Al-Israa 17:50

Al-Israa · from ayah 50

17:50

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًا ۟ۙقُلۡ كُوۡنُوۡا حِجَارَةً اَوۡ حَدِيۡدًا

کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Be you stones or iron

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:50

ان سے کہو "تم پتھر یا لوہا بھی ہو جاؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

جواب دیجیئے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : تم پتھر یا لوہا بھی بن جاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ کہ پتھر یا لوہا ہوجاؤ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: تم پتھر ہو جاؤ یا لوہا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے تم کسی قسم کے پتھر بن جاؤ، یا لوہا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : خواہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ تم پتھر یا لوہا بن جاؤ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کہ (ہڈیاں اور چورا تو کیا) تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(ان سے) کہیے کہ خواہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ خواہ تم پتھر ہوجاؤ یا لوہا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them: "(You will be raised afresh even if) you turn to stone or iron,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Be you stones or iron

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Be you stones or iron

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Be you stones or iron,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say, "Be you stones or iron

— Saheeh International

(Muhammad), say "Yes, even if you become rocks, iron,

— Muhammad Sarwar

Say: Become stones or iron,

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: become ye stones or iron.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 17:50

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–52

سب دوبارہ پیدا ہوں گے کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہوجائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے ؟ سورة نازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے ؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں ؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔ سورة یاسین میں ہے کہ یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ الخ پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–50

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 54 یعنی یہ تمہارے متعلق کوئی ایک رائے ظاہر نہیں کرتے بلکہ مختلف اوقات میں بالکل مختلف اور متضاد باتیں کہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں تم خود جادوگر ہو۔ کبھی کہتے ہیں تم پر کسی اور نے جادو کردیا ہے۔ کبھی کہتے ہیں تم شاعر ہو۔ کبھی کہتے ہیں تم مجنون ہو۔ ان کی یہ متضاد باتیں خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ حقیقت ان کو معلوم نہیں ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ وہ آئے دن ایک نئی بات چھانٹنے کے بجائے کوئی ایک ہی قطعی رائے ظاہر کرتے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے کسی قول پر بھی مطمئن نہیں ہیں۔ ایک الزام رکھتے ہیں۔ پھر آپ ہی محسوس کرتے ہیں کہ یہ چسپاں نہیں ہوتا۔ اس کے بعد دوسرا الزام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 49–51

خلاصہ تفسیر یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور (ہڈیوں کا بھی) چورا (یعنی ریزہ ریزہ) ہوجاویں گے تو کیا (اس کے بعد قیامت میں) ہم از سر نو پیدا اور زندہ کئے جاویں گے (یعنی اول تو مر کر زندہ ہونا ہی مشکل ہے کہ جسم میں زندگی کی صلاحیت نہیں رہی پھر جبکہ وہ جسم بھی ریزہ ریزہ ہو کر اس کے اجزاء منتشر ہوجاویں تو اس کے زندہ ہونے کو کون مان سکتا ہے) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے کہ (تم تو ہڈیوں ہی کی حیات کو بعید سمجھتے ہو اور ہم کہتے ہیں کہ) تم پتھر یا لوہا یا اور کوئی ایسی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں (زندگی کی صلاحیت سے) بہت ہی بعید ہو (پھر دیکھو کہ زندہ کئے جاؤ گے یا نہیں اور پتھر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 50–51

تفسیر آیات 50 تا 51:۔ قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا۔ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا ۭ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ ۭ قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا۔ قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا۔ اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُمْ۔ فرمایا کہ ان کو جواب دے دو کہ ہڈیاں اور ریزے ریزے ہوجانا تو درکنار اگر تم پتھر یا لوہا بھی بن جاؤ یا ان سے بھی کوئی سخت تر چیز جو تمہارے خیال میں زندگی قبول کرنے کی صلاحیتوں سے بالکل خالی ہو، جب بھی تم از سر نو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

50۔ 1 جو مٹی اور ہڈیوں سے زیادہ سخت ہے اور جس میں زندگی کے آثار پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 45–50

