Explained with ayahs 56–57
وسیلہ یا قرب الہٰی
اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے کہئے کہ تم انہیں خوب پکار کر دیکھ لو کہ آیا وہ تمہارے کچھ کام آسکتے ہیں ؟ نہ ان کے بس کی یہ بات ہے کہ مشکل کشائی کردیں نہ یہ بات کہ اسے کسی اور پر ٹال دیں وہ مخض بےبس ہیں، قادر اور طاقت والا صرف اللہ واحد ہی ہے۔ مخلوق کا خالق اور سب کا حکمران وہی ہے۔ یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہوگئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں، اس لئے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 65
یہ الفاظ خود گواہی دے رہے ہیں کہ مشرکین کے جن معبودوں اور فریاد رسوں کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہے ان سے مراد پتھر کے بت نہیں ہیں، بلکہ یا تو فرشتے ہیں یا گزرے ہوئے زمانے کے برگزیدہ انسان۔ مطلب صاف صاف یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) ہوں یا اولیاء عظام یا فرشتے، کسی کی بھی یہ طاقت نہیں ہے کہ تمہاری دعائیں سنے اور تمہاری مدد کو پہنچے۔ تم حاجت روائی کے لیے انہیں وسیلہ بنا رہے ہو، اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں، اور اس کا زیادہ سے زیادہ تقرب حاصل کرنے کے وسائل ڈھونڈ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
معارف و مسائل
(آیت) يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ لفظ وسیلہ کے معنی ہر وہ چیز جس کو کسی دوسرے تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا جائے اور اللہ کے لئے وسیلہ یہ ہے کہ علم و عمل میں اللہ تعالیٰ کی مرضی کی ہر وقت رعایت رکھی اور احکام شرعیہ کی پابندی کرے مطلب یہ ہے کہ یہ سب حضرات اپنے عمل صالح کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے تقرب کی طلب میں لگے ہوئے ہیں۔
(آیت) يَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ حضرت سہل بن عبداللہ نے فرمایا کہ رجاء اور خوف یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کا امیدوار بھی رہنا اور ڈرتے بھی رہنا یہ انسان کے دو مختلف حال ہیں جب یہ دونوں برابر درجے میں رہیں تو انسان صحیح راستہ پر چلتا…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا۔ یعنی جن فرشتوں کو یہ خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہیں وہ تو خود ہر وقت خدا کے قرب کی طلب میں سرگرم ہیں وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور کیوں نہ ڈریں۔ تیرے رب کا عذاب چیز ہی ایسی ہے کہ اس سے ہر شخص ڈرے اور بچے، خواہ وہ کتنا ہی عالی مقام ہو۔
Read the full tafseer →57۔ 1 مذکورہ آیت میں مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ سے مراد فرشتوں اور بزرگوں کی وہ تصویریں اور مجسمے ہیں جن کی عبادت کرتے تھے، یا حضرت عزیر و مسیح علہما السلام ہیں جنہیں یہودی اور عیسائی ابن اللہ کہتے ہیں اور انھیں ربوبیت صفات کا حامل مانتے تھے، یا وہ جنات ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے اور مشرکین ان کی عبادت کرتے تھے۔ اس لئے کہ اس آیت میں بتلایا جا رہا ہے کہ یہ تو خود اپنے رب کا قرب تلاش کرنے کی جستجو میں رہتے اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور یہ صفت جمادات (پتھروں) میں نہیں ہوسکتی۔ اس آیت سے واضح ہوجاتا ہے کہ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ (اللہ کے سوا جن کی عبات کی جاتی رہی ہے) وہ صرف پتھر کی…
