سبحان العلی الاعلی
ساتوں آسمان و زمین اور ان میں بسنے والی کل مخلوق اس کی قدوسیت، تسبیح، تنزیہ، تعظیم، جلالت، بزرگی، بڑائی، پاکیزگی اور تعریف بیان کرتی ہے اور مشرکین جو نکمے اور باطل اوصاف ذات حق کے لئے مانتے ہیں، ان سے یہ تمام مخلوق برات کا اظہار کرتی ہے اور اس کی الوہیت اور ربوبیت میں اسے واحد اور لا شریک مانتی ہے۔ ہر ہستی اللہ کی توحید کی زندہ شہادت ہے۔ ان نالائق لوگوں کے اقوال سے مخلوق تکلیف میں ہے۔ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے، زمین دھنس جائے، پہاڑ ٹوٹ جائیں۔ طبرانی میں مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو مقام ابراہیم اور زمزم کے درمیان سے جبرائیل و میکائیل مسجد اقصی تک شب معراج میں لے گئے، جبرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 48
یعنی ساری کائنات اور اس کی ہر شئ اپنے پورے وجود سے اس حقیقت پر گواہی دے رہی ہے کہ جس نے اس کو پیدا کیا ہے اور جو اس کی پروردگاری و نگہبانی کر رہا ہے اس کی ذات ہر عیب اور نقص اور کمزوری سے منزہ ہے، اور وہ اس سے بالکل پاک ہے کہ خدائی میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہو۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 49
حمد کے ساتھ تسبیح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر شئ نہ صرف یہ کہ اپنے خالق اور رب کے عیوب و نقائص اور کمزوریوں سے پاک ہونا ظاہر کر رہی ہے، بلکہ اس کے ساتھ وہ اس کے تمام کمالات سے متصف اور تمام تعریفوں کا مستحق ہونا بھی بیان کرتی ہے۔ ایک ایک چیز اپنے پورے وجود سے یہ بتارہی ہے کہ اس کا…
Read the full tafseer →زمین و آسمان اور ان میں موجود تمام چیزوں کے تسبیح کرنے کا مطلب
ان چیزوں میں فرشتے سب کے سب اور انسان وجن جو مومن ہیں ان کا اللہ کی تسبیح کرنا تو بدیہی ہے سبھی جانتے ہیں کافر انسان اور جن جو بظاہر تسبیح نہیں کرتے اسی طرح عالم کی دوسری چیزیں جن کو کہا جاتا ہے کہ ان میں عقل و شعور نہیں ہے ان کے تسبیح پڑھنے کا مطلب کیا ہے بعض علماء نے فرمایا کہ ان کی تسبیح سے مراد تسبیح حال یعنی ان کے حالات کی شہادت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز کا مجموعی حال بتلا رہا ہے یہی شہادت حال اس کی تسبیح ہے۔
مگر دوسرے اہل تحقیق کا قول یہ ہے کہ تسبیح اختیاری تو صرف فرشتے اور مومن جن و انس کے لئے مخصوص ہے مگر تکوینی…
Read the full tafseer →تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا۔
" تسبیح " کا مفہوم : " تسبیح " کی اصل روح تنزیہہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام نسبتوں اور صفتوں سے بری اور بالاتر قرار دینا جو اس کی اعلیٰ صفات اور شان کے منافی ہیں۔ اس کے ساتھ جب " بحمدہ " کی قید لگ جاتی ہے، جس طرح یہاں " یسبح بحمدہ " ہے تو اس کے اندر تنزیہہ کے ساتھ اثبات کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے یعنی اس کو تمام اعلی صفات سے متصف قرار دینا۔
مطلب یہ ہے کہ ایک خاص دائرہ کے اندر خدا نے تم کو…
Read the full tafseer →44۔ 1 یعنی سب اسی کے مطیع اور اپنے اپنے انداز میں اس کی تسبیح وتحمید میں مصروف ہیں۔ گو ہم ان کی تسبیح وتحمید کو نہ سمجھ سکیں۔ اس کی تائید بعض آیات قرآنی سے بھی ہوتی ہے مثلًا حضرت داؤد ؑ کے بارے میں آتا ہے (اِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبَالَ مَعَهٗ يُسَبِّحْنَ بالْعَشِيِّ وَالْاِشْرَاقِ) 38۔ ص :18) ' ہم نے پہاڑوں کو داؤد ؑ کے تابع کردیا ' بس وہ شام کو اور صبح کو اس کے ساتھ اللہ کی تسبیح (پاکی) بیان کرتے ہیں۔ ' بعض پتھروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَاِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْـيَةِ اللّٰهِ) 2۔ البقرۃ :74) اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گرپڑتے ہیں، ایک اور حدیث سے ثابت ہے کہ چیونٹیاں…
