Explained with ayahs 37–38
تکبر کے ساتھ چلنے کی ممانعت
اکڑ کر، اترا کر، تکبر کے ساتھ چلنے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو منع فرماتا ہے۔ یہ عادت سرکش اور مغرور لوگوں کی ہے پھر اسے نیچا دکھانے کے لئے فرماتا ہے کہ گو کتنے ہی بلند سر ہو کر چلو لیکن پہاڑی کی بلندی سے پست ہی رہو گے اور گو کیسے ہی کھٹ پٹ کرتے ہوئے پاؤں مار مار کر چلو لیکن زمین کو پھاڑنے سے رہے۔ بلکہ ایسے لوگوں کا حال برعکس ہوتا ہے جیسے کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص چادر جوڑے میں اتراتا ہوا چلا جا رہا تھا جو وہیں زمین میں دھنسا دیا گیا جو آج تک دھنستا ہوا چلا جا رہا ہے۔ قرآن میں قارون کا قصہ موجود ہے کہ وہ مع اپنے محلات کے زمین دوز کردیا گیا۔ ہاں تواضع، نرمی، فروتنی…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 44
یعنی ان میں سے جو چیز بھی ممنوع ہے اس کا ارتکاب اللہ کو ناپسند ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں، جس حکم کی بھی نافرمانی کی جائے وہ ناپسندیدہ ہے۔
Read the full tafseer →احکام مذکورہ کی تفصیل بیان کرنے کے بعد آخری آیت میں فرمایا (آیت) كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا یعنی مذکورہ تمام برے کام اللہ کے نزدیک مکروہ و ناپسند ہیں۔
مذکورہ احکام میں جو محرمات ومنہیات ہیں ان کا برا اور ناپسند ہونا تو ظاہر ہے مگر ان میں کچھ احکام اوامر بھی ہیں جیسے والدین اور اقرباء کے حقوق ادا کرنا اور وفائے وغیرہ ان میں بھی چونکہ مقصود ان کی ضد سے بچنا ہے کہ والدین کی ایذاء سے رشتہ داروں کی قطع رحمی سے نقض عہد سے پرہیز کرو یہ چیزیں سب حرام و ناپسند ہیں اس لئے مجموعہ کو مکروہ فرمایا گیا ہے (بیان القرآن)
تنبیہ
مذکورہ پندرہ آیتوں میں جو احکام بیان کئے گئے ہیں وہ…
Read the full tafseer →كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا۔
یہ اوپر کی تمام منہیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں سے ہر کام کی برائی تیرے رب کے نزدیک نہایت مکرو ہے۔ لفظ " مکرو " یہاں فقہی مفہوم میں نہیں بلکہ اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ یعنی یہ ساری باتیں خدا کے نزدیک نہایت مبغوض اور قابل نفرت ہیں۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو ان میں سے کسی چیز کے بھی مرتکب ہوں گے وہ بھی خدا کے نزدیک قابل نفرت ٹھہریں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
38۔ 1 یعنی جو باتیں مذکور ہوئیں، ان میں جو بھی بری ہیں، جن سے منع کیا گیا، وہ ناپسندیدہ ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
22: اکڑ کر چلنے کے لیے ایک تو کچھ لوگ زمین پر زور زور سے پاؤں مار کر چلتے ہیں۔ دوسرے سینہ تان کر چلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پہلی صورت کے لیے کہا گیا ہے کہ پاؤں چاہے کتنے زور سے مار لو، تم زمین کو پھاڑ نہیں سکتے، اور دوسری صورت کے لیے فرمایا گیا ہے کہ سینہ تان کر اپنا قد اونچا کرنے کی کتنی ہی کوشش کرلو، تمہاری لمبائی پہاڑوں سے زیادہ نہیں ہوسکتی، اور اگر لمبا قد ہی فضیلت اور بڑائی کا معیار ہوتا تو پہاڑوں کو تم سے افضل ہونا چاہیے تھا۔
Read the full tafseer →یہاں تما احکام اور منبیات کا سبب بتا دیا گیا کہ ان امور کے ممانعت ان کے برے پہلو کی وجہ سے ہے۔ ان میں کوئی اچھا پہلو بھی ہوسکتا ہے لیکن ان کی ممانعت اس لئے کی گئی ہے کہ ان میں برائی کا پہلو غالب ہے۔
