Explained with ayahs 49–52
سب دوبارہ پیدا ہوں گے
کافر جو قیامت کے قائل نہ تھے اور مرنے کے بعد کے جینے کو محال جانتے تھے وہ بطور انکار پوچھا کرتے تھے کہ کیا ہم جب ہڈی اور مٹی ہوجائیں گے، غبار بن جائیں گے، کچھ نہ رہیں گے بالکل مٹ جائیں گے۔ پھر بھی نئی پیدائش سے پیدا ہوں گے ؟ سورة نازعات میں ان منکروں کا قول بیان ہوا ہے کہ کیا ہم مرنے کے بعد الٹے پاؤں زندگی میں لوٹائے جائیں گے ؟ اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ ہماری ہڈیاں بھی گل سڑ گئی ہوں ؟ بھئی یہ تو بڑے ہی خسارے کی بات ہے۔
سورة یاسین میں ہے کہ یہ ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے بیٹھ گیا اور اپنی پیدائش کو فراموش کر گیا۔ الخ پس انہیں جواب دیا جاتا ہے کہ ہڈیاں تو کیا تم خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 54
یعنی یہ تمہارے متعلق کوئی ایک رائے ظاہر نہیں کرتے بلکہ مختلف اوقات میں بالکل مختلف اور متضاد باتیں کہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں تم خود جادوگر ہو۔ کبھی کہتے ہیں تم پر کسی اور نے جادو کردیا ہے۔ کبھی کہتے ہیں تم شاعر ہو۔ کبھی کہتے ہیں تم مجنون ہو۔ ان کی یہ متضاد باتیں خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ حقیقت ان کو معلوم نہیں ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ وہ آئے دن ایک نئی بات چھانٹنے کے بجائے کوئی ایک ہی قطعی رائے ظاہر کرتے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے کسی قول پر بھی مطمئن نہیں ہیں۔ ایک الزام رکھتے ہیں۔ پھر آپ ہی محسوس کرتے ہیں کہ یہ چسپاں نہیں ہوتا۔ اس کے بعد دوسرا الزام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
خلاصہ تفسیر
یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر) ہڈیاں اور (ہڈیوں کا بھی) چورا (یعنی ریزہ ریزہ) ہوجاویں گے تو کیا (اس کے بعد قیامت میں) ہم از سر نو پیدا اور زندہ کئے جاویں گے (یعنی اول تو مر کر زندہ ہونا ہی مشکل ہے کہ جسم میں زندگی کی صلاحیت نہیں رہی پھر جبکہ وہ جسم بھی ریزہ ریزہ ہو کر اس کے اجزاء منتشر ہوجاویں تو اس کے زندہ ہونے کو کون مان سکتا ہے) آپ (ان کے جواب میں) فرما دیجئے کہ (تم تو ہڈیوں ہی کی حیات کو بعید سمجھتے ہو اور ہم کہتے ہیں کہ) تم پتھر یا لوہا یا اور کوئی ایسی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں (زندگی کی صلاحیت سے) بہت ہی بعید ہو (پھر دیکھو کہ زندہ کئے جاؤ گے یا نہیں اور پتھر…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا۔
کفار کی آخرت سے بیزاری : یہ آخرت کے بارے میں ان کے استبعاد کو نقل فرمایا ہے کہ وہ برسبیل استہزاء و طنز پوچھتے ہیں کہ کیا ہم جب سڑ گل کر ہڈیا اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو ہم از سر نو اٹھائے جائیں گے ! !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48۔ 1 کبھی ساحر، کبھی مسحور، کبھی مجنون اور کبھی کاہن کہتے ہیں، پس اس طرح گمراہ ہو رہے ہیں، ہدایت کا راستہ انھیں کس طرح ملے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