Read the full tafseer →25: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ساری چیزیں زبان حال سے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہیں، کیونکہ ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ اگر اس کی تخلیق پر غور کیا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے، نیز ہر چیز اسی کے تابع فرمان ہے اور یہ مطلب بھی کچھ بعید نہیں ہے کہ یہ ساری چیزیں حقیقی معنی میں تسبیح کرتی ہوں، اور ہم اسے نہ سمجھتے ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز یہاں تک کہ پتھروں میں بھی ایک طرح کی حس پیدا فرمائی ہے۔ اور یہ بات قرآن کریم کی کئی آیتوں کی روشنی میں زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔ اور آج کی سائنس نے بھی یہ تسلیم کرلیا ہے کہ پتھروں میں بھی ایک…
Read the full tafseer →اس کائنات کا ذرہ ذرہ اس حقیقت کا اظہار کر رہا ہے ، اللہ کی تسبیح و تہلیل کر رہا ہے ، یہ پوری کائنات ایک زندہ کائنات ہے اور اللہ کی تسبیح و تہلیل میں مصروف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔
یہ ایک منفرد کائنات منظر ہے ، جب انسان سوچتا ہے کہ ہر شجر و حجر ، ہر بیج اور ہر پتہ ، ہر پھل اور پھول ، ہر پودا اور ہر درخت ، پر چرند اور ہر پرند ، ہر انسان اور ہر حیوان ، ہر دوڑنے والا اور ہر رینگنے والا ، ہر اڑنے والا اور ہر تیرنے والا ، زمین کا ہر مکیں اور ہوا کا ہر باسی ، پستیوں میں رہنے والا یا بلندیوں پر بسیرا رکھنے والا ، سب کے سب اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور ثنا خوان ہیں۔
جب انسان تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
2 یعنی ہر ایک مخلوق زبان سے یا حال سے اس کی پاکی اور خوبیاں بیان کرتی ہے لیکن تم اسے سمجھتے نہیں۔ خواہ فکر و تامل نہ کرنے کی وجہ سے یا اس قوت کے فقدان کی وجہ سے جس کے ذریعہ بعض مخلوقات کی تسبیح قالی سنی اور سمجھی جاسکتی ہے۔ اور اگر کوئی شخص باوجود سمجھنے کے قبول نہ کرے یا اس کے مقتضیٰ پر عمل نہ کرے۔ تو یہ سمجھنا نہ سمجھنے ہی کے حکم میں ہے۔
3 یعنی تمام مخلوقات جس کی پاکی بیان کریں تم اس کے لیے شرکاء، اولاد اور بیٹیاں تجویز کرو۔ یہ ایسی گستاخی تھی کہ تم کو فوراً ہلاک کردیا جاتا لیکن وہ اپنے حلم سے شتاب نہیں پکڑتا اور توبہ کرلو تو بخش دیتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 44 تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ
اس کائنات کی ایک ایک چیز چاہے جاندار ہو یا بظاہر بےجان وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ تسبیح کی ایک صورت تو یہ ہے کہ کائنات کی ہرچیز اپنے وجود سے گویا اپنے خالق کی خلاقی اور اپنے صانع کی صناعی کا اعلان کر رہی ہے۔ جیسے ایک تصویر اپنے مصور کے معیارِ فن کا اظہار کرتی ہے لیکن تمام مخلوقات کا ایک طرز تسبیح قولی بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو زبان عطا کر رکھی ہے اور وہ اپنی زبان خاص سے اللہ کی تسبیح میں مصروف ہے۔
اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا
ہر چیز کا یہی انداز تسبیح ہے جس کا ادراک انسان نہیں کرسکتے۔ سورة حٰم السجدہ کی آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
54 سَبَحَ کا لغوی مفہوم :۔ سَبَحَکے لغوی معنی کسی چیز کا ہوا یا پانی میں تیرنا اور تیزی سے گزر جانا ہے (مفردات القرآن) پھر اس لفظ کا استعمال کسی کام کو سرعت کے ساتھ انجام دینے پر بھی ہونے لگا جیسے ارشاد باری ہے (اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا ۭ ) 73 ۔ المزمل :7) (دن کے وقت تو آپ کو اور بہت سے شغل ہوتے ہیں) اور سبحان کا لفظ سبح کا مصدر ہے جیسے غفر سے غفران ہے اور اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کائنات میں لاکھوں اور کروڑوں سیارے فضا میں نہایت تیزی سے گردش کر رہے ہیں جن میں نہ کبھی لغزش پیدا ہوتی ہے نہ جھول اور نہ ہی تصادم یا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پر کنٹرول…
