مجرمانہ سوچ پر تبصرہ
ملعون مشرکوں کی تردید ہو رہی ہے کہ یہ تم نے خوب تقسیم کی ہے کہ بیٹے تمہارے اور بیٹیاں اللہ کی۔ جو تمہیں ناپسند جن سے تم جلو کڑھو۔ بلکہ زندہ درگور کردو انہیں اللہ کے لئے ثابت کرو۔ اور آیتوں میں بھی ان کا یہ کمینہ پن بیان ہوا ہے کہ یہ کہتے ہیں رب رحمان کی اولاد ہے حقیقتا انکا یہ قول نہایت ہی برا ہے بہت ممکن ہے کہ اس سے آسمان پھٹ جائے، زمین شق ہوجائے، پہاڑ چورا چورا ہوجائیں کہ یہ اللہ رحمان کی اولاد ٹھہرا رہے ہیں حالانکہ اللہ کو یہ کسی طرح لائق ہی نہیں۔ زمین و آسمان کی کل مخلوق اس کی غلام ہے۔ سب اس کے شمار میں ہیں اور گنتی میں اور ایک ایک اس کے سامنے قیامت کے دن تنہا پیش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 46
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة نحل آیات 57 تا 59 مع حواشی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ یہ باتیں (یعنی احکام مذکورہ) اس حکمت میں کی ہیں جو خدا تعالیٰ نے آپ پر وحی کے ذریعہ بھیجی ہیں (اور اے مخاطب) اللہ برحق کے ساتھ کوئی اور معبود تجویز نہ کرنا ورنہ تو الزام خوردہ اور راندہ ہو کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا (احکام مذکورہ کو شروع بھی توحید کے مضمون سے کیا گیا تھا ختم بھی اسی پر کیا گیا اور آگے بھی اسی مضمون توحید کا بیان ہے کہ جب اوپر شرک کا قبیح اور باطل ہونا سن لیا) تو کیا (پھر بھی ایسی باتوں کے قائل ہوتے ہو جو توحید کے خلاف ہیں مثلا یہ کہ) تمہارے رب نے تم کو تو بیٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے اور خود فرشتوں کو (اپنی) بیٹیاں بنائی ہیں (جیسا کہ عرب کے جاہل فرشتوں…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 40 تا 57:۔
کفار کی قرآن سے بیزاری کا اصلی سبب : آگے کفار قریش کی قرآن سے بیزاری کے اصلی سبب پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ لوگ چونکہ اپنے مزعومہ معبودوں کو چھوڑنے اور آخرت تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں اس وجہ سے قرآن اور پیغمبر سے چڑتے ہیں۔ اسی ضمن میں بطور جملہ معترضہ مسلمانوں کو یہ ہدایت بھی فرما دی گئی کہ تم دعوت میں حکیمانہ طریقہ اختیار کرو۔ مخالفین کے رویے سے متاثر ہو کر زبان سے کوئی ایسا کلمہ نہ نکال بیٹھو جو ان بدکے ہوئے لوگوں کے لیے مزید وحشت کا سبب بن جائے۔
اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًا ۭاِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38۔ 1 یعنی جو باتیں مذکور ہوئیں، ان میں جو بھی بری ہیں، جن سے منع کیا گیا، وہ ناپسندیدہ ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
23: پیچھے کئی مرتبہ گزرا ہے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، حالانکہ خود اپنے لئے بیٹیوں کی پیدائش کو برا سمجھتے تھے، اور اپنے لئے ہمیشہ بیٹوں کی تمنا کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ عجیب معاملہ ہے کہ تمہارے خیال کے مطابق تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے دینے کے لئے چن لیا ہے اور خود بیٹیاں رکھی ہیں جو تمہارے خیال کے مطابق باپ کے لئے باعث عار ہوا کرتی ہیں۔
Read the full tafseer →درس نمبر 721 ایک نظر میں۔
دوسرے سبق کا آغاز و انجام عقیدہ توحید کے بیان اور رد شرک کے مضمون کے ساتھ ہوا ، اور اس آغاز و انجام کے درمیان بیشمار احکام امرو ونہی اور بیشمار آداب و اخلاق بیان ہوئے جو سب کے سب عقیدہ توحید کے ساتھ مربوط تھے اور اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے تھے۔ اس سبق کا آغاز و انجام بھی شرک کی ایک مخصوص قسم کے رد کے ساتھ ہوتا ہے ، یعنی یہ کہ اللہ کا کوئی بیٹا اور شریک نہیں ہے۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے لیے بیٹا ہونا ایک ایسا نظریہ ہے جس کی کمزوری اور لچرپن بالکل واضح ہے۔ کیونکہ یہ پوری کائنات اللہ وحدہ کی مخلوق ہے اور سب چیزیں اس ثنا خواں اور تسبیح گویا ہیں۔
