ذلیل کی عادتیں
یہ احکام ہم نے دئیے ہیں۔ سب بہترین اوصاف ہیں اور جن باتوں سے ہم نے روکا ہے وہ بڑی ذلیل خصلتیں ہیں ہم یہ سب باتیں تیری طرف بذریعہ وحی کے نازل فرما رہے ہیں کہ تو لوگوں کو حکم دے اور منع کرے۔ دیکھ میرے ساتھ کسی کو معبود نہ ٹھیرانا ورنہ وہ وقت آئے گا کہ خود اپنے آپ کو ملامت کرنے لگے گا اور اللہ کی طرف سے بھی ملامت ہوگی بلکہ تمام اور مخلوق کی طرف سے بھی۔ اور تو ہر بھلائی سے دور کردیا جائے گا۔ اس آیت میں بواسطہ رسول اللہ ﷺ آپ کی امت سے خطاب ہے کیونکہ حضور ﷺ تو معصوم ہیں۔
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 45
بظاہر تو خطاب نبی ﷺ سے ہے، مگر ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو خطاب کر کے جو بات فرمایا کرتا ہے اس کا اصل مخاطب ہر انسان ہوا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ یہ باتیں (یعنی احکام مذکورہ) اس حکمت میں کی ہیں جو خدا تعالیٰ نے آپ پر وحی کے ذریعہ بھیجی ہیں (اور اے مخاطب) اللہ برحق کے ساتھ کوئی اور معبود تجویز نہ کرنا ورنہ تو الزام خوردہ اور راندہ ہو کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا (احکام مذکورہ کو شروع بھی توحید کے مضمون سے کیا گیا تھا ختم بھی اسی پر کیا گیا اور آگے بھی اسی مضمون توحید کا بیان ہے کہ جب اوپر شرک کا قبیح اور باطل ہونا سن لیا) تو کیا (پھر بھی ایسی باتوں کے قائل ہوتے ہو جو توحید کے خلاف ہیں مثلا یہ کہ) تمہارے رب نے تم کو تو بیٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے اور خود فرشتوں کو (اپنی) بیٹیاں بنائی ہیں (جیسا کہ عرب کے جاہل فرشتوں…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ ۭ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا
یہ باتیں اجزائے حکمت میں سے ہیں : " ذالک " کا اشارہ ان تمام باتوں کی طرف ہے جو اوپر سے لے کر یہاں تک بیان ہوئی ہیں۔ یہ ساری باتیں حکمت کے اجزاء میں سے ہیں۔ یعنی یہ وہ ٹھوس، راسخ اور غیر متزلزل حقیقتیں ہیں جو عقل، فطرت اور شریعت میں نہایت مضبوط بنیادیں رکھتی ہیں۔ تمہارے رب نے اپنے پیغمبر کے واسطہ سے یہ تمہاری طرف وحی کی ہیں کہ تم اپنی زندگیاں ان سے سنوارو۔
توحید کے مضمون کی یاد دہانی : وَلَا تَجْعَلْ۔۔۔ الایۃ۔ یہ ٓخر میں توحید کے اس مضمون کی پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38۔ 1 یعنی جو باتیں مذکور ہوئیں، ان میں جو بھی بری ہیں، جن سے منع کیا گیا، وہ ناپسندیدہ ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
22: اکڑ کر چلنے کے لیے ایک تو کچھ لوگ زمین پر زور زور سے پاؤں مار کر چلتے ہیں۔ دوسرے سینہ تان کر چلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پہلی صورت کے لیے کہا گیا ہے کہ پاؤں چاہے کتنے زور سے مار لو، تم زمین کو پھاڑ نہیں سکتے، اور دوسری صورت کے لیے فرمایا گیا ہے کہ سینہ تان کر اپنا قد اونچا کرنے کی کتنی ہی کوشش کرلو، تمہاری لمبائی پہاڑوں سے زیادہ نہیں ہوسکتی، اور اگر لمبا قد ہی فضیلت اور بڑائی کا معیار ہوتا تو پہاڑوں کو تم سے افضل ہونا چاہیے تھا۔
Read the full tafseer →اس سبق کا یہ خاتمہ ، اس کے آغاز کے ساتھ مماثل ہے۔ گویا اس کے دونوں سرے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یوں نظر آتا ہے کہ تمام سبق اس عظیم قاعدے اور اصول پر قائم ہے۔ جس پر اسلامی نظام حیات کی بنیاد اٹھائی گئی ہے یعنی عقیدہ توحید اور صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور اطاعت اور اللہ کے سوا تمام طاغوتوں کی بندگی اور اطاعت سے انکار۔