یہ تما احکام اور اخلاقی تعلیمات کو اب عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ اسلامی نظریہ حیات کے تقاضے ہیں۔ لہٰذا شرک سے بچو اور قرآن کی تعلیمات حکمت کی یہ خاص خاص باتیں ہیں ، یہ حکمت قرآن کا ایک حصہ ہیں۔
Read the full tafseer →7 یعنی جن باتوں کو اوپر منع کیا ان کے کرنے میں رب کی بیزاری ہے اور جن کا حکم کیا ان کے نہ کرنے میں بیزاری ہے۔
Read the full tafseer →آیت 38 كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا
یعنی یہ جتنے بھی احکام ہیں ان میں اوامر Dos بھی ہیں اور نواہی Donts بھی۔ جہاں کسی کام کے کرنے کا حکم ہے وہاں اسے نہ کرنا برائی ہے اور جہاں کسی کام سے روکا گیا ہے وہاں اس میں ملوث ہونا برائی ہے۔ اور نافرمانی اور برائی اللہ تعالیٰ کو ہر صورت میں ناپسند ہے۔
Read the full tafseer →48 یعنی مندرجہ بالا چودہ احکام میں اکثر تو ایسے ہیں جن سے منع کیا گیا ہے۔ ان کا ارتکاب کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہے اور جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے ان کو بجا نہ لانا بھی اسی طرح ناپسند ہے۔
Read the full tafseer →57۔ (اور ان کی ممانعت صراحۃ یا دلالۃ اوپر مذکورہوچ کی) (آیت) ’ مکروھا “۔ مکروہ کے معنی فعل ممنوع کے ہیں المراد من المکروہ المنھی عنہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا : یہ سارے برے کام تیرے رب کے نزدیک
(بالکل) ناپسندیدہ ہیں۔
کُلُّ ذٰلِکَ یعنی مذکورۂ بالا تمام امور جن میں سے کچھ مامورات ہیں اور کچھ منہیات۔ بعض امور کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے بعض احکام کے ارتکاب کی ممانعت کی گئی ہے۔ سَیِّءُہٗ یعنی امور مذکورہ میں سے جو برے ہیں اور ان کے ارتکاب کی ممانعت کی گئی ہے۔ مکروہ ناپسندیدہ قابل نفرت۔
Read the full tafseer →(38) یہ تمام مذکورہ برے کام جن سے تجھ کو روکا گیا ہے تیرے رب کے نزدیک قطعی ناپسند ہیں۔
Read the full tafseer →كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ۔۔ : ”لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ“ سے لے کر ”وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا“ تک پچیس چیزیں بیان فرمائی ہیں، جن میں سے بعض کا حکم دیا گیا ہے اور بعض سے منع کیا گیا ہے۔ ان میں ”سَیِّئٌ“ (بری) وہ ہیں جن سے منع کیا گیا ہے اور وہ چیزیں جن پر عمل کا حکم ہے انھیں بجا نہ لانا بھی ”سَیِّئٌ“ (برا) ہے۔ ان تمام چیزوں میں سے جو بری ہیں وہ ہمیشہ سے اللہ کے ہاں مکروہ (ناپسندیدہ) ہیں۔ ہمیشگی کا مفہوم ”کَانَ“ اد اکر رہا ہے۔
مَكْرُوْهًا : مکروہ کا لفظ فقہاء کی اصطلاح میں حرام سے کم تر درجے کا ہے، یعنی جس کا نہ کرنا اس کے کرنے سے بہتر ہو مگر قرآن و سنت کی اصطلاح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
آیت نمبر 37 تا 38
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولا تمش فی الارض مرحًا یہ غرور اور تکبر سے نہی ہے اور تواضع اور انکساری کا حکم ہے۔ المرح کا معنی ہے بہت زیادہ خوشی اور فرحت کا اظہار کرنا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی چلنے میں تکبر کا اظہار کرنا (یعنی اکڑ کر چلنا) ہے۔ بعض نے کہا ہے : انسان کا اپنی قدر اور مقام سے تجاوز کرجانا ہے۔ اور حضرت قتادہ نے کہا ہے : اس سے مرادچال میں غرور اور خودپسندی کا اظہار کرنا ہے : اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی کسی نعمت پر اترانا اور اسکا شکرادا نہ کرنا ہے اور اکڑنا ہے۔ بعض نے کہا ہے : اس سے مراد نشاط اور چستی کا اظہار کرنا ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن کثیر (رح) سے روایت کیا کہ وہ یہ آیت پڑھتے تھے (آیت) ” کل ذلک کان سئیہ عند ربک مکروھا “ اور فرماتے تھے کہ یہ وہ چیزیں ہیں کہ ان میں سے یہ برائی سے روکا گیا۔
