Explained with ayahs 34–35
یتیم کا مال
یتیم کے مال میں بدنیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔ جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے حضور ﷺ نے ابوذر ؓ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لئے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لئے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہوجائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 40
یہ ہدایت بھی صرف افراد کے باہمی معاملات تک محدود نہ رہی، بلکہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد یہ حکومت کے فرائض میں داخل کی گئی کہ وہ منڈیوں اور بازاروں میں اوزان اور پیمانوں کی نگرانی کرے اور تطفیف کو بزور بند کر دے۔ پھر اسی سے یہ وسیع اصول اخذ کیا گیا کہ تجارت اور معاشی لین دین میں ہر قسم کی بےایمانیوں اور حق تلفیوں کا سد باب کرنا حکومت کے فرائض میں سے ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 41
یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں اس کا انجام اس لیے بہتر ہے کہ اس سے باہمی اعتماد قائم ہوتا ہے، بائع اور خریدار دونوں ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہیں، اور یہ چیز انجام کار…
Read the full tafseer →ناپ تول میں کمی کی ممانعت
مسئلہ(آیت) وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ تفسیر بحر محیط میں ابو حیان نے فرمایا کہ اس آیت میں ناپ تول پورا کرنے کی ذمہ داری بائع (بیچنے والے) پر ڈالی گئی ہے جس سے معلوم ہوا کہ ناپنے تولنے اور اس کو پورا کرنے کا ذمہ دار بائع ہے۔
آخر آیت میں ناپ تول پورا کرنے کے متعلق فرمایا (آیت) ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا اس میں ناپ تول صحیح اور برابر کرنے کے متعلق دو باتیں فرمائیں ایک اس کا خیر (بہتر) ہونا اس کا حاصل یہ ہے کہ ایسا کرنا اپنی ذات میں اچھا اور بہتر ہے شرعی کے علاوہ عقلی اور طبعی طور پر بھی کوئی شریف انسان ناپ تول کی کمی کو اچھا نہیں سمجھ سکتا دوسری بات…
Read the full tafseer →وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔
ایفائے کیل و وزن کی تاکید : ایفائے عہد کی تاکید کے بعد یہ ایفائے کیل و وزن کی تاکید ہے کہ آپس کے لین دین میں جب کوئی چیز ناپو یا تولو تو ناپ تول میں کوئی خیانت نہ کرو۔ ناپو صحیح یمانے سے اور تولو ٹھیک ترازو سے۔ یہی طریقہ بہتر اور انجام کے اعتبار سے یہی اچھا ہے۔ یعنی معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے بھی یہی طریقہ سود مند ہے اور مآل کار کے پہلو سے بھی یہی طریقہ بہتر ہے اس لیے کہ خدا کو پسند یہی طریقہ ہے۔ جو قوم ڈنڈی ماری کو شیوہ بنالیتی ہے۔ بظاہر اس کے کچھ افراد اپنی دانست میں نفع…
Read the full tafseer →35۔ 1 اجر وثواب کے لحاظ سے بہتر ہے، علاوہ ازیں لوگوں کے اندر اعتماد پیدا کرنے میں ناپ تول میں دیانت داری مفید ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
19: یہ یتیم کے رشتہ داروں اور خاص طور پر اس کے سرپرستوں کو خطاب ہورہا ہے کہ اگر یتیم کو اپنے مرحوم باپ سے میراث میں کوئی مال ملا ہو تو اسے امانت سمجھو اور اس میں وہی تصرف تمہارے لئے جائز ہے جو یتیم کے حق میں فائدہ مند ہو، کوئی ایسا کام جائز نہیں جس میں اس کو نقصان پہنچ جائے، یعنی بالغ ہو کر اسے اتنی سمجھ آجائے کہ وہ اپنے نفع نقصان کو خود سمجھنے لگے تو اس وقت اس کا مال اسی کے حوالے کردینا واجب ہے، یہ مسئلہ قرآن کریم نے تفصیل کے ساتھ سوہ نساء (4: 2) میں بیان فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →وفائے عہد اور ناپ اور تول پورا پورا اور ٹھیک ٹھیک کرنے اور وفائے عہد کے درمیان لفظی اور معنوی مناسبت تو بالکل ظاہر ہے۔ لہذا وفائے عہد کے حکم کے بعد ناپ اور تول پورے کرنے کے احکام کی طرف آنا موضوع کی مناسبت سے درست ہے۔