26: جو لوگ اپنی اصلاح اور آخرت کی فکر سے غافل ہو کر بس دنیا کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اور حق کی کوئی طلب ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتی، بلکہ وہ حق کے مقابلے میں ضد اور عناد کی روش اختیار کرلیتے ہیں، وہ حق کو سوچنے سمجھنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ ان دیکھا پردہ ہے جو ان کے اور پیغمبر کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، اور یہی وہ غفلت کا غلاف ہے جو ان کے دلوں پر مسلط ہوجاتا ہے، اور ان کے کانوں میں وہ گرانی پیدا کردیتا ہے جس کی بنا پر وہ حق بات سننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل کو نو حجارۃ او حدیدا (05) او ……(15) (71 : 05۔ 15) ۔ ” ان سے کہو ” تم پتھر یا لوہا بھی ہوجائو ‘ یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید تر ہو “۔ جہاں تک ہڈیوں اور مٹی کا تعلق ہے ان کے ساتھ تو پھر بھی زندگی کی یادیں وابستہ ہیں اور پتھر اور لوہا تو زندگی سے بہت دور ہیں کہ تم پتھر ہوجائو ، لوہا ہو جائو اور کوئی سخت چیز ہو جائو جو تمہارے خیال میں آثار حیات کو قبول کرنے سے بہت ہی دور ہو ، جس میں زندگی کی روح نہ پھونکی جاسکتی ہو تو بھی جب اللہ چاہے گا تمہیں زندہ کر دے گا۔ یہ لوگ نہ پتھر بن سکتے تھے اور نہ لوہا ، لیکن یہ ان کو بطور چیلنج کہا جا رہا ہے ، اس چیلنج میں ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 50–51

12 یعنی یہ ریزے اور چورا تو بہرحال انسانی لاش کا ہے جس میں پیشتر زندگی رہ چکی ہے۔ اور خود مٹی کے ذرات میں بھی آثار حیات کا پیدا ہوجانا چنداں مستبعد نہیں۔ میں اس سے بڑھ کر تم کو اجازت دیتا ہوں کہ ہڈیوں کا چورا نہیں، اگر ممکن ہو تو پتھر یا لوہا بن جاؤ۔ جو آثار حیات کے قبول کرنے سے بالکل محروم نظر آتے ہیں، بلکہ کوئی ایسی سخت چیز بن کر تجربہ کرلو جس کا زندہ ہونا لوہے اور پتھر سے بھی زیادہ مشکل معلوم ہو حتیٰ کہ مجسم موت بن کر دیکھ لو کہ پھر بھی اس قادر مطلق کو تمہارا زندہ کردینا کس قدر آسان ہے۔ 1 جس نے پہلی بار تم کو مٹی یا نطفہ سے پیدا کیا اور جماد لایعقل پر روح انسانی فائض کردی۔ کیا اب اس میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 49–50

آیت 49 وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا یہ لوگ آپ سے بڑی حیرت سے سوال کرتے ہیں کہ آپ جو انسانوں کی دوبارہ زندگی کی بات کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے ؟ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور گوشت گل سڑ جائے گا تو اس کے بعد ہمیں پھر سے نئی زندگی کیسے مل سکتی ہے ؟ گویا ان کی سوچ کے مطابق ایسا ہونا بالکل محال اور ناممکن ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 49–50

60 یعنی آپ کے مسحور ہونے کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ جو شخص یہ کہتا ہو کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے، ہماری ہڈیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔ تب بھی ہمیں زندہ کرکے از سر نو اٹھایا جائے گا بھلا اس کے سحر زدہ ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 50–51

72۔ (قبول حیات سے پھر بھی دو بار زندہ کئے ہی جاؤگے) ۔ یعنی اوخلقا مما یکبر عندکم عن قبول الحیوۃ ویعظم فی زعمکم علی الخالق احدا فانہ یحییۃ (کشاف) اے فافرضوا شیئا اخر بعد عن قبول الحیوۃ من الحجر والحدید (کبیر) یعنی تم ہڈیوں ہی کی حیات ثانی پر تعجب کررہے ہو۔ اس سے بڑھ کر کوئی چیز قبول حیات سے بعیدتر تصور کرلو، پھر بھی، بہرحال تم میں دوبارہ جان ڈالی ہی جائے گی۔ 73۔ (جب کہ تم معدوم محض تھے) یہ وہ گروہ تھا جو وجود باری کا نہیں، صرف امکان بعث وحشر کا منکر تھا۔ اسی سے جرح ہورہی ہے کہ تم جب اسے تسلیم کررہے ہو کہ صانع حقیقی کی قدرت تمہیں عدم محض سے وجود میں لے آئی، تو اب کیا اس کی قدرت اس سے سلب ہوگئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(50) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم پتھر یا پتھر سے سخت یالو ہے سے بھی زیادہ سے بھی زیادہ مضبوط ہو کر دیکھ لو پھر بھی مرنے کے بعد تمہیں زندہ کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 50–51

