Explained with ayahs 49–52
سب دوبارہ پیدا ہوں گے
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہوجائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے ؟ سورة نازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے ؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں ؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔
سورة یاسین میں ہے کہ یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ الخ پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 55
انغاض کے معنی ہیں سر کو اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر کی طرف بلانا، جس طرح اظہار تعجب کے لیے، یا مذاق اڑانے کے لیے آدمی کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
خلاصہ تفسیر
یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور (ہڈیوں کا بھی) چورا (یعنی ریزہ ریزہ) ہوجاویں گے تو کیا (اس کے بعد قیامت میں) ہم از سر نو پیدا اور زندہ کئے جاویں گے (یعنی اول تو مر کر زندہ ہونا ہی مشکل ہے کہ جسم میں زندگی کی صلاحیت نہیں رہی پھر جبکہ وہ جسم بھی ریزہ ریزہ ہو کر اس کے اجزاء منتشر ہوجاویں تو اس کے زندہ ہونے کو کون مان سکتا ہے) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے کہ (تم تو ہڈیوں ہی کی حیات کو بعید سمجھتے ہو اور ہم کہتے ہیں کہ) تم پتھر یا لوہا یا اور کوئی ایسی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں (زندگی کی صلاحیت سے) بہت ہی بعید ہو (پھر دیکھو کہ زندہ کئے جاؤ گے یا نہیں اور پتھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
تفسیر آیات 50 تا 51:۔ قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا۔ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا ۭ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ ۭ قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا۔
قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا۔ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ۔ فرمایا کہ ان کو جواب دے دو کہ ہڈیاں اور ریزے ریزے ہوجانا تو درکنار اگر تم پتھر یا لوہا بھی بن جاؤ یا ان سے بھی کوئی سخت تر چیز جو تمہارے خیال میں زندگی قبول کرنے کی صلاحیتوں سے بالکل خالی ہو، جب بھی تم از سر نو…
Read the full tafseer →51۔ 1 یعنی اس سے بھی زیادہ سخت چیز، جو تمہارے علم میں ہو، وہ بن جاؤ اور پھر پوچھو کہ کون زندہ کرے گا ؟
51۔ 2 انغض۔ ینغض کے معنی ہیں سر ہلانا۔ یعنی استہزاء کے طور پر سر ہلا کر وہ کہیں گے کہ یہ دوبارہ زندگی کب ہوگی ؟
51۔ 3 قریب کا مطلب ہے، ہونے والی چیز کُلُّ مَا ھُوَ آتٍ فَھُّوَ قَرِیْب ہر وقوع پذیر ہونے والی چیز قریب ہے ' یعنی قیامت کا وقوع یقینی اور ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
27: اشارہ اس طرف ہے کہ کسی چیز کو پہلی بار عدم سے وجود میں لانا زیادہ مشکل ہوتا ہے اس کے بر خلاف ایک مرتبہ پیدا کرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اتنا مشکل نہیں ہوتا۔ جس خدا نے پہلی بار پیدا کرنے کا زیادہ مشکل کام اپنی قدرت سے انجام دیا ہے، اس کے بارے میں یہ ماننے میں کیا دشواری ہے کہ وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →فسیقولون من یعیدنا (71 : 15) ” وہ ضرور پوچھیں گے کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا لائے گا ؟ “ یعنی جب ہم مٹی ہوگئے ، بوسیدہ ہدیاں ہوگئیں ، تو کون ہے وہ جو ہمیں دوبارہ حیات دے گا۔ یا جب ہم پتھر اور لوہا بن گئے تو پھر کون حیات دے گا ؟
