Explained with ayahs 45–46
کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ
فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں مستور ساتر کے معنی میں ہے جیسے میمون اور مشئوم معنی میں یا من اور شائم کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں لیکن ہدایت میں اور ان میں وہ حد فاصل ہوجاتے ہیں۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے کہ سورة تبت یدا کے اترنے پر عورت ام جمیل شور مچاتی دھاری دار پتھر ہاتھ میں لئے یہ کہتی ہوئی آئی کہ اس مذمم کو ہم ماننے والے نہیں ہمیں اس کا دین ناپسند ہے، ہم اس کے فرمان کے مخالف ہیں۔ اس وقت رسول الکریم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوبکر ؓ آپ کے پاس تھے، کہنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 48
یعنی ساری کائنات اور اس کی ہر شئ اپنے پورے وجود سے اس حقیقت پر گواہی دے رہی ہے کہ جس نے اس کو پیدا کیا ہے اور جو اس کی پروردگاری و نگہبانی کر رہا ہے اس کی ذات ہر عیب اور نقص اور کمزوری سے منزہ ہے، اور وہ اس سے بالکل پاک ہے کہ خدائی میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہو۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 49
حمد کے ساتھ تسبیح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شئ نہ صرف یہ کہ اپنے خالق اور رب کے عیوب و نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہونا ظاہر کر رہی ہے، بلکہ اس کے ساتھ وہ اس کے تمام کمالات سے متصف اور تمام تعریفوں کا مستحق ہونا بھی بیان کرتی ہے۔ ایک ایک چیز اپنے پورے وجود سے یہ بتارہی ہے کہ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
خلاصہ تفسیر
سابقہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ توحید کا مضمون قرآن مجید میں مختلف عنوانات اور مختلف دلائل کے ساتھ بار بار ذکر ہونے کے باوجود یہ بدنصیب مشرکین اس کو نہیں مانتے ان آیات میں ان کے نہ ماننے کی وجہ بتلائی گئی ہے کہ یہ ان آیات میں غور و فکر ہی نہیں کرتے بلکہ ان سے نفرت اور تمسخر کرتے ہیں اس لئے ان کو علم حقیقت سے اندھا کردیا گیا ہے خلاصہ تفسیر یہ ہے۔
اور جب آپ (تبلیغ کے لئے) قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (اور وہ پردہ یہ ہے کہ) ہم ان کے دلوں پر حجاب ڈال دیتے ہیں اس سے کہ وہ اس (قرآن کے مقصود) کو سمجھیں اور ان کے کانوں…
Read the full tafseer →وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔
کفار کی قرآن سے بیزاری کا اصلی سبب : یہ اس تعجب کو دور فرمایا ہے کہ قرآن جیسی واضح چیز، جس میں ایک ایک بات گوناگوں اسلوبوں سے، جیسا کہ آیت 41 میں فرمایا، بیان ہوئی ہے، ان لوگوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آرہی ہے۔ اور یہ اس سے اس درجہ وحشت زدہ کیوں ہیں ؟ فرمایا کہ یہ لوگ نہ آخرت کو مانتے ہیں اور نہ آخرت کو ماننا چاہتے ہیں۔ یہ چیز ان کے دلوں پر ایک مخفی حجاب بن کر چھا گئی ہے جس کا اثر یہ ہے کہ قرآن کے انوار ان کے دلوں پر منعکس نہیں ہوپاتے۔
Read the full tafseer →45۔ 1 مَسْتُور بمعنی ساترٍ (مانع اور حائل) ہے مستور عن الابصار (آنکھوں سے اوجھل) پس وہ اسے دیکھتے ہیں۔ اس کے باوجود، ان کے اور ہدایت کے درمیان حجاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
26: جو لوگ اپنی اصلاح اور آخرت کی فکر سے غافل ہو کر بس دنیا کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اور حق کی کوئی طلب ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتی، بلکہ وہ حق کے مقابلے میں ضد اور عناد کی روش اختیار کرلیتے ہیں، وہ حق کو سوچنے سمجھنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ ان دیکھا پردہ ہے جو ان کے اور پیغمبر کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، اور یہی وہ غفلت کا غلاف ہے جو ان کے دلوں پر مسلط ہوجاتا ہے، اور ان کے کانوں میں وہ گرانی پیدا کردیتا ہے جس کی بنا پر وہ حق بات سننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔
Read the full tafseer →ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں نقل کیا ہے۔ (محمد ابن شہاب ، زہری سے) کہ ابو سفیان ابن حرب ، ابو جہل ، اور اخس ابن شریق ابن عمرو ابن وھب ثقفی ایک رات کو اپنے اپنے طور پر نکلے ، تاکہ حضور ﷺ سے قرآن سنیں۔ آپ ﷺ رات کو اپنے گھر میں ۔۔ نماز میں قرآن پڑھتے تھے۔ ہر شخص نے اپنی اپنی جگہ بیٹھ کر کلام الٰہی سنا۔ لیکن ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے متعلق نہ جانتا تھا۔ رات کو وہ سنتے رہے ، یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ صبح واپس ہوتے وقت راستے میں ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : ” دوبارہ یہ کام نہ کرنا اگر نادان لوگوں نے ت میں دیکھ لیا تو وہ اچھا تاثر نہ لیں گے “۔ پھر چلے گئے۔ دوسرے دن یوں ہوا کہ دوبارہ یہ…
Read the full tafseer →4 جو شخص آخرت کو نہ مانے اور اپنے بھلے برے انجام کی کچھ فکر نہ رکھے وہ نصیحت کی طرف کیوں دھیان کرنے لگا۔ جب اسے نجات ہی کی فکر نہیں تو نجات دلانے والے پیغمبر کے احوال و اقوال میں غور کرنے اور بارگاہ رسالت تک پہنچنے کی کیا ضرورت ہوگی۔ بس یہ ہی عدم ایمان بالآخرت اور انجام کی طرف سے بےفکری وہ معنوی پردہ ہے جو اس شخص کے اور نبی (من حیث ہو نبی) کے درمیان لٹکا دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 45 وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا
اس آیت میں ایک دفعہ پھر قرآن کا ذکر آیا ہے۔ یہاں ایک غیر مرئی پردے کا ذکر ہے جو منکرین آخرت اور ہدایت کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ ایسے لوگوں کے ہر عمل کا معیار و مقصود صرف اور صرف دنیا کی زندگی ہے۔ وہ نہ تو آخرت کی زندگی کے قائل ہیں اور نہ ہی وہاں کے اجر وثواب کے بارے میں سنجیدہ۔ دنیا میں وہ ”بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست“ کے نظریے پر زندگی بسر کر رہے ہیں اور قرآن کو یا ہدایت کی کسی بھی بات کو توجہ سے نہیں سنتے۔ ایسے لوگوں کو ان کے اسی رویے کی بنا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
54 سَبَحَ کا لغوی مفہوم :۔ سَبَحَکے لغوی معنی کسی چیز کا ہوا یا پانی میں تیرنا اور تیزی سے گزر جانا ہے (مفردات القرآن) پھر اس لفظ کا استعمال کسی کام کو سرعت کے ساتھ انجام دینے پر بھی ہونے لگا جیسے ارشاد باری ہے (اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا ۭ ) 73 ۔ المزمل :7) (دن کے وقت تو آپ کو اور بہت سے شغل ہوتے ہیں) اور سبحان کا لفظ سبح کا مصدر ہے جیسے غفر سے غفران ہے اور اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کائنات میں لاکھوں اور کروڑوں سیارے فضا میں نہایت تیزی سے گردش کر رہے ہیں جن میں نہ کبھی لغزش پیدا ہوتی ہے نہ جھول اور نہ ہی تصادم یا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پر کنٹرول…
Read the full tafseer →65۔ (اور وہ باریک پردہ عدم فہم وعدم ارادہ فہم کا ہے) مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ آخرت کے منکریا آخرت فراموش ہیں، یہ جب قرآن مجید سنتے ہیں تو بجائے اس سے متاثر ہونے کے یہ اپنے اور اس کے درمیان ایک حجاب حاجز سا محسوس کرتے ہیں۔ (آیت) ” واذا قرأت القران “۔ یعنی جب آپ انہیں قرآن بغرض تبلیغ سناتے ہیں۔ (آیت) ’ جعلنا “۔ الخ۔ یہ ضمیر متکلم لاکر حق تعالیٰ کا اس فعل کا انتساب اپنی جانب کرنا تمام ترتکوینی حیثیت سے، اور بطور مسبب الاسباب کے ہے۔ جس سے اس کی رضا کو قطعا کوئی تعلق نہیں۔ (آیت) ” مستورا “۔ ایسا جو عام طور پر نظر نہ آتا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا
اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت کو نہیں مانتے ‘ ایک ایسا پردہ حائل کردیتے ہیں جو (قرآن کو سمجھنے سے) آڑ بن جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا حجاب سے مراد اَکِنَّہ ہے (یعنی وہی غلاف اور پردہ مراد ہے جو مشرکوں نے قُلُوْبَنَا فِیْ اَکِنَّۃٍمیں کہا تھا) حجاب یعنی ایسا پردہ جو دلوں کو قرآن فہمی سے روک دے اور فائدہ نہ اٹھانے دے۔
مَسْتُوْراً یعنی وہ پردہ حسی نہیں ہوتا جو اس سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ وہ پردہ دوسرے پردوں کے اندر چھپا ہوا ہوتا ہے…