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً۔۔ : مطلب یہ کہ مٹی میں تو پھر بھی نباتات کی صورت میں زندگی کے آثار نظر آجاتے ہیں، تم کوئی ایسی چیز بن کر دیکھ لو جو کسی طرح بھی زندگی قبول نہ کرسکتی ہو، مثلاً پتھر، لوہا یا کوئی بھی مخلوق جس کا زندہ ہونا تمہارے دلوں میں ان سے بھی بڑی بات ہو، پھر بھی اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کرکے اٹھا لے گا۔ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ : یعنی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا، کیونکہ پہلی بار کسی چیز کا پیدا کرنا مشکل اور دوبارہ آسان ہوتا ہے، تو پھر اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ تمہیں دوبارہ زندگی دے۔ (دیکھیے روم : 19) جبکہ اس کے لیے پہلی اور دوسری…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–51

آیت نمبر 50 تا 51 قولہ تعالیٰ : قل کونوا حجارۃً اوحدیدًا یعنی اے محمد ! ﷺ آپ انہیں فرمایئے (اگرچہ) تم عاجز کرنے کی جہت سے تم شدت اور قوت میں پتھر یا لوہا بھی ہوجاؤ (تب بھی ایسا ہی ہوگا۔ ) علامہ طبری (رح) نے کہا ہے : اگر تمہیں اس پر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ہڈیاں اور گوشت پیدا کرے گا تو تم پتھر یا لوہا ہوجاؤ اگر تم قدرت رکھتے ہو۔ اور علی بن عیسیٰ نے کہا ہے : اس کا معنی ہے کہ تم اگر پتھر یا لوہا بھی ہوئے تو تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے جب اس نے تمہارا ارادہ کرلیا، مگر یہ کلام امر کے محل میں ہے، کیونکہ الزام میں یہ زیادہ بلیغ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر تم پتھر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 49–51

1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ورفاتا “ سے مراد ہے ” وغبارا “ یعنی غبار آلود۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے : 2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورفاتا “ سے مراد ہے مٹی اور فرمایا (آیت) ” قل کونوا حجارۃ اوحدیدا “ سے مراد ہے کہ تم جو مخلوق چاہوں بن جاؤ عنقریب تم کو اللہ تعالیٰ پہلے کی طرح لوٹائے گا جیسے تم تھے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اوخلقا مما یکبر فی صدورکم “ سے مراد ہے موت یعنی اگر تم مرجاؤ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قُلْ : آپ ﷺ کہہ دیجئے ] [كُوْنُوْا : تم لوگ ہو جائو ] [حِجَارَةً : کوئی پتھر ] [اَوْ : یا ] [حَدِيْدًا : کوئی لوہا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 49–52

منکرین بعث کا تعجب کہ ریزہ ریزہ ہو کر کیسے زندہ ہوں گے، ان کے تعجب کا جواب کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا گزشتہ آیات میں مشرکین کے انکار وحی کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کے انکار بعث کا تذکرہ ہے۔ جب کفار کے سامنے قیامت قائم ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے اور قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہونے اور پیشی اور حساب قائم ہونے کی بات سامنے آئی تو اس کی تکذیب کرنے لگے اور طرح طرح سے حجتیں نکالنے لگے انہوں نے کٹ حجتی کرتے ہوئے یوں بھی کہا کہ جب قبروں میں صرف ہڈیاں ہی رہ جائیں گے اور چورا چورا ہوچکی ہونگی تو کیا ہم دوبارہ نئے سرے سے زندہ ہونگے اور قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ یہ بات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 49–52

