Al-Israa 17:73

Al-Israa · from ayah 73

17:73

وَاِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ ۖۗ— وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا ۟وَاِنۡ كَادُوۡا لَيَـفۡتِنُوۡنَكَ عَنِ الَّذِىۡۤ اَوۡحَيۡنَاۤ اِلَيۡكَ لِتَفۡتَرِىَ عَلَيۡنَا غَيۡرَهٗ‌ ‌ۖ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوۡكَ خَلِيۡلًا

اور اے پیغمبر جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And indeed, they were about to tempt you away from that which We revealed to you in order to [make] you invent about Us something else; and then they would have taken you as a friend.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:73

اے محمدؐ، ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اُس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنا لیتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اے پیغمبر جو وحی ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے قریب تھا کہ یہ (کافر) لوگ تم کو اس سے بچلا دیں تاکہ تم اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنالو۔ اور اس وقت وہ تم کو دوست بنا لیتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ لوگ آپ کو اس وحی سے جو ہم نے آپ پر اتاری ہے بہکانا چاہتے کہ آپ اس کے سوا کچھ اور ہی ہمارے نام سے گھڑ گھڑالیں، تب تو آپ کو یہ لوگ اپنا ولی دوست بنا لیتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) جو وحی ہم نے تمہارے پاس بھیجی ہے، یہ (کافر) لوگ تمہیں فتنے میں ڈال کر اس سے ہٹانے لگے تھے، تاکہ تم اس کے بجائے کوئی اور بات ہمارے نام پر گھڑ کر پیش کرو، اور اس صورت میں یہ تمہیں اپنا گہرا دوست بنا لیتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ تو قریب تھا کہ تمہیں کچھ لغزش دیتے ہماری وحی سے جو ہم نے تم کو بھیجی کہ تم ہماری طرف کچھ اور نسبت کردو، اور ایسا ہوتا تو وہ تم کو اپنا گہرا دو ست بنالیتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کفار تو یہی چاہتے تھے کہ آپ کو اس (حکمِ الٰہی) سے پھیر دیں جس کی ہم نے آپ کی طرف وحی فرمائی ہے تاکہ آپ اس (وحی) کے سوا ہم پر کچھ اور (باتوں) کو منسوب کر دیں اور تب آپ کو اپنا دوست بنا لیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بیشک وہ قریب تھے کہ تجھے اس سے ضرور ہی بہکا دیں جو ہم نے تیری طرف وحی کی، تاکہ تو ہم پر اس کے سوا جھوٹ باندھ دے اور اس وقت وہ ضرور تجھے دلی دوست بنا لیتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے آپ کی طرف جو وحی کی ہے قریب تھا کہ یہ کافر آپ کو اس سے بہکا دیتے تاکہ آپ نازل شدہ وحی کے علاوہ کچھ ہم پر افترا کریں اور اس صورت میں وہ تمہیں اپنا دوست۔ بھی بنا لیتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بیشک قریب تھا کہ تم کو فتنوں میں ڈال کر اس چیز سے ہٹا دیں جو ہم نے تم پر وحی کی ہے تاکہ تم اس سے مختلف ہم پر افترا کر کے پیش کرو، اور تب وہ تم کو اپنا گاڑھا دوست بنا لیتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اے پیغمبر !) ان لوگوں نے اپنی اس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی کہ آپ کو فتنے میں ڈال کر پھیر دیں اس وحی سے جو ہم نے بھیجی ہے آپ کی طرف، تاکہ آپ اس کے خلاف ہماری طرف کسی اور بات کی نسبت کردیں، اور اگر ایسا ہوجاتا تو یہ لوگ یقیناً آپ کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ (کافر) آپ کو اس سے بچلایا ہی چاہتے تھے جو ہم آپ پر وحی کرچکے ہیں تاکہ آپ اس (حکم وحی) کے سوا ہم پر کوئی بات گڑھ لیں اور وہ اس حالت میں آپ کو گاڑھا دوست بنالیتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی !) یہ لوگ تو اس بات پر تلے ہوئے تھے کہ آپ کو فتنے میں ڈال کر اس چیز سے ہٹا دیں جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ اس کے علاوہ کوئی اور چیز گھڑ کر ہم سے منسوب کردیں اور اگر آپ ایسا کرتے تب تو یہ لوگ آپ کو اپنا گاڑھا دوست بنا لیتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور (اے پیغمبر ! ﷺ جو وحی ہم نے آپ کی طرف بھیجی ہے قریب تھا کہ یہ کافر لوگ آپ کو اس سے بہکا دیں تاکہ آپ اس کے سوا اور باتیں ہماری نسبت بنا لیں اور اس وقت وہ آپ کو دوست بنا لیتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Muhammad), they had all but tempted you away from what We have revealed to you that you may invent something else in Our Name. Had you done so, they would have taken you as their trusted friend.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(O Prophet,) Surely, they were about to lure you away from what We have revealed to you, so that you forge something else against Us, and in that case they would have certainly made you a bosom friend.

— Muhammad Taqi Usmani

(O Prophet,) Surely, they were about to lure you away from what We have revealed to you, so that you forge something else against Us, and in that case they would have certainly made you a bosom friend.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, they were about to tempt you away from that which We have revealed to you, to fabricate something other than it against Us, and then they would certainly have taken you as an intimate friend!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they indeed strove hard to beguile thee (Muhammad) away from that wherewith We have inspired thee, that thou shouldst invent other than it against Us; and then would they have accepted thee as a friend.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And indeed, they were about to tempt you away from that which We revealed to you in order to [make] you invent about Us something else; and then they would have taken you as a friend.

