Explained with ayahs 56–57
وسیلہ یا قرب الہٰی
اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کرنے والوں سے کہئے کہ تم انہیں خوب پکار کر دیکھ لو کہ آیا وہ تمہارے کچھ کام آسکتے ہیں ؟ نہ ان کے بس کی یہ بات ہے کہ مشکل کشائی کردیں نہ یہ بات کہ اسے کسی اور پر ٹال دیں وہ مخض بےبس ہیں، قادر اور طاقت والا صرف اللہ واحد ہی ہے۔ مخلوق کا خالق اور سب کا حکمران وہی ہے۔ یہ مشرک کہا کرتے تھے کہ ہم فرشتوں، مسیح اور عزیر کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کے معبود تو خود اللہ کی نزدیکی کی جستجو میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جن جنات کی یہ مشرکین پرستش کرتے تھے وہ خود مسلمان ہوگئے تھے لیکن یہ اب تک اپنے کفر پر جمے ہوئے ہیں، اس لئے انہیں خبردار کیا گیا کہ تمہارے معبود خود…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 64
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا ہی شرک نہیں ہے، بلکہ خدا کے سوا کسی دوسری ہستی سے دعا مانگنا، یا اس کو مدد کے لیے پکارنا بھی شرک ہے۔ دعا اور استمداد و استعانت، اپنی حقیقت کے اعتبار سے عبادت ہی ہیں اور غیر اللہ سے مناجات کرنے والا ویسا ہی مجرم ہے جیسا کہ بت پرست مجرم ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کچھ اختیارات حاصل نہیں ہیں۔ نہ کوئی دوسرا کسی مصیبت کو ٹال سکتا ہے نہ کسی بری حالت کو اچھی حالت سے بدل سکتا ہے۔ اس طرح کا اعتقاد خدا کے سوا جس ہستی کے بارے میں بھی رکھا جائے، بہرحال ایک مشرکانہ اعتقاد ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ (ان لوگوں سے) فرما دیجئے کہ جن کو تم خدا کے سوا (معبود) قرار دے رہے ہو (جیسے فرشتے اور جنات) ذرا ان کو (اپنی تکلیف دور کرنے کے لئے) پکارو تو سہی سو وہ نہ تم سے تکلیف کو دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس کے بدل ڈالنے کا (مثلا تکلیف کو بالکل دور نہ کرسکیں کچھ ہلکا ہی کردیں) یہ لوگ کہ جن کو مشرکین (اپنی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لئے) پکار رہے ہیں وہ خود ہی اپنے رب کی طرف (پہونچنے کا) ذریعہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب بنتا ہے (یعنی وہ خود ہی اطاعت و عبادت میں مشغول ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا قرب میسر ہوجائے اور چاہتے ہیں کہ تقرب کا درجہ اور بڑھ جائے) اور وہ اس کی…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا۔
کلام کا تعلق اوپر کے مضمون سے : اوپر کی تین آیتیں، جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہیں، اثنائے کلام میں، بطور جملہ معترضہ، برسر موقع تنبیہ و ہدایت کے لیے آگئی تھیں، اب پھر کلام اپنے اصلی سلسلہ یعنی آیات 51۔ 52 سے جڑ گیا۔ اوپر ارشد ہوا تھا کہ کہ جس ساعت کے ظہور کے لیے تم جلدی مچاہئے ہوئے ہو کیا عجب کہ اس وقت قریب آپہنچا ہو۔ اب یہاں فرمایا کہ جن کو تم خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہو اگر تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ تمہاری مدد کریں گے تو ان کو بلا دیکھو، نہ وہ کسی مصیبت کو دور کرسکیں گے اور نہ یہی کرسکیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
55۔ 1 یہ مضمون (تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰي بَعْضٍ) 2۔ البقرۃ :253) بھی گزر چکا ہے۔ یہاں دوبارہ کفار مکہ کے جواب میں یہ مضمون دہرایا گیا ہے، جو کہتے تھے کہ کیا اللہ کو رسالت کے لئے یہ محمد ﷺ ہی ملا تھا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کسی کو رسالت کے لئے منتخب کرنا اور کسی ایک نبی کو دوسرے پر فضیلت دینا، یہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
28: اس آیت میں مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ جب ان کی کافروں کے ساتھ گفتگو ہو تو ان کے ساتھ بھی خوش اسلوبی کے ساتھ بات کیا کریں کیونکہ غصے کے عالم میں سخت قسم کی باتوں سے فائدے کے بجائے نقصان ہوتا ہے اور ایسی باتیں شیطان اس لئے کہلواتا ہے کہ ان سے فساد پیدا ہو۔