Read the full tafseer →(45) اور جب آپ مکہ مکرمہ میں قرآن کریم پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ابوجہل کے درمیان جو کہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پردہ حائل کردیتے ہیں اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ حق بات کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دیتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”۔ واذا قرأت القران جعلنا بینک“۔ (الخ)
ابن منذر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابن شہاب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مشرکین قریش کے سامنے قرآن کریم ﷺ کی تلاوت کرتے اور ان کو کتاب اللہ کی طرف بلاتے تو وہ کہتے کہ یہ ہمیں مائل کرنا چاہتے ہیں جس کی طرف یہ ہمیں بلا رہے ہیں اس سے ہمارے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور ہمارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا۔۔ : ”اَكِنَّةً“ ”کِنَانٌ“ کی جمع ہے، چھپانے والی چیز، پردہ۔”وَقْرًا“ بوجھ، مراد بہرا پن ہے۔ ”نُفُوْرًا“ ”نَافِرٌ“ کی جمع ہے، بدکتے ہوئے۔ مصدر بھی ہوسکتا ہے، نفرت کی وجہ سے، یعنی جب انھوں نے آخرت سے انکار کیا اور پھر ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے کہ ہزار سمجھانے کے باوجود انکار کرتے ہی چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اور آپ ﷺ کے درمیان ایک گہرا پردہ حائل ہوگیا، ان کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے، مگر ایسے جو کسی کو نظر نہیں آتے، نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور ان کے کان ہر نصیحت کرنے والے کی بات سننے سے بہرے ہوگئے، مگر وہ بدبخت ان پردوں کے حائل ہونے اور قرآن…
Read the full tafseer →آیت نمبر 45
حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ سے روایت ہے کہ جب سورة تبت یدا ابی لھب (لہب :1) نازل ہوئی تو کانی ام جمیل بنت حرب آئی وہ بڑے جوش اور غصے میں تھے اور اس کے ہاتھ میں پتھر تھا اور وہ کہہ رہی تھی : مذمماعصینا (ہم نے مذمم کی نادفرمانی کی) وامرہ أبینا (ہم نے اس کے حکم کا انکار کیا) ودینہ قلینا (اور ہم نے اس کے دین کو ناپسند کیا) ۔
اور حضور نبی مکرم ﷺ مسجد میں تسریف فرما تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی تھے، پس جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اسے دیکھا تو عرض کی : یارسول اللہ ! ﷺ وہ آرہی ہے اور مجھے خوف ہے کہ وہ آپ کو دیکھ لے گی ! تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انھا لن ترانی (بےشک وہ مجھے ہرگز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
1:۔ عبد الرازق، ابن جری، ابن منذر اور ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واتخذ من الملئکۃ اناثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودیوں نے فرشتوں کو حق جل شانہ کی بیٹیاں کہا اور (آیت) ” قل لوکان معہ الہۃ “ سے مراد ہے کہ (اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور خدا ہوتا) تو پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی فضیلت کو ان پر جان لیتے پس وہ ایسا حیلہ (ضرور) تلاش کرتے جو ان کو اس کے قریب کردیتا (اور) بلاشبہ وہ (فرشتے) ایسے نہیں ہیں جیسے وہ کہتے ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا ابتغوا الی ذی العرش سبیلا “ سے مراد ہے کہ وہ (دوسرے خدا) عرش والے پر غلبہ کی راہ تلاش کرتے کہ کہاں ہیں کہ اس کی…
Read the full tafseer →[وَاِذَا : اور جب بھی ] [قَرَاْتَ : آپ ﷺ پڑھتے ہیں ] [الْقُرْاٰنَ : قرآن ] [جَعَلْنَا : تو ہم بنا دیتے ہیں ] [بَيْنَكَ : آپ ﷺ کے ] [وَبَيْنَ الَّذِينَ : اور ان کے درمیان جو ] [لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لاتے ] [بِالْاٰخِرَةِ : آخرت پر ] [حِجَابًا مَّسْتُوْرًا : ایک چھپایا ہوا پردہ ]
س ت ر
[سَتْرًا : (ن۔ ض) ] کسی چیز کو ڈھانکنا۔ چھپانا۔
