Al-Israa 17:48

Al-Israa · from ayah 48

17:48

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا ۟اُنْظُرۡ كَيۡفَ ضَرَبُوۡا لَكَ الۡاَمۡثَالَ فَضَلُّوۡا فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَ سَبِيۡلًا

دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور رستہ نہیں پاسکتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Look how they strike for you comparisons; but they have strayed, so they cannot [find] a way.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:48

دیکھو، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں یہ بھٹک گئے ہیں اِنہیں راستہ نہیں ملتا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور رستہ نہیں پاسکتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

دیکھیں تو سہی، آپ کے لئے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا

— مولانا محمد جوناگڑہی

دیکھو انہوں نے تم پر کیسی کیسی پھبتیاں چست کی ہیں۔ یہ راہ سے بھٹک چکے ہیں۔ چنانچہ یہ راستے پر نہیں آسکتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

دیکھو انہوں نے تمہیں کیسی تشبیہیں دیں تو گمراہ ہوئے کہ راہ نہیں پاسکتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیب!) دیکھئے (یہ لوگ) آپ کے لئے کیسی (کیسی) تشبیہیں دیتے ہیں پس یہ گمراہ ہو چکے، اب راہِ راست پر نہیں آسکتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

دیکھ انھوں نے کس طرح تیرے لیے مثالیں بیان کیں۔ پس گمراہ ہوگئے، سو وہ کسی راہ پر نہیں آسکتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

غور کرو وہ آپ کے لئے کیسی مثالیں بیان کر رہے ہیں یہ لوگ ایسے بھٹکے ہوئے ہیں کہ اب راہ نہیں پاسکتے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

دیکھو، تم پر کیسے کیسے فقرے چست کررہے ہیں۔ یہ لوگ کھوئے گئے ہیں، کوئی راہ نہیں پا رہے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

دیکھو تو سہی (عقل کے دشمن اور نصیب کے کھوٹے) یہ لوگ آپ کے لئے کیسی کیسی مثالیں بیان کرتے ہیں، سو یہ ایسے بھٹکے کہ اب انھیں کوئی راہ دکھائی ہی نہیں دیتی

— مولانا اسحاق مدنی

آپ دیکھئے تو یہ لوگ آپ کے لئے کیسے کیسے القاب تجویز کرتے ہیں سو یہ گمراہ ہوگئے تو اب رستہ نہیں پاسکتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

دیکھئے کیسے بیان کرتے ہیں یہ لوگ آپ کے لیے مثالیں چناچہ وہ بھٹک گئے ہیں اور اب راہ یاب نہیں ہو سکیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دیکھیں انہوں نے کس کس طرح کی باتیں آپ کے بارے میں بنائی ہیں، سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور رستہ نہیں پاسکتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Just see how strange are the things they invent about you. They have altogether strayed, and are unable to find the right way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

See how they have made (silly) statements about you; so they have gone astray and cannot find a way.

— Muhammad Taqi Usmani

See how they have made (silly) statements about you; so they have gone astray and cannot find a way.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See what examples they have put forward for you. So they have gone astray, and never can they find a way.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

See what similitudes they coin for thee, and thus are all astray, and cannot find a road!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Look how they strike for you comparisons; but they have strayed, so they cannot [find] a way.

— Saheeh International

Consider what they have called you. They have certainly gone astray and cannot find the right path.

— Muhammad Sarwar

See what they liken you to! So they have gone astray and cannot find the way.

— Muhammad Habib Shakir

Behold! how they propound similitudes for thee! They have strayed and cannot find a way.

— Abdul Majid Daryabadi

See what similes they strike for thee: but they have gone astray, and never can they find a way.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:48

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 47–48

سرداران کفر کا المیہ سراداران کفر جو آپس میں باتیں بناتے تھے وہ آنحضرت ﷺ کو پہنچائی جا رہی ہیں کہ آپ تو تلاوت میں مشغول ہوتے ہیں یہ چپکے چپکے کہا کرتے ہیں کہ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ یہ مطلب ہو کہ یہ تو ایک انسان ہے جو کھانے پینے کا محتاج ہے۔ گو یہ لفظ اسی معنی میں شعر میں بھی ہے اور امام ابن جریر نے اسی کو ٹھیک بھی بتلایا ہے لیکن یہ غور طلب ہے۔ ان کا ارادہ اس موقع پر اس کہنے سے یہ تھا کہ خود یہ جادو میں مبتلا ہے کوئی ہے جو اسے اس موقع پر کچھ پڑھا جاتا۔ کافر لوگ طرح طرح کے وہم آپ کی نسبت ظاہر کرتے تھے کوئی کہتا آپ شاعر ہیں، کوئی کہتا کاہن ہیں، کوئی مجنوں بتلاتا، کوئی جادوگر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 48–50