Read the full tafseer →اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں ہے جو مصیبت کو ٹال سکے یا اس کا منہ موڑ سکے۔ یہ کام صرف اللہ وحدہ کرسکتا ہے۔ صرف اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کو قسمتوں کا مالک ہے۔
اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ جن کو وہ شریک ٹھہراتے ہیں مثلاً فرشتے ، جن اور انس وہ سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ کی مخلوق ہیں۔ وہ خود اللہ تک رسائی کے طریقے تلاش کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے کوشاں ہیں۔ اور وہ خود اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ فی الحقیت ذات باری کو جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →9 یعنی ہم اپنے علم محیط کے موافق ہر ایک کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں۔ جس کو مناسب جانا آدمیوں میں سے پیغمبر بنایا۔ پھر جس پیغمبر کو چاہا دوسرے پیغمبروں پر کلی یا جزئی فضیلت عنایت کی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بعضے نبی تھے کہ (امت کی حد سے زیادہ شرارتوں پر آخرکار) جھنجھلا گئے۔ آپ کا حوصلہ ان سے زیادہ رکھا ہے۔ (اور سب پر فضیلت دی ہے، لہذا آپ کی خوش اخلاقی اپنے مرتبہ عالی کے موافق ہونی چاہیے) اور خصوصیت سے داؤد کا ذکر کیا۔ کیونکہ دونوں چیزیں رکھتے تھے، جہاد بھی اور زبور بھی، سمجھانے کو (وفی الحدیث کان لَا یَفِرَّ اِذَا لَاقٰی) وہ دونوں باتیں یہاں بھی ہیں " قرآن اور جہاد۔ بعض نے کہا کہ یہاں "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ
یہاں اس فقرے کے سیاق وسباق کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سورة بنی اسرائیل مکی دور کے آخری برسوں میں نازل ہوئی اور اس کا آغاز بھی بنی اسرائیل کی تاریخ سے ہوا۔ اس سورة کے نزول سے پہلے نبی آخرالزماں کی بعثت اور قرآن کے بارے میں تمام خبریں مدینہ پہنچ چکی تھیں اور یہود مدینہ ایک ایک بات اور ایک ایک خبر کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے تھے۔ پھر عنقریب حضور خود بھی مدینہ تشریف لانے والے تھے۔ ان حالات میں جب مسلمانوں کا یہودیوں کے ساتھ عقائد و نظریات کے بارے میں تبادلہ خیالات ہونا تھا تو انبیاء کرام کے فضائل کے بارے میں سوالات کا اٹھنا ناگزیر تھا کہ…
Read the full tafseer →69 اس آیت میں عموم ہے یعنی خواہ وہ پتھر کے بت ہوں یا فرشتے یا جن ہوں یا فوت شدہ نبی اور اولیاء ہوں سب اس میں شامل ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ شرک صرف بتوں کو سجدہ کرنے کا نام نہیں بلکہ انھیں مشکل کے وقت پکارنا بھی ویسا ہی شرک ہے اور اس بات کی کئی دوسری آیات اور احادیث صحیحہ سے بھی تائید ہوجاتی ہے اور تیسری یہ بات کہ معبود خواہ کسی بھی قسم سے تعلق رکھتے ہوں نہ وہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ کسی کی بگڑی سنوار سکتے ہیں اور یہ سب مشرکانہ عقائد ہیں۔
Read the full tafseer →80۔ یعنی تمہارے دیوی دیوتا جن پر تم اتنا سہارا لگائے بیٹھے ہو، یہ اتنا بھی تو نہیں کرسکتے کہ تم سے کسی تکلیف کو دفع کردیں یا یہ کہ اس کی شدت میں خفت ہی پیدا کردیں !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت نمبر 53 تا 60
ترجمہ : اور میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ کفار سے اچھی بات کہو بلاشبہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے، یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، یعنی اس کی عداوت بالکل ظاہر ہے، اور وہ کلمہ جو بہتر ہے وہ یہ کہ ” تمہارا رب تمہارے بارے میں تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ جانتا ہے، اگر وہ چاہے تو توبہ اور ایمان کے ذریعہ تمہارے اوپر رحم فرمائے یا اگر تم کو عذاب دینا چاہے تو تم کو کفر پر موت دے کر تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں اور یہ حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اور وہ آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے اور ان…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا
آپ کہہ دیجئے کہ جن (جنات) کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارا دکھ دور کرنے یا منتقل کرنے (یعنی تمہارے اوپر سے ٹال کر دوسروں کو اس دکھ میں مبتلا کرنے پر قابو نہیں رکھتے۔ یعنی جن جنات کو تم معبود قرار دیتے ہو وہ تمہارے افلاس اور قحط سالی وغیرہ کو دور نہیں کرسکتے۔
Read the full tafseer →(56) محمد ﷺ آپ خزاعہ سے فرما دیجیے جو کہ جنوں کی پوجا کرتے ہیں اور ان کو فرشتے سمجھتے ہیں کہ ذرا اپنے ان معبودوں کو جن کی تم اللہ کے علاوہ پوجا کرتے ہو شدت اور سختی کے وقت پکارو توسہی وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس کے بدل ڈالنے کا ان کو اختیار ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ قل ادعوالذین زعمتم“۔ (الخ)
امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ کچھ لوگ جنوں کی پوجا کیا کرتے تھے وہ جن مشرف بااسلام ہوگئے مگر یہ بدبخت پجاری ان ہی کی عبادت کرتے رہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی آپ فرما دیجیے کہ جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا رہے ہو،…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ۔۔ : آلوسی نے فرمایا، زعم ظن (یعنی گمان) کے قریب ہے، کبھی جس بات میں شک ہو اس پر بھی ”زعم“ بولا جاتا ہے۔ بعض اوقات کذب (غلط بیانی) کے معنی میں بھی ہوتا ہے اور کبھی ثابت شدہ سچی بات پر بھی بول لیا جاتا ہے جس میں کوئی شک نہ ہو، جیسا کہ کئی احادیث میں ہے، ایسے تمام مقامات میں زعم کا معنی ”قَالَ“ ہوگا۔ زعم ان افعال میں سے ہے جو دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوتے ہیں۔ یہاں دونوں مفعول محذوف ہیں، یعنی ”زَعَمْتُمُوْھُمْ آلِھَۃً“ کہ ان لوگوں کو بلاؤ جنھیں تم نے معبود گمان کر رکھا ہے، یعنی فرشتے، جن، بزرگ، بت، غرض تمام وہ لوگ جن کی تم عبادت کرتے ہو اور مشکلات میں انھیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 56
قولہ تعالیٰ : قل ادعوا الذین زعمتم من دونہٖ جب قریش کو قحط میں مبتلا کیا گیا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس شکوہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی تم ان کو بلاؤ جن کی تم اللہ تعالیٰ کے سوا پرستش کرتے ہو اور گمان کرتے ہو کہ وہ خدا ہیں۔ اور حسن نے کہا ہے : یعنی ملائکہ، عیسیٰ اور عزیر (کوبلاؤ) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا ہے۔ یعنی جنوں کو بلاؤ۔ فلا یملکون کشف الضرعنکم یعنی وہ قحط جو سات سال تک ان پر مسلط رہا (وہ اس تکلیف کو دور کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ) ، یہ مقاتل کے قول کے مطابق ہے۔ ولا تحویلاً اور نہ ہی وہ اسے فقر سے غنی (خوشحالی) کی طرف اور بیماری سے صحت کی طرف بدل سکتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
1:۔ عبدالرزاق، فریابی، سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، بخاری، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم، ابن مردویہ، اور ابونعیم نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے (آیت) ” قل ادعوالذین زعمتم من دونہ فلا یملکون کشف الضر عنکم ولا تحویلا “ کے بارے میں روایت کیا کہ انسانوں کی ایک جماعت جنوں میں سے ایک جماعت کی عبادت کرتی تھی جب وہ جن مسلمان ہوگئے تو انسانوں نے ان جنوں سے عبادت کا وسیلہ پکڑا تو (اس پر) اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربہم الوسیلۃ “۔ یدعون یبتغون “ دونوں یاء کے ساتھ۔
جنات کی عبادت کا نقصان ـ:
2:۔ ابن جریر، ابن مردویہ، ابونعیم، اور بیہقی دونوں نے دلائل…
