قیامت سے پہلے ہم ہر بستی کو تباہ و برباد کریں گے یا سخت ترین عذاب میں مبتلا کرینگے تاکہ مشرکین کو معلوم ہوجائے اور مومنین کو شرح صدر اور اطمینان نصیب ہو کہ اللہ کے سوا کوئی پناہ دینے والا اور مصیبتوں سے بچانیوالا نہیں اور جن کو مشرکین اپنی بستیوں کے محافظ اور پناہ دہندے تصور کرتے ہیں وہ عاجز ہیں حضرت شاہ عبدالقادر دہلوی فرماتے ہیں ” ہر شہر کے لوگ ایک بزرگ کو پوجتے ہیں کہ ہم اس کی رعیت ہیں کہ ہم اس کی پناہ میں ہیں سو وقت آنے پر کوئی پناہ نہیں دے سکتا “۔ لا عاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی کہ وہ مشرکین سے عداوت کی بناء پر اپنی زبانوں سے کوئی غلط بات نہ نکالیں ، بلکہ ہمیشہ اچھی بات کریں شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان جھگڑا کرکے اپنا الو سیدھا کرے کیونکہ وہ انسان کا صریح دشمن ہے ، فرمایا شیطان کے پیچھے لگتے کی بجائے ہمیشہ سچی بات کریں پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اس بات کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ ہر شخص ضرور ہی ہدایت قبول کرے ، آپ کا کام تبلیغ کرنا اور لوگوں کو سمجھانا ہے آپ اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اس نے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بعض پر فضیلت بخشی ہے خاص…
Read the full tafseer →وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا ۭ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا 58
قرية
الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية .
( ق ر ی ) القریۃ
وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل…
Read the full tafseer →2 ؎ یعنی کفار و منکرین کجا ہر ایک بستی کو ان کی نافرمانی سے قیامت سے پہلے دنیا ہی میں غارت کرے گا یا کسی سخت عذاب میں مبتلا کرے گا۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلاَّ نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ اَوْمُعَذِّبُوْھَا عَذَابًا شَدِیْدًا ط کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 58)
(اور نہیں ہے کوئی بستی مگر ہم اس کے ہلاک کرنے والے ہیں قیامت کے دن سے پہلے یا اس کو عذاب دیں گے، شدید عذاب، یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ )
عذاب سے متعلق سنت اللہ
گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جواب میں مشرکین آپ ﷺ سے بار بار عذاب لانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ ان کے جواب میں ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا نزول لوگوں کے مطالبے پر نہیں ہوتا بلکہ اس کا ایک قانون ہے، جب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کا عذاب صرف ڈرنے کی چیز ہی نہیں بلکہ حقیقتاً بھی نازل ہوتا ہے۔ جس طرح قوم ثمود پر نازل ہو اتھا۔
اللہ تعالیٰ کو یہ بات انتہائی ناپسند ہے کہ اسے براہ راست پکارنے اور اس کی خالص عبادت کرنے کی بجائے بالواسطہ عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی اور کو پکارا جائے۔ شرک کی یہی بڑی اور عالمگیر قسم ہے۔ جس میں ہر زمانے کی اکثریت اور بڑی بڑی اقوام مبتلارہی ہیں۔ اسی سے انبیاء کرام منع کرتے رہے۔ سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے پانچ بتوں کو وسیلہ بنایا۔ جن کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا فرمان ہے۔ یہ قوم نوح کے فوت ہونے والے پانچ بزرگوں کے نام ہیں۔ جن کی محبت…
Read the full tafseer →قیامت بستیوں کو فنا کر دے گی :
58: وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ اَوْمُعَذِّبُوْھَا عَذَابًا شَدِیْدًا (اور کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے قبل ہلاک نہ کریں یا اس کو (قیامت کے دن) سخت عذاب نہ دیں) ۔ کہا گیا ہے کہ ہلاکت صالحین کیلئے اور عذاب مجرموں کیلئے کَانَ ذٰلِکَ فِی الْکِتٰبِ (اور یہ بات کتاب میں) کتاب سے لوح محفوظ مراد ہیمَسْطُوْرًا (لکھی ہے) مقاتل کہتے ہیں کہ میں نے ضحاک کی کتابوں میں اس کی تفسیر اس طرح پائی۔ رہا مکہ اس کو اہل حبشہ تباہ کریں گے اور اہل مدینہ بھوک کی وجہ سے ہلاک ہونگے۔ اور بصرہ غرق سے اور کوفہ ترک سے اور پہاڑ گرجوں اور…