Read the full tafseer →63۔ (اے مشرکو ! ) (آیت) ” ومن فیھن “۔ انسان، جنات، حیوان فرشتہ وغیرہ ساری ہی مخلوق اس میں آگئی۔ (آیت) ” تسبح۔ یسبح “۔ ہر ایک مخلوق اپنے خالق کی قدوسیت کا اعلان اپنے مرتبہ وجود کے متناسب ومطابق برابر کرتی رہتی ہے۔ خواہ زبان سے ہو یا زبان حال سے۔ موجودات عالم کا ذرہ ذرہ اپنے حدوث، وامکان کی بنا پر صانع مطلق کے نہ صرف وجوب وجود کی بلکہ یکتائی، صناعی قدرت کی بھی شہادت علانیہ دے رہا ہے۔ محققین عارفین نے تصریح کی ہے ( اور یہی بات دل کو بھی لگتی ہے) کہ آیت میں لفظ تسبیح اپنے عموم کے ساتھ تسبیح قالی اور حقیقی اور تسبیح حالی اور حکمی اندھا کرلیا ہے تو تمہاری سمجھ میں یہ دلالت حالی بھی نہیں آتی جو ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
آیت نمبر 41 تا 52
ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ…
Read the full tafseer →تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِه : تمام ساتوں آسمان اور زمین اور جتنے ان میں ہیں اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو۔ یعنی ہر چیزلوازم امکان خصوصیات حدوث اور ان تمام امور سے اللہ کی ذات کے پاک ہونے کا اعتراف کرتی ہے جو شان الوہیت کے خلاف ہیں اور اللہ کے جمال ذات ‘ کمال صفات اور انعامات متواترہ کا اپنی اس نوعی زبان سے اقرار کرتی ہے جو اللہ نے خاص طور پر اس کو عطا فرمائی ہے اور اس کو سنتا اور سمجھتا بھی وہی ہے جس کے دل کو اللہ نے اس زبان و قول کو سننے اور…
Read the full tafseer →(44) اور وہ ایسا پاک ہے کہ تمام مخلوقات اس کی پاکی بیان کررہی ہیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں، خواہ نباتات میں ہو جو کہ اس کے حکم سے اس کی پاکی (حالا یا قالا) نہ بیان کرتی ہو لیکن تم ان کی پاکی کو نہیں سمجھتے کہ کون سی زبان میں وہ پاکی بیان کر رہے ہیں۔
بیشک وہ اپنے بندوں پر بڑا حلیم ہے کہ فورا ان کی گرفت نہیں کرتا اور بڑا غفور بھی ہے کہ تو بہ کرنے والے کی مغفرت فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ۔۔ : زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کر رہی ہے۔ ”سَبَحَ یَسْبَحُ“ (ف) کا معنی پانی یا ہوا میں تیزی سے چلنا ہے۔ ”سَبَحَ سَبْحًا وَسِبَاحَۃً“ ستاروں کا افلاک میں تیز چلنا، جیسا کہ فرمایا : (وَكُلٌّ فِيْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ) [ یٰسٓ : 40 ] ”اور سب ایک ایک دائرے میں تیر رہے ہیں۔“ گھوڑے کا تیز چلنا، فرمایا : (ۙوَّالسّٰبِحٰتِ سَبْحًا) [ النازعات : 3 ] البتہ باب تفعیل ”اَلتَّسْبِیْحُ“ کا معنی اللہ تعالیٰ کی تنزیہ، یعنی اسے ہر عیب اور کمی سے پاک قرار دینا ہے۔ اصل اس کا بھی اطاعت، عبادت اور پاکیزگی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 44
قولہ تعالیٰ : تسمح لہ السمٰوٰت السبع والارض ومن فیھن اس میں آسمانوں اور زمین کی طرف ذوی العقول کی ضمیر لوٹ رہی ہے، اس لئے کہ ان کی عاقل کا فعل منسوب کیا گیا ہے اور وہ تسبیح کرنا ہے۔ اور قول باری تعالیٰ : ومن فیھن میں مراد فرشتے، انسان اور جنات ہیں، پھر اس کے بعد تمام اشیاء کو اپنے اس قول میں شامل کیا : وان من شیء الا یسبح بحمدہٖ اور تسبیح الدلالت ہے۔ کیا یہ مخصص ہے یا نہیں ؟ تو ایک فرقہ اور جماعت نے کہا ہے : یہ عام مخصوص نہیں ہے اور اس سے مراد تسبیح الدلالۃ ہے۔ اور ہر پیدا ہونے والی شے اس کی ذات پر یہ شہادت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حالق بھی ہے اور قادر بھی۔ اور ایک گروہ نے کہا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