Read the full tafseer →[قُلِ : آپ ﷺ کہئے ] [ادْعُوا : تم لوگ پکارو ] [الَّذِينَ : ان کو جن کا ] [زَعَمْتم : تمہیں زعم ہے ] [مِّنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [فَلَا يَمْلِكُوْنَ : تو وہ لوگ اختیار نہیں رکھتے ] [كَشْفَ الضُّرِّ : تکلیف کو کھولنے کا ] [عَنْكُمْ : تم لوگوں سے ] [وَلَا تَحْوِيْلًا : اور نہ ہی بدلنے کا ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 56 سے معلوم ہوا کہ اللہ کے سوا کسی کو بھی کچھ اختیار حاصل نہیں ہے۔ نہ کوئی دوسرا کسی مصیبت کو ٹال سکتا ہے، نہ کسی بری حالت کو اچھی حالت سے بدل سکتا ہے۔ اس طرح کا اعتقاد خدا کے سوا جس ہستی کے بارے میں رکھا جائے، وہ ایک مشرکانہ عقیدہ ہے۔ آیت۔ 57 کے الفاظ خود گواہی دے رہے ہیں کہ مشرکین کے جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اس کے بعد فرمایا (وَ رَبُّکَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) (اور آپ کا رب ان سب کو خوب جانتا ہے جو آسمان میں ہیں اور زمین میں ہیں) بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس میں مشرکین کی اس بات کا جواب ہے کہ ابی طالب کا یتیم تو نبی بن جائے جبکہ اس کے ساتھیوں کے بدن پر کپڑا بھی نہیں اور پیٹ میں روٹی نہیں اور رؤسا اور اکابر اور سردار (جن کے پاس دولت و ثروت ہے) وہ نبوت سے محروم رہ جائیں یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں سب ہماری مخلوق ہے ہمیں ان کے احوال ظاہرہ اور احوال باطنہ سب معلوم ہیں وہ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے نبوت سے سرفراز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
تلقین حسن خطاب با اہل کتاب و جوابات از شبہات مشرکین
قال اللہ تعالیٰ : وقل لعبادی یقولوا التی ہی احسن .... الیٰ .... الا طغیانا کبیرا۔
(ربط) توحید اور قیامت کی حقانیت پر دلائل قائم کرکے مسلمانوں کو تعلیم فرماتے ہیں کہ مخالفین سے جب بحث کی نوبت آئے تو الفاظ نرم ہونے چاہیں کیونکہ سختی سے بسا اوقات سب و شتم کی نوبت آجاتی ہے اور شیطان باہمی نفرت اور عداوت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور مخالف ضد پر اتر آتا ہے ایسی ھالت میں دعوت و تبلیغ بےسود ہوجاتی ہے۔ بعد ازاں مشرکین کے چند شبہات کے جوابات دئیے جو نہایت نرم ہیں اور باوجود نرم ہونے کے نہایت محکم ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ! میرے بندوں یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
53:۔ یہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے۔ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ جب وہی عالم الغیب ہے تو مصائب و حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔ ہم نے انبیاء (علیہم السلام) کو بزرگی عطا کی اور بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ ” و اتینا داود زبورا “ اور داود (علیہ السلام) کو ہم نے زبور دی جس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی دعاء اور پکار ہی کا ذکر تھا۔ الزبور کتاب لیس فیھا حلال ولا حرام ولا حدود انما ھو دعاء تحمید وتمجید (قرطبی ج 10 ص 278) ۔ بعض انبیاء (علیہم السلام) کو بعض پر فضیلت دینے کے سلسلے میں خصوصیت کے ساتھ زبور کا ذکر اس لیے فرمایا کیونکہ زبور میں آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی کہ وہ مشرکین سے عداوت کی بناء پر اپنی زبانوں سے کوئی غلط بات نہ نکالیں ، بلکہ ہمیشہ اچھی بات کریں شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان جھگڑا کرکے اپنا الو سیدھا کرے کیونکہ وہ انسان کا صریح دشمن ہے ، فرمایا شیطان کے پیچھے لگتے کی بجائے ہمیشہ سچی بات کریں پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اس بات کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ ہر شخص ضرور ہی ہدایت قبول کرے ، آپ کا کام تبلیغ کرنا اور لوگوں کو سمجھانا ہے آپ اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اس نے بعض انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو بعض پر فضیلت بخشی ہے خاص…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا 56
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
