Al-Israa 17:41

Al-Israa · from ayah 41

17:41

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا ؕ— وَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا ۟وَلَقَدۡ صَرَّفۡنَا فِىۡ هٰذَا الۡقُرۡاٰنِ لِيَذَّكَّرُوۡا ؕ وَمَا يَزِيۡدُهُمۡ اِلَّا نُفُوۡرًا‏

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We have certainly diversified [the contents] in this Qur'an that mankind may be reminded, but it does not increase the disbelievers except in aversion.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:41

ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دور ہی بھاگے جا رہے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے تو اس قرآن میں ہر ہر طرح بیان فرما دیا کہ لوگ سمجھ جائیں لیکن اس سے انہیں تو نفرت ہی بڑھتی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے وضاحتیں کی ہیں، تاکہ لوگ ہوش میں آئیں، مگر یہ لوگ ہیں کہ اس سے ان کے بدکنے ہی میں اور اضافہ ہورہا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا کہ وہ سمجھیں اور اس سے انھیں نہیں بڑھتی مگر نفرت

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے اس قرآن میں (حقائق اور نصائح کو) انداز بدل کر بار بار بیان کیا ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں، مگر (منکرین کا عالم یہ ہے کہ) اس سے ان کی نفرت ہی مزید بڑھتی جاتی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے اس قرآن میں پھیر پھیر کر بیان کیا، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور وہ انھیں نفرت کے سوا کچھ زیادہ نہیں کرتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم نے اس قرآن میں (حقائق کو) مختلف طریقوں سے بیان کیا تاکہ لوگ کچھ ہوش کریں مگر ان میں نفرت ہی بڑھتی گئی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس قرآن میں گوناگوں اسلوبوں سے بات واضح کردی کہ وہ یاد دہانی حاصل کریں لیکن یہ چیز ان کی بیزاری ہی میں اضافہ کیے جا رہی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور یقینا ہم نے طرح طرح سے بیان کیا ہے اس قرآن میں (حق اور حقیقت کو) ، تاکہ کہ لوگ سمجھیں، مگر اس سے ان (بدبخت ہٹ دھرموں) کی نفرت (اور محرومی) ہی میں اضافہ ہوتا گیا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے اس قرآن میں (مضمون توحید کو) طرح طرح بیان کیا ہے تاکہ اچھی طرح سمجھ لیں لیکن انہیں نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے پھیر پھیر کر بیان کیا ہے اس قرآن میں (اپنی آیات کو) تاکہ یہ سبق حاصل کریں مگر یہ نہیں بڑھاتا انہیں مگر نفرت ہی میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں مگر وہ اس سے اور نفرت بڑھاتے جاتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We have expounded (the Truth) in diverse ways in this Qur'an that they might take it to heart but all this only aggravates their aversion.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, We have explained things in various ways in this Qur‘an, so that they may pay heed to the advice; but it increases nothing in them except aversion.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, We have explained things in various ways in this Qur‘an, so that they may pay heed to the advice; but it increases nothing in them except aversion.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And surely, We have explained in this Qur'an that they may take heed, but it increases them in naught save aversion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We verily have displayed (Our warnings) in this Qur'an that they may take heed, but it increaseth them in naught save aversion.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We have certainly diversified [the contents] in this Qur'an that mankind may be reminded, but it does not increase the disbelievers except in aversion.

— Saheeh International

We have given you various facts (about the Truth in this Quran) so that they (unbelievers) would take heed, but this has only increased their aversion (to the truth).

— Muhammad Sarwar

And certainly We have repeated (warnings) in this Quran that they may be mindful, but it does not add save to their aversion.

— Muhammad Habib Shakir

And assurelly We have propounded it variously in this Qur'an that they might be admonished, but it increaseth them only in aversion.

— Abdul Majid Daryabadi

We have explained (things) in various (ways) in this Qur'an, in order that they may receive admonition, but it only increases their flight (from the Truth)!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

دلائل کے ساتھ ہدایت اس پاک کتاب میں ہم نے تمام مثالیں کھول کھول کر بیان فرما دی ہیں۔ وعدے وعید صاف طور پر مذکور ہیں تاکہ لوگ برائیوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں۔ لیکن تاہم ظالم لوگ تو حق سے نفرت رکھتے اور اس سے دور بھاگنے میں ہی بڑھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 40–41

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 46 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة نحل آیات 57 تا 59 مع حواشی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 39–41

