Al-Israa 17:46

Al-Israa · from ayah 46

17:46

وَّجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَفِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ؕ— وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤی اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا ۟وَّجَعَلۡنَا عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ اَكِنَّةً اَنۡ يَّفۡقَهُوۡهُ وَفِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ وَقۡرًا‌ ؕ وَاِذَا ذَكَرۡتَ رَبَّكَ فِى الۡقُرۡاٰنِ وَحۡدَهٗ وَلَّوۡا عَلٰٓى اَدۡبَارِهِمۡ نُفُوۡرًا‏

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have placed over their hearts coverings, lest they understand it, and in their ears deafness. And when you mention your Lord alone in the Qur'an, they turn back in aversion.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:46

اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں کہ وه اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ اور جب تو صرف اللہ ہی کا ذکر اس کی توحید کے ساتھ، اس قرآن میں کرتا ہے تو وه روگردانی کرتے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ اسے سمجھتے نہیں اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکر کرتے ہو تو یہ لوگ نفرت کے عالم میں پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈال دیے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ (روئی) اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم ان کے دلوں پر (بھی) پردے ڈال دیتے ہیں تاکہ وہ اسے سمجھ (نہ) سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ پیدا کر دیتے ہیں (تاکہ اسے سن نہ سکیں)، اور جب آپ قرآن میں اپنے رب کا تنہا ذکر کرتے ہیں (ان کے بتوں کا نام نہیں آتا) تو وہ نفرت کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان کے دلوں پر کئی پردے بنا دیے ہیں، (اس سے) کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ۔ اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھرجاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے ان کے دلوں پر پردہ چڑھا دیا ہے کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھ ہی نہ سکیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور جب آپ قرآن میں اپنے اکیلے پروردگار کا ذکر کرتے ہیں تو وہ نفرت سے پیٹھ پھیر کے بھاگ جاتے ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے دلوں پر حجاب اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں کہ نہ اس کو سمجھیں نہ سنیں اور جب تم قرآن میں تنہا اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت کے ساتھ پیٹھ پھیر لیتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے (ان کی اپنی بدنیتی کی بنا پر) اس بات سے کہ وہ اسے سمجھیں اور ان کے کانوں میں بھاری ڈاٹ رکھ دئے (اس سے کہ یہ اسے سنیں) ، اور جب تم قرآن میں صرف اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہو، تو یہ لوگ نفرت سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

یعنی ہم ان کے دلوں پر اس طرح سے حجاب ڈال دیتے ہیں کہ وہ اس (قرآن) کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے دیتے ہیں۔ اور جب آپ قرآن میں تنہا اپنے پروردگار کا ذکر کرتے ہیں تو وہ لوگ اپنی پیٹھ پھیر کر نفرت کرتے ہوئے چل دیتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ان کے دلوں پر بھی ہم پردے ڈال دیتے ہیں کہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل (پیدا کردیتے ہیں) اور جب آپ قرآن میں تنہا اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہیں تو یہ اپنی پیٹھیں موڑ کر چل دیتے ہیں نفرت کے ساتھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں اور جب آپ قرآن میں اپنے خدائے واحد کا ذکر کرتے ہیں تو وہ بدک کر پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and We place a covering on their hearts so that they do not comprehend it, and We cause a heaviness in their ears; and when you mention your Lord, the Only True Lord, in the Qur'an, they turn their backs in aversion.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and We put covers on their hearts barring them from understanding it, and (We put) deafness in their ears; and when you refer to your Lord alone (without referring to their presumed deities,) in the Qur‘an, they turn their backs in aversion.

— Muhammad Taqi Usmani

and We put covers on their hearts barring them from understanding it, and (We put) deafness in their ears; and when you refer to your Lord alone (without referring to their presumed deities,) in the Qur‘an, they turn their backs in aversion.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We have put Akinnah over their hearts, lest they should understand it, and in their ears deafness. And when you make mention of your Lord Alone in the Qur'an, they turn on their backs, fleeing in extreme dislike.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We place upon their hearts veils lest they should understand it, and in their ears a deafness; and when thou makest mention of thy Lord alone in the Qur'an, they turn their backs in aversion.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have placed over their hearts coverings, lest they understand it, and in their ears deafness. And when you mention your Lord alone in the Qur'an, they turn back in aversion.

— Saheeh International

We put a veil over their hearts so that they cannot understand it. We deafen their ears. When you mention your Lord in this Quran as One (Supreme Being), they run away.

— Muhammad Sarwar

And We have placed coverings on their hearts and a heaviness in their ears lest they understand it, and when you mention your Lord alone in the Quran they turn their backs in aversion.

— Muhammad Habib Shakir

And We set up over their hearts veils lest they understand it, and in their ears heaviness and when thou mentionest in reciting the Qur'an thy Lord alone, they turn backward as averters.