— Saheeh International

(Such blind ones) try to confuse what We have revealed to you so that they may falsely ascribe to Us something other than the true revelation and thus establish friendship with you.

— Muhammad Sarwar

And surely they had purposed to turn you away from that which We have revealed to you, that you should forge against Us other than that, and then they would certainly have taken you for a friend.

— Muhammad Habib Shakir

And verily they had well-nigh tempted thee away from that which We have revealed unto thee, that thou shouldst fabricate regarding something else; and then surely they would have taken thee as a friend!

— Abdul Majid Daryabadi

And their purpose was to tempt thee away from that which We had revealed unto thee, to substitute in our name something quite different; (in that case), behold! they would certainly have made thee (their) friend!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:73

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 73–75

مکار و فجار کی چلاکیوں سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول کو بچاتا رہا آپ کو معصوم اور ثابت قدم ہی رکھا خود ہی آپ کا ولی و ناصر رہا اپنی ہی حفاظت اور صیانت میں ہمیشہ آپ کو رکھا آپ کی تائید اور نصرت برابر کرتا رہا آپ کے دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کردیا آپ کے مخالفین کے بلند بانگ ارادوں کو پست کردیا مشرق سے مغرب تک آپ کا کلمہ پھیلا دیا اسی کا بیان ان دونوں آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر قیامت تک بیشمار درود وسلام بھیجتا رہے۔ آمین۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 73–74

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 87 یہ ان حالات کی طرف اشارہ ہے جو پچھلے دس بارہ سال سے نبی ﷺ کو مکہ میں پیش آرہے تھے۔ کفار مکہ اس بات کے درپے تھے کہ جس طرح بھی ہو آپ کو توحید کی اس دعوت سے ہٹا دیں جسے آپ پیش کر رہے تھے اور کسی نہ کسی طرح آپ کو مجبور کردیں کہ آپ ان کے شرک اور رسوم جاہلیت سے کچھ نہ کچھ مصالحت کرلیں۔ اس غرض کے لیے انہوں نے آپ کو فتنے میں ڈالنے کی ہر کوشش کی۔ فریب بھی دیے، لالچ بھی دلائے، دھمکیاں بھی دیں، جھوٹے پروپگنڈے کا طوفان بھی اٹھایا، ظلم و ستم بھی کیا، معاشی دباؤ بھی ڈالا، معاشرتی مقاطعہ بھی کیا، اور وہ سب کچھ کر ڈالا جو کسی انسان کے عزم کو شکست دینے کے لیے کیا جاسکتا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–74

خلاصہ تفسیر اور یہ کافر لوگ (اپنی قوی تدبیروں کے ذریعہ) آپ کو اس چیز سے بچلانے (اور ہٹانے) ہی لگے تھے جو ہم نے آپ پر بذریعہ وحی بھیجی ہے (یعنی اس کوشش میں لگے تھے کہ آپ سے حکم خداوندی کے خلاف عمل کرا دیں اور) تاکہ آپ اس (حکم الہی) کے سوا ہماری طرف (عملا) غلط بات کی نسبت کردیں (کیونکہ نبی کا فعل خلاف شرع ہوتا نہیں اس لئے اگر نعوذ باللہ آپ سے کوئی عمل خلاف شرع ہوجاتا تو یہ لازم آتا کہ اس خلاف شرع عمل کو گویا اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہیں) اور ایسی حالت میں آپ کو خالص دوست بنا لیتے اور (ان کی یہ شرارت ایسی سخت تھی کہ) اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ بنایا ہوتا (یعنی معصوم نہ کیا ہوتا) تو آپ ان کی طرف…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 73–75

آگے کا مضمون۔ آیات 73 تا 87: آنحضرت ﷺ کو موقف حق پر جمے رہنے کی تاکید : آگے نبی ﷺ کو یہ تاکید ہے کہ مخالفین کی تمام مخالفتوں کے علی الرغم اپنے موقف حق پر جمے رہو۔ یہ کتنا ہی زور لگائیں کہ تم قرآن میں ان کے حسب منشا کچھ ترمیم کردو تو وہ تمہارے دوست اور ساتھی بن جائیں گے۔ لیکن تم کو ایک شوشہ کے برابر بھی اس میں ترمیم و تغییر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ تمہاری مخالفت میں یہ زیادہ سے زیادہ جو کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ تم کو یہ اتنا تنگ کریں کہ تم یہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوجاؤ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر تمہارے بعد ان کو بھی اس شہر میں زیادہ ٹکنا نصیب نہ ہوگا۔ رسولوں کی ہجرت کے بعد ان کی قوموں کا جو حشر ہوا ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 72–73

72۔ 1 اَ عْمَیٰ (اندھا) سے مراد دل کا اندھا ہے یعنی جو دنیا میں حق کے دیکھنے، سمجھنے اور اسے قبول کرنے سے محروم رہا، وہ آخرت میں اندھا، اور رب کے خصوصی فضل و کرم سے محروم رہے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 72–74

40: یہاں اندھا ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ دنیا میں حق کو دیکھنے سے محروم رہا، چنانچہ وہ آخرت میں بھی نجات کا راستہ نہیں دیکھ سکے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 73–75

