Explained with ayahs 34–35
یتیم کا مال
یتیم کے مال میں بدنیتی سے ہیر پھیر نہ کرو، ان کے مال ان کی بلوغت سے پہلے صاف ڈالنے کے ناپاک ارادوں سے بچو۔ جس کی پرورش میں یہ یتیم بچے ہوں اگر وہ خود مالدار ہے تب تو اسے ان یتیموں کے مال سے بالکل الگ رہنا چاہئے اور اگر وہ فقیر محتاج ہے تو خیر بقدر معروف کھالے۔ صحیح مسلم شریف میں ہے حضور ﷺ نے ابوذر ؓ سے فرمایا میں تو تجھے بہت کمزور دیکھ رہا ہوں اور تیرے لئے وہی پسند فرماتا ہوں، جو خود اپنے لئے چاہتا ہوں۔ خبردار کبھی دو شخصوں کا والی نہ بننا اور نہ کبھی یتیم کے مال کا متولی بننا۔ پھر فرماتا ہے وعدہ وفائی کیا کرو جو وعدے وعید جو لین دین ہوجائے اس کی پاسبانی کرو اس کی بابت قیامت کے دن…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 38
یہ بھی محض ایک اخلاقی ہدایت نہ تھی بلکہ آگے چل کر جب اسلامی حکومت قائم ہوئی تو یتامیٰ کے حقوق کی حفاظت کے لیے انتظامی اور قانونی، دونوں کی طرح کی تدابیر اختیار کی گئیں جن کی تفصیل ہم کو حدیث اور فقہ کی کتابوں میں ملتی ہے۔ پھر اسی سے یہ وسیع اصول اخذ کیا گیا کہ اسلامی ریاست اپنے ان تمام شہریوں کے مفاد کی محافظ ہے جو اپنے مفاد کی خود حفاظت کرنے کے قابل نہ ہوں۔ نبی ﷺ کا اشاد اَنَاوَ لِیُّ مَنْ لَّا وَلِیَّ لَہُ (میں ہر اس شخص کا سرپرست ہوں جس کا کوئی سرپرست نہ ہو) اسی طرف اشارہ کرتا ہے، اور یہ اسلامی قانون کے ایک وسیع باب کی بنیاد ہے۔
سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 39
یہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ (یعنی اس پر تصرف نہ کرو) مگر ایسے طریقہ سے جو کہ (شرعا) مستحسن ہے یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے اور عہد (جائز) کو پورا کیا کرو بیشک عہد کی قیامت میں باز پرس ہونے والی ہے (عہد میں وہ تمام عہد بھی داخل ہیں جو بندہ نے اپنے اللہ سے کئے ہیں اور وہ بھی جو کسی انسان سے کئے ہیں) اور (ناپنے کی چیزوں کو) جب ناپ کردو تو پورا ناپو اور (تولنے کی چیزوں کو) صحیح ترازو سے تول کردو یہ (فی نفسہ بھی) اچھی بات ہے اور انجام بھی اس کا اچھا ہے (آخرت میں تو ثواب اور دنیا میں نیک نامی کی شہرت جو ترقی تجارت کا ذریعہ ہے)
معارف و مسائل
ان دو آیتوں میں تین حکم نواں،…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ۠وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ ۚاِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًا۔
مال یتیم کی حفاظت : اوپر جس شدت کے ساتھ زنا اور اس کے دواعی و محرکات سے روکا ہے اسی شدت کے ساتھ یہ یتیم کے مال میں کسی ناجائز تصرف سے روکا ہے۔ فرمایا کہ بجز بہتری و بہبود کے ارادے کے یتیم کے مال کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ یعنی یتیم کے مال میں اولیاء کی صرف وہی مداخلت جائز ہے جو اس کی ترقی، اس کی حفاظت اور اس کے نشوونما کو پیش نظر رکھ کر کی گئی ہو۔ ان سے الگ ہو کر جو تصرف بھی ہوگا وہ خیانت ہے اس لیے کہ یتیم کا مال اولیاء کے ہاتھ میں درحقیقت…
Read the full tafseer →34۔ 1 کسی کی جان کو ناجائز طریقے سے ضائع کرنے کی ممانعت کے بعد، اتلاف مال (مال کے ضائع کرنے) سے روکا جا رہا ہے اور اس میں یتیم کا مال سب سے زیادہ اہم ہے، اس لئے فرمایا کہ یتیم کے بالغ ہونے تک اس کے مال کو ایسے طریقے سے استعمال کرو، جس میں اس کا فائدہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ سوچے سمجھے بغیر ایسے کاروبار میں لگا دو کہ وہ ضائع یا خسارے سے دو چار ہوجائے۔ یا عمر شعور سے پہلے تم اسے اڑا ڈالو۔