قل الذین فطرکم اول مرۃ (81 : 15) ” کہہ دو ، وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا “۔ ان کے سوال کا یہ نہایت ہی سادی اور صاف اور دل لگتا جواب ہے۔ کیونکہ جس ذات سے پہلی مرتبہ ان کو زندگی دی وہ دوبارہ بھی دے سکتا ہے لیکن وہ اس سادہ جواب سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور نہ اطمینان ان کو ہوتا ہے۔
فسیتغضون الیک رء وسھم (71 : 15) ” وہ سر ہلا کر پوچھیں گے “۔ یعنی سر کو اوپر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
12 یعنی یہ ریزے اور چورا تو بہرحال انسانی لاش کا ہے جس میں پیشتر زندگی رہ چکی ہے۔ اور خود مٹی کے ذرات میں بھی آثار حیات کا پیدا ہوجانا چنداں مستبعد نہیں۔ میں اس سے بڑھ کر تم کو اجازت دیتا ہوں کہ ہڈیوں کا چورا نہیں، اگر ممکن ہو تو پتھر یا لوہا بن جاؤ۔ جو آثار حیات کے قبول کرنے سے بالکل محروم نظر آتے ہیں، بلکہ کوئی ایسی سخت چیز بن کر تجربہ کرلو جس کا زندہ ہونا لوہے اور پتھر سے بھی زیادہ مشکل معلوم ہو حتیٰ کہ مجسم موت بن کر دیکھ لو کہ پھر بھی اس قادر مطلق کو تمہارا زندہ کردینا کس قدر آسان ہے۔
1 جس نے پہلی بار تم کو مٹی یا نطفہ سے پیدا کیا اور جماد لایعقل پر روح انسانی فائض کردی۔ کیا اب اس میں…
Read the full tafseer →آیت 51 اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ
اے نبی ! ان سے کہیے کہ آپ تو ہڈیوں کی بات کرتے ہو اور اپنے جسموں کے ریزہ ریزہ ہو کر ختم ہوجانے کا تصور لیے بیٹھے ہو۔ تم اگر پتھر اور لوہا بھی بن جاؤ یا اپنی سوچ کے مطابق اس سے بھی بڑھ کر کسی عجیب مخلوق کا روپ دھار لو تب بھی تمہیں ازسرنو اٹھا لیا جائے گا۔
فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ
لا جواب ہو کر اپنے سروں کو مٹکاتے ہوئے بولیں گے کہ چلو مان لیا کہ یہ سب کچھ ممکن ہے مگر یہ تو بتائیے کہ ایسا ہوگا کب ؟
قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا
عجب نہیں کہ تمہاری شامت کی وہ گھڑی آیا ہی چاہتی ہو زیادہ دور نہ ہو۔
Read the full tafseer →61 یعنی تمہیں یہ خیال ہے کہ ہماری ہڈیاں گل سڑ کر اور ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل کر مٹی ہی بن جائیں گی تو پھر کیسے پیدا ہوں گے مگر مٹی تو پھر بھی ایک ایسی چیز ہے جو مسام دار ہے اور پانی اور ہوا اس کے اندر داخل ہوسکتے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری عناصر ہیں اس سے ہر قسم کی نباتات بھی اگتی ہے لیکن اگر تم کوئی سخت چیز بن جاؤ جیسے پتھر کہ جس کے اندر پانی یا ہوا داخل نہیں ہوسکتے اور اس کے اجزاء اور ذرات مٹی کی نسبت آپس میں بہت زیادہ جڑے ہوئے اور پیوست ہوتے ہیں یا پتھر سے بھی سخت چیز مثلاً لوہا بن جاؤ یا اس سے بھی کوئی سخت چیز جو تمہارے دل میں آسکتی ہو، وہ بن جاؤ تب بھی اللہ تمہیں اس سخت چیز سے دوبارہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
72۔ (قبول حیات سے پھر بھی دو بار زندہ کئے ہی جاؤگے) ۔ یعنی اوخلقا مما یکبر عندکم عن قبول الحیوۃ ویعظم فی زعمکم علی الخالق احدا فانہ یحییۃ (کشاف) اے فافرضوا شیئا اخر بعد عن قبول الحیوۃ من الحجر والحدید (کبیر) یعنی تم ہڈیوں ہی کی حیات ثانی پر تعجب کررہے ہو۔ اس سے بڑھ کر کوئی چیز قبول حیات سے بعیدتر تصور کرلو، پھر بھی، بہرحال تم میں دوبارہ جان ڈالی ہی جائے گی۔
73۔ (جب کہ تم معدوم محض تھے) یہ وہ گروہ تھا جو وجود باری کا نہیں، صرف امکان بعث وحشر کا منکر تھا۔ اسی سے جرح ہورہی ہے کہ تم جب اسے تسلیم کررہے ہو کہ صانع حقیقی کی قدرت تمہیں عدم محض سے وجود میں لے آئی، تو اب کیا اس کی قدرت اس سے سلب ہوگئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ…