Read the full tafseer →29: اس سے مراد بت نہیں بلکہ وہ فرشتے اور جنات ہیں جن کو مشرکین عرب خدائی کا درجہ دیا کرتے تھے، مطلب یہ ہے کہ یہ خدا تو کیا ہوتے خود اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں، اور اس کے تقرب کے راستے ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →بعض لوگ حضرت عزیر کو ابن اللہ کہتے تھے اور یہ لوگ حضرت عزیر کی بندگی بھی کرتے تھے۔ بعض لوگ ایسے تھے جو حضرت عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے تھے اور ان کی بندگی کرتے تھے۔ بعض لوگ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے اور ان کی پوجا کرتے تھے اور بعض لوگوں نے ان کے سوا اور معبود اور خدا بنا رکھے تھے۔ اللہ ان سب لوگوں کے بارے میں کہتا ہے کہ جن لوگوں کو تم پکارتے ہو ، وہ خود اللہ کے دربار میں رسائی حاصل کرنے کے لئے وسیلے تلاش کرتے ہیں اور عبادات کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔ اور اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اللہ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں ، تو تمہارے مناسب حال بھی یہ بات ہے کہ تم بھی اللہ کا تقرب…
Read the full tafseer →10 یعنی خدا تو وہ ہے کہ جس کو چاہے عذاب دے جس پر چاہے مہربانی فرمائے، جس کو جس قدر چاہے دوسروں پر فضیلت عطا کرے، اس کی قدرت کاملہ اور علم محیط ہے۔ اب ذرا مشرکین ان ہستیوں کو پکاریں جن کو انہوں نے خدا سمجھ رکھا یا بنا رکھا ہے۔ کیا ان میں ایک بھی ایسا مستقل اختیار رکھتا ہے کہ ذرا سی تکلیف کو تم سے دور کرسکے یا ہلکی کر دے یا تم سے اٹھا کر کسی دوسرے پر ڈال دے۔ پھر ایسی ضعیف و عاجز مخلوق کو معبود ٹھہرا لینا کیسے روا ہوگا۔
11 بخاری میں روایت ہے کہ کچھ لوگ جاہلیت میں جنات کی عبادت کرتے تھے۔ وہ جن مسلمان ہوگئے اور یہ پوجنے والے اپنی جماعت پر قائم رہے۔ ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔ بعض کہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →آیت 57 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ
لفظ ”وسیلہ“ بمعنی قرب اس سے پہلے ہم سورة المائدۃ آیت 35 میں پڑھ چکے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح اس دنیا میں اللہ کے بندے اللہ کے ہاں اپنے درجات بڑھانے کی فکر میں رہتے ہیں اسی طرح عالم غیب یا عالم امر میں بھی تقرب الی اللہ کی یہ درجہ بندی موجود ہے۔ جیسے فرشتوں میں طبقہ اسفل کے فرشتے پھر درجہ اعلیٰ کے فرشتے اور پھر ملائکہ مقربین ہیں۔
اللہ کی شریک ٹھہرائی جانے والی شخصیات میں سے کچھ تو ایسی ہیں جو بالکل خیالی ہیں اور حقیقت میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ لیکن ان کے علاوہ ہر زمانے میں لوگ انبیاء اولیاء…
Read the full tafseer →70 اس آیت میں بالخصوص ایسے معبودوں کا ذکر ہے جو جاندار ہیں۔ پتھر کے بت اس آیت کے مضمون سے خارج ہیں۔ یعنی فرشتے یا جن یا فوت شدہ انبیاء و صالحین ہی اس سے مراد لیے جاسکتے ہیں۔ اور بتایا یہ جارہا ہے کہ تم ان ہستیوں کو اپنی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیے وسیلہ بناتے ہو جو خود ساری زندگی اس جستجو میں رہے کہ اللہ کے زیادہ سے زیادہ فرمانبردار بندے بن کر اس کا قرب حاصل کریں اور وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہی رہے لہذا تمہیں بھی یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور اللہ کے زیادہ سے زیادہ فرمانبردار بن کر اور اعمال صالحہ بجا لا کر ان اعمال کے ذریعہ یا وسیلہ سے اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہیے۔ اس آیت سے صاف معلوم…
Read the full tafseer →81۔ یعنی خود ہی طاعت و عبادت کے ذریعہ سے اللہ کا قرب اور قرب مزید ڈھونڈر ہے ہیں۔ مراد یہاں ملائکہ وجنات اور بعض انبیاء لیے گئے ہیں جنہیں مشرکوں اور مبتلائے شرک اہل کتاب نے درجہ الوہیت دے رکھا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ یہ بندگان صالح تو اپنے کمال عبدیت و عبودیت کی بناء پر خود ہی ہر طرح تلاش قرب وقرب مزید میں لگے رہتے ہیں۔ (آیت) ” الوسیلۃ “۔ وسیلۃ کے معنی قرب کے ہیں اور یہی یہاں بھی صحابہ، تابعین اور اکابر مفسرین سے مروی ہیں۔ الوسیلۃ القربۃ (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ القربۃ والزلفی (ابن جریر۔ عن قتادۃ) القربۃ والزلفۃ (ابن جریر)
82۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ تمام گڑھے ہوئے خدا خود ہی ہر طرح محتاج ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت نمبر 53 تا 60