1:۔ عبد الرازق، ابن جری، ابن منذر اور ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واتخذ من الملئکۃ اناثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودیوں نے فرشتوں کو حق جل شانہ کی بیٹیاں کہا اور (آیت) ” قل لوکان معہ الہۃ “ سے مراد ہے کہ (اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور خدا ہوتا) تو پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی فضیلت کو ان پر جان لیتے پس وہ ایسا حیلہ (ضرور) تلاش کرتے جو ان کو اس کے قریب کردیتا (اور) بلاشبہ وہ (فرشتے) ایسے نہیں ہیں جیسے وہ کہتے ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا ابتغوا الی ذی العرش سبیلا “ سے مراد ہے کہ وہ (دوسرے خدا) عرش والے پر غلبہ کی راہ تلاش کرتے کہ کہاں ہیں کہ اس کی…
Read the full tafseer →[تُـسَبِحُ : تسبیح کرتے ہیں ] [لَهُ : اس کی ] [السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ : سات آسمان ] [وَالْاَرْضُ : اور زمین ] [وَمَنْ : اور وہ جو ] [فِيْ هِنَّ : ان میں ہیں ] [وَان (رح) : اور نہیں ہے ] [مِّنْ شَيْءٍ : کوئی بھی چیز ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ)] [يُسَبِحُ : وہ تسبیح کرتی ہے ] [بِحَمْدِهٖ : اس کی حمد کے ساتھ ] [وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [لَّا تَفْقَهُوْنَ : تم لوگ سمجھتے نہیں ہو ] [تَسْبِيْحَهُمْ : ان کی تسبیح کو ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : ہے ] [حَلِــيْمًا : بردبار ] [غَفُوْرًا : بےانتہا بخشنے والا ]
نوٹ۔ 1: فرشتوں، انسانوں اور جنوں کے علاوہ جو باقی چیزیں ہیں ان کی تسبیح کا کیا مطلب ہے ؟ بعض علماء نے…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْھِنَّ ) (الآیۃ) اس میں یہ بتایا کہ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے اندر ہے یہ سب اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں یعنی وہ اس بات کے اقراری ہیں کہ ان کا خالق ومالک ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے وہ اس سے بھی پاک ہے کہ اس کا کوئی شریک ہو آسمان اور زمین اور ان کے اندر جو کچھ ہے اور جو کچھ اس کے علاوہ ہے سب اللہ کی مخلوق ہے ان کی تسبیح بتانے کے لیے ارشاد فرمایا (وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ ) (یعنی کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہے جو اللہ پاک کی تسبیح بیان نہ کرتی ہو) اور ساتھ میں یوں بھی فرمایا کہ (وَ لٰکِنْ لَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
تاکید توحید وبیان حال منکرین نبوت
قال اللہ تعالیٰ : ولقد صرفنا فی ھذا القران لیذکروا .... الیٰ .... فلا یستطیعون سبیلا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں سب سے اہم اور اعظم حکم توحید کا تھا اب ان آیات میں اس کی تاکید اور تائید کے لیے ابطال شرک پر ایک دلیل عقلی قائم فرماتے ہیں بعد ازاں ان مشرکین نبوت کا حال بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اس درجہ سنگ دل ہوچکے ہیں کہ جب قرآن میں توحید کے مضامین سنتے ہیں تو ان کی وحشت اور نفرت میں زیادتی ہوجاتی ہے اس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے تذکر کے لیے نازل کیا تھا مگر یہ نادان بوجہ عدم تدبر کے تنفر اور تمسخر کی حد میں داخل ہوگئے ہیں یہ ضد اور عناد کی انتہا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
44:۔ اللہ تعالیٰ ایسا حلیم اور معاف کرنے والا ہے کہ ساری مخلوق اس کی پاکی بیان کرتی ہے اور مشرکین اس کے لیے شرکاء اور شفعاء تجویز کرتے ہیں ایسی بڑی گستاخی پر بھی وہ انہیں جلدی ہلاک نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے اور اگر توبہ کرلیں تو معاف فرما دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–48
(قرآن بطور نصیحت)