Read the full tafseer →اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُم : یا کوئی ایسی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں بہت ہی بعید ہو۔ یعنی پتھر بن جاؤ یا لوہا بن جاؤ یا کوئی اور اس سے بھی بڑھ کر ایسی چیز بن جاؤ۔ جو تمہارے خیال میں قبول حیات سے بہت دور ہو ‘ مثلاً آسمان ‘ زمین پہاڑ وغیرہ کچھ بھی ہوجاؤ۔ مرنے کے بعد کچھ بھی بن جانا فرض کرلو۔ (تم کو ضرور زندہ کر کے اٹھایا جائے گا) اعراض (یعنی مختلف احوال) کو قبول کرنے میں تمام اجسام برابر ہیں (ہر جسم عرض یعنی مختلف کمیت کیفیت وغیرہ کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے) بوسیدہ ہڈیاں ہوجانے کے بعد از سر نو زندہ ہوجانا تو زیادہ دشوار نہیں ہے۔ ہڈیاں تو پہلے زندہ ہی تھیں۔…
Read the full tafseer →(51) اب اس تحقیق کے بعد آپ سے پوچھیں گے کہ کون ہمیں زندہ کرے گا تو آپ ان کے جواب میں فرما دیجیے کہ وہ، وہ ہے کہ جس نے پہلی بار تمہیں تمہاری ماؤں کے رحموں سے پیدا کیا ہے۔
آپ کی اس بات پر سر ہلا ہلا کر اظہار تعجب کے طور پر کہیں گے، سو اس بات کا جو آپ ہم سے وعدہ کررہے ہیں یہ کب ہوگا آپ فرما دیجیے عجب نہیں کہ یہ قریب ہی آپہنچا ہو یعنی اللہ تعالیٰ پر اس وعدہ کا پورا فرمانا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً۔۔ : مطلب یہ کہ مٹی میں تو پھر بھی نباتات کی صورت میں زندگی کے آثار نظر آجاتے ہیں، تم کوئی ایسی چیز بن کر دیکھ لو جو کسی طرح بھی زندگی قبول نہ کرسکتی ہو، مثلاً پتھر، لوہا یا کوئی بھی مخلوق جس کا زندہ ہونا تمہارے دلوں میں ان سے بھی بڑی بات ہو، پھر بھی اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے اٹھا لے گا۔
قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ : یعنی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا، کیونکہ پہلی بار کسی چیز کا پیدا کرنا مشکل اور دوبارہ آسان ہوتا ہے، تو پھر اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ تمہیں دوبارہ زندگی دے۔ (دیکھیے روم : 19) جبکہ اس کے لیے پہلی اور دوسری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت نمبر 50 تا 51
قولہ تعالیٰ : قل کونوا حجارۃً اوحدیدًا یعنی اے محمد ! ﷺ آپ انہیں فرمایئے (اگرچہ) تم عاجز کرنے کی جہت سے تم شدت اور قوت میں پتھر یا لوہا بھی ہوجاؤ (تب بھی ایسا ہی ہوگا۔ ) علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : اگر تمہیں اس پر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ہڈیاں اور گوشت پیدا کرے گا تو تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ اگر تم قدرت رکھتے ہو۔ اور علی بن عیسیٰ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ تم اگر پتھر یا لوہا بھی ہوئے تو تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے جب اس نے تمہارا ارادہ کرلیا، مگر یہ کلام امر کے محل میں ہے، کیونکہ الزام میں یہ زیادہ بلیغ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر تم پتھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ورفاتا “ سے مراد ہے ” وغبارا “ یعنی غبار آلود۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے :
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورفاتا “ سے مراد ہے مٹی اور فرمایا (آیت) ” قل کونوا حجارۃ اوحدیدا “ سے مراد ہے کہ تم جو مخلوق چاہوں بن جاؤ عنقریب تم کو اللہ تعالیٰ پہلے کی طرح لوٹائے گا جیسے تم تھے۔
3:۔ ابن ابی حاتم عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اوخلقا مما یکبر فی صدورکم “ سے مراد ہے موت یعنی اگر تم مرجاؤ…