Read the full tafseer →[كُلُّ ذٰلِكَ : اس کا سب ہے (کہ)] [كَان : ہے ] [سَيِّئُهٗ : اس (ہر ایک) کی برائی ] [عِنْدَ رَبِكَ : آپ ﷺ کے رب کے نزدیک ] [مَكْرُوْهًا : ناپسند کی ہوئی ]
(آیت۔ 38) کُلُّ ذٰلِکَ مبتدا ہے اور آگے کا پورا جملہ اس کی خبر ہے۔ اس جملہ میں کَانَ کا اسم سَیِّئَۃٌہے جبکہ مَکْرُوْھًا اس کی خبر ہے۔
Read the full tafseer →تیسری آیت میں مذکورہ بالا برائیوں کی شناعت اور قباحت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّءُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا) (یہ سب برے کام تیرے رب کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں) صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں کہ (وَقَضٰی رَبُّکَ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوْٓا الاَّ اِیَّاہُ ) سے یہاں تک جو امور خیر مذکور ہوئے ان کو ترک کرنا اور جن امور سے بچنے کا حکم فرمایا ہے ان کا ارتکاب کرنا یہ سب بری باتیں ہیں تمہارے رب جل شانہ کے نزدیک مکروہ ہیں ناپسندیدہ ہیں جس نے وجود بخشا پرورش کے اسباب پیدا فرمائے جو اعمال اس کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں، ان کو اختیار کرنا عقلاً بھی قبیح ہے، جو رب جل شانہ کو رب نہیں مانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →38:۔ مذکورہ بالا کاموں میں سے جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان کو نہ کرنے میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے اور جن سے منع کیا گیا ہے ان کے کرنے میں اس کی ناراضی ہے۔ مذکورہ برائیوں کو ذکر کرنے کے بعد فرمایا یہ سب گناہ ہیں ان سے کلی اجتناب کرو اور ان کے نزدیک بھی نہ جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
(14) (تحقیق کی ضرورت)
اسلامی فلاحی معاشرے کے قیام کے سلسلے میں اب تک تیرہ اصول بیان کیے جا چکے ہیں اب چودھواں اصول یہ ہے (آیت) ” ولا تقف مالیس لک بہ علم “۔ جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑو ، مطلب یہ ہے کہ بلا تحقیق کسی چیز کو نہ دل میں جگہ دو ، نہ زبان سے نکالو اور نہ اس پر عمل کرو حضور ﷺ کا فرمان (1) (مسلم ص 8 ج 1 (فیاض) ہے ’ کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع “۔ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بلاتحقیق آگے چلا دے ، مثلا یہ ہے کہ کوئی شخص بغیر تحقیق کیے گواہی دے دے ، کسی پر تہمت لگا دے ، بغیر تحقیق کسی سے نفرت وعداوت رکھے یا ایذا پہنچائے ،…
Read the full tafseer →كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا 38
سَّيِّئَةُ :
الفعلة القبیحة، وهي ضدّ الحسنة، قال : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10]: بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81]
سَّيِّئَةُ :
اور ہر وہ چیز جو قبیح ہو اسے سَّيِّئَةُ :،
، سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی لئے یہ لفظ ، ، الحسنیٰ ، ، کے مقابلہ میں آتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ كانَ عاقِبَةَ الَّذِينَ أَساؤُا السُّوای[ الروم/ 10] پھر جن لوگوں نے برائی کی ان کا انجام بھی برا ہوا ۔ چناچہ قرآن میں ہے اور سیئۃ کے معنی برائی کے ہیں اور یہ حسنۃ کی ضد ہے قرآن میں ہے : بَلى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً [ البقرة/ 81]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
تیرہواں حکم : ولاتمش فی الارض مرحًا کہ تکبر نہ کر زمین پر اکڑ کر نہ چل کیونکہ تو عاجز ہے کچھ زمین کو پھاڑ نہ ڈالے گا۔ بلند ہو کر
پہاڑوں کے برابر نہ ہو سکے گا۔ ان میں سے ان مکروہ چیزوں کو سیئہ فرماتا ہے اور جو اوامر ہیں ان کی نسبت فرماتا ہے ذلک مما اوحٰی الیک ربک من الحکمۃ یا یہ جملہ سب باتوں کی طرف اشارہ ہے۔ ان احکام میں جو کچھ اسرار رکھے گئے ہیں جن سے انسان کی روح اور اس کے اخلاق کی صفائی اور تدبیر منزل اور انتظام عالم کی خوبی وابستہ ہے اور پھر ان کے بیان اور ترتیب میں جو کچھ لطف رکھا گیا ہے اگر اس پر کوئی مطلع ہوجائے گا تو اس کو حکمت الہٰیہ کے جواہر اور الہام ربانی کے وہ نادر موتی کہے گا جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
وَلاَ تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا ج اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلاً ۔ کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا۔ ذٰلِکَ مِمَّآ اَوْحٰٓی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ ط وَلاَ تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَفَتُلْقٰی فِیْ جَھَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا۔
(سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 37۔ 38۔ 39)
(اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کے طول کو پہنچ سکتے ہو۔ ان سب باتوں کی برائی تمہارے رب کے نزدیک نہایت ناپسندیدہ ہے۔ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اِلٰہ مت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
فہم القرآن
ربط کلام : فضولیات میں پڑنے اور برے خیالات سے روکنے کے بعد متکبرانہ چال ڈھال اختیار کرنے سے روکا گیا ہے۔ حقیقتاً یہ بھی فضول حرکت ہے کیونکہ متکبر انسان اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔
انسان جب ذہنی طور پر پراگندہ اور قلبی لحاظ سے برا ہوجائے تو وہ اپنے سوا کسی کو اچھا نہیں سمجھتا۔ ایسے شخص کے دل میں غرور اور تکبرکا پیدا ہونا یقینی بات ہے۔ بالخصوص جب ایسے شخصکو مال کی فراوانی، اقتدار اور اختیار دیا جائے یا اسے کسی قسم کی برتری حاصل ہوجائے تو وہ فخر و غرور اور تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ایسا شخص ناصرف اپنی گفتگو میں شیخی بگھار تا ہے۔ بلکہ اس کی چال ڈھال میں غرور اور تکبر نمایاں…
Read the full tafseer →شرک سے اکڑ تک تمام ناپسندیدہ کام ہیں :
38: کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّئُہٗ (یہ سارے برے کام ناپسندیدہ ہیں) ۔ قراءت کوفی و شامی نے سیئی کی اضافت کل کی ضمیر کی طرف کی ہے اور دوسروں نے سیئۃ پڑھا ہے۔ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا (تیرے رب کے ہاں) یہاں مکرو ھاً کو مذکر لائے۔ کیونکہ سیئۃ اسماء کے حکم میں الذَّنْب اور الاثم کی طرح ہو کر صفت کے حکم سے خارج ہوگیا۔ پس اس کی تانیث کا اعتبار نہ رہا۔ جیسا کہ تم کہتے ہو الزِّنٰی سیئۃ او السرقۃ سیئۃ۔
اعتراض :
خصال مذکورہ میں بعض برے اور بعض اچھے ہیں اسی لئے سیئہ کو اضافت سے بعض قراء نے پڑھا۔ یعنی جو ان مذکورہ میں سے سیِّئَۃ ہیں۔ وہ تیرے رب کے ہاں ناپسند ہیں۔ لیکن…