34۔ 2 عہد سے وہ میثاق بھی مراد ہے جو اللہ اور اس کے بندے کے درمیان ہے اور وہ بھی جو انسان آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں۔ دونوں قسم کے عہدوں کا پورا کرنا ضروری ہے اور نقص عہد کی صورت میں باز پرس ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
19: یہ یتیم کے رشتہ داروں اور خاص طور پر اس کے سرپرستوں کو خطاب ہورہا ہے کہ اگر یتیم کو اپنے مرحوم باپ سے میراث میں کوئی مال ملا ہو تو اسے امانت سمجھو اور اس میں وہی تصرف تمہارے لئے جائز ہے جو یتیم کے حق میں فائدہ مند ہو، کوئی ایسا کام جائز نہیں جس میں اس کو نقصان پہنچ جائے، یعنی بالغ ہو کر اسے اتنی سمجھ آجائے کہ وہ اپنے نفع نقصان کو خود سمجھنے لگے تو اس وقت اس کا مال اسی کے حوالے کردینا واجب ہے، یہ مسئلہ قرآن کریم نے تفصیل کے ساتھ سوہ نساء (4: 2) میں بیان فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →اسلام ہر مسلمان کی جان ، مال اور آبرو کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” تمام مسلمان مسلمانوں پر حرام ہیں ، ان کی جان ، ان کی آبرو اور ان کا مال “۔ لیکن قرآن کریم اور سنت دونوں نے مال یتیم کے بارے میں بالخصوص سخت شدید سے ممانعت کی ہے۔ طریق احسن کو چھوڑ کر کسی اور صورت میں بھی اس کے قریب تک جانے سے منع کیا ہے۔ یہ اس لئے کہ یتیم کمزور ہوتا ہے وہ اپنے مال کی حفاظت اور تدبیر کرنے سے قاصر ہوتا ہے اور وہ اپنے مال کی مدافعت بھی نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اسلامی نظام زندگی کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مال یتیم کی حفاظت اور تدبیر کرے۔ اور یہ اس وقت تک جاری رہے جب تک وہ سن رشد کو پہنچ نہیں جاتا…
Read the full tafseer →1 یعنی یتیم کے مال کو ہاتھ نہ لگاؤ۔ ہاں اگر اس کی حفاظت و نگہداشت اور خیر خواہی مقصود ہو تو مضائقہ نہیں۔ جس وقت جوان ہوجائے اور اپنے نفع نقصان کو سمجھنے لگے، مال اس کے حوالہ کردو۔
2 اس میں سب عہد داخل ہیں خواہ اللہ سے کیے جائیں یا بندوں سے بشرطیکہ غیر مشروع نہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ کسی کو قول وقرار صلح کا دے کر بدعہدی کرنا، اس کا وبال ضرور پڑتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 34 وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ
یہ آیت قبل ازیں ہم سورة الانعام آیت 152 میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ یعنی یتیم کے مال کو ہڑپ کرنے اس سے ناجائز فائدہ اٹھانے یا اسے ضائع کرنے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس کی حفاظت کرو اور اسے ہر طرح سے سنبھال کر رکھو :
Read the full tafseer →42 یتیم کے مال کی نگہداشت اور اس کے حقوق کے لیے سورة نساء آیت نمبر 1 تا 6 اور سورة انعام کی آیت نمبر 152 کے حواشی ملاحظہ کرلیے جائیں۔
43 ایفائے عہد کے سلسلہ میں سورة اعراف آیت نمبر 102 اور نحل آیت نمبر 91، 92 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →51۔ (شریعت کی نگاہ میں) یعنی یتیم کی جائداد میں کسی قسم کی دست اندازی روانہ رکھو بجز ان صورتوں کے کہ جنہیں خود شریعت نے روا رکھا ہے۔ یتیموں کی جائداد کے تحفظ کے باب میں قرآن مجید کو جو اہتمام ہے اس کا اندازہ کچھ ان حاشیوں سے بھی ہوسکے گا جو پ 4 وپ 5 میں اسی مسئلہ پر گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” التیھی احسن “۔ کے تحت میں صرف مال یتیم کے وہ سارے طریقے آگئے جن سے خود یتیم کا نفع متصور ہو، خواہ تجارت ہو یا کچھ اور۔ الاحسن ماکان فیہ حفظ مالہ وبتثمیرہ (جصاص) وقد دلت الایۃ علی جواز اجارۃ مال الیتیم والعمل بہ مضاربۃ (جصاص)