— Abdul Majid Daryabadi

And We put coverings over their hearts (and minds) lest they should understand the Qur'an, and deafness into their ears: when thou dost commemorate thy Lord and Him alone in the Qur'an, they turn on their backs, fleeing (from the Truth).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–46

کفار کا ایک نفسیاتی تجزیہ فرماتا ہے کہ قرآن کی تلاوت کے وقت ان کے دلوں پر پردے پڑجاتے ہیں، کوئی اثر ان کے دلوں تک نہیں پہنچتا۔ وہ حجاب انہیں چھپا لیتا ہے۔ یہاں مستور ساتر کے معنی میں ہے جیسے میمون اور مشئوم معنی میں یا من اور شائم کے ہیں۔ وہ پردے گو بظاہر نظر نہ آئیں لیکن ہدایت میں اور ان میں وہ حد فاصل ہوجاتے ہیں۔ مسند ابو یعلی موصلی میں ہے کہ سورة تبت یدا کے اترنے پر عورت ام جمیل شور مچاتی دھاری دار پتھر ہاتھ میں لئے یہ کہتی ہوئی آئی کہ اس مذمم کو ہم ماننے والے نہیں ہمیں اس کا دین ناپسند ہے، ہم اس کے فرمان کے مخالف ہیں۔ اس وقت رسول الکریم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، حضرت ابوبکر ؓ آپ کے پاس تھے، کہنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 51 یعنی آخرت پر ایمان نہ لانے کا یہ قدرتی نتیجہ ہے کہ آدمی کے دل پر کفل چڑھ جائیں اور اس کے کان اس دعوت کے لیے بند ہوجائیں جو قرآن پیش کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن کی تو دعوت ہی اس بنیاد پر ہے کہ دنیوی زندگی کے ظاہری پہلو سے دھوکہ نہ کھاؤ۔ یہاں اگر کوئی حساب لینے والا جواب طلب کرنے والا نظر نہیں آتا تو یہ نہ سمجھو کہ تم کسی کے سامنے ذمہ وار و جواب دہ ہو ہی نہیں۔ یہاں اگر شرک، دہریت، کفر، توحید، سب ہی نظریے آزادی سے اختیار کیے جاسکتے ہیں، اور دنیوی لحاظ سے کوئی خاص فرق پڑتا نظر نہیں آتا، تو نہ سمجھو کہ ان کے کوئی الگ الگ مستقل نتائج ہیں ہی نہیں۔ یہاں اگر فسق و فجور اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–46

خلاصہ تفسیر سابقہ آیات میں یہ ذکر تھا کہ توحید کا مضمون قرآن مجید میں مختلف عنوانات اور مختلف دلائل کے ساتھ بار بار ذکر ہونے کے باوجود یہ بدنصیب مشرکین اس کو نہیں مانتے ان آیات میں ان کے نہ ماننے کی وجہ بتلائی گئی ہے کہ یہ ان آیات میں غور و فکر ہی نہیں کرتے بلکہ ان سے نفرت اور تمسخر کرتے ہیں اس لئے ان کو علم حقیقت سے اندھا کردیا گیا ہے خلاصہ تفسیر یہ ہے۔ اور جب آپ (تبلیغ کے لئے) قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (اور وہ پردہ یہ ہے کہ) ہم ان کے دلوں پر حجاب ڈال دیتے ہیں اس سے کہ وہ اس (قرآن کے مقصود) کو سمجھیں اور ان کے کانوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ۭ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا۔ " اکنۃ " " کنان " کی جمع ہے جس کے معنی پردہ ہے۔ ان یفقہوہ، یعنی کراھۃ ان یفقہوہ، " ان " سے پہلے مضاف حذف ہوگیا ہے۔ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا، کے بعد " ان یسمعوہ، حذف ہے قرینہ اس پر دلیل ہے۔ یہ اوپر والے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ وہ قرآن کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے کہ وہ اس کو نہ سنیں، وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔ 1 اکنۃ، کنان کی جمع ہے ایسا پردہ جو دلوں پر پڑجائے وقر کانوں میں ایسا ثقل یا ڈاٹ جو قرآن کے سننے میں مانع ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دل قرآن کے سمجھنے سے قاصر اور کان قرآن سن کر ہدایت قبول کرنے سے عاجز ہیں، اور اللہ کی توحید سے انھیں اتنی نفرت ہے کہ اسے سن کر تو بھاگ ہی کھڑے ہوتے ہیں، ان افعال کی نسبت اللہ کی طرف، بہ اعتبار خلق کے ہے۔ ورنہ ہدایت سے محرومی ان کے جمود وعناد ہی کا نتیجہ تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 45–50

