Al-Israa 17:52

Al-Israa · from ayah 52

17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا ۟۠يَوۡمَ يَدۡعُوۡكُمۡ فَتَسۡتَجِيۡبُوۡنَ بِحَمۡدِهٖ وَتَظُنُّوۡنَ اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

On the Day He will call you and you will respond with praise of Him and think that you had not remained [in the world] except for a little."

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:52

جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آؤ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس دن وه تمہیں بلائے گا تم اس کی تعریف کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے اور گمان کرو گے کہ تمہارا رہنا بہت ہی تھوڑا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کرو گے، اور یہ سمجھ رہے ہو گے کہ تم بس تھوڑی سی مدت (دنیا میں) رہے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جس دن وہ تمہیں بُلائے گا تو تم اس کی حمد کرتے چلے آؤ گے اور سمجھو گے کہ نہ رہے (۱۰۸) تھے مگر تھوڑا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرتے ہوگے کہ تم (دنیا میں) بہت تھوڑا عرصہ ٹھہرے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی تعریف کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور سمجھو گے کہ تم نہیں رہے مگر تھوڑا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس دن وہ تمہیں بلائے گا تو تم اس کی تعریف کرتے ہوئے پکار کے جواب میں حاضر ہوجاؤ گے اور یہ خیال کر رہے ہوگے کہ تم (دنیا میں) تھوڑی ہی دیر ٹھہرے تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس دن وہ تم کو پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کروگے اور تم یہ گمان کروگے کہ تم بس تھوڑی ہی مدت رہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی پکار پر (بلا کسی چوں چرا کے فوراً) چلے آؤ گے اس کی حمد (ثناء) کرتے ہوئے، اور (آج جلدی مچانے والے منکرو، اس روز) تم یہ خیال کرو گے کہ تم بہت ہی کم (مدت اس دنیا میں) رہے تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ اس روز ہوگا جب (اللہ) تمہیں پکارے گا سو تم اس کی حمد کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کرو گے اور تم یہ خیال کرو گے کہ تم بہت ہی کم رہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم (اس کی پکار پر) لبیک کہو گے اس کی حمد کرتے ہوئے اور تم گمان کرو گے کہ تم نہیں رہے مگر بہت تھوڑا (عرصہ)

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم دنیا میں بہت کم مدت رہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

on the Day when He will call you and you will rise praising Him in response to His call, and you will believe that you had lain in this state only for a while."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(It will be) on a day when He will call you, and you will respond praising Him, and you will think you did not stay (on the earth) but for a short while.

— Muhammad Taqi Usmani

(It will be) on a day when He will call you, and you will respond praising Him, and you will think you did not stay (on the earth) but for a short while.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

On the Day when He will call you, and you will answer with (words of) His praise and obedience, and you will think that you have stayed (in this world) but a little while!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

A day when He will call you and ye will answer with His praise, and ye will think that ye have tarried but a little while.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

On the Day He will call you and you will respond with praise of Him and think that you had not remained [in the world] except for a little."

— Saheeh International

On the day when He will call you, you will answer Him with praise and think that you have tarried for only a little while."

— Muhammad Sarwar

On the day when He will call you forth, then shall you obey Him, giving Him praise, and you will think that you tarried but a little (while).

— Muhammad Habib Shakir

The Day whereon He will call you, and ye will answerl with His praise, and ye will imagine that ye had tarried but little.

— Abdul Majid Daryabadi

"It will be on a Day when He will call you, and ye will answer (His call) with (words of) His praise, and ye will think that ye tarried but a little while!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–52