سِتْرٌ اسم ذات ہے۔ ہر وہ چیز جس سے کوئی چیز چھپائی جائے۔ اُوٹ۔ آڑ۔ لَمْ نَجْعَلْ لَّھُمْ مِّنْ دُوْنِھَا سِتْرًا (ہم نے نہیں بنایا ان کے لئے اس سے کوئی آڑ) 18:90 ۔
مَسْتُوْرٌ اسم المفعول ہے۔ ڈھانکا ہوا۔ چھپایا ہوا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 45 ۔
(استفعال)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
جو لوگ آخرت کے منکر ہیں ان کے دلوں پر پردہ اور کانوں میں ڈاٹ ہے قرآن کو بدنیتی سے سنتے ہیں اور آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان پر جادو کردیا گیا
مشرکین مکہ جو توحید و رسالت اور آخرت کے منکر تھے اور قرآن کو سن کر نہ تدبر کرتے تھے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتے تھے ان کے بارے میں فرمایا کہ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیتے ہیں اس پردہ کی وجہ سے وہ آپ کی باتوں کو اور آپ کے مرتبہ کو سمجھ نہیں پاتے اور ہم ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتے ہیں (جب کوئی شخص بہرے پن کی وجہ سے بات نہیں سن پاتا تو کہتے ہیں کہ یہ ثقل سماعت کا مریض ہے اور اس کا بامحاورہ ترجمہ یہ لکھا گیا کہ ہم ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
تاکید توحید وبیان حال منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ : ولقد صرفنا فی ھذا القران لیذکروا .... الیٰ .... فلا یستطیعون سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں سب سے اہم اور اعظم حکم توحید کا تھا اب ان آیات میں اس کی تاکید اور تائید کے لیے ابطال شرک پر ایک دلیل عقلی قائم فرماتے ہیں بعد ازاں ان مشرکین نبوت کا حال بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اس درجہ سنگ دل ہوچکے ہیں کہ جب قرآن میں توحید کے مضامین سنتے ہیں تو ان کی وحشت اور نفرت میں زیادتی ہوجاتی ہے اس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے تذکر کے لیے نازل کیا تھا مگر یہ نادان بوجہ عدم تدبر کے تنفر اور تمسخر کی حد میں داخل ہوگئے ہیں یہ ضد اور عناد کی انتہا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
44:۔ اللہ تعالیٰ ایسا حلیم اور معاف کرنے والا ہے کہ ساری مخلوق اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور مشرکین اس کے لیے شرکاء اور شفعاء تجویز کرتے ہیں ایسی بڑی گستاخی پر بھی وہ انہیں جلدی ہلاک نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور اگر توبہ کرلیں تو معاف فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
(قرآن بطور نصیحت)
اسلامی معاشرے کی فلاح کے لیے پندرہ زریں اصولوں کے اول وآخر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید بیان فرمایا ، اب اس آیات میں بھی قرآن پاک کی صداقت اور مسئلہ توحید ہی کا ذکر ، اور شرک کا رد ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد صرفنا فی ھذالقران “۔ ہم نے اس قرآن پاک میں مختلف طریقوں ، عنوانوں اور پیرایوں میں پھیر پھیر کر بیان کیا ہے ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، ایمانیات ، رسالت ، معاد اور موجود اور دوسری زندگی سے تعلق رکھنے والی ساری باتیں آسانی سے سمجھ میں آسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے (آیت) ” لیذکروا “۔ تاکہ لوگ ان مثالوں سے نصیحت پکڑیں اور کفر وشرک کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت…
Read the full tafseer →وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا 45ۙ
قرأ
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–52
ترکیب : مستورا و ساترا۔ بما یستمعون بہ ای بسببہ من الھزاء اذ ھم بدل من اذ قبلہ یوم یدعوکم ظرف لیکون بحمدہ فی موضع الحال۔
