Explained with ayahs 54–55
افضل الانبیاء (علیہ الصلوۃ والسلام)
تمہارا رب تم سے بخوبی واقف ہے وہ ہدایت کے مستحق لوگوں کو بخوبی جانتا ہے۔ وہ جس پر چاہتا ہے رحم کرتا ہے، اپنی اطاعت کی توفیق دیتا ہے اور اپنی جانب جھکا لیتا ہے۔ اسی طرح جسے چاہے بد اعمالی پر پکڑ لیتا ہے اور سزا دیتا ہے۔ ہم نے تجھے ان کا ذمہ دار نہیں بنایا تیرا کام ہوشیار کردینا ہے تیری ماننے والے جنتی ہوں گے اور نہ ماننے والے دوزخی بنیں گے۔ زمین و آسمان کے تمام انسان جنات فرشتوں کا اسے علم ہے، ہر ایک کے مراتب کا اسے علم ہے، ایک کو ایک پر فضیلت ہے، نبیوں میں بھی درجے ہیں، کوئی کلیم اللہ ہے، کوئی بلند درجہ ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبیوں میں فضیلتیں قائم نہ کیا…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 60
یعنی اہل ایمان کی زبان پر کبھی ایسے دعوے نہ آنے چاہییں کہ ہم جنتی اور فلاں شخص یا گروہ دوزخی ہے۔ اس چیز کا فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہی سب انسانوں کے ظاہر و باطن اور ان کے حال و مستقبل سے واقف ہے۔ اسی کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کس پر رحمت فرمائے اور کسے عذاب دے۔ انسان اصولی حیثیت سے تو یہ کہنے کا ضرور مجاز ہے کہ کتاب اللہ کی رو سے کس قسم کے انسان رحمت کے مستحق ہیں اور کس قسم کے انسان عذاب کے مستحق۔ مگر کسی انسان کو یہ کہنے کا حق نہیں ہے کہ فلاں شخص کو عذاب دیا جائے گا اور فلاں شخص بخشا جائے گا۔
غالبا یہ نصیحت اس بنا پر فرمائی گئی ہے کہ کبھی کبھی کفار کی زیادتیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
خلاصہ تفسیر
اور آپ میرے (مسلمان) بندوں سے کہہ دیجئے کہ (اگر کفار کو جواب دیں تو) ایسی بات کہا کریں جو (اخلاق کے اعتبار سے) بہتر ہو (یعنی اس میں سب و شتم اور تشدد اور اشتعال انگیزی نہ ہو کیونکہ) شیطان (سخت بات کہلوا کر) لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے واقعی شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے (اور وجہ اس تعلیم کی یہ ہے کہ سختی سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور ہدایت و گمراہی تو مشیت ازلیہ کے تابع ہے) تم سب کا حال تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے (کہ کون کس قابل ہے بس) اگر وہ چاہے تو تم (میں سے جس) پر (چاہے) رحمت فرما دے (یعنی ہدایت کر دے) یا اگر وہ چاہے تو تم (میں سے جس) کو (چاہے) عذاب دینے لگے (یعنی اس کو توفیق…
Read the full tafseer →رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ ۭ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ ۭ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا۔
دعوت کے معاملہ میں مومنین کی ذمہ داری : یہ دعوت کے معاملے میں مومنین اور پیغمبر کی ذمہ داری کی حد واضح فرمادی تاکہ کفار کے معاندانہ رویے سے ان کے دل تنگ نہ ہوں۔ فرمایا کہ یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ کون رحمت کا مستحق ہے اور وہ ہدایت پا کر رحمت کا مستحق ہوگا اور کون عذاب کا مستح ہے اور وہ گمراہی پر جما رہے گا اور عذاب کا سزاوار ٹھہرے گا۔ پیغمبر اور اس کے ساتھیوں کی ذمہ داری صرف دعوت کو پہنچا دینے کی ہے۔ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لازماً سب کو مومن بنا ہی دیں۔ مطلب…
Read the full tafseer →54۔ 1 اگر خطاب مشرکین سے ہو تو رحم کے معنی قبول اسلام کی توفیق کے ہونگے اور عذاب سے مراد شرک پر ہی موت ہے، جس پر وہ عذاب کے مستحق ہوں گے۔ اور اگر خطاب مومنین سے ہو تو رحم کے معنی ہوں گے کہ وہ کفار سے تمہاری حفاظت فرمائے گا اور عذاب کا مطلب ہے کفار کا مسلمانوں پر غلبہ و تسلط۔