Read the full tafseer →58۔” وان من قریۃ “ اور کوئی بستی ایسی نہیں ۔” الا نحن مھلکوھا قبل یوم القیامۃ “ اس بستی کو ہم بوسیدہ اور ہلاک نہ کردیں اور اس بستی میں رہنے والوں کو ہلاک نہ کردیں ۔” او معذبوھا عذابا ً شدیدا “ عذاب کی مختلف قسم کے انواع ان کو دیئے جائیں گے ، ان کے کفر کے بسبب یا نافرمانی کے بسبب۔ مقاتل وغیرہ کا قول ہے کہ ہلاک کرنے سے مراد ہے مار ڈالنا، موت کو مسلط کردینا، یعنی بستی والے اگر مؤمن ہوں تو ہم ان پر موت مسلط کردیتے ہیں ، زندگی ختم کردیتے ہیں اور اگر کافر ہوں تو طرح طرح کے عذابوں کو مبتلا کردیں گے۔ عبد اللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ جب کسی بستی میں زنا اور سود پھیل جاتا ہے اللہ اس بستی کو تباہ کرنے…
Read the full tafseer →58:۔ اوپر ذکر تھا کہ مشرکین مکہ کو دنیا کی زندگی پر ایسا بھروسہ تھا کہ وہ مسخراپن سے قیامت کے آنے کی جلدی کرتے تھے اس لیے فرمایا کہ دنیا کی زندگی کسی طرح بھروسہ کے قابل چیز نہیں ہے۔ قیامت سے پہلے بعضے شہروں کے لوگ اپنی موت سے اور بعضوں کے طرح کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ دنیا میں ہونے والا ہے اپنے علم غیب کے موافق وہ سب اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد صحیح ابن حبان اور طبرانی میں ابوہریرہ ؓ اور عقبہ بن عامر ؓ سے جو روایتیں ہیں 1 ؎ ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صور کے قریب جو شخص بیچنے کے لیے کپڑے کا تھان کھولے گا یا دودھ والے جانوروں کا دودھ دو ہے…
Read the full tafseer →(آیت نمبر (58
یعنی اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے جھٹلانے والی کوئی بستی ایسی نہیں جسے روز قیامت سے پہلے ہلاکت یا عذاب کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور اس کی مقرر کردہ تقدیر ہے جس کا وقوع لازمی ہے ‘ لہذا اس سے قبل کہ عذاب کا حکم آجائے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی بات پوری ہوجائے تکذیب کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اس کے رسولوں کی تصدیق کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
دنیا میں انسان کا قیام بہت تھوڑا ہے
قول باری ہے (وتظنون ان لبثتم الا قلیلاً اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں) حسن کا قول ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی مدت کے متعلق یہ گمان کرو گے اس لئے کہ آخرت میں تمہارے رہنے کی مدت بڑی طویل ہوگی جس طرح یہ قول ہے ۔ ” تم دنیا میں اتنی تھوڑی مدت کے لئے رہو گے کہ گویا رہے ہی نہیں اور آخرت کی مدت کو دیکھ کر کہو گے کہ گویا ہمیشہ سے یہیں رہتے ہے۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ آخرت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان کی نظروں میں دنیا انتہائی حقیر ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
105۔ ظالموں نے اپنے ظلم کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے :۔
کہ یہ مکافات عمل کا لازمی اور طبعی تقاضا ہے۔ پس اس سلسلے میں ملنے والی ڈھیل سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ہر سرکش کو عذاب بہرحال آنا ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ وعمل کو روکنے کی قدرت وطاقت کسی بھی ہستی میں نہیں اور تاکہ ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا پھل مل کر رہے اور اس طرح پاداش عمل کا ظہور ہو اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ اور یہ ان لوگوں کے اپنے کئے کرائے کا لازمی نتیجہ اور طبعی ثمرہ ہوتا ہے۔ ورنہ ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ہوتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ وما ظلمنا ہم ولکن کانوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