اسلامی معاشرے کی فلاح کے لیے پندرہ زریں اصولوں کے اول وآخر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید بیان فرمایا ، اب اس آیات میں بھی قرآن پاک کی صداقت اور مسئلہ توحید ہی کا ذکر ، اور شرک کا رد ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد صرفنا فی ھذالقران “۔ ہم نے اس قرآن پاک میں مختلف طریقوں ، عنوانوں اور پیرایوں میں پھیر پھیر کر بیان کیا ہے ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، ایمانیات ، رسالت ، معاد اور موجود اور دوسری زندگی سے تعلق رکھنے والی ساری باتیں آسانی سے سمجھ میں آسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے (آیت) ” لیذکروا “۔ تاکہ لوگ ان مثالوں سے نصیحت پکڑیں اور کفر وشرک کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت…
Read the full tafseer →تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ ۭ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا 44
سبح
السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو :
وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل…
Read the full tafseer →(ف) تسبیح خدا تعالیٰ کا جملہ عیوب اور خصائصِ حدوث و امکان سے پاک اور منزہ ہونا بیان کرنا خواہ زبان سے خواہ دلالۃ حال سے تحمید اس کے کمال اور اوصاف حمیدہ کو بیان کرنا سبحان اللہ بحمدہ کہنا مومن اور ملائکہ تو قال اور حال سے اس کی تسبیح و تقدیس کرتے ہیں کفار اور دیگر اشیاء آسمانوں اور زمین کی علویات و سفلیات ‘ نباتات ‘ جمادات و لالۃِ حال سے تسبیح وتحمید بیان کر رہے ہیں ان کی بناوٹ بآواز بلند کہہ رہی ہے کہ ان کا بنانے والا سب عیبوں سے پاک اور سب خوبیوں سے موصوف ہے مگر اس بات کو وہی سمجھتا ہے جو مخلوق کی آفرنیش اور اس کی تراش اور حالات وجود و بقا میں تامل کرتا ہے اس لیے وہ لوگ جو لذات و شہوات میں…
Read the full tafseer →تُسْبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْمِنَّ ط وَاِنْ مِّنْ شَیْ ئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰـکِنْ لاَّ تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ ط اِنَّہٗ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 44)
(اسی کی تسبیح کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے، بیشک وہ بڑا بردبار اور بخشنے والا ہے۔ )
تمام کائنات اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ کرتی ہے
مشرکین جو کچھ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے بارے میں کہتے تھے اور شرک کی جو مختلف شکلیں انھوں نے اختیار کر رکھی تھیں لفظ سبحان سے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مشرک اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو شریک بنا کر اللہ تعالیٰ کی توہین کرتا ہے۔ اس طرح وہ نہ صرف سنگین جرم کا مرتکب ہوتا ہے بلکہ وہ نظام کائنات سے بغاوت کا راستہ اختیار کرتا ہے کیونکہ پوری کائنات اپنے خالق ومالک کے تابع فرمان اور اس کی حمد سرا ہے۔
قرآن مجید سب لوگوں بالخصوص کافر، مشرک اور نافرمانوں کے سامنے یہ حقیقت عیاں کرتا ہے۔ اے رب کے نافرمانو ! تم جس طرح چاہو نافرمانی کرو۔ مگر یہ یادرکھنا کہ جس دھرتی کے اوپر اور جس آسمان کے نیچے اور جس فضا میں تم رہتے ہو۔ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش بیان کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ساتوں آسمان اور زمینیں اور جو کچھ ان میں ہے وہ…
Read the full tafseer →44: تُسَبِّحُ عراقی نے سوائے ابوبکر کے تاءؔ سے پڑھا۔ نافع، ابن کثیر نے یاء سیلَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْھِنَّ وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ (تمام ساتوں آسمان اور زمین اور جتنے ان میں ہیں وہ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو) یعنی سبحان اللّٰہ و بحَمْدِہٖکہتی ہے سد ّی کہتے ہیں کہ پیغمبر (علیہ السلام) نے فرمایا جو مچھلی سمندر میں شکار بنتی ہے اور اسی طرح جو اڑنے والا پرندہ شکار ہوتا ہے۔ اس کا سبب ذکر الٰہی سے غفلت ہے۔ [ کنزالعمال : 1919[
وَلٰکِنْ لَّا تَفْقَھُوْنَ تَسْبِیْحَھُمْ (لیکن تم اس کی…
Read the full tafseer →44۔” تسبح لہ السموات السبع والارض من فیھن “ ابو عمرو، حمزہ ، کسائی ، حفص اور یعقوب کے نزدیک تاء کے ساتھ ( تسبح) ہے اور دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ ” یسبح “ پڑھا ہے۔
ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے
” وان من شیء الا یسبح بحمدہ “ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جو چیز بھی زندہ ہے وہ اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ تمام حیوانات اور نباتات تسبیح کا اقرار کرتے ہیں ۔ عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ درخت اللہ کی تسبیح بیان کرتا ہے اور اس لکڑی سے بنا ہوا ستون تسبیح نہیں پڑھتا ۔ مقدام بن معدی کرب کا قول ہے کہ مٹی تسبیح کرتی ہے جب تک کہ وہ سڑ نہ جائے ، جب سڑ جاتی ہے تو وہ تسبیح نہیں کرتے۔
پتہ بھی اللہ کی تسبیح…
Read the full tafseer →44:۔ جس طرح بیت آدم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف زبانیں بنائی ہیں کوئی عربی بولتا ہے کوئی ترکی کوئی فارسی جب تک ایک فرقہ خاص طور پر دوسرے فرقے کی زبان نہ سیکھے اپنی زبان کے سوا دوسری زبان کا ایک لفظ نہیں جانتا اسی طرح اللہ نے زمین آسمان ‘ جھاڑ پھاڑ ‘ سب کو ایک ایک زبان دی ہے وہ اپنی زبان میں رات دن اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں ہر فرقہ انسانی کا دوسرے فرقے انسانی سے میل جول دنیا کی آبادی کی غرض سے اللہ کو منظور ہے اس لیے ایک ملک کا آدمی ضرورت سے دوسرے ملک کی زبان کو سیکھنا چاہے تو یہ بات اللہ تعالیٰ نے حد تعلیم انسانی پر انسان کے اندر رکھی ہے جھاڑ پھاڑ کی۔
زبان سے اس طرح کی کوئی غرض انسانی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت نمبر 41
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لئے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان کئے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان کئے ہیں اور انہیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انہیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتیٰ کہ وہ باطل کے لئے تعصب میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔
جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل وبراہین بیان کئے، وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لاتقف کی تشریح
قول باری ہے (لا تقف مالیس لک بہ علم۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو) کسی نشان کا پیچھا کرنا ” القفوا “ کہلاتا ہے۔ جبکہ اس کا کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بصیرت کہ یہ نشان کہاں جا کر اختتام پذیر ہوگا۔ اسی سے قافۃ کا لفظ بنا ہے جس کے معنی قیاذ شناس کے ہیں۔ یہ قائف کی جمع ہے۔ عرب کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو قدموں کے نشانات کا کھوج لگاتے تھے۔ (ہمارے ہاں عرف عام میں انہیں کھوجی کہا جاتا ہے) اور ایسے بھی تھے جو نسب کے سلسلہ میں قیاذ شناسی کا کام کرت ی تھے یعنی ایک شخص کے جسمانی اعضاء دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اس کا تعلق فلاں نسب سے ہے۔ تاہم عربوں کے…
Read the full tafseer →78۔ ہر چیز اللہ کی تسبیح کرتی ہے :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” ہر چیز اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے “ یعنی وہ ” سبحان اللہ وبحمدہ “ کہتی ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ ہم کھانا کھا رہے ہوتے تھے اور اس سے تسبیح کی آواز سنائی دے رہی تھے۔ (کنا نسمع تسبیح الطعام وھو یؤکل) یعنی جب کھانا کھایا جاتا تو ہم اس کی تسبیح سنا کرتے۔ (ابن کثیر، جامع البیان، معارف، محاسن وغیرہ) سو تم لوگوں کو اس خالق ومالک نے ایک محدود دائرہ کے اندر جو اختیار بخشا ہے اس کی بناء پر اور اس سے فائدہ اٹھا کر تم جو خود ساختہ اور ناروا باتیں چاہو اس کی طرف منسوب کرو لیکن ساتوں آسمان اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
نزول ِقرآن کا مقصد