54۔ 2 کہ آپ انھیں ضرور کفر کی دلدل سے نکالیں یا ان کے کفر پر جمے رہنے پر آپ سے باز پرس ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
28: اس آیت میں مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ جب ان کی کافروں کے ساتھ گفتگو ہو تو ان کے ساتھ بھی خوش اسلوبی کے ساتھ بات کیا کریں کیونکہ غصے کے عالم میں سخت قسم کی باتوں سے فائدے کے بجائے نقصان ہوتا ہے اور ایسی باتیں شیطان اس لئے کہلواتا ہے کہ ان سے فساد پیدا ہو۔
Read the full tafseer →بےقید علم اللہ ہی کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جامع علم کی بنا پر لوگوں کے ساتھ رحیمانہ سلوک کرے گا یا عذاب دے گا۔ جہاں تک رسول کا تعلق ہے تو لوگوں تک پیغام پہنچانے کے بعد اس کی ڈیوٹی ختم ہوجاتی ہے۔
اللہ کا جامع علم آسمان اور زمینوں کے درمیان موجود تمام مخلوقات کے ساتھ وابستہ ہے ، خواہ ملائکہ ہوں ، جن ہوں ، انس ہوں یا دوسری مخلوقات جن کو اللہ کے سوا ابھی تک کوئی نہیں جانتا۔ نہ اس مخلوق کی مقدار سے لوگ باخبر ہیں نہ اس کی اہمیت سے بیخبر ہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کا علم اپنی مخلوقات کے بارے میں مکمل ہے ، اس لئے اس نے اپنے علم ہی کی بنا پر بعض انبیاء پر بعض کو فضیلت دی ہے۔
Read the full tafseer →6 مشرکین کی جہالت اور طعن و تمسخر کو سن کر ممکن تھا کوئی مسلمان نصیحت و فہمائش کرتے وقت تنگ دلی برتنے لگے اور سختی پر اتر آئے اس لیے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی کہ مذاکرہ میں کوئی سخت دل آزار اور اشتعال انگیز پہلو اختیار نہ کریں۔ کیونکہ اس سے بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے۔ شیطان دوسرے کو ابھار کر لڑائی کرا دیتا ہے۔ پھر مخاطب کے دل میں ایسی ضد و عداوت قائم ہوجاتی ہے کہ سمجھتا ہو تب بھی نہ سمجھے۔
7 یعنی رحم کرے ایمان کی توفیق دے کر، یا عذاب دے حالت کفر پر مار کر۔
Read the full tafseer →وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا
ہدایت کو قبول کرنا یا نہ کرنا ہر شخص کا ذاتی معاملہ اور ذاتی انتخاب ہے۔ آپ ان تک پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں انہیں ہدایت پر لانے کے مکلف نہیں۔
Read the full tafseer →66 کوئی شخص کسی کو نجات اخروی کی ضمانت نہیں دے سکتا :۔ ہم یوں تو کہہ سکتے ہیں جو اللہ کے فرمانبردار ہیں وہ جنت میں اور نافرمان دوزخ میں جائیں گے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں (معین) شخص جنت میں یا دوزخ میں جائے گا۔ نہ ہی اپنے متعلق کوئی شخص ایسا دعویٰ کرسکتا ہے اور نہ کوئی فرقہ یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ ضرور جنت میں جائے گا۔ اس لیے کہ ہر ایک کی حقیقت حال اور اس کا انجام صرف اللہ ہی کو معلوم ہے حتیٰ کہ نبی آخر الزمان بھی کسی کی ہدایت اور اخروی نجات کے ضامن نہیں ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا خارجہ بن زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ام العلاء ایک انصاری عورت تھی جس نے رسول اللہ سے بیعت…
Read the full tafseer →78۔ (پھر آپ کو ان کے لئے اتنا زیادہ فکر مندرہنا کیا ضرور ہے) (آیت) ” ربکم اعلم بکم “۔ وہی سب سے خوب واقف ہے کہ کون کس قابل ہے۔ (آیت) ” ان یشایرحمکم “۔ اگر اس کی مشیت تکوینی یہی ہوگی تو تمہیں توفیق ہدایت دے دے گا اور یہی تمہارے حق میں اس کا بڑا فضل ہے۔ (آیت) ” ان یشایعذبکم “۔ اگر اس کی مشیت تکوینی یہی ہوگی تو تم سے توفیق ہدایت سلب ہوجائے گی، اور یہی تمہارے حق میں اس کا بڑا عذاب ہے۔ آیت میں ان اہل حق کیلئے تسکین کا بڑا سامان موجود ہے۔ جو اہل باطل سے مناظرہ ومذاکرہ میں مشغول رہتے ہیں۔ اور طبعا اس پر جھنجھلا اٹھتے ہیں کہ اہل باطل کیسا حق صریح کو چھوڑے ہوئے ہیں۔ کسی کے راہ ہدایت پر آنے نہ آنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
