Al-Israa 17:53

Al-Israa · from ayah 53

17:53

وَقُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ؕ— اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ ؕ— اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا ۟وَقُلْ لِّعِبَادِىۡ يَقُوۡلُوا الَّتِىۡ هِىَ اَحۡسَنُ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ يَنۡزَغُ بَيۡنَهُمۡ‌ؕ اِنَّ الشَّيۡطٰنَ كَانَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوًّا مُّبِيۡنًا

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And tell My servants to say that which is best. Indeed, Satan induces [dissension] among them. Indeed Satan is ever, to mankind, a clear enemy.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:53

اور اے محمدؐ، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسا ن کا کھلا دشمن ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور میرے بندوں سے کہہ دیجیئے کہ وه بہت ہی اچھی بات منھ سے نکالا کریں کیونکہ شیطان آپس میں فساد ڈلواتا ہے۔ بےشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

میرے (مومن) بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہا کریں جو بہترین ہو۔ درحقیقت شیطان لوگوں کے درمیان فساد ڈالتا ہے۔ شیطان یقینی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میرے بندوں سے فرماؤ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو بیشک شیطان ان کے آپس میں فساد ڈالتا ہے، بیشک شیطان آدمی کا کھلا دشمن ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں، بیشک شیطان لوگوں کے درمیان فساد بپا کرتا ہے، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میرے بندوں سے کہہ دے وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو، بیشک شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ بیشک شیطان ہمیشہ سے انسان کا کھلا دشمن ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ میرے بندوں سے کہہ دیجئے : کہ وہی بات زبان سے نکالیں۔ جو بہتر ہو کیونکہ شیطان لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا کھلا دشمن ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہے۔ بیشک شیطان ان کے درمیان وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے، شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن تو ہے ہی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہو میرے بندوں سے (اے پیغمبر !) کہ وہ بات ہمیشہ وہی کریں جو ہر لحاظ سے اچھی ہو، کہ شیطان (ناروا بات کے ذریعے) ان کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش میں رہتا ہے، بلاشبہ شیطان انسان کا کھلم کھلا دشمن ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کہیے میرے بندوں کہ ایسی بات کہا کریں جو بہتر ہو۔ بیشک شیطان لوگوں میں فساد ڈلواتا ہے بیشک شیطان تو انسان کو صریح دشمن ہے ہی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ میرے بندوں سے کہہ دیجیے کہ وہی بات کہیں جو بہت اچھی ہو یقیناً شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالے گا یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان بری باتوں سے ان میں فساد ڈالوا دیتا ہے کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell My servants, (O Muhammad), to say always that which is best. Verily it is Satan who sows discord among people. Satan indeed is an open enemy to mankind.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Tell My servants that they should speak that which is best. Surely, Satan creates discord among them. Indeed, Satan is an open enemy to mankind.

— Muhammad Taqi Usmani

Tell My servants that they should speak that which is best. Surely, Satan creates discord among them. Indeed, Satan is an open enemy to mankind.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And say to My servants that they should say those words that are best. (Because) Shaytan verily, sows a state of conflict and disagreement among them. Surely, Shaytan is to man a plain enemy.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Tell My bondmen to speak that which is kindlier. Lo! the devil soweth discord among them. Lo! the devil is for man an open foe.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And tell My servants to say that which is best. Indeed, Satan induces [dissension] among them. Indeed Satan is ever, to mankind, a clear enemy.

— Saheeh International

(Muhammad), tell My servants to say what is best. Satan sows dissension among them; he is the sworn enemy of human beings.

— Muhammad Sarwar

And say to My servants (that) they speak that which is best; surely the Shaitan sows dissensions among them; surely the Shaitan is an open enemy to man.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou unto My bondmen that they should say that which is best, Verily the Satan would stir up strife between them; verily the Satan is unto men ever an enemy manifest.

— Abdul Majid Daryabadi

Say to My servants that they should (only) say those things that are best: for Satan doth sow dissensions among them: For Satan is to man an avowed enemy.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مسلمانو ایک دوسرے کا احترام کرو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ آپ مومن بندوں سے فرما دیں کہ وہ اچھے الفاظ، بہتر فقروں اور تہذیب سے کلام کرتے رہیں، ورنہ شیطان ان کے آپس میں سر پھٹول اور برائی ڈلوا دے گا، لڑائی جھگڑے شروع ہوجائیں گے۔ وہ انسان کا دشمن ہے گھات میں لگا رہتا ہے، اسی لئے حدیث میں مسلمان بھائی کی طرف کسی ہتھیار سے اشارہ کرنا بھی حرام ہے کہ کہیں شیطان اسے لگا نہ دے اور یہ جہنمی نہ بن جائے۔ ملاحظہ ہو مسند احمد۔ حضور ﷺ نے لوگوں کے ایک مجمع میں فرمایا کہ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے کوئی کسی کو بےعزت نہ کرے پھر آپ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کر کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 57 یعنی اہل ایمان سے۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 58 یعنی کفار و مشرکین سے اور اپنے دین کے مخلافین سے گفتگو اور مباحثے میں تیز کلامی اور مبالغے اور غلو سے کام نہ لیں۔ مخالفین خواہ کیسی ہی ناگوار باتیں کریں مسلمانوں کو بہرحال نہ تو کوئی بات خلاف حق زبان سے نکالنی چاہیے، اور نہ غصے میں آپے سے باہر ہو کر بیہودگی کا جواب بیہودگی سے دینا چاہیے۔ انہیں ٹھنڈے دل سے وہی بات کہنی چاہیے جو جچی تلی ہو، برحق ہو، اور ان کی دعوت کے وقار کے مطابق ہو۔ سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 59 یعنی جب کبھی تمہیں مخالفین کی بات کا جواب دیتے وقت غصے کی آگ اپنے اندر بھڑکتی محسوس ہو، اور طبیعت بےاختیار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–54