ترجمہ : اور میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ کفار سے اچھی بات کہو بلاشبہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے، یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، یعنی اس کی عداوت بالکل ظاہر ہے، اور وہ کلمہ جو بہتر ہے وہ یہ کہ ” تمہارا رب تمہارے بارے میں تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ جانتا ہے، اگر وہ چاہے تو توبہ اور ایمان کے ذریعہ تمہارے اوپر رحم فرمائے یا اگر تم کو عذاب دینا چاہے تو تم کو کفر پر موت دے کر تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں اور یہ حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اور وہ آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے اور ان…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ
جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔
وہ خود اللہ کا قرب ایمان اور اطاعت کے ذریعہ سے چاہتے ہیں ‘ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وسیلہ خاص ہے اور وصیلہ عام۔ وصیلہ کا معنی ہے کسی چیز سے اتصال اور وسیلہ کا معنی ہے رغبت کے ساتھ کسی چیز تک پہنچنا۔ وسیلۂ الی اللہ سے مراد ہے علم اور عمل کے لحاظ سے اللہ کی قائم کی ہوئی راہ کی نگہداشت اور مکارم شریعت کے حصول کا ارادہ اور کوشش۔ گویا وسیلۂ الی اللہ کا مرادی معنی ہوا قرب خداوندی۔ قاموس میں ہے وسیلہ اور واسلہ بادشاہ کے دربار میں خاص مرتبہ ‘ درجہ ‘ قربت ‘…
Read the full tafseer →(57) اور یہ فرشتے جن کی یہ کفار عبادت کررہے ہیں، وہ خود اپنے رب کی عبادت کرکے اس کے دربار میں قربت اور فضیلت حاصل کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب بنتا ہے اور وہ خود اس کی جنت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں واقعی آپ کے رب کے عذاب نازل ہونے پر ان کو پھر کوئی پناہ نہیں۔
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ۔۔ : ”الْوَسِـيْلَةَ“ ”قُرْبٌ“ (قریب ہونا) وسیلہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة مائدہ (35) یعنی وہ تمام لوگ جنھیں یہ مشرک پکارتے ہیں، مثلاً فرشتے، انبیاء اور صلحاء وغیرہ وہ خود اپنے رب کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں، یعنی ان میں سے وہ جو اللہ تعالیٰ سے زیادہ قرب رکھنے والے ہیں (وہ اس کا قرب مزید چاہتے ہیں) اور وہ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، تو جب وہ سب لوگ جنھیں مشرکین مدد کے لیے پکارتے ہیں، وہ خود اللہ کے زیادہ سے زیادہ قرب کے متلاشی ہیں اور اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، تو پھر انھیں پکارنے کا اور ان سے مدد مانگنے کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 57
قولہ تعالیٰ : اولٰئک الذین یدعون۔ اولٰئک مبتدا ہے۔ الذین، اولٰئک کی صفت ہے۔ اور صلہ کی ضمیر محذوف ہے، یدعونھم
یعنی وہ جنہیں پکارا جاتا ہے۔ اور یبتغون خبر ہے یا یہ حال ہوگا، اور الذین یدعون خبر ہے، ای یدعون إلیہ عبادا (أوعبادہ) إلی عبادتہ۔ (وہ اس کی طرف اس کے بندوں کو اس کی عبادت کے لئے پکارتے ہیں ) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے تدعون صیغہ خطاب کی بنا پر تاکہ ساتھ پڑھا ہے۔ اور باقیوں نے خبر کی بناء پر یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور یبتغون میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ یا کے ساتھ ہے۔ اور صحیح مسلم میں کتاب التفسیر میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے قول باری تعالیٰ : اولٰئک الذی یدعون یبتغون الی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
1:۔ عبدالرزاق، فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ، اور ابونعیم نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” قل ادعوالذین زعمتم من دونہ فلا یملکون کشف الضر عنکم ولا تحویلا “ کے بارے میں روایت کیا کہ انسانوں کی ایک جماعت جنوں میں سے ایک جماعت کی عبادت کرتی تھی جب وہ جن مسلمان ہوگئے تو انسانوں نے ان جنوں سے عبادت کا وسیلہ پکڑا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربہم الوسیلۃ “۔ یدعون یبتغون “ دونوں یاء کے ساتھ۔