درس نمبر 921 ایک نظر میں۔ سورة اسرا کا یہ آخری سبق بھی اس سورت کے بنیادی محور کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی ذات اور ان کی قوم کا ان کے بارے میں موقف۔ قرآن اور اس کی خصوصیات۔ یہ اس سورت کا بھی اور اس سبق کا بھی اہم موضوع ہے۔ اس سبق کا آغاز ان مساعی پر تبصرے سے ہوتا جو مشرکین نبی ﷺ کو آپ ﷺ کے عقائد و اعمال میں بعض سے ہٹانے کے سلسلے میں کر رہے تھے۔ پھر یہ کہ وہ آپ کو مکہ سے نکالنے کے سلسلے میں جو منصوبے بنا رہے تھے اور آپ ﷺ کو کمزور کرکے اور آپ ﷺ کے حامیوں کو کم کرکے وہ جو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اللہ نے ان کو ان کے ان ارداوں میں ناکام کردیا۔ اور اللہ نے آپ ﷺ کو ان کے فتنوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی بعض اندھے ایسے شریر ہیں کہ خود تو راہ پر کیا آتے بڑے بڑے سوانکھوں کو بچلانا چاہتے ہیں۔ چناچہ کفار مکہ کی اس بےحیائی اور جسارت کو دیکھئے کہ آپ پر ڈورے ڈالتے ہیں کہ خدا نے جو احکام دیے اور وحی بھیجی اس کا ایک حصہ ان کی خاطر سے آپ (معاذ اللہ) چھوڑ دیں یا بدل ڈالیں۔ کبھی حکومت، دولت اور حسین عورتوں کا لالچ دیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ ہم آپ کے تابع ہوجائیں گے، قرآن میں سے صرف وہ حصہ نکال دیجئے جو شرک و بت پرستی کے رد میں ہے۔ اگر آپ (العیاذ باللہ) بفرض محال ایسا کر گزرتے تو بیشک وہ آپ کو گاڑھا دوست بنالیتے۔ لیکن آپ کا جواب یہ تھا کہ خدا کی قسم اگر تم چاند اتار کر میری ایک مٹھی میں اور سورج…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 73 وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ یہ آیت اس بےپناہ دباؤ کی طرف اشارہ کر رہی ہے جس کا سامنا رسول اللہ کو قریش کی طرف سے مکہ میں تھا۔ ایک طرف تو قریش مکہ آپ پر مسلسل دباؤ ڈال رہے تھے کہ آپ قرآن کے غیر لچک دار احکام میں کچھ نرمی پیدا کریں اس کلام میں کچھ ترمیم کرلیں کچھ اپنی بات منوائیں اور کچھ ہماری مانیں۔ یہ مضمون اس سے پہلے سورة یونس آیت 15 میں بھی آچکا ہے : ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ ”اے محمد آپ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن پیش کریں یا پھر اس میں کچھ ردّوبدل کرلیں۔“ دوسری طرف وہ مسلسل یہ مطالبہ بھی کیے جاتے تھے کہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

92۔ الف یعنی کفار مکہ کے آپ سے بغض وعناد اور دشمنی کے خاتمہ کی ایک ہی صورت ہے وہ یہ کہ آپ ان کے بتوں کی حمایت میں کچھ کلمات کہہ دیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہیں یہ کلمات مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی ہوئے ہیں۔ اس صورت میں یہ لوگ آپ سے دوستی گانٹھنے پر بھی آمادہ ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

106۔ (گو اس صورت میں آپ حمایت الہی ونصرت الہی کے دمن سے نکل جاتے) روایتیں اپنی تفصیلات میں مختلف ہیں، لیکن اتنا جزء سب میں مشترک ہے کہ قبیلہ بنی ثقیف یا کہیں اور کے کچھ کافروں نے آکر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ فلاں فلاں احکام میں ہمارے لیے تخفیف کردیں تو ہم ابھی مسلمان ہوئے جاتے ہیں۔ آپ کو ان کے ایمان کی طمع سے خیال کچھ ایسا ہی پیدا ہوچلا تھا کہ اتنے میں نزول وحی نے فیصلہ ان کے برخلاف صادر کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 71–77