26: جو لوگ اپنی اصلاح اور آخرت کی فکر سے غافل ہو کر بس دنیا کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اور حق کی کوئی طلب ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتی، بلکہ وہ حق کے مقابلے میں ضد اور عناد کی روش اختیار کرلیتے ہیں، وہ حق کو سوچنے سمجھنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ ان دیکھا پردہ ہے جو ان کے اور پیغمبر کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، اور یہی وہ غفلت کا غلاف ہے جو ان کے دلوں پر مسلط ہوجاتا ہے، اور ان کے کانوں میں وہ گرانی پیدا کردیتا ہے جس کی بنا پر وہ حق بات سننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →بعثت بعد الموت کا مسئلہ رسول اللہ اور مشرکین مکہ کے درمیان بار بار زیر بحث آتا تھا۔ قرآن کریم نے بکثرت ان مباحث کو نقل کیا ہے ، حالانکہ اس کائنات اور موت وحیات کی حقیقت پر غوروفکر کرنے والا ہر آدمی بڑی آسانی کے ساتھ اسے سمجھ سکتا ہے۔ حشر ونشر کی نوعیت کو بسہولت سمجھتا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے اس پر بار بار روشنی ڈالی ہے ، لیکن جس سادگی اور سلامت اور جس وضاحت کے ساتھ قرآن نے اس مسئلہ کو سمجھایا ، یہ لوگ اسے نہ سمجھ سکے۔ لہٰذا وہ یہی کہتے رہے کہ مرمٹنے کے بعد وہ کیسے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
وقالوء اذا کنا عظاما ورفاتاء انا لمبعوثون خلقا جدیدا (71 : 94) ”
وہ کہتے ہیں کہ جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو…
Read the full tafseer →11 یعنی آپ پر مسحور و مجنون یا شاعر و کاہن وغیرہ کی مثالیں چسپاں کرنا تو تعجب انگیز تھا ہی، اس سے زیادہ قابل تعجب وہ دلیل ہے جو (معاذ اللہ) مسحور و مجنون ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ موت کے بعد ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ آدمی کا بدن گل سڑ کر سفید ہڈیاں رہ جاتی ہیں تھوڑے دنوں بعد وہ بھی ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل جاتی ہیں۔ کیا کوئی ذی ہوش یہ تجویز کرسکتا ہے کہ یہ ہڈیوں کا چورہ اور خاک کے ریزے دوبارہ جی اٹھیں گے ؟ اور انسانی حیات ان منتشر ذرات میں عود کر آئے گی ؟ اگر پیغمبر ایسی ناممکن بات کی خبر دیتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ (العیاذ باللہ) ان کی دماغی صحت بحال نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
آیت 49 وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا
یہ لوگ آپ سے بڑی حیرت سے سوال کرتے ہیں کہ آپ جو انسانوں کی دوبارہ زندگی کی بات کرتے ہیں یہ کیسے ممکن ہے ؟ جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی اور گوشت گل سڑ جائے گا تو اس کے بعد ہمیں پھر سے نئی زندگی کیسے مل سکتی ہے ؟ گویا ان کی سوچ کے مطابق ایسا ہونا بالکل محال اور ناممکن ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
60 یعنی آپ کے مسحور ہونے کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ جو شخص یہ کہتا ہو کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے، ہماری ہڈیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔ تب بھی ہمیں زندہ کرکے از سر نو اٹھایا جائے گا بھلا اس کے سحر زدہ ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ ؟
Read the full tafseer →71۔ آج کے ” روشن خیالوں “ کی طرح جاہلیت عرب میں ” روشن خیالوں “ اور ماوئیین کا گروہ موجود تھا۔ جو امکان بعث وحشر کے منکر تھے۔ یہ قول انہیں کا نقل ہورہا ہے۔ (آیت) ” قالوا “ یہ وہ برسبیل انکار و استہزاء کہہ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا اور مشرکوں نے کہا کیا جب
ہم ہڈیاں اور بوسیدہ ریزے ہوگئے تو کیا ہم کو پھر بھی از سر نو تخلیق کر کے اٹھایا جائے گا۔