خلاصہ تفسیر اور آپ میرے (مسلمان) بندوں سے کہہ دیجئے کہ (اگر کفار کو جواب دیں تو) ایسی بات کہا کریں جو (اخلاق کے اعتبار سے) بہتر ہو (یعنی اس میں سب و شتم اور تشدد اور اشتعال انگیزی نہ ہو کیونکہ) شیطان (سخت بات کہلوا کر) لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے واقعی شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے (اور وجہ اس تعلیم کی یہ ہے کہ سختی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور ہدایت و گمراہی تو مشیت ازلیہ کے تابع ہے) تم سب کا حال تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے (کہ کون کس قابل ہے بس) اگر وہ چاہے تو تم (میں سے جس) پر (چاہے) رحمت فرما دے (یعنی ہدایت کر دے) یا اگر وہ چاہے تو تم (میں سے جس) کو (چاہے) عذاب دینے لگے (یعنی اس کو توفیق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا مسلمانوں کو حکمت تبلیغ کی تعلیم : اوپر کی آیات سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس دور میں مخالفین نے طنز و تعریض کے تمام ترکش سنبھال لیے تھے۔ جب جب کوئی موقع گفتگو کا نکلتا مسلمانوں کی بھی تحقیر کرتے اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی گستاخی اور بدتمیزی سے پیش آتے۔ اوپر آیات 47 میں اس کی ایک مثال گزر چکی ہے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اس باب میں مسلمانوں کو ضرور ہدایت دے دی جائیں تاکہ وہ کفار کے رویہ سے متاثر ہو کر کوئی ایسا قدم نہ اٹھا بیٹھیں جو دعوت کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 یعنی آپس میں گفتگو کرتے وقت زبان کو احتیاط سے استعمال کریں، اچھے کلمات بولیں، اسی طرح کفار و مشرکین اور اہل کتاب سے اگر مخاطبت کی ضرورت پیش آئے تو ان سے مشفقانہ اور نرم لہجے میں گفتگو کریں۔ 53۔ 2 زبان کی ذرا سی بےاعتدالی سے شیطان، جو تمہارا کھلا دشمن ہے، تمہارے درمیان آپس میں فساد ڈلوا سکتا ہے، یا کفار یا مشرکین کے دلوں میں تمہارے لئے زیادہ بغض وعناد پیدا کرسکتا ہے۔ حدیث میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار کے ساتھ اشارہ نہ کرے اس لیے کہ وہ نہیں جانتا کہ شیطان شاید اس کے ہاتھ سے وہ ہتھیار چلوا دے اور وہ اس مسلمان بھائی کو جا لگے جس سے اس کی موت واقع ہوجائے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–56