آیت نمبر 71 تا 77 ترجمہ : اس دن کو یاد رکھنا چاہیے کہ جس دن ہم ہر گروہ (امت) کو اس کے نبی کے ساتھ بلائیں گے، یوں کہا جائے گا اے فلاں نبی کی امت یا ان کو ان کے نامۂ عمل کے ساتھ بلایا جائیگا، یوں ندا دی جائے گی اے صاحب خیر اور اے صاحب شر اور وہ قیامت کا دن ہوگا، تو ان میں سے جس کو دائیں ہاتھ میں نامہ عمل دیا جائیگا تو یہ لوگ خوش نصیب اور دنیا میں صاحب بصیرت تھے تو وہ لوگ اپنے اعمال ناموں کو (خوشی خوشی) پڑھیں گے اور ان کے اعمال میں سے گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی کمی نہ کی جائے گی اور جو اس دنیا میں حق (بینی) سے اندھا رہا ہوگا تو وہ آخرت میں بھی راہ نجات اور نامۂ عمل کے پڑھنے سے اندھا رہے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ اور یہ (کافر) لوگ آپ کو اس چیز سے بچلانے ہی لگے تھے جو ہم نے آپ کے پاس وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے۔ مؤلف لباب النقول فی اسباب النزول نے لکھا ہے کہ آیت مذکورہ کے نزول کے سبب کے متعلق روایت مندرجۂ بالا صحیح ترین روایت ہے جس کا سلسلۂ سند کھرا ہے اور اس کی تائیدی شہادتیں دوسری روایات سے بھی ملتی ہیں۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ : حجر اسود کو چومتے تھے۔ مشرکوں نے کہا ہم آپ کو سنگ اسود کو چومنے نہ دیں گے تاوقتیکہ آپ ہمارے معبودوں کی طرف نہ جھکیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے خیال کیا اگر میں ایسا کرلوں تو میرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(73) اور یہ کافر لوگ آپ کو ان کے بتوں کے توڑنے سے بچلانے اور ہٹانے ہی لگے تھے تاکہ آپ اس حکم وحی کے علاوہ ہماری طرف غلط بات کی نسبت کردیں اور اس صورت میں کہ آپ ان کی بات مانتے وہ آپ کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے، یہ آیت قبیلہ ثقیف کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وان کادوا لیفتنونک“۔ (الخ) ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابن اسحاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ محمد بن ابی محمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ عکرمہ کے ذریعے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ امیہ بن خلف، ابوجہل اور کچھ قریشی چلے اور رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ محمد…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ۔۔ :”وَاِنْ كَادُوْا“ اصل میں ”وَاِنَّھُمْ کَادُوْا“ تھا، دلیل وہ لام ہے جو بعد میں آ رہا ہے۔ ”فَتَنَ یَفْتِنُ“ (ض) سونے کو کھرا کھوٹا معلوم کرنے کے لیے آگ میں ڈالنا، آزمائش۔ ”فَتَنَہُ عَنْ رَأْیِہِ“ کسی کو کسی کی رائے سے ہٹانا۔ کفار مکہ خود تو راہ پر کیا آتے ان کی برابر یہ کوشش رہی کہ کسی طرح آپ ﷺ خالص توحید پیش کرنے سے باز آجائیں، یا ان احکام کا ایک حصہ چھوڑ دیں یا بدل دیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو دیے جا رہے ہیں، یا قرآن سے وہ حصہ حذف کردیں جس میں شرک اور بت پرستی کی مذمت ہے تو ہم ایمان لانے کے لیے تیار ہیں۔ آپ کو مقصد سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 73 حضرت سعید بن جبیر نے بیان کیا ہے : حضور نبی مکرم ﷺ طواف کے دوران حجر اسود کا استلام کررہے تھے، تو قریش نے آپ کو منع کیا اور کہا : ہم تمہیں استلام کی اجازت نہیں دیں گے یہاں تک کہ تم ہمارے الہٰوں کے بھی قریب ہو، تو آپ نے اپنے دل میں خیال کیا اور کہا : مجھ پر نہیں ہے کہ میں ان کے قریب ہوں اس کے بعد کہ وہ مجھے استلام حجر کی اجازت دیں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ “ پس اللہ تعالیٰ نے اس کا انکار کیا اور آپ پر یہ آیت نازل فرمائی، یہ حضرت مجاہد اور قتادہ نے کہا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت عطا کی روایت میں کہا ہے : یہ آیت ثقیف کے وفد کے بارے نازل ہوئی، اور انہوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 73–75

مشرکین کی آپ ﷺ کو فتنہ میں مبتلا کرنے کی کوشش : 1:۔ ابن اسحاق ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ امیہ بن خلف ابوجہل بن ہشام اور قریش میں سے کچھ اور لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ آئے اور ہمارے معبودوں کے سامنے جھکیں اور ہم تیرے ساتھ دین میں داخل ہوجائیں گے رسول اللہ ﷺ پر اپنی قوم کی جدائی بہت بھاری گذری اور آپ ان کے اسلام لانے کو پسند فرماتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وان کادوا لیفتنونک “ سے لے کر ” نفیرا “ تک۔ 2:۔ ابن مردویہ نے کلبی کے طریق سے باذان سے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے اسی طرح روایت ہے۔ 3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَان : اور بیشک ] [كَادُوْا : وہ لوگ قریب تھے کہ ] [لَيَفْتِنُوْنَكَ : وہ ضرور پھسلا دیں آپ ﷺ کو ] [عَنِ الَّذِيٓ: اس سے جو ] [اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [لِتَفْتَرِيَ : تاکہ آپ ﷺ گھڑیں ] [عَلَيْنَا : ہم پر ] [غَيْرَهٗ : اس (وحی) کے علاوہ ] [وَاِذًا : اور تب تو ] [لَّاتَّخَذُوْكَ : وہ ضرور بنالیں گے آپ ﷺ کو ] [خَلِيْلًا : ایک قریبی دوست ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 73–75

مشرکین کی خواہش تھی کہ آپ کو اپنی طرف کرلیں اور اپنا دوست بنالیں ان آیات کا نزول بیان کرتے ہوئے مفسرین نے کئی روایات لکھی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی قابل اعتماد نہیں۔ صحت کے قریب جو روایت ہے جسے صاحب روح المعانی نے بحوالہ ابن ابی حاتم جبیر بن نفیر سے نقل کیا ہے یہی ہے کہ قریش مکہ نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ آپ اگر ہماری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں تو آپ ان لوگوں کو ہٹا دیں جو گرے پڑے لوگ آپ کے تابع ہوگئے ہیں۔ تاکہ ہم آپ کے اصحاب میں شامل ہوجائیں۔ اتنی بات آیت کریمہ (وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ ) کے سبب نزول سے موید ہوتی ہے جس کا سورة انعام میں ذکر گزر چکا ہے اس کے بعد صاحب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 73–77