Read the full tafseer →38۔ جبیر بن مطعم سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ جب چلتے تو جھک کر چلتے جیسے کہ اونچائی سے ڈھلوان کی طرف آ رہے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے چہرے سے زیادہ حسین کسی شخص کو نہیں دیکھا۔ گویا کہ سورج آپ ﷺ کے چہرے میں چلتا ہے اور میں نے نہیں دیکھا، آپ ﷺ سے زیادہ تیز چلنے والا کسی کو ۔ گویا کہ ان کے لیے زمین کو لپیٹ دیا گیا ہو اور ہم اپنے نفسوں کے لیے کوشش کرتے تھے لیکن ان تک پہنچنے کے لیے تھک جاتے تھے۔
” کل ذلک کان سیئۃ عند ربک مکروھا ً “ ابن عامر اور اہل کوفہ نے ہمزہ کے رفع کے ساتھ پڑھا ہے اور ھاء کے ضمہ کے ساتھ اضافت ہونے کی وجہ سے۔ یعنی مذکورہ بالا تمام امور جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–40
32۔ 40:۔ اوپر کی آیتوں سے حق العباد کا ذکر چلا آتا ہے مثلا ماں باپ کا حق اولاد کو سمجھنا اور اولاد کا حق ماں باپ کو سمجھنا رشتہ داروں کا حق رشتہ داروں کو جاننا ایک کی ماں بہن بی بی سے دوسرا بدکاری کرے یا ایک کو دوسرا جان سے مار ڈالے یا ایک شخص اپنی اولاد اور مال چھوڑ کر مرجائے اور جس رشتہ دار کی پرورش میں وہ یتیم اولاد آوے وہ اس یتیم کا مال کھا اڑا دیوے یہ سب باتیں خدا کا گناہ ہونے کے سوا حق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حق العباد کے ذکر کے سلسلہ میں زنا قتل بےتصرف مال یتیم خلاف عہد کم تولنے اور کم ناپنے اور جھوٹی شہادت اور اترانے کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–39
آیت نمبر 37
(ولا تمش فی الارض مرحاً ) ، ، اور زمین میں اتراتا ہوا مت چل ، ، یعنی تکبر، غرور، اتراہٹ، حق کے سامنے استکبار اور تکبر کے ساتھ مخلوق سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے زمین پر مت چلو۔ (انک لن تخرق الارض ولن تبلغ الجبال طولاً ) ، ، بیشک تو پھاڑ نہ ڈالی گا زمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں کو لمبا ہو کر، ، بلکہ اس کے برعکس تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بہت حقیر ہوگا اور مخلوق کے نزدیک بہت ذلیل، ناپسندیدہ اور مذموم ہوگا۔ بلا شبہ جن چیزوں کا تو نے قصد کیا ہے ان میں بغیر سوچے سمجھے تو نے بدترین اور ذیل ترین اخلاق کا اکتساب کیا ہے۔ (کل ذالک) مذکورہ تمام امور جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے جن کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–44
لاتقف کی تشریح
قول باری ہے (لا تقف مالیس لک بہ علم۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو) کسی نشان کا پیچھا کرنا ” القفوا “ کہلاتا ہے۔ جبکہ اس کا کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بصیرت کہ یہ نشان کہاں جا کر اختتام پذیر ہوگا۔ اسی سے قافۃ کا لفظ بنا ہے جس کے معنی قیاذ شناس کے ہیں۔ یہ قائف کی جمع ہے۔ عرب کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو قدموں کے نشانات کا کھوج لگاتے تھے۔ (ہمارے ہاں عرف عام میں انہیں کھوجی کہا جاتا ہے) اور ایسے بھی تھے جو نسب کے سلسلہ میں قیاذ شناسی کا کام کرت ی تھے یعنی ایک شخص کے جسمانی اعضاء دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اس کا تعلق فلاں نسب سے ہے۔ تاہم عربوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