28: اس آیت میں مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ جب ان کی کافروں کے ساتھ گفتگو ہو تو ان کے ساتھ بھی خوش اسلوبی کے ساتھ بات کیا کریں کیونکہ غصے کے عالم میں سخت قسم کی باتوں سے فائدے کے بجائے نقصان ہوتا ہے اور ایسی باتیں شیطان اس لئے کہلواتا ہے کہ ان سے فساد پیدا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ منہ سے وہی بات نکالا کریں جو بہتر ہو۔ ہر حال میں بہترین بات سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ کیونکہ بری بات سے لوگوں کا دل دکھتا ہے اور شیطان کا مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کے درمیان رخنہ ڈال دے۔ اور اس سے وہ صرف اس صورت میں بچ سکتے ہیں کہ وہ اچھی بات کریں۔ اگر کوئی بری بات منہ سے نکل جائے تو جواب بھی برا ہوگا۔ یوں نزاع شروع ہوجائے گا اور محبت اور آشتی کی فضا نہ رہے گی۔ سختی پیدا ہوگی ، پھر دشمنی ہوجائے گی۔ جبکہ اچھی بات سے دلوں کے زخم مند مل ہوجاتے ہیں اور دلوں کو خشکی اور سختی میں لچک پیدا ہوتی ہے۔ اور آخر کار اچھے کلمات سے محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اب شتابی کرتے ہو، اس وقت اندازہ کرو گے کہ دنیا میں کچھ زیادہ دیر نہیں رہے تھے۔ پچاس سو برس ان ہزاروں برسوں کے سامنے کیا معلوم ہوں (موضح القرآن) بعض نے کہا کہ شدت ہول و خوف سے دنیا کی زندگی تھوڑی معلوم ہوگی۔ یا نفخہ اول اور نفخہ ثانی کے درمیان چونکہ عذاب نہ رہے گا، اس درمیانی مدت کو قلیل خیال کر کے کہیں گے۔ (مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا) 36 ۔ یس :52)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53 وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ یہاں وہ نکتہ ذہن میں تازہ کر لیجیے جس کی قبل ازیں وضاحت ہوچکی ہے کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا۔ ان سے براہ راست تخاطب کا سلسلہ یٰٓاَیُّھَا الَّذِینَ اٰمَنُوْا تحویل قبلہ کے بعد شروع ہوا جب انہیں باقاعدہ امت مسلمہ کے منصب پر فائز کردیا گیا۔ اس سے پہلے اہل ایمان کو رسول اللہ کی وساطت سے ہی مخاطب کیا جاتا رہا۔ چناچہ اسی اصول کے تحت یہاں بھی حضور سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ میرے بندوں مؤمنین کو میری طرف سے یہ بتادیں کہ وہ ہر حال میں خوش اخلاقی کا مظاہرہ کریں اور گفتگو میں کبھی ترشی اور تلخی نہ آنے دیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

64 داعی کو تلخ کلامی سے پرہیز ضروری ہے :۔ ہر شخص کو چاہیے کہ خطاب کے وقت اس کے لہجہ میں نرمی اور الفاظ میں شیرینی ہونی چاہیے تند و تیز اور غصہ والے لہجہ یا تلخ الفاظ استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے خواہ یہ خطاب باہمی گفتگو کے سلسلہ میں ہو یا دعوت دین کے سلسلہ میں۔ کیونکہ لہجہ یا الفاظ میں درستی سے مخاطب کے دل میں ضد اور عداوت پیدا ہوتی ہے اور اس سے دعوت دین کا کام یا اصلاح احوال کا کام پیچھے جا پڑتا ہے۔ 65 اور شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ تمہاری آپس میں منافرت، ضد اور دشمنی پیدا ہو اور دعوت و تبلیغ کا کام رک جائے۔ لہذا خطاب کے وقت خصوصی احتیاط کرو۔ اور تم غصہ میں آگئے یا تلخ لہجہ یا سخت الفاظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

76۔ (حسن اخلاق وشائستگی کے اعتبار سے) اے ولا یخائنوا المشرکین) (بیضاوی) (آیت) ” لعبادی “۔ عباد سے یہاں مراد مسلم ومطیع بندے ہیں۔ المراد بہ ال مومن ون (کبیر) آیت میں اس کی تعلیم ہے کہ غیروں سے مناظرہ ومجادلہ میں حتی الامکان سب وشتم اور خشونت سے احتراز چاہیے۔ کاش ہماری مولوی صاحبان اور لیڈر صاحبان کی اکثریت اس تعلیم پر غور کرتی ! 77۔ (اس کا تو کام ہی لوگوں کو قبول حق سے دور کرنا اور باز رکھنا ہے) (آیت) ” ان الشیطن ینزغ بینھم “۔ شیطان تو مومنین مطعیین کی زبان سے ایسے پر خشونت الفاظ نکلوانے کی پوری کوشش کرے گا جو دلوں کو قبول حق سے اور دور کردیں اور غیروں میں عدوات اور قساوت اور زیادہ پیدا کردیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 53–60