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 54 یعنی یہ تمہارے متعلق کوئی ایک رائے ظاہر نہیں کرتے بلکہ مختلف اوقات میں بالکل مختلف اور متضاد باتیں کہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں تم خود جادوگر ہو۔ کبھی کہتے ہیں تم پر کسی اور نے جادو کردیا ہے۔ کبھی کہتے ہیں تم شاعر ہو۔ کبھی کہتے ہیں تم مجنون ہو۔ ان کی یہ متضاد باتیں خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ حقیقت ان کو معلوم نہیں ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ وہ آئے دن ایک نئی بات چھانٹنے کے بجائے کوئی ایک ہی قطعی رائے ظاہر کرتے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود اپنے کسی قول پر بھی مطمئن نہیں ہیں۔ ایک الزام رکھتے ہیں۔ پھر آپ ہی محسوس کرتے ہیں کہ یہ چسپاں نہیں ہوتا۔ اس کے بعد دوسرا الزام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 47–48

معارف و مسائل پیغمبر پر جادو کا اثر ہوسکتا ہے کسی نبی اور پیغمبر پر جادو کا اثر ہوجانا ایسا ہی ممکن ہے جیسا بیماری کا اثر ہوجانا اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) بشری خواص سے الگ نہیں ہوتے جیسے ان کو زخم لگ سکتا ہے بخار اور درد ہوسکتا ہے ایسے ہی جادو کا اثر بھی ہوسکتا ہے کیونکہ وہ بھی خاص اسباب طبیعہ جنات وغیرہ کے اثر سے ہوتا ہے اور حدیث میں ثابت بھی ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ پر سحر کا اثر ہوگیا تھا آخری آیت میں جو کفار نے آپ کو مسحور کہا اور قرآن نے اس کی تردید کی اس کا حاصل وہ ہے جس کی طرف خلاصہ تفسیر میں اشارہ کردیا گیا ہے کہ ان کی مراد درحقیقت مسحور کہنے سے مجنون کہنا تھا اسی کی تردید…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا۔ " ضرب مثل " سے مراد یہاں فقرے اور پھبتیان چست کرنا ہے۔ ملاحظہ ہو آیات 8-9 فرقان۔ مطلب یہ ہے کہ تم پر اور قرآن پر اعتراض کرنے کی کوئی راہ تو انہیں مل نہیں رہی ہے اس وجہ سے یہ بالکل کھوئے گئے ہیں۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ ماننا چاہتے نہیں اور تردید کا کوئی پہلو ہاتھ نہیں آرہا ہے اس وجہ سے جس کے منہ میں جو کچھ آجاتا ہے، دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے وہی بک دیتا ہے۔ کوئی کاہن بتاتا ہے۔ کوئی مجنون، کوئی ساحر کہتا ہے، کوئی مسحور۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے حواس باختوں کی باتوں پر صبر کرو اور ان کو ان کے حال پر چھوڑو۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 48–49

48۔ 1 کبھی ساحر، کبھی مسحور، کبھی مجنون اور کبھی کاہن کہتے ہیں، پس اس طرح گمراہ ہو رہے ہیں، ہدایت کا راستہ انھیں کس طرح ملے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 45–50

26: جو لوگ اپنی اصلاح اور آخرت کی فکر سے غافل ہو کر بس دنیا کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اور حق کی کوئی طلب ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتی، بلکہ وہ حق کے مقابلے میں ضد اور عناد کی روش اختیار کرلیتے ہیں، وہ حق کو سوچنے سمجھنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ ان دیکھا پردہ ہے جو ان کے اور پیغمبر کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، اور یہی وہ غفلت کا غلاف ہے جو ان کے دلوں پر مسلط ہوجاتا ہے، اور ان کے کانوں میں وہ گرانی پیدا کردیتا ہے جس کی بنا پر وہ حق بات سننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