سب دوبارہ پیدا ہوں گے کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہوجائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے ؟ سورة نازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے ؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں ؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔ سورة یاسین میں ہے کہ یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ الخ پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 56 یعنی دنیا میں مرنے کے وقت سے لے کر قیامت میں اٹھنے کے وقت تک کی مدت تم کو چند گھنٹوں سے زیادہ محسوس نہ ہوگی۔ تم اس وقت یہ سمجھو گے کہ ہم ذرا دیر سوئے پڑے تھے کہ یکایک اس شور محشر نے ہمیں جگا اٹھایا۔ اور یہ جو فرمایا کہ تم اللہ کی حمد کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہو گے، تو یہ ایک بڑی حقیقت کی طرف ایک لطیف اشارہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن اور کافر، ہر ایک کی زبان پر اس وقت اللہ کی حمد ہوگی۔ مومن کی زبان پر اس لیے کہ پہلی زندگی میں اس کا اعتقاد یقین اور اس کا وظیفہ یہی تھا۔ اور کافر کی زبان پر اس لیے کہ اس کی فطرت میں یہی چیز ودیعت تھی، مگر اپنی حماقت سے وہ اس پر پردہ ڈالے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل (آیت) يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ لفظ يَدْعُوْكُمْ دعاء سے مشتق ہے جس کے معنے آواز دے کر بلانے کے ہیں اور معنے یہ ہیں کہ جس روز اللہ تعالیٰ تم سب کو محشر کی طرف بلائے گا اور یہ بلانا بواسطہ فرشتہ اسرافیل کے ہوگا کہ جب وہ دوسرا صور پھونکے گے تو سب مردے زندہ ہو کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زندہ ہونے کے بعد سب کو میدان حشر میں جمع کرنے کے لئے آواز دی جائے (قرطبی) اور حدیث میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے روز تم کو تمہارے اپنے اور باپ کے نام سے پکارا جائے گا اس لئے اپنے نام اچھے رکھا کرو (بیہودہ ناموں سے پرہیز کرو) (قرطبی) محشر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا۔ اب یہ ان کو براہ راست خطاب کر کے فرمایا کہ آج تو بہت اکڑتے ہو لیکن اس دن کو یاد رکھو جس دن پکار ہوگی اور تم اس پکار پر خدا کی حمت کرتے ہوئے دوڑو گے۔ اس دن سارے حجابات چاک ہوجائیں گے اور ایک ایک حقیقت آنکھوں سے نظر آجائے گی۔ نیز یہ مدت جو تمہارے اور قیامت کے درمیان حائل ہے اور تمہیں بہت طویل نظر آرہی ہے، اس دن ایسا محسوس کروگے کہ ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو مرا بس سمجھو کہ اس کی قیامت سر پر کھڑی ہے اس لیے کہ برزخ میں جو زندگی گزرے گی اس کا کوئی احساس باقی نہیں رہے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52۔ 1 ' بلائے گا ' کا مطلب ہے قبروں سے زندہ کر کے اپنی بارگاہ میں حاضر کرے گا، تم اس کی حمد کرتے ہوئے تعمیل ارشاد کرو گے یا اسے پہچانتے ہوئے اس کے پاس حاضر ہوجاؤ گے۔ 52۔ 2 وہاں یہ دنیا کی زندگی بالکل تھوڑی معلوم ہوگی۔ کانھم یوم یرونھا لم یلبثوا الا عشیۃ او ضحہا۔ النازعات۔ جب قیامت کو دیکھ لیں گے، تو دنیا کی زندگی انھیں ایسے لگے گی گویا اس میں ایک شام یا ایک صبح رہے ہیں ' اسی مضمون کو دیگر مقامات میں بھی بیان کیا گیا ہے بعض کہتے ہیں کہ پہلا صور پھونکیں گے تو سب مردے قبروں میں زندہ ہوجائیں گے۔ پھر دوسرے صور پر میدان محشر میں حساب کتاب کے لئے اکٹھے ہونگے۔ دونوں صور کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–52

27: اشارہ اس طرف ہے کہ کسی چیز کو پہلی بار عدم سے وجود میں لانا زیادہ مشکل ہوتا ہے اس کے بر خلاف ایک مرتبہ پیدا کرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا۔ جس خدا نے پہلی بار پیدا کرنے کا زیادہ مشکل کام اپنی قدرت سے انجام دیا ہے، اس کے بارے میں یہ ماننے میں کیا دشواری ہے کہ وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یوم یدعو کم فتستحیبون بحمدہ وتظنون ان لبثتم الا قلیلا (71 : 25) ” جس روز تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس پکار کے جواب میں نکل آئو گے “۔ یہ ان لوگوں کا منظر ہے جو وقع قیامت کے منکر تھے۔ آج وہ لبیک کہتے ہوئے میدان حشر میں چلے آرہے ہیں۔ ان کی زبانوں پر بےساختہ حمدو ثنا جاری ہے ، اور اس کے سوا ان کے ساتھ کوئی سو ال و جواب نہیں ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے سوالات کا یہ عجیب جواب دیا ہے ، یہ لوگ تو اس بات کا انکار کررہے کہ قیامت ہوگی۔ لیکن آج وہ الحمد اللہ ، الحمد اللہ کہتے ہوئے دورے آرہے ہیں۔ آ ج پوری زندگی کی اسکرین اس طرح لپیٹ دی جائے گی جس طرح سایہ سمٹ آتا ہے۔ وتظنون ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی قیامت کا ٹھیک وقت حق تعالیٰ نے کسی کو نہیں بتلایا ہاں اس کے مستقبل قریب میں آنے کی تم امید ظاہر کرسکتے ہو۔ گویا دنیا کی بقیہ عمر اس سے کم ہے جتنی گزر چکی ہے۔ 4 یعنی جس وقت خدا کی طرف سے آواز دی جائے گی ایک ڈانٹ میں سب مردے زمین سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے کسی کو سرتابی کی مجال نہ ہوگی۔ ہر ایک انسان اس وقت مطیع و منقاد ہو کر خدا کی حمد و ثنا کرتا ہوا حاضر ہوگا۔ گو کافر کو اس وقت کی اضطراری حمدو ثنا سے کچھ فائدہ نہیں۔ بعض روایات میں ہے کہ مومنین کی زبان پر یہ الفاظ ہوں گے۔ " الحمد للہ الذی اذہب عنا الحزن "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 52 يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ جب وہ گھڑی آئے گی اور تمہارا خالق تمہیں قبروں سے باہر آنے کے لیے بلائے گا تو تمہاری ہڈیاں اور تمہارے جسموں کے بکھرے ذرات سب سمٹ کر پھر سے زندہ انسانوں کا روپ دھار لیں گے اور تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کی تعمیل میں بھاگے چلے جا رہے ہو گے۔ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا اس وقت تمہیں دنیا اور عالم برزخ قبر میں اپنا بیتا ہوا زمانہ ایسے لگے گا جیسے کہ چند گھڑیاں ہی تم وہاں گزار کر آئے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