Read the full tafseer →[اَوْ : یا ] [خَلْقًا : کوئی مخلوق ] [مِّمَا : اس میں سے جو ] [يَكْبُرُ : دشوار ہوتی ہے ] [فِيْ صُدُوْرِكُمْ : تمہارے سینوں میں (یعنی تمہاری سوچ میں، پھر بھی اٹھائے جائو گے)] [فَسَيَقُوْلُوْنَ : پھر وہ کہیں گے ] [مَنْ : کون ] [يُّعِيْدُنَا : لوٹائے گا ہم کو ] [قُلِ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [الَّذِي : وہ جس نے ] [فَطَرَكُمْ : وجود بخشا تم کو ] [اَوَّلَ مَرَّةٍ : پہلی مرتبہ ] [فَسَيُنْغِضُوْنَ : پھر وہ لوگ لٹکائیں گے ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [رُءُوْسَهُمْ : اپنے سروں کو ] [وَيَقُوْلُوْنَ : اور کہیں گے ] [مَتٰى: کب ] [هُوَ : وہ ہے (یعنی ہوگا)] [قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [عَسٰٓي : ہوسکتا ہے ] [ان : کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
منکرین بعث کا تعجب کہ ریزہ ریزہ ہو کر کیسے زندہ ہوں گے، ان کے تعجب کا جواب کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا
گزشتہ آیات میں مشرکین کے انکار وحی کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کے انکار بعث کا تذکرہ ہے۔ جب کفار کے سامنے قیامت قائم ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے اور قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہونے اور پیشی اور حساب قائم ہونے کی بات سامنے آئی تو اس کی تکذیب کرنے لگے اور طرح طرح سے حجتیں نکالنے لگے انہوں نے کٹ حجتی کرتے ہوئے یوں بھی کہا کہ جب قبروں میں صرف ہڈیاں ہی رہ جائیں گے اور چورا چورا ہوچکی ہونگی تو کیا ہم دوبارہ نئے سرے سے زندہ ہونگے اور قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
اثبات معاد
قال اللہ تعالیٰ وقالوا ءاذا کنا عظاما ورفاتا .... الیٰ .... ان لبثتم الا قلیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الہٰیات اور نبوات کے متعلق کلام فرمایا اب ان آیات میں منکرین قیامت کا ایک شبہ نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں منکرین قیامت یہ کہا کرتے تھے کہ جب آدمی مرجائے گا اور گوشت پوست اس کا گل سڑ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گا تو پھر وہ کیسے زندہ ہوگا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ یہ نوبت آسان ہے جس خدا نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اس خدا کو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
مرنے کے بعد تمہارے اجزاء خواہ ہوا میں اڑ جائیں یا آگ میں جل جائیں یا مٹی میں مل جائیں اللہ تعالیٰ کے خزانہ علم اور احاطہ…
Read the full tafseer →49:۔ تعجب سے سوال کریں گے کہ ایک بات نیست و نابود ہوجانے کے بعد ہمیں دوبارہ کون زندہ کریگا آپ فرما دیں جس نے تمہیں پہلی بار پیدا فرمایا جب تم کچھ بھی نہیں تھے۔ اس لیے جو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ فمن قدر علی الانشاء قدر علی الاعادۃ (خازن و معالم ج 4 ص 163) ” فسینغضون الیک رء وسھم الخ “ اس پر وہ استہزاء و تمسخر سے کہیں گے ارے بھائی وہ کب ہوگی ؟ ” قل عسی ان یکون قریبا “ دوبارہ جی اٹھنے کا ٹھیک وقت تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ وقت قریب ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا مشرکین حضور ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو ہمارے جیسا ہی انسان ہے ، بھلا ہم اس کی اتباع کیوں کریں کبھی کہتے کہ اس پر جادو کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ نعوذ باللہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے شکوک و شبہات کا رد فرمایا اور مشرکوں کو غلط ذہنیت کو واضح کیا کہ یہ لوگ محض ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایسے اعتراض کرتے ہیں پھر اللہ نے مسئلہ توحید کے ضمن میں فرمایا اگر ارض وسما کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ بیان کرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر بھی کیا اور…