اثبات معاد قال اللہ تعالیٰ وقالوا ءاذا کنا عظاما ورفاتا .... الیٰ .... ان لبثتم الا قلیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں الہٰیات اور نبوات کے متعلق کلام فرمایا اب ان آیات میں منکرین قیامت کا ایک شبہ نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں منکرین قیامت یہ کہا کرتے تھے کہ جب آدمی مرجائے گا اور گوشت پوست اس کا گل سڑ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گا تو پھر وہ کیسے زندہ ہوگا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ یہ نوبت آسان ہے جس خدا نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اس خدا کو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ مرنے کے بعد تمہارے اجزاء خواہ ہوا میں اڑ جائیں یا آگ میں جل جائیں یا مٹی میں مل جائیں اللہ تعالیٰ کے خزانہ علم اور احاطہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 49–50

48:۔ یہ شکوی ہے۔ آپ کو ساحر و شاعر اور جنون و مسحور کہنا اور آپ کے لائے ہوئے پیغام توحید کا انکار کرنا اور شرک کرنا تو قابل تعجب تھا ہی یہ لوگ تو حشر و نشر کا بھی انکار کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا پھر ہمیں دوبارہ پیدا کرلیا جائیگا۔ یہ تو بالکل ہی ناممکن بات ہے۔ ” قل کونوا حجارۃ الخ “ جواب شکوی ہے یعنی مرنے کے بعد اگر تم پتھر یا لوہا بن جاؤ یا ان سے بھی کوئی سخت چیز بن جاؤ جس میں جان ڈالنا تمہیں بہت ہی مشکل نظر آتا ہے تو بھی اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کرلے گا اس کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں جس نے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 49–52

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا مشرکین حضور ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو ہمارے جیسا ہی انسان ہے ، بھلا ہم اس کی اتباع کیوں کریں کبھی کہتے کہ اس پر جادو کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ نعوذ باللہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے شکوک و شبہات کا رد فرمایا اور مشرکوں کو غلط ذہنیت کو واضح کیا کہ یہ لوگ محض ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایسے اعتراض کرتے ہیں پھر اللہ نے مسئلہ توحید کے ضمن میں فرمایا اگر ارض وسما کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ بیان کرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر بھی کیا اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا 50؀ۙ حجر الحَجَر : الجوهر الصلب المعروف، وجمعه : أحجار وحِجَارَة، وقوله تعالی: وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] ( ح ج ر ) الحجر سخت پتھر کو کہتے ہیں اس کی جمع احجار وحجارۃ آتی ہے اور آیت کریمہ : وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجارَةُ [ البقرة/ 24] جس کا اندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔ حدَّ الحدّ : الحاجز بين الشيئين الذي يمنع اختلاط أحدهما بالآخر، يقال : حَدَدْتُ كذا : جعلت له حدّا يميّز، وحَدُّ الدار : ما تتمیز به عن غيرها، وحَدُّ الشیء : الوصف المحیط بمعناه المميّز له عن غيره، وحَدُّ الزنا والخمر سمّي به لکونه مانعا لمتعاطيه من معاودة مثله،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–52

ترکیب : مستورا و ساترا۔ بما یستمعون بہ ای بسببہ من الھزاء اذ ھم بدل من اذ قبلہ یوم یدعوکم ظرف لیکون بحمدہ فی موضع الحال۔ تفسیر : آسمانوں اور زمین کی چیزوں کی تسبیح تو تم اے مشرکین سمجھتے ہی نہ تھے۔ تمہاری سمجھ میں تو قرآن مجید بھی نہیں آتا جو خاص تمہاری زبان فصیح میں نازل ہوا ہے۔ واذاقرأت الخ اور یہ نہ سمجھنا قرآن کا اس لیے ہے کہ جب تم اے نبی ! قرآن پڑھتے ہو تو ان کی ازلی گمراہی کے پردے بیچ میں حائل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مضامین میں غوروتامل نہیں کرسکتے اور جو کوئی ان کو دوسرا سمجھائے تو سنتے بھی نہیں۔ اور ان کے حواس باطنیہ کے ماؤف ہونے پر یہ دلیل ہے کہ جب قرآن میں توحید کا ذکر اور شرک کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 50–51

قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْحَدِیْدًا۔ اَوْخَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُفِیْ صُدُوْرِکُمْ ج فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا ط قُلِ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اََوَّلَ مَرَّۃٍ ج فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُئُ وْسَہُمْ وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھُوَ ط قُلْ عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنَ قَرِیْبًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 50۔ 51) (کہہ دیجیے کہ تم پتھر بن جاؤ یا لوہا، یا کوئی اور مخلوق جو تمہارے خیال میں ان سے بھی سخت ہو، پھر وہ کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا، کہہ دیجیے، وہی جس نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا، پھر وہ آپ ﷺ کے آگے سر ہلائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کب ہوگا ؟ آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ عجب نہیں کہ اس کا وقت قریب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–52