63 یعنی جب قیامت آگئی اور اللہ نے تمہیں زندہ کرکے اٹھ کھڑا ہونے اور اپنے پاس حاضر ہونے کا حکم دے دیا تو تم بلا چون و چرا اس کے سامنے از خود حاضر ہوجاؤ گے اور یہ سب باتیں تمہیں بھول جائیں گی۔ پھر اس دن چونکہ سب حجابات اٹھ جائیں گے اور ہر انسان یہ دیکھ رہا ہوگا کہ قادر مطلق تو صرف ایک اللہ کی ذات ہے لہذا تم صرف اللہ کی پکار پر حاضر ہی نہ ہوگے بلکہ اس کی تعریف کے گن گاتے حاضر ہوگے اور اس دن یہ دنیا کی زندگی تمہیں بس ایک سہانا خواب ہی معلوم ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

75۔ (اس دنیا میں اور قبر کے برزخ میں) احساس کا یہ فرق اس روز کی ہیبت وہول سے پیدا ہوگا۔ مراد یہی ہوسکتی ہے کہ منکروں نے چونکہ یہاں سارا وقت سرکشی ونافرمانی میں صرف کیا، وہاں انکشاف حقائق کی گھڑی، یہ سارا وقت تمامتر ضائع شدہ اور معدوم معلوم ہوگا۔ (آیت) ” یوم یدعوکم “۔ یہ پکار فرشتہ کے ذریعہ سے میدان حشر میں جمع ہونے کہ ہوگی۔ (آیت) ’ فتستجیبون بحمدہ “۔ یعنی تعمیل ارشاد اور حمد الہی پر اپنے کو مجبور ومضطر پاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ یہ اس روز ہوگا جس روز اللہ تم کو پکارے گا اور تم (بلا اختیار) اس کی حمد کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کرو گے۔ یعنی اسرافیل کی زبانی جب اللہ تم کو قبروں سے میدان قیامت کی طرف حساب فہمی کے لئے طلب فرمائے گا تو تم (تعمیل حکم اور عمل سے) دعوت کو قبول کرو گے۔ یا (دعوت اور استجابت سے مراد ہے قبروں سے اٹھایا جانا اور اٹھنا اس صورت میں) یہ مطلب ہے کہ اللہ تم کو قبروں سے اٹھائے گا اور تم اٹھو گے ‘ یعنی فوراً حساب فہمی کے لئے اٹھ کر میدان قیامت میں آجاؤ گے۔ بِحَمْدِہٖ کا یہ مطلب ہے کہ قبروں سے اٹھتے وقت تم اللہ کی حمد کرو گے اس وقت اقرار کرو گے کہ اللہ ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) اب اس کے وقت وقوع کو بیان فرماتا ہے کہ یہ اس روز ہوگا جب کہ تمہیں قبروں سے اٹھانے کے لیے حضرت اسرافیل ؑ صور پھونکیں گے اور تم اللہ تعالیٰ کے پکارنے والے فرشتہ کی بحکم الہی تعمیل کرو گے اور تم یہ خیال کرو گے کہ قبر میں ہم بہت ہی کم رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ : یعنی اس کے بلانے پر تم اس کے مطیع و فرماں بردار بن کر اور اس کی حمد کرتے ہوئے قبروں سے اٹھ آؤ گے۔ دنیا کی طرح کسی قسم کی سرکشی اور انکار کے بجائے اللہ کی حمد کرو گے اور اس کے سامنے مکمل اطاعت کا اظہار کرو گے۔ (دیکھیے نحل : 87) یا یہ مطلب ہے کہ تم اس کے بلانے پر حاضر ہوجاؤ گے۔ ”بِحَمْدِهٖ“ کا معنی ”وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ“ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کے بلانے پر تمہارا قبروں سے اٹھ کر حاضر ہوجانا صرف اللہ تعالیٰ ہی کی خوبی ہے، جس پر صرف وہی مستحق حمد و ثنا ہے۔ يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس کی آیت…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 52 قولہ تعالیٰ : یوم یدعوکم فتستجیبون بحمدہٖ ، الدعا سے مراد میدان حشر کی طرف ایسے کلام کے ساتھ بلانا اور ندا دینا ہے جسے تمام سنے گی، اس میں اللہ تعالیٰ انہیں (قبروں سے) نکلنے کے بارے ندا دے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ایسی چیخ ہے جسے وہ سب سنیں گے، پس وہی ان کو قیامت کی زمین میں جمع ہونے کی دعوت ہوگی۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” بیشک قیامت کے دن تمہیں اپنے ناموں اور اپنے باپوں کے ناموں سے بلایا جائے گا اس لئے اپنے نام خوبصورت رکھو۔ “ فتستجیبون بحمدہٖ یعنی اس کے حمد کے مستحق ہونے کے سبب (تم اس کی حمد کرتے ہوئے جواب دو گے) اور ابوسہل نے کہا ہے : مراد الحمد للہ کہنا ہے۔ جیسا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–53