انبیاء کی فضیلت کے پہلو، دعا اور اعمال کا وسیلہ، بستیوں کی ہلاکت
تشریح : یہاں اللہ کے علیم وخبیر ہونے کا ذکر ہے اور پھر حضرت داود (علیہ السلام) کا ذکر خاص طور سے کیا گیا کیونکہ ان کو ایسی بادشاہت ملی تھی کہ جیسی کسی اور کو نہیں ملی اور ان پر نازل ہونے والی کتاب زبور کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر حکم ہوا کہ شرک کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ظلم ہے اور پھر جب بھی چاہو تو ان معبودوں کو اپنی مصیبت ٹالنے کے لیے پکار کر دیکھ لو وہ کچھ نہیں کرسکتے بلکہ وہ تو خود اللہ کے مختاج ہیں۔ اور پھر قیامت سے پہلے ایسی تمام بستیاں تباہ کردی جائیں گی جو کفر و شرک اور بداعمالیوں کا مقام ہوں گی۔ یہ سب کچھ ہو کر رہے گا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ میرے بندوں یعنی مسلمانوں سے کہئے کہ بات خوبصورت انداز میں کیا کریں اس میں سختی یا سب وشتم نہ ہو کہ سب وشتم سے یا سخت کلامی سے شیطان کو فساد پھیلانے کا موقع ملتا ہے اور انسانوں کو آپس میں لڑاتا ہے تو بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔
(عام گفتار میں بھی اور دینی تبلیغ میں بھی سخت کلامی درست نہیں خواہ بات کفار ہی سے کیوں نہ کی جائے)
مسلمانوں کو آپس میں تو بات زیب ہی اخلاق سے دیتی ہے اور پھر جب بات دین کی وہ اور اللہ جل جلالہ اور اس کے نبی ﷺ کے حوالے سے کی جائے تو اور زیادہ محتاط لب و لہجہ ضروری ہے ، خواہ مخاطب بدکار اور بےدین ہی کیوں نہ ہو یہ بات بات پہ دوسروں کو…
Read the full tafseer →ف 2 تباہ کرنے سے مراد بالکل غارت کردیتا اور عذاب اتارنے سے مراد قحط بیماری یا جنگ وغیرہ میں مبتلا کرنا ہے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ” قریہ “ سے مراد ہر بستی ہے یعنی مومنوں کی ہو یا کافروں کی، اور ” اہلاک “ سے مراد طبعی ویرانی اور ” تعذیب “ سے کسی آفت وغیرہ میں مبتلا کرنا ہے اور ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ روئے زمین کی کوئی ایسی بستی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے پہلے یا تو طبعی موت بھیج کر ویران نہ کردیں یا کسی سخت آفت میں مبتلا نہ کردیں۔ بہرحال دونوں میں سے کوئی مطلب لیا جائے۔ مقصود کفار مکہ کو ڈرانا ہے کہ خواہ تم ہر طرح امن سے رہتے ہو مگر ایک نہ ایک دن تمہاری گرفت ہوگی۔ اس آیت میں ان نشانیوں کی…
Read the full tafseer →(17:58) ان من قریۃ۔ سے مراد کافروں اور معاندین کی بستیاں ہیں اور مھلکوھا۔ (ہم ان کو ہلاک کرنے والے ہیں) میں اہلاک بالعذاب مراد ہے ۔ ورنہ نفس موت و ہلاکت تو طبعی اسباب سے مومن اور کافر سب کی ہوتی رہتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 58
ادعوا پکارو۔ لایملکون وہ اختیار نہیں رکھتے۔ کشف کھولنا۔ دور کرنا۔ الضر تکلیف، مصیبت۔ تحویل بدلنا۔ یبتغون وہ تلاش کرتے ہیں۔ الوسیلۃ ذریعہ۔ اقرب زیادہ قریب۔ محذور ڈر کی چیز۔ مسطور لکھا ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 56 تا 58
اللہ کے ساتھ اس کی ذات، صفات اور قدرت میں کسی اور کو شریک سمجھنایا شریک کرنا اس قدر بدترین اور گھناؤنا جرم ہے جس کی کسی حالت میں معافی نہیں ہے۔ قرآن کریم میں صاف صاف ارشاد فرما دیا کہ شرک ایک بہت بڑی بےانصافی اور ظلم ہے اسی لئے فرمایا کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے علاو وہ بہت کچھ معاف کر دے گا جس…