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید سے دوری اور عقیدہ توحید سے انحراف کا منطقی نتیجہ آخرت کا انکار ہوتا ہے۔ جس بناء پر مکہ کے کفار مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرتے تھے۔ آخرت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوا کرتی ہے کہ جب ہم مر کر بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر ہمیں کون از سر نو پیدا کرے گا ؟ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر آخرت کے منکرین کا عقیدہ یوں بیان کیا گیا ہے۔ کیا انسان غور نہیں کرتا ؟ کہ ہم نے اس کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ پھر وہ بڑی بےباکی کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مختلف قسم کی باتیں اور مثالیں بیان کرتا ہے۔ وہ اپنی پیدائش کو بھول کر کہتا ہے کہ جب ہڈیاں ریزہ ریزہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 50–51

کفار کا جواب : 50، 51: قُلْ کُوْنُوْا حِجَارَۃً اَوْ حَدِیْدًا اَوْخَلْقًا مِّمَّا یَکْبُرُ فِیْ صُدُوْرِکُمْ (آپ کہہ دیں تم لوگ پتھر یا لوہا یا کوئی ایسی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں بہت ہی بعید ہو) یعنی آسمان و زمین جو تمہارے خیال میں قبول حیات سے بہت ہی دور ہیں۔ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُ نَا (وہ کہیں گے ہمیں دوبارہ کون لوٹائے گا) قُلِ (کہہ دیں) تمہیں وہ ذات لوٹائے گی۔ الَّذِیْ فَطَرَکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ (جس ذات نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا) مطلب یہ ہے کہ تم اس بات کو انتہائی بعید خیال کرتے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ پیدا فرمائیں اور خشک ہڈیاں بن جانے کے بعد دوبارہ ان میں زندگی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

50۔ ’ ’ قل “ کہہ دیجئے اے محمد (ﷺ) ” کونوا حجارۃ او حدیدا ً “ شدۃ اور قوت میں ۔ یہ بیان پر لازمی حکم نہیں بلکہ یہ امر ان کو عاجز قرار دینے کے لیے ہیں ، یعنی اگر وہ اپنے دلوں میں یہ جان لیں کہ اگر تم پتھر بن جائو یا قوت میں لوہا کی طرح ہو جائو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–52

47۔ 52:۔ سیرۃ محمد بن اسحاق اور دلائل النبوہ بیہقی میں ناقابل اعتراض سند کی ابن شہاب زہری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابو سفیان اور ابوجہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف اپنے گھر میں پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کرکے آنحضرت ﷺ کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کو خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ حاصل معنے یہ ہیں کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اور اللہ کے رسول کی شان میں یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں وقت مقررہ آنے پر مناسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–55

(آیت نمبر (45 اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–51

قول باری ہے (وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رتا کے ایک خاص حصے میں اس بات سے روک دیا تھا تاکہ ان کے لئے حضور ﷺ کی ایذا رسانی ممکن نہ رہے۔ ایک قول کے مطابق ہم نے ان پر یہ حکم لگا کر کہ وہ گمراہی کے اسی مقام پر رہیں گے ان کے دلوں کو قرآن فہمی کے لئے ناکارہ بنادیا تھا۔ اس میں ان کی ایک طرح مذمت تھی جس کی بنیاد یہ تھی کہ وہ نہ صرف حق کو سمجھنے اور اس کی طرف کان دھرنے سے پہلے بچاتے ہیں بلکہ اس سے منہ پھیر لیتے اور بدکتے بھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 49–50