Read the full tafseer →8 یعنی اوپر جو پر مغز اور بیش بہا نصیحتیں کی گئیں، یہ وہ علم و حکمت اور تہذیب اخلاق کی باتیں ہیں جنہیں عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ اور جو وحی کے ضمن میں نبی امی ﷺ کی طرف بلاواسطہ اور امت امیہ کی طرف بواسطہ حضور ﷺ بھیجی گئیں۔
9 مذکورہ بالا نصائح کا بیان توحید سے شروع کیا گیا تھا، (لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا) 17 ۔ الاسراء :22) خاتمہ پر بھی توحید یاددلا دی گئی تاکہ قاری سمجھ سکے کہ تمام حسنات کا آغاز و انجام خالص توحید کو ہونا چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت 39 ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ
یہ احکام نوع انسانی کے لیے خزینہ حکمت ہیں۔ انسانی تہذیب و تمدن ثقافت اور اجتماعیت کے ان اصولوں پر کاربند ہو کر انسان اسی دنیا میں اپنی اجتماعی زندگی کو جنت بنا سکتا ہے۔
وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا
یہاں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ان احکام میں اول و آخر توحید کا حکم دیا گیا ہے۔ آغاز میں وَقَضٰی رَبُّکَ اَلاَّ تَعْبُدُوْٓا الآَّ اِیَّاہُ کے الفاظ آئے تھے ‘ جبکہ آخر میں اسی مضمون کو وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ کے الفاظ میں پھر دہرایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →49 یہ سب باتیں بیش بہا نصیحتیں اور حکمت کے موتی ہیں۔ جن پر تمہارے تہذیب و تمدن اور عقائد و اخلاق کی عمارت استوار ہوگی۔ ان تمام باتوں میں سے پہلی بات توحید سے متعلق تھی اسی پر ان نصائح کا اختتام ہو رہا ہے۔ کیونکہ ان سب کا اصل الاصول توحید ہی ہے لہذا آخر میں اس کی پھر تاکید کی گئی۔ کیونکہ توحید کے بغیر تو کوئی نیکی بھی کام نہ آسکے گی۔
Read the full tafseer →58۔ (اے مشرک ! ) قرآن مجید میں خطاب بار بار اور جلدجلد بدلتا ہے۔ اب خطاب مشرکین سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ یہ باتیں اس حکمت میں کی ہیں جو خدا تعالیٰ نے وحی
کے ذریعہ سے آپ کے پاس بھیجی ہیں۔
صاحب قاموس نے حکمت کے متعدد معانی لکھے ہیں۔ عدل ‘ علم ‘ تحمل ‘ دانائی ‘ نبوت ‘ قرآن ‘ انجیل۔ میرے نزدیک اس جگہ علم نافع مراد ہے۔
وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ اور (اے انسان) اللہ کے ساتھ دوسرا معبود قرار نہ دے۔ ممانعت شرک کا دوبارہ حکم
دینے سے اس بات پر تنبیہ مقصود ہے کہ توحید ہی بنیاد ہے ‘ اسی پر تمام اعمال کی صحت کا مدار ہے یہ ہی ہر عمل کا انتہائی مقصد ہے اگر اللہ کے سوا کسی دوسرے کی غرض سے کوئی کام کیا جائے یا ترک کیا جائے تو کوئی کوشش…
Read the full tafseer →(39) جن باتوں کا آپ کے ذریعے سے حکم دیا گیا ہے یہ اس حکمت میں کی ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں آپ پر وحی کے ذریعے بھیجی ہیں اور اے مخاطب اللہ برحق کے ساتھ اور کوئی معبود مت تجویز کرنا ورنہ تو خود اپنے نفس کو ملامت کرنے والا اور ہر ایک بھلائی سے دور ہر کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ۔۔ : نصیحت کی ابتدا ”لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ“ سے ہوئی تھی اور اسی کے ساتھ بات ختم فرمائی۔ اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے اسی سورت کی آیت (22) کی تفسیر۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 39
ذٰلک سے اشارہ ان آداب، قصص اور احکام کی طرف ہے جنہیں وہ سابقہ آیات متضمن ہیں جنہیں لے کر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے، یعنی یہ ان محکم افعال میں سے ہیں جن کا تقاضا اللہ عزوجل کی حکمت اپنے بندوں کے بارے میں کرتی ہے، اور اس نے انہیں ان کے لئے محاسن اخلاقی کیا ہے۔ یہ خطاب حضور نبی کریم ﷺ کو ہے اور مراد ہر وہ انسان ہے جس نے اس آیت کو سنا۔ اور المدحور سے مراد ذلیل ورسوا کیا گیا اور (اللہ تعالیٰ کی رحمت سے) بہت دور ہٹایا گیا ہے۔ اور یہ اس سورت میں گزر چکا ہے۔ اور دعا میں کہا جاتا ہے : اللھم ادحرعنا الشیطان (اے اللہ ! شیطان کو ہم سے دور کردے) ۔