انظر کیف ضربوا لک الامچال فصلوا فلا یستطیعون سبیلا (71 : 74) دیکھو کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں ، یہ بھٹک گئے ہیں ، انہیں راستہ نہیں ملتا “۔ یہ آپ ﷺ کو جادوگر اور جادو زدہ کہتے ہیں ، حالانکہ آپ ﷺ تو رسول ہیں۔ یہ خود گمراہ ہوگئے ، راہ ہدایت نہیں پا رہے ، یہ اس قدر حیران ہوگئے کہ انہیں کوئی راہ نہیں سوجھتی۔ نہ وہ راہ راست پر آتے ہیں اور نہ ہی اپنے غلط موقف پر کوئی صحیح استدلال کرسکتے ہیں۔ یہ تو تھے ان کے اقوال اور ان کی آراء قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں۔ قرآن کے فلسفہ کائنات کے بارے میں ان کی رائے یہ تھی کہ وہ قیامت اور بعث بعد الموت کے قائل نہ تھے اور اسے مستبد سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی کبھی شاعر کہتے، کبھی جادو گر، کبھی کاہن، کبھی مسحور یا مجنون، غرض بہکی بہکی باتیں کرتے رہتے ہیں کسی ایک بات پر جماؤ نہیں جس وقت جو منہ میں آیا بک دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ باوجود جدوجہد کے طعن وتشنیع کا کوئی ایسا راستہ انھیں نہیں مل سکتا جس پر چل کر وہ اپنے مقصد اغواء واضلال میں کامیاب ہو سکیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 48 اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ کبھی وہ آپ کو سحر زدہ آدمی کہتے ہیں کبھی کاہن اور کبھی شاعر ! دیکھیں کیسی کیسی بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور اس میں بھی کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

59 یعنی کبھی آپ کو مسحور کہتے ہیں، کبھی ساحر، کبھی کاہن اور کبھی شاعر یعنی ان کی ایسی مت ماری گئی ہے کہ وہ خود بھی کسی ایک بات پر اتفاق نہیں کرسکتے۔ ایک بات کہتے ہیں پھر خود ہی اس کی تردید کرنے لگتے ہیں۔ انھیں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جس پر وہ سب متفق ہو سکیں کہ آخر اسے کہیں تو کیا کہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

70۔ (حق وصواب کا) یعنی قرآن کے ساتھ اور رسول کے ساتھ استہزاء کرکے انہوں نے اپنی استعداد اور صلاحیتوں کو بالکل ضائع کردیا ہے اور اب انہیں راہ ہدایت بھلا کیا ملے گی ! (آیت) ” فضلوا “۔ یعنی اب بالکل ہی گمراہ ہوگئے ہیں۔ (آیت) ” کیف ضربوا لک الامثال “۔ چناچہ ان ” عقلاء “ قوم میں سے کوئی تو آپ کے لئے یہ رائے قائم کرتا کہ آپ ﷺ شاعر ہیں اور کوئی یہ کہتا کہ آپ ﷺ ساحر ہیں۔ کوئی روشن خیال صاحب یہ فرماتے کہ آپ ﷺ ” مجنون “۔ ہیں اور کوئی یہ گدا لگاتے کہ ہو نہ ہو آپ ﷺ کاہن ہیں۔ بیسویں صدی کے ” روشن خیال “ بھی تو کچھ ایسی ہی طبع آزمائیاں فرماتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا دیکھو ان لوگوں نے آپ کے لئے کیسے کیسے القاب تجویز کئے ہیں سو یہ لوگ گمراہ ہوگئے۔ کسی نے شاعر کہا ‘ کسی نے جادوگر ‘ کسی نے سحر زدہ اور مسحور۔ کسی نے کاہن ‘ کسی نے جن رسیدہ دیوانہ۔ یہ باتیں کہنے کی وجہ سے یہ حق سے بھٹک گئے کیوں کہ ان باتوں میں سے کسی میں سچائی تو ہے نہیں ‘ کوئی بات حق نہیں ہے۔ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا اب رستہ ہی نہیں پاسکتے۔ یعنی حق و ہدایت کے راستے پر چل نہیں سکتے ‘ کیونکہ اللہ نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ حسب مراد کسی مدلل ‘ مناسب طعن کا ان کو راستہ نہیں ملتا کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(48) اے محمد ﷺ آپ دیکھیے تو کہ یہ لوگ آپ کے لیے کیسے کیسے القابات تجویز کرتے ہیں، سو یہ لوگ اپنی ان باتوں میں گمراہی میں پڑے ہوئے ان سے ان کو چھٹکارا نہیں حاصل ہوسکتا یا یہ کہ ان کے پاس اپنی باتوں کے لیے کوئی بھی دلیل نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا۔۔ : یعنی ایک بات نہیں جو آپ کے بارے میں کہتے ہوں، بلکہ مختلف اوقات میں مختلف باتیں کہتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ آپ جادوگر ہیں، کبھی کہتے ہیں کسی دوسرے نے آپ پر جادو کردیا ہے، کبھی کہتے ہیں کہ آپ شاعر ہیں، کبھی کاہن اور کبھی مجنون (دیوانہ) کہتے ہیں۔ ان کی متضاد باتیں خود اس بات کی دلیل ہیں کہ انھیں حقیقت کا کچھ پتا نہیں، اس حال میں کیسے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ انھیں ہدایت کا صحیح راستہ مل سکے، یا مطلب یہ ہے کہ ان باتوں سے دوسروں کو ہدایت سے روکنے کے لیے کوئی راستہ نہیں پاتے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 48 قولہ تعالیٰ : انظر کیف ضربوالک الامثال یہ ان کے عمل اور کارستانی پر اطہار تعجب کیا ہے کہ وہ کبھی کہتے ہیں : یہ جادوگر ہے اور کبھی کہتے ہیں : یہ مجنون ہے اور کبھی کہتے ہیں : یہ شاعر ہے۔ فضلوا فلا یستطیعون سبیلا پس وہ لوگوں کو آپ سے روکنے کا حیلہ کرکے گمراہ ہوگئے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ حق سے گمراہ ہوگئے ہیں پس اب وہ ہدایت کی طرف لے جانے والے راستے کو نہیں پاسکتے۔ اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ (گمراہی سے) نکلنے کی راہ نہیں پاسکتے کیونکہ ان کے قول میں ان کا کلام متناقض ہے، یعنی وہ کبھی مجنون، کبھی ساحر اور کبھی شاعر کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–48