ذکر عداوت کفار باسید الابرار، درامور دینیہ و دنیویہ ووعدہ عصمت و حفاظت قال اللہ تعالیٰ : وان کادوا لیتنونک .... الیٰ .... ولا تجد لسنتنا تحویلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں کفار کی تکذیب کا بیان تھا کہ وہ آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں اب ان آیتوں میں ان کی عداوت کا بیان ہے کہ وہ دین میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے آپ ﷺ کو اپنی خواہشوں پر مجبور کرنا چاہتے تھے کہ آپ ﷺ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں یا اس پر قدرے سکوت کریں اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اس سے محفوظ رکھا اور دنیا میں بھی آپ ﷺ کے دشمن تھے اور آپ ﷺ کو مکہ سے نکالنا چاہتے تھے مگر خیریت ہوئی کہ وہ نکالنے پر قادر نہ ہوئے اللہ نے آپ ﷺ کو وہاں سے ہجرت کرنے اور نکل جانے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

66:۔ ” و ان کادوا “ تا ” ولا تجد لسنتنا تحویلا “۔ یہ چوتھی آیت معجزہ ہے اور ” سبحن الذی اسری “ سے متعلق ہے اور اس میں تین امور مذکر ہیں۔ امر اول شکوی۔ ” وان کادوا لیفتنونک “ قریب تھا کہ مشرکین اپنی پر فریب اور چکنی چپڑی باتوں سے آپ کو سیدھی راہ سے اور ہماری توحید سے ذرا سا ہٹا لیتے مگر ہم نے آپ کو راہ توحید پر ثبات و استقلال عطا فرمایا۔ مشرکین کی خواہش تھی کہ آپ ان کے خود ساختہ معبودوں کے بارے میں ذرا نرمی سے کام لیں، ان کی مذمت نہ کریں اور کم از کم صرف یہی کہہ دیں کہ ہر دین اچھا ہے جو جس دین پر ہے ٹھیک ہے۔ اگر آپ ایسا کرلیں تو وہ آپ کے گہرے دوست بن جائیں گے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ ” ودوا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 73–77

ربط آیات : پہلے اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا ، پھر انسان کی برتری اور عزت واحترام کو بیان کیا اس کے بعد محاسبے کا ذکر کیا کہ جس دن اللہ تعالیٰ سب کو اپنے پیشواؤں سمیت بلائے گا اس دن بہت ہی خوفناک منظر ہوگا ، لوگوں کو اعمالنامے دیے جائیں گے جنہیں وہ پڑھیں گے اور اس سلسلے میں کسی کے ساتھ ذرہ بھر بھی زیادتی نہیں ہوگی ۔ پھر اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اس دنیا کی زندگی میں ہدایت کے راستے سے اندھا رہا وہ آخرت میں بھی ہدایت کے راستے سے اندھا رہے گا ، اور گم کردہ راہ بن کر بہت دور جا پڑے گا ، اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کے خلاف مشرکین کی عداوت کا ذکر فرمایا ہے کہ یہ لوگ آپ کے خلاف طرح…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ كَادُوْا لَيَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ لِتَفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهٗ ڰ وَاِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِيْلًا 73؀ كَادَ ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 71–77

ترکیب : یوم ندعوا مفعول اونصب اذکر محذوف کا اے اذکر یوم الخ یوم ندعوانصب یا باضمارا ذکر یا ظرف ولایظلمون۔ تفسیر : انسانوں کا باہمی فرق مراتب بیان فرما کر آخرت کا فرق مراتب جو حقیقی تفصیل ہے بیان فرماتا ہے یوم ندعوا کل اناس بامامہم یعنی یاد کرو اس دن کو کہ جس دن ہر ایک شخص اپنے پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا۔ امام لغت میں اس کو کہتے ہیں کہ جس کی پیروی اقتدار کی جاتی ہے ہدایت میں خواہ گمراہی میں۔ پس نبی امت کا امام ہے اور خلیفہ رعیت کا اور قرآن مسلمانوں کا امام ہے اور نمازیوں کا امام نماز پڑھانے والا ہے اور اسی طرح انسان کا دلی منشاء جو اس کو نیک یا بدکام پر تحریک کرتا ہے وہ بھی اس کا امام ہے اور…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ اِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ عَنِ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَہ صلے ق وَاِذًا لاَّ تَّخَذُوْکَ خَلِیْلاً ۔ ( سورة بنٓیْ اسرآئِ یل : 73) (اور انھوں نے پختہ ارادہ کیا تاکہ وہ آپ ﷺ کو برگشتہ کردیں اس چیز سے جو ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ ﷺ اس سے مختلف ہم پر افترا کرکے پیش کریں تب وہ آپ ﷺ کو اپنا گہرا دوست بنالیں گے۔ ) قریش کی سازشیں اور گھنائونی تجاویز کَادکی تحقیق میں اہل لغت نے مختلف باتیں کہی ہیں اور مختلف معنی بیان کیے ہیں۔ علامہ بدرالدین زرکشی نے سید شریف رضی کی کتاب ” الغرر “ سے اس کے متعدد معنی بیان کیے ہیں جن میں سے ایک معنی کسی کام کا ارادہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 72–75