70۔ زمین پر اکڑ کر چلنے کی ممانعت :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” تم اکڑ کر مت چلو اللہ کی زمین میں “۔ پس جب تم اللہ تعالیٰ کی اس مخلوق کے مقابلے میں اس قدر عاجز اور کمزور ہو تو پھر یہ اکڑ اور یہ تکبر کس لئے ؟ اور کا ہے کا ؟ (ابن کثیر، المراغی وغیرہ) ۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم زمین پر متکبر اور مغرور لوگوں کی طرح ایڑیاں مار کر اور اکڑ کر نہ چلا کرو بلکہ اللہ کے عاجز اور فرماں بردار بندوں کی طرح چلا کرو۔ جس سے اللہ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے تمہارے پاؤں کے نیچے زمین کے اس عظیم الشان فرش کو بچھا دیا اس پر تو تمہاری حیثیت ایک چیونٹی اور بھنگے کی بھی نہیں ہے۔ اور جن عظیم الشان پہاڑوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔
(ضبط تولید)
آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ف 14 بظاہر خطاب نبی ﷺ سے ہے مگر مراد ہر انسان ہے اور اس سے مقصود مسلمانوں کو یہ تنبیہ کرتا ہے کہ شرک ایسی بری چیز ہے کہ اگر بالرفض آنحضرت جیسے مقرب بندے بھی اس کا ارتکاب کر بیٹھیں تو دوزخی بن جائیں اور ذلیل و خوار اور راندہ درگاہ ہوجائیں۔ (العیاذ باللہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
(17:38) کل ذلک۔ یہ سب اس کا اشارہ اوامرونواہی کی طرف ہے جن کا ذکر آیۃ 12 لا تجعل مع اللہ سے شروع ہو کر آیۃ 37 تک مذکور ہے۔ سیئہ عن ربک مکروھا۔ یعنی ہر حکم میں جو چیز ممنوع ہے اس کا ارتکاب اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے یا دوسرے الفاظ میں جس حکم کی بھی نافرمائی کی جائے وہ ناپسندیدہ ہے۔
ذلک۔ یہ تمام باتیں جو آیۃ 21 سے لے کر یہاں تک مذکور ہیں۔ ذلک مما اوحی الیک ربک من الحکمۃ یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تیری طرف وحی کی ہیں۔
لا یجعل مع اللہ الھا اخر۔ اسی جملہ سے ان حکمت کی باتوں کا آغاز آیۃ 21 سے ہوا تھا۔ اور اسی پر اس پندو نصائح کو ختم کیا گیا کیونکہ توحید ہی راس الحکمۃ ہے اور شرک بدترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
لغات القرآن آیت نمبر 36 تا 39
لاتقف پیچھے نہ پڑو۔ لیس نہیں ہے۔ الفواد دل۔ لاتمش نہ چل۔ مرح اکڑنا، اترانا۔ لن تخرق تو ہرگز نہ پھاڑ دے گا۔ لن تبلغ تو ہرگز نہ پہنچے گا۔ الجبال پہاڑ، (پہاڑوں) ۔ طول بلندی، لمبائی۔ مکروہ ناپسندیدہ۔ تلقی ڈالا جائے گا۔ مدحور ہر رحمت سے محروم کیا ہوا۔
تشریح : آیت نمبر 36 تا 39
سورۃ الاسراء کے تیسرے اور چوتھے رکوع کی پندرہ آیات میں بہت سے نیک کام کرنے اور بہت سی برائیوں سے بچنے کے احکامات ارشاد فرمائے جا رہے ہیں۔ اسی سلسلہ میں چند اور بنیادی خرابیوں کی طرف متوجہ فرمایا جا رہا ہے کہ ہر مومن کی بدگمانی بدظنی، غرور وتکبر اور بےجا ضد سے بچنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ باتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
حقوق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزوں کا ذکر اور کامیاب زندگی کا جامع اصول
ان ا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ زنا کو فحش اور برا راستہ کہا ہے۔ اس کی وجوہ ظاہر ہیں، اول تو اس میں اختلاط نسب ہے دوسرے جو بچہ اس بری صورت سے پیدا ہوا اس کے نفقہ کا کون ذمہ دار ہوگا اور بعض وقت جانیں بھی جاتی رہتی ہیں۔ عورت سے مقصود صرف شہوت رانی نہیں بلکہ اصلی مطلب یہ ہے کہ باہم مل کر خانہ داری میں ایک دوسرے کا معین (مدد گار) ہو بیماری میں بڑھاپے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے، زنا میں یہ بات ممکن نہیں ، زنا کو قطعی حرام ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ تاکید کی کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی۔ (1) پھر فرمایا کہ جس قتل کا کرنا شریعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–38