جنات کی عبادت کا نقصان ـ:
2:۔ ابن جریر، ابن مردویہ، ابونعیم، اور بیہقی دونوں نے دلائل…
Read the full tafseer →[اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [الَّذِينَ : جن کو ] [يَدْعُوْنَ : یہ لوگ پکارتے ہیں ] [يَبْتَغُوْنَ : وہ لوگ (تو خود) تلاش کرتے ہیں ] [اِلٰى رَبِهِمُ : اپنے رب کی طرف ] [الْوَسِـيْلَةَ : قربت کو ] [اَيُّهُمْ : (کہ) ان کا کون ] [اَقْرَبُ : زیادہ قریب (ہوتا) ہے ] [وَيَرْجونَ : اور وہ لوگ امید رکھتے ہیں ] [رَحْمَتَهٗ : اس کی رحمت کی ] [وَيَخَافُوْنَ : اور وہ خوف کرتے ہیں ] [عَذَابَهٗ : اس کے عذاب کا ] [ان : بیشک ] [عَذَابَ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کا عذاب ] [كَان : ہے ] [مَحْذُوْرًا : کہ جس سے بچا جائے ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے سوا جو معبود بنا رکھے ہیں وہ کوئی ذرا سی تکلیف بھی دور نہیں کرسکتے کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہی ہلاک نہ کریں یا عذاب نہ دیں
مشرکین اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی پرستش کرتے تھے اور کرتے ہیں ان میں سے بہت سے تو بتوں کے پرستار تھے انہوں نے شیاطین کی صورتیں دیکھ کر مجسمے بنالیے تھے اور بہت سے لوگ فرشتوں کو اور جنات کو اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اور ان کی والدہ کو معبود مانتے تھے جن کی عبادت کی جاتی ہے اسے نفع کے لیے اور دفع مضرت کے لیے پکارا جاتا ہے۔
آیت بالا میں فرمایا کہ تم جن کو اللہ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو تمہاری کوئی تکلیف دکھ درد، قحط دور نہیں کرسکتے اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
تلقین حسن خطاب با اہل کتاب و جوابات از شبہات مشرکین
قال اللہ تعالیٰ : وقل لعبادی یقولوا التی ہی احسن .... الیٰ .... الا طغیانا کبیرا۔
(ربط) توحید اور قیامت کی حقانیت پر دلائل قائم کرکے مسلمانوں کو تعلیم فرماتے ہیں کہ مخالفین سے جب بحث کی نوبت آئے تو الفاظ نرم ہونے چاہیں کیونکہ سختی سے بسا اوقات سب و شتم کی نوبت آجاتی ہے اور شیطان باہمی نفرت اور عداوت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور مخالف ضد پر اتر آتا ہے ایسی ھالت میں دعوت و تبلیغ بےسود ہوجاتی ہے۔ بعد ازاں مشرکین کے چند شبہات کے جوابات دئیے جو نہایت نرم ہیں اور باوجود نرم ہونے کے نہایت محکم ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ! میرے بندوں یعنی…
Read the full tafseer →54:۔ یہ دلیل مذکورہ کا ثمرہ ہے جب سب کچھ جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے تو اس کے سوا کسی کو حاجات و مشکلات میں مت پکارو۔ اگر اطمینان نہ آئے تو جن کو تم نے اللہ کے سوا حاجت روا اور کارساز سمجھ رکھا ہے ان میں سے کوئی بھی تمہاری موجودہ مصیبتیں دور کرنے اور آنے والی تکلیفوں کو روکنے کا ہرگز اختیار نہیں رکھتا۔ جن انبیاء و اولیاء اور ملائکہ (علیہم السلام) کو تم نے کارساز اور مختار و متصرف سمجھ رکھا ہے ان میں سے کوئی بھی تمہاری موجودہ مصیبتیں دور کرنے اور آنے والی تکلیفوں کو روکنے کا ہرگز اختیار نہیں رکھتا۔ جن انبیاء و اولیاء اور ملائکہ (علیہم السلام) کو تم نے کارساز اور مختار و متصرف سمجھ رکھا ہے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی کہ وہ مشرکین سے عداوت کی بناء پر اپنی زبانوں سے کوئی غلط بات نہ نکالیں ، بلکہ ہمیشہ اچھی بات کریں شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان جھگڑا کرکے اپنا الو سیدھا کرے کیونکہ وہ انسان کا صریح دشمن ہے ، فرمایا شیطان کے پیچھے لگتے کی بجائے ہمیشہ سچی بات کریں پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اس بات کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ ہر شخص ضرور ہی ہدایت قبول کرے ، آپ کا کام تبلیغ کرنا اور لوگوں کو سمجھانا ہے آپ اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اس نے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بعض پر فضیلت بخشی ہے خاص…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ ۭ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا 57