فہم القرآن ربط کلام : ہدایت سے اندھے لوگ صرف خود گمراہ اور اندھے نہیں ہوتے۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ اور اندھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گمراہ لوگ انبیاء (علیہ السلام) کو ورغلانے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ نبی معظم ﷺ کے مخالفوں کی بھی یہی کوشش تھی کی کسی طرح آپ کو بہکا دیں۔ آپ ﷺ کے مخالفوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طریقہ سے آپ کو بہکانے میں کامیاب ہوجائیں۔ ان کی سازشوں اور کوششوں کے پیش نظر آپ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ استعمال فرمائے۔ ان آیات کا ترجمہ بریلوی مکتبہ فکرکے ایک عالم نے اپنی تفسیر میں یوں کیا ہے۔ اے پیغمبر ! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثابت قدم رکھا۔ اگر اس کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قریش کی چابکدستی اور عصمت نبوت کا ہاتھ : 73: جب قریش نے کہا رحمت کی آیت کو عذاب والی آیت بنادو اور عذاب والی آیت کو رحمت والی تب ہم تم پر ایمان لائیں گے پس یہ آیت اتری۔ وَاِنْ کَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَکَ (اور یہ لوگ قریب تھا کہ آپ کو چچلا دیتے) اِنْ یہ مخففہ من المثقّلہ ہے اور اس کے جواب میں آنے والی لام وہ اس کو اور اِنْ نافیہ کو جدا کرتی ہے اب معنی یہ ہے کہ بیشک حال یہ ہے کہ وہ آپ کو دھوکے میں مبتلا کردیتے اور فتنہ میں ڈال دیتے۔ عَنِ الَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (اس وحی کے بارے میں جو ہم نے آپ کی طرف کی ہے) یعنی اوامر کی قسم میں سے اور نواہی میں سے اور اسی طرح وعدے اور وعید کی صورت میں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت وان کادوا لیفتنونک کے مختلف شان نزول 73۔” وان کادوا لیفتنونک عن الذی اوحیان الیک “ اس کے سبب نزول میں ائمہ مفسرین کا اختلاف ہے۔ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ رسول اللہ ﷺ جر اسود کو چومتے تھے۔ اس پر مشرکین نے کہا کہ ہم آپ کو سنگ اسود کو چومنے نہ دیں گے تاوقتیکہ آپ ہمارے معبودوں کی طرف نہ جھکیں۔ رسول اللہ ﷺ نے خیال کیا اگر میں ایسا کرلوں تو کیا حرج ہے جب کہ اللہ واقف ہے کہ دل سے اس کے خلاف ہوں۔ بعض نے کہا کہ مشرکین نے ان کو طلب کیا کہ وہ ان کے بتوں کو چھوئیں یہاں تک کہ وہ بھی اسلام لے آئیں اور ہم آپ کی پیروی کرلیں گے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ قبیلہ ثقیف کا وفد رسو ل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

73: تفسیر ابن ابی حاتم میں جو روایت ہے اس میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کی شان نزول میں یوں فرماتے ہیں کہ امیہ بن خلف اور ابوجہل بن ہشام اور چند اشخاص قریش آنحضرت کے پاس آئے اور کہا کہ آپ ہمارے بتوں کو چھو لیں تو ہم آپ کے دین میں داخل ہوجائیں گے 1 ؎۔ مشرکین مکہ کی یہ خواہش ایسی تھی جس طرح کی ان کی ایک خواہش کا ذکر سورة یونس میں گزارا کہ وہ قرآن کی آیتوں کو بدل دینا چاہتے تھے شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں مشرکوں کی اس خواہش کا ذکر کیا ہے۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی حدیث کئی جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 73–77

(آیت نمبر (73: اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول محمد ﷺ پر اپنے احسان و نوازش اور آپ کے دشمنوں سے آپ کی حفاظت کا ذکر کرتا ہے جو ہر طریقے سے آپ کو آزمائش میں مبتلا کرنے کی شدید خواہش رکھتے تھے ‘ چناچہ فرمایا : (و ان کا دو الیفتنو نک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیرہ ) ” یقیناً قریب تھا کہ وہ آپ کو بہکا دیتے اس وحی سے جو ہم نے آپ کی طرف بھیجی تاکہ آپ جھوٹ بنا لائیں ہم پر وحی کے سوا “ یعنی وہ آپ کے خلاف ایک معاملے میں سازش کرچکے ہیں مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے انہوں نے آپ کے خلاف چال چلی تھی کہ آپ اس قرآن کے علاوہ ‘ اللہ تعالیٰ پر کوئی اور بہتان گھڑیں جو ان کی خواہشات نفس کے موافق ہو اور آپ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 72–77

قول باری ہے (ومن کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی جو شخص اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا) حضرت ابن عباس، مجاہد اور قتادہ سے مروی ہے کہ جو شخص اس دنیا کے اندر حق کے اعتقاد سے اندھا رہا جو اس دنیا کا متقضی ہے اس لئے کہ یہ دنیا اس کی آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ بچشم خود اس کے انتظام، اس کی گردش اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں کی لگاتار آمد و رفت کا مشاہدہ کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود حق سے بےبہرہ ہے تو ایسا شخص آخرت میں بھی جو اس کی نظروں سے پوشیدہ ہے اندھا ہی رہے گا اور راہ ہدایت پانے میں زیادہ ناکام ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

134۔ پیغمبر کیلئے خاص حفاظت و حمایت خداوندی کا ذکر وبیان :۔ چنانچہ پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اگرچہ ان لوگوں نے اپنی اس کوشش میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی تھی کہ آپ کو فتنے میں دال کر اس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے آپکی طرف کی ہے تاکہ اس طرح آپ ہمارے خلاف ہماری طرف کسی اور بات کی نسبت کریں، لیکن اللہ کی طرف سے آپ کیلئے جو خاص حفاظت و حمایت ہے، اس کی وجہ سے آپ محفوظ رہے، اور یہ لوگ اپنی ایسی شرانگیزیوں میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ سو اس سے پیغمبر حق کو اور ان کے توسط سے ہر داعی حق کو یہ درس دیا گیا ہے کہ کفار واشرار کی طرف سے آپ کو راہ حق سے پھیرنے کی کتنی ہی کوشش کی جائے آپ ان کے علی الرغم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 73–77