تفسیر : آسمانوں اور زمین کی چیزوں کی تسبیح تو تم اے مشرکین سمجھتے ہی نہ تھے۔ تمہاری سمجھ میں تو قرآن مجید بھی نہیں آتا جو خاص تمہاری زبان فصیح میں نازل ہوا ہے۔ واذاقرأت الخ اور یہ نہ سمجھنا قرآن کا اس لیے ہے کہ جب تم اے نبی ! قرآن پڑھتے ہو تو ان کی ازلی گمراہی کے پردے بیچ میں حائل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مضامین میں غوروتامل نہیں کرسکتے اور جو کوئی ان کو دوسرا سمجھائے تو سنتے بھی نہیں۔ اور ان کے حواس باطنیہ کے ماؤف ہونے پر یہ دلیل ہے کہ جب قرآن میں توحید کا ذکر اور شرک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُوْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔ وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّـۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِیْٓ اٰذانِہِمْ وَقْرًا ط وَاِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ وَلَّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ نُفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 45۔ 46)
(جب آپ ﷺ قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ہم آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں۔ اور ہم ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں، اور جب آپ ﷺ قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا عظیم ذکر اور اس کی حمد کی ایک صورت ہے۔ لیکن قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو کفار کے لیے ایک پردہ حائل ہوجاتا ہے اور وہ اس سے نفرت کرتے ہیں۔
قرآن مجید انسان کے دل کے لیے ایک بارش کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اس بارش کا اثر اسی دل پر ہوتا ہے۔ جو کفر و نفاق اور ہر قسم کی عصبیت سے صاف ہوتا ہے۔ اس صفت کا حامل شخص جب قرآن مجید کی تلاوت کرتا اور سنتا ہے تو اس کے ایمان میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس پر ایمان لانے والے کا دل نرم اور اس کا اپنے رب پر توکل بڑھ جاتا ہے۔ (الانفال : 2)
اس کے برعکس جس کے دل میں کفر و نفاق اور تعصب ہوتا ہے۔ اس پر قرآن مجید کا کوئی اثر…
Read the full tafseer →قرآن اور منکروں کے درمیان پردے پڑے ہیں :
45: وَاِذَا قَرَأْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَ بَیْنَ (جب آپ قرآن مجیدپڑھتے ہیں تو ہم نے آپ کے اور ان) الَّذِیْنَ لَایُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا (لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک پردہ تنا ہوا حائل کردیتے ہیں) مستور کا معنی ستر والا نمبر 2۔ ایسا پردہ جو چھپنے کی وجہ سے نظر نہیں آتا۔
Read the full tafseer →تفسیر 45۔” واذا قرأت القرآن جعلنا بینک وبین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا ً مستورا ً “ ان کے دلوں پر پردہ ہے کہ وہ ان کے قرآن کو نہیں سمجھ سکتے اور اس سے نفع حاصل نہیں کرسکتے۔ قتادہ نے کہا کہ اس پردے سے مراد کنتہ ہے ۔ وہ پردہ جو مشرکوں کے بارے میں فرمایا کہ ” قلوبنا غلف ۔۔۔۔ فی اکنۃ “ مستور یعنی ساتر کے ہے وہ پردہ حسی نہیں ہوتا جو اس سے چھپا ہوا ہے۔” وکان وعدہ ماتیا “ یہاں مفعول بمعنی فاعل کے ہے۔ بعض نے کہا کہ وہ لوگوں کی آنکھوں کے سامنے پردہ ہے، لوگ اس کو دیکھ نہیں سکتے اور بعض نے اس کی تفسیر حجاب سے کی ہے۔
جیسا کہ سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ،” تبت یدا ابی لھب و تب “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
45:۔ تفسیر ابراہیم بن منذر میں ابن شہاب زہری کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت اللہ کے رسول قرآن شریف کی آیتیں مشرکین مکہ کے روبرو پڑھتے تھے اور ان کو ہدایت کرتے تھے تو وہ لوگ ٹھٹھے سے کہتے تھے وفی اذاننا وقر ومن بیننا وبینک حجاب یعنی جن باتوں کے ماننے کے لیے اے محمد ﷺ تم ہم سے کہتے ہو ان باتوں کے سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں اور ان باتوں کے ماننے کے حساب سے ہم میں اور تم میں ایک آڑ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ سورة حم السجدہ میں آوے گا جن باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے وہ باتیں مشرک لوگ مسخراپن سے کیا کرتے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–55
(آیت نمبر (45
اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا…