52۔ اور اپنے نفع ونقصان کو خوب پہچاننے لگے اور اس وقت اس کی جائداد اس کے حوالہ کردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ : اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے
جوبہترین ہو یعنی یتیم کے مال میں تصرف نہ کرو۔ ہاں ایسے طریقے سے تصرف کرسکتے ہو جو یتیم کے لئے بہتر ہو ‘ اس کے مال کی حفاظت ہو ‘ اور تجارتی افزانی ہو۔
حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے ‘ یعنی اس حد کو پہنچ جائے جو صحیح تصرفات کے
لئے ضروری ہے۔ استثناء (اِلاَّ بالَّتْی ہِیَ اَحْسَنُ ) اسی مفہوم پر دلالت کر رہا ہے۔
وَاَوْفُوْا بالْعَهْدِ اور عہد کو پورا کرو۔ یعنی اللہ نے اپنے احکام پر عمل کرانے کا تم سے وعدہ لیا ہے اس کو
پورا کرو اور لوگوں سے جو تم…
Read the full tafseer →(34) اور یتیم کے مال میں اس کے مال کی حفاظت اور اس کے مال کے بڑھانے کی غرض سے تصرف کرو تاکہ وہ پندرہ یا اٹھارہ سال کا ہوجائے اور تمہارے اور لوگوں کے درمیان جو عہد مشروع ہوا کرے، اس کو پورا کیا کرو کیوں کہ ایسے عہد کے توڑنے والے سے اس کے عہد کے بارے میں قیامت کے دن حساب ہوگا۔
Read the full tafseer → وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ۔۔ : احسن یہ کہ ہر طرح اس کی حفاظت کرو، اسے کسی کاروبار میں لگا کر بڑھانے کی کوشش کرو، جب جوان ہوجائے تو اس کا مال اس کے سپرد کر دو ، یا اس سے اجازت لے کر کاروبار کرو۔ اس مضمون کی تفصیل سورة نساء (2 تا 14) میں ملاحظہ فرمائیں۔
۠وَاَوْفُوْا بالْعَهْدِ۔۔ : اس میں وہ عہد شامل ہے جو اللہ تعالیٰ سے یا بندوں سے کیا جائے، کیونکہ عہد کے متعلق سوال ہوگا اور جو عہد و اقرار توڑے گا اسے سزا ملے گی۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 34
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولا تقربوا مال الیتیم الابالتی ھی احسن حتی یبلغ اشدہ اس کے بارے میں کلام سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔
مسئلہ نمبر 2 ۔ قولہ تعالیٰ : واوفوابالعھد اس کے بارے کئی مقامات پر کلام گزرچکی ہے۔ زجاج نے کہا ہے : ہر وہ کام جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جس سے منع کیا ہے پس وہی عہد ہے۔ ان العھد کان مسولا عنہ، بیشک اس عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ پس کلام میں عنہ محذوف ہے، جیسا کہ یہ قول ہے : ویفعلون مایؤمرون۔ (لتحریم) بہ (اور وہی کرتے ہیں جس کے بارے وہ حکم دیئے جاتے ہیں ) ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک عہد کے بارے عہد توڑنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” ولا تقتلوالنفس التی حرم اللہ الا بالحق “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ فرمان مکہ مکرمہ میں نازل ہوا اور نبی کریم ﷺ وہیں تھے اور یہ پہلی چیز تھی جو قرآن مجید میں قتل کے بارے میں نازل ہوئی مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب کو دھوکے سے مار ڈالتے تھے آپ نے فرمایا مشرکین میں سے جس نے تم کو قتل کیا ہے تو اس کا قتل کرنا تم اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے باپ کو یا اس کے بھائی کو یا اس کے کنبے میں سے کسی ایک قتل کو دو اگرچہ وہ مشرکین ہیں لیکن تم قتل نہ کرو مگر صرف قاتل کو اور یہ حکم سورة برأۃ کے نازل ہونے سے پہلے کا تھا اور مشرکین سے قتال کرنے کے حکم…