26: جو لوگ اپنی اصلاح اور آخرت کی فکر سے غافل ہو کر بس دنیا کے پیچھے پڑے رہتے ہیں، اور حق کی کوئی طلب ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتی، بلکہ وہ حق کے مقابلے میں ضد اور عناد کی روش اختیار کرلیتے ہیں، وہ حق کو سوچنے سمجھنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہی وہ ان دیکھا پردہ ہے جو ان کے اور پیغمبر کے درمیان حائل ہوجاتا ہے، اور یہی وہ غفلت کا غلاف ہے جو ان کے دلوں پر مسلط ہوجاتا ہے، اور ان کے کانوں میں وہ گرانی پیدا کردیتا ہے جس کی بنا پر وہ حق بات سننے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اذا ذکرت ربک فی القران وحدہ ولا علی ادبار ھم نفورا (71 : 64) ۔ ترجمہ : ” اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں “۔ یہ نفرت ان کو لفظ وحدہ سے تھی۔ کیونکہ عقیدہ توحید ان کے اجتماعی نظام کو ختم کر رہا تھا۔ ان کا اجتماعی نظام بت پرستی اور جاہلیت کے رسم و رواج پر قائم تھا ، جس میں قریش کی امتیازی حیثیت تھی ، ورنہ وہ خود جانتے تھے کہ ان کے عقائد میں کس قدر جھول ہے اور اسلام کے نظریات کس قدر پختہ ہیں۔ نیز وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن ایک نہایت ہی بلند پایہ پیغام و کلام ہے۔ اور اس کی ایک امتیازی شان ہے۔ اور قرآن کے اثرات کا یہ عالم تھا کہ وہ اس کی طرف کھینچے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 پہلے پیغمبر کی صداقت تک نہ پہنچ سکنے کا ذکر کیا تھا۔ یہاں فہم قرآن تک رسائی حاصل نہ کرسکنے کا بیان ہے یعنی اس قرآن میں ایسی قوی تاثیر ہے، اور کافروں پر اثر نہیں ہوتا، یہ سبب ہے کہ اوٹ میں ہیں۔ آفتاب سے سارا جہان روشن ہے لیکن اگر کوئی شخص تہ خانہ میں تمام دروازے اور تابدان بند کر کے بیٹھ جائے بلکہ آنکھیں بھی بند کرلے تو اس کے اعتبار سے آفتاب کی روشنی کہیں بھی نہیں۔ 6 یعنی جب بہ نیت انتفاع واستفادہ سننا نہیں چاہتے تو گویا سنتے ہی نہیں (تنبیہ) خدا تعالیٰ نے جو حجاب اور پردے وغیرہ ڈالے یہ وہ ہی ہیں جن کا وجود انہوں نے خود اپنے لیے بڑی خوشی اور فخر سے ثابت کیا تھا۔ (وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا یہ لوگ اپنے تعصب کی وجہ سے اکیلے اللہ کا ذکر بطور معبود برداشت ہی نہیں کرسکتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ ساتھ ان کے معبودوں کا بھی کبھی کبھار ذکر ہوا کرے اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں وہ اکیلے اللہ کا ذکر سننے کو تیار نہیں ہیں۔ چناچہ وہ بدک کر نفرت کے ساتھ پیٹھ موڑ کر چلے جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

55 یہ چھپا ہوا پردہ اور دلوں پر پڑا ہوا پردہ ہونا یا ان کا ایسا محفوظ ہونا کہ کوئی بیرونی چیز ان پراثر نہ کرسکے اور کانوں کی ثقل سماعت ہونا۔ یہ سب باتیں قریش مکہ نے خود ہی بڑے فخر سے اپنے متعلق کہی تھیں۔ جیسا کہ یہی باتیں سورة حم السجدہ کی پانچویں آیت میں مذکور ہیں۔ چونکہ وہ خود بھی یہی کچھ چاہتے تھے لہذا اللہ نے انھیں ویسا ہی بنادیا۔ قریشی سرداروں نے مسلمانوں کے علاوہ اپنے آپ پر بھی پابندی لگا رکھی تھی کہ جب قرآن پڑھا جارہا ہو تو اسے کوئی بھی نہ سنے لیکن وہ خود بھی اپنی اس عائد کردہ پابندی کو نبھا نہ سکے۔ تاہم مخالفت میں پہلے سے بھی بڑھتے گئے۔ 56 مشرکوں کی توحید سے نفرت کی ایک نشانی :۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

66۔ حق تعالیٰ کے ضمیر متکلم لانے پر حاشیہ ابھی ابھی گزر چکا۔ (آیت) ” ان یفقھوہ “۔ ان یہاں نفی کے معنی دے رہا ہے۔ اے کراھۃ ان یفقھوہ (کشاف) 67۔ (کہ انہیں دلچپسی تو خدا سے نہیں بلکہ اس کے شریکوں دیویوں دیوتاؤں سے ہے) مشرک قومیں زبان سے تو خدا کا بھی اقرار کرتی جاتی ہیں۔ لیکن حقیقۃ عملا ان کے قلب کا سارا تعلق جھوٹے خداؤں یعنی دیویوں دیوتاؤں سے رہتا ہے۔ اور سخت افسوس ہے کہ یہی حال مشرک صفت، مبتلائے بدعات کلمہ گوؤں کا بھی ہوگیا ہے۔ جن بزرگ سے جس کسی کو اعتقاد ہوگیا ہے بس ساری توجہ وعقیدت کا مرکز اسی کی ذات رہتی ہے اور حق تعالیٰ کے ساتھ تعلق برائے نام ہی رہ جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ اور ان کے دلوں پر قرآن فہمی سے روکنے والے پردے ڈال دیتے ہیں یعنی ایسے پردے جو دلوں کو چھپالیتے ہیں اور حق کو سمجھنے اور قبول کرنے سے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دیتے ہیں تاکہ گوش قبول سے نہ سن سکیں (معنی کا فہم دل سے ہوتا ہے اور الفاظ کانوں سے سنے جاتے ہیں) اور قرآن اپنی معنویت کے لحاظ سے بھی معجزہ ہے اور لفظی ساخت کے اعتبار سے بھی اس لئے مشرکوں کے دلوں پر بھی اللہ نے پردہ ڈال دیا کہ معنوی اعجاز کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں بھی گرانی پیدا کردی کہ لفظی اعجاز کو سن نہ سکیں۔ وَاِذَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(46) اور جب آپ کلمہ لاالہ الا اللہ“۔ کا ذکر کرتے ہیں تو یہ لوگ اپنے بتوں کی طرف لوٹ جاتے اور ان کی عبادت کی طرف جھک جاتے اور آپ کے فرمان سے دور بھاگ جاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 45–46

وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا۔۔ : ”اَكِنَّةً“ ”کِنَانٌ“ کی جمع ہے، چھپانے والی چیز، پردہ۔”وَقْرًا“ بوجھ، مراد بہرا پن ہے۔ ”نُفُوْرًا“ ”نَافِرٌ“ کی جمع ہے، بدکتے ہوئے۔ مصدر بھی ہوسکتا ہے، نفرت کی وجہ سے، یعنی جب انھوں نے آخرت سے انکار کیا اور پھر ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے کہ ہزار سمجھانے کے باوجود انکار کرتے ہی چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اور آپ ﷺ کے درمیان ایک گہرا پردہ حائل ہوگیا، ان کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے، مگر ایسے جو کسی کو نظر نہیں آتے، نگاہوں سے پوشیدہ ہیں اور ان کے کان ہر نصیحت کرنے والے کی بات سننے سے بہرے ہوگئے، مگر وہ بدبخت ان پردوں کے حائل ہونے اور قرآن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 46 قولہ تعالیٰ : وجعلنا علیٰ قلوبھم اکنۃ، اکنۃ، کنان کی جمع ہے، اور اس سے مراد ہر وہ شے ہے جو کسی شے کو ڈھانپ لے۔ اس کا ذکر سورة الانعام میں گزرچکا ہے۔ ان یفقھوہ یعنی تاکہ وہ اسے سمجھ نہ سکیں، یا اس کے سمجھنے کو ناپسند کریں، یعنی اس میں اوامرو تواہی اور حکم ومعانی میں سے جو کچھ ہے اسے سمجھنا (انہیں ناپسند ہو) یہ قدریہ کا رد ہے۔ وفیٓ اٰذانھم وقرًا اور ان کے کانوں میں بہرہ پن اور گرانی پیدا کردیتے ہیں۔ اس کلام میں اضمار ہے یعنی أن یسمعوہ (کہ وہ اسے سن سکیں) ۔ واذاذکرت فی کرت فی القراٰن وحدہ یعنی آپ کہیں : لا الٰہ الا اللہ اس حال میں کہ آپ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے ہوں۔ اور ابوالجوازء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–48

1:۔ عبد الرازق، ابن جری، ابن منذر اور ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واتخذ من الملئکۃ اناثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودیوں نے فرشتوں کو حق جل شانہ کی بیٹیاں کہا اور (آیت) ” قل لوکان معہ الہۃ “ سے مراد ہے کہ (اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور خدا ہوتا) تو پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی فضیلت کو ان پر جان لیتے پس وہ ایسا حیلہ (ضرور) تلاش کرتے جو ان کو اس کے قریب کردیتا (اور) بلاشبہ وہ (فرشتے) ایسے نہیں ہیں جیسے وہ کہتے ہیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا ابتغوا الی ذی العرش سبیلا “ سے مراد ہے کہ وہ (دوسرے خدا) عرش والے پر غلبہ کی راہ تلاش کرتے کہ کہاں ہیں کہ اس کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّجَعَلْنَا : اور ہم ڈال دیتے ہیں ] [عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں پر ] [اَكِنَّةً : کچھ غلاف ] [ان : کہ (کہیں)] [يَّفْقَهُوْهُ : وہ لوگ سمجھ لیں اس کو ] [وَفِيْٓ اٰذَانهِمْ : اور ان کے کانوں میں ] [وَقْرًا : ایک بوجھ ] [وَاِذَا : اور جب بھی ] [ذَكَرْتَ : آپ ﷺ ذکر کرتے ہیں ] [رَبَّكَ : اپنے رب کا ] [فِي الْقُرْاٰنِ : قرآن میں ] [وَحْدَهٗ : اس کے واحد ہونے کا ] [وَلَوْا : تو وہ پھیر دیتے ہیں (خود کو)] [عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ : اپنی پیٹھوں پر ] [نُفُوْرًا : بیزاریاں کرتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–46