آیت نمبر 53 تا 60 ترجمہ : اور میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ کفار سے اچھی بات کہو بلاشبہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے، یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، یعنی اس کی عداوت بالکل ظاہر ہے، اور وہ کلمہ جو بہتر ہے وہ یہ کہ ” تمہارا رب تمہارے بارے میں تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ جانتا ہے، اگر وہ چاہے تو توبہ اور ایمان کے ذریعہ تمہارے اوپر رحم فرمائے یا اگر تم کو عذاب دینا چاہے تو تم کو کفر پر موت دے کر تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں اور یہ حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اور وہ آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ : اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہے۔ یعنی اسلام کی دعوت اور کلمۂ توحید کی تبلیغ نرمی کے ساتھ مدلل طور پر خیرخواہی کا اظہار کرتے ہوئے۔ مشرکوں کی جہالت سے ٹکراؤنہ کریں۔ حسن نے کہا (مثلاً ) مشرکوں سے یوں کہیں اللہ آپ کو سیدھا راستہ دکھا دے اس آیت کا حکم قتال کی اجازت سے پہلے تھا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عمر بن خطاب کے متعلق ہوا تھا آپ کو کسی کافر نے گالی دے دی تھی اس پر آپ کو اللہ نے درگزر کرنے کا حکم اس آیت میں دے دیا۔ بعض علماء نے کہا احسن الکلمہ کلمۂ اخلاق یعنی لا الہ الا اللہ ہے۔ بعض اہل تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) آپ حضرت عمر فاروق ؓ اور ان کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ جب کفار کی باتوں کا جواب دیا کریں تو ایسی بات کہا کریں جو کہ اخلاق اور نرمی کے اعتبار سے بہتر ہو۔ کیوں کہ شیطان سخت جواب دلوا کر لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے اور واقعی وہ کھلا دشمن ہے، اور یہ حکم جہاد کے نزول سے قبل والا حکم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۧوَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ۔۔ : ”نَزَغَ یَنْزَغُ“ (ف) کا معنی چوکا مارنا، فساد اور بگاڑ پیدا کرنا ہے۔ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے جو عہد لینے کا ذکر فرمایا اس میں یہ حکم تھا : (وَقُوْلُوْا للنَّاسِ حُسْـنًا) [ البقرۃ : 83 ] ”اور لوگوں کے لیے اچھی بات کہو۔“ یہاں ہماری امت کو احسن یعنی سب سے اچھی بات کہنے کا حکم دیا۔ ”میرے بندوں“ سے مراد امت مسلمہ ہے، کیونکہ وہی اس کی غلامی اور بندگی کرنے والے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کس سے احسن بات کہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ مسلم ہو یا کافر، دوست ہو یا دشمن، ہر ایک سے ایسی بات کرنا لازم ہے جس سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 53 قولہ تعالیٰ : وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن اس کے اعراب اور ترکیب کا یبان پہلے گزرچکا ہے۔ اور یہ آیت حضرت عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور وہ اس طرح کہ آپ نے عرب میں سے دو آدمی کو خوب سب وشتم کیا اور اس کے قتل کا ارادہ کیا، قریب تھا کہ فتنہ بھڑک اٹھتا تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی : وقل لعبادی یقولوا التی ھی احسن اسے ثعلبی، ماوردی، ابن عطیہ اور واحدی نے ذکر کیا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب مسلمانوں نے کہا : یارسول اللہ ﷺ ہمیں ان کے قتال کے بارے میں اجازت عطا فرمایئے تحقیق ان کی اذیت رسائی ہمارے لئے بڑھ گئی ہے، تو آپ ﷺ نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–53

1:۔ ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فتستجیبون بحمدہ “ سے مراد ہے کہ بامرہ (یعنی اس کے حکم سے ) ۔ 2:۔ عبدبن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فتستجیبون بحمدہ “ سے مراد ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے اور وہ کہتے ہوں گے ” سبحنک اللہم بحمدک “۔ 3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” یوم یدعوکم فتستجیبون بحمدہ “ یعنی اس کی معرفت اس کی اطاعت کے ساتھ جواب دو گے (آیت) ” تظنون ان لبثتم الا قلیلا “ یعنی جب لوگ قیامت کے دن کو دیکھیں گے تو وہ اپنی عمروں کو بہت کم خیال کریں گے۔ 4:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَقُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [لِعِبَادِيْ : میرے بندوں سے (کہ)] [يَـقُوْلُوا : وہ لوگ کہیں ] [الَّتِيْ : وہ جو کہ ] [ھِيَ : وہ ہی ] [اَحْسَنُ : سب سے اچھا ہے ] [ان : بیشک ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [يَنْزَغُ : ناچاقی ڈالتا ہے ] [بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان ] [ان : بیشک ] [الشَّيْطٰنَ : شیطان ] [كَان : ہے ] [لِلْانسَان : انسان کے لئے ] [عَدُوًّا مُّبِيْنًا : ایک کھلا دشمن ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

بندوں کو اچھی باتیں کرنے کا حکم، بعض انبیاء بعض انبیاء سے افضل ہیں، اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی ان آیات میں اول تو نبی اکرم ﷺ کو خطاب کرکے یہ حکم دیا کہ آپ میرے بندوں سے فرما دیں کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہو، بہتر کے عموم میں نرمی سے بات کرنا اور خیر خواہی کا طریقہ اختیار کرنا اور حکمت و موعظت کی وہ سب صورتیں داخل ہیں جن سے مخاطب متاثر ہوسکے اور حق قبول کرسکے چونکہ زمانہ نزول قرآن میں مشرکین اور کفار سے باتیں ہوتی رہتی تھیں اور ان لوگوں کی طرف سے بےت کے سوال و جواب بھی ہوتے تھے، جن میں سے اوپر کی آیتوں میں بعض باتوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اور اس سے مسلمانوں کو غصہ آجانے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 53–60