ابتغاء
البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ،
وأمّا الابتغاء
فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ…
Read the full tafseer →یبتغون اے یطلبون الی ربھم الوسیلۃ الی القربۃ وقیل الوسیلۃ الدرجۃ العلیا ایھم اقرب معناہ ینظرون ایھم اقرب الی اللہ فیوسلون بہ وقال الزجاج ایھم اقرب یبتغی الوسیلۃ الی اللہ تعالیٰ ویتقرب الیہ بالعمل الصالح (از معالم ناء) 12 منہ۔
1 ؎ بندہ اور اس کے مالک میں جو بڑا رابطہ اور قوی وسیلہ ہے۔ وہ بندے کا نیاز اور عبادت ہے۔ 12 منہ۔
Read the full tafseer →اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ وَیَرْجُوْنَ رَحْمَتَہٗ وَیَخَافُوْنَ عَذَابَہٗ ط اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحْذُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 57)
(جن کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی اپنے رب کے قرب کی طلب میں سرگرم ہیں کہ ان میں سے کون سب سے زیادہ قرب حاصل کرتا ہے، اور وہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بیشک آپ ﷺ کے رب کا عذاب چیز ہی ڈرنے کی ہے۔ )
ایک غلط فہمی کا ازالہ
مشرکینِ عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں سمجھتے تھے اور یہ یقین رکھتے تھے کہ دنیا کی مشکلات میں بھی وہ بیٹیاں ہمارے کام آتی ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کا آغاز آیت 39 سے ہوا تھا۔ اس میں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوا فرمایا گیا کہ اگر آپ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود اور حاجت روا، مشکل کشا سمجھیں گے تو آپ کو بھی راندہ درگاہ کرکے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اس خطاب کا اختتام بھی توحید کے اسی پہلو پر کیا جارہا ہے۔
اے رسول ﷺ ! ان لوگوں کو کہیں کہ جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا مشکل کشا، حاجت روا سمجھتے ہو۔ ان کو بلاؤ۔ وہ تمہاری تکالیف دور کرنے یا ان کو بدل دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ اپنی مدد کے لیے پکارتے ہو۔ وہ تو اپنے رب کے ہاں قرب کے متلاشی ہیں۔ کہ کون ان میں…
Read the full tafseer →جن کو تم پکارتے ہو وہ خود اللہ کا قرب ڈھونڈتے ہیں :
57: اُولٰٓپکَ (یہ) یہ مبتدا ہے۔ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ (یہ لوگ جنہیں مشرکین پکار رہے ہیں) یہ صفت ہے یعنی جن کو وہ الٰہ مانتے ہیں۔ نمبر 2۔ جن کی عبادت کرتے ہیں۔ یَبْتَغُوْنَ اِلٰی رَبِّھِمُ الْوَسِیْلَۃَ (وہ اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔ ) یعنی ان کے معبود اللہ تعالیٰ کا قرب ڈھونڈتے ہیں۔ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ یہ یبتغونؔ کی وائو سے بدل ہے۔ اور ای اسم موصول ہے۔ اَیُّہُمْ اَقْرَبُ کہ کون ان میں زیادہ قریب ہے۔ یعنی وہ متلاشی ہیں کہ کون ان میں اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہے۔ تو قرب نہ رکھنے والوں کو کون پوچھتا ہے ؟
نمبر 2۔ یبتغونکے ضمن میں وسیلہ کا…
Read the full tafseer →57۔” اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلۃ “ وہ معبود ان باطلہ جن کو مشرکین مکہ پکارتے ہیں کہ وہی ” الھۃ “ ہیں ان کی عبادت کرتے ہیں۔ ابن عباس ؓ اور مجاہد کا قول ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ یا اس سے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور فرشتے ہیں ۔ سورج ، چاند ، ستارے یہ سب اپنے رب کی قربت کو تلاش کرتے ہیں ۔ بعض نے کہا کہ یہاں وسیلہ سے مراددرجہ ہے وہ اللہ کے آگے عاجزی اختیار کرتے ہیں ، بلند درجہ حاصل کرنے کی غرض سے۔ بعض نے کہا کہ وسیلہ ہر وہ کام جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بنے۔” ایھم اقرب “ وہ دیکھتے ہیں کہ کون اللہ کے زیادہ قریب ہے جس سے وہ توسل اختیار کرتے ہیں ۔ زجاج کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