تشریح : اللہ تعالیٰ تو ویسے ہی تمام رشتہ داریوں سے بالکل بےنیاز ہے۔ وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا تو کفار کا یہ کہنا انتہائی نامعقول بات ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں نعوذ باللہ۔ قرآن پاک میں بار بار حکمت اور توحید کے بارے میں بتایا گیا ہے مگر یہ لوگ عقل کے اندھے اور بھی زیادہ گمراہی اور نفرت میں بڑھ جاتے ہیں۔ اگر اللہ کے سوا دوسرے معبود ہوتے تو دستور کے مطابق وہ ضرور اللہ سے جنگ کرنے کے لیے عرش کی طرف بڑھتے اور ضرور بغاوت کرتے۔ توبہ کرو کیونکہ الہ العلمین کفر و شرک سے بہت زیادہ بلند اور عظیم ہے۔ کیونکہ اس کے برعکس ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–52
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔
ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔
(ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے)
نہ صرف یہ کہ اس کے…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اپنی زبان قال سے اس کے ہر عیب اور نقص سے پاک ہونے کی شہادت دے رہے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ آسمان میں ایک بالشت ھبر جگہ ایی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ سجدہ میں پڑا اللہ کی تسبیح نہ کر رہا ہو۔ (ابن مردویہ) ایک اور حدیث سے ثابت ہے کہ چیونٹی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔ (بخاری مسلم)7 تب ہی تو وہ تمہاری سب گستاخیاں اور بتدیمیزیاں دیکھتا ہے مگر قدرت رکھنے کے باوجود تم سے درگزر فرماتا ہے اور تم پر کوئی عذاب نہیں بھیجتا بلکہ نہ تمہارا رزق بند کرتا ہے اور نہ تمہیں اپنی نعمتوں سے محروم کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(17:44) ان نافیہ ہے۔ لا تفقھون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ فقہ سے (باب سمع) تم سمجھتے نہیں ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 44
اصفی اس نے چن لیا، منتخب کرلیا۔ بنین بیٹے۔ اناث بیٹیاں۔ فرفنا ہم نے طرح طرح سے بیان کیا۔ نفور نفرت۔ علو بلند تر۔ لاتفقھون تم نہیں سمجھتے۔ تسبیح پاکیزگی، تسبیح۔ حلیم برداشت کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 40 تا 44
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس حقیقت کو بار بار دھرایا ہے کہ اس کائنات کا خلاق ومالک صرف ایک اللہ ہے۔ اگر زمین و آسمان میں ایک اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو نظام کائنات تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا۔ وہ اللہ اس نظام کائنات کو چلانے میں نہ کسی کا محتاج ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ جس طرح دنیا کے بادشاہ اور حکمران اپنی مملکت، حکمرانی اور وراثت کے لئے اپنی…
Read the full tafseer →تمام جان دار اور بےجان سب اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ محبوب کائنات ہیں
اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک کیا ہوگا۔ ساتوں آسمان اور زمین اور ان میں جو مجودات ہیں وہ سب اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں اور کوئی شے ایسی نہیں جو اس کی حمد وثنا میں مشغول نہ لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے۔ جمادات میں بھی خدائے تعالیٰ نے ایک قسم کا علم رکھا ہے جس کو وہ خالق خوب جانتا ہے۔ روایت ہے کہ رسول مقبول ﷺ لکڑی کے ایک ستون سے تکیہ فرما کر خطبہ فرمایا کرتے تھے۔ جب منبر بنایا گیا اور آنحضرت ﷺ منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو وہ ستون رو دیا۔ آنحضر ﷺ نے اس پر دست کرم پھیرا اور شفقت فرمائی…
Read the full tafseer →[35] مطلب یہ ہے کہ جو مخلوق بھی ہے وہ اپنے خالق کی ہستی پر گواہ ہے اور مخلوق کا ہونا عقلاً دلالت کرتا ہے کہ وہ آپ سے آپ موجود نہیں ہوگئی بلکہ کسی نے اس کو پیدا کیا ہے اور جس نے اس کو پیدا کیا ہے وہی اللہ ہے۔
Read the full tafseer →اللہ کی تسبیح !