تلقین حسن خطاب با اہل کتاب و جوابات از شبہات مشرکین قال اللہ تعالیٰ : وقل لعبادی یقولوا التی ہی احسن .... الیٰ .... الا طغیانا کبیرا۔ (ربط) توحید اور قیامت کی حقانیت پر دلائل قائم کرکے مسلمانوں کو تعلیم فرماتے ہیں کہ مخالفین سے جب بحث کی نوبت آئے تو الفاظ نرم ہونے چاہیں کیونکہ سختی سے بسا اوقات سب و شتم کی نوبت آجاتی ہے اور شیطان باہمی نفرت اور عداوت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور مخالف ضد پر اتر آتا ہے ایسی ھالت میں دعوت و تبلیغ بےسود ہوجاتی ہے۔ بعد ازاں مشرکین کے چند شبہات کے جوابات دئیے جو نہایت نرم ہیں اور باوجود نرم ہونے کے نہایت محکم ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ! میرے بندوں یعنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

51:۔ شکوہ جواب شکوہ اور تخویف اخروی کے بعد طریق تبلیغ کی تعلیم دی گئی کہ مشرکین اگر سختی اور بد زبانی سے پیش آئیں تو بھی تم نرمی اختیار کرو کیونکہ شیطان بنی آدم کا علانیہ دشمن ہے وہ معمولی باتوں سے فساد بپا کرادے گا اور توحید کی تبلیغ و اشاعت میں رکاوٹ پیدا ہوجائے گی۔ اس لیے مسئلہ توحید اور حشر و نشر کو دلائل سے واضح کرتے وقت انداز گفتگو نرم اور ناصحانہ اختیار کرو۔ اذا اردتم ایرا الحجۃ علی المخالفین فاذکروا تلک الدلائل بالطریق الاحسن وھو ان لا یکون ذکر الحجۃ مخلوطا بالشتم والسب (کبیر ج 5 ص 603) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 53–55

ربط آیات : گذشتہ آیات میں عقیدے کے بارے ہیں اہم مضامین کا ذکر ہوچکا ہے ، اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا ، کفار کی مذمت بیان فرمائی اور رسالت کے متعلق شکوک و شبہات کے جوابات دیے اس کے بعد قیامت کا مسئلہ بیان کیا کہ لوگ اس کو بعید خیال کرتے ہو مگر ممکن ہے یہ قریب ہی ہو پھر فرمایا جب قیامت برپا ہوگی اور اللہ تعالیٰ ان کو بلائے گا تو یہ خدا کی تعریف کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ کر آئیں گے مگر اس وقت اللہ تعالیٰ کی بات کو قبول کرنے اور اس کی حمد بیان کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔ (شائستہ بات) اب آج کی آیات میں حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے اہل ایمان کو اچھا اخلاق اختیار کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے مشرکین…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا 53؀ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ عبد العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–56

ترکیب : ایہم مبتدا اقرب خبرہ وھو استفہام والجملۃ فی موضع نصب بیدعون۔ وقیل۔ اولئک مبتدا الذین یدعون ای یدعونھم الکفار صفت یبتغون خبر ایھم بدل من واو یبتغون فعل الاول معناہ ان الھتھم اولئک یبتغون الوسیلۃ و ھی الی اللہ تعالیٰ و ایھم بدل ای یبتغی من ھو اقرب فھم و ازلف الوسیلۃ فکیف بغیر الاقرب اوضمن یبتغون معنی یحرصون ای یحرصوں ربھم یکون اقرب الی اللہ بالطاعۃ والصلاح۔ تفسیر : ثبوت معاد پر حجت قائم کر کے مسلمانوں کو تعلیم کرتا ہے کہ تم مخالفوں سے نرم اور اچھی باتیں کیا کرو کیونکہ سختی سے شیطان باہم عداوت و نفرت پیدا کردیتا ہے وہ انسان کا دشمن ہے اور وہ اچھی بات یہ ہے کہ تمہارا رب تم سے خوب واقف ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَہُمْ ط اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِـلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 53) (اور ( اے پیغمبر۔ ) آپ ﷺ میرے بندوں کو حکم دیجیے کہ وہ ایسی باتیں کیا کریں جو بہتر ہوں، بیشک شیطان ان کے درمیان وسوسہ اندازی کرتا ہے، یقینا شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ ) مخالفتوں کے ہجوم میں مسلمانوں کو صبر کی تلقین گزشتہ آیات سے یہ بات تو بالکل واضح ہوگئی ہے کہ مشرکینِ مکہ آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی مخالفت میں انتہائوں کو چھونے لگے تھے۔ قرابت یا مروت کی پاسداری ایک افسانہ بن چکی تھی۔ قریش جو ہمیشہ خونی رشتوں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید اور آخرت کا انکار کرنے والے لوگ باطل عقیدہ رکھنے کے باوجود اپنے عقیدے کی حمایت میں خواہ مخواہ بحث کرتے اور جھوٹے دلائل دیتے ہیں۔ اکثر اوقات لڑنے جھگڑنے پر اتر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں داعی حق کو صبرو تحمل کے ساتھ بہتر سے بہترین گفتگو کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ میرے بندوں کو بتلائیں اور سمجھائیں کہ وہ لوگوں سے ایسی گفتگو کریں جو دل پذیر اور پسندیدہ ہو۔ کیونکہ شیطان اشتعال دلاکر لوگوں کے درمیان فساد برپا کرتا ہے۔ یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ داعی حق جب منکرین حق کو اخلاص اور جان سوزی کے ساتھ حق کی طرف دعوت دیتا ہے۔ اس کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اچھی بات کئے جائو : 53: وَقُلْ لِّعِبَادِیْ (آپ کہہ دیں میرے بندوں کو) ایمان والے بندے مراد ہیں یَقُوْلُوا (وہ کہیں) مشرکین کو ایسی بات الَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (جو بات کہ سب سے اچھی ہو) بہت نرمی والی ہو۔ ان سے خشونت کا معاملہ نہ کریں۔ بلکہ اس طرح کہیں اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت دے۔ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَھُمْ (بیشک شیطان ان کے مابین فساد ڈلواتا ہے) ایک دوسرے کے خلاف برانگیختہ کرتا ہے تاکہ ان میں مخالفت اور شرّ پیدا ہو اور فساد برپا ہو۔ باہمی حقوق تلف ہوں۔ قراءت : طلحہ نے یَنْزِغُ زاءؔ کے کسرہ سے پڑھا اور یہ دونوں لغات ہیں۔ اِنَّ الشَّیْطٰنَ کَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا (بیشک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