رُفات فرسودہ بوسیدہ ریزے ریزے۔ فتات اور حطام کا بھی یہی معنی ہے۔ قاموس میں ہے رفت یرفت (نصر ینصر) توڑ دیا ‘ ٹوٹ گیا ‘ ریزہ ریزہ ہوگیا اور ریزہ ریزہ کردیا۔ یہ لفظ لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ رفات بروزن غراب ‘ فرسودہ بوسیدہ ‘ ریزہ ریزہ۔ مجاہد نے رفاتاً کا ترجمہ کیا ہے خاک ‘ مٹی ‘ زندہ آدمی کے بدن میں تروتازگی اور شادابی ہوتی ہے اور بوسیدہ ہڈیاں خشک ہوتی ہیں ‘ دونوں حالتوں میں تضاد ہے اس لئے…
Read the full tafseer →(49) اور نضر اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر پرانی ہڈیاں اور ان کا بھی چورا ہوجائیں گے تو ہم پھر زندہ ہوں گے اور مرنے کے بعد پھر از ہمارے اندر روح پھونکی جائے گی۔
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا۔۔ : ”وَّرُفَاتًا“ ”رَفَتَ یَرْفُتُ“ (ن، ض) سے ”فُتَاتًا“ کی طرح ہے، وہ چیز جو ریزہ ریزہ کرکے مٹی کی طرح کردی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور رسول اللہ ﷺ کی نبوت کے بعد قیامت پر کفار کے اعتراض کا ذکر کرکے اس کا جواب دیا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 49
قولہ تعالیٰ : اذا کناعظاما ورفاتًاء یعنی انہوں نے یہ کہا اس حال میں کہ وہ سرگوشیاں کررہے تھے جب انہوں نے قرآن کریم سنا اور دوبارہ زندہ کئے جانے کا حکم سنا کہ اگر یہ جادو کیا ہوا اور دھوکا دیا ہوا نہ ہوتا تو یہ اس طرح نہ کہتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : الزقات کا معنی غبار ہے۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : اس کا معنی تراب (مٹی) ہے۔ اور الرفات ہر وہ شے جو زیزہ ریزہ ہوجائے اور ہر وہ شے جو بوسیدہ اور پرانی ہوجائے، جیسا کہ فتات، حطام اور رضاض (تینوں کا معنی ٹوٹی ہوئی چیز کے ٹکڑے اور چورا ہے۔ ) یہ ابو عبیدہ، کسائی، فراء اور اخفش سے منقول ہے، اسی سے تو کہتا ہے : رفت الشئ رفتا، یعنی چیز کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ورفاتا “ سے مراد ہے ” وغبارا “ یعنی غبار آلود۔
اللہ تعالیٰ کی قدرت بہت بڑی ہے :
2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ورفاتا “ سے مراد ہے مٹی اور فرمایا (آیت) ” قل کونوا حجارۃ اوحدیدا “ سے مراد ہے کہ تم جو مخلوق چاہوں بن جاؤ عنقریب تم کو اللہ تعالیٰ پہلے کی طرح لوٹائے گا جیسے تم تھے۔
3:۔ ابن ابی حاتم عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) اوخلقا مما یکبر فی صدورکم “ سے مراد ہے موت یعنی اگر تم مرجاؤ…
Read the full tafseer →[وَقَالُوْٓا : اور انھوں نے کہا ] [ءَ : کیا ] [اِذَا : جب ] [كُنَا : ہم ہوں گے ] [عِظَامًا : ہڈیاں ] [وَّرُفَاتًا : اور چورہ ] [ءَ : کیا ] [انا : ہم ] [لَمَبْعُوْثُوْنَ : ضرور اٹھائے جانے والے ہیں ] [خَلْقًا جَدِيْدًا : ایک نئی مخلوق ہوتے ہوئے ]
رف ت
[رَفْتًا : (ن) ] کسی چیز کو توڑنا۔ کوٹنا۔
رُفَاتٌ چورہ۔ ریزہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 49 ۔
ج د د
[جَدَّنً : (ض) ] کسی چیز کا نیا ہونا۔
جَدًّا کسی چیز کو کاٹنا۔ راستہ طے کرنا۔
جَرِیْدٌ فَعِیْلٌ کے وزن پر صفت ہے۔ نیا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 49 ۔
جُدَّۃٌ ج جُدَدٌ۔ طریقہ۔ راستہ۔ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِیْض (اور پہاڑوں میں سے سفید راستے ہیں) 35:27 ۔
[جَدًّا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
منکرین بعث کا تعجب کہ ریزہ ریزہ ہو کر کیسے زندہ ہوں گے، ان کے تعجب کا جواب کہ جس نے پہلی بار پیدا کیا وہی دوبارہ زندہ فرمائے گا