جو لوگ آخرت کے منکر ہیں ان کے دلوں پر پردہ اور کانوں میں ڈاٹ ہے قرآن کو بدنیتی سے سنتے ہیں اور آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان پر جادو کردیا گیا مشرکین مکہ جو توحید و رسالت اور آخرت کے منکر تھے اور قرآن کو سن کر نہ تدبر کرتے تھے اور نہ سمجھنے کی کوشش کرتے تھے ان کے بارے میں فرمایا کہ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان کے درمیان پردہ حائل کردیتے ہیں اس پردہ کی وجہ سے وہ آپ کی باتوں کو اور آپ کے مرتبہ کو سمجھ نہیں پاتے اور ہم ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتے ہیں (جب کوئی شخص بہرے پن کی وجہ سے بات نہیں سن پاتا تو کہتے ہیں کہ یہ ثقل سماعت کا مریض ہے اور اس کا بامحاورہ ترجمہ یہ لکھا گیا کہ ہم ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–48

تاکید توحید وبیان حال منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ : ولقد صرفنا فی ھذا القران لیذکروا .... الیٰ .... فلا یستطیعون سبیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں سب سے اہم اور اعظم حکم توحید کا تھا اب ان آیات میں اس کی تاکید اور تائید کے لیے ابطال شرک پر ایک دلیل عقلی قائم فرماتے ہیں بعد ازاں ان مشرکین نبوت کا حال بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اس درجہ سنگ دل ہوچکے ہیں کہ جب قرآن میں توحید کے مضامین سنتے ہیں تو ان کی وحشت اور نفرت میں زیادتی ہوجاتی ہے اس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے تذکر کے لیے نازل کیا تھا مگر یہ نادان بوجہ عدم تدبر کے تنفر اور تمسخر کی حد میں داخل ہوگئے ہیں یہ ضد اور عناد کی انتہا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

45:۔ یہ مشرکین کے حق کو نہ ماننے اور مسئلہ توحید کا انکار کرنے کی علت ہے۔ جب آپ قرآن مجید کی آیتیں تلاوت فرماتے ہیں تو آپ کے اور ان کے درمیان پردہ لٹکا دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ قرآن سن ہی نہیں پاتے۔ پردہ سے ضد وعناد کا معنوہ پردہ مراد ہے مشرکین محض ضد و حسد اور تعصب وعناد کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، آپ سے دور رہتے اور نفرت کرتے تھے یہی معنوی پردہ درمیان میں حائل تھا جو انہیںحضور ﷺ کے قریب آنے نہیں دیتا تھا ” و جعلنا علی قلوبھم اکنۃ الخ “ ضد وعناد اور انکار و جحود کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اور ان سے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوچکی ہے اس لیے اہل لسان ہونے کے باوجود…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–48

(قرآن بطور نصیحت) اسلامی معاشرے کی فلاح کے لیے پندرہ زریں اصولوں کے اول وآخر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید بیان فرمایا ، اب اس آیات میں بھی قرآن پاک کی صداقت اور مسئلہ توحید ہی کا ذکر ، اور شرک کا رد ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد صرفنا فی ھذالقران “۔ ہم نے اس قرآن پاک میں مختلف طریقوں ، عنوانوں اور پیرایوں میں پھیر پھیر کر بیان کیا ہے ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، ایمانیات ، رسالت ، معاد اور موجود اور دوسری زندگی سے تعلق رکھنے والی ساری باتیں آسانی سے سمجھ میں آسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے (آیت) ” لیذکروا “۔ تاکہ لوگ ان مثالوں سے نصیحت پکڑیں اور کفر وشرک کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا ۭ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا 46؀ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 45–52

ترکیب : مستورا و ساترا۔ بما یستمعون بہ ای بسببہ من الھزاء اذ ھم بدل من اذ قبلہ یوم یدعوکم ظرف لیکون بحمدہ فی موضع الحال۔ تفسیر : آسمانوں اور زمین کی چیزوں کی تسبیح تو تم اے مشرکین سمجھتے ہی نہ تھے۔ تمہاری سمجھ میں تو قرآن مجید بھی نہیں آتا جو خاص تمہاری زبان فصیح میں نازل ہوا ہے۔ واذاقرأت الخ اور یہ نہ سمجھنا قرآن کا اس لیے ہے کہ جب تم اے نبی ! قرآن پڑھتے ہو تو ان کی ازلی گمراہی کے پردے بیچ میں حائل ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے مضامین میں غوروتامل نہیں کرسکتے اور جو کوئی ان کو دوسرا سمجھائے تو سنتے بھی نہیں۔ اور ان کے حواس باطنیہ کے ماؤف ہونے پر یہ دلیل ہے کہ جب قرآن میں توحید کا ذکر اور شرک کی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–48

وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ لاَ یُوْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا۔ وَجَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِہِمْ اَکِنَّـۃً اَنْ یَّفْقَہُوْہُ وَفِیْٓ اٰذانِہِمْ وَقْرًا ط وَاِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ وَلَّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ نُفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 45۔ 46) (جب آپ ﷺ قرآن پڑھ کر سناتے ہیں تو ہم آپ ﷺ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیں۔ اور ہم ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں، اور جب آپ ﷺ قرآن میں تنہا اپنے رب کا ذکر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–46