56۔ 57:۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے جنات کے ایک گروہ کو اپنا معبود بنا رکھا تھا اتفاق سے جنات کا گروہ مسلمان ہوگیا اور انسانوں کے اس فرقے کو جو ان جنات کی پرستش کیا کرتے تھے ان جنات کے مسلمان ہوجانے کی خبر نہیں ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کے گروہ کے شرمندہ کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ اے نبی اللہ کے ان بیخبر شرک کرنیوالوں سے یہ کہہ دو کہ اللہ کے سوا جن کو تم اپنا معبود ٹھہراتے ہو اگرچہ پہلے بھی ان تمہارے معبودوں کو کسی نیک وبد کا اللہ کے کار خانہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(آیت نمبر (56
(قل) ” کہہ دیجیے۔ “ یعنی مشرکین سے ان کے اعتقاد کی صحت پر دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ‘ جن کی یہ اسی طرح عبادت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے ‘ جن کو یہ اسی طرح پکارتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔۔۔ کہ اگر وہ سچے ہیں تو (ادعوا الذین زعمتم ) ” پکارو تم ان کو جن کو تم گمان کرتے ہو “ یعنی جن کے بارے میں تم اس زعم میں مبتلا ہو کہ وہ معبود ہیں (من دونہ ” اللہ کو چھوڑ کر “ پس غور کرو کہ آیا وہ تمہیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمہیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ ) من دونہ ) ” اللہ کو چھوڑ کر “ پس غور کرو کہ آیا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
دنیا میں انسان کا قیام بہت تھوڑا ہے
قول باری ہے (وتظنون ان لبثتم الا قلیلاً اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں) حسن کا قول ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی مدت کے متعلق یہ گمان کرو گے اس لئے کہ آخرت میں تمہارے رہنے کی مدت بڑی طویل ہوگی جس طرح یہ قول ہے ۔ ” تم دنیا میں اتنی تھوڑی مدت کے لئے رہو گے کہ گویا رہے ہی نہیں اور آخرت کی مدت کو دیکھ کر کہو گے کہ گویا ہمیشہ سے یہیں رہتے ہے۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ آخرت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان کی نظروں میں دنیا انتہائی حقیر ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
101۔ ابطال شرک کیلئے مشرکوں سے خطاب :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ان سے کہو کہ پکارو دیکھو تم لوگ (اے مشرکو ! ) اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو جن کا تم گھمنڈ رکھتے ہو۔ “ یعنی ان کے بارے میں تم یہ زعم اور گھمنڈ رکھتے ہو کہ یہ اللہ کے پیارے ہیں اس کی صفات کے اوتار اور مظہر ہیں۔ انکو خاص اختیارات حاصل ہیں۔ اس لئے یہ ہماری بگڑی بنادیں گے اور ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ مقبول اور پیارے بندے ہیں جن کو ایسے مشرک لوگوں نے از خود حاجت روا ومشکل کشا قرار دے کر پوجا پکارا۔ جیسے حضرت عزیر (علیہ السلام) ، اور حضرت مریم وغیرہ۔ جملہ ثقہ اور معتبر مفسرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
انبیاء کی فضیلت کے پہلو، دعا اور اعمال کا وسیلہ، بستیوں کی ہلاکت
تشریح : یہاں اللہ کے علیم وخبیر ہونے کا ذکر ہے اور پھر حضرت داود (علیہ السلام) کا ذکر خاص طور سے کیا گیا کیونکہ ان کو ایسی بادشاہت ملی تھی کہ جیسی کسی اور کو نہیں ملی اور ان پر نازل ہونے والی کتاب زبور کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر حکم ہوا کہ شرک کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ظلم ہے اور پھر جب بھی چاہو تو ان معبودوں کو اپنی مصیبت ٹالنے کے لیے پکار کر دیکھ لو وہ کچھ نہیں کرسکتے بلکہ وہ تو خود اللہ کے مختاج ہیں۔ اور پھر قیامت سے پہلے ایسی تمام بستیاں تباہ کردی جائیں گی جو کفر و شرک اور بداعمالیوں کا مقام ہوں گی۔ یہ سب کچھ ہو کر رہے گا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ میرے بندوں یعنی مسلمانوں سے کہئے کہ بات خوبصورت انداز میں کیا کریں اس میں سختی یا سب وشتم نہ ہو کہ سب وشتم سے یا سخت کلامی سے شیطان کو فساد پھیلانے کا موقع ملتا ہے اور انسانوں کو آپس میں لڑاتا ہے تو بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔
(عام گفتار میں بھی اور دینی تبلیغ میں بھی سخت کلامی درست نہیں خواہ بات کفار ہی سے کیوں نہ کی جائے)
مسلمانوں کو آپس میں تو بات زیب ہی اخلاق سے دیتی ہے اور پھر جب بات دین کی وہ اور اللہ جل جلالہ اور اس کے نبی ﷺ کے حوالے سے کی جائے تو اور زیادہ محتاط لب و لہجہ ضروری ہے ، خواہ مخاطب بدکار اور بےدین ہی کیوں نہ ہو یہ بات بات پہ دوسروں کو…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اس کی عبادت اور اطاعت کر کے وسیلہ (تقرب الٰہی) چاہتے ہیں اور ان کی ساری تگ و دو اسی لئے ہے کہ اس بارے میں کون دوسروں سے آگے نکلتا ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ” میرے لئے وسیلہ طلب کرو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ وسیلہ کیا چیز ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا تقرب پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (فتح البیان) افسوس کہ آج کل اس امت کے مسلمان بھی اس شرک میں مبتلا ہیں۔ اولیاء و صلحاء پر امت، پیروں، بزرگوں اور شہیدوں سے وہی عقیدہ رکھتے ہیں جو مشرکین اپنے بتوں سے رکھتے تھے، ان کو حاجت روا اور صاحب تصرف سمجھتے ہیں اور ان کے نام کی نیازیں دیتے ہیں تاکہ وہ تکالیف کو دور کریں وغیرہ۔…
Read the full tafseer →(17:57) اولئک۔ موصوف الذین یدعون صفت یدعون کے بعد ضمیر مفعول محذوف ہے موصوف اپنی صفت سے مل کر مبتدا۔ یبتغون الی ربہم خبر۔ مطلب یہ کہ یہ مشرکین جن کو خدا بنائے ہوئے ہیں اور جن کو اپنی تکلیف و مصائب میں پکارتے ہیں یہ خدا نہیں ہیں بلکہ وہ تو خود ہر لمحہ ہر لحظہ اپنے رب کریم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ اگر وہ واقعی خدا ہوتے جیسے مشرکین کا خیال ہے تو پھر انہیں کسی کی عبادت اور رضا جوئی کی کیا ضرورت تھی۔ آیت میں یدعون کی ضمیر فاعل مشرکین کی طرف راجع ہے اور یبتغون کی ضمیر فاعل مشار الیہم (یعنی مشرکین جن کو خدا بنائے ہوئے ہیں) کے لئے ہے۔
الوسیلۃ۔ اسم ہے۔ بمعنی قرب، نزدیکی، قرب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 58
ادعوا پکارو۔ لایملکون وہ اختیار نہیں رکھتے۔ کشف کھولنا۔ دور کرنا۔ الضر تکلیف، مصیبت۔ تحویل بدلنا۔ یبتغون وہ تلاش کرتے ہیں۔ الوسیلۃ ذریعہ۔ اقرب زیادہ قریب۔ محذور ڈر کی چیز۔ مسطور لکھا ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 56 تا 58
اللہ کے ساتھ اس کی ذات، صفات اور قدرت میں کسی اور کو شریک سمجھنایا شریک کرنا اس قدر بدترین اور گھناؤنا جرم ہے جس کی کسی حالت میں معافی نہیں ہے۔ قرآن کریم میں صاف صاف ارشاد فرما دیا کہ شرک ایک بہت بڑی بےانصافی اور ظلم ہے اسی لئے فرمایا کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے علاو وہ بہت کچھ معاف کر دے گا جس…
Read the full tafseer →یہاں فرمایا کہ کفار جن کو پوجتے تھے وہ تو ایمان لے آئے اور یہ کافر اپنے کفر پر رہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے معبود باطل جس قدر ہیں وہ سب معبود برحق کے محتاج ہیں ملائکہ اور جنوں کی یہ کیفیت ہے کہ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور عذاب الہٰی سے ڈرتے ہیں۔ بیشک عذاب الہٰی ڈرنے کے قابل ہے۔
Read the full tafseer →[43] آیت کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ جن معبودان باطل کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے ان سے مراد پتھر یا لکڑی کے بت نہیں ہیں بلکہ گزرے ہوئے اولیاء، انبیاء، فرشتے اور جنات ہیں۔ بت کب تقرب الی اللہ کا ذریعہ تلاش کرتے اور اللہ کے عذاب سے خائف رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(ف 2) مکہ والے فرشتوں کی عبادت کرتے تھے عیسائی مسیح (علیہ السلام) و عزیز (علیہ السلام) کو پوجتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ تم جن لوگوں کی عبادت کرتے ہو ، وہ تو خود محتاج ہیں ، اللہ کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی بڑی کوشش یہی رہتی ہے ، کہ اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے جب ان کی یہ حالت ہے ، تو کیونکر وہ تمہارے شرک پر خوش ہو سکیں گے ؟