خلاصہ تفسیر (اے محمد ﷺ یہ باتیں (یعنی احکام مذکورہ) اس حکمت میں کی ہیں جو خدا تعالیٰ نے آپ پر وحی کے ذریعہ بھیجی ہیں (اور اے مخاطب) اللہ برحق کے ساتھ کوئی اور معبود تجویز نہ کرنا ورنہ تو الزام خوردہ اور راندہ ہو کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا (احکام مذکورہ کو شروع بھی توحید کے مضمون سے کیا گیا تھا ختم بھی اسی پر کیا گیا اور آگے بھی اسی مضمون توحید کا بیان ہے کہ جب اوپر شرک کا قبیح اور باطل ہونا سن لیا) تو کیا (پھر بھی ایسی باتوں کے قائل ہوتے ہو جو توحید کے خلاف ہیں مثلا یہ کہ) تمہارے رب نے تم کو تو بیٹوں کے ساتھ خاص کیا ہے اور خود فرشتوں کو (اپنی) بیٹیاں بنائی ہیں (جیسا کہ عرب کے جاہل فرشتوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا ۭ وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا۔ " تصریف " کے معنی گردش دینے کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد کسی حقیقت کو مختلف اسلوبوں اور گوناگوں طریقوں سے پیش کرنا ہے۔ مثلاً توحید ہی کا مضمون قرآن میں اتنے مختلف اسلوبوں اور طریقوں سے بیان ہوا ہے کہ غبی سے غبی آدمی بھی، اگر ہٹ دھرم نہ ہو تو اس کو زہن نشین کرسکتا ہے۔ لیکن جو لوگ ضدی اور جھگڑالو ہوتے ہیں، بات کو ماننا نہیں چاہتے، ان کی بیزار اور نفرت اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے جتنی کہ بات واضح ہوتی جاتی ہے اس لیے کہ اس کی وضاحت کو وہ اپنی شکست اور رسوائی سمجھتے ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے اس قرآن میں توحید کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

41۔ 1 ہر ہر طرح کا مطلب ہے، وعظ و نصیحت، دلائل و بینات اور مثالیں و واقعات، ہر طریقے سے بار بار سمجھایا گیا ہے تاکہ وہ سمجھ جائیں، لیکن وہ کفر شرک کی تاریکیوں میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ وہ حق کے قریب ہونے کی بجائے، اور زیادہ دور ہوگئے ہیں۔ اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ قرآن جادو، کہانیاں اور شاعری ہے، پھر وہ اس قرآن سے کس طرح راہ یاب ہوں ؟ کیونکہ قرآن کی مثال بارش کی ہے کہ اچھی زمین پر پڑے تو وہ بارش سے شاداب ہوجاتی ہے اور اگر وہ گندی ہے تو بارش سے بدبو میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 40–41

23: پیچھے کئی مرتبہ گزرا ہے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہا کرتے تھے، حالانکہ خود اپنے لئے بیٹیوں کی پیدائش کو برا سمجھتے تھے، اور اپنے لئے ہمیشہ بیٹوں کی تمنا کیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ عجیب معاملہ ہے کہ تمہارے خیال کے مطابق تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے دینے کے لئے چن لیا ہے اور خود بیٹیاں رکھی ہیں جو تمہارے خیال کے مطابق باپ کے لئے باعث عار ہوا کرتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قرآن کریم عقیدہ توحید لے کر آیا۔ اس عقیدے کو قرآن نے مختلف اسالیب سے بیان کیا اور اس پر بیشمار دلائل دئیے۔ اور کئی طریقے اختیار کیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور فطری دلائل اور فطری اور منطقی طرز استدلال کو سمجھیں اور توحید کا فطری عقیدہ قبول کرلیں اور اس کائنا ت میں اللہ وحدہ لاشیرک کی ذات پر جو آثار و دلائل موجود ہیں ان پر غور کریں مگر ان لوگوں نے اس کے سوا کچھ نہ کیا کہ انہوں نے قرآن سے نفرت کی۔ کیونکہ انہیں ڈر یہ تھا کہ اگر انہوں نے قرآن کو سنا اور پڑھا تو وہ ان عقائد باطلہ پر قائم نہ رہ سکیں گے ، جن کو وہ مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہتے ہیں ، کیونکہ ان کے عقائد شرکیہ ، اوہام اور خرافات پر مبنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی قرآن کریم مختلف عنوانوں اور رنگ برنگ کے دلائل و شواہد سے ان مشرکین کو فہمائش کرتا ہے۔ لیکن بجائے نصیحت حاصل کرنے کے یہ بدبخت اور زیادہ بدکتے اور وحشت کھا کر بھاگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 41 وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا ان کی نصیحت کے لیے ہم نے قرآن میں اسلوب بدل بدل کر حق کو واضح کیا ہے۔ اس سورة مبارکہ کے بارے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں قرآن کا لفظ اور ذکر بار بار آیا ہے۔ گویا اس سورت کے مضامین کا تانا بانا قرآن سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے آیت 9 میں فرمایا گیا : اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ ۔ آیت زیر نظر میں بھی قرآن کا ذکر ہے اور یہ ذکر اس انداز میں آئندہ آیات میں بھی بار بار آئے گا۔ وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا یہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ قرآن میں گوناگوں اسلوبوں میں حق واضح ہوجانے کے باوجود ان کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 کافروں کو قرآن کی نصیحتیں کیوں راس نہیں آتیں ؟:۔ کیونکہ جب طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو صحت بخش اور عمدہ غذائیں بھی راس نہیں آتیں۔ بلکہ جب تک مرض کا پوری طرح علاج نہ کرلیا جائے۔ عمدہ سے عمدہ غذائیں بھی مزید بدہضمی کا سبب بن جاتی ہیں۔ یہی حال ان کافروں کا ہے کہ قرآن کریم کے اعلیٰ سے اعلیٰ دلائل سن کر نصیحت قبول کرنے کے بجائے یہ بدبخت اور زیادہ بدکتے اور وحشت کھا کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