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا عظیم ذکر اور اس کی حمد کی ایک صورت ہے۔ لیکن قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو کفار کے لیے ایک پردہ حائل ہوجاتا ہے اور وہ اس سے نفرت کرتے ہیں۔ قرآن مجید انسان کے دل کے لیے ایک بارش کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر اس بارش کا اثر اسی دل پر ہوتا ہے۔ جو کفر و نفاق اور ہر قسم کی عصبیت سے صاف ہوتا ہے۔ اس صفت کا حامل شخص جب قرآن مجید کی تلاوت کرتا اور سنتا ہے تو اس کے ایمان میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس پر ایمان لانے والے کا دل نرم اور اس کا اپنے رب پر توکل بڑھ جاتا ہے۔ (الانفال : 2) اس کے برعکس جس کے دل میں کفر و نفاق اور تعصب ہوتا ہے۔ اس پر قرآن مجید کا کوئی اثر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ان کے دلوں پر بھی پردے ہیں : 46: وَّ جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً (اور ان کے دلوں پر پردے ڈال دیتے ہیں) اکنۃ جمع کنان ہے۔ ایسا پردہ جو کسی چیز کو ڈھانپ لے۔ اَنْ یَّفْقَھُوْہُ (اس سے کہ ان کو قرآن فہمی حاصل ہو) اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ وہ اس کو سمجھیں۔ وَ فِیْ ٰاذَانِھِمْ وَقْرًا (اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دیتے ہیں) وقرؔ ایسا بوجھ جو سننے سے رکاوٹ ہو۔ وَاِذَا ذَکَرْتَ رَبَّکَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَہٗ (جب آپ قرآن میں اکیلے اپنے ہی رب کا ذکر کرتے ہیں) محاورہ میں کہا جاتا ہے وحد یحد وحدًا ووحدۃ جیسے وعد یعد عدۃ یہ مصدر ہے جو حال کے قائم مقام آیا ہے اصل میں یحد وحدہٗ بمعنٰی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46۔” وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ “ اس کا معنی پردے کے ہیں ۔ ” ان یفھوہ “ اس بات کی ناپسندیدگی کی وجہ سے کہ وہ ان کو سمجھ نہ سکیں ۔ بعض نے کہا تا کہ وہ اس کو سمجھ نہ سکیں۔ ” وفی آذا انھم و قراً “ ان کے کانوں میں بوجھ پڑے ہوئے تا کہ وہ اس کو سمجھ نہ سکیں ۔ ” واذا ذکرت ربک فی القرآن وحدہ “ یعنی جب آپ یہ کہہ دیں لاالہ الا اللہ قرآن سے پڑھ لیں ۔ ” ولو اعلی ادبارھم نفوراً “ نافر کی جمع ہے جیسے قاعد جمع ہے قعود اور جالس جلوس کی جمع ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–46

45:۔ تفسیر ابراہیم بن منذر میں ابن شہاب زہری کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس وقت اللہ کے رسول قرآن شریف کی آیتیں مشرکین مکہ کے روبرو پڑھتے تھے اور ان کو ہدایت کرتے تھے تو وہ لوگ ٹھٹھے سے کہتے تھے وفی اذاننا وقر ومن بیننا وبینک حجاب یعنی جن باتوں کے ماننے کے لیے اے محمد ﷺ تم ہم سے کہتے ہو ان باتوں کے سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں اور ان باتوں کے ماننے کے حساب سے ہم میں اور تم میں ایک آڑ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎۔ سورة حم السجدہ میں آوے گا جن باتوں کا ذکر ان آیتوں میں ہے وہ باتیں مشرک لوگ مسخراپن سے کیا کرتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–55

(آیت نمبر (45 اللہ تبارک و تعالیٰ حق کی تکذیب کرنے والوں کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے ‘ جنہوں نے حق کو ٹھکرایا اور اس سے روگردانی کی کہ اللہ تعالیٰ ان کے اور ان کے ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے ‘ چناچہ فرمایا : ( واذا قرات القران) ” اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں “ جس کے اندر وعظ و تذکیر ‘ ہدایت و ایمان ‘ بھلائی اور علم کثیر ہے۔ (جعلنا بینک و بین الذین لا یومنون بالاخرۃ حجابا مستورا) ” تو ہم کردیتے ہیں آپ کے اور ان کے درمیان جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے ‘ ایک چھپا ہوا پردہ۔ “ جو انہیں اس کے حقیقی فہم ‘ اس کے حقائق کے تحقق اور جس بھلائی کی طرف یہ دعوت دیتا ہے اس کی اطاعت سے محجوب (آڑ) کردیتا ہے (وجعلنا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–51

قول باری ہے (وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رتا کے ایک خاص حصے میں اس بات سے روک دیا تھا تاکہ ان کے لئے حضور ﷺ کی ایذا رسانی ممکن نہ رہے۔ ایک قول کے مطابق ہم نے ان پر یہ حکم لگا کر کہ وہ گمراہی کے اسی مقام پر رہیں گے ان کے دلوں کو قرآن فہمی کے لئے ناکارہ بنادیا تھا۔ اس میں ان کی ایک طرح مذمت تھی جس کی بنیاد یہ تھی کہ وہ نہ صرف حق کو سمجھنے اور اس کی طرف کان دھرنے سے پہلے بچاتے ہیں بلکہ اس سے منہ پھیر لیتے اور بدکتے بھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