(ف 3) یعنی اس کے لئے شرک کیسے جائز ہو سکتا ہے جبکہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی حمد و ستائش کر رہا ہے ، اور عمل وقول سے اطاعت شعاری کا اظہار کر رہا ہے ، ہر چیز تسبیح کناں ہے ، اگرچہ ناشکرا اور نافرمان انسان اشیاء کی تسبیح کو سمجھ نہیں پاتا ، مگر یہ حقیقت ہے کہ سب چیزیں اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان ہیں ، کیا تم نہیں دیکھتے ، کہ ہر شے کے لئے قدرت کے تولید اور بقاوفنا اور فطرت کی جانب سے ایک قاعدہ مقرر ہے ، ہر چیز مقروہ نظام کے ماتحت برقرار اور قائم ہے ، یہ اطاعت شعاری اور فطرت کے قوانین کی پابندی بےجان چیزوں کی تسبیح ہے ۔
حل لغات :
سبیلا : جھگڑے اور فساد کی راہ یا تقرب کا راستہ…
Read the full tafseer →-44 وہ ایسا پاک ہے کہ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اس کی پاکی اور تقدیس بیان کرتے ہیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی حمد کے ساتھ پاکی نہ بیان کرتی ہو مگر تم ان چیزوں کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے تحمل والا بخشنے والا ہے۔ یعنی زبانوں کے اختلاف کی وجہ سے ایک انسان دوسرے انسان کی زبان سمجھنے سے قاصر ہے۔
اسی طرح تم دوسری مخلوق کی لسانی تسبیح کے سمجھنے سے قاصر ہو اور بعض مخلوق جو خاموش ہے اس کے حال سے اللہ تعالیٰ کی پاکی منتزع ہوتی ہے جو سوائے اہل اللہ کے دوسرا نہیں سمجھ سکتا۔ بہرحال ! تسبیح زبان حال سے ہو یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
ف 7۔ تسبیح حالی کو اس لئے نہیں سمجھتے کہ اس کی حقیقت استدلال ہے، اور وہ موقوف ہے تامل پر اور تم تامل نہیں کرتے، اور تسبیح قالی کو بعض اشیاء میں تو اس لئے کہ وہ امور کشفیہ سے ہے، اور مومنین کی تسیح قالی کو اس لئے کہ باوجود سننے کے اس کے معنی اور اس کی حقیقت میں تدبر نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →ساتوں آسمانوں میں بھی مخلوق موجود ہے جیسے زمین میں ہے جو اللہ کی تسبیح خواں ہے :
57۔ ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان ساتوں آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اسی کی تسبیح کرتا ہے اس لئے کہ کسی چیز کا موجود ہونا خواں وہ کوئی ہے اور کون ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح خواں ہونا ہے اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی مخلوق ہے حتی کہ مجسمہ برائی شیطان بھی اس کی مخلوق ہے گویا انسان ‘ جنات ‘ حیوانات ‘ نباتات و جمادات سب اس میں آگئے ۔ تسبیح کیا ہے ؟ (تسبیح) بروزن (تفعیل) مصدر ہے ، تسبیح کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی تنزیہہ اور اس کی پاکیزگی بیان کرنا جو (سبح) سے ماخوذ ہے جس کے معنی پانی یا ہوا میں تیز گزرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
The meaning of Tasbih (glorification of Allah) said by the heavens and the earth and everything present therein
Among these, the Tasbih of Allah said by all angels and believing jinn and human beings is self-evident. Everyone knows that. As for disbelieving human beings and the jinn, they obviously do not say it. Similarly, there are other things in this universe about which it is said that they are insensate, devoid of reason and intelligence. How do we rationalize their act of saying Tasbih? Some ` Ulama' say that their Tasbih is circumstantial, state-articulated, the testimony of their…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
48. That is, the entire universe and everything in it bear witness to the fact that their Creator and Guardian is free from each and every fault, defect and weakness, and that He is far above this that there should be any partner or associate in His Godhead.
49. Everything is not only singing hymns of the glory of its Creator but is affording the proof that He is perfect in every respect and worthy of all praise. Everything is an embodiment of the proof that its Creator and Administrator is the one in whom there is perfection of every quality. Therefore, He alone is worthy of praise.
50. That…
Read the full tafseer →