آیت نمبر 53 تا 60
ترجمہ : اور میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ کفار سے اچھی بات کہو بلاشبہ شیطان ان کے درمیان فساد ڈلواتا ہے، یقیناً شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، یعنی اس کی عداوت بالکل ظاہر ہے، اور وہ کلمہ جو بہتر ہے وہ یہ کہ ” تمہارا رب تمہارے بارے میں تمہاری بہ نسبت بہت زیادہ جانتا ہے، اگر وہ چاہے تو توبہ اور ایمان کے ذریعہ تمہارے اوپر رحم فرمائے یا اگر تم کو عذاب دینا چاہے تو تم کو کفر پر موت دے کر تم کو عذاب دے اور ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ آپ ان کو ایمان پر مجبور کریں اور یہ حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اور وہ آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کے بارے میں بخوبی جانتا ہے اور ان…
Read the full tafseer →رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ ۭ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ : تمہارا رب تمہارے احوال سے خوب
واقف ہے وہ اگر چاہے گا تو (ایمان کی توفیق دے کر) تم پر رحم کرے گا یا اگر چاہے گا تو (حالت کفر پر تمہارا خاتمہ کر کے) تم کو عذاب دے گا۔
ابن جریج نے کہا یہ آیت التی ہی احسنا کی تشریح ہے (یعنی کلمۂ احسن بکم اعلم۔۔ ہے)
درمیانی کلام بطور جملۂ معترضہ کے ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ کافروں سے تم یہ بات کہو کہ تمہارا رب تمہارے احوال سے بخوبی واقف ہے۔ تم ان سے گالی گلوچ نہ کرو اور جاہلانہ جواب نہ دو اور صراحتہً ان کو دوزخی نہ کہو۔ اس سے شر بڑھے گا ‘ پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ جو اس وقت کافر ہیں ان…
Read the full tafseer →(54) تمہارا پروردگار تمہاری صلاحیتوں کو خوب جانتا ہے اگر وہ چاہے تو تمہیں اہل مکہ سے نجات دے دے اور وہ چاہے تو ان لوگوں کو تم پر مسلط کر دے اور ہم نے آپ کو ان لوگوں کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا کہ ان کے ایمان نہ لانے پر آپ سے کچھ باز پرس ہو۔
Read the full tafseer →رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کو تمہارے متعلق علم اس سے بھی کہیں زیادہ ہے جتنا خود تمہیں اپنے متعلق ہے، اب اگر وہ چاہے تو تمہاری نامناسب باتوں اور کاموں کے باوجود اپنے فضل سے تم پر رحم فرمائے، چاہے تو تمہارے گناہوں کی پاداش میں اپنے عدل کی بنا پر عذاب دے۔ وہ ہر چیز کا مالک ہے، اپنی ملکیت کے ساتھ جو چاہے کرے، نہ اس میں کوئی ظلم ہے اور نہ کسی کو اس سے پوچھنے کی جرأت ہے۔ دیکھیے سورة انبیاء (23)۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا : ”وَكِيْلًا“ بمعنی ”اَلْمَوْکُوْلُ إِلَیْہِ“ ہے، یعنی جس کے سپرد کیا جائے، ذمہ دار بنایا جائے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 54
قولہ تعالیٰ : ربکم اعلم بکم ؕان یشایرحکم او ان یشا یعذبکم یہ خطاب مشرکین کو ہے، اور اس کا معنی ہے : اگر چاہے تو تمہیں اسلام کی ترفیق عطا فرمادے اور تم پر رحم وکرم فرمادے، یا تمہیں شک پر موت دے دے اور تمہیں سزا اور عذاب میں مبتلاکردے : یہ ابن جریج نے کہا ہے۔ اور أعلم بمعنی علیم (خوب جاننے والا) ہے، جیسا کہ ان کا قول : اللہ اکبر میں اکبر بمعنی کبیر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خطاب مومنین کے لئے ہے، یعنی اگر وہ چاہے تو تم پر رحم وکرم فرمائے اس طرح کہ وہ کفار مکہ سے تمہیں محفوظ رکھے، یا اگر وہ چاہے تو وہ تمہیں ان کو تم پر مسلط کرکے سزا دے : یہ کلبی نے کہا ہے۔ ومآ ارسلنک علیھم وکیلاً…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ربکم اعلم بکم ان یشایرحکم “ (یعنی اگر تم پر اللہ رحم فرمائیں گے) تو تم ایمان لے آؤ گے (آیت) ” اویشایعذبکم “ (اور اگر تم کو عذاب دینا چاہیں گے) تو تم شرک پر مروگے جیسے تم پہلے مشرک تھے۔