82۔ ہٹ دھرموں کے کان بند، اور انکے دل ماؤف۔ والعیاذ باللہ :۔ چنانچہ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے اس سے کہ یہ اس کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ رکھ دئے اس سے کہ یہ اس کو سنیں۔ اور ان کے ساتھ یہ معاملہ ان کے اپنے خبث باطن اور سوء اختیاری کی بنیاد پر کیا گیا، سو اس کے نتیجے میں ان کے دل ماؤف، اور کان بند ہوگئے۔ جس سے یہ لوگ قول حق کے سننے اور سمجھنے سے محروم ہوگئے اور یہ اسلئے کہ ہماری سنت اور ہمارا دستور یہی ہے کہ جس کا باطن ٹیڑھا ہو اور وہ خود نور حق و ہدایت کی روشنی چاہتا ہی نہ ہو وہ حق سے محروم ہی رہتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے لوگ جو اپنے عناد اور ہٹ دھرمی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–48

کفار کی گمراہی اور بد بختی تشریح ان آیات میں بھی کفار کی حجت بازیاں، اعتراضات اور الزامات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ لوگ اکثر اوقات مختلف قسم کی باتیں آپ کے لیے کہتے رہتے تھے۔ مثلاً کبھی کہتے آپ شاعر ہیں، جادو گر ہیں، مجنون ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یعنی ان کو خود اس بات پر یقین نہ تھا کہ آپ کو کیا کہہ کر مسترد کریں۔ ان کی انہی گمراہیوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت حاصل کرنے کی حس ہی بالکل فنا کردی تھی، یعنی بالکل پکے کفار بن چکے تھے نہ ہدایت پسند کرتے تھے اور نہ ہی اللہ ان کے لیے ہدایت کے راستے کھولتا تھا۔ کفار اور مشرکین جب اکیلے اللہ کا ذکر سنتے تو بھاگ کھڑے ہوتے اور نفرت میں بڑھ جاتے۔ یہ بات…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) نہ صرف یہ کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی جب انہوں نے آخرت سے انکار کیا اور پھر ضد اور ہٹ دھرمی میں اس قدر بڑھ گئے کہ ہزار سمجھانے کے باوجود انکار کرتے ہی چلے گئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے اور آنحضرت کے مابین ایک دبیز پردہ حائل ہوگیا۔ ان کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے اور انکے کان ہر نصیحت کرنے والے کی بات سننے سے بہرے ہوگئے مگر وہ بدبخت اس پردے اور بوجھ کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔ (دیکھیے السجدہ :5) لیکن چونکہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے ان تمام چیزوں کی خلق کی نسبت بھی اسی کی طرف کردی گئی ہے۔10 کیونکہ وہ تو شرک ہی کو پسند کرتے ہیں اور توحید سے انہیں چڑ ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:46) اکنۃ۔ کنان کی جمع پردے۔ غلاف۔ کن یکن (نصر) کن وکنون۔ مصدر۔ مکنون چھپایا ہوا۔ سیپ میں محفوظ۔ وقرا۔ اسم مصدر۔ منصوب ۔ ثقل ۔ بہرہ پن ۔ گرانی۔ ولوا۔ ماضی جمع مذکر غائب تولیۃ مصدر۔ منہ موڑ کر ۔ پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں۔ علی ادبارہم پیٹھ موڑ کر ادبار دبر کی جمع بمعنی پیٹھ۔ نفورا۔ نفرت کرتے ہوئے۔ ضمیر فاعل ولوا سے حال ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 45–48

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 48 قرات تو نے پڑھا۔ حجاب پردہ۔ مستور چھپا ہوا۔ اکنۃ پردہ۔ وقر گرانی، ڈاٹ۔ وحدہ یکتا۔ ایک اللہ۔ ولو وہ پلٹ گئے۔ بھاگ گئے۔ اد بار (دبر) پیٹھ۔ یستمعون وہ غور سے سنتے ہیں۔ نجوی چپکے چپکے باتیں کرنا۔ سرگوشیاں۔ مسحور جادو کیا گیا۔ ضربوا وہ مارتے ہیں۔ چسپاں کرتے ہیں (چسپاں کیا) ۔ لایستطیعون وہ طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 45 تا 48 عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان کی دولت اور نور بصیرت سے محروم ہوتے ہیں وہ اپنے دل کو تسلی اور نگاہوں پر فریب کے پردے ڈال کر ایسی بےبنیاد باتوں کو گھڑ لیتے ہیں جن کی کوئی اصل اور حقیقت نہیں ہوتی اور انداز فکر کے زاویئے اتنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–46