Read the full tafseer →قول باری ہے (واذ قرأت القرآن جعلنا بینک وبین الذین لایومنون بالاخرۃ حجابا مستوراً اور جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں) ایک قول کے مطابق آیت کو تشبیہ کے معنوں پر محمول کیا جائے گا ۔ ان لوگوں کے ایسے شخص کے ساتھ مشابہت جس کے اور حضور ﷺ کی قرآن سے بیان کردہ حکمت کی باتوں کے درمیا نپردہ حائل ہے۔ اس طرح آپ کے اور منکرین آخرت کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس کی بنا پر وہ حکمت کی ان باتوں کا ادراک نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ قتادہ سے یہی تفسیر مروی ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ آیت ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی…
Read the full tafseer →81۔ عناد اور ہٹ دھرمی و فساد کی جڑ بنیاد۔ والعیاذ باللہ :۔
چنانچہ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم قرآن پڑھنے لگتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں۔ اور یہ پردہ ایسا مخفی ومستور ہوتا ہے کہ ظاہر میں نظر بھی نہیں آسکتا لیکن ہوتا ایسا سخت ہے کہ ظاہری اور حسی پردوں سے بھی کہیں بڑھ کر رکاوٹ بنتا ہے۔ اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے اپنے زیغ وضلال اور کج طبعی و بدنیتی کے باعث ہوتا ہے جس کے نتیجے میں یہ لوگ حق کو سننے اور سمجھنے سے محروم رہتے ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس ارشاد ربانی سے اس سنت الہیہ اور دستور خداوندی کو بیان فرمایا گیا ہے کہ ضد وعناد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
کفار کی گمراہی اور بد بختی
تشریح ان آیات میں بھی کفار کی حجت بازیاں، اعتراضات اور الزامات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ لوگ اکثر اوقات مختلف قسم کی باتیں آپ کے لیے کہتے رہتے تھے۔ مثلاً کبھی کہتے آپ شاعر ہیں، جادو گر ہیں، مجنون ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یعنی ان کو خود اس بات پر یقین نہ تھا کہ آپ کو کیا کہہ کر مسترد کریں۔ ان کی انہی گمراہیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت حاصل کرنے کی حس ہی بالکل فنا کردی تھی، یعنی بالکل پکے کفار بن چکے تھے نہ ہدایت پسند کرتے تھے اور نہ ہی اللہ ان کے لیے ہدایت کے راستے کھولتا تھا۔
کفار اور مشرکین جب اکیلے اللہ کا ذکر سنتے تو بھاگ کھڑے ہوتے اور نفرت میں بڑھ جاتے۔ یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔
ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
نہ صرف یہ کہ اس کے…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی اس قرآن میں ایسی تاثیر ہے اور کافروں پر اثر نہیں ہوتا اس واسطے کہ اوٹ میں ہیں۔ آفتاب سے ہمارا روشن ہے اور جس کی اس طرف پیٹھ ہے اس کے حساب میں کہیں نہیں صموضح) اس حجاب کی اور بھی تفسیریں کی گئی ہیں مگر صحیحی یہی ہے کہ یہ عدم تاثیر سے کنایہ ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →(17:45) مستورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ ستر مصدر (باب نصر) چھپا ہوا۔ چھپایا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 48
قرات تو نے پڑھا۔ حجاب پردہ۔ مستور چھپا ہوا۔ اکنۃ پردہ۔ وقر گرانی، ڈاٹ۔ وحدہ یکتا۔ ایک اللہ۔ ولو وہ پلٹ گئے۔ بھاگ گئے۔ اد بار (دبر) پیٹھ۔ یستمعون وہ غور سے سنتے ہیں۔ نجوی چپکے چپکے باتیں کرنا۔ سرگوشیاں۔ مسحور جادو کیا گیا۔ ضربوا وہ مارتے ہیں۔ چسپاں کرتے ہیں (چسپاں کیا) ۔ لایستطیعون وہ طاقت نہیں رکھتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 45 تا 48
عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان کی دولت اور نور بصیرت سے محروم ہوتے ہیں وہ اپنے دل کو تسلی اور نگاہوں پر فریب کے پردے ڈال کر ایسی بےبنیاد باتوں کو گھڑ لیتے ہیں جن کی کوئی اصل اور حقیقت نہیں ہوتی اور انداز فکر کے زاویئے اتنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
آنحضرت ﷺ اور کفار کے درمیان فرشتہ کی آڑ تھی