Read the full tafseer →[رَبُّكُمْ : تم لوگوں کا رب ] [اَعْلَمُ : سب سے زیادہ جاننے والا ہے ] [بِكُمْ : تم لوگوں کو ] [ان : اگر ] [يَّشَاْ : وہ چاہے گا ] [يَرْحَمْكُمْ : تو وہ رحم کرے گا تم لوگوں پر ] [اَوْ : یا ] [ان : اگر ] [يَّشَاْ : وہ چاہے گا ] [يُعَذِّبْكُمْ : تو وہ عذاب دے گا تم لوگوں کو ] [وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : اور ہم نے نہیں بھیجا آپ ﷺ کو ] [عَلَيْهِمْ : ان پر ] [وَكِيْلًا : کوئی نگہبان (بنا کر)]
نوٹ۔ 1: زیر مطالعہ آیت۔ 54 میں دعوت کے معاملے میں مومنین اور پیغمبر ﷺ کی ذمہ داری کی حد واضح فرما دی۔ فرمایا کہ یہ خدا ہی کو معلوم ہے کہ کون رحمت کا مستحق ہے اور وہ ہدایت پا کر رحمت کا مستحق ہوگا اور کون عذاب کا…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِکُمْ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْکُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْکُمْ ) یعنی تمہارا رب تمہیں خوب جانتا ہے اگر چاہے تم پر رحم فرمائے یا اگر چاہے تم کو عذاب دے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ مسلمان مشرکین سے یہ بات کہیں کہ ایمان کی توفیق دیکر رحم فرمانا یا کفر پر موت دیکر عذاب دینا یہ سب تمہارے رب کی مشیت کے تحت ہے یہ ایک عمومی بات کافروں اور مشرکوں سے کہی جائے تو وہ اس میں غور کریں گے اگر بالتصریح یوں کہو گے کہ تم دوزخی ہو تو ممکن ہے کہ وہ مزید دور کرنے کا ذریعہ بن جائے عام مضمون مومنین اور کافرین کے لیے ہو اس میں کوئی بعد نہیں۔
پھر فرمایا (وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
تلقین حسن خطاب با اہل کتاب و جوابات از شبہات مشرکین
قال اللہ تعالیٰ : وقل لعبادی یقولوا التی ہی احسن .... الیٰ .... الا طغیانا کبیرا۔
(ربط) توحید اور قیامت کی حقانیت پر دلائل قائم کرکے مسلمانوں کو تعلیم فرماتے ہیں کہ مخالفین سے جب بحث کی نوبت آئے تو الفاظ نرم ہونے چاہیں کیونکہ سختی سے بسا اوقات سب و شتم کی نوبت آجاتی ہے اور شیطان باہمی نفرت اور عداوت کا ذریعہ بن جاتا ہے اور مخالف ضد پر اتر آتا ہے ایسی ھالت میں دعوت و تبلیغ بےسود ہوجاتی ہے۔ بعد ازاں مشرکین کے چند شبہات کے جوابات دئیے جو نہایت نرم ہیں اور باوجود نرم ہونے کے نہایت محکم ہیں۔ چناچہ فرماتے ہیں اور اے نبی ﷺ ! میرے بندوں یعنی…
Read the full tafseer →52:۔ اس میں التفات ہے غیبت سے خطاب کی طرف اشارہ ہے کیونکہ مراد مشرکین مکہ ہیں مگر تعمیم کے لیے صیغہ خطاب سے تعبیر کیا گیا کہ اے ایمان والو ! اور اے مشرکینِ مکہ ! تم سب کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں عقیدے کے بارے ہیں اہم مضامین کا ذکر ہوچکا ہے ، اللہ نے مشرکین کا رد فرمایا ، کفار کی مذمت بیان فرمائی اور رسالت کے متعلق شکوک و شبہات کے جوابات دیے اس کے بعد قیامت کا مسئلہ بیان کیا کہ لوگ اس کو بعید خیال کرتے ہو مگر ممکن ہے یہ قریب ہی ہو پھر فرمایا جب قیامت برپا ہوگی اور اللہ تعالیٰ ان کو بلائے گا تو یہ خدا کی تعریف کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑ کر آئیں گے مگر اس وقت اللہ تعالیٰ کی بات کو قبول کرنے اور اس کی حمد بیان کرنے کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا ۔
(شائستہ بات)
اب آج کی آیات میں حضور نبی کریم ﷺ کو خطاب کرکے اہل ایمان کو اچھا اخلاق اختیار کرنے کی تعلیم دی جا رہی ہے مشرکین…