Read the full tafseer →[وَلَا تَقْرَبُوْا : اور تم لوگ قریب مت ہو ] [مَالَ الْيَتِيْمِ : یتیم کے مال کے ] [اِلَّا بِالَّتِيْ : سوائے اس کے ساتھ جو کہ ] [ھِيَ : وہ ہی ] [اَحْسَنُ : سب سے بہتر ہو ] [حَتّٰى: یہاں تک کہ ] [يَبْلُغَ : وہ پہنچے ] [اَشُدَّهٗ : اپنی پختگی کو ] [وَاَوْفُوْا : اور تم لوگ پورا کرو ] [بِالْعَهْدِ : وعدے کو ] [ان : یقینا ] [الْعَهْدَ : وعدہ ] [كَان : ہے ] [مَسْــــُٔـوْلًا : پوچھا جانے والا ]
Read the full tafseer →چوتھا حکم یہ فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقے پر جو مستحسن ہو یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے اس بارے میں سورة نساء کی تفسیر میں تفصیل سے لکھا جاچکا ہے۔
پانچواں : پانچواں حکم یہ دیا کہ عہد کو پورا کرو اور ساتھ میں یہ بھی فرمایا کہ (اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْءُوْلًا) (یعنی عہد کی باز پرس ہوگی) بہت سے لوگ عہد تو کرلیتے ہیں لیکن اس کی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے اور قصداً عہد کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ دفع الوقتی کے طور پر وعدہ کرلیتے ہیں اور عین معاہدہ کرتے وقت بھی دل میں عہد توڑنے اور دغا دینے کا ارادہ کیے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کو تنبیہ فرمائی کہ عہد کی باز پرس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →34:۔ یہ چوتھا ظلم ہے۔ یتیموں کا مال ناحق اور ناجائز طریق سے مت کھاؤ البتہ اگر کوئی شخص یتیم کے مال میں تجارت کرے یا اس کی زمین میں زراعت کرے اور اپنی محنت کا حق اس میں سے وصول کرلے تو یہ جائز ہے۔ لیکن بلا وجہ یتیم کا مال غصب کرلینا اور ناحق اس پر قبضہ جمالینا صریح ظلم ہے۔ ” و اوفوا بالعہد “ اور اپنے عہد پورے کرو جو تم نے بحیثیت مسلمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ باندھے ہیں یعنی اس کے اوامر کی پیروی کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو۔ واوفوا بالعھد باوامر اللہ تعالیٰ ونواھیہ (مدارک ج 2 ص 342) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے معاشرتی نظام کے جو پندرہ قوانین ان دو رکوعوں میں بیان فرمائے ہیں ان میں سے دس قوانین گذشتہ دروس میں بیان ہوچکے ہیں گذشتہ درس میں تین دفعات بیان ہوئی تھیں یعنی قتل ناحق ، زنا اور اسراف فی القتل کی ممانعت ۔
اب آج کے درس میں مزید تین اصول آرہے ہیں یعنی یتیم کے مال کی حفاظت ، ایفائے عہد اور ماپ تول میں دیانت ، اس کے بعد اگلے درس میں آخری دو اصول بیان ہو کر پندرہ کی گنتی پوری ہوجائے گی ،
(11) (یتیم کے مال کی حفاظت)
گیارہواں اصول یہ ہے (آیت) ” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتی ھی احسن “۔ اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر درست طریقے سے جو بہتر ہے یتیموں کی پرورش…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ ۠وَاَوْفُوْا بِالْعَهْدِ ۚاِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًا 34
ميل
المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین،
والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا،
( م ی ل ) المیل
اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں
اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔
يتم
اليُتْمُ : انقطاع الصَّبيِّ عن أبيه قبل بلوغه، وفي سائر الحیوانات من قِبَلِ أمّه . قال تعالی:
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] ، وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] وجمعه :