1:۔ ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فتستجیبون بحمدہ “ سے مراد ہے کہ بامرہ (یعنی اس کے حکم سے ) ۔ 2:۔ عبدبن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فتستجیبون بحمدہ “ سے مراد ہے کہ لوگ اپنی قبروں سے نکلیں گے اور وہ کہتے ہوں گے ” سبحنک اللہم بحمدک “۔ 3:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ کہ (آیت) ” یوم یدعوکم فتستجیبون بحمدہ “ یعنی اس کی معرفت اس کی اطاعت کے ساتھ جواب دو گے (آیت) ” تظنون ان لبثتم الا قلیلا “ یعنی جب لوگ قیامت کے دن کو دیکھیں گے تو وہ اپنی عمروں کو بہت کم خیال کریں گے۔ 4:۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَوْمَ : جس دن ] [يَدْعُوْكُمْ : وہ پکارے گا تم لوگوں کو ] [فَتَسْتَجِيْبُوْنَ : پھر تم لوگ جواب دو گے ] [بِحَمْدِهٖ : اس کی حمد کے ساتھ ] [وَتَظُنُّوْنَ : اور گمان کرو گے (کہ)] [ان : نہیں ] [لَّبِثْتم : ٹھہرے تم ] [اِلَّا : مگر ] [قَلِيْلًا : تھوڑا (عرصہ)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–52

منکرین بعث کا تعجب کہ ریزہ ریزہ ہو کر کیسے زندہ ہوں گے، ان کے تعجب کا جواب کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا گزشتہ آیات میں مشرکین کے انکار وحی کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کے انکار بعث کا تذکرہ ہے۔ جب کفار کے سامنے قیامت قائم ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے اور قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہونے اور پیشی اور حساب قائم ہونے کی بات سامنے آئی تو اس کی تکذیب کرنے لگے اور طرح طرح سے حجتیں نکالنے لگے انہوں نے کٹ حجتی کرتے ہوئے یوں بھی کہا کہ جب قبروں میں صرف ہڈیاں ہی رہ جائیں گے اور چورا چورا ہوچکی ہونگی تو کیا ہم دوبارہ نئے سرے سے زندہ ہونگے اور قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ یہ بات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 49–52

اثبات معاد قال اللہ تعالیٰ وقالوا ءاذا کنا عظاما ورفاتا .... الیٰ .... ان لبثتم الا قلیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں الہٰیات اور نبوات کے متعلق کلام فرمایا اب ان آیات میں منکرین قیامت کا ایک شبہ نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں منکرین قیامت یہ کہا کرتے تھے کہ جب آدمی مرجائے گا اور گوشت پوست اس کا گل سڑ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گا تو پھر وہ کیسے زندہ ہوگا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ یہ نوبت آسان ہے جس خدا نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اس خدا کو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ مرنے کے بعد تمہارے اجزاء خواہ ہوا میں اڑ جائیں یا آگ میں جل جائیں یا مٹی میں مل جائیں اللہ تعالیٰ کے خزانہ علم اور احاطہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