ناپ اور تول پورا کرنا معاملات میں دیانت و امانت کا حصہ ہے۔ اس سے تاجر کو قلبی طہارت بھی حاصل ہوتی ہے او سوسائٹی کی نشوونما صحت مند بنیادوں پر ہوتی ہے۔ لوگوں کے درمیان معاملات میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور اس سے برکت پیدا ہوتی ہے۔
ذلک خیر واحسن تاویلا (71 : 53) ” یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی بہتر ہے “۔ یعنی دنیا میں بھی بہتر ہے اور آخرت میں بھی بہتر ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے…
Read the full tafseer →3 یعنی جھونک نہ مارو۔ ناپ تول میں کمی کرنے سے معاملات کا نظام مختل ہوجاتا ہے۔ قوم شعیب کی ہلاکت کا قصہ پہلے کئی جگہ آچکا ہے ان کا بڑا عملی گناہ یہ ہی بیان کیا گیا ہے۔ روایات میں ہے کہ جو شخص کسی حرام پر قدرت پا کر محض خدا کے خوف سے رک جائے تو خدا تعالیٰ اسی دنیا میں آخرت سے پہلے اس کو نعم البدل عطا فرمائے گا۔
4 یعنی دغا بازی اول چلتی ہے پھر لوگ خبردار ہو کر اس سے معاملہ نہیں کرتے۔ اور پورا حق دینے والا سب کو بھلا لگتا ہے۔ اللہ اس کی تجارت خوب چلاتا ہے۔
Read the full tafseer →ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا
اگر تم ناپ تول پورا کرتے ہو اور لین دین کے تمام معاملات دیانتداری سے سر انجام دیتے ہو تو حضرت شعیب کے فرمان کے مطابق : بَقِيَّتُ اللّٰهِ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ھود : 86 ”اللہ کا دیا ہوا منافع ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو“۔ دیانتداری سے کمایا ہوا منافع تھوڑا بھی ہوگا تو اللہ تعالیٰ اس میں برکت عطا کرے گا۔
Read the full tafseer →44 ماپ تول پورا کرنے سے انجام بہتر ہوگا :۔ ناپ اور تول میں کمی بیشی کرنا یعنی خود زیادہ لینا اور دوسرے کو کم دینا، ڈنڈی مار جانا اور کاروباری بددیانتی کرنا اتنا بڑا جرم ہے جس کی وجہ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل ہوا تھا اور جو شخص ایسے کام کرتا ہے اس کے رزق سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
45 ناپ اور تول پورا پورا دینے سے دنیا میں تو انجام اس لحاظ سے بہتر ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی ساکھ قائم ہوجاتی ہے۔ اور اس کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور اس کے رزق میں برکت ہوتی ہے۔ اور ایسے شخص کا اخروی انجام بہتر ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔
Read the full tafseer →54۔ یعنی یہی احکام دین جو ابھی بتائے گئے ہیں بجائے خود بھی فطرت سلیم کے مطابق ہیں اور نتائج بھی دنیا وآخرت دونوں میں انہیں نکلتے ہیں۔ (آیت) ’ واوفوا۔۔۔ المستقیم “۔ غرض یہ کہ تجارتی، معاشری، قانونی زندگی کے ہر شعبہ اور معاملات باہمی کی ہر شاخ میں پوری طرح دیانت، امانت، وصداقت کے اصول پر کاربند رہو۔ اسلام کچھ یت رسم یا پوجا پاٹ کے قسم کے اعمال کا نام نہیں، سارے نظام زندگی کو قانون الہی کے سانچہ میں ڈھال لینے کے مرادف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْم : اور ناپ کردیتے وقت ناپ کا پیمانہ پورا