1:۔ عبد الرازق، ابن جری، ابن منذر اور ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واتخذ من الملئکۃ اناثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودیوں نے فرشتوں کو حق جل شانہ کی بیٹیاں کہا اور (آیت) ” قل لوکان معہ الہۃ “ سے مراد ہے کہ (اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور خدا ہوتا) تو پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی فضیلت کو ان پر جان لیتے پس وہ ایسا حیلہ (ضرور) تلاش کرتے جو ان کو اس کے قریب کردیتا (اور) بلاشبہ وہ (فرشتے) ایسے نہیں ہیں جیسے وہ کہتے ہیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا ابتغوا الی ذی العرش سبیلا “ سے مراد ہے کہ وہ (دوسرے خدا) عرش والے پر غلبہ کی راہ تلاش کرتے کہ کہاں ہیں کہ اس کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انظُرْ : آپ ﷺ دیکھیں ] [كَيْفَ : کیسے ] [ضَرَبُوْا : انھوں نے بیان کیں ] [لَكَ : آپ ﷺ کے لئے ] [الْاَمْثَالَ : مثالیں ] [فَضَلُّوْا : نتیجتاً وہ گمراہ ہوئے ] [فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : پس وہ استطاعت نہیں رکھتے ] [سَبِيْلًا : کسی راستے کی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قال صاحب الروح ای ما تتبعون ان وجد منکم الاتباع فرضا ان لوگوں کی یہ بات نقل کرکے کہ وہ آپ کو مسحور بتاتے ہیں ارشاد فرمایا (اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ ) آپ دیکھ لیجیے کہ آپ کے لیے کیسے کیسے القاب تجویز کرتے ہیں کبھی ساحر کبھی شاعر کبھی مسحور کہتے ہیں اور کبھی مجنون بتاتے ہیں۔ (فَضَلُّوْا) (لہٰذا وہ گمراہ ہوگئے راہ حق سے بھٹک گئے) (فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا) (سو یہ لوگ راہ یاب نہیں ہونگے) کیونکہ قبولیت کی استعداد ضائع کرچکے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–48

تاکید توحید وبیان حال منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ : ولقد صرفنا فی ھذا القران لیذکروا .... الیٰ .... فلا یستطیعون سبیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں سب سے اہم اور اعظم حکم توحید کا تھا اب ان آیات میں اس کی تاکید اور تائید کے لیے ابطال شرک پر ایک دلیل عقلی قائم فرماتے ہیں بعد ازاں ان مشرکین نبوت کا حال بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اس درجہ سنگ دل ہوچکے ہیں کہ جب قرآن میں توحید کے مضامین سنتے ہیں تو ان کی وحشت اور نفرت میں زیادتی ہوجاتی ہے اس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے تذکر کے لیے نازل کیا تھا مگر یہ نادان بوجہ عدم تدبر کے تنفر اور تمسخر کی حد میں داخل ہوگئے ہیں یہ ضد اور عناد کی انتہا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