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ تورات شریف ساری کی ساری سورة بنی اسرائیل کی پندرہ آیتوں میں ہے پھر یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا تجعل مع اللہ الھا اخر “
2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مدحورا “ سے مراد ہے ” مطرودا “ یعنی دھتکارا ہوا۔
Read the full tafseer →[ذٰلِكَ : یہ ] [مِمَآ : اس میں سے ہے جو ] [اَوْحٰٓى: وحی کیا ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [رَبُّكَ : آپ ﷺ کے رب نے ] [مِنَ الْحِكْمَةِ : حکمت میں سے ] [وَلَا تَجْعَلْ : اور مت بنا ] [مَعَ اللّٰهِ : اللہ کے ساتھ ] [اِلٰـهًا اٰخَرَ : کوئی دوسرا اِلٰہ ] [فَتُلْقٰى: نتیجۃً تو ڈالا جائے گا ] [فِيْ جَهَنَّمَ : جہنم میں ] [مَلُوْمًا : ملامت کیا ہوا ہوتے ہوئے ] [مَّدْحُوْرًا : ہانکا ہوا ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →اللہ کے ساتھ معبود ٹھہرانے والوں کے لیے جہنم ہے اور اس کے لیے اولاد تجویز کرنا بہت بڑی بات ہے
آیات سابقہ میں جو احکام بیان ہوئے اول تو ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ یہ سب اس حکمت میں سے ہیں جو اللہ نے آپ پر وحی کے ذریعے بھیجی ہے، علامہ قرطبی فرماتے ہیں۔ ھذہ من الافعال المحکمۃ التی تقتضیھا حکمۃ اللّٰہ عزوجل فی عبادہ وخلقھا لھم من محاسن الاخلاق والحکمۃ و قوانین المعانی المحکمۃ والافعال الفاضلۃ۔ (تفسیر قرطبی ص 264 ج 10)
یعنی یہ وہ محکم افعال ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا ہے کہ بندے انہیں اختیار کریں اور یہ وہ محاسن اخلاق ہیں اور محکم قوانین ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
خاتمہ کلام بر تاکید احکام و توحید خداوند نام
ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمۃ .... الیٰ .... انکم لتقولون قولا عظیما۔
یہ احکام مذکورہ خواہ اوامر ہوں یا نواہی منجملہ اس حکمت کے ہیں جو تیرت پروردگار نے تیری طرف وحی کی ہے یعنی اوپر کی آیات میں جو پر مغز نصیحتیں اور ہدایتیں کی گئیں وہ من جملہ ان علم و حکمت کی باتوں کے ہیں جن کو عقل سلیم قبول کرتی ہے اور یہ تمام باتیں دیگر ادیان اور ملل میں چلی آتی ہیں ان میں نسخ ممکن نہیں ان کی رعایت واجب ہے۔ اس لیے کہ یہ تمام امور بلاشبہ مکارم اخلاق اور محاسن اعمال میں سراپا حکمت ہیں ان میں نسخ کی گنجائش نہیں اور چونکہ ان احکام میں دین و دنیا کی ساری خوبیاں موجود…
Read the full tafseer →39:۔ مذکورہ بالا احکام کی طرف اشارہ ہے یعنی احکام مذکورہ سراپا حکمت الٰہی پر مبنی ہیں اور ان کی پیروی ہی میں انسانوں کی بہتری اور بھلائی ہے۔ ” ولا تجعل مع اللہ الخ “ دفع عذاب کے لیے امور ثلثہ کے ذکر سے پہلے بھی دعوی توحید کا ذکر کیا گیا ” لا تجعل مع اللہ الھا اخر فتقعد مذموما مخذولا “ اور پھر امور ثلثہ کے بعد بھی دعوی توحید کا اعادہ کیا گیا اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان تمام تکالیف سے اصل مقصود اور اصلی مدعا توحید ہے۔ مخلوق خدا پر احسان کرنا بہت اچھا ہے اور مخلوق خدا پر ظلم کرنا بہت برا ہے لیکن تمام اعمال خیر کی بنیاد توحید پر ہے اور تمام اعمال شر سے شرک ایک بدترین شر ہے۔ کر رہ لانہ المقصود و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
(14) (تحقیق کی ضرورت)
اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے سلسلے میں اب تک تیرہ اصول بیان کیے جا چکے ہیں اب چودھواں اصول یہ ہے (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بہ علم “۔ جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو ، مطلب یہ ہے کہ بلا تحقیق کسی چیز کو نہ دل میں جگہ دو ، نہ زبان سے نکالو اور نہ اس پر عمل کرو حضور ﷺ کا فرمان (1) (مسلم ص 8 ج 1 (فیاض) ہے ’ کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع “۔ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بلاتحقیق آگے چلا دے ، مثلا یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر تحقیق کیے گواہی دے دے ، کسی پر تہمت لگا دے ، بغیر تحقیق کسی سے نفرت وعداوت رکھے یا ایذا پہنچائے ،…
Read the full tafseer →ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ ۭ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا 39
وحی
أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
تیرہواں حکم : ولاتمش فی الارض مرحًا کہ تکبر نہ کر زمین پر اکڑ کر نہ چل کیونکہ تو عاجز ہے کچھ زمین کو پھاڑ نہ ڈالے گا۔ بلند ہو کر
پہاڑوں کے برابر نہ ہو سکے گا۔ ان میں سے ان مکروہ چیزوں کو سیئہ فرماتا ہے اور جو اوامر ہیں ان کی نسبت فرماتا ہے ذلک مما اوحٰی الیک ربک من الحکمۃ یا یہ جملہ سب باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان احکام میں جو کچھ اسرار رکھے گئے ہیں جن سے انسان کی روح اور اس کے اخلاق کی صفائی اور تدبیر منزل اور انتظام عالم کی خوبی وابستہ ہے اور پھر ان کے بیان اور ترتیب میں جو کچھ لطف رکھا گیا ہے اگر اس پر کوئی مطلع ہوجائے گا تو اس کو حکمت الہٰیہ کے جواہر اور الہام ربانی کے وہ نادر موتی کہے گا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
وَلاَ تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ج اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلاً ۔ کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا۔ ذٰلِکَ مِمَّآ اَوْحٰٓی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ ط وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَفَتُلْقٰی فِیْ جَھَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 37۔ 38۔ 39)
(اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کے طول کو پہنچ سکتے ہو۔ ان سب باتوں کی برائی تمہارے رب کے نزدیک نہایت ناپسندیدہ ہے۔ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اِلٰہ مت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : خطاب کا اختتام اور اس خطاب میں بیان کی گئی ہدایات۔
اس خطاب کا آغاز آیت 23 سے ہوا جس میں اللہ تعالیٰ نے گیارہ کاموں کا حکم دیا اور گیارہ باتوں سے منع فرمایا ہے۔
جن باتوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے :
1۔ اللہ تعالیٰ کا اٹل فیصلہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ 2۔ والدین کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کیا جائے۔
3۔ والدین کے ساتھ نرمی کے ساتھ بات کی جائے۔ 4۔ والدین کے سامنے عاجزی کے ساتھ پیش ہوا جائے۔
5۔ والدین کے لیے دعائیں کی جائیں۔ 6۔ عزیز و اقرباء کا حق ادا کیا جائے۔
7۔ مساکین کی معاونت کی جائے۔
8۔ مسافر کی مدد کی جائے۔
9۔ اخراجات میں میانہ روی اختیار کی جائے۔
10۔ عہد کو…
Read the full tafseer →شرک کی بار بار مذمت :