60۔ قرآن مجید کا اصلی، مرکزی، بنیادی موضوع تو ہی ہے، مذمت شرک ومدح توحید کی تکرار اور تصریحات سے قرآن مجید اسی لئے لبریز ہے کہ یہ خوب دلوں میں گھر کرجائے لیکن مشرکین کی ضد اور کج فہمی کا یہ عالم ہے کہ انہیں اور الٹی توحید سے نفرت وبیزاری ہی بڑھتی جاتی ہے !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 41–52

آیت نمبر 41 تا 52 ترجمہ : ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی مثال اور وعدہ و عید بیان کرکے سمجھایا تاکہ لوگ سمجھیں نصیحت حاصل کریں، لیکن اس سے تو ان کی حق سے نفرت ہی بڑھتی گئی (اے محمد ﷺ ان سے کہو اگر اللہ کے ساتھ اور معبود بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو ابتک یہ لوگ عرش کے مالک اللہ کی طرف ضرور راہ ڈھونڈ نکالتے تاکہ اس سے جنگ کریں، جن شرکا کی یہ بات کرتے ہیں وہ ان سے پاک اور بہت بالا و برتر ہے ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ہر مخلوق حمد کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے، لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے اس لئے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا ۭ وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا : اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان کیا ہے تاکہ اس کو اچھی طرح سے سمجھ لیں اور ان کی نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے۔ یعنی اس قرآن میں ہم نے متعدد مقامات پر جو عبرتیں ‘ حکمتیں ‘ احکام ‘ امثال ‘ دلائل اور نصیحتیں بیان کی ہیں وہ اسی لئے بیان کی ہیں کہ لوگ نصیحت پذیر اور سبق اندوز ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ مذکورۂ بالا مطلب کو ہم نے بار بار مختلف طریقوں سے اس قرآن میں نصیحت پذیر کے لئے ثابت کیا ہے ‘ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہذا القرآن سے مراد ہو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کا ابطالی قول یعنی فرشتوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(41) اور ہم نے اس قرآن میں وعدے اور وعید سب کو بیان کیا ہے تاکہ اچھی طرح نصیحت حاصل کرلیں، باقی قرآن کریم کی وعیدیں سن کر وہ تو ایمان سے دور ہی بھاگ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۧوَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ۔۔ : ”نُفُوْرًا“ کا معنی نفرت، بدکنا، دور بھاگنا ہے۔ اس قرآن میں پھیر پھیر کر بیان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر ضروری بات کو تکرار کے ساتھ مختلف طریقوں سے بار بار بیان کیا ہے، تاکہ ان لوگوں کو نصیحت ہو، مگر نصیحت تو سننے سے ہوتی ہے، جب کہ یہ لوگ جس قدر سنانے کی کوشش کی جائے اسی قدر دور بھاگتے ہیں، سننا ہی نہیں چاہتے، پھر مانیں گے کیسے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 41 قولہ تعالیٰ : ولقد صرفنا اور بلاشبہ ہم نے بیان کیا۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے ہم نے بار بار بیان کیا۔ فی ھٰذا القراٰن کہا گیا ہے کہ : فی زائدہ ہے۔ اور تقدیر کلام ہے : ولقد صرفنا ھذا القرآن (بلاشبہ ہم نے اس قرآن کو بیان کیا) مثلاً : اصلح لی فی ذریتی (الاحقاف :15) ای اصلح ذریتی۔ (میری اولاد کی اصلاح فرما) ۔ اور تصریف کا معنی ہے : کسی شی کو ایک جہت سے دوسری جہت کی طرف پھیرنا۔ اور اس تصریف سے مراد بیان اور تکریر (یعنی باربار کسی چیز کو بیان کرنا) ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد مغایرت ہے یعنی ہم نے مواعظ ونصائح کے انداز کو بدل بدل کر بیان کیا تاکہ وہ غور وفکر کریں، عبرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 40–48