Read the full tafseer →رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ ۭ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ ۭ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا 54
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
ترکیب : ایہم مبتدا اقرب خبرہ وھو استفہام والجملۃ فی موضع نصب بیدعون۔ وقیل۔ اولئک مبتدا الذین یدعون ای یدعونھم الکفار صفت یبتغون خبر ایھم بدل من واو یبتغون فعل الاول معناہ ان الھتھم اولئک یبتغون الوسیلۃ و ھی الی اللہ تعالیٰ و ایھم بدل ای یبتغی من ھو اقرب فھم و ازلف الوسیلۃ فکیف بغیر الاقرب اوضمن یبتغون معنی یحرصون ای یحرصوں ربھم یکون اقرب الی اللہ بالطاعۃ والصلاح۔
تفسیر : ثبوت معاد پر حجت قائم کر کے مسلمانوں کو تعلیم کرتا ہے کہ تم مخالفوں سے نرم اور اچھی باتیں کیا کرو کیونکہ سختی سے شیطان باہم عداوت و نفرت پیدا کردیتا ہے وہ انسان کا دشمن ہے اور وہ اچھی بات یہ ہے کہ تمہارا رب تم سے خوب واقف ہے…
Read the full tafseer →رَبُّـکُمْ اَعْلَمُ بِکُمْ ط اِنْ یَّشَایَرْحَمْکُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْکُمْ ط وَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْھِمْ وَکِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 54)
(تمھارا رب تمہیں خوب جانتا ہے، اگر چاہے تو تم پر رحم کرے اور اگر چاہے تو تم کو عذاب دے، اور ہم نے آپ ﷺ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ )
حکمتِ تبلیغ
گزشتہ آیت کریمہ میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ کے واسطے سے مسلمانوں کو جو ہدایت جاری فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ مسلمانوں کو مخالفین کی باتوں اور اذیتوں سے اثر لینے اور اس پر کسی ردعمل کا اظہار کرنے کی بجائے اپنی ساری توجہ تبلیغ و دعوت پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ آپ کو ہر بات کہنے اور ہر کام کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے داعی کو صبر و استقامت اور حسن گفتار کا حکم دیا گیا ہے۔ اب دوسرے انداز میں داعی کو یہ حقیقت سمجھائی گئی ہے کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور اس نے اپنے رسول کو الداعی بناکر بھیجا ہے۔ کسی پر چوکیدار بنا کر مبعوث نہیں فرمایا۔ لہٰذا داعی کو لڑنے جھگڑنے کی بجائے اپنا کام اچھے انداز میں کرتے رہنا چاہیے۔
اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا کہ تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کس پر کرم فرمانا چاہیے اور کس کو اس کے گناہوں اور جرائم کی سزا ملنی چاہیے۔ آپ کا رب زمینوں آسمانوں کی ہر چیز کی پوری طرح خبر رکھے ہوئے ہے۔ اسی نے بعض انبیاء کو ایک دوسرے پر فضیلت عنایت فرمائی۔…
Read the full tafseer →جس کی قسمت میں ایمان مل جائے گا :
54: یا الَّتیِ ہِیَ اَحْسَنُکی تفسیر اس ارشاد سے فرمائی۔ رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِکُمْ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْکُمْ (تمہارا رب تعالیٰ تمہارے احوال سے خوب واقف ہے اگر چاہے گا تو تم پر رحم فرمائے گا) ہدایت اور ایمان کی توفیق دیکر اَوْاِنْ یَّشَاْ یُعَذِّ بْکُمْ (یا اگر وہ چاہے گا تم کو عذاب دے گا) رسوائی کے ساتھ۔ مطلب یہ ہے مسلمان ان کو یہ اور اس قسم کے کلمات کہیں اور اس طرح نہ کہیں کہ تم جہنمی ہو اور تمکو عذاب دیا جائے گا وغیرہ جن سے وہ شر پر بھڑک اٹھیں اور ناراض ہوں۔
نحو : ان الشیطان ینزغ بینہم یہ جملہ معترضہ ہے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ وَکِیْلًا (اور ہم نے آپ…