50:۔ یہ تخویف اخروی ہے۔ یعنی جس وقت خدا کی طرف سے آواز دی جائے گی تو تمام مردے زندہ ہو کر زمین سے باہر آجائیں گے اور اس وقت ہر انسان اللہ تعالیٰ کا مطیع و منقاد ہوگا اور ہر ایک کی زبان پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا جاری ہوگی اور جب اٹھیں گے تو ہزاروں سالوں کی مدت کو بہت کم سمجھیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–52

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا مشرکین حضور ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو ہمارے جیسا ہی انسان ہے ، بھلا ہم اس کی اتباع کیوں کریں کبھی کہتے کہ اس پر جادو کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ نعوذ باللہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے شکوک و شبہات کا رد فرمایا اور مشرکوں کو غلط ذہنیت کو واضح کیا کہ یہ لوگ محض ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایسے اعتراض کرتے ہیں پھر اللہ نے مسئلہ توحید کے ضمن میں فرمایا اگر ارض وسما کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ بیان کرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر بھی کیا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀ۧ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–52

ترکیب : مستورا و ساترا۔ بما یستمعون بہ ای بسببہ من الھزاء اذ ھم بدل من اذ قبلہ یوم یدعوکم ظرف لیکون بحمدہ فی موضع الحال۔ تفسیر : آسمانوں اور زمین کی چیزوں کی تسبیح تو تم اے مشرکین سمجھتے ہی نہ تھے۔ تمہاری سمجھ میں تو قرآن مجید بھی نہیں آتا جو خاص تمہاری زبان فصیح میں نازل ہوا ہے۔ واذاقرأت الخ اور یہ نہ سمجھنا قرآن کا اس لیے ہے کہ جب تم اے نبی ! قرآن پڑھتے ہو تو ان کی ازلی گمراہی کے پردے بیچ میں حائل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مضامین میں غوروتامل نہیں کرسکتے اور جو کوئی ان کو دوسرا سمجھائے تو سنتے بھی نہیں۔ اور ان کے حواس باطنیہ کے ماؤف ہونے پر یہ دلیل ہے کہ جب قرآن میں توحید کا ذکر اور شرک کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِہٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ قَلِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 52) (جس دن وہ تمہیں پکارے گا، تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کرو گے، اور تم یہ گمان کرو گے کہ تم نہیں رہے (دنیا اور برزخ میں) مگر تھوڑی سی مدت۔ ) پروردگار براہ راست کفار سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ آج جبکہ تم نبی کریم ﷺ کی بات سننے کے روادار نہیں ہو اور قرآن کریم سے رخ پھیر لیتے ہو اور تمہاری اکڑ روزبروز بڑھتی جارہی ہے، اس وقت کیا کرو گے جب قیامت کے دن حضرت اسرافیل کے واسطے سے یا براہ راست اللہ تعالیٰ تمہیں آواز دے گا کہ قبروں سے نکلو اور محشر میں پہنچ جاؤ۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–52

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید سے دوری اور عقیدہ توحید سے انحراف کا منطقی نتیجہ آخرت کا انکار ہوتا ہے۔ جس بناء پر مکہ کے کفار مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرتے تھے۔ آخرت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوا کرتی ہے کہ جب ہم مر کر بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر ہمیں کون از سر نو پیدا کرے گا ؟ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر آخرت کے منکرین کا عقیدہ یوں بیان کیا گیا ہے۔ کیا انسان غور نہیں کرتا ؟ کہ ہم نے اس کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ پھر وہ بڑی بےباکی کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مختلف قسم کی باتیں اور مثالیں بیان کرتا ہے۔ وہ اپنی پیدائش کو بھول کر کہتا ہے کہ جب ہڈیاں ریزہ ریزہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قیامت اپنا وجود خود منوائے گی : 52: یَوْمَ یَدْعُوْکُمْ (جس دن اللہ تعالیٰ تم کو پکارے گا) محاسبہ کیلئے اور وہ دن قیامت کا ہے۔ فََتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِہٖ (پس تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کروگے) یاؔ حال کیلئے ہے تم تعمیل حکم کرو گے اس حال میں کہ تم تعریف کرنے والے ہوگے۔ سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں کہ تم اس حالت میں حکم مانو گے کہ اپنے سروں سے مٹی کو جھاڑ رہے ہوگے۔ اور زبان پر سبحانک اللّٰھم وبحمدک کا ترانہ ہوگا۔ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا (اور تم خیال کرو گے کہ تم (دنیا یا قبروں) میں بہت ہی کم رہے ہو) قلیلًا سے پہلے اسکا موصوف لبثًا محذوف ہے یعنی بالکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