53۔” وقل لعبادی یقولوا التیھی احسن “ کلبی کا بیان ہے کہ جب مشرکوں نے مسلمانوں کو زیادہ دکھ پہنچانے شروع کیے تو مسلمانوں نے حضور ﷺ سے اس کی شکایت کی ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” وقل لعبادی یقولوا “ بندوں سے مراد کافر لوگ ہیں ۔ ” التیھی احسن “ ہم ان کی مکافات نہیں کرتے ان کی بےوقوفی کی وجہ سے۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ ان کو کہہ دو کہ اللہ تمہیں ہدایت دے یہ جہاد سے اجازت سے پہلے کا حکم تھا اور بعض نے کہا کہ حضرت عمر و بن خطاب ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ جب کفار نے ان کو برا بھلا کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کرنے کا حکم دیا او بعض نے کہا کہ اللہ نے مؤمنین کو حکم دیا کہ وہ بھی معاف کریں اور جو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

53:۔ اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول مقبول ﷺ کی معرفت اپنے بندوں کو حکم فرمایا کہ تم اپنا برتاؤ اچھا رکھو ایسا نہ ہو کہ سخت کلامی سے شیطان تمہارے بیچ میں کود پڑے اور جھگڑا ڈال دے کیونکہ شیطان حضرت آدم اور بنی آدم کا صریح دشمن ہے احسن کی تفسیر میں مفسروں کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ لوگ نرمی اور آہستگی سے کلام کریں کوئی شخص کافر سے بھی سخت کلامی نہ کرے کیونکہ اس سے فساد پیدا ہوتا ہے اور ضعف اسلام کے زمانہ تک مشرکین اور اہل اسلام کے مابین کسی فساد کا پیدا ہونا اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں ہے۔ صحیح بخاری کے حوالہ سے خباب ؓ کی حدیث ایک جگہ گز رچ کی ہے 1 ؎ کہ ہجرت سے پہلے مشرکین مکہ مسلمانوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–55

(آیت نمبر (45 اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 52–59

دنیا میں انسان کا قیام بہت تھوڑا ہے قول باری ہے (وتظنون ان لبثتم الا قلیلاً اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں) حسن کا قول ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی مدت کے متعلق یہ گمان کرو گے اس لئے کہ آخرت میں تمہارے رہنے کی مدت بڑی طویل ہوگی جس طرح یہ قول ہے ۔ ” تم دنیا میں اتنی تھوڑی مدت کے لئے رہو گے کہ گویا رہے ہی نہیں اور آخرت کی مدت کو دیکھ کر کہو گے کہ گویا ہمیشہ سے یہیں رہتے ہے۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ آخرت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان کی نظروں میں دنیا انتہائی حقیر ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

93۔ مسلمانوں کو حسن تخاطب کی تعلیم و تلقین :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” میرے بندوں سے کہو کہ وہ ہمیشہ وہی بات کہا کریں جو سب سے اچھی ہو۔ “ جس میں حق کا بیان واظہار وہ اور جو حق کیلئے اور حق کے ذریعے کہی جائے اور اس سے مقصود نصیحت وخیر خواہی ہو۔ فایاک نسئال اللہم التوفیق لذالک والسداد والثبات علیہ بہرکیف بھلی بات کہنے کی تعلیم ایک بڑی اہم اور بنیادی تعلیم ہے جس سے بسا اوقات بڑے بڑے فساد ٹل جاتے ہیں اور حالات کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ جبکہ غلط بات سے آگ لگ جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس لئے حکم وارشاد فرمایا گیا کہ ” میرے بندوں سے کہو کہ وہ ہمیشہ وہی بات کہا کریں جو سب سے اچھی ہو۔ “ مخالفین کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–54