حل لغات :
تحویلا : تبدیلی ، پھیرنا ، ہٹانا ۔
Read the full tafseer →-57 یہ مشرک جن لوگوں کو پکارتے ہیں ان کو خود یہ حالت ہے کہ وہ خود اپنے پروردگار تک پہونچنے کا ذریعہ تلاش کرتے پھرتے ہیں کہ ان میں کون نزدیک تر ہے اللہ تعالیٰ سے جس کو وسیلہ بنائیں اور وہ پروردگار عالم کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے خوف کھاتے اور ڈرتے رہتے ہیں واقعی آپ کے پروردگار کا عذاب ہے بھی ڈرنے کے قابل یعنی اس آیت میں کئی قول ہیں ایک بھی ہے کہ یہ اس وسیلہ کی تلاش میں ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ مقرب بنتا ہے۔
بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ جوان میں سے مقرب بنتا ہے وہ بھی ایسے وسیلے کی تلاش میں ہے جس سے اور زیادہ قرب حاصل ہو اس آیت میں ان لوگوں کا رد ہے جو جنات اور ملائکہ کی پرستش کرتے…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی طاعت و عبادت میں مشغول ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب میسر ہوجائے، اور چاہتے ہیں کہ زیادہ قرب ہوجاوے۔
3۔ مطلب یہ کہ جب وہو خود عابد ہیں تو معبود کیونکر ہوں گے اور جب وہ خود ہی منفعت یعنی رحمت میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں تو اوروں کو کیا منفعت دے سکتے ہیں۔ اسی طرح جب وہ خود مضرت یعنی عذاب سے بچنے میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں تو اوروں سے مضرت کو کیا دفع کرسکتے ہیں، پھر ان کا معبود معین بنانا محض باطل ہوگا۔
Read the full tafseer →جن کی تم پر پرستش کرتے ہو وہ تو خود رب کریم کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے میں کوشاں ہیں :
71۔ گزشتہ آیت کی مزید وضاحت فرما دی گئی اس لئے کہ اس میں جن معبودوں اور فریاد رسوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ لکڑی ‘ پتھر اور کسی دھات کے بت تو مراد نہیں ہوسکتے بلکہ اس سے مراد فرشتے ‘ جن اور اللہ کے برگزیدہ نبی ورسول ہی ہو سکتے ہیں ۔ بات واضح ہوگئی کہ انبیاء ورسل ہوں یا فرشتے اور جن ان میں سے کسی کو بھی یہ طاقت نہیں ہے کہ تمہاری دعائین سنیں اور تمہاری مدد کر پہنچیں ، تم حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے ان کو وسیلہ بنا رہے ہو اور ان کا یہ حال ہے کہ وہ خود اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے ہر وقت خائف ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
Commentary
The word 'al-wasilah' in: يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ (seek the means of close ness to their Lord - 57) conveys the sense of that which is used as a means of reaching someone. As for reaching Allah, the wasilah or means is to always keep the pleasure of Allah in sight when learning or doing anything while adhering to the injunctions of the Shari` ah strictly. Thus, the sense of the sentence is that all of them are seeking the closeness of Allah Ta’ ala through their righteous deeds.
About the sentence which follows immediately after: يَرْجُونَ رَحْمَتَهُ…
Read the full tafseer →65. The words of the text are a clear proof that the deities and the helpers referred to in this verse were not idols of stone but were either angels or dead saints. It is clearly implied in this that no prophet, no saint and no angel, whom the people invoke for help, has the power to hear prayers and help anyone. They themselves hope for mercy from Allah and dread His punishment and vie with one another in seeking means for nearness to Him.
Read the full tafseer →