فتستجیبون بحمدہ کی تفسیر تفسیر 52۔” یوم یدعو کم “ تمہاری قبروں سے تمہیں اٹھایا جائے گا قیامت کے دن کھڑے ہونے کے لیے ۔ ” فتستجیون بجمدہ “ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس کے حکم کی بناء پر ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس کی اطاعت میں جواب دیں گے اور بعض نے کہا اس وقت وہ اقرار کرلیں گے پیدا کئے جانے پر اور دوبارہ اٹھائے جانے پر ۔ اس وقت یہ اللہ کی حمد وثناء کریں گے لیکن اس وقت ان کو حمد وثناء کسی کے کام نہیں آئے گی ۔ بعض نے کہا یہ خطاب مؤمنین کے ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی ہے کیونکہ جب ان کو اٹھایا جائے گا تو یہ اللہ کی حمد وثناء کرتے ہوئے اٹھیں گے۔” وتظنون ان لبثتم “ کہ تم اس دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے یا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–52

47۔ 52:۔ سیرۃ محمد بن اسحاق اور دلائل النبوہ بیہقی میں ناقابل اعتراض سند کی ابن شہاب زہری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابو سفیان اور ابوجہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف اپنے گھر میں پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کرکے آنحضرت ﷺ کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کو خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ حاصل معنے یہ ہیں کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اور اللہ کے رسول کی شان میں یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں وقت مقررہ آنے پر مناسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–55

(آیت نمبر (45 اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 52–59

دنیا میں انسان کا قیام بہت تھوڑا ہے قول باری ہے (وتظنون ان لبثتم الا قلیلاً اور تمہارا گمان اس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اس حالت میں پڑے رہے ہیں) حسن کا قول ہے کہ تم دنیا کی زندگی کی مدت کے متعلق یہ گمان کرو گے اس لئے کہ آخرت میں تمہارے رہنے کی مدت بڑی طویل ہوگی جس طرح یہ قول ہے ۔ ” تم دنیا میں اتنی تھوڑی مدت کے لئے رہو گے کہ گویا رہے ہی نہیں اور آخرت کی مدت کو دیکھ کر کہو گے کہ گویا ہمیشہ سے یہیں رہتے ہے۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب وہ آخرت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو ان کی نظروں میں دنیا انتہائی حقیر ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

91۔ قیامت کے روز منکرین کا حال :۔ سو منکرین کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ” اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس روز تم سب اپنے رب کی حمد وثناء کرتے ہوئے اس کے حضور پیش ہوں گے “ تمہاری یہ سب اکڑفوں اس روز ختم ہوجائے گی اور تم چیخ چیخ کر مانو گے۔ مگر اس وقت کی وہ تعریف و توصیف اور حمد وثناء تمہیں کچھ کام نہ دے گی۔ کیونکہ اس کا وقت گزر چکا ہوگا۔ کیونکہ اس کا موقعہ دنیاوی زندگی کی فرصت محدود میں تھا جبکہ تمہارے لئے ایمان بالغیب سے مشرف ہونے کا موقعہ موجود تھا۔ اور وہ موقعہ تمہارے ہاتھ سے اس وقت بہرحال نکل چکا ہوگا۔ تمہاری آنکھیں پوری طرح کھل جائیں گی۔ اور تم اپنے رب کی تسبیح کرتے ہوئے اس کے حضور حاضر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–52