اللہ کا حکم نبی کے لیے تشریح : ان آیات میں سخت کلامی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ سخت بات کے بعد پھر جھگڑا کھڑا ہوسکتا ہے۔ آپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ہدایت کا پیغام پہنچا دیں بس۔ اس کے بعد آپ کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 53–60

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف آپ میرے بندوں یعنی مسلمانوں سے کہئے کہ بات خوبصورت انداز میں کیا کریں اس میں سختی یا سب وشتم نہ ہو کہ سب وشتم سے یا سخت کلامی سے شیطان کو فساد پھیلانے کا موقع ملتا ہے اور انسانوں کو آپس میں لڑاتا ہے تو بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔ (عام گفتار میں بھی اور دینی تبلیغ میں بھی سخت کلامی درست نہیں خواہ بات کفار ہی سے کیوں نہ کی جائے) مسلمانوں کو آپس میں تو بات زیب ہی اخلاق سے دیتی ہے اور پھر جب بات دین کی وہ اور اللہ جل جلالہ اور اس کے نبی ﷺ کے حوالے سے کی جائے تو اور زیادہ محتاط لب و لہجہ ضروری ہے ، خواہ مخاطب بدکار اور بےدین ہی کیوں نہ ہو یہ بات بات پہ دوسروں کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 کفار کی مسلسل ایذا رسانی سے مسلمان بہت تنگ آگئے اور ان سے گالی گلوچ بھی ہوگئے۔ جس سے اشعتال بڑھ گیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی مطلب یہ ہے کہ کفایہ اگر بحث و مکالمہ میں جہالت طعن وتشنیع، الزام تراشی، اور ہنسی ٹھٹھے کی باتیں بھی کریں تب بھی مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے آپ پر قابو رکھیں اور زبان سے خلاف حق یا اشتعال انگیز بات نہ نکالیں کیونکہ اس سے فائدہ کی بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کو باہم حسن سلوک سے پیش آنے کی تلقین ہو جیسا کہ حدیث میں ہے الونوا عباد اللہ اخوانا کہ بھائی بھائی بن کر رہو۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 52–53

(17:52) یوم یدعوکم۔ میں یوم کا نصب بوجہ فعل مضمر اذکروا ہے۔ ترجمہ ہوگا۔ یاد کرو وہ دن جب وہ (اللہ ) تمہیں پکارے گا۔ یا بوجہ قریباً کے بدل ہونے کے ہے۔ ترجمہ ہوگا (عجب نہیں یہ وقت قریب ہی آپہنچا ہو) یہ اس روز ہوگا جب اللہ تمہیں پکارے گا۔۔ الخ فتستجیبون بحمدہ۔ فتستجیبون مادہ جوب باب استفعال سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ الجوب (باب ضرب) اس کے اصل معنی الجوبہ قطع کرنے کے ہیں۔ الجویہ یہ پست زمین کی طرح (زمین میں گڑھاسا) ہوتا ہے پھر ہر طرح زمین کے قطع کرنے پر بولا جاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے وثمود الذین جابوا الصخر بالواد (89:9) اور ثمود (کے ساتھ کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے (اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 53–55

لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 55 احسن بہترین۔ ینزغ فساد ڈالتا ہے۔ عدو دشمن۔ مبین کھلا ہوا۔ اعلم زیادہ جانتا ہے۔ یرحم وہ رحم کرتا ہے۔ یعذب وہ عذاب دیتا ہے، عذاب دے گا۔ فضلنا ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی۔ تشریح : آیت نمبر 53 تا 55 شیطان جو انسان کا کھلا ازلی دشمن ہے اس کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ دو بھائی آپس میں محبت پیار اور میل ملاپ کے ساتھ نہ رہیں بلکہ اختلافات اور جھگڑوں میں الجھے رہیں تاکہ اس جگہ سے اللہ کی رحمتیں اٹھ جائیں۔ اختلافات کی ابتداء ہمیشہ غیر سنجیدہ گفتگو سے ہوتی ہے جوب ڑھتے بڑھتے اپنی انتہاؤں تک پہنچ جاتی ہے اور ایک دوسرے کو قتل تک کرنے سے باز نہیں آتے اور اس طرح اصلاح و تربیت کا جو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

نرمی سے کلام کرنے کا حکم اس آیت میں اللہ پاک نے اپنے رسول مقبول ﷺ کی معرفت اپنے بندوں کو حکم فرمایا کہ تم اپنا برتاؤ اچھا رکھو، لوگوں سے نرمی اور آہستگی سے کلام کرو۔ سخت کلامی سے شیطان تمہارے بیچ میں کود پڑتا ہے اور جھگڑا ڈال دیتا ہے کیونکہ شیطان حضرت آدم (علیہ السلام) اور بنی آدم کا صریح دشمن ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–53