39: ذٰلِکَاس سے لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا کی طرف اشارہ کیا۔ مِمَّآ اَوْحٰٓی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ (یہ ان میں سے ہیں جو تیرے رب نے تیری طرف حکمت کی باتیں وحی کی ہیں) جن کی صحت پر عقل صحیح شاہد ہے۔ اور نفس کو ان کی پیروی مناسب و لائق ہے۔ وَلَاتَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَ فَتُلْقٰی فِیْ جَھَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا (اے انسان ! تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرا معبود نہ قرار دے ورنہ ملامت کیا ہوا دھتکارا ہوا جہنم میں ڈال دیا جائے گا) مَدْحُوْرًا رحمت سے دھکے مار کر ہٹایا ہوا۔
قول ابن عباس ؓ :
یہ اٹھارہ آیتیں الواح موسیٰ (علیہ السلام) میں تھیں…
Read the full tafseer →تفسیر 39۔” ذلک “ یہ باتیں اس حکمت میں کی ہیں ۔ ” مما اولی الیک ربک من الحکمۃ “ ہر وہ کام جس کے کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جس کام سے روکا ہے اس میں کوئی نہ کوئی حکمت ہے۔” ولا تجعل مع اللہ الٰہ آخر “ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن اس سے مراد امت ہے۔” فتلقی فی جھنم ملوما ً مدحورا ً “ ہر خیر سے دھتکارا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–40
32۔ 40:۔ اوپر کی آیتوں سے حق العباد کا ذکر چلا آتا ہے مثلا ماں باپ کا حق اولاد کو سمجھنا اور اولاد کا حق ماں باپ کو سمجھنا رشتہ داروں کا حق رشتہ داروں کو جاننا ایک کی ماں بہن بی بی سے دوسرا بدکاری کرے یا ایک کو دوسرا جان سے مار ڈالے یا ایک شخص اپنی اولاد اور مال چھوڑ کر مرجائے اور جس رشتہ دار کی پرورش میں وہ یتیم اولاد آوے وہ اس یتیم کا مال کھا اڑا دیوے یہ سب باتیں خدا کا گناہ ہونے کے سوا حق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حق العباد کے ذکر کے سلسلہ میں زنا قتل بےتصرف مال یتیم خلاف عہد کم تولنے اور کم ناپنے اور جھوٹی شہادت اور اترانے کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت نمبر 37
(ولا تمش فی الارض مرحاً ) ، ، اور زمین میں اتراتا ہوا مت چل ، ، یعنی تکبر، غرور، اتراہٹ، حق کے سامنے استکبار اور تکبر کے ساتھ مخلوق سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے زمین پر مت چلو۔ (انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولاً ) ، ، بیشک تو پھاڑ نہ ڈالی گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں کو لمبا ہو کر، ، بلکہ اس کے برعکس تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بہت حقیر ہوگا اور مخلوق کے نزدیک بہت ذلیل، ناپسندیدہ اور مذموم ہوگا۔ بلا شبہ جن چیزوں کا تو نے قصد کیا ہے ان میں بغیر سوچے سمجھے تو نے بدترین اور ذیل ترین اخلاق کا اکتساب کیا ہے۔ (کل ذالک) مذکورہ تمام امور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے جن کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لاتقف کی تشریح
قول باری ہے (لا تقف مالیس لک بہ علم۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو) کسی نشان کا پیچھا کرنا ” القفوا “ کہلاتا ہے۔ جبکہ اس کا کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بصیرت کہ یہ نشان کہاں جا کر اختتام پذیر ہوگا۔ اسی سے قافۃ کا لفظ بنا ہے جس کے معنی قیاذ شناس کے ہیں۔ یہ قائف کی جمع ہے۔ عرب کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو قدموں کے نشانات کا کھوج لگاتے تھے۔ (ہمارے ہاں عرف عام میں انہیں کھوجی کہا جاتا ہے) اور ایسے بھی تھے جو نسب کے سلسلہ میں قیاذ شناسی کا کام کرت ی تھے یعنی ایک شخص کے جسمانی اعضاء دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اس کا تعلق فلاں نسب سے ہے۔ تاہم عربوں کے…
Read the full tafseer →71۔ یہ نصیحتیں قطی طور پر حق اور صدق ہیں :۔