1:۔ عبد الرازق، ابن جری، ابن منذر اور ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واتخذ من الملئکۃ اناثا “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودیوں نے فرشتوں کو حق جل شانہ کی بیٹیاں کہا اور (آیت) ” قل لوکان معہ الہۃ “ سے مراد ہے کہ (اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور خدا ہوتا) تو پھر بھی وہ اللہ تعالیٰ کی فضیلت کو ان پر جان لیتے پس وہ ایسا حیلہ (ضرور) تلاش کرتے جو ان کو اس کے قریب کردیتا (اور) بلاشبہ وہ (فرشتے) ایسے نہیں ہیں جیسے وہ کہتے ہیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذا ابتغوا الی ذی العرش سبیلا “ سے مراد ہے کہ وہ (دوسرے خدا) عرش والے پر غلبہ کی راہ تلاش کرتے کہ کہاں ہیں کہ اس کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا : اور بیشک ہم نے بار بار بیان کیا ہے (مضامین کو)] فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن میں ] [لِيَذَّكَّرُوْا : تاکہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں ] [وَمَا يَزِيْدُهُمْ : اور وہ (یعنی قرآن) زیادہ نہیں کرتا ان کو ] [اِلَّا : مگر ] [نُفُوْرًا : بیزاریوں میں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ وحدہ لاشرک ہے، شرک کرنے والوں کی باتوں سے پاک ہے ساتوں آسمان اور زمین اور ہر چیز اس کی تسبیح وتحمید میں مشغول ہے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ ہم نے قرآن مجید میں جو باتیں بیان کی ہیں (جن میں توحید کی دعوت ہے اور اس کے دلائل میں شرک کی مذمت اور آخرت کی یقین دہانی ہے اور افعال خیر کی ترغیب ہے اور برے اعمال کی وعیدیں ہیں) ان کو طرح طرح سے بیان فرمایا تاکہ مخاطبین غور کریں سوچیں اور سمجھیں، پھر فرمایا (وَ مَا یَزِیْدُھُمْ اِلَّا نُفُوْرًا) اور حال یہ ہے کہ اس قرآن کے بیان سے متاثر نہیں ہوتے وہ تو اور زیادہ متنفر ہوتے جاتے ہیں، یہی قرآن جو غور و فکر اور تدبر والوں کے لیے ذریعہ ہدایت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 41–48

تاکید توحید وبیان حال منکرین نبوت قال اللہ تعالیٰ : ولقد صرفنا فی ھذا القران لیذکروا .... الیٰ .... فلا یستطیعون سبیلا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں سب سے اہم اور اعظم حکم توحید کا تھا اب ان آیات میں اس کی تاکید اور تائید کے لیے ابطال شرک پر ایک دلیل عقلی قائم فرماتے ہیں بعد ازاں ان مشرکین نبوت کا حال بیان فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اس درجہ سنگ دل ہوچکے ہیں کہ جب قرآن میں توحید کے مضامین سنتے ہیں تو ان کی وحشت اور نفرت میں زیادتی ہوجاتی ہے اس قرآن کو اللہ تعالیٰ نے تذکر کے لیے نازل کیا تھا مگر یہ نادان بوجہ عدم تدبر کے تنفر اور تمسخر کی حد میں داخل ہوگئے ہیں یہ ضد اور عناد کی انتہا ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