کر دیا کرو اور (تولتے وقت) صحیح ترازو سے تولا کرو (یعنی ناپ تول میں بےایمانی نہ کرو) مجاہد نے کہا قسطاس (ترازو) رومی لفظ ہے عربی میں استعمال کرلیا گیا ہے لیکن اس سے قرآن مجید کے عربی ہونے میں کوئی خرابی نہیں آتی ‘ کیونکہ جو غیر عربی لفظ عربی میں شامل کرلیا اور عربی الفاظ کے احکام اس پر جاری کردیئے گئے اعراب اور معرفہ و نکرہ کی خصوصیات عربی الفاظ کی طرح اس میں پیدا کردی گئیں وہ عربی بن گیا غیر عربی نہیں رہا (اگرچہ اصلاً وہ عجمی ہو) اکثر علماء کے نزدیک قسطاس عربی لفظ ہے قسط سے…
Read the full tafseer →(35) اور جب ماپنے کی چیز ماپ کر دو تو پورا ماپوا اور تولنے کی چیز کو صحیح ترازو سے تول کر دو ، یہ ماپ وتول اور وعدوں کو پورا کرنا یہ بدعہد اور چیزوں کو کم دینے سے بہتر ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے۔
Read the full tafseer →وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ۔۔ : ”الْكَيْلَ“ سے مراد کسی برتن وغیرہ کو پیمانہ بنا کر غلہ وغیرہ کو ماپنا، مثلاً صاع (ٹوپا) اور مد (پڑوپی) وغیرہ۔ وزن کا معنی تولنا، مثلاً کلو وغیرہ۔ ”اَلْقِسْطَاسُ“ ترازو۔ مجاہد نے فرمایا، رومی میں قسطاس عدل کو کہتے ہیں۔ ”تَاوِیْلاً“ (انجام) یہ ”أَوْلٌ“ سے مشتق ہے جس کا معنی رجوع ہے، یعنی کوئی کام جس نتیجہ کی طرف پلٹتا ہے، تعبیر کو بھی تاویل کہتے ہیں اور کسی چیز کے اصل مفہوم و مطلب کو بھی۔ انجام کے لحاظ سے بہتر اس لیے کہ پورے ماپ اور تول کی وجہ سے سب لوگوں کا اس پر اعتماد قائم ہوجائے گا، اس کے کاروبار میں برکت اور ترقی ہوگی اور یہ شخص قیامت کے دن کی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 35
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : واوفوا الکیل اذا کلتم اس کے بارے کلام سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔ اور یہ آیت یہ تقاضا کرتی ہے کہ کیل (ماپ) کرنا بائع کے ذمہ ہے، یہ سورة یوسف میں گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اور القسطاس (قاف کے ضمہ اور کسرہ کیساتھ) سے مراد میزان (ترازو) ہے اور یہ لغت روم کا لفظ ہے : یہ ابن عزیز نے کہا ہے۔ اور زجاج نے کہا ہے : القسطاس، ترازو چھوٹا ہو یا بڑا۔ اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : القسطاس سے مراد عدل کرنا ہے۔ اور آپ فرماتے تھے : یہ لغت رومیہ سے ہے، گویا کہ لوگوں کو کہا گیا ہے : اپنے وزنوں میں عدل کرتے ہوئے وزن کرو۔ اور ابن کثیر، ابو…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) نے (آیت) ” واوفوا بالعھد، ان العھد کان مسئولا (34) “ کے بارے میں فرمایا کہ جب دن یہ آیت نازل ہوئی تو یہ تصور تھا کہ انسان سے سوال ہوگا پھر جنت میں داخل کیا جائے گا (اس کے بعد یہ آیت ) ۔ ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانہم ثمنا قلیلا اولئک لا خلاق لہم فی الاخرۃ “ نازل ہوئی بیشک جو لوگ اللہ کے عہد کو اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت کے عوض خریدتے ہیں (یہ وہ ہیں کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں )
آپس میں عہد و معاہدہ کے متعلق قیامت میں سوال ہوگا :
2:۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان العھد کان مسئولا “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ عہد توڑنے…