جن میں کسی خطاء اور تقصیر کا کوئی احتمال نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ سب باتیں وحی کی حکمت میں سے ہیں۔ جن میں ان عظیم الشان آداب وحکمت کی تعلیم دی گئی ہے۔ سو جب یہ باتیں سراسر صدق اور حکمت کی ہیں تو ان کو صدق دل سے اپناؤ اور جب یہ حکمت بھی اس وحی کی بناء پر ہجے جو آپ کے رب نے آپ کی طرف فرمائی ہے تو ان کو اور بھی جزم و یقین اور صدق و اخلاص سے اپناؤ کہ ان میں کسی غلطی اور کسی طرح کی خطاء و قصور کا کوئی خدشہ و امکان نہیں ہے۔ سو ایسے میں یہ باتیں وہ عظیم الشان باتیں ہیں جو تمہارے لیے اور پورے انسانی معاشرے کیلئے خیروبرکت کا ذریعہ و وسیلہ ہیں۔ اور ان کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔
(ضبط تولید)
آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 14 بظاہر خطاب نبی ﷺ سے ہے مگر مراد ہر انسان ہے اور اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ تنبیہ کرتا ہے کہ شرک ایسی بری چیز ہے کہ اگر بالرفض آنحضرت جیسے مقرب بندے بھی اس کا ارتکاب کر بیٹھیں تو دوزخی بن جائیں اور ذلیل و خوار اور راندہ درگاہ ہوجائیں۔ (العیاذ باللہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(17:38) کل ذلک۔ یہ سب اس کا اشارہ اوامرونواہی کی طرف ہے جن کا ذکر آیۃ 12 لا تجعل مع اللہ سے شروع ہو کر آیۃ 37 تک مذکور ہے۔ سیئہ عن ربک مکروھا۔ یعنی ہر حکم میں جو چیز ممنوع ہے اس کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے یا دوسرے الفاظ میں جس حکم کی بھی نافرمائی کی جائے وہ ناپسندیدہ ہے۔
ذلک۔ یہ تمام باتیں جو آیۃ 21 سے لے کر یہاں تک مذکور ہیں۔ ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمۃ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تیری طرف وحی کی ہیں۔
لا یجعل مع اللہ الھا اخر۔ اسی جملہ سے ان حکمت کی باتوں کا آغاز آیۃ 21 سے ہوا تھا۔ اور اسی پر اس پندو نصائح کو ختم کیا گیا کیونکہ توحید ہی راس الحکمۃ ہے اور شرک بدترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 39
لاتقف پیچھے نہ پڑو۔ لیس نہیں ہے۔ الفواد دل۔ لاتمش نہ چل۔ مرح اکڑنا، اترانا۔ لن تخرق تو ہرگز نہ پھاڑ دے گا۔ لن تبلغ تو ہرگز نہ پہنچے گا۔ الجبال پہاڑ، (پہاڑوں) ۔ طول بلندی، لمبائی۔ مکروہ ناپسندیدہ۔ تلقی ڈالا جائے گا۔ مدحور ہر رحمت سے محروم کیا ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 39
سورۃ الاسراء کے تیسرے اور چوتھے رکوع کی پندرہ آیات میں بہت سے نیک کام کرنے اور بہت سی برائیوں سے بچنے کے احکامات ارشاد فرمائے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں چند اور بنیادی خرابیوں کی طرف متوجہ فرمایا جا رہا ہے کہ ہر مومن کی بدگمانی بدظنی، غرور وتکبر اور بےجا ضد سے بچنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
حقوق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزوں کا ذکر اور کامیاب زندگی کا جامع اصول
ان ا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ زنا کو فحش اور برا راستہ کہا ہے۔ اس کی وجوہ ظاہر ہیں، اول تو اس میں اختلاط نسب ہے دوسرے جو بچہ اس بری صورت سے پیدا ہوا اس کے نفقہ کا کون ذمہ دار ہوگا اور بعض وقت جانیں بھی جاتی رہتی ہیں۔ عورت سے مقصود صرف شہوت رانی نہیں بلکہ اصلی مطلب یہ ہے کہ باہم مل کر خانہ داری میں ایک دوسرے کا معین (مدد گار) ہو بیماری میں بڑھاپے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے، زنا میں یہ بات ممکن نہیں ، زنا کو قطعی حرام ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ تاکید کی کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی۔ (1) پھر فرمایا کہ جس قتل کا کرنا شریعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–41