87۔ منکرین کا بعث بعد الموت پر اچنبھا :۔ یعنی ان کے خیال میں یہ بڑی انہونی اور ناممکن بات ہے۔ اسی لئے یہ لوگ تعجب اور استہزاء کے طور پر اس طرح کہتے ہیں کہ ” جب ہم مر کر ہڈیاں اور چورہ بن جائیں گے تو کیا پھر بھی ہمیں زندہ کرکے اٹھایا جائیگا۔ “ یعنی یہ تو ایک انہونی بات ہے۔ سو ان کی کھوپڑیوں کے مطابق اور انسانی طاقت کے اعتبار سے واقعی ایسے ہی ہے۔ لیکن جس قادر مطلق نے انکو پہلی مرتبہ پیدا کیا اس کی طاقت کے اعتبار سے یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔ بلکہ صرف ایک حکم اور اشارے کی دیر ہے اور بس۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : فانماھی زجرۃ واحدۃ فاذا ہم بالساہرۃ ، (النازعات : 13۔ 14) یعنی ” وہ تو محض…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 49–52

کفار کا انکار قیامت اور اللہ کا جواب تشریح : کائنات کی ہر چیز ہمارے سامنے فنا ہو رہی ہے۔ انسان مر رہے ہیں اور انسان پیدا ہو رہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ کافی نہیں اس بات پر یقین کرنے کے لیے کہ ہم سب ضرور مرجائیں گے اور دوبارہ اللہ کی اسی قدرت سے زندہ کیے جائیں گے جس قدرت سے ہم پیدا کیے جاتے ہیں۔ کیا ہمارے پیدا ہونے کا عمل حیرت انگیز نہیں ؟ زمین سے پیدا ہونے والی تمام خوراکوں کو کس طریقہ سے تمہارے والدین کے جسموں میں جمع کردیا تاکہ تمہاری پیدائش کا سامان کیا جائے، پھر ماں کے پیٹ میں کس بہترین اور عجیب و غریب طریقہ سے تمہیں ایک مکمل انسان بنا کر ایک انتہائی پیچیدہ عمل سے گزار کر دنیا میں بھیج دیا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) نہ صرف یہ کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 49–51

ف 1 تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا لے گا۔ (قرطبی)2 یعنی جب اس نے تمہیں پہلی بار پیدا کردیا حالن کہ کسی چیز کا پہلی بار پیدا کرنا مشکل اور دوبارہ بنانا آسان ہوتا ہے۔ تو اس کے لئے پھر کیا مشکل ہے کہ تمہیں دوبارہ زندگی دے جبکہ اس کے لئے پہلی اور دوسری مرتبہ پیدا کرنا دونوں آسان ہیں۔3 یعنی قیامت جب آنے والی ہے تو وہ چاہے کتنی دور ہو اس یقریب ہی سمجھو اور اپنی نجات کی فکر کرو

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:50) قل کونوا حجارۃ او حدیدا وخلقا مما یکبر فی صدورکم کے بعد جملہ لکان قادرا علی ان یردکم الی حال الحیوۃ۔ محذوف ہے یعنی اے نبی ( ﷺ (ان سے) کہہ دیجئے تم پتھر بن جائو ، یا لوہا جائو، یا کوئی چیز جو تمہارے خیال کے مطابق ان سے بھی مشکل تر ہو حیات کو قبول کرنے میں تو بھی اللہ تعالیٰ مکمل قدرت رکھتا ہے تم کو دوبارہ زندہ کرنے پر۔ یعیدنا۔ یعیدمضارع واحد مذکر غائب اعادۃ (افعال) مصدر نا ضمیر جمع متکلم مفعول ہمیں دوبارہ زندہ کر کے لوٹائے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 49–52

لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 52 عظام ہڈیاں۔ رفات ریزہ ریزہ ہوجانا۔ کونوا ہوجاؤ۔ حجارۃ پتھر۔ حدید لوہا۔ یکبر بڑا ہو۔ یعید لوٹائے گا۔ فطر کم جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ سینغضون ہلائیں گے۔ روس (راس) سر۔ متی ھو وہ کب ہوگا۔ ؟ ۔ تستجیبون تم جواب دو گے۔ تظنون تم گمان کرو گے۔ ان لبثتم تم نہیں ٹھہرے۔ قلیل تھوڑا۔ تشریح : آیت نمبر 49 تا 52 کفار مکہ اور مشرکین اللہ کے سچے نبی حضرت محمد ﷺ کو لوگوں کی نگاہوں میں کم حیثیت ظاہر کرنے کے لئے طرح طرح کے سوالات اور آپ کی ذات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ کبھی کہتے کہ آپ پر کسی نے جادو کردیا ہے اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حشر کا بیان پھر فرمایا حشر کا انکار ان لوگوں نے جو کیا تھا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ پہلی پیدائش سے حشر آسان ہے کہ مٹی کا پتلا تو کیا ہے۔ اگر یہ مر کر پتھر یا لوہا یا کوئی اور سخت چیز بھی ہوجاویں تو اللہ کی قدرت تو وہ ہے کہ اللہ ضرور ان کو دوبارہ زندہ کرے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–53