Read the full tafseer →اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا ۭ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ ۭ قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا 51
صدر
الصَّدْرُ : الجارحة . قال تعالی: رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي [ طه/ 25] ، وجمعه : صُدُورٌ. قال : وَحُصِّلَ ما فِي الصُّدُورِ [ العادیات/ 10] ، وَلكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ [ الحج/ 46] ، ثم استعیر لمقدّم الشیء كَصَدْرِ القناة، وصَدْرِ المجلس، والکتاب، والکلام، وصَدَرَهُ أَصَابَ صَدْرَهُ ، أو قَصَدَ قَصْدَهُ نحو : ظَهَرَهُ ، وكَتَفَهُ ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–52
ترکیب : مستورا و ساترا۔ بما یستمعون بہ ای بسببہ من الھزاء اذ ھم بدل من اذ قبلہ یوم یدعوکم ظرف لیکون بحمدہ فی موضع الحال۔
تفسیر : آسمانوں اور زمین کی چیزوں کی تسبیح تو تم اے مشرکین سمجھتے ہی نہ تھے۔ تمہاری سمجھ میں تو قرآن مجید بھی نہیں آتا جو خاص تمہاری زبان فصیح میں نازل ہوا ہے۔ واذاقرأت الخ اور یہ نہ سمجھنا قرآن کا اس لیے ہے کہ جب تم اے نبی ! قرآن پڑھتے ہو تو ان کی ازلی گمراہی کے پردے بیچ میں حائل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مضامین میں غوروتامل نہیں کرسکتے اور جو کوئی ان کو دوسرا سمجھائے تو سنتے بھی نہیں۔ اور ان کے حواس باطنیہ کے ماؤف ہونے پر یہ دلیل ہے کہ جب قرآن میں توحید کا ذکر اور شرک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْحَدِیْدًا۔ اَوْخَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُفِیْ صُدُوْرِکُمْ ج فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا ط قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اََوَّلَ مَرَّۃٍ ج فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُئُ وْسَہُمْ وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھُوَ ط قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 50۔ 51)
(کہہ دیجیے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا، یا کوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں ان سے بھی سخت ہو، پھر وہ کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا، کہہ دیجیے، وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، پھر وہ آپ ﷺ کے آگے سر ہلائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کب ہوگا ؟ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ عجب نہیں کہ اس کا وقت قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید سے دوری اور عقیدہ توحید سے انحراف کا منطقی نتیجہ آخرت کا انکار ہوتا ہے۔ جس بناء پر مکہ کے کفار مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرتے تھے۔
آخرت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوا کرتی ہے کہ جب ہم مر کر بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر ہمیں کون از سر نو پیدا کرے گا ؟ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر آخرت کے منکرین کا عقیدہ یوں بیان کیا گیا ہے۔ کیا انسان غور نہیں کرتا ؟ کہ ہم نے اس کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ پھر وہ بڑی بےباکی کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مختلف قسم کی باتیں اور مثالیں بیان کرتا ہے۔ وہ اپنی پیدائش کو بھول کر کہتا ہے کہ جب ہڈیاں ریزہ ریزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
کفار کا جواب :