47:۔ آپ کو کبھی جادوگر اور شاعر کہتے ہیں اور کبھی مسحور و مجنوں۔ ان کا یہ رویہ بھی قابل تعجب ہے کہ آپ پر طعن وتشنیع کی کوئی ایک راہ متعین نہیں کرسکتے وہ اپنے ہر طعن میں گمراہ اور صراط مستقیم سے دور ہیں۔ وہ مختلف مطاعن سے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ایک بات پر مستقل نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے (” فلا یستطیعون سبیلا “ ) ای حیلۃ فی صد الناس عنک (قرطبی ج 10 ص 273) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–48

(قرآن بطور نصیحت) اسلامی معاشرے کی فلاح کے لیے پندرہ زریں اصولوں کے اول وآخر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید بیان فرمایا ، اب اس آیات میں بھی قرآن پاک کی صداقت اور مسئلہ توحید ہی کا ذکر ، اور شرک کا رد ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد صرفنا فی ھذالقران “۔ ہم نے اس قرآن پاک میں مختلف طریقوں ، عنوانوں اور پیرایوں میں پھیر پھیر کر بیان کیا ہے ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، ایمانیات ، رسالت ، معاد اور موجود اور دوسری زندگی سے تعلق رکھنے والی ساری باتیں آسانی سے سمجھ میں آسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے (آیت) ” لیذکروا “۔ تاکہ لوگ ان مثالوں سے نصیحت پکڑیں اور کفر وشرک کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا 48؀ نظر النَّظَرُ : تَقْلِيبُ البَصَرِ والبصیرةِ لإدرَاكِ الشیءِ ورؤيَتِهِ ، وقد يُرادُ به التَّأَمُّلُ والفَحْصُ ، وقد يراد به المعرفةُ الحاصلةُ بعد الفَحْصِ ، وهو الرَّوِيَّةُ. يقال : نَظَرْتَ فلم تَنْظُرْ. أي : لم تَتَأَمَّلْ ولم تَتَرَوَّ ، وقوله تعالی: قُلِ انْظُرُوا ماذا فِي السَّماواتِ [يونس/ 101] أي : تَأَمَّلُوا . والنَّظَرُ : الانْتِظَارُ. يقال : نَظَرْتُهُ وانْتَظَرْتُهُ وأَنْظَرْتُهُ. أي : أَخَّرْتُهُ. قال تعالی: وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ [هود/ 122] ، ( ن ظ ر ) النظر کے معنی کسی چیز کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–52

ترکیب : مستورا و ساترا۔ بما یستمعون بہ ای بسببہ من الھزاء اذ ھم بدل من اذ قبلہ یوم یدعوکم ظرف لیکون بحمدہ فی موضع الحال۔ تفسیر : آسمانوں اور زمین کی چیزوں کی تسبیح تو تم اے مشرکین سمجھتے ہی نہ تھے۔ تمہاری سمجھ میں تو قرآن مجید بھی نہیں آتا جو خاص تمہاری زبان فصیح میں نازل ہوا ہے۔ واذاقرأت الخ اور یہ نہ سمجھنا قرآن کا اس لیے ہے کہ جب تم اے نبی ! قرآن پڑھتے ہو تو ان کی ازلی گمراہی کے پردے بیچ میں حائل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مضامین میں غوروتامل نہیں کرسکتے اور جو کوئی ان کو دوسرا سمجھائے تو سنتے بھی نہیں۔ اور ان کے حواس باطنیہ کے ماؤف ہونے پر یہ دلیل ہے کہ جب قرآن میں توحید کا ذکر اور شرک کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–48

وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُوْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔ وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّـۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِیْٓ اٰذانِہِمْ وَقْرًا ط وَاِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ وَلَّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ نُفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 45۔ 46) (جب آپ ﷺ قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ہم آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں۔ اور ہم ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں، اور جب آپ ﷺ قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–48