Read the full tafseer →مشرکین مکہ اپنے اعمال کی خرابی اور اپنے اعتقاد کی مذمت سن کر یوں کہا کرتے تھے کہ : اچھا اگر تمہارا مذہب سچا ہے تو پھر خدا ہمارے شہر پر بلا کیوں نہیں بھیجتا۔ اس کے جواب میں ارشاد ہوتا ہے کہ کوئی اسی بستی ہیں جو سلامت رہے۔ قیامت سے پہلے سب ہلاک ہوجاویں گے، یا یہ بات ہوگی کہ قیامت سے پہلے ہم کفار کو سخت عذاب میں مبتلا کردیں گے اور یہ سب نتیجہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جو وقت پر ہوگا۔ کسی طرح ٹل نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →[44] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(ف 2) مکہ والے فرشتوں کی عبادت کرتے تھے عیسائی مسیح (علیہ السلام) و عزیز (علیہ السلام) کو پوجتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ تم جن لوگوں کی عبادت کرتے ہو ، وہ تو خود محتاج ہیں ، اللہ کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی بڑی کوشش یہی رہتی ہے ، کہ اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے جب ان کی یہ حالت ہے ، تو کیونکر وہ تمہارے شرک پر خوش ہو سکیں گے ؟
حل لغات :
تحویلا : تبدیلی ، پھیرنا ، ہٹانا ۔
Read the full tafseer →-58 اور منکروں کی کوئی بستی ایسی نہیں ہے جس کے رہنے والے کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا ان کو کسی سخت ترین عذاب میں مبتلا نہ کریں یہ بات کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھی جا چکی ہے۔ یعنی کسی معمولی آفت سے تباہ کریں یا کسی سخت ترین عذاب سے برباد کریں ہوسکتا ہے کہ مختلف آفتوں سے ہلاکت قبل قیامت ہو اور سخت ترین عذاب بعد قیامت ہو۔ (واللہ اعلم)
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تقدیر میں لکھ چکے ہیں شہر کے لوگ ایک کو بزرگ ٹھیرا کر پوجتے ہیں کہ ہم اس کی رعیت ہیں اور اس کی پناہ میں ہیں سو وقت آنے پر کوئی نہیں پناہ دے سکتا۔ 12
Read the full tafseer →ف 4۔ پس اگر کوئی کافر یہاں کسی آفت میں ہلاک ہونے سے بچ گیا تو قیامت کے روز آفت کبری سے نہ بچے گا۔ آفت کی قید اس لئے کہ موت طبعی سے تو سب ہلاک ہوتے ہی ہیں، اس میں کفر کی تخصیص نہیں۔
Read the full tafseer →بداعمال گروہوں کو پاداش عمل میں مبتلا ہونا دنیوی زندگی میں بھی ضروری ہے ۔
72۔ اس آیت میں افراد کا نہیں بلکہ جماعتوں اور قوموں کی بستیوں کا ذکر ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر بداعمال گروہ کو اس کے اعمال کی پاداش کا مال جانا ضروری ہے خواہ ہلاکت کی صورت میں ہو ‘ خواہ کسی دوسرے عذاب کی صورت میں ۔ اس طرح کا عذاب ہوتا آیا ہے ۔ ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا ۔ لیکن افسوس کہ اب قوم مسلم نے اس عذاب الہی کو عذاب ہی نہیں سمجھا جس عذاب الہی میں وہ ایک مدت سے مبتلا ہے اور دن بدن ہوتی ہی چلی جارہی ہے ، کاش کہ کوئی بینا آنکھ اس عذاب الہی کو دیکھ سکے اور آنکھ ان لوگوں کی ہو جو اس کے دفاع کے لئے آواز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
Commentary
The word 'al-wasilah' in: يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ (seek the means of close ness to their Lord - 57) conveys the sense of that which is used as a means of reaching someone. As for reaching Allah, the wasilah or means is to always keep the pleasure of Allah in sight when learning or doing anything while adhering to the injunctions of the Shari` ah strictly. Thus, the sense of the sentence is that all of them are seeking the closeness of Allah Ta’ ala through their righteous deeds.
About the sentence which follows immediately after: يَرْجُونَ رَحْمَتَهُ…
Read the full tafseer →66. This is to remove the delusion of the disbelievers that their habitations were immune from danger or chastisement. This verse warns that every habitation will be destroyed as a matter of course or by Allah’s chastisement.
Read the full tafseer →