گزشتہ آیات میں مشرکین کے انکار وحی کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کے انکار بعث کا تذکرہ ہے۔ جب کفار کے سامنے قیامت قائم ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے اور قبروں سے زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہونے اور پیشی اور حساب قائم ہونے کی بات سامنے آئی تو اس کی تکذیب کرنے لگے اور طرح طرح سے حجتیں نکالنے لگے انہوں نے کٹ حجتی کرتے ہوئے یوں بھی کہا کہ جب قبروں میں صرف ہڈیاں ہی رہ جائیں گے اور چورا چورا ہوچکی ہونگی تو کیا ہم دوبارہ نئے سرے سے زندہ ہونگے اور قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔ یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
اثبات معاد
قال اللہ تعالیٰ وقالوا ءاذا کنا عظاما ورفاتا .... الیٰ .... ان لبثتم الا قلیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں الہٰیات اور نبوات کے متعلق کلام فرمایا اب ان آیات میں منکرین قیامت کا ایک شبہ نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں منکرین قیامت یہ کہا کرتے تھے کہ جب آدمی مرجائے گا اور گوشت پوست اس کا گل سڑ کر ریزہ ریزہ ہوجائے گا تو پھر وہ کیسے زندہ ہوگا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ یہ نوبت آسان ہے جس خدا نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا اس خدا کو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
مرنے کے بعد تمہارے اجزاء خواہ ہوا میں اڑ جائیں یا آگ میں جل جائیں یا مٹی میں مل جائیں اللہ تعالیٰ کے خزانہ علم اور احاطہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
48:۔ یہ شکوی ہے۔ آپ کو ساحر و شاعر اور جنون و مسحور کہنا اور آپ کے لائے ہوئے پیغام توحید کا انکار کرنا اور شرک کرنا تو قابل تعجب تھا ہی یہ لوگ تو حشر و نشر کا بھی انکار کرتے ہیں اور دوبارہ جی اٹھنے پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں گے تو کیا پھر ہمیں دوبارہ پیدا کرلیا جائیگا۔ یہ تو بالکل ہی ناممکن بات ہے۔ ” قل کونوا حجارۃ الخ “ جواب شکوی ہے یعنی مرنے کے بعد اگر تم پتھر یا لوہا بن جاؤ یا ان سے بھی کوئی سخت چیز بن جاؤ جس میں جان ڈالنا تمہیں بہت ہی مشکل نظر آتا ہے تو بھی اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کرلے گا اس کے لیے یہ کام کوئی مشکل نہیں جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت کا مسئلہ بیان فرمایا مشرکین حضور ﷺ پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ تو ہمارے جیسا ہی انسان ہے ، بھلا ہم اس کی اتباع کیوں کریں کبھی کہتے کہ اس پر جادو کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ نعوذ باللہ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے شکوک و شبہات کا رد فرمایا اور مشرکوں کو غلط ذہنیت کو واضح کیا کہ یہ لوگ محض ضد عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایسے اعتراض کرتے ہیں پھر اللہ نے مسئلہ توحید کے ضمن میں فرمایا اگر ارض وسما کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تنزیہہ بیان کرتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر بھی کیا اور…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا 49
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ،
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
رفت
رَفَتُّ الشیء أَرْفُتُهُ رَفْتاً : فَتَّتُّهُ ، والرُّفَاتُ والْفُتَاتُ : ما تكسّر وتفرّق من التّبن ونحوه، قال تعالی: وَقالُوا أَإِذا كُنَّا عِظاماً وَرُفاتاً [ الإسراء/ 49] ، واستعیر الرُّفَاتُ للحبل المنقطع قطعة قطعة .