Read the full tafseer →54۔” ربکم اعلم بکم ان یشائر حمکم “ تم کو اللہ توفق دے کہ تم ان پر ایمان لے آئو ۔” او ان یشایعذبکم “ تمہیں شرک کی حالت میں موت دے دے اور تم کو عذاب دے۔ یہ ابن جریج کا قول ہے ۔ کلبی کا بیان ہے کہ یہ خطاب اللہ کی طرف سے مؤمنوں کو ہے یعنی اگر اللہ چاہے گا تو مکہ والوں کے پنجہ سے تم کو بچالے گا اور چاہے گا تو تم کو اپنے ہاتھوں سے دکھ دے گا ۔” وما ارسلناک علیھم وکیلا ً “ حفاظت کرنے والا کفیل ہے۔ بعض نے کہا یہ آیت قتال سے منسوخ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
54۔ 55:۔ اوپر کی آیت میں مسلمانوں کو سخت کلامی سے منع فرما کر اس کے بعد اب مشرکوں کا حال بیان فرمایا کہ اے رسول اللہ کے مشرکین مکہ میں کے کچھ لوگ راہ راست پر نہ آویں تو اس کا کچھ بوجھ بار تمہارے ذمہ نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب میں جس طرح بعضے نبیوں کی بزرگی اور فضیلت بعضوں پر ٹھہر چکی ہے اسی طرح یہ بات بھی ٹھہر چکی ہے کہ ان مشرکوں میں سے کچھ لوگ راہ راست پر آکر اللہ کی رحمت کے قابل ٹھہریں گے اور کچھ حالت کفر پر مر کر عذاب کے مستحق ہونگے۔ بدر کی لڑائی میں ابوجہل کا کفر کی حالت پر مرنا اور فتح مکہ پر ابوسفیان کا اسلام کی فضیلت کو حاصل کرنا مشرکین مکہ کی اس حالت کی تفسیر ہے جس کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
(آیت نمبر (45
اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–59
دنیا میں انسان کا قیام بہت تھوڑا ہے
قول باری ہے (وتظنون ان لبثتم الا قلیلاً اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں) حسن کا قول ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی مدت کے متعلق یہ گمان کرو گے اس لئے کہ آخرت میں تمہارے رہنے کی مدت بڑی طویل ہوگی جس طرح یہ قول ہے ۔ ” تم دنیا میں اتنی تھوڑی مدت کے لئے رہو گے کہ گویا رہے ہی نہیں اور آخرت کی مدت کو دیکھ کر کہو گے کہ گویا ہمیشہ سے یہیں رہتے ہے۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ آخرت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان کی نظروں میں دنیا انتہائی حقیر ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →96۔ رب اگر چاہے تو تم پر رحم فرما دے :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” تمہارا رب تمہیں اور تمہارے ظاہر وباطن کو پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے۔ پس وہ اگر چاہے تو تم پر رحم فرما دے۔ “ اور تم کو ہدایت و ایمان کی دولت سے نواز دے جبکہ تمہارے دلوں میں اس کیلئے طلب صادق پائی جائے اور تمہارے دلوں کا حال دنیا سے تو پوشیدہ اور مخفی رہ سکتا ہے لیکن تمہارے اس خالق ومالک سے مخفی ومستور نہیں رہ سکتا جو کہ دلوں کے حال کو پوری طرح جاننے والا اور علیم بذات الصدور ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لئے تمہیں ہمیشہ اسی کی فکر و کوشش میں رہنا چاہئے کہ اس کے ساتھ ہمارا معاملہ اور تعلق صحیح اور درست رہے کہ اس کی رضاء و خوشنودی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
اللہ کا حکم نبی کے لیے
تشریح : ان آیات میں سخت کلامی سے منع کیا گیا ہے کیونکہ سخت بات کے بعد پھر جھگڑا کھڑا ہوسکتا ہے۔ آپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ہدایت کا پیغام پہنچا دیں بس۔ اس کے بعد آپ کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–60
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
آپ میرے بندوں یعنی مسلمانوں سے کہئے کہ بات خوبصورت انداز میں کیا کریں اس میں سختی یا سب وشتم نہ ہو کہ سب وشتم سے یا سخت کلامی سے شیطان کو فساد پھیلانے کا موقع ملتا ہے اور انسانوں کو آپس میں لڑاتا ہے تو بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے ۔