فہم القرآن ربط کلام : عقیدہ توحید سے نفرت کی بناء پر کفار قرآن مجید کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔ اگر کہیں انہیں قرآن مجید سننا پڑجائے۔ تو وہ عیب جوئی کی نیت سے سنا کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں رب ذوالجلال کا فرمان ہے کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ قرآن مجید کو کس نیت سے سنتے ہیں۔ کفار اور مشرکین کو قرآن مجید میں جس بات سے سب سے زیادہ چڑ تھی اور ہے۔ وہ توحید کا مضمون ہے۔ اس بناء پر کفار قرآن مجید سننے کے بعد آپس میں سرگوشیاں کرتے اور قرآن مجید سے متاثر ہونے والے حضرات کو کہتے کہ تم ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو ہوچکا ہے۔ اس پر رسول معظم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ کہ اے پیغمبر !…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

48: اُنْظُرْ کَیْفَ ضَرَبُوْا لَکَ الْاَمْثَالَ (غور کرو انہوں نے آپ کے متعلق کیسے کیسے لقب تجویز کئے ہیں) کسی نے شاعر کسی نے ساحر کسی نے مجنون سے مثال دی۔ فَضَلُّوْا فَـلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا (پس یہ لوگ گمراہ ہوگئے اب یہ راستہ ہی نہیں پاسکتے) یعنی یہ ان سب باتوں میں اس شخص کی طرح گم گشتہ راہ ہیں جیسا کوئی شخص جنگل میں راستے کا متلاشی ہو اور راستہ اس کو نہ ملے وہ حیرانی میں ہو کہ کیا کرے۔ کہاں جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

48۔” انظر “ اے محمد ( خطاب آپ ﷺ کو کہے) ” کیف ضربوا لک الامثال “ اس کا مشابہ ہے۔ ان میں سے بعض نے ان کو شاعر و ساحر اور کاہن اور مجنون کہا ۔ ” فضلوا “ کسی نے ان کو سخت سست کہا ۔ ” فلا یستطیعون سبیلا ً “ وہ سیدھے راستے تک پہنچنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 47–52

47۔ 52:۔ سیرۃ محمد بن اسحاق اور دلائل النبوہ بیہقی میں ناقابل اعتراض سند کی ابن شہاب زہری سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ابو سفیان اور ابوجہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف اپنے گھر میں پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کرکے آنحضرت ﷺ کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کو خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیتیں نازل فرمائیں 1 ؎۔ حاصل معنے یہ ہیں کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اور اللہ کے رسول کی شان میں یہ لوگ جو باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں وقت مقررہ آنے پر مناسب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–55

(آیت نمبر (45 اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–51

قول باری ہے (وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رتا کے ایک خاص حصے میں اس بات سے روک دیا تھا تاکہ ان کے لئے حضور ﷺ کی ایذا رسانی ممکن نہ رہے۔ ایک قول کے مطابق ہم نے ان پر یہ حکم لگا کر کہ وہ گمراہی کے اسی مقام پر رہیں گے ان کے دلوں کو قرآن فہمی کے لئے ناکارہ بنادیا تھا۔ اس میں ان کی ایک طرح مذمت تھی جس کی بنیاد یہ تھی کہ وہ نہ صرف حق کو سمجھنے اور اس کی طرف کان دھرنے سے پہلے بچاتے ہیں بلکہ اس سے منہ پھیر لیتے اور بدکتے بھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

86۔ انکار حق کا نتیجہ مت ماری اور حواس باختگی۔ والعیاذ باللہ :۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ ایسے بھٹک گئے کہ ان کو کوئی راستہ مل ہی نہیں رہا۔ سو اظہار تعجب اور حیرت وحسرت کے انداز میں ارشاد فرمایا گیا ” سودیکھو تو سہی کہ یہ لوگ آپ کیلئے کیسی کیسی عجیب مثالیں بیان کرتے ہیں۔ “ جن کا حقیقت اور واقعہ سے کوئی تعلق اور جوڑ نہیں ہوتا اور نہ ہوسکتا ہے بلکہ یہ ایسی مثالیں بیان کرتے ہیں جو خود باہم متصادم ومعارض اور ایک دوسرے کی تردید کررہی ہوتی ہیں۔ مثلا کبھی آپ ﷺ کو ساحر کہتے ہیں اور کبھی مسحور۔ کبھی شاعر اور کبھی مجنون۔ سو اس سے خود ان کی اپنی سخافت عقل اور ان کے اندھے اور اوندھے پن کا پتہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–48