( رت ) الرفت
یہ بات نصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–52
ترکیب : مستورا و ساترا۔ بما یستمعون بہ ای بسببہ من الھزاء اذ ھم بدل من اذ قبلہ یوم یدعوکم ظرف لیکون بحمدہ فی موضع الحال۔
تفسیر : آسمانوں اور زمین کی چیزوں کی تسبیح تو تم اے مشرکین سمجھتے ہی نہ تھے۔ تمہاری سمجھ میں تو قرآن مجید بھی نہیں آتا جو خاص تمہاری زبان فصیح میں نازل ہوا ہے۔ واذاقرأت الخ اور یہ نہ سمجھنا قرآن کا اس لیے ہے کہ جب تم اے نبی ! قرآن پڑھتے ہو تو ان کی ازلی گمراہی کے پردے بیچ میں حائل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مضامین میں غوروتامل نہیں کرسکتے اور جو کوئی ان کو دوسرا سمجھائے تو سنتے بھی نہیں۔ اور ان کے حواس باطنیہ کے ماؤف ہونے پر یہ دلیل ہے کہ جب قرآن میں توحید کا ذکر اور شرک کی…
Read the full tafseer →وَقَالُوْٓائَ اِذَا کُنَّا عِظَامًاوَّرُفَا تًائَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 49)
(اور کہتے ہیں کہ جب ہم ہڈیاں اور چورا چورا ہوجائیں گے تو ہم ازسرنو اٹھائے جائیں گے۔ )
مشرکین کا اصل مرض
پیچھے ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکین کا اصل مرض آخرت کا انکار تھا۔ انھیں اس بات میں سخت استبعاد معلوم ہوتا تھا کہ جب ہم فنا کی گھاٹ اتر جائیں گے اور ہمیں لحد میں اتار دیا جائے گا تو ایک مدت کے بعد یقینا زمین ہمارے جسموں کو کھاجائے گی اور ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو ہمیں کس طرح ازسرنو زندہ کرکے اٹھایا جائے گا۔ ہمارا جسم نہ جانے مٹی کی کس تہہ میں مٹی بن کر شامل ہوچکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید سے دوری اور عقیدہ توحید سے انحراف کا منطقی نتیجہ آخرت کا انکار ہوتا ہے۔ جس بناء پر مکہ کے کفار مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کرتے تھے۔
آخرت کے منکرین کی سب سے بڑی دلیل یہ ہوا کرتی ہے کہ جب ہم مر کر بوسیدہ ہڈیاں ہوجائیں گے۔ تو پھر ہمیں کون از سر نو پیدا کرے گا ؟ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر آخرت کے منکرین کا عقیدہ یوں بیان کیا گیا ہے۔ کیا انسان غور نہیں کرتا ؟ کہ ہم نے اس کو ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے۔ پھر وہ بڑی بےباکی کے ساتھ جھگڑا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے مختلف قسم کی باتیں اور مثالیں بیان کرتا ہے۔ وہ اپنی پیدائش کو بھول کر کہتا ہے کہ جب ہڈیاں ریزہ ریزہ…
Read the full tafseer →استیعاد قیامت کے لئے کفار کا قول :
49: وَقَالُوْا (اور انہوں نے کہا) یعنی منکرین بعث نے کہا ئَ اِذَا کُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا (جب ہم ہڈیاں اور بوسیدہ ریزے ہوگئے تو ہمیں پھر بھی از سر نو پیدا کر کے اٹھایا جائے گا) جَدِیْد کا معنی از سر نو۔ وخلقا یہ حال ہے۔ پیدا کر کے۔
Read the full tafseer →49۔” وقالوء اذ کنا عظا ما ً ورفاتا ً “ ان کے مرنے کے بعد مجاہد کا قول ہے کہ ان کی مٹی مٹی ہوجانے کے بعد اور بعض نے کہا کہ جب اس دن سب بوسیدہ ہونے کے بعد زندہ ہوجائیں گے۔” ء انا لمبعوثون خلقا ً جدیدا “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–52