[32] یعنی بلا تحقیق ہر سنی سنائی بات کے پیچھے نہ ہو لیا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–41
حرمت نفس اور دیگر اخلاقی نصائح :
(ف 1) ان تمام اخلاق وآداب کو اللہ تعالیٰ نے حکمت سے تعبیر کیا ہے یعنی بہترین دانائی یہ ہے ، کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا جائے ، جو شخص اللہ اور اس کے بندوں کو نہیں پہچانتا ، وہ بیوقوف اور بےعقل ہے ۔
اس سے قبل والدین کی اطاعت ، توحید ، عزیزوں اور قرابت داروں کے متعلق حسن سلوک کی تلقین کی تھی ، اسراف وتبذیر سے روکا تھا ، میانہ روی اور اقتصاد پر ابھارا تھا عربوں کو قتل اولاد کے فعل شفیع سے یہ کہہ کر روکا تھا کہ رزق کا ذمہ دار اللہ ہے جب اس نے پیدا کیا ہے ، تو وہ اس کے لئے رزق کا سامان بھی پیدا کر دے گا تم محض بھول اور افلاس کی وجہ سے ان کی موت نہ…
Read the full tafseer →-38 یہ تما م کام اور یہ تمام بری عادتیں تیرے پروردگار کے نزدیک بالکل ناپسندیدہ اور لائق بیزاری ہیں۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں جن باتوں کو منع کیا وہ رب کی بیزاری اور جن کو حکم کیا ان کا نہ کرنا بیزاری ہے۔ 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
ف 3۔ اس لئے بےتحقیق بات پر وثوق کر کے اس پر عملدر آمد مت کر۔
Read the full tafseer →ان ساری باتوں کی برائی اللہ کے نزدیک نہایت ہی بڑی اور بری ہے :
50۔ فرمایا یہ جتنی باتیں اس جگہ بیان کی گئی ہیں جو اسلامی منشور کی 14 شقوں کے طور پر بیان کی ہیں ان میں جو منہات ومحرمات ہیں انکا بڑا ہونا اور ناپسند ہونا اللہ تعالیٰ کے ہاں طے ہے اور ان میں سے جو اوامر بیان ہوئے ہیں جیسے والدین کے حقوق ‘ اقرباء کے حقوق اور وفائے عہد وغیرہ تو ان کی ضد سے بچنا لازم وضروری ہے مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں والدین کی نافرمانی کے مرتکب ہوجاؤ یا رشتہ داروں کے ساتھ قطع رحمی کی نوبت آجائے یا نقص عہد کے مرتکب ہوجاؤ یہ چیزیں سب حرام اور ناپسند ہیں اس لئے زیر نظر آیت میں ان سب کو مکروہ قرار دیا گیا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
After having described details of the injunctions appearing above, it was said in the last verse: كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِندَ رَبِّكَ مَكْرُوهًا (That which is evil, of all these, is detestable in the sight of your Lord - 38).
As for what has been forbidden in the said injunctions, their repugnance is obvious. But, within these there are some commandments where rights of parents and relatives have been enjoined or fulfillment of promises has been made mandatory. Here too, the purpose is to avoid doing the opposite of it, like hurting parents, breaking off from relatives and going…
Read the full tafseer →44. That is, Allah disapproves of the commission of anything that has been prohibited or, in other words, He disapproves of disobedience to any of these commandments.
Read the full tafseer →