(عام گفتار میں بھی اور دینی تبلیغ میں بھی سخت کلامی درست نہیں خواہ بات کفار ہی سے کیوں نہ کی جائے)
مسلمانوں کو آپس میں تو بات زیب ہی اخلاق سے دیتی ہے اور پھر جب بات دین کی وہ اور اللہ جل جلالہ اور اس کے نبی ﷺ کے حوالے سے کی جائے تو اور زیادہ محتاط لب و لہجہ ضروری ہے ، خواہ مخاطب بدکار اور بےدین ہی کیوں نہ ہو یہ بات بات پہ دوسروں کو…
Read the full tafseer →ف 7 اس سے مقصود آنحضرت کو تسلی دینا ہے کہ اگر یہ راہ ہدایت پر نہ آئیں تو آپ غم نہ کریں کیونکہ راہ ہدایت پر لانا آپ کا کام نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
(17:54) یرحمکم اور یعذبکم میں مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط کے ہے۔ وکیلا۔ صفت مشبہ منصوب۔ کارساز۔ ذمہ دار۔
زعمتم۔ ای ادعوا الذین تعبدون من دون اللہ وزعمتم انہم الھۃ۔ بلائو ان کو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو اور جنہیں تم گمان کرتے ہو کہ وہ خدا ہیں۔ زعمتم۔ زعم مصدر (باب نصر) تم نے زعم کیا۔ تم نے گمان کیا۔ تم نے سمجھا۔
تحویلا۔ تحویل مصدر بروزن تفعیل۔ تبدیلی ۔ تغیر۔ تفاوت۔ حال یحرک (نصر) حائل ہونا بیچ میں آپڑنا۔ حول کے معنی کسی شے کے متغیر ہونے اور دوسرے سے جدا ہونے کے ہیں۔ چونکہ بیچ میں آپڑنے سے جدائی ضروری ہے اس لئے اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ حول بمعنی سال بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
لغات القرآن آیت نمبر 53 تا 55
احسن بہترین۔ ینزغ فساد ڈالتا ہے۔ عدو دشمن۔ مبین کھلا ہوا۔ اعلم زیادہ جانتا ہے۔ یرحم وہ رحم کرتا ہے۔ یعذب وہ عذاب دیتا ہے، عذاب دے گا۔ فضلنا ہم نے فضیلت دی۔ بڑائی دی۔
تشریح : آیت نمبر 53 تا 55
شیطان جو انسان کا کھلا ازلی دشمن ہے اس کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ دو بھائی آپس میں محبت پیار اور میل ملاپ کے ساتھ نہ رہیں بلکہ اختلافات اور جھگڑوں میں الجھے رہیں تاکہ اس جگہ سے اللہ کی رحمتیں اٹھ جائیں۔ اختلافات کی ابتداء ہمیشہ غیر سنجیدہ گفتگو سے ہوتی ہے جوب ڑھتے بڑھتے اپنی انتہاؤں تک پہنچ جاتی ہے اور ایک دوسرے کو قتل تک کرنے سے باز نہیں آتے اور اس طرح اصلاح و تربیت کا جو…
Read the full tafseer →اس آیت میں مشرکوں سے یہ خطاب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہیں گے تو عذاب دینا تم پر سے ٹال دیں گے اور اگر چاہیں گے تو دنیا میں بھی عذاب کریں گے اور اے محمد ﷺ ! تم کافروں کے ذمہ دار نہیں۔ ہم نے تم کو ضامن نہیں کیا “۔
Read the full tafseer →[40] بعض مسلمانوں نے مشرکین سے کہا تھا کہ تم جہنمی ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو اس بات سے روکا گیا کہ تعین کے ساتھ کسی انسان یا جماعت کو کہیں کہ تم جہنمی ہو کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ کس کا خاتمہ کس پر ہونے والا ہے۔ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بات حق ہے اور یہ حق نہیں لیکن کسی خاص جماعت یا فرد کی نسبت حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ یہ ضرور جہنمی ہے۔ اس چیز کا فیصلہ کرنا اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہی سب انسانوں کے ظاہر و باطن سے واقف ہے۔
[41] یعنی نبی کا کام لوگوں کو راہ حق کی طرف بلانا ہے۔ لوگوں کی قسمتیں اس کے ہاتھ میں نہیں دے دی گئی ہیں کہ کسی کے حق میں رحمت کا اور کسی کے حق میں عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
(ف 1) مکہ والوں کا ایک شبہ آپ کی تعلیمات کے متعلق یہ تھا کہ اس میں حشر ونشر کے کوائف کا ذکر ہے ، وہ کہتے تھے ، یہ کیونکر ممکن ہے ، کہ مرا ہوا انسان جی اٹھے ، اور مردہ ہڈیوں میں حرکت وعمل پیدا ہوجائے ان کے خیال میں یہ زندگی جب ختم ہوجائے تو پھر اس کا اعادہ نہیں ہو سکتا ، اور ہم ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سو جاتے ہیں ، قیامت اور حشراجساد کا عقیدہ ان کے لئے نہایت حیرت انگیز تھا ۔