وان من شئی الا یسبح…
Read the full tafseer →10 یعنی ایک تو خدا کے لیے اولاد تجویز کرنا اور اولاد بھی بیٹیاں جنہیں تم نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ بڑی بھاری گستاخی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 40 اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًا
یہ اہل عرب کے اس عقیدے کا جواب ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ یہ لوگ بیٹوں پر فخر کرتے تھے اور بیٹیوں کو اپنے لیے باعث عار سمجھتے تھے۔ ان کی اسی سوچ کی بنیاد پر ان سے سوال کیا گیا ہے کہ جس چیز کو اپنے لیے عار سمجھتے ہو اسے آخر کس منطق کے مطابق اللہ سے منسوب کرتے ہو ؟
Read the full tafseer →50 توحید کے بیان کے ساتھ ہی مشرکین مکہ کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ کے شریک بھی بناتے تھے تو اناث کو۔ جنہیں اپنے لیے قطعاً ناگوار سمجھتے تھے اور اسی طرح دوہرے جرم کے مرتکب ہوتے تھے۔ (تفصیل کے لیے سورة نحل آیت نمبر 57 کا حاشیہ ملاحظہ فرمایئے)
Read the full tafseer →59۔ یعنی ایک تو اللہ کا صحاب اولاد ہونا ہی کیا کم ہے اور پھر اس پر اولاد بھی اس کی محض لڑکیوں کو قرار دیتے ہو۔ جن کا انتساب خود اپنی جانب باعث ننگ وتحقیر سمجھتے ہو ! خطاب مشرکین عرب سے ہے ؛۔ جو ملائکہ کو دیویاں اور خدا کی بیٹیاں مانتے تھے۔ اس عقیدہ پر حاشیے پہلے گزر چکے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًا ۭاِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا
کیا تمہارے رب نے تمہارے لئے لڑکے مخصوص کردیئے ہیں اور اپنے لئے لڑکیاں اختیار کرلی ہیں بلاشبہ تم (اللہ کی شان میں) بڑی (گستاخی کی) بات کہتے ہو۔ یعنی بہت بری بات کہتے ہو ‘ اللہ کی طرف صاحب اولاد ہونے کی نسبت کر رہے ہو باوجودیکہ سلسلۂ تناسلی ان اجسام کی خصوصیت ہے جو زوال پذیر اور فانی ہیں ‘ پھر اولاد میں سے بھی اس اولاد کا والد اللہ کو قرار دیتے ہو جو صنف کے لحاظ سے کمزور ہے (اور اپنے لئے قوی صنف کو پسند کرتے ہو) اور اس پر طرفہ یہ کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہو۔ ملائکہ…
Read the full tafseer →(40) تو کیا پھر بھی اس بات کے قائل ہو کہ تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے اور خود فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے خلاف بہت سخت بات کہتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ لگاتے ہو،
Read the full tafseer →اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ۔۔ : اس آیت میں مشرکین عرب کی جہالت پر طنز ہے، جو یہ کہہ کر فرشتوں کی عبادت کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ دیکھیے سورة نجم (21، 22، 27، 28) ، زخرف (19) اور نحل (57، 58) فرمایا کتنی بڑی بات کہہ رہے ہو کہ وہ جو ہر شے کا خالق ومالک ہے، اس نے تمہیں اولاد میں سے بیٹوں کے لیے خاص کرلیا جو افضل ہیں اور اپنے لیے بیٹیاں بنالیں جنھیں تم نہایت ردی اور باعث عار سمجھتے ہو اور بعض اوقات زندہ دفن کرنے سے بھی باز نہیں آتے، یقیناً یہ بہت بڑی گستاخی کی بات ہے۔ اگر اس نے اولاد بنانی ہی تھی تو وہ جس طرح کی چاہتا بنا لیتا، پھر وہ محض بیٹیاں ہی کیوں رکھتا ؟ (دیکھیے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 40
یہ آیت ان عربوں کا رد کرتی ہے جنہوں نے یہ کہا ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں، اور ان کے لئے بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیاں بھی ہیں لیکن اس نے ارادہ یہ کیا اس نے اپنے سوا تمہارے لئے بیٹوں کو خالص کیا ہے اور بیٹیوں کو اپنے اور تمہارے درمیان مشترک بنایا ہے۔ انکم لتقولون قولاً عظیما تم تو ایسی بات کہہ رہے ہو جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت سخت گناہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–48