47۔ 52:۔ سیرۃ محمد بن اسحاق اور دلائل النبوہ بیہقی میں ناقابل اعتراض سند کی ابن شہاب زہری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابو سفیان اور ابوجہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف اپنے گھر میں پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کرکے آنحضرت ﷺ کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کو خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ حاصل معنے یہ ہیں کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اور اللہ کے رسول کی شان میں یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں وقت مقررہ آنے پر مناسب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
(آیت نمبر (45
اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
قول باری ہے (وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رتا کے ایک خاص حصے میں اس بات سے روک دیا تھا تاکہ ان کے لئے حضور ﷺ کی ایذا رسانی ممکن نہ رہے۔ ایک قول کے مطابق ہم نے ان پر یہ حکم لگا کر کہ وہ گمراہی کے اسی مقام پر رہیں گے ان کے دلوں کو قرآن فہمی کے لئے ناکارہ بنادیا تھا۔ اس میں ان کی ایک طرح مذمت تھی جس کی بنیاد یہ تھی کہ وہ نہ صرف حق کو سمجھنے اور اس کی طرف کان دھرنے سے پہلے بچاتے ہیں بلکہ اس سے منہ پھیر لیتے اور بدکتے بھی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
87۔ منکرین کا بعث بعد الموت پر اچنبھا :۔
یعنی ان کے خیال میں یہ بڑی انہونی اور ناممکن بات ہے۔ اسی لئے یہ لوگ تعجب اور استہزاء کے طور پر اس طرح کہتے ہیں کہ ” جب ہم مر کر ہڈیاں اور چورہ بن جائیں گے تو کیا پھر بھی ہمیں زندہ کرکے اٹھایا جائیگا۔ “ یعنی یہ تو ایک انہونی بات ہے۔ سو ان کی کھوپڑیوں کے مطابق اور انسانی طاقت کے اعتبار سے واقعی ایسے ہی ہے۔ لیکن جس قادر مطلق نے انکو پہلی مرتبہ پیدا کیا اس کی طاقت کے اعتبار سے یہ کچھ بھی مشکل نہیں۔ بلکہ صرف ایک حکم اور اشارے کی دیر ہے اور بس۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : فانماھی زجرۃ واحدۃ فاذا ہم بالساہرۃ ، (النازعات : 13۔ 14) یعنی ” وہ تو محض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
کفار کا انکار قیامت اور اللہ کا جواب
تشریح : کائنات کی ہر چیز ہمارے سامنے فنا ہو رہی ہے۔ انسان مر رہے ہیں اور انسان پیدا ہو رہے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ کافی نہیں اس بات پر یقین کرنے کے لیے کہ ہم سب ضرور مرجائیں گے اور دوبارہ اللہ کی اسی قدرت سے زندہ کیے جائیں گے جس قدرت سے ہم پیدا کیے جاتے ہیں۔ کیا ہمارے پیدا ہونے کا عمل حیرت انگیز نہیں ؟ زمین سے پیدا ہونے والی تمام خوراکوں کو کس طریقہ سے تمہارے والدین کے جسموں میں جمع کردیا تاکہ تمہاری پیدائش کا سامان کیا جائے، پھر ماں کے پیٹ میں کس بہترین اور عجیب و غریب طریقہ سے تمہیں ایک مکمل انسان بنا کر ایک انتہائی پیچیدہ عمل سے گزار کر دنیا میں بھیج دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔
ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
نہ صرف یہ کہ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