Read the full tafseer →[وَاَوْفُوا : اور تم لوگ پورا کرو ] [الْكَيْلَ : ناپ کو ] [اِذَا : جب بھی ] [كِلْتم : تم لوگ ناپو ] [وَ : اور ] [زِنُوْا : تم لوگ وزن کرو ] [بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ : سیدھے ترازوے سے ] [ذٰلِكَ : یہ ] [خَيْرٌ: سب سے بہتر ہے ] [وَّاَحْسَنُ : اور سب سے اچھا ہے ] [تَاْوِيْلًا : بلحاظ انجام کے ]
نوٹ۔ 1: ترازو کے لئے عربی لفظ میزان ہے۔ قــطاس کے معنی بھی ترازو ہے لیکن یہ عربی لفظ نہیں ہے۔ یہ یونانی لفظ ہے اور عرب تاجروں کے ذریعہ عرب میں بھی رائج ہوگیا۔ (حافظ احمد یار صاحب)
Read the full tafseer →چھٹاحکم یہ دیا کہ ناپ تول پوری کیا کرو اور ٹھیک ترازو سے تولا کرو۔
آخر میں فرمایا (ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا) کہ احکام پر عمل کرنا بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے اچھی چیز ہے۔
آیات بالا میں جو احکام مذکور ہوئے سورة انعام کے رکوع نمبر 14 میں بھی ذکر فرمائے گئے ہیں وہاں بھی ملاحظہ فرما لیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →35:۔ یہ پانچواں ظلم ہے۔ تجارتی لین دین کرتے وقت ناپ تول میں کمی بیشی کرکے لوگوں کا حق نہ مارو یہ بھی ظلم ہے بلکہ پورا پورا تولو اور صحیح صحیح ناپو یہ دنیا اور آخرت میں تمہارے لیے بہتر ہے۔ دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تمہاری روزی حرام کے شبہہ سے پاک ہوگی۔ تمہارے کارو بار میں برکت ہوگی اور دیانت و امانت کی وجہ سے لوگوں کا تم پر اعتماد قائم رہے گا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر پاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے معاشرتی نظام کے جو پندرہ قوانین ان دو رکوعوں میں بیان فرمائے ہیں ان میں سے دس قوانین گذشتہ دروس میں بیان ہوچکے ہیں گذشتہ درس میں تین دفعات بیان ہوئی تھیں یعنی قتل ناحق ، زنا اور اسراف فی القتل کی ممانعت ۔
اب آج کے درس میں مزید تین اصول آرہے ہیں یعنی یتیم کے مال کی حفاظت ، ایفائے عہد اور ماپ تول میں دیانت ، اس کے بعد اگلے درس میں آخری دو اصول بیان ہو کر پندرہ کی گنتی پوری ہوجائے گی ،
(11) (یتیم کے مال کی حفاظت)
گیارہواں اصول یہ ہے (آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ھی احسن “۔ اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر درست طریقے سے جو بہتر ہے یتیموں کی پرورش…
Read the full tafseer →وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْمِ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا 35
كَيْلُ :
كيل الطعام . يقال : كِلْتُ له الطعام :إذا تولّيت ذلک له، وكِلْتُهُ الطّعام : إذا أعطیته كَيْلًا، واكْتَلْتُ عليه : أخذت منه كيلا . قال اللہ تعالی: وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ الَّذِينَ إِذَا اكْتالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ وَإِذا کالُوهُمْ [ المطففین/ 1- 3]
( ک ی ل ) الکیل
( ض ) کے معنی غلہ نا پنے کے ہیں اور کلت لہ الطعا م ( صلہ لام ) کے معی ہیں ۔ میں نے اس کے لئے غلہ ناپنے کی ذمہ داری سنھالی اور کلت الطعام ( بدوں لام ) کے معیْ ہیں میں نے اسے غلہ ناپ کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
نواں حکم : مال یتیم سے بچنا ولاتقربوامال الیتیم مگر جائز طریقہ سے لینا درست ہے۔ مزدوری میں، تجارت میں، اجرت نگرانی میں اگر محتاج ہو۔
دسواں حکم : و اوفوا بالعہد ہے عہد جس سے کرو اس پر قائم رہو۔ وہ عہد ہی غلط ہیں جن کو شرع نے معتبر نہیں رکھا یعنی معصیت پر عہد کرنا۔
گیارہواں حکم : و اوفو الکیل کہ ناپ تول کرلیتے دیتے وقت کم زیادہ نہ کرو۔ معاملات میں دغابازی نہ کرو۔