[38] یعنی سنتے ہیں تو تمسخر اور تکذیب کے لئے۔ [39] مشرکین قرآن سننے کے بعد نبی ﷺ کے متعلق آپس میں سرگوشیاں کرتے۔ بسا اوقات انھیں اپنے ہی کسی آدمی پر شبہ ہوجاتا کہ شاید یہ قرآن سن کر کچھ متاثر ہوگیا ہے تو سب مل کر اسے سمجھاتے کہ اس شخص کے پھیر میں نہ آؤ۔ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس پر کسی نے جادو کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–54

(ف 1) مکہ والوں کا ایک شبہ آپ کی تعلیمات کے متعلق یہ تھا کہ اس میں حشر ونشر کے کوائف کا ذکر ہے ، وہ کہتے تھے ، یہ کیونکر ممکن ہے ، کہ مرا ہوا انسان جی اٹھے ، اور مردہ ہڈیوں میں حرکت وعمل پیدا ہوجائے ان کے خیال میں یہ زندگی جب ختم ہوجائے تو پھر اس کا اعادہ نہیں ہو سکتا ، اور ہم ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سو جاتے ہیں ، قیامت اور حشراجساد کا عقیدہ ان کے لئے نہایت حیرت انگیز تھا ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے ، تمہیں اس میں کیا اعتراض ہے ، کیا اللہ نے تم کو کتم عدم سے لا کر وجود کی دنیا میں آباد نہیں کیا ہے ، کیا اس نے تمہیں بغیر کسی مادی ذریعہ کے پیدا نہیں کیا ؟ جب اسی نے اس سے پہلے تمہیں پیدا کیا تھا ، تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-53 اور اپنے پیغمبر آپ میرے بندوں سے فرما دیجیے کہ وہ مذاکرے اور مباحثے کے دوران میں مخالفوں سے گفتگو کا اچھا اور بہتر طریقہ اختیار کریں کیونکہ شیطان سخت بات کی وجہ سے لوگوں میں باہم فساد کرانا چاہتا ہے واقعی شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ یعنی کفار کی جہالت اور کٹ حجتی کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کو حسن اخلاق کی تعلیم دی کہت م نرمی اور محبت سے ان منکروں کے ساتھ گفتگو کیا کرو اور مباحثے میں ایسا طریقہ اختیار کرو جو بہتر ہو اور اس میں کسی کی دل آزاری کا پہلو نہ ہو اور شیطان جو انسان کا کھلا دشمن ہے اس کی مراد پوری نہ ہونے دو کیونکہ وہ شیطان تو آپس میں جھگڑا کرانے اور فساد ڈلوانے کی فکر میں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کے لئے ہدایت کہ ایک دوسرے کو مخاطب کرتے وقت اچھا طریقہ استعمال کرو : 67۔ کون ہدایات الہی کے مطابق زندگی گزارتا ہے اور کون ہدایات کی پروا نہیں کرتا ، دونوں طرح کی طبیعتیں موجود ہیں اور موجود رہیں گی جس نے ہدایات کے مطابق عمل کیا اس نے اپنا آپ سنوار لیا اور جس نے مخالفت کی اس نے اپنے آپ کو خود بگاڑ لیا ، اب سنورنے والے کا اپنا فائدہ ہے اور بگڑنے والے کا اپنا نقصان ۔ آپ نے ایک کو اچھا جانا دوسرے کو برا تو اچھا کیا لیکن اپنا نقصان کرنے والے نے آپ کا بھی کوئی نقصان کیا ؟ بس اس بات کو ذہن نشین کرتے ہوئے جب منکرین اسلام سے گفتگو کرو تو پسندیدہ طریقہ پر کرو اس طرح کی باتیں نہ کہو کہ ان کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 53–54

Commentary Using foul or harsh language is not correct, even against infidels The first verse (53) prohibits Muslims from talking harshly to disbelievers. It means that a hard line should not be taken unnecessarily, and should there be the need, even killing would be in order - as succinctly put in two lines of Persian poetry: کہ بےحکم شرع آب خوردن خطاست وگر خون بفتوٰی بریزی رواست Whereas, without an injunction of the Shari` ah, to drink water is a sin, In another case, to shed blood under Fatwa is permissible! Since it is possible to suppress the aggressive might of disbelievers and their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

57. The believers. 58. The believers have been enjoined to say only the best things even in their discussion with the disbelievers and other opponents of their faith. They should neither use harsh words nor make exaggerated statements. They should be cool in their conversation and say only what is true and dignified in spite of the provoking behavior of the opponents. 59. The believers have been forewarned to guard against the provocations of Satan, as if to say: While answering your opponents, if you feel that you are being aroused to anger, you should at once understand that it is Satan who…

Read the full tafseer →