50، 51: قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْ حَدِیْدًا اَوْخَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ (آپ کہہ دیں تم لوگ پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں بہت ہی بعید ہو) یعنی آسمان و زمین جو تمہارے خیال میں قبول حیات سے بہت ہی دور ہیں۔ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُ نَا (وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون لوٹائے گا) قُلِ (کہہ دیں) تمہیں وہ ذات لوٹائے گی۔ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (جس ذات نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا) مطلب یہ ہے کہ تم اس بات کو انتہائی بعید خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ پیدا فرمائیں اور خشک ہڈیاں بن جانے کے بعد دوبارہ ان میں زندگی…
Read the full tafseer →51۔” او خلقا مما یکبر فی صدور کم “ کہا گیا کہ وہ آسمان و زمین اور پہاڑ ہوجائیں ۔ مجاہد کا قول ہے اور یہی قول عکرمہ اور اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا ہے کہ اس سے مراد موت ہے۔ ابن آدم کے بارے میں موت سے زیادہ کوئی چیز بڑی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم ان کی موت ان کی آنکھوں کے سامنے دیتے اور ان کو دوبارہ اٹھنے کا حکم کرتے۔ ” فسیقولون من یعیدنا “ تو وہ کہتے ہیں کہ کون ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا ۔” قل الذی فطرکم “ تمہیں کس نے پیدا کیا ۔ ” اول مرۃ “ جو پہلی مرتبہ پیدا کرنے پر قادر ہے، دوبارہ جی اٹھانے پر بھی قادر ہے۔” فسینغضون الیک رئوسھم “ جب آپ ان کو یہ کہتے ہو تو یہ وہ آپ کی استہزاء کرتے ہیں ۔ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
47۔ 52:۔ سیرۃ محمد بن اسحاق اور دلائل النبوہ بیہقی میں ناقابل اعتراض سند کی ابن شہاب زہری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابو سفیان اور ابوجہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف اپنے گھر میں پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کرکے آنحضرت ﷺ کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کو خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ حاصل معنے یہ ہیں کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اور اللہ کے رسول کی شان میں یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں وقت مقررہ آنے پر مناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
(آیت نمبر (45
اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
قول باری ہے (وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رتا کے ایک خاص حصے میں اس بات سے روک دیا تھا تاکہ ان کے لئے حضور ﷺ کی ایذا رسانی ممکن نہ رہے۔ ایک قول کے مطابق ہم نے ان پر یہ حکم لگا کر کہ وہ گمراہی کے اسی مقام پر رہیں گے ان کے دلوں کو قرآن فہمی کے لئے ناکارہ بنادیا تھا۔ اس میں ان کی ایک طرح مذمت تھی جس کی بنیاد یہ تھی کہ وہ نہ صرف حق کو سمجھنے اور اس کی طرف کان دھرنے سے پہلے بچاتے ہیں بلکہ اس سے منہ پھیر لیتے اور بدکتے بھی ہیں۔
Read the full tafseer →88۔ تم لوگوں کو بہرحال دوبارہ اٹھنا ہے :۔
تاکہ حساب کتاب ہو اور عدل وانصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ اور تم کو اٹھانا اس ذات اقدس واعلیٰ کے لئے جو قادر مطلق ہے، کچھ بھی مشکل نہیں اور اس کیلئے کوئی بھی چیز ناممکن اور مشکل نہیں ہوسکتی کہ اس کی صفت وشان ہے۔ علی کل شیء قدیر، کہ ” وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ جو چاہے اور جیسا اور جب چاہے کرسکتا ہے۔ اور اس کیلئے اس کو صرف حکم دینا اور ارشاد فرمانا ہوتا ہے اور بس کہ اس کی شان ” کن فیکون “ کی شان ہے جو صرف اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔
89۔ منکرین بعث کیلئے مختصر اور بھر پور جواب :۔
جس کے بعد انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ سو ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
کفار کا انکار قیامت اور اللہ کا جواب
تشریح : کائنات کی ہر چیز ہمارے سامنے فنا ہو رہی ہے۔ انسان مر رہے ہیں اور انسان پیدا ہو رہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ کافی نہیں اس بات پر یقین کرنے کے لیے کہ ہم سب ضرور مرجائیں گے اور دوبارہ اللہ کی اسی قدرت سے زندہ کیے جائیں گے جس قدرت سے ہم پیدا کیے جاتے ہیں۔ کیا ہمارے پیدا ہونے کا عمل حیرت انگیز نہیں ؟ زمین سے پیدا ہونے والی تمام خوراکوں کو کس طریقہ سے تمہارے والدین کے جسموں میں جمع کردیا تاکہ تمہاری پیدائش کا سامان کیا جائے، پھر ماں کے پیٹ میں کس بہترین اور عجیب و غریب طریقہ سے تمہیں ایک مکمل انسان بنا کر ایک انتہائی پیچیدہ عمل سے گزار کر دنیا میں بھیج دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔
ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
نہ صرف یہ کہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ف 1 تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا لے گا۔ (قرطبی)2 یعنی جب اس نے تمہیں پہلی بار پیدا کردیا حالن کہ کسی چیز کا پہلی بار پیدا کرنا مشکل اور دوبارہ بنانا آسان ہوتا ہے۔ تو اس کے لئے پھر کیا مشکل ہے کہ تمہیں دوبارہ زندگی دے جبکہ اس کے لئے پہلی اور دوسری مرتبہ پیدا کرنا دونوں آسان ہیں۔3 یعنی قیامت جب آنے والی ہے تو وہ چاہے کتنی دور ہو اس یقریب ہی سمجھو اور اپنی نجات کی فکر کرو
Read the full tafseer →(17:51) ینغضون۔ مضارع جمع مذکر غائب باب افعال نغض ونغوض مصدر ثلاثی مجرد سے۔ اس کے معنی اوپر نیچے یا نیچے اوپر حرکت دینے کے ہیں۔ فسینغضون الیک رؤسہم۔ وہ آپ کے سامنے سر ہلائیں گے (تعجب یا استہزاء کے طور پر) ۔ متی ھو۔ میں ھو ضمیر واحد مذکر غائب البعث والقیامۃ کی طرف راجع ہے یعنی یہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھنا اور حشر کب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 52
عظام ہڈیاں۔ رفات ریزہ ریزہ ہوجانا۔ کونوا ہوجاؤ۔ حجارۃ پتھر۔ حدید لوہا۔ یکبر بڑا ہو۔ یعید لوٹائے گا۔ فطر کم جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ سینغضون ہلائیں گے۔ روس (راس) سر۔ متی ھو وہ کب ہوگا۔ ؟ ۔ تستجیبون تم جواب دو گے۔ تظنون تم گمان کرو گے۔ ان لبثتم تم نہیں ٹھہرے۔ قلیل تھوڑا۔
تشریح : آیت نمبر 49 تا 52
کفار مکہ اور مشرکین اللہ کے سچے نبی حضرت محمد ﷺ کو لوگوں کی نگاہوں میں کم حیثیت ظاہر کرنے کے لئے طرح طرح کے سوالات اور آپ کی ذات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ کبھی کہتے کہ آپ پر کسی نے جادو کردیا ہے اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں اسی…
Read the full tafseer →یہاں فرمایا کہ دوبارہ زندہ ہونے کی تاکید سن کر یہ لوگ تعجب سے پوچھیں گے کہ آخر ہم کو دوبارہ کون زندہ کر دے گا تو اے رسول اللہ کے ان سے کہہ دو کہ جس نے پہلے تم کو نیست سے ہست کیا تھا وہی تم کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ پھر فرمایا اس جواب کو سن کر یہ لوگ مسخرا پن سے گردنیں مٹکا کر یہ کہیں گے آخر اس وعدہ کا ظہور کب ہوگا۔ ان سے کہہ دیا جاوے کہ گھبراؤ نہیں شاید اس کا ظہور بھی جلد ہی ہونے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
[38] یعنی سنتے ہیں تو تمسخر اور تکذیب کے لئے۔