[33] بظاہر تو خطاب نبی ﷺ سے ہے مگر ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو خطاب کر کے جو بات فرمایا کرتا ہے اس کا اصل مخاطب انسان ہوا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
حرمت نفس اور دیگر اخلاقی نصائح :
(ف 1) ان تمام اخلاق وآداب کو اللہ تعالیٰ نے حکمت سے تعبیر کیا ہے یعنی بہترین دانائی یہ ہے ، کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا جائے ، جو شخص اللہ اور اس کے بندوں کو نہیں پہچانتا ، وہ بیوقوف اور بےعقل ہے ۔
اس سے قبل والدین کی اطاعت ، توحید ، عزیزوں اور قرابت داروں کے متعلق حسن سلوک کی تلقین کی تھی ، اسراف وتبذیر سے روکا تھا ، میانہ روی اور اقتصاد پر ابھارا تھا عربوں کو قتل اولاد کے فعل شفیع سے یہ کہہ کر روکا تھا کہ رزق کا ذمہ دار اللہ ہے جب اس نے پیدا کیا ہے ، تو وہ اس کے لئے رزق کا سامان بھی پیدا کر دے گا تم محض بھول اور افلاس کی وجہ سے ان کی موت نہ…
Read the full tafseer →-39 یہ باتیں جو مذکور ہوئیں اے پیغمبران ہی حکمت و دانائی کی باتوں میں سے ہیں جو آپ کے پروردگار نے آپ کی جانب وحی فرمائی ہیں اور وحی کے ذریعے آپ کی طرف بھیجیں ہیں اور اے مخاطب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور دوسرا معبود تجویز نہ کیجیو اور کوئی دوسرا معبود مقرر نہ کیجیو ورنہ تو الزام خوردہ اور الاہنا کھا کر راندہ درگاہ ہو کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یعنی یہ اوامرونواہی کی پندرہ باتیں جو مذکور ہوئیں یہ بھی ان ہی حکمت و دانش کی باتوں میں سے ہیں جو آپ کی جانب وحی کی جاتی رہی ہیں ۔ آخر میں پھر شرک سے منع فرمایا کہ شرک کی وجہ سے ملامت خوردہ بھی ہوگا اور دوزخ میں دھکیل کر اور راندہ ہو کر ڈال دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 3۔ اس لئے بےتحقیق بات پر وثوق کر کے اس پر عملدر آمد مت کر۔
Read the full tafseer →یہ دانائی کی باتیں جو بیان کی گئی ہیں ان کی پابندی لازم ہے :
51۔ اوپر بیان کی گئی باتوں کو حکمت کی باتیں قرار دیا گیا ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں مذکور ہے کہ ” یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں ۔ “ اس لئے اس جگہ حکمت کے متعلق کچھ عرض کردینا یقینا حکمت سے خالی نہیں ہوگا اس لئے سمجھ لینا چاہئے کہ حکمت کیا ہے ؟ جیسا کہ ان آیات کریمات میں اوپر گزرا اس طرح مزید یہ سمجھ لینا چاہئے کہ انبیاء کرام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو نعمتیں عطا ہوتی رہی ہیں ان میں کسی ایک خاص نعمت کو حکمت کے نام سے یاد کیا گیا ہے ، دیکھو آل ابراہیم پر اللہ تعالیٰ نے جو احسانات کئے تھے ان کا ذکر وہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
After having described details of the injunctions appearing above, it was said in the last verse: كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِندَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا (That which is evil, of all these, is detestable in the sight of your Lord - 38).
As for what has been forbidden in the said injunctions, their repugnance is obvious. But, within these there are some commandments where rights of parents and relatives have been enjoined or fulfillment of promises has been made mandatory. Here too, the purpose is to avoid doing the opposite of it, like hurting parents, breaking off from relatives and going…
Read the full tafseer →45. Though this has been addressed to the Prophet (peace be upon him), the real addressee is every human being as in the case of many such verses.
Read the full tafseer →