ترکیب : ایہم مبتدا اقرب خبرہ وھو استفہام والجملۃ فی موضع نصب بیدعون۔ وقیل۔ اولئک مبتدا الذین یدعون ای یدعونھم الکفار صفت یبتغون خبر ایھم بدل من واو یبتغون فعل الاول معناہ ان الھتھم اولئک یبتغون الوسیلۃ و ھی الی اللہ تعالیٰ و ایھم بدل ای یبتغی من ھو اقرب فھم و ازلف الوسیلۃ فکیف بغیر الاقرب اوضمن یبتغون معنی یحرصون ای یحرصوں ربھم یکون اقرب الی اللہ بالطاعۃ والصلاح۔
تفسیر : ثبوت معاد پر حجت قائم کر کے مسلمانوں کو تعلیم کرتا ہے کہ تم مخالفوں سے نرم اور اچھی باتیں کیا کرو کیونکہ سختی سے شیطان باہم عداوت و نفرت پیدا کردیتا ہے وہ انسان کا دشمن ہے اور وہ اچھی بات یہ ہے کہ تمہارا رب تم سے خوب واقف ہے…
Read the full tafseer →قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ فَلاَ یَمْلِکُوْنَ کَشْفَ الضُّرِّعَنْکُمْ وَلاَ تَحْوِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 56)
(اے پیغمبر ﷺ کہہ دیجیے ! کہ پکارو ان کو جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود گمان کر رکھا ہے۔ وہ تو قدرت نہیں رکھتے، تم سے تکلیف دور کرنے کی اور نہ اسے ٹالنے کی۔ )
اوپر کی آیات جملہ ہائے معترضہ تھیں، اب پھر توحید کے مضمون کو جہاں سے چھوڑا تھا وہیں ملایا جارہا ہے۔ مشرکین سے کہا جارہا ہے کہ تم جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ معبود سمجھتے ہو، انھیں پکارو، پھر دیکھو وہ تمہاری پکار کا جواب دیتے ہیں اور تمہاری کچھ مدد کرتے ہیں ؟ اور اگر وہ تمہارے پکارنے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
فہم القرآن
ربط کلام : اس خطاب کا آغاز آیت 39 سے ہوا تھا۔ اس میں رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوا فرمایا گیا کہ اگر آپ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود اور حاجت روا، مشکل کشا سمجھیں گے تو آپ کو بھی راندہ درگاہ کرکے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ اس خطاب کا اختتام بھی توحید کے اسی پہلو پر کیا جارہا ہے۔
اے رسول ﷺ ! ان لوگوں کو کہیں کہ جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا مشکل کشا، حاجت روا سمجھتے ہو۔ ان کو بلاؤ۔ وہ تمہاری تکالیف دور کرنے یا ان کو بدل دینے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے سوا یا اس کے ساتھ اپنی مدد کے لیے پکارتے ہو۔ وہ تو اپنے رب کے ہاں قرب کے متلاشی ہیں۔ کہ کون ان میں…
Read the full tafseer →56: قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ (کہہ دیں کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا گمان کرتے ہو ان کو پکارو ! ) کہ وہ تمہارے معبود ہیں مِّنْ دُوْنِہٖ ( اس کے سوا) من دون اللہ سے یہاں 1: ملائکہ یا 2: عیسیٰ و عزیر 3: یا جنات کا وہ گروہ جن کی مشرکین عرب پوجا کرتے تھے۔ پھر وہ جنات تو مسلمان ہوگئے مگر مشرکین کو پھر بھی شعور نہ ہوا۔ فَـلَایَمْلِکُوْنَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنْکُمْ وَلَا تَحْوِیْلًا (وہ تمہارے دکھ دور کرنے اور منتقل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے) ان کو پکار کر دیکھو ! وہ تم سے مرض وغیرہ کی تکلیف کا ازالہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اسی طرح فقر و عذاب کو ہٹا نہیں سکتے۔ اور نہ ان میں یہ طاقت ہے کہ اس کو…
Read the full tafseer →تفسیر 56۔” قل ادعو الذین زعمتم من دونہ “ مشرکین کو بہت شدید قحط پڑا ۔ یہاں تک کہ وہ کتوں کا گوشت اور مردار کھانے لگے ، وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے تا کہ ان سے مدد طلب کریں اور ان سے دعا کروائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ” قل “ کہہ دیجئے مشرکین مکہ سے ” ادعو الذین زعمتم انھا آلۃ من دونہ “۔۔۔۔ ” فلا یملکون کشف الضر “ اس سے مراد قحط اور بھوک ہے۔ ” عنکم ولا تحویلا ً “ تم کو اس حال کے علاوہ دوسرے حال کی طرف پھیر دے گا یا تنگی سے آسانی کی طرف پھیر دے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