کفار کا انکار قیامت اور اللہ کا جواب تشریح : کائنات کی ہر چیز ہمارے سامنے فنا ہو رہی ہے۔ انسان مر رہے ہیں اور انسان پیدا ہو رہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ کافی نہیں اس بات پر یقین کرنے کے لیے کہ ہم سب ضرور مرجائیں گے اور دوبارہ اللہ کی اسی قدرت سے زندہ کیے جائیں گے جس قدرت سے ہم پیدا کیے جاتے ہیں۔ کیا ہمارے پیدا ہونے کا عمل حیرت انگیز نہیں ؟ زمین سے پیدا ہونے والی تمام خوراکوں کو کس طریقہ سے تمہارے والدین کے جسموں میں جمع کردیا تاکہ تمہاری پیدائش کا سامان کیا جائے، پھر ماں کے پیٹ میں کس بہترین اور عجیب و غریب طریقہ سے تمہیں ایک مکمل انسان بنا کر ایک انتہائی پیچیدہ عمل سے گزار کر دنیا میں بھیج دیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) نہ صرف یہ کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی اس کے مطیع و فرمانبردار بن کر رہو۔ اس نے جو تمہارے ساتھ سلوک کیا ہے اس پر اس کی حمد و ثنا کرتے ہوئے آئو گے یہ یہ مطلب ہے کہ تم اس کے بلانے پر اس کے حضور حاضر ہونگے الحمد اللہ ( اور سب تعریف اللہ ہی کے لئے سزا وار ہے) یا وہ دوبارہ زندہ کرنے کی وجہ سے مستحق حمد وثناء ہے بعض نے بحمدہ کے معنی بدعائہ یا کم بھی کئے ہیں کیونکہ نفخ صور جس کی وجہ سے لوگ قبروں سے نکل کھڑے ہونگے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے دعوت ہوگی (قرطبی)5 یعنی دنیا میں یا قبر میں یا پہلے نفخہ سے دوسرے نفخہ تک تھوڑا ہی عرصہ ٹھہرے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 52–53

(17:52) یوم یدعوکم۔ میں یوم کا نصب بوجہ فعل مضمر اذکروا ہے۔ ترجمہ ہوگا۔ یاد کرو وہ دن جب وہ (اللہ ) تمہیں پکارے گا۔ یا بوجہ قریباً کے بدل ہونے کے ہے۔ ترجمہ ہوگا (عجب نہیں یہ وقت قریب ہی آپہنچا ہو) یہ اس روز ہوگا جب اللہ تمہیں پکارے گا۔۔ الخ فتستجیبون بحمدہ۔ فتستجیبون مادہ جوب باب استفعال سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ الجوب (باب ضرب) اس کے اصل معنی الجوبہ قطع کرنے کے ہیں۔ الجویہ یہ پست زمین کی طرح (زمین میں گڑھاسا) ہوتا ہے پھر ہر طرح زمین کے قطع کرنے پر بولا جاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں آیا ہے وثمود الذین جابوا الصخر بالواد (89:9) اور ثمود (کے ساتھ کیا کیا) جو وادی میں پتھر تراشتے (اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 49–52

لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 52 عظام ہڈیاں۔ رفات ریزہ ریزہ ہوجانا۔ کونوا ہوجاؤ۔ حجارۃ پتھر۔ حدید لوہا۔ یکبر بڑا ہو۔ یعید لوٹائے گا۔ فطر کم جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ سینغضون ہلائیں گے۔ روس (راس) سر۔ متی ھو وہ کب ہوگا۔ ؟ ۔ تستجیبون تم جواب دو گے۔ تظنون تم گمان کرو گے۔ ان لبثتم تم نہیں ٹھہرے۔ قلیل تھوڑا۔ تشریح : آیت نمبر 49 تا 52 کفار مکہ اور مشرکین اللہ کے سچے نبی حضرت محمد ﷺ کو لوگوں کی نگاہوں میں کم حیثیت ظاہر کرنے کے لئے طرح طرح کے سوالات اور آپ کی ذات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ کبھی کہتے کہ آپ پر کسی نے جادو کردیا ہے اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

پھر فرمایا اب تو یہ لوگ مسخرا پن کی باتیں کرتے ہیں لیکن دوسرے صور سے پہلے جب ایک مینہ برس کی ان کے جسم تیار ہوجاویں گے اور ان جسموں میں روحیں پھونک دی جاویں گی اور ان کو میدان محشر میں حاضر ہونے کا حکم ہوگا تو اللہ کی قدرت کو دیکھ کر بےساختہ اللہ کی تعریف ان کی زبان پر آجائے گی، اور حساب کتاب کے بعد جب بیشمار مدت کے لئے ان کو دوزخ میں جھونک دیا جاوے گا تو اس بیشمار مدت کے مقابلہ میں دنیا میں رہنے کی مدت ان کو بلکل کم نظر آوے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–53

[38] یعنی سنتے ہیں تو تمسخر اور تکذیب کے لئے۔ [39] مشرکین قرآن سننے کے بعد نبی ﷺ کے متعلق آپس میں سرگوشیاں کرتے۔ بسا اوقات انھیں اپنے ہی کسی آدمی پر شبہ ہوجاتا کہ شاید یہ قرآن سن کر کچھ متاثر ہوگیا ہے تو سب مل کر اسے سمجھاتے کہ اس شخص کے پھیر میں نہ آؤ۔ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس پر کسی نے جادو کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 51–54