1:۔ عبد الرازق، ابن جری، ابن منذر اور ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واتخذ من الملئکۃ اناثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودیوں نے فرشتوں کو حق جل شانہ کی بیٹیاں کہا اور (آیت) ” قل لوکان معہ الہۃ “ سے مراد ہے کہ (اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور خدا ہوتا) تو پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی فضیلت کو ان پر جان لیتے پس وہ ایسا حیلہ (ضرور) تلاش کرتے جو ان کو اس کے قریب کردیتا (اور) بلاشبہ وہ (فرشتے) ایسے نہیں ہیں جیسے وہ کہتے ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا ابتغوا الی ذی العرش سبیلا “ سے مراد ہے کہ وہ (دوسرے خدا) عرش والے پر غلبہ کی راہ تلاش کرتے کہ کہاں ہیں کہ اس کی…
Read the full tafseer →[اَفَاَصْفٰىكُمْ : تو کیا مخصوص کیا تم لوگوں کو ] [رَبُّكُمْ : تمہارے رب نے ] [بِالْبَنِيْنَ : بیٹوں کے ساتھ ] [وَاتَّخَذَ : اور (خود) اس نے بنائیں ] [مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ : فرشتوں میں سے ] [اناثًا : بیٹیاں ] [انكُمْ : بیشک تم لوگ ] [لَتَقُوْلُوْنَ : یقینا کہتے ہو ] [قَوْلًا عَظِيْمًا : ایک بڑی بات ]
Read the full tafseer →مشرکین عرب جو طرح طرح کے شرک میں مبتلا تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرتے تھے اور اولاد بھی کیا تجویز کی ؟ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بنا دیا ! یہ سب کچھ انہوں نے شیطان کے سمجھانے سے عقیدہ بنایا جس کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں تھی۔ اول تو یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرنا ہی ظلم ہے وہ اولاد سے پاک ہے اولاد اس کی شایان شان نہیں، پھر اولاد بھی تجویز کی تو بیٹیاں تجویز کیں اپنے لیے انہیں لڑکیاں گوارا نہ تھیں بیٹی پیدا ہوجاتی تو اسے زندہ دفن کردیتے تھے اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرنا جو خود انہیں بھی ناپسند ہیں انتہائی بےعقلی کی بات ہے۔ مذکورہ بالا آیت میں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
خاتمہ کلام بر تاکید احکام و توحید خداوند نام
ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمۃ .... الیٰ .... انکم لتقولون قولا عظیما۔
یہ احکام مذکورہ خواہ اوامر ہوں یا نواہی منجملہ اس حکمت کے ہیں جو تیرت پروردگار نے تیری طرف وحی کی ہے یعنی اوپر کی آیات میں جو پر مغز نصیحتیں اور ہدایتیں کی گئیں وہ من جملہ ان علم و حکمت کی باتوں کے ہیں جن کو عقل سلیم قبول کرتی ہے اور یہ تمام باتیں دیگر ادیان اور ملل میں چلی آتی ہیں ان میں نسخ ممکن نہیں ان کی رعایت واجب ہے۔ اس لیے کہ یہ تمام امور بلاشبہ مکارم اخلاق اور محاسن اعمال میں سراپا حکمت ہیں ان میں نسخ کی گنجائش نہیں اور چونکہ ان احکام میں دین و دنیا کی ساری خوبیاں موجود…
Read the full tafseer →40:۔ یہاں سے لے کر ” فلا یستطیعون سبیلا “ (رکوع 5) تک زجریں ہیں ان مشرکین پر جو فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو خدا کے یہاں شفیع غالب سمجھتے تھے۔ مشرکین خود تو بیٹیوں سے نفرت کرتے تھے مگر فرط تعنت وعناد کی وجہ سے اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے تھے وہ فرشتوں کو خدا کے یہاں شفیع غالب سمجھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جس طرح بیٹیاں باپ کو بہت محبوب ہوتی ہیں اسی طرح فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں اور وہ ان کی سفارش رد نہیں فرماتا۔ فرمایا اے مشرکین تم یہ بہت ہی بری بات کہتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
(14) (تحقیق کی ضرورت)
اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے سلسلے میں اب تک تیرہ اصول بیان کیے جا چکے ہیں اب چودھواں اصول یہ ہے (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بہ علم “۔ جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو ، مطلب یہ ہے کہ بلا تحقیق کسی چیز کو نہ دل میں جگہ دو ، نہ زبان سے نکالو اور نہ اس پر عمل کرو حضور ﷺ کا فرمان (1) (مسلم ص 8 ج 1 (فیاض) ہے ’ کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع “۔ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بلاتحقیق آگے چلا دے ، مثلا یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر تحقیق کیے گواہی دے دے ، کسی پر تہمت لگا دے ، بغیر تحقیق کسی سے نفرت وعداوت رکھے یا ایذا پہنچائے ،…
Read the full tafseer →اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًا ۭاِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا 40ۧ
رب
الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15]
( ر ب ب ) الرب ( ن )
کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
تیرہواں حکم : ولاتمش فی الارض مرحًا کہ تکبر نہ کر زمین پر اکڑ کر نہ چل کیونکہ تو عاجز ہے کچھ زمین کو پھاڑ نہ ڈالے گا۔ بلند ہو کر
پہاڑوں کے برابر نہ ہو سکے گا۔ ان میں سے ان مکروہ چیزوں کو سیئہ فرماتا ہے اور جو اوامر ہیں ان کی نسبت فرماتا ہے ذلک مما اوحٰی الیک ربک من الحکمۃ یا یہ جملہ سب باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان احکام میں جو کچھ اسرار رکھے گئے ہیں جن سے انسان کی روح اور اس کے اخلاق کی صفائی اور تدبیر منزل اور انتظام عالم کی خوبی وابستہ ہے اور پھر ان کے بیان اور ترتیب میں جو کچھ لطف رکھا گیا ہے اگر اس پر کوئی مطلع ہوجائے گا تو اس کو حکمت الہٰیہ کے جواہر اور الہام ربانی کے وہ نادر موتی کہے گا جو…
Read the full tafseer →اَفَاَصْفٰـکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ اِنَاثًا ط اِنَّکُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلاً عَظِیْمًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 40)
(کیا تمہارے رب نے تمہارے لیے تو بیٹے مخصوص کیے اور اپنے لیے فرشتوں میں سے بیٹیاں بنالیں، بیشک تم ایک بہت بڑی بات کہتے ہو۔
شرک کی بدترین صورت
توحید کو ایک پیش پا افتادہ اور حقیقتِ ثابتہ کے طور پر پیش کرنے کے بعد مشرکینِ مکہ کے عقیدے پر گرفت فرمائی ہے کہ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود، اس کی وحدانیت، اس کا حاکم حقیقی ہونا اور اس کا خالق کائنات ہونا سب سے بڑی حقیقت ہونے کے باوجود تم نے عقیدے کے طور پر جس بےہودگی کو اختیار کر رکھا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : توحید کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ لیکن اس کے باوجود مشرک ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اللہ کی صفات میں دوسروں کو شریک کرتا ہے بلکہ اس کی ذات میں بھی دوسروں کو شریک سمجھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے اعتبار سے ” وحدہ لا شریک “ ہے۔ سورة اخلاص میں دو ٹوک الفاظ میں فرمایا ہے کہ اے رسول ﷺ ! لوگوں کو کھول کر بتلادیں کہ وہ اللہ ایک ہے۔ نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے اور اس کی کوئی بھی کسی اعتبار سے برابری کرنے والا نہیں۔ سورة المائدۃ آیت 75 میں فطری اور عقلی دلیل کے ساتھ عیسائیوں کو سمجھایا ہے کہ مسیح ابن مریم ( علیہ السلام) ایک رسول ہی تھے۔…
Read the full tafseer →کفارِ مکہ کو خطاب :
40: پھر ان لوگوں کو خطاب کیا گیا جن کا قول یہ تھا الملٰئِکۃ بنات اللّٰہ چناچہ ارشاد فرمایا اَفَاَ صْفٰکُمْ رَبُّکُمْ بِالْبَنِیْنَ (کیا تمہارے رب نے تمہارے لئے لڑکوں کو مخصوص کردیا) اس میں ہمزہ انکار کے لئے ہے کہ کیا تمہارے رب نے مخلصانہ طور پر اولاد میں سے افضل ترین یعنی لڑکوں کے ساتھ خاص کردیا ہے۔
وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓپکَۃِ اِنَاثًا اور اپنے لئے لڑکیاں اختیار کرلی ہیں یعنی ان سے کم درجہ اولاد جو کہ لڑکیاں ہیں ان کو اپنے لئے منتخب کیا ہے حالانکہ یہ خلاف حکمت ہے اور عقل بھی اس کی تصدیق نہیں کرتی۔ غلام یہ پسند نہیں کرتے کہ وہ اپنے لئے عمدہ اور منتخب چیزیں چن لیں اور ردی…
Read the full tafseer →40۔” افاصفا کم ربکم “ تمہارے اس اختیار کرنے کے باعث کہ تم نے اس کے لیے اس چیز کو پسند کیا ( یعنی لڑکیاں) جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے ۔ ” بالبنین واتخذ من الملائکۃ اناثا “ کیونکہ وہ یہ کہتے تھے کہ لڑکیاں اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ ( نعوذ باللہ) ۔۔۔۔۔” انکم لتقولون قولا ً عظیما ً “ اس سے مشرکین مکہ کو خطاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–40
32۔ 40:۔ اوپر کی آیتوں سے حق العباد کا ذکر چلا آتا ہے مثلا ماں باپ کا حق اولاد کو سمجھنا اور اولاد کا حق ماں باپ کو سمجھنا رشتہ داروں کا حق رشتہ داروں کو جاننا ایک کی ماں بہن بی بی سے دوسرا بدکاری کرے یا ایک کو دوسرا جان سے مار ڈالے یا ایک شخص اپنی اولاد اور مال چھوڑ کر مرجائے اور جس رشتہ دار کی پرورش میں وہ یتیم اولاد آوے وہ اس یتیم کا مال کھا اڑا دیوے یہ سب باتیں خدا کا گناہ ہونے کے سوا حق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حق العباد کے ذکر کے سلسلہ میں زنا قتل بےتصرف مال یتیم خلاف عہد کم تولنے اور کم ناپنے اور جھوٹی شہادت اور اترانے کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا دیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 40
یہ اس شخص پر نہایت شدت سے نکیر ہے جس کا نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بعض ہستیوں کو اپنی بیٹیناں بنا لیا ہے بنا بریں فرمایا : (افا صفکم ربکم بالبنین) ، ، کیا تمہرے رب نے تم کو لڑکے دیے۔ ، ، یعنی اللہ تعالیٰ نے چن کر تمہارے لئے کامل ترین حصہ مقرر کردیا اور خود فرشتوں کو اپنی بیٹیاں بنا لیا۔۔۔ کیونکہ مشرکین کا یہ خیال تھا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ (انکم لتقولون قولاً عظیماً ) ، ، بیشک تم کہتے ہو بھاری بات۔ ، ، تمہارا یہ قول اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت بڑی جسارت ہے کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد منسوب کردی۔ تمہارا قول اس بات کو متضمن ہے کہ اللہ تعالیٰ محتاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لاتقف کی تشریح
قول باری ہے (لا تقف مالیس لک بہ علم۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو) کسی نشان کا پیچھا کرنا ” القفوا “ کہلاتا ہے۔ جبکہ اس کا کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بصیرت کہ یہ نشان کہاں جا کر اختتام پذیر ہوگا۔ اسی سے قافۃ کا لفظ بنا ہے جس کے معنی قیاذ شناس کے ہیں۔ یہ قائف کی جمع ہے۔ عرب کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو قدموں کے نشانات کا کھوج لگاتے تھے۔ (ہمارے ہاں عرف عام میں انہیں کھوجی کہا جاتا ہے) اور ایسے بھی تھے جو نسب کے سلسلہ میں قیاذ شناسی کا کام کرت ی تھے یعنی ایک شخص کے جسمانی اعضاء دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اس کا تعلق فلاں نسب سے ہے۔ تاہم عربوں کے…
Read the full tafseer →74۔ فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کے شرک کا ذکر وبیان :۔