[38] یعنی سنتے ہیں تو تمسخر اور تکذیب کے لئے۔ [39] مشرکین قرآن سننے کے بعد نبی ﷺ کے متعلق آپس میں سرگوشیاں کرتے۔ بسا اوقات انھیں اپنے ہی کسی آدمی پر شبہ ہوجاتا کہ شاید یہ قرآن سن کر کچھ متاثر ہوگیا ہے تو سب مل کر اسے سمجھاتے کہ اس شخص کے پھیر میں نہ آؤ۔ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس پر کسی نے جادو کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–50

حضور ﷺ سحر زدہ نہیں تھے ! (ف 1) حضور ﷺ کو سحر زدہ کوتاہ نظری کی وجہ سے کہتے تھے ، جب دیکھتے کہ نبوت کے اسرار ان کی سمجھ سے بالا ہیں اور اسلام کے عجیب و غریب نظام کو سمجھنے کی صلاحیت ان میں موجود نہیں تو حیرت واستعجاب میں ڈوبے ہوئے اس کیفیت نافہمی کو جادو وسحر کی جانب منسوب کردیتے ، بات یہ ہے کہ نبوت انتہاء درجے کی دانائی وعقل کا نام ہے ، نبی فہم و فراست کے لحاظ سے انسانیت کا آخری نقطہ ہوتا ہے ، اس کے اعمال وافعال میں نظم وترتیب قائم رکھنے کیلئے پیغمبرانہ بصیرت کی حاجت ہے ، جو لوگ اس بصیرت وآگاہی سے محروم ہوتے ہیں ، وہ سہل اندیشی کی بنا پر کہہ دیتے ہیں ان کے اعمال میں ترتیب اور غرض ومقصد کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-50 آپ فرما دیجئے کہ تم ہڈیوں کے زندہ ہونے پر حیرت کرتے ہو تم خواہ پتھر ہو جائو یا لوہا بن جائو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 49–50

اگر وہ بولے تو کہا کہ جب ہم مرکر چورا چورا ہوجائیں گے تو دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتے ہیں ؟ 63۔ آخرت پر ایمان اسلام کے سلسلہ ایمانیات کی آخری کڑی ہے ۔ اس سے مراد پچھلے دن ‘ پچھلی زندگی یا پچھلی دنیا پر یقین کرنا ہے ۔ کفار مکہ کی اکثریت اس وقت بھی اس بات پر یقین نہیں رکھتی تھی ، ان کی نادانی کا یہ عالم تھا کہ وہ کائنات کو ایک کھلنڈرے کا گھروندا اور اپنے آپ کو اس کے جی بہلانے کا ایک کھلون اس مجھے بےٹھ تھے اور اس احمقانہ تصور میں اتنے مگن تھے کہ جب انہیں پیغمبر اسلام اس کار گاہ حیات کا سنجیدہ مقصد اور خود ان کے وجود کی معقول غرض وغایت سمجھاتے تو وہ ایک قہقہہ لگاتے اور پھبتی کستے کہ یہ شخص تو دراصل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

Commentary Can Magic affect a Prophet? A prophet being affected by magic is as possible as being affected by sickness. Therefore, blessed prophets are not devoid of or detached from human characteristics. For instance, they could be wounded, run temperature or feel pain. Similarly, they could also be affected by magic because, that too, is triggered by the influence of physical causes, such as those of the Jinn. And it also stands proved from Hadith that there was an occasion when the Holy Prophet ﷺ was affected by magic. As for the disbelievers calling him 'bewitched' ('mashur' ) in verse 47…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

54. This is to say that they expressed different opinions at different times which contradicted each other. Sometimes they said: You are a sorcerer. And at other times: You have been bewitched by someone, or you are a poet or you are possessed of some evil spirit. These contradictory things were a proof that they did not know the reality. Otherwise, they would not have invented a different name to suit each occasion. This also shows that they themselves were not sure of the charge they leveled against him. If they called him by one epithet one day, they themselves felt afterwards that it did…

Read the full tafseer →