نبی کے لیے کفار کے فتنہ سے بچنے کا تشریح : یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب کفار مکہ نے آپ کو ہر قسم کا لالچ دے کر یہ کہا کہ قرآن میں کچھ آیات بدل دو جو ہمارے مفاد میں، یعنی بت پرستی وغیرہ کے حق میں ہوں تو ہم تمہارا ساتھ دیں گے جو کہو گے دیں گے، یعنی مال و دولت، بیوی اور عزت و احترام۔ آپ ﷺ دنیاوی راحتوں کو تو خیر کسی گنتی میں ہی نہیں لاتے تھے البتہ یہ خیال آیا ہو کہ اس وقت اگر ان کو تھوڑی سی رعایت دے دی جائے تو شاید بعد میں حق کی طرف آجائیں تو اللہ تعالیٰ نے سختی سے حکم دیا کہ ہرگز کسی کافر کی رعایت دوستی یا مشورہ کا خیال مت کرنا۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی تنبیہ ہے کہ کبھی بھی کسی برے کافر اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–77

(رکوع نمبر 8) اسرارومعارف اب اگر یہ برائی کرتا ہے یا شیطان کی پیروی کرتا ہے تو آخر ایک روز ہر انسان کو اس کے نامہ اعمال سمیت بلایا جائے گا اور میدان حشر میں اکٹھا کیا جائے گا ۔ (امام) کہ امام سے مراد اعمالنامہ ہے کہ حدیث شریف میں یہ معنی بھی وارد ہے اور امام بمعنی پیشوا ومقتدا بھی مراد ہے کہ جیسے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو ماننے والے یا ان کے نائبین مشائخ وعلماء کے پیچھے چلنے والے اور دوسرے شیطان کے پیروکار تو گویا دنیا میں جو عمل اور کردار ہے یا جس کی پیروی کرتا ہے ، اسی کے گروہ یا طبقے میں اٹھایا جائے گا کہ امام کا معنی مطلق پیشوا ہے نیک ہو بد مومن ہو یا کافر کہ امامت نبوت کی طرح کوئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 72–73

ف 5 کفار مکہ خود تو راہ پر کیا آتے ان کی یہ برابر کوشش رہی کہ کسی طرح آپ خلاص توحید کی دعوت پیش کرنے سے باز آجائیں یا ان احکام کا ایک حصہ چھوڑ دیں یا بدل دیں جو خدا کی طرف سے آپ کو دیئے جا رہے ہیں۔ یا قرآن سے وہ حصہ حذف کردیں جس میں شرک بت پرستی کی مذمت ہے تو ہم ایمان لانے کے لئے تیار ہیں اور آپ کو مقصد سے پھیرنے کے لئے کبھی فریب کاریوں سے، کبھی لالچ سے اور کبھی دھمکیوں سے انہوں نے بہتیرے جتن کئے لیکن آپ کا جواب ہر موقع پر یہ رہا ” خدا کی قسم ! اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں چاند اور دوسرے ہاتھ میں سورج بھی رکھ دیں تب بھی میں اس کام کو چھوڑنے والا نہیں جو اللہ نے میرے ذمے کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:73) ان کادوا لیفتنوک۔ میں ان مخففہ ہے جو ان ثقیلہ سے مخفف ہو کر ان بن گیا۔ یہ تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے اور لام فارقہ ہے ان مخففہ کو ان نافیہ یا شرطیہ سے ممیز کرتا ہے۔ کادوا۔ کاد یکاد (باب سمع) کود افعال مقاربہ میں سے ہے۔ فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اس کے بعد ان بہت کم آتا ہے کاد اگر بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا۔ قریب الوقوع ضرور تھا۔ جیسے یکاد البرق یخطف ابصارہم (2:20) قریب ہے کہ بجلی ان کی بینائی اچک لے جائے۔ اور اگر اس کے ساتھ حرف نفی آجائے تو اثباتی حالت کے برعکس فعل کے وقوع کو بیان کرنے کے لئے آتا ہے جو وقوع کے قریب نہ ہو جیسے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 71–77

لغات القرآن آیت نمبر 71 تا 77 اوتی دیا گیا۔ یمین داھنا ہاتھ۔ قتیل دھاگہ، ذرہ برابر، اعمی اندھا، نابینا۔ ثبتنا ہم نے ثابت قدم رکھا۔ ضعف دوگنا۔ دوہرا۔ سنۃ طریقہ، قانون الٰہی۔ تحویل تحویل کا معنی صرف تبدیلی ہے۔ تشریح : آیت نمبر 71 تا 77 اصل میں جس شخص کو ایمان قبول کر کے راہ حق پر چلنا ہے اس کو نہ تو معجزات، کرامات اور ادھر ادھر کی باتوں سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ معمولی باتوں سے اس کے قدم ڈگمگاتے ہیں بلکہ اس نے جس سچائی کو قبول کرلیا ہے اس پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہے لیکن جس کو صرف باتیں بنانا ہیں اور اس کو آخرت کی کوئی فکر نہیں ہوتی اس کو سوائے اعتراضات کرنے کے دوسرا کام نہیں ہوتا۔ چناچہ کفار…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