ف 1 تو پھر اللہ تعالیٰ تمہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھا لے گا۔ (قرطبی)2 یعنی جب اس نے تمہیں پہلی بار پیدا کردیا حالن کہ کسی چیز کا پہلی بار پیدا کرنا مشکل اور دوبارہ بنانا آسان ہوتا ہے۔ تو اس کے لئے پھر کیا مشکل ہے کہ تمہیں دوبارہ زندگی دے جبکہ اس کے لئے پہلی اور دوسری مرتبہ پیدا کرنا دونوں آسان ہیں۔3 یعنی قیامت جب آنے والی ہے تو وہ چاہے کتنی دور ہو اس یقریب ہی سمجھو اور اپنی نجات کی فکر کرو
Read the full tafseer →(17:49) رفاتا۔ بوسیدہ، گلا ہوا۔ چورا چورا ۔ جو چیز ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے اسے رفات کہا جاتا ہے۔ رفت مصدر (باب نصر) ۔
مبعوثون۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ بعث مصدر (باب فتح) جی اٹھنا۔ زندہ کرنا۔ اٹھ کھڑا ہونا۔ مردوں کے لئے اس کا استعمال بمعنی جی اٹھنا۔ زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرنا اور حشر ہونا ہے۔ مثلاً والموتی یبعثہم اللہ (6:36) اور مردوں کو اللہ ( حشر کے دن قبروں سے زندہ کر کے) اٹھا کھڑا کرے گا۔ اور جب اس استعمال رسولوں کے لئے ہوگا تو اس کے معنی بھیجنے کے ہوں گے جیسے ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا (16:36) اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا۔ مبعوثون دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔ قبروں سے اٹھائے جانے والے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–52
لغات القرآن آیت نمبر 49 تا 52
عظام ہڈیاں۔ رفات ریزہ ریزہ ہوجانا۔ کونوا ہوجاؤ۔ حجارۃ پتھر۔ حدید لوہا۔ یکبر بڑا ہو۔ یعید لوٹائے گا۔ فطر کم جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ اول مرۃ پہلی مرتبہ۔ سینغضون ہلائیں گے۔ روس (راس) سر۔ متی ھو وہ کب ہوگا۔ ؟ ۔ تستجیبون تم جواب دو گے۔ تظنون تم گمان کرو گے۔ ان لبثتم تم نہیں ٹھہرے۔ قلیل تھوڑا۔
تشریح : آیت نمبر 49 تا 52
کفار مکہ اور مشرکین اللہ کے سچے نبی حضرت محمد ﷺ کو لوگوں کی نگاہوں میں کم حیثیت ظاہر کرنے کے لئے طرح طرح کے سوالات اور آپ کی ذات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ کبھی کہتے کہ آپ پر کسی نے جادو کردیا ہے اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
قرآن کی آیتوں پر کفار کا مسخرا پن
شان نزول : ایک روز ابو سفیان اور ابو جہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کر کے آنحضرت ﷺ کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کے خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں۔ وقت مقررہ آنے پر مناسب مواخذہ ان سے کیا جاوے گا۔ چناچہ اس وعدہ کے موافق اس گروہ کے چند شخص جنگ بدر میں ہلاک ہوگئے اور ابو سفیان وغیرہ فتح مکہ پر مسلمان ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
[38] یعنی سنتے ہیں تو تمسخر اور تکذیب کے لئے۔
[39] مشرکین قرآن سننے کے بعد نبی ﷺ کے متعلق آپس میں سرگوشیاں کرتے۔ بسا اوقات انھیں اپنے ہی کسی آدمی پر شبہ ہوجاتا کہ شاید یہ قرآن سن کر کچھ متاثر ہوگیا ہے تو سب مل کر اسے سمجھاتے کہ اس شخص کے پھیر میں نہ آؤ۔ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس پر کسی نے جادو کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
حضور ﷺ سحر زدہ نہیں تھے !