آنحضرت ﷺ اور کفار کے درمیان فرشتہ کی آڑ تھی شان نزول : جس وقت اللہ کے رسول صلی اللہ قرآن شریف کی آیتیں مشرکین کے رو برو پڑھتے تھے اور ان کو ہدایت کرتے تھے تو وہ لوگ ٹھٹھے سے یہ کہتے تھے کہ جن باتوں کے ماننے کے لئے اے محمد ﷺ ! تم ہم سے کہتے ہو ان باتوں کے سننے سے ہمارے کان بہرے ہیں ، اور ان باتوں کے ماننے کے حساب سے ہم میں اور تم میں ایک آڑ ہے اللہ تعالیٰ نے ان مشرکوں کی بات کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ وہ سچی بات ہے کہ بدبختی ازلی جو ان کے سر پر سوار ہے وہ ان کو قرآن شریف کی ہدایت کی باتیں سننے نہیں دیتی۔ تو گویا یہ لوگ حقیقت میں بہرے ہیں اور آنکھوں کے سامنے آثار قدرت الہی ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[37] یہ آخرت سے انکار کا قدرتی نتیجہ ہے کہ آدمی کے دل پر غلاف چڑھ جائیں اور اس کے کان اس دعوت کے لئے بند ہوجائیں جو قرآن پیش کرتا ہے۔ اور وہ دعوت یہ ہے کہ حق و باطل کے فیصلے اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں ہوں گے۔ نیک انسان وہ ہے جو آخرت میں فوز و فلاح سے ہمکنار ہو، چاہے دنیا میں اسے کتنی ہی تکلیفیں اٹھانا پڑی ہوں اور برا آدمی وہ ہے جو آخرت میں نامراد و ناکام ہو گرچہ دنیا میں وہ کتنے ہی عیش و آرام میں رہا ہو۔ لہذا جو شخص آخرت پر یقین نہیں رکھتا وہ قرآن کی دعوت پر کیسے توجہ دے سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 45–46

(ف 4) غرض یہ ہے کہ کفار اپنی فطری صلاحیتوں کو ضائع کرچکے ہیں کہ ان میں قبول کا مادہ نہیں رہا ، جب یہ قرآن سنتے ہیں ، تو تعصب وجہالت کی دیواریں انکے آگے کھڑی ہوجاتی ہیں ، اس لئے استفادہ سے محروم رہتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-46 اور وہ یہ کہ ہم ان کے دلوں پر پردے ڈالتے ہیں تاکہ وہ اس قرآن کریم کو سمجھ نہ سکیں اور ہم ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں اور جب آپ قرآن کریم میں صرف اپنے پروردگار کی خوبیاں اور اس کے اوصاف و کمالات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ کافر پیٹھ پھیر کر نفرت ظاہر کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ یعنی کفر و عصیان موجب ہوتا ہے۔ عدم فہم اور عدم ارادئہ فہم کا اسی کو پر وہ اور ثقل فرمایا ہے یہ باتیں مومنین پر بھی کبھی ظاہر ہوتی ہیں۔ جب کوئی غلطی اور گناہ ہوجاتا ہے تو عبادت کی لذت سلب ہوجاتی ہے یا جماعت کی توفیق سلب ہوجاتی ہے وغیرہ وغیرہ اور جہاں بالکل ہی عناد اور سرکشی ہو اور دین کا مقابلہ ہو اس کا اثر بھی اتنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی وہ پردہ عدم فہم اور عدم رادہ فہم ہے، جس سے وہ آپ کی شان نبوت کا ادراک نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منکرین کی یہ حالت ان کی اپنی اختیار کردہ ہے وہ اکیلے اللہ کا نام سننا نہیں چاہتے : 60۔ منکروں کی یہ حالت دراصل ان کی اپنی ہی پسند کی ہوئی ہے ، یہ قانون اللہ تعالیٰ کا ٹھہرایا ہوا ہے کہ نہ دیکھنے والوں کی آنکھوں پر پردہ پڑجاتا ہے ۔ لیکن یہ پردہ کب پڑتا ہے ؟ اس وقت جب دیکھنے والا دیکھنے سے انکار کردیتا ہے یہاں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ، آنکھوں کے آگے حجاب ، کانوں میں گرانی اور عقل پر تہ بہ تہ غلافوں کا چڑھ جانا لیکن یہ وہی تین حالتیں ہیں جو خود منکرین نے اپنے لئے پسند کرلی تھیں جیسا کہ ارشاد الہی ہے کہ : (آیت) ” وقالوا قلوبنا اکنۃ مما تدعونا الیہ وفی اذاننا وقرومن بیننا وبینک حجاب “۔ ( سورة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–46

The meaning of Tasbih (glorification of Allah) said by the heavens and the earth and everything present therein Among these, the Tasbih of Allah said by all angels and believing jinn and human beings is self-evident. Everyone knows that. As for disbelieving human beings and the jinn, they obviously do not say it. Similarly, there are other things in this universe about which it is said that they are insensate, devoid of reason and intelligence. How do we rationalize their act of saying Tasbih? Some ` Ulama' say that their Tasbih is circumstantial, state-articulated, the testimony of their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

51. This refers to the divine law according to which those people, who do not believe in the Hereafter, cannot benefit from the Quran. Allah has attributed this law to Himself, as if to say: The natural result of disbelief in the Hereafter is that the heart of such a man becomes dull and his ears become deaf to the message of the Quran, for Quran bases its invitation on the belief in the Hereafter. So it warns the people that they should not be deluded by this apparent aspect of the worldly life if there appears to be none to call them to account here; for it does not mean they are not at all…

Read the full tafseer →