41:۔ زجر ہے۔ مسئلہ توحید اور نفی شرک کو ہم قرآن میں مختلف پیرایوں میں بیان کرچکے ہیں تاکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں مگر الٹا ان کی نفرت میں اضافہ ہوا کیونکہ ضد وعناد کی وجہ سے وہ قرآن کو جادو، شعر اور کہانت کہتے تھے اس لیے قرآنی تعلیمات ان کے دلوں میں نہ اتر سکیں۔ وذلک لانھم اعتقدوا فی القران انہ حیلۃ و سحرو کھانۃ و شعر (قرطبی ج 10 ص 365) اس لیے جب ان کے سامنے مسئلہ توحید کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں جن میں حکم ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو کارساز اور شفیع غالب نہ سمجھو اور اللہ کے سوا حاجات میں کسی کو نہ پکارو تو وہ اس سے دور بھاگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–48

(قرآن بطور نصیحت) اسلامی معاشرے کی فلاح کے لیے پندرہ زریں اصولوں کے اول وآخر میں اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید بیان فرمایا ، اب اس آیات میں بھی قرآن پاک کی صداقت اور مسئلہ توحید ہی کا ذکر ، اور شرک کا رد ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد صرفنا فی ھذالقران “۔ ہم نے اس قرآن پاک میں مختلف طریقوں ، عنوانوں اور پیرایوں میں پھیر پھیر کر بیان کیا ہے ۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، ایمانیات ، رسالت ، معاد اور موجود اور دوسری زندگی سے تعلق رکھنے والی ساری باتیں آسانی سے سمجھ میں آسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے (آیت) ” لیذکروا “۔ تاکہ لوگ ان مثالوں سے نصیحت پکڑیں اور کفر وشرک کو ترک کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا ۭ وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا 41؀ صرف الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] ( ص ر) الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا ۔ محاور ہ ہے ۔ صرفتہ فانصرف میں نے اسے پھیر دیا چناچہ وہ پھر گیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] پھر خدا نے تم کو ان کے مقابلے سے پھیر کر بھگادیا ۔ قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–43

ترکیب : صرفنا اے بیّنا ضروبًا من کل مثل۔ ویمکن ان تکون فی زائدۃ کما فی قولہ تعالیٰ واصلح لی فی ذریتی۔ لو کان شرط اذا لاتبغوا الخ، جواب والمعنی یطلبوا الی من ھو مالک الملک سبیلا بالمفازۃ 1 ؎ کمایفعل الملوک بعضھم مع بعض اوبالتقرب الطاعۃ لہ تعالیٰ لعلھم بقدرتہ تعالیٰ و عجز ھم کقولہ اولئک الذین یدعون یبتغون الیٰ ربھم الوسیلۃ۔ بیضاوی۔ تفسیر : ابن عباس ؓ کہتے ہیں جس کو آنکھ سے نہ دیکھے ‘ کان سے نہ سنے، دل میں یاد نہ رکھے اس کی گواہی نہ دے۔ (3) بعض کہتے ہیں کہ اس میں کسی پر تہمت لگانے کی ممانعت ہے کیونکہ تہمت میں بلاتحقیق باتیں ہوا کرتی ہیں۔ (4) بعض کہتے ہیں اس میں جھوٹ کی ممانعت ہے۔ (5) بعض کہتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّکَّرُوْا ط وَمَا یَزِیْدُ ھُمْ اِلاَّ نُفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 41) (ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ وہ یاددہانی حاصل کریں لیکن یہ چیز ان کی بیزاری ہی میں اضافہ کیے جارہی ہے۔ ) تصریف کا مفہوم تصریف کے معنی پھیرنے اور گردش دینے کے ہیں۔ کسی حقیقت کو مختلف اسالیب اور گو ناگوں طریقوں سے واضح کرنا کہ جس سے سمجھنے میں کوئی کمی باقی نہ رہ جائے، اسے تصریف کہتے ہیں۔ یہ بالکل وہی بات ہے کہ جس کو انیس نے کہا تھا ؎ اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں قرآن کریم نے توحید کے مضمون کو اتنے مختلف طریقوں سے دل و دماغ میں اتارنے کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 41–43