بارہواں حکم : و لا تقف اس کے معنی میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ (1) اس میں ان باطل خیالات کی پیروی سے ممانعت ہے جو عوام میں غلطی سے مشہور ہوجاتے ہیں۔ (2) محمد بن حنفیہ (رح) سے منقول ہے کہ اس کے معنی جھوٹی گواہی کے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ط ذَلِکَ خَیْرٌوَّاَحْسَنُ تَاوِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 35)
(اور جب تم ناپو تو ناپ پوری رکھو اور وزن صحیح ترازو سے کرو، یہی بہتر اور مآل کار کے اعتبار سے خوب تر ہے۔ )
ایفائے کیل و وزن کی ہدایت
یہ ہدایت بھی صرف افراد کے باہمی معاملات تک محددو نہ رہی بلکہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد یہ بات حکومت کے فرائض میں داخل ہوگئی کہ وہ منڈیوں اور بازاروں میں اوزان اور پیمانوں کی نگرانی کریں اور تطفیف کو بزور بند کردیں۔ پھر اسی سے یہ وسیع اصول اخذ کیا گیا کہ تجارت اور معاشی لین دین میں ہر قسم کی بےایمانیوں اور حق تلفیوں کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یتیم کے مال کے بارے میں حکم دینے کے بعد سب لوگوں کے مال کے تحفظ کا حکم دیا گیا ہے۔
کاروبار میں یہ بات بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ دکاندار گاہک کو وہی چیز اور اسی کو الٹی کا مال دے جس کا گاہک کے ساتھ سودا کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات بڑی اہم ہے کہ جس چیز کا سودا ہوا ہے۔ وہ ماپ تول میں پوری ہونی چاہیے وزن یا پیمائش میں کمی کرنے سے ناصرف خریدار کو نقصان ہوتا ہے بلکہ اس کے دل میں شدید نفرت پیدا ہوجاتی ہے۔ جس سے معاشرہ میں منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری طرف دکاندار کے رزق سے برکت اٹھالی جاتی ہے۔ ان نقصانات کے پیش نظر ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو ! جب ماپ کرو تو پورا پورا کیا کرو۔…
Read the full tafseer →ماپ تول پورا کرو :
35: وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ ( اور تم ناپ کرتے وقت ناپ کا پیمانہ پورا کردیا کرو۔ اور وزن صحیح ترازو سے کرو)
قراءت : القسطاس ق ؔ کے کسرہ سے حمزہ علی اور حفص کی قراءت ہے جبکہ نافع ابن کثیر نے قؔ پر ضمہ پڑھا ہے قسطاس کا معنی ہر چھوٹا بڑا میزان خواہ دراھم وغیرہ کے لیے استعمال ہو۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد بھاری اشیاء تولنے کا ترازو اور کانٹا مراد ہے۔ المستقیم معتدل کو کہتے ہیں۔
ذٰلِکَ خَیْرٌ (یہ بہت بہتر ہے) وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْـلًا (اور بہت خوب ہے نتیجے کے لحاظ سے) تاویل یہ تفصیل کے وزن پر ہے۔ اٰل یأول کا معنی لوٹنا۔…
Read the full tafseer →35۔” وافوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس “ حمزہ، کسائی اور حفص رحمہم اللہ نے ” بالقسطاس “ قاف کے کسرہ کے ساتھ اور باقی حروف کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ اس میں دونوں لغتیں ہیں اس سے مراد میزان ہے۔ خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو ۔ حسن نے کہا کہ اس سے مراد گنبد نماچیز ہے مجاہد کا قول ہے کہ رومی لغت میں ترازو کو کہتے ہیں ۔ ان کے علاوہ دوسرے حضرات نے کہا کہ قسطاس عربی ہے قسط سے بنا ہے قسط کا معنی ہے عدل ۔ ” المستقیم ذلک خیر واحسن تاویلا ً “ ان کا انجام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–40