سو یہ مشرکوں کے اندھے اور اوندھے پن کا ایک نمونہ ومظہر ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیا۔ سو ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کیلئے ارشاد فرمایا گیا کہ ” کیا تمہارے رب نے تمہیں تو بیٹوں کے ساتھ چن لیا اور خود اپنے لیے بیٹیاں پسند کیں ؟ “ یعنی تم لوگوں نے اے مشرکو اپنے رب سبحانہ وتعالیٰ ۔ کے حق میں ڈبل جرم کا ارتکاب کیا۔ والعیاذ باللہ۔ کہ اول تو تم نے اس کے لئے اولاد تجویز کی، جبکہ وہ اولاد اور اس کے جملہ شوائب و متعلقات سے پاک اور وراء الوراء ہے کہ اس کی صفت وشان ہے۔ (لم یلدولم یولد) سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور پھر تم نے اس کیلئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
نزول ِقرآن کا مقصد
تشریح : اللہ تعالیٰ تو ویسے ہی تمام رشتہ داریوں سے بالکل بےنیاز ہے۔ وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا تو کفار کا یہ کہنا انتہائی نامعقول بات ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں نعوذ باللہ۔ قرآن پاک میں بار بار حکمت اور توحید کے بارے میں بتایا گیا ہے مگر یہ لوگ عقل کے اندھے اور بھی زیادہ گمراہی اور نفرت میں بڑھ جاتے ہیں۔ اگر اللہ کے سوا دوسرے معبود ہوتے تو دستور کے مطابق وہ ضرور اللہ سے جنگ کرنے کے لیے عرش کی طرف بڑھتے اور ضرور بغاوت کرتے۔ توبہ کرو کیونکہ الہ العلمین کفر و شرک سے بہت زیادہ بلند اور عظیم ہے۔ کیونکہ اس کے برعکس ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔
(ضبط تولید)
آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات…
Read the full tafseer →ف 1 جیسے فرمایا : وجعلو الملائکۃ الذین ھم عبادالرحمٰن انا شاء (زخروف 19) کہ فرشتوں کو جو اللہ کے قرب بندے ہیں مونث قرار دیتے ہیں۔2 یعنی سخت گستاخی کی بات ہے جو منہ سے نکال رہے ہو۔
Read the full tafseer →(17:40) افاصفکم۔ ا۔ برائے استفہام انکاری ہےعطف کا ہے جس کا عطف کلام مقدر افضلکم علی جنابہ پر ہے۔
اصفکم۔ اصفی یصفی اصفاء (افعال) سے ماضی واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔ اس نے چن لیا اس نے منتخب کرلیا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر ہے جس کا مرجع وہ لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ افاصفکم کیا (اے مشرکو جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہو اللہ نے تم کو اپنی ذات پر فضیلت دیتے ہوئے) تم کو (بیٹوں کے لئے) انتخاب کرلیا (اور اپنے لئے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا) ۔ یعنی ایک تو اللہ تعالیٰ کا صاحب اولاد ہونا ہی کیا کم افتراء ہے کہ مزید برآں اس کی اولاد بھی بیٹیاں قرار دیتے ہو جن کا انتساب خود اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–44
لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 44
اصفی اس نے چن لیا، منتخب کرلیا۔ بنین بیٹے۔ اناث بیٹیاں۔ فرفنا ہم نے طرح طرح سے بیان کیا۔ نفور نفرت۔ علو بلند تر۔ لاتفقھون تم نہیں سمجھتے۔ تسبیح پاکیزگی، تسبیح۔ حلیم برداشت کرنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 40 تا 44
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس حقیقت کو بار بار دھرایا ہے کہ اس کائنات کا خلاق ومالک صرف ایک اللہ ہے۔ اگر زمین و آسمان میں ایک اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو نظام کائنات تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا۔ وہ اللہ اس نظام کائنات کو چلانے میں نہ کسی کا محتاج ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ جس طرح دنیا کے بادشاہ اور حکمران اپنی مملکت، حکمرانی اور وراثت کے لئے اپنی…
Read the full tafseer →کفار کی گستاخی : مطلب یہ ہے کہ عرب کے مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر کاروبار خدائی میں شریک جانتے تھے۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ تم کو تو خدا نے بیٹے دیئے اور اپنے لئے بیٹیاں ہی پسند کیں۔ تمہارا یہ کلام کیا حماقت آمیز ہے کہ تم فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہو۔ بیشک تم بڑی گستاخی کی بات کہتے ہو۔ جس کا بہت بڑا خمیازہ ان کو ایک دن بھگتنا پڑے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