کفار کی گمراہی اور بد بختی تشریح ان آیات میں بھی کفار کی حجت بازیاں، اعتراضات اور الزامات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ لوگ اکثر اوقات مختلف قسم کی باتیں آپ کے لیے کہتے رہتے تھے۔ مثلاً کبھی کہتے آپ شاعر ہیں، جادو گر ہیں، مجنون ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یعنی ان کو خود اس بات پر یقین نہ تھا کہ آپ کو کیا کہہ کر مسترد کریں۔ ان کی انہی گمراہیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت حاصل کرنے کی حس ہی بالکل فنا کردی تھی، یعنی بالکل پکے کفار بن چکے تھے نہ ہدایت پسند کرتے تھے اور نہ ہی اللہ ان کے لیے ہدایت کے راستے کھولتا تھا۔ کفار اور مشرکین جب اکیلے اللہ کا ذکر سنتے تو بھاگ کھڑے ہوتے اور نفرت میں بڑھ جاتے۔ یہ بات…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) نہ صرف یہ کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 یعنی ایک بات نہیں جو آپ کے بارے میں کہتے ہوں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف باتیں کہتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ آپ جادوگر ہیں کبھی کہتے ہیں کسی دوسرے نے آپ پر جادو کردیا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ آپ شاعر ہیں کبھی کاہن اور کبھی مجنوں (دیوانہ) کہتے ہیں ان کی یہ متضاء باتیں خود اس بات کی دلیل ہیں کہ انہیں حقیقت کا کچھ پتہ نہیں۔ اس حال میں یہ کیسے امید کی جاسکتی ہے کہ انہیں ہدایت کا صحیح راستہ مل سکے یا مطلب یہ ہے کہ ان باتوں سے دوسروں کو ہدایت سے روکنے کے لئے کوئی راستہ نہیں پاتے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 47–48

(17:47) بما یستمعون بہ۔ کس غرض کے لئے سنتے ہیں۔ بہ بمعنی لاجلہ۔ بسببہ کے مترادف ہے۔ یعنی ان کے قرآن سننے کا سبب یا وجہ کیا ہے۔ کس مقصد کے لئے سنتے ہیں۔ یستمعون اور بہ کے درمیان القران محذوف ہے۔ اذ یستمعون الیک۔ جب وہ کان لگا کر آپ کو سنتے ہیں۔ نجوی۔ یہ مادہ ن ج و سے مشتق ہے اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں اسی سے محاورہ ہے۔ نجا فلان من فلان فلاں نے فلاں سے نجات پائی۔ باب افعال وتفعیل سے۔ نجات دینا کے معنی میں ہے مثلاً فانجینا الذین امنوا (27:53) اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے بچا لیا۔ نجینا الذین امنوا (41:18) اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے بچا لیا۔ باب تفاعل اور مفاعلہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–48

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 48 قرات تو نے پڑھا۔ حجاب پردہ۔ مستور چھپا ہوا۔ اکنۃ پردہ۔ وقر گرانی، ڈاٹ۔ وحدہ یکتا۔ ایک اللہ۔ ولو وہ پلٹ گئے۔ بھاگ گئے۔ اد بار (دبر) پیٹھ۔ یستمعون وہ غور سے سنتے ہیں۔ نجوی چپکے چپکے باتیں کرنا۔ سرگوشیاں۔ مسحور جادو کیا گیا۔ ضربوا وہ مارتے ہیں۔ چسپاں کرتے ہیں (چسپاں کیا) ۔ لایستطیعون وہ طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 48 عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان کی دولت اور نور بصیرت سے محروم ہوتے ہیں وہ اپنے دل کو تسلی اور نگاہوں پر فریب کے پردے ڈال کر ایسی بےبنیاد باتوں کو گھڑ لیتے ہیں جن کی کوئی اصل اور حقیقت نہیں ہوتی اور انداز فکر کے زاویئے اتنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–49

قرآن کی آیتوں پر کفار کا مسخرا پن شان نزول : ایک روز ابو سفیان اور ابو جہل اور چند قریش جمع ہوئے اور جس وقت آنحضرت ﷺ نماز میں قرآن شریف پڑھ رہے تھے اس وقت چھپ کر قرآن شریف سنا اور پھر آپس میں صلاح کر کے آنحضرت ﷺ کو جادو کیا ہوا ایک شخص اور حشر کی آیتوں کے خلاف عقل ہونے کا ذکر کرنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف سن کر یہ لوگ جو آپس میں باتیں کرتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہیں۔ وقت مقررہ آنے پر مناسب مواخذہ ان سے کیا جاوے گا۔ چناچہ اس وعدہ کے موافق اس گروہ کے چند شخص جنگ بدر میں ہلاک ہوگئے اور ابو سفیان وغیرہ فتح مکہ پر مسلمان ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–53