(ف 1) مکہ والوں کا ایک شبہ آپ کی تعلیمات کے متعلق یہ تھا کہ اس میں حشر ونشر کے کوائف کا ذکر ہے ، وہ کہتے تھے ، یہ کیونکر ممکن ہے ، کہ مرا ہوا انسان جی اٹھے ، اور مردہ ہڈیوں میں حرکت وعمل پیدا ہوجائے ان کے خیال میں یہ زندگی جب ختم ہوجائے تو پھر اس کا اعادہ نہیں ہو سکتا ، اور ہم ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سو جاتے ہیں ، قیامت اور حشراجساد کا عقیدہ ان کے لئے نہایت حیرت انگیز تھا ۔ قرآن حکیم فرماتا ہے ، تمہیں اس میں کیا اعتراض ہے ، کیا اللہ نے تم کو کتم عدم سے لا کر وجود کی دنیا میں آباد نہیں کیا ہے ، کیا اس نے تمہیں بغیر کسی مادی ذریعہ کے پیدا نہیں کیا ؟ جب اسی نے اس سے پہلے تمہیں پیدا کیا تھا ، تو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-52 یہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نے تم کو پکارے گا یا فرشتہ کے ذریعہ سے آواز دی جائے گی اور تم کو میدان حشر میں زندہ ہو کر حاضر ہوجانے کا حکم دیا جائے گا۔ اضطرار اس کی حمد بیان کرتے ہوئے تعمیل حکم کرو گے اور زندہ ہو کر حاضر ہو جائو گے اور تم اس دن یہ اندازہ کرو گے کہ تم دنیا میں نہیں رہے مگر بہت ہی کم۔ مطلب یہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے کا وہ دن ہوگا جس دن تم کو اللہ تعالیٰ یا اس کے حکم سے اس کا فرشتہ پکارے گا تو تم زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے پیش ہو جائو گے اور چونکہ یہ حمد اضطراری ہوگی اس لئے اس حمد پر کوئی فائدہ مرتب نہ ہوگا دنیا کی زندگی کو تھوڑا سمجھیں گے یا اس دن اتنا ہول اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 51–52

ف 4۔ جب ابعد کا احیاء ممکن ہے تو اقرب کا احیاء تو بدرجہ اولی ممکن ہے تولوا سے مقصود امر نہیں۔ بلکہ تعلیق ہے کہ اگر حدیدہ و حجارہ بھی ہوجاو تب بھی محل قدرت رہو گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب وہ تم کو حاضر کرنے کے لئے بلائے گا تو تم حمد کے گیت گاتے حاضر ہوجاؤ گے : 66۔ کوئی انسان پنی سرکشی کی بنا پر کتنا ہی ہٹ دھرم کیوں نہ ہو کسی نہ کسی وقت اس کی فطرت جاگ ہی پڑتی ہے اور یہ بھی کہ بعض اوقات انسان بھیڑ چال میں وہ کام بھی کرجاتا ہے جس کو وہ تسلیم نہیں کرتا ، انسان ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی بہت کچھ کرنے کا عادی ہے ۔ کبھی یہ منظر دیکھنا ہو تو بیت اللہ میں جا کر دیکھیں امام آمین پکارتا ہے تو ساتھ ہی آمین پکار کر کہنے والے جب پکارتے ہیں تو بڑے بڑے مخالفین کی زبانیں حرکت میں آجاتی ہیں اور وہ پکار کر آمین کہہ دیتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح میدان حشر میں جمع ہونے الے جب اللہ کے حکم سے اٹھیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The word: يَدْعُوكُمْ (He will call you) in: يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ (on a day when He will call you, and you will respond praising Him - 52) is a derivation from: دُعَاء (dua' ) which means to call out for someone by announcing it vocally. The sense is that the day when Allah Ta’ ala will call everyone to come to the plains of Resurrection, this calling will be through Angel Israfil. When he sounds the second trumpet, the dead will come alive and assemble on the plains of Resurrection. It is also possible that, once alive, a call goes through to all of them…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

56. That is, you will feel as if the intervening period between death and coming again to life on the Day of Resurrection was only a few hours or so, for you will think that you had just woken up after a short sleep by the sudden noise produced on the Day. As regards to you will rise up praising Him, it is a subtle hint towards a great reality. At the time of rising up from death, both the believer and the unbeliever will be uttering the praise of Allah. The believer will do so because in the worldly life also he believed in this creed and practiced it. As regards the unbeliever, he will have…

Read the full tafseer →