قرآن حکیم فرماتا ہے ، تمہیں اس میں کیا اعتراض ہے ، کیا اللہ نے تم کو کتم عدم سے لا کر وجود کی دنیا میں آباد نہیں کیا ہے ، کیا اس نے تمہیں بغیر کسی مادی ذریعہ کے پیدا نہیں کیا ؟ جب اسی نے اس سے پہلے تمہیں پیدا کیا تھا ، تو…
Read the full tafseer →-54 تم سب کا حال تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے اگر وہ چاہے تو تم پر رحم فرمائے اور اپنی رحمت تم پر فرما دے اگر وہ چاہے تو تم کو عذاب کر دے اور تم کو رحمت سے دور کر دے اور ہم نے اسے پیغمبر آپ کو ان پر کوئی مختار اور ذمہ دار مقرر کر کے نہیں بھیجا۔ منکروں کی ضد بحث پر کبھی کبھی تبلیغ کرنے والوں کو غصہ آجاتا ہے کہ یہ لوگ حق بات کو نہیں مانتے۔
اس کی اصلاح فرمائی کہ تم غصہ نہ کیا کرو ہر شخص کی اہلیت اور قابلیت کو تمہارا پروردگار جانتا ہے وہ اگر چاہے تو تم کو ہدایت کی توفیق دے کر رحم فرمائے اور چاہے تو ہدایت کی توفیق سے محروم کر دے اور عذاب کرے۔ آخر میں نبی کریم ﷺ کو خطاب فرما کر ذمہ داری کی نفی…
Read the full tafseer →ف 7۔ مراد اس سے بےضرورت سختی کرتا ہے، جیسا کہ اکثر مجادلات میں ہوجاتی ہے ورنہ ضرورت اور مصلحت کے موقع پر اس سے زیادہ قتال تک کی اجازت ہے۔
Read the full tafseer →عذاب وثواب کے لئے قانون الہی کام کرتا جارہا ہے اس سے تمہارا کچھ پوشیدہ نہیں :
68۔ گزشتہ حکم کے ساتھ اس کو بھی ملا کر پڑھو اس آیت میں اعلان فرمایا کہ (آیت) ” ربکم اعلم بکم “ تمہارا پروردگار تمہاری حالت سے خوب واقف ہے اور یہ کام اس کا ہے کہ جس کو چاہے اپنے قانون کے مطابق ہدایت دے اور جسے چاہے اپنے قانون کے مطابق آگ میں ڈال دے ، جس طرح بندہ کا کام اللہ کے ذمہ نہیں اسی طرح اللہ کا کام بندہ کو اپنے ذمہ نہیں لینا چاہئے یقینا اللہ کے ہاں اندھیر کھاتہ نہیں وہ ہدایت دے گا تو اس کو جو ہدایت کے قابل ہوگا اور آگ میں ڈالے گا تو اس کو جو آگ کا مسحق ٹھہرا (آیت) ” وما ارسلنک علیھم وکیلا “۔ اے پیغمبر اسلام !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
Commentary
Using foul or harsh language is not correct, even against infidels
The first verse (53) prohibits Muslims from talking harshly to disbelievers. It means that a hard line should not be taken unnecessarily, and should there be the need, even killing would be in order - as succinctly put in two lines of Persian poetry:
کہ بےحکم شرع آب خوردن خطاست وگر خون بفتوٰی بریزی رواست
Whereas, without an injunction of the Shari` ah, to drink water is a sin,
In another case, to shed blood under Fatwa is permissible!
Since it is possible to suppress the aggressive might of disbelievers and their…
Read the full tafseer →60. This is to warn the believers to refrain from making claims of piety so as to assign Paradise to themselves and Hell to their opponents. It is Allah alone Who has the power to decide these things because He is fully aware of the known and secret and the present and future things about all human beings. It is He Who will decide whether to show mercy to anyone or give chastisement. However, a man may say in the light of the divine Book that a certain kind of human beings deserve mercy and another kind of people incur chastisement but none has any right to say specifically that a particular…
Read the full tafseer →