[39] مشرکین قرآن سننے کے بعد نبی ﷺ کے متعلق آپس میں سرگوشیاں کرتے۔ بسا اوقات انھیں اپنے ہی کسی آدمی پر شبہ ہوجاتا کہ شاید یہ قرآن سن کر کچھ متاثر ہوگیا ہے تو سب مل کر اسے سمجھاتے کہ اس شخص کے پھیر میں نہ آؤ۔ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس پر کسی نے جادو کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
(ف 1) مکہ والوں کا ایک شبہ آپ کی تعلیمات کے متعلق یہ تھا کہ اس میں حشر ونشر کے کوائف کا ذکر ہے ، وہ کہتے تھے ، یہ کیونکر ممکن ہے ، کہ مرا ہوا انسان جی اٹھے ، اور مردہ ہڈیوں میں حرکت وعمل پیدا ہوجائے ان کے خیال میں یہ زندگی جب ختم ہوجائے تو پھر اس کا اعادہ نہیں ہو سکتا ، اور ہم ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سو جاتے ہیں ، قیامت اور حشراجساد کا عقیدہ ان کے لئے نہایت حیرت انگیز تھا ۔
قرآن حکیم فرماتا ہے ، تمہیں اس میں کیا اعتراض ہے ، کیا اللہ نے تم کو کتم عدم سے لا کر وجود کی دنیا میں آباد نہیں کیا ہے ، کیا اس نے تمہیں بغیر کسی مادی ذریعہ کے پیدا نہیں کیا ؟ جب اسی نے اس سے پہلے تمہیں پیدا کیا تھا ، تو…
Read the full tafseer →-5 1 یا کوئی اور ایسی مخلوق اور چیز بن جائو جس کا زندہ ہونا تمہارے خیال میں بہت ہی بعید اور مشکل ہو کچھ بھی ہو جائو مگر زندہ ضرور ہو گے اس پر یہ یوں کہیں گے اچھا بتائو وہ کون ہے جو ہم کو دوبارہ زندہ کرے گا آپ ان سے فرما دیجیے وہی زندہ کرے گا جس نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اس پر یہ آپ کے سامنے اپنے سروں کو ہلانے اور مٹکانے لگیں گے اور کہیں گے۔
اچھا بتائو یہ دوبارہ زندہ ہونا کب ہوگا۔ آپ فرما دیجیے عجب نہیں کہ اس کام کا وقت قریب ہی آپہنچا ہو۔ یعنی اول تو مر کر دوبارہ زندہ ہونا مشکل پھر جب محل حیات بھی باقی نہ رہے اور محل حیات کے تمام اجزا منتشر ہوجائیں۔
ارشاد ہواتم محل حیات پر شبہ کر رہے ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 4۔ جب ابعد کا احیاء ممکن ہے تو اقرب کا احیاء تو بدرجہ اولی ممکن ہے تولوا سے مقصود امر نہیں۔ بلکہ تعلیق ہے کہ اگر حدیدہ و حجارہ بھی ہوجاو تب بھی محل قدرت رہو گے۔
Read the full tafseer →اگر تم لوہا یا پتھر ہو سکتے ہو تو ہوجاؤ وہ خالق کائنات پھر بھی تم کو دوبارہ پیدا کر دے گا :
64۔ ایک بوسیدہ ہڈی کو لے کر نبی اعظم وآخر ﷺ کے سامنے لا کر کہنے والوں کو یہ کہنے والے کہ ” ان ہڈیوں کو جب وہ بوسیدہ ہوجائیں گی تو کون ہے جو زندہ کرے ؟ فرمایا اے رسول ! ﷺ آپ ﷺ کہہ دیجئے ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر طرح کا پیدا کرنا خوب جانتا ہے ، “ وہ کہتا ہے کہ ہر انسان پر ایک ایسا وقت گزرا ہے کہ وہ کوئی ذکر کی گئی چیز نہیں تھا اور جب وہ کچھ بھی نہیں تھا نہ اس کی ہڈیاں خواہ وہ کتنی بوسیدہ ہوں نہ اس کے وجود کا کوئی اور حصہ خواہ وہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو تو پھر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
Commentary
Can Magic affect a Prophet?
A prophet being affected by magic is as possible as being affected by sickness. Therefore, blessed prophets are not devoid of or detached from human characteristics. For instance, they could be wounded, run temperature or feel pain. Similarly, they could also be affected by magic because, that too, is triggered by the influence of physical causes, such as those of the Jinn. And it also stands proved from Hadith that there was an occasion when the Holy Prophet ﷺ was affected by magic. As for the disbelievers calling him 'bewitched' ('mashur' ) in verse 47…
Read the full tafseer →55.“They will shake their heads at you”in astonishment or to express doubt or disapproval or to scoff at you.
Read the full tafseer →