(ف 1) حضور ﷺ کو سحر زدہ کوتاہ نظری کی وجہ سے کہتے تھے ، جب دیکھتے کہ نبوت کے اسرار ان کی سمجھ سے بالا ہیں اور اسلام کے عجیب و غریب نظام کو سمجھنے کی صلاحیت ان میں موجود نہیں تو حیرت واستعجاب میں ڈوبے ہوئے اس کیفیت نافہمی کو جادو وسحر کی جانب منسوب کردیتے ، بات یہ ہے کہ نبوت انتہاء درجے کی دانائی وعقل کا نام ہے ، نبی فہم و فراست کے لحاظ سے انسانیت کا آخری نقطہ ہوتا ہے ، اس کے اعمال وافعال میں نظم وترتیب قائم رکھنے کیلئے پیغمبرانہ بصیرت کی حاجت ہے ، جو لوگ اس بصیرت وآگاہی سے محروم ہوتے ہیں ، وہ سہل اندیشی کی بنا پر کہہ دیتے ہیں ان کے اعمال میں ترتیب اور غرض ومقصد کی…
Read the full tafseer →-49 اور یہ دین حق کے منکر کہتے ہیں کہ ہم جب مرنے کے بعد ہڈیاں اور ہڈیوں کا بھی چورا اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ہم از سر نو زندہ کر کے اٹھائیں جائیں گے۔ یعنی دوسری بار قیامت میں زندہ ہونے کا انکار کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
ف 3۔ کیونکہ ایسے امور سے استعداد ضائع ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
اگر وہ بولے تو کہا کہ جب ہم مرکر چورا چورا ہوجائیں گے تو دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتے ہیں ؟
63۔ آخرت پر ایمان اسلام کے سلسلہ ایمانیات کی آخری کڑی ہے ۔ اس سے مراد پچھلے دن ‘ پچھلی زندگی یا پچھلی دنیا پر یقین کرنا ہے ۔ کفار مکہ کی اکثریت اس وقت بھی اس بات پر یقین نہیں رکھتی تھی ، ان کی نادانی کا یہ عالم تھا کہ وہ کائنات کو ایک کھلنڈرے کا گھروندا اور اپنے آپ کو اس کے جی بہلانے کا ایک کھلون اس مجھے بےٹھ تھے اور اس احمقانہ تصور میں اتنے مگن تھے کہ جب انہیں پیغمبر اسلام اس کار گاہ حیات کا سنجیدہ مقصد اور خود ان کے وجود کی معقول غرض وغایت سمجھاتے تو وہ ایک قہقہہ لگاتے اور پھبتی کستے کہ یہ شخص تو دراصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
Commentary
Can Magic affect a Prophet?
A prophet being affected by magic is as possible as being affected by sickness. Therefore, blessed prophets are not devoid of or detached from human characteristics. For instance, they could be wounded, run temperature or feel pain. Similarly, they could also be affected by magic because, that too, is triggered by the influence of physical causes, such as those of the Jinn. And it also stands proved from Hadith that there was an occasion when the Holy Prophet ﷺ was affected by magic. As for the disbelievers calling him 'bewitched' ('mashur' ) in verse 47…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
54. This is to say that they expressed different opinions at different times which contradicted each other. Sometimes they said: You are a sorcerer. And at other times: You have been bewitched by someone, or you are a poet or you are possessed of some evil spirit. These contradictory things were a proof that they did not know the reality. Otherwise, they would not have invented a different name to suit each occasion. This also shows that they themselves were not sure of the charge they leveled against him. If they called him by one epithet one day, they themselves felt afterwards that it did…
Read the full tafseer →