[33] بظاہر تو خطاب نبی ﷺ سے ہے مگر ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو خطاب کر کے جو بات فرمایا کرتا ہے اس کا اصل مخاطب انسان ہوا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
حرمت نفس اور دیگر اخلاقی نصائح :
(ف 1) ان تمام اخلاق وآداب کو اللہ تعالیٰ نے حکمت سے تعبیر کیا ہے یعنی بہترین دانائی یہ ہے ، کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا جائے ، جو شخص اللہ اور اس کے بندوں کو نہیں پہچانتا ، وہ بیوقوف اور بےعقل ہے ۔
اس سے قبل والدین کی اطاعت ، توحید ، عزیزوں اور قرابت داروں کے متعلق حسن سلوک کی تلقین کی تھی ، اسراف وتبذیر سے روکا تھا ، میانہ روی اور اقتصاد پر ابھارا تھا عربوں کو قتل اولاد کے فعل شفیع سے یہ کہہ کر روکا تھا کہ رزق کا ذمہ دار اللہ ہے جب اس نے پیدا کیا ہے ، تو وہ اس کے لئے رزق کا سامان بھی پیدا کر دے گا تم محض بھول اور افلاس کی وجہ سے ان کی موت نہ…
Read the full tafseer →-40 اے منکرو کیا تمہارے پروردگار نے تم کو بیٹوں کے لئے خاص کرلیا ہے اور بیٹوں کے لئے چن لیا ہے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے بلاشبہ تم بہت بھاری اور بڑی سخت بات کہتے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کے لئے اول تو اولاد اور پھر اولاد بھی بیٹیاں جن کو خود اپنے لئے بھی پسند نہ کرو اس سے زیادہ اور بری بات کیا ہوسکتی ہوے۔ عرب کے بعض قبائل یہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں جن کو اس نے پردہ میں رکھ چھوڑا ہے۔ ” معاذ اللہ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 4۔ بڑی سخت بات اس لئے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد قرار دینا، پھر اولاد بھی وہ جو اپنے لئے ناکارہ سمجھی جاوے جس سے دو نقص کا نسبت کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف لازم آیا۔
Read the full tafseer →مشرکین مکہ نے اپنے وہم میں فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھ رکھا تھا :
53۔ ادہام پرستوں نے آج سے نہیں مدت سے طرح طرح کے عقیدے گھڑرکھے ہیں انہیں عقائد میں سے ایک یہ بھی تھا کہ مشرکین عرب کی بہت بڑی تعداد فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں قرار دیتی تھی اور ہوتے ہوتے یہ ایک بہت پختہ عقیدہ قرار پا چکا تھا جس کے لئے انہوں نے اپنے ہی وہم سے دلائل بھی گھڑ لئے تھے اور وہ ایسے وہموں کو روکھنے والوں پر عقل پرست ہونے کا الزام لگاتے تھے اسی طرح کے وہمی عیدے گھڑنے والے آج بھی ایسے ادہام کا شکار ہیں اور وہی اعتراض وہ آج بھی ان لوگوں پر لگاتے ہیں جو ان سے ان کے وہم پر کوئی دلیل مانگے بتے ھا ہیں وہ چیزیں جو کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
After having described details of the injunctions appearing above, it was said in the last verse: كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِندَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا (That which is evil, of all these, is detestable in the sight of your Lord - 38).
As for what has been forbidden in the said injunctions, their repugnance is obvious. But, within these there are some commandments where rights of parents and relatives have been enjoined or fulfillment of promises has been made mandatory. Here too, the purpose is to avoid doing the opposite of it, like hurting parents, breaking off from relatives and going…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
46. Please refer to(Ayats 57-59 and their E.Ns).
Read the full tafseer →