56۔ 57:۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے جنات کے ایک گروہ کو اپنا معبود بنا رکھا تھا اتفاق سے جنات کا گروہ مسلمان ہوگیا اور انسانوں کے اس فرقے کو جو ان جنات کی پرستش کیا کرتے تھے ان جنات کے مسلمان ہوجانے کی خبر نہیں ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کے گروہ کے شرمندہ کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ اے نبی اللہ کے ان بیخبر شرک کرنیوالوں سے یہ کہہ دو کہ اللہ کے سوا جن کو تم اپنا معبود ٹھہراتے ہو اگرچہ پہلے بھی ان تمہارے معبودوں کو کسی نیک وبد کا اللہ کے کار خانہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
(آیت نمبر (56
(قل) ” کہہ دیجیے۔ “ یعنی مشرکین سے ان کے اعتقاد کی صحت پر دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں ‘ جن کی یہ اسی طرح عبادت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے ‘ جن کو یہ اسی طرح پکارتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔۔۔ کہ اگر وہ سچے ہیں تو (ادعوا الذین زعمتم ) ” پکارو تم ان کو جن کو تم گمان کرتے ہو “ یعنی جن کے بارے میں تم اس زعم میں مبتلا ہو کہ وہ معبود ہیں (من دونہ ” اللہ کو چھوڑ کر “ پس غور کرو کہ آیا وہ تمہیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمہیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ ) من دونہ ) ” اللہ کو چھوڑ کر “ پس غور کرو کہ آیا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
دنیا میں انسان کا قیام بہت تھوڑا ہے
قول باری ہے (وتظنون ان لبثتم الا قلیلاً اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں) حسن کا قول ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی مدت کے متعلق یہ گمان کرو گے اس لئے کہ آخرت میں تمہارے رہنے کی مدت بڑی طویل ہوگی جس طرح یہ قول ہے ۔ ” تم دنیا میں اتنی تھوڑی مدت کے لئے رہو گے کہ گویا رہے ہی نہیں اور آخرت کی مدت کو دیکھ کر کہو گے کہ گویا ہمیشہ سے یہیں رہتے ہے۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ آخرت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان کی نظروں میں دنیا انتہائی حقیر ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
101۔ ابطال شرک کیلئے مشرکوں سے خطاب :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ان سے کہو کہ پکارو دیکھو تم لوگ (اے مشرکو ! ) اپنے ان خود ساختہ معبودوں کو جن کا تم گھمنڈ رکھتے ہو۔ “ یعنی ان کے بارے میں تم یہ زعم اور گھمنڈ رکھتے ہو کہ یہ اللہ کے پیارے ہیں اس کی صفات کے اوتار اور مظہر ہیں۔ انکو خاص اختیارات حاصل ہیں۔ اس لئے یہ ہماری بگڑی بنادیں گے اور ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ مقبول اور پیارے بندے ہیں جن کو ایسے مشرک لوگوں نے از خود حاجت روا ومشکل کشا قرار دے کر پوجا پکارا۔ جیسے حضرت عزیر (علیہ السلام) ، اور حضرت مریم وغیرہ۔ جملہ ثقہ اور معتبر مفسرین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
انبیاء کی فضیلت کے پہلو، دعا اور اعمال کا وسیلہ، بستیوں کی ہلاکت
تشریح : یہاں اللہ کے علیم وخبیر ہونے کا ذکر ہے اور پھر حضرت داود (علیہ السلام) کا ذکر خاص طور سے کیا گیا کیونکہ ان کو ایسی بادشاہت ملی تھی کہ جیسی کسی اور کو نہیں ملی اور ان پر نازل ہونے والی کتاب زبور کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ پھر حکم ہوا کہ شرک کو چھوڑ دو کیونکہ یہ ظلم ہے اور پھر جب بھی چاہو تو ان معبودوں کو اپنی مصیبت ٹالنے کے لیے پکار کر دیکھ لو وہ کچھ نہیں کرسکتے بلکہ وہ تو خود اللہ کے مختاج ہیں۔ اور پھر قیامت سے پہلے ایسی تمام بستیاں تباہ کردی جائیں گی جو کفر و شرک اور بداعمالیوں کا مقام ہوں گی۔ یہ سب کچھ ہو کر رہے گا کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ میرے بندوں یعنی مسلمانوں سے کہئے کہ بات خوبصورت انداز میں کیا کریں اس میں سختی یا سب وشتم نہ ہو کہ سب وشتم سے یا سخت کلامی سے شیطان کو فساد پھیلانے کا موقع ملتا ہے اور انسانوں کو آپس میں لڑاتا ہے تو بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔
(عام گفتار میں بھی اور دینی تبلیغ میں بھی سخت کلامی درست نہیں خواہ بات کفار ہی سے کیوں نہ کی جائے)
مسلمانوں کو آپس میں تو بات زیب ہی اخلاق سے دیتی ہے اور پھر جب بات دین کی وہ اور اللہ جل جلالہ اور اس کے نبی ﷺ کے حوالے سے کی جائے تو اور زیادہ محتاط لب و لہجہ ضروری ہے ، خواہ مخاطب بدکار اور بےدین ہی کیوں نہ ہو یہ بات بات پہ دوسروں کو…
Read the full tafseer →ف 11 پھر کیوں انہیں سجدہ کرتے اور مدد کے لئے پکارتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
(17:54) یرحمکم اور یعذبکم میں مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط کے ہے۔ وکیلا۔ صفت مشبہ منصوب۔ کارساز۔ ذمہ دار۔
زعمتم۔ ای ادعوا الذین تعبدون من دون اللہ وزعمتم انہم الھۃ۔ بلائو ان کو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو اور جنہیں تم گمان کرتے ہو کہ وہ خدا ہیں۔ زعمتم۔ زعم مصدر (باب نصر) تم نے زعم کیا۔ تم نے گمان کیا۔ تم نے سمجھا۔
تحویلا۔ تحویل مصدر بروزن تفعیل۔ تبدیلی ۔ تغیر۔ تفاوت۔ حال یحرک (نصر) حائل ہونا بیچ میں آپڑنا۔ حول کے معنی کسی شے کے متغیر ہونے اور دوسرے سے جدا ہونے کے ہیں۔ چونکہ بیچ میں آپڑنے سے جدائی ضروری ہے اس لئے اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ حول بمعنی سال بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
لغات القرآن آیت نمبر 56 تا 58
ادعوا پکارو۔ لایملکون وہ اختیار نہیں رکھتے۔ کشف کھولنا۔ دور کرنا۔ الضر تکلیف، مصیبت۔ تحویل بدلنا۔ یبتغون وہ تلاش کرتے ہیں۔ الوسیلۃ ذریعہ۔ اقرب زیادہ قریب۔ محذور ڈر کی چیز۔ مسطور لکھا ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 56 تا 58
اللہ کے ساتھ اس کی ذات، صفات اور قدرت میں کسی اور کو شریک سمجھنایا شریک کرنا اس قدر بدترین اور گھناؤنا جرم ہے جس کی کسی حالت میں معافی نہیں ہے۔ قرآن کریم میں صاف صاف ارشاد فرما دیا کہ شرک ایک بہت بڑی بےانصافی اور ظلم ہے اسی لئے فرمایا کہ ” بیشک اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے علاو وہ بہت کچھ معاف کر دے گا جس…
Read the full tafseer →مشرکین کے ایک گروہ کا شرمندہ کرنا
شان نزول : مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے جنات کے ایک گروہ کو اپنا معبود بنا رکھا تھا۔ اتفاق سے جنات کا وہ گروہ مسلمان ہوگیا ان مشرکوں کے گروہ کے شرمندہ کرنے کو یہ آیت نازل فرمائی گئی جس کے معنی آیت کے یہ ہیں کہ اے محبوب ﷺ ان مشرکوں سے یہ کہہ دو کہ اللہ کے سوا جن کو تم اپنا معبود ٹھہراتے ہو اگرچہ پہلے بھی ان ان تمارے معبودوں کو کسی نیک و بدکار اللہ کے کارخانہ میں اختیار نہ تھا۔ اب مدد مانگو ہم بھی دیکھیں کیا مدد دیتے ہیں۔ وہ مدد کیا خاک کریں گے انہیں کچھ قدرت تو ہے ہی نہیں نہ تکلیف کو دور کرسکتے ہیں نہ ایک جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ بھیج سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
[42] نبی ﷺ عام انسانوں کی طرح بیوی بچے رکھتے تھے، کھاتے پیتے تھے بازاروں میں چل پھر کر خریدوفروخت کیا کرتے تھے اور وہ سارے ہی کام کرتے تھے جو ایک دنیا دار آدمی اپنی حاجات کے لئے کیا کرتا ہے۔ کفار مکہ کا کہنا تھا کہ تم تو ایک دنیا دار آدمی ہو تمہارا دینداری سے کیا تعلق ؟ پہنچے ہوئے تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو ایک گوشے میں بیٹھے اللہ کی یاد میں غرق رہتے ہیں۔ اس پر فرمایا جا رہا ہے کہ ایک پوری بادشاہت سے بڑھ کر دنیاداری کیا ہوگی مگر اس کے باوجود داؤد (علیہ السلام) کو جو بادشاہ تھے نبوت اور کتاب (زبور) سے سرفراز کیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فرق مراتب :
(ف 1) اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ تمام انبیاء یکساں طور پر قابل احترام ہیں ، سب کی عزت کرنا چاہئے اور سب کو اللہ کی جانب سے عہدہ نبوت پر فائز سمجھنا چاہئے ، البتہ مرتبے اور درجے کے لحاظ سے فرق مراتب ہے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلت کا خلعت عطا کیا گیا ، جناب موسیٰ (علیہ السلام) کو شرف مکالمہ بخشا گیا ، حضرت مسیح (علیہ السلام) رفعت سے نوازے گئے سلیمان (علیہ السلام) کو بادشاہت اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زبور دی گئی غرضیکہ سب انبیاء اپنے اندر کچھ نہ کچھ خصوصیات رکھتے ہیں جن کی وجہ سے وہ ایک دوسرے سے افضل ہیں ۔