[38] یعنی سنتے ہیں تو تمسخر اور تکذیب کے لئے۔ [39] مشرکین قرآن سننے کے بعد نبی ﷺ کے متعلق آپس میں سرگوشیاں کرتے۔ بسا اوقات انھیں اپنے ہی کسی آدمی پر شبہ ہوجاتا کہ شاید یہ قرآن سن کر کچھ متاثر ہوگیا ہے تو سب مل کر اسے سمجھاتے کہ اس شخص کے پھیر میں نہ آؤ۔ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس پر کسی نے جادو کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–50

حضور ﷺ سحر زدہ نہیں تھے ! (ف 1) حضور ﷺ کو سحر زدہ کوتاہ نظری کی وجہ سے کہتے تھے ، جب دیکھتے کہ نبوت کے اسرار ان کی سمجھ سے بالا ہیں اور اسلام کے عجیب و غریب نظام کو سمجھنے کی صلاحیت ان میں موجود نہیں تو حیرت واستعجاب میں ڈوبے ہوئے اس کیفیت نافہمی کو جادو وسحر کی جانب منسوب کردیتے ، بات یہ ہے کہ نبوت انتہاء درجے کی دانائی وعقل کا نام ہے ، نبی فہم و فراست کے لحاظ سے انسانیت کا آخری نقطہ ہوتا ہے ، اس کے اعمال وافعال میں نظم وترتیب قائم رکھنے کیلئے پیغمبرانہ بصیرت کی حاجت ہے ، جو لوگ اس بصیرت وآگاہی سے محروم ہوتے ہیں ، وہ سہل اندیشی کی بنا پر کہہ دیتے ہیں ان کے اعمال میں ترتیب اور غرض ومقصد کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-48 اے پیغمبر ذرا دیکھئے تو آپ کے متعلق اور آپ کی شان میں یہ کیسی کیسی مثالیں گھڑتے اور بیان کرتے ہیں سو یہ بھٹکتے پھرتے ہیں اور گمراہ ہیں تو اب یہ راہ حق اور صحیح راستہ نہیں پاسکتے۔ یعنی قرآن کریم کا استہزاء اور رسول اللہ ﷺ کی توہین کے سبب جو گمراہی ان کو میسر ہوئی ہے سو ان کے لئے راہ حق کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! آپ کی نسبت ان لوگوں نے کیا کچھ ہے جو نہیں کہا ؟ 62۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کے متعلق ان لوگوں نے کبھی ایک رائے قائم نہیں کی بلکہ مختلف اوقات میں جو ان کے منہ میں آیا کہہ دیا گویا آپ کے معاملہ میں یہ مکمل طور پر بوکھلا گئے ہیں اور کوئی ایک رائے قائم نہیں کرسکے ، یہ لوگ کبھی تو کہتے ہیں کہ اس پر کسی جن کا سایہ ہوگیا ہے ، کبھی کہتے ہیں کسی نے اس پر جادو کردیا ہے کبھی کہنے لگتے ہیں کہ یہ خود جادوگر ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ ہمارے دیوی دیوتاؤں اور بزرگون میں سے کسی کی مار اس کو لگ گئی ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ یہ بہت ہوشیار آدمی ہے اس نے کوئی دارالترجمہ کھول رکھا ہے اور پرانی پرانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 47–51

Commentary Can Magic affect a Prophet? A prophet being affected by magic is as possible as being affected by sickness. Therefore, blessed prophets are not devoid of or detached from human characteristics. For instance, they could be wounded, run temperature or feel pain. Similarly, they could also be affected by magic because, that too, is triggered by the influence of physical causes, such as those of the Jinn. And it also stands proved from Hadith that there was an occasion when the Holy Prophet ﷺ was affected by magic. As for the disbelievers calling him 'bewitched' ('mashur' ) in verse 47…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 48–50

54. This is to say that they expressed different opinions at different times which contradicted each other. Sometimes they said: You are a sorcerer. And at other times: You have been bewitched by someone, or you are a poet or you are possessed of some evil spirit. These contradictory things were a proof that they did not know the reality. Otherwise, they would not have invented a different name to suit each occasion. This also shows that they themselves were not sure of the charge they leveled against him. If they called him by one epithet one day, they themselves felt afterwards that it did…

Read the full tafseer →