فہم القرآن ربط کلام : کسی کو اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرانا اس کی ذات کے ساتھ شریک بنانے کے مترادف ہے۔ اس بات کی تردید کے لیے یہ بتلایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ہوتا تو وہ ضرور اس کے خلاف کوئی راستہ تلاش کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید سمجھانے کے لیے قرآن مجید میں بڑی تفصیل کے ساتھ ہر قسم کے دلائل دیئے ہیں۔ لیکن مشرک نے اپنی فطرت کو اس طرح مسخ کرلیا ہوتا ہے کہ وہ توحید خالص کو سننا گورا نہیں کرتا۔ مشرک کی طبیعت اور فطرت کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں تو یہ سن کر مشرک تکبر کا اظہار کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نصیحت کے باوجود نفرت میں اضافہ : 41: وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ ھٰذَاالْقُرْٰانِ (بلاشبہ ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان کیا ہے) قرآن سے یہاں جو اس وقت تک اتارا گیا۔ مطلب یہ ہے ہم نے اس کو بار بار بیان کیا یعنی اس معنی کو قرآن کے کئی مقام پر لائے اور ضمیر کو چھوڑ دیا کیونکہ وہ جانا پہچانا مضمون ہے۔ لِیَذَّکَّرُوْا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ قراءت : حمزہ اور علی نے اس کو تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ہم نے اس کو بار بار دھرایا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ وَمَایَزِیْدُ ھُمْ اِلَّا نُفُوْرًا (مگر ان کی نفرت ہی بڑھتی چلی گئی) یعنی حق سے۔ حضرت سفیان ثوری جب اس آیت کو پڑہتے تو کہتے اے اللہ ! میرے خشوع و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

41۔” ولقد صرفنا فی ھذا القرآن “ اس قرآن میں متعدد مقامات پر چند عبرتیں ، حکمتیں ، احکام ، مثال ، دلائل اور نصیحتیں و عیدات ، تشدیدات بیان کی ہیں ۔ ” لیذکروا ‘ ‘ تا کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں اور ان امور سے باز رہیں ۔ حمزہ کسائی نے ذال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور کاف کے ضمہ کے ساتھ ” وما یزیدھم “ یعنی ہمارا ان کو بار بار بیان کرنا نصیحت کرنا ” الانفورا ً “ ان کی دوری اور حق سے نفرت کا سبب بنتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

41:۔ اللہ پاک نے اس آیت میں یہ بیان کیا کہ ہم نے اس قرآن پاک میں جابجا مثالیں اور حکم اور نصیحت اور قصے یہ سب کچھ بیان کیا ہے تاکہ یہ اسے پڑھ کر اور سن کر عبرت پکڑیں اور نصیحت اختیار کریں اور اپنے قول وفعل سے باز آئیں لیکن جن کی طینت میں کفر ونفاق ہے وہ ان باتوں کو سن کر اور بھی دین حق سے نفرت کرتے ہیں اور بھاگتے ہیں اور قرآن پاک کی نسبت یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ انسان کا کلام ہے۔ صحیح بخاری ومسلم کے حوالہ سے حضرت علی ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے 1 ؎، کہ دنیا کے پیدا کرنے سے پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں یہ لکھ لیا ہے کہ دنیا میں پیدا ہونے کے بعد کون شخص دوزخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 41–44

آیت نمبر 41 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لئے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان کئے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان کئے ہیں اور انہیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انہیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتیٰ کہ وہ باطل کے لئے تعصب میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔ جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل وبراہین بیان کئے، وہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 36–44

لاتقف کی تشریح قول باری ہے (لا تقف مالیس لک بہ علم۔ کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو) کسی نشان کا پیچھا کرنا ” القفوا “ کہلاتا ہے۔ جبکہ اس کا کوئی علم نہ ہو اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بصیرت کہ یہ نشان کہاں جا کر اختتام پذیر ہوگا۔ اسی سے قافۃ کا لفظ بنا ہے جس کے معنی قیاذ شناس کے ہیں۔ یہ قائف کی جمع ہے۔ عرب کے اندر ایسے لوگ بھی تھے جو قدموں کے نشانات کا کھوج لگاتے تھے۔ (ہمارے ہاں عرف عام میں انہیں کھوجی کہا جاتا ہے) اور ایسے بھی تھے جو نسب کے سلسلہ میں قیاذ شناسی کا کام کرت ی تھے یعنی ایک شخص کے جسمانی اعضاء دیکھ کر بتا دیتے تھے کہ اس کا تعلق فلاں نسب سے ہے۔ تاہم عربوں کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

75۔ عناد وہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اسی لیے قرآن حکیم کے بیان حق ترجمان سے حق کو سمجھنے اور اپنانے کی بجائے کفار و مشرکین کی نفرت و محرومی ہی میں اضافہ ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کیونکہ ان کے دل ٹیڑھے اور عقلیں مسخ ہوچکی ہیں۔ اور ان کی نیتیں بری اور ارادے فاسد ہیں۔ والعیاذ باللہ۔ سو ایسے میں قرآن حکیم کے ارشادات کریمہ سے ان کی ہدایت کی بجائے ان کی ضلالت و گمراہی میں اور بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اور یہ ایک طبعی امر اور منطقی نتیجہ ہے۔ کیونکہ کسی کا معدہ جب خراب ہوجائے تو اچھی اور مقوی غذا سے اس کی صحت قوت کی بجائے اس کی بیماری ہی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 40–44