شان نزول : جس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ قرآن شریف کی آیتیں مشرکین کے رو برو پڑھتے تھے اور ان کو ہدایت کرتے تھے تو وہ لوگ ٹھٹھے سے یہ کہتے تھے کہ جن باتوں کے ماننے کے لئے اے محمد ﷺ ! تم ہم سے کہتے ہو ان باتوں کے سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں ، اور ان باتوں کے ماننے کے حساب سے ہم میں اور تم میں ایک آڑ ہے اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ وہ سچی بات ہے کہ بدبختی ازلی جو ان کے سر پر سوار ہے وہ ان کو قرآن شریف کی ہدایت کی باتیں سننے نہیں دیتی۔ تو گویا یہ لوگ حقیقت میں بہرے ہیں اور آنکھوں کے سامنے آثار قدرت الہی ان…
Read the full tafseer →[36] وہ پردہ غفلت و اعراض کا ہوتا ہے جسے نگاہیں نہیں دیکھ سکتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
(ف 4) غرض یہ ہے کہ کفار اپنی فطری صلاحیتوں کو ضائع کرچکے ہیں کہ ان میں قبول کا مادہ نہیں رہا ، جب یہ قرآن سنتے ہیں ، تو تعصب وجہالت کی دیواریں انکے آگے کھڑی ہوجاتی ہیں ، اس لئے استفادہ سے محروم رہتے ہیں ۔
Read the full tafseer →-45 اور اے پیغمبر ! جب آپ قرآن شریف پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ایک غیر مرئی اور پوشیدہ پردہ حائل کردیتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اس قرآن کریم میں ایسی تاثیر ہے اور کافروں پر اثر نہیں ہوتا یہی واسطہ ہے کہ اوٹ میں ہیں آفتاب سے جہاں روشن ہے اور جس کی اس طرف پیٹھ ہے اس کے حساب میں کہیں نہیں۔ 13
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 7۔ تسبیح حالی کو اس لئے نہیں سمجھتے کہ اس کی حقیقت استدلال ہے، اور وہ موقوف ہے تامل پر اور تم تامل نہیں کرتے، اور تسبیح قالی کو بعض اشیاء میں تو اس لئے کہ وہ امور کشفیہ سے ہے، اور مومنین کی تسیح قالی کو اس لئے کہ باوجود سننے کے اس کے معنی اور اس کی حقیقت میں تدبر نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →جب تو قرآن پڑھتا ہے تو ہم تیرے اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیتے ہیں :
59۔ گزشتہ آیت میں منکرین حق کی حالت بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ (لاتفقھون تسبیحھم) تم انکی تسبیح کو سمجھتے نہیں ۔ زیر نظر ؤیت میں فرما دیا کہ یہی حال ان کا قرآن کریم میں بارے میں ہے کہ اس کی طرف رخ نہیں ‘ اسے سننا نہیں چاہتے ۔ اس کا سننا ان سننا کردیتے ہیں ۔ اسے سمجھنے کے لئے تیار نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا قانون اس سلسلہ میں یہ ہے کہ اگر تم آنکھیں نہیں کھولوگے تو تمہارے آگے ایک سیاہ پردہ حائل ہوجائے گا ، اگر تم سننا نہیں چاہو گے تو تمہارے کان بہروں کے کان ہوجائیں گے ، اگر تم سوچنے سے انکار کر دو گے تو تمہاری عقل پر پردے چڑھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
The meaning of Tasbih (glorification of Allah) said by the heavens and the earth and everything present therein
Among these, the Tasbih of Allah said by all angels and believing jinn and human beings is self-evident. Everyone knows that. As for disbelieving human beings and the jinn, they obviously do not say it. Similarly, there are other things in this universe about which it is said that they are insensate, devoid of reason and intelligence. How do we rationalize their act of saying Tasbih? Some ` Ulama' say that their Tasbih is circumstantial, state-articulated, the testimony of their…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
48. That is, the entire universe and everything in it bear witness to the fact that their Creator and Guardian is free from each and every fault, defect and weakness, and that He is far above this that there should be any partner or associate in His Godhead.
49. Everything is not only singing hymns of the glory of its Creator but is affording the proof that He is perfect in every respect and worthy of all praise. Everything is an embodiment of the proof that its Creator and Administrator is the one in whom there is perfection of every quality. Therefore, He alone is worthy of praise.
50. That…
Read the full tafseer →