32۔ 40:۔ اوپر کی آیتوں سے حق العباد کا ذکر چلا آتا ہے مثلا ماں باپ کا حق اولاد کو سمجھنا اور اولاد کا حق ماں باپ کو سمجھنا رشتہ داروں کا حق رشتہ داروں کو جاننا ایک کی ماں بہن بی بی سے دوسرا بدکاری کرے یا ایک کو دوسرا جان سے مار ڈالے یا ایک شخص اپنی اولاد اور مال چھوڑ کر مرجائے اور جس رشتہ دار کی پرورش میں وہ یتیم اولاد آوے وہ اس یتیم کا مال کھا اڑا دیوے یہ سب باتیں خدا کا گناہ ہونے کے سوا حق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حق العباد کے ذکر کے سلسلہ میں زنا قتل بےتصرف مال یتیم خلاف عہد کم تولنے اور کم ناپنے اور جھوٹی شہادت اور اترانے کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا دیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 35
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عدل اور ناپ تول کو بغیر کسی کمی کے انصاف کے ساتھ پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ آیت کے عمومی معنی سے دھوکہ دہی، اندازے سے قیمت لگانے، کسی چیز کی قیمت طے ہونے کے بعد کسی دوسرے شخص کی طرف سے قیمت لگانے کی ممانعت اور معاملات میں خیر خواہی اور صداقت مستنبط ہوتی ہے۔ (ذالک خیر) ، ، یہ بہتر ہے، ، اس کے نہ ہونے سے (واحسن تاویلا) ، ، اور اس کا انجام اچھا ہے، ، یعنی یہ عدل انجام کے اعتبار سے بہتر ہے، بندہ تاوان اور نقصان سے محفوظ رہتا ہے اور عدل و انصاف اور ناپ تول پورا کرنے سے برکت نازل ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →ناپ تول کے احکام
قول باری ہے (واوفوا الکیل اذا کلتم وزنوا بالقسطاس المستقیم۔ اور جب پیمانے سے ناپ کر دو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو) آیت میں یہ دلالت ہے کہ جو شخص کوئی چیز ناپ کر یا تول کر خریدے تو اس پر یہ امر واجب ہے کہ ناپ کر خریدی ہوئی چیز کو ناپ کرے اور تول کر خریدی ہوئی چیز کو تول کرے، نیز اس کے لئے یہ جائز نہیں کہ کیل یا وزن کے ذریعے دی جانے والی چیز کو یونہی انداز سے لے لے اس مں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ مبیع اور ثمن میں جبکہ وہ ہم جنس ہوں تفاضل کی تحریم کا اعتبار کیل اور وزن کے اندر کیا جائے گا یعنی تمام مکیلات اور موزو نالت میں خواہ وہ ماکولات ہوں یا غیر…
Read the full tafseer →66۔ ناپ تول کو پورا کرنے کا حکم وارشاد :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” جب تم نا پوتو پورا ناپو اور جب تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو “ یہ تمہارے لیے بہتر ہے کہ اس سے معاشرے کی اصلاح بھی ہوگی اور خود تمہاری اپنی نیک نامی اور اچھی شہرت بھی اور سب کے حقوق محفوظ ہوں گے۔ کیونکہ اگر تم دوسروں کا خیال رکھو گے اور ان کے حقوق پورے طور پر ادا کرو گے اور ناپ تول میں کمی نہیں کرو گے تو دوسرے بھی تمہارا خیال رکھیں گے۔ اور تمہارے حقوق پورے طور پر ادا کریں گے۔ اور وہ بھی باہمی ہمدردی کی ایک ایسی فضاء قائم ہوگی جس میں امن وسکون اور احترام والفت کا دور دورہ ہوگا۔ اس کے برعکس جو ڈنڈی مارے اور دوسروں کے حقوق میں کمی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔
(ضبط تولید)
آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 11 یعنی بےتحقیق کسی بات کی اندھا دھند پیروی نہ کر اس میں جھوٹی گواہی غلط تہمت سنی سنائی باتوں پر کسی کی برائی کرنا سب شامل ہیں۔ نیز اس سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کی دلیل کے ہوتے ہوئے کسی کی شخص رائے اور قیاس پر عمل کرنا ممنوع ہوگا۔ (ت ن)12 اللہ تعالیٰ انہیں گویائی دے گا اور وہ آدمی کے خلاف گواہی دیں گے۔ (فعلت :23-2)