نزول ِقرآن کا مقصد تشریح : اللہ تعالیٰ تو ویسے ہی تمام رشتہ داریوں سے بالکل بےنیاز ہے۔ وہ بس اکیلا ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا تو کفار کا یہ کہنا انتہائی نامعقول بات ہے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں نعوذ باللہ۔ قرآن پاک میں بار بار حکمت اور توحید کے بارے میں بتایا گیا ہے مگر یہ لوگ عقل کے اندھے اور بھی زیادہ گمراہی اور نفرت میں بڑھ جاتے ہیں۔ اگر اللہ کے سوا دوسرے معبود ہوتے تو دستور کے مطابق وہ ضرور اللہ سے جنگ کرنے کے لیے عرش کی طرف بڑھتے اور ضرور بغاوت کرتے۔ توبہ کرو کیونکہ الہ العلمین کفر و شرک سے بہت زیادہ بلند اور عظیم ہے۔ کیونکہ اس کے برعکس ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 41–52

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف قرآن حکیم میں ہم نے مختلف انداز سے بات کے ہر پہلو کو واضح کیا ہے کہ لوگ سمجھیں مگر کفر ایسی بیماری ہے جو غذا سے بڑھتی ہے یہی حال ان کا ہے کہ ان کے دلوں میں مزید نفرت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ ان سے کہئے کہ اگر کوئی بھی ہستی الوہیت میں اس کی شریک ہوتی یا صفات میں اس کے برابر ہوتی تو وہ عرش پر چڑھ نہ دوڑتی اور نظام کائنات تباہ ہوچکا ہوتا ، یہ بلا چوں وچرا اسی لیے چل رہا ہے کہ ایک حاکم کے تابع ہے جو اپنی ذات اور اپنی صفات میں ہر طرح کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے ، تمہاری باتوں کی رسائی سے اس کی عظمت بہت زیادہ بلند ہے ۔ (ہر شے اللہ جل جلالہ کا ذکر کرتی ہے) نہ صرف یہ کہ اس کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:41) صرفنا۔ ماضی جمع متکلم تصریف (تفعیل) مصدر۔ ہم نے پھیر پھیر کر سمجھایا۔ ہم نے طرح سے بیان کیا۔ ہم نے اس کو طرح طرح سے بانٹا یا تقسیم کیا۔ کسی شے کے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف اور ایک امر سے دوسرے امر کی طرف پلٹنے اور تبدیل کرنے کے لئے بولا جاتا ہے جیسے تصریف الریاح ہوائوں کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف لوٹانا۔ وصرفنا الایات (46:127) اور ہم نے آیات کو لوٹا لوٹا کر بیان کیا۔ اور صرفنا فیہ من الوعید (20:113) اور ہم نے اس میں طرح کے وعید بیان کر دئیے ہیں۔ لیذکرو۔ لام تعلیل یذکروا مضارع منصوب (نصب بوجہ عمل لام) جمع مذکر غائب تذکر (تفعیل) سے کہ وہ نصیحت پکڑیں۔ یذیدہم۔ مضارع واحد مذکر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 40–44

لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 44 اصفی اس نے چن لیا، منتخب کرلیا۔ بنین بیٹے۔ اناث بیٹیاں۔ فرفنا ہم نے طرح طرح سے بیان کیا۔ نفور نفرت۔ علو بلند تر۔ لاتفقھون تم نہیں سمجھتے۔ تسبیح پاکیزگی، تسبیح۔ حلیم برداشت کرنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 40 تا 44 اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس حقیقت کو بار بار دھرایا ہے کہ اس کائنات کا خلاق ومالک صرف ایک اللہ ہے۔ اگر زمین و آسمان میں ایک اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو نظام کائنات تباہ و برباد ہو کر رہ جاتا۔ وہ اللہ اس نظام کائنات کو چلانے میں نہ کسی کا محتاج ہے اور نہ کوئی اس کا شریک ہے۔ جس طرح دنیا کے بادشاہ اور حکمران اپنی مملکت، حکمرانی اور وراثت کے لئے اپنی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