Read the full tafseer →-56 اے پیغمبر آپ اس دین حق کے منکروں سے کہہ دیجیے کہ تم جن کو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود سمجھے بیٹھے ہو ان کو ذرا پکارو تو سہی سو وہ فرضی معبود نہ تم سے کسی تکلیف اور دکھ کے دور کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ اس تکلیف کو بدلنے کا اختیار ان کو حاصل ہے۔ یعنی وہ معبود جن ہوں یا ملائکہ یا اصنام ان کو کسی اپنی تکلیف کو دور کرنے کی غرض سے پکار دیکھو تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کو نہ تو تکلیف دور کرنے کا اختیار ہے نہ تکلیف کو بدلنے کا کہ تم سے ہٹا کر کسی دوسرے پر ڈال دیں یا سخت تکلیف کو کچھ ہلکا کردیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی تم سے کسی اور پر ڈال دیں۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ف 8۔ اوپر واذا قرات القرن اور قالواء اذا کنا میں کفار کے انکار رسالت پر دلالت تھی، منجملہ ان کے وجوہ انکار رسالرت کے ایک ان کا یہ بھی خیال تھا کہ رسول فرشتہ ہونا چاہئے، یا اگر بشر ہو تو کوئی رئیس ہو، اب اس شبہہ کا جواب اور ذکر داود (علیہ السلام) سے آپ کی رسالت کی تائید اور رسولوں میں سے آپ کے افضل ہونے کی طرف اجمالی اشارہ فرماتے ہیں۔
1۔ زبور کی تخصیص میں یہ نکتہ ہے کہ اس میں حضور اقدس ﷺ کے صاحب ملک و سلطنت ہونے کی خبر دے دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →جن جن کے معبود ہونے کا تم کو گمان ہے انکو پکار دیکھو بھلا وہ تمہارے کام آتے ہیں ؟
70۔ اس آیت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جن کو پکارا جا رہا ہے اور جن جن کے نام کی لوگ دہائی دیتے ہیں وہ قطعا ان کی بات کا جواب نہیں دیتے کیونکہ (وانہ غافل عن داعیہ) ان کو معلوم نہیں ہے کہ کوئی انکو پکار رہا ہے وہ اپنے داعی سے بالکل غافل ہیں ۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا ہی شرک نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسری ہستی سے دعا مانگنا یا اس کو مدد کے لئے پکارنا بھی شرک ہے خصوصا جب کہ وہ ہستی پاس موجود بھی نہ ہو اور اس دارفانی سے منتقل بھی ہوچکی ہو اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ دعاء استبداد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
That Zabur (the Psalms) has been mentioned particularly in the last sentence of verse 55: وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا ، (And We gave Dawud the Zabur) has been done, perhaps, because Zabur reports that the Holy Prophet ﷺ will be a ruler along with being a messenger and prophet. This is as it appears in the Qur'an: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (And We have already written in the Zabur, after the [ previous ] mention, that the land is inherited by My righteous servants - al-Anbiya', 21:105).
At this stage, Imam…
Read the full tafseer →64. This warning helps to elaborate the doctrine of Tauhid and negate shirk. According to this, shirk is not confined merely to falling prostrate before any other than Allah but it is also shirk to pray to or invoke the help of any other than Allah. For praying to or calling for help any other than Allah is in reality a kind of worship. Therefore, the one who invokes for help any other than Allah is as much guilty of shirk as the worshiper of an idol. This verse also shows clearly that, none other than Allah, has any power to attend to prayers and relieve any one of trouble or alter any one’s…
Read the full tafseer →