Read the full tafseer →(17:35) اوفوا۔ تم پورا کرو۔ تم ایفا کرو۔ ایفاء (افعال) مصدر۔ امر ۔ جمع مذکر حاضر۔
الکیل۔ مصدر۔ پیمانے سے غلہ وغیرہ کا ماپنا۔ اوفوا الکیل۔ جب ماپو تو پورا پورا ماپ دو ۔ مراد غلہ ہے۔
کلتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ کیل مصدر اصل میں کیلتم تھا۔ باب ضرب اذا کلتم جب تم پیمانہ بھر کردو۔ یا کوئی چیز غلہ وغیرہ پیمانہ سے ماپ کردو۔ اوفوا۔ تو پورا پورا دو ۔
القسطاس۔ ترازو، یہ لفظ رومی ہے۔ قسطاس المستقیم۔ انصاف کی ترازو۔ صحیح ترازو۔
تاویلا۔ انجام کار۔ مصدر ہے اول سے جس کے معنی اصل کی طرف لوٹنے کے ہیں اسی لئے جائے بازگشت کو موئل کہت ہیں۔
تاویل کے معنی کسی چیز کو اس کی غایت کی طرف لوٹانے کے ہیں جو اس سے بلحاظ علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 35
املاق غربت، آرام و آسائش۔ خطہ کبیر بڑی خطا، گناہ عظیم۔ لاتقربوا تم قریب نہ پھٹکو۔ ولی سرپرست، وارث۔ سلطان صاحب اختیار۔ لایسرف حد سے نہ بڑھو۔ منصور مدد کیا گیا۔ احسن بہترین۔ اشدہ اپنی طاقت، اپنی جوانی ۔ اوفوا پورا کرو، وفا کرو۔ الکیل تول۔ قسطاس ترازو۔ تاویل انجام۔
تشریح آیت نمبر 31 تا 35
سورۃ الاسراء میں چھ بنیادی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔
1- غربت و افلاس کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کرنا۔
2- زنا اور بدکاری کے ذریعہ بدترین راستوں کو کھولنا۔
3- ناحق کسی انسان جان کو لینا اور قتل کرنا۔
4- یتیم ( بےباپ کے بچوں) کے مال کو ہڑپ کر جانا۔
5- وعدہ خلافی کرنا۔
6- ماپ تول میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
حقوق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزوں کا ذکر اور کامیاب زندگی کا جامع اصول
ان ا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ زنا کو فحش اور برا راستہ کہا ہے۔ اس کی وجوہ ظاہر ہیں، اول تو اس میں اختلاط نسب ہے دوسرے جو بچہ اس بری صورت سے پیدا ہوا اس کے نفقہ کا کون ذمہ دار ہوگا اور بعض وقت جانیں بھی جاتی رہتی ہیں۔ عورت سے مقصود صرف شہوت رانی نہیں بلکہ اصلی مطلب یہ ہے کہ باہم مل کر خانہ داری میں ایک دوسرے کا معین (مدد گار) ہو بیماری میں بڑھاپے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے، زنا میں یہ بات ممکن نہیں ، زنا کو قطعی حرام ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ تاکید کی کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی۔ (1) پھر فرمایا کہ جس قتل کا کرنا شریعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
[30] یعنی اس کے خرچ کرنے کا ارادہ بھی نہ کرنا۔
[31] اور اپنے نفع نقصان کو خوب پہچاننے لگے اس وقت اس کی جائیداد اس کے حوالے کردی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
(ف 2) اس آیت میں مسلمانوں کو اعتدال کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے ، اور اسے کہا ہے کہ اپنی مالی حالت کا جائزہ لیتا رہے ۔ نہ اس قدر شاہ خرچ ہو ، کہ جو کچھ ہاتھ لگے صرف کردیا جائے ، اور بعد میں پشیمانی اٹھانا پڑے ، اور نہ بخل وامساک کا اظہار ہو ، بین بین رہے ، افسوس مسلمان آج خرچ کے معاملہ میں بالکل محتاط نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بکمال مہربانی ہے ہر بات سمجھا دی ہے ۔ مسلمان محنت سے روپیہ کماتا ہے ۔ اور رسم و رواج کی پابندیوں میں اڑا دیتا ہے ۔ اور وہ روپیہ جو اللہ کی نعمت ہے محض فضول باتوں میں ضائع ہوجاتا ہے ، آج کسب واکتساب کے جس قدر اسباب ہیں ، وہ سب مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں مگر پھر بھی…