مشرکین مکہ کی شرارت شان نزول : کفار نے آنحضرت ﷺ کو اپنی خواہش پر مجبور کرنا چاہا تھا کہ آپ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یہ کفار ہمارے احکام میں تم سے سستی کرانا چاہتے تھے۔ اور ان کا یہ مقصود تھا کہ تم وحی الہٰی کے سوا کچھ اور جھوٹ باندھو اور پھر وہ تمہیں اپنا دوست بنا لیں، لیکن اللہ کے کارخانہ میں ہر کام کا وقت لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ وقت مقررہ کے آنے تک یہ مشرک اپنی خواہش زبان پر لاتے ہیں۔ وقت مقررہ کے آنے جانے پر تمہارے ہی ہاتھ سے اللہ تعالیٰ ان بتوں کی سب عزت و توقیر خاک میں ملا دے گا اور ان مشرکوں سے ان بتوں کی کچھ حمایت نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 72–77

[54] ایسا شخص جمال باری تعالیٰ کی دید سے اور جنت کے نظاروں سے محروم رہے گا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 70–73

(ف 1) اسلام سے قبل انسان کو فی نفسہ گناہگار اور مجرم قرار دیا جاتا تھا ، انسان کے لئے ضروری تھا کہ وہ کائنات کی ہر چیز کا احترام کرے وہ پہاڑوں کے سامنے جھکے دریاؤں کو پوجے بتوں کو سجدہ کرے ، آفتاب ماہتاب اور ستاروں کو معبود سمجھے سانپ اور بچھوؤں کو دیوتا قرار دے ، صندل کی معمولی لکڑی اس کی جبین ناز کا قشقشہ بنے ہر آن ان معبودوں سے خائف رہے ، دنیا کی ہر چیز کو قابل عبادت سمجھے ۔ قرآن نے انسان کے مرتبہ کو بلند قرار دیا جنت اس کا مسکن ٹھہرایا اور فرشتے اس کی تعلیم کے لئے جھکے ، احسن تقویم اور تکریم کا خلعت عطا ہوا ، اور طے پایا کہ انسانی مخلوق کائنات کی ہر شے سے افضل ہے ، بحر وبر کی حکومتیں اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-73 اور اے پیغمبر یہ کافر تو آپ کو اس چیز سے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کے ذریعہ بھیجی ہے بچلانے اور ہٹانے ہی لگے تھے اور فریب دے کر ان احکامات سے ہٹانا چاہتے تھے اور ان کی یہ کوشش اس لئے تھی تاکہ آپ ان احکام کے سوا جو ہم نے آپ کو بھیجے ہیں کوئی غلط بات ہماری طرف منسوب کردیں اور ایسا کرنے پر وہ کافر آپ کو اپنا گہرا دوست بنا لیتے۔ مفسرین کے ان آیات کے متعلق مختلف اقوال ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت زیر بحث کا تعلق مکہ کے کفار کے ساتھ ہے کیوں کہ یہی لوگ اس قسم کی سازشوں میں دن رات لگے رہتے تھے۔ ان کافروں کا مطالبہ خواہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں سے بتوں کی برائی اور شرک کی مذمت کو بدل دیا جائے یا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 73–74

ف 6۔ یعنی اس کوشش میں لگے تھے کہ آپ ہمارے حکم کے خلاف کریں کہ مسلمانوں کو ہٹا دیں یا مسلمان ہونے کے لئے ایک سال کی مہلت دے دیں، کہ دونوں امر خلاف شرع ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے آپ کو برگشتہ کرنے کا پختہ عہد کرلیا تھا لیکن انہوں نے منہ کی کھائی : 91۔ زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ وہ خود اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا موید و مددگار ہے اس نے آپ کو راہ راست پر پختہ رکھنے کی توفیق دی اور اس زمانہ کے سارے شریروں کے شر سے آپ ﷺ کو محفوظ رکھا ورنہ شریروں نے شرارتوں میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ، آپ ﷺ کو ڈرایا دھمکایا اور آپ ﷺ پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کیں ، آپ ﷺ کو مجنون ‘ شاعر ‘ جادوگر اور سحر زدہ قرار دیا ۔ آپ ﷺ نے متعلق فتنہ و فساد کے شوشے چھوڑے لیکن ان ساری باتوں کا نتیجہ کیا رہا ؟ آپ ﷺ کو اپنے دشمنوں پر فتح و کامیابی عطا کی گئی ، آپ ﷺ کو دین کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 73–74

Commentary Out of the verses appearing above, the first three relate to a particular event. To determine it precisely, Tafsir Mazhari carries some relevant reports. The event which is closer and more supportive in terms of the indicators set in the Qur'an is what has been reported by Ibn Abi Hatim as based on a narrative of Sayyidna Jubayr ibn Nufayr. According to this report, some chiefs of the Quraysh of Makkah came to the Holy Prophet ﷺ and said: 'If you have been really sent to us, you should remove these poor and broken down people from around you, for sitting with such people is a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 73–74

87. In order to understand the significance of this verse, we should keep in view the circumstances through which the Prophet (peace be upon him) had been passing at Makkah during the preceding decade or so. The disbelievers of Makkah were exerting their utmost to turn the Prophet (peace be upon him) away, somehow or other, from his message of Tauhid, which he was presenting, and to force him to make a compromise with shirk and the customs of ignorance. In order to achieve this end, they tempted him in several ways. They practiced deception upon him, and tempted him with greed, held out…

Read the full tafseer →