کفار کو تنبیہ : اللہ پاک نے اس آیت میں یہ بیان فرمایا کہ ہم نے اس قرآن پاک میں جا بجا مثالیں اور حکم اور نصیحت وار قصے یہ سب کچھ بیان کیا ہے، تاکہ یہ اسے پڑھ کر اور سن کر عبرت پکڑیں اور نصیحت اختیار کریں اور پنے قول اور فعل سے باز آئیں۔ لیکن جن کی طینت میں کفر ونفاق ہے وہ ان باتوں کو سن کر دین حق سے نفرت کرتے اور بھاگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 39–41

[33] بظاہر تو خطاب نبی ﷺ سے ہے مگر ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو خطاب کر کے جو بات فرمایا کرتا ہے اس کا اصل مخاطب انسان ہوا کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–41

حرمت نفس اور دیگر اخلاقی نصائح : (ف 1) ان تمام اخلاق وآداب کو اللہ تعالیٰ نے حکمت سے تعبیر کیا ہے یعنی بہترین دانائی یہ ہے ، کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھا جائے ، جو شخص اللہ اور اس کے بندوں کو نہیں پہچانتا ، وہ بیوقوف اور بےعقل ہے ۔ اس سے قبل والدین کی اطاعت ، توحید ، عزیزوں اور قرابت داروں کے متعلق حسن سلوک کی تلقین کی تھی ، اسراف وتبذیر سے روکا تھا ، میانہ روی اور اقتصاد پر ابھارا تھا عربوں کو قتل اولاد کے فعل شفیع سے یہ کہہ کر روکا تھا کہ رزق کا ذمہ دار اللہ ہے جب اس نے پیدا کیا ہے ، تو وہ اس کے لئے رزق کا سامان بھی پیدا کر دے گا تم محض بھول اور افلاس کی وجہ سے ان کی موت نہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-4 1 اور یقینا ہم نے اس قرآن کریم میں لوگوں کو ہر پرایہ سے بار بار سمجھایا اور طرح سے طرح بیان کیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور سوچیں مگر ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو ہمارے بیان کرنے اور سمجھانے سے اور نفرت کرنا اور ان کا بدکنا بڑھتا جاتا ہے۔ یعنی ہم نے توحید کے دائل اور شرک کی مذمت نئے نئے پیرایہ اور مختلف دلائل اور شواہد ان کے روبرو بیان کئے تاکہ یہ لوگ کفر و عصیان سے باز آجائیں اور دین حق کو قبول کریں لیکن ان بدبختوں کو اس سمجھانے سے نفرت و وحشت ہی بڑھی او بدک بدک کر بھاگتے ہی رہے۔ جیسے کسی مریض کو دوا اور غذا الٹا اثر کرتی ہے وہی ان کے روحانی مرض کی حالت ہے اور یہی وہ حالت ہے کہ جس کو مریض کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–41

ف 4۔ بڑی سخت بات اس لئے کہ ایک تو اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد قرار دینا، پھر اولاد بھی وہ جو اپنے لئے ناکارہ سمجھی جاوے جس سے دو نقص کا نسبت کرنا اللہ تعالیٰ کی طرف لازم آیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم میں درس توحید کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے لیکن ان پر اثر الٹا ہی ہوا۔ 54۔ قرآن کریم کی کوئی سورت اور کوئی صفحہ ایسا نہیں ہے جس میں توحید کے اثبات اور شرک کے رد کے دلائل نہ دیئے گئے ہوں اور پھر بات کو ذہن نشین کرانے کے لئے مختلف مثالوں ‘ ضرب المثلوں ‘ محاوروں اور استعاروں سے کام لیا گیا ہے اور توحید کی تکرار سے قرآن کریم لبریز ہے تاکہ بات ان کے ذہن نشین ہوجائے لیکن مشرکین کا حال یہ ہے کہ ان کی ضد اور کج فہمی میں کچھ مزید اضافہ ہی ہوا ہے اور ان کی الٹی نفرت ہی بڑھی ہے اس کو کہتے ہیں کہ ” مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ۔ “ آپ ذرا غور کریں کہ ہم نے قرآن کریم میں جو دلائل توحید کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–41

After having described details of the injunctions appearing above, it was said in the last verse: كُلُّ ذَٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهُ عِندَ رَ‌بِّكَ مَكْرُ‌وهًا (That which is evil, of all these, is detestable in the sight of your Lord - 38). As for what has been forbidden in the said injunctions, their repugnance is obvious. But, within these there are some commandments where rights of parents and relatives have been enjoined or fulfillment of promises has been made mandatory. Here too, the purpose is to avoid doing the opposite of it, like hurting parents, breaking off from relatives and going…

Read the full tafseer →