Read the full tafseer →-35 اور جب ناپ کردو تو پیمانہ پورا بھر کردو اور تولو تو سیدھی اور صحیح ترازو سے تول کردو۔ پورا ناپنا اور پورا تولنا اچھی بات ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی اچھی ہے۔ یعنی جو چیز پیمانہ سے دی جاتی ہے اس میں پیمانہ پورا بھر کردیا جائے اور جو تول کردی جاتی ہے اس میں صحیح ترازو اور سیدھی ڈنڈی سے تولا جائے یہ بات دنیا میں بھی اچھی ہے یعنی نیک نامی اور اعتبار قائم ہوتا ہے اور آخرت میں بھی سرخروئی کا سبب ہے۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں سیدھی ترازو سے یعنی جھوک نہ مارو اچھا انجام یعنی دغا بازی اول چلتی ہے پھر لوگ خبردار ہو کر اس سے معاملہ نہیں کرتے اور پورا حق دینے والا سب کو خوش لگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 1۔ یعنی اس میں تصرف مت کرو۔
2۔ عہد میں تمام احکام الہیة اور تمام عقد جو فیما بین العباد ہیں داخل ہوگئے۔
Read the full tafseer →ماپ اور تول کے پیمانے درست رکھنے اور پورا ماپنے اور تولنے کا حکم :
46۔ ماپ تول میں کمی بیشی کا اسلام میں سختی سے نوٹس لیا گیا اور کم تولنے یا کم ماپنے کو معاشرہ اسلام میں جرم قرار دیا گیا کم تولنے اور کم ماپنے کی بات تو عام طور پر سمجھ میں آجاتی ہے لیکن زیادہ تولنے اور زیادہ ماپنے کی صورت کیا ہے ؟ دینے والا جب دیتا ہے تو اس کی کوشش ہوسکتی ہے کہ کم ماپے اور کم تولے تو جب اس کے لینے کا وقت آئے گا تو وہ یہ بھی کوشش کرے گا کہ زیادہ ماپے اور زیادہ تولے پھر تول میں کمی یا بیشی کرنے والے اس طرح نہیں کرتے کہ دیکھنے والے ان کو کم ماپتے یا تولتے دیکھ لیتے ہیں ، نہیں یہ ان کا فن ہوتا ہے کہ تولتے وقت…
Read the full tafseer →The prohibition of giving weights and measures short: Ruling
Regarding the verse: أَوْفُوا الْكَيْلَ إِذَا كِلْتُمْ (And give full measure when you measure - 35), Abu Hayyan says in Tafsir al-Bahr al-Muhit that the responsibility of giving full weight and measure in this verse has been placed on the seller (بَأِع : ba'i`) which tells us that it is the seller who is responsible for weighing, measuring and seeing that it is full as due.
At the end of verse 35, it was said about the fulfillment of weight and measure: ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (That is good, and better in the end).…
Read the full tafseer →40. This instruction was not confined to individuals only but it has been made a part of the duties of an Islamic government to supervise transactions in the markets and streets to see that exact measures and weights are being observed, and prevent their breach and violation by the force of law. Afterwards it was made one of the duties of the government to eradicate dishonesty in all commercial dealings and economic transactions.
41. That is, its end will be best in this world and it will be best in the Hereafter. It is best in this world because it produces mutual trust between sellers and…
Read the full tafseer →