يَتَامَى.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
نواں حکم : مال یتیم سے بچنا ولاتقربوامال الیتیم مگر جائز طریقہ سے لینا درست ہے۔ مزدوری میں، تجارت میں، اجرت نگرانی میں اگر محتاج ہو۔
دسواں حکم : و اوفوا بالعہد ہے عہد جس سے کرو اس پر قائم رہو۔ وہ عہد ہی غلط ہیں جن کو شرع نے معتبر نہیں رکھا یعنی معصیت پر عہد کرنا۔
گیارہواں حکم : و اوفو الکیل کہ ناپ تول کرلیتے دیتے وقت کم زیادہ نہ کرو۔ معاملات میں دغابازی نہ کرو۔
بارہواں حکم : و لا تقف اس کے معنی میں مفسرین کے چند اقوال ہیں۔ (1) اس میں ان باطل خیالات کی پیروی سے ممانعت ہے جو عوام میں غلطی سے مشہور ہوجاتے ہیں۔ (2) محمد بن حنفیہ (رح) سے منقول ہے کہ اس کے معنی جھوٹی گواہی کے ہیں۔
Read the full tafseer →وَلاَ تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلاَّ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ ص وَاَوْفُوْا بِالْعَھْدِ ج اِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْـْٔوْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 34)
(اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ مگر اس طریقہ سے جو اس کے حق میں بہتر ہو، حتیٰ کہ وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو کیونکہ عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ )
مالِ یتیم کی حرمت
اس سے پہلے بھی میں ذکر کرچکا ہوں کہ اسلام نے پسماندہ طبقے کو جس طرح اٹھایا اور اس کی حفاظت کی اس میں سب سے زیادہ اہمیت یتیم کو دی گئی۔ سورة النساء میں خاص طور پر ان کے حقوق کی ادائیگی پر زور دیا گیا اور انتظامی اور…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حیا اور جان کے تحفظ کے بعد کمزور طبقہ کے مالی حقوق کے تحفظ کا حکم :
قرآن مجید معاشرے کے مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کا حکم دیتے ہوئے یہ بھی ہدایت کرتا ہے کہ جائز طریقے کے سوا یتیم کے مال کے قریب نہیں جانا چاہیے۔ یہاں تک یتیم اپنی جوانی کو پہنچ جائے۔ یتیم کو مالی تحفظ دینے کے بعد ہر کسی کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے کیے ہوئے عہد کی پاسداری کرے۔ کیونکہ عہد کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال کیا جائے گا۔ شریعت میں انسان اس وقت تک یتیم ہوتا ہے جب تک بالغ نہ ہوجائے۔ بلوغت سے پہلے کی عمر بچپن میں شمار ہوتی ہے۔ اس عمر میں کاروبار کو سمجھنا اور چلانا بچے کے لیے بالخصوص یتیم کے لیے مشکل…
Read the full tafseer →یتیم کا مال مت کھائو :
34: وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ (اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو۔ مگر اس طریقے سے جو کہ بہت بہترین ہو) یعنی اس طریقے اور انداز سے جو کہ بہت خوب ہو۔ اور یہ وہی طریقہ ہے جس سے اس کی حفاظت ہو اور اس میں اضافہ
ہو۔ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ (یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے) یعنی اس کی عمر اٹھارہ سال کی ہوجائے۔ وَاَوْفُوْا بِالْعَھْدِ ( اور تم وعدے کو پورا کرو) اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کو انجام دے کر۔ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْئُوْلًا (بیشک وعدے کی باز پرس ہونے والی ہے) مسئول یہاں مغلوب کے معنی میں ہے۔ اس لئے کہ معاہد سے یہ…
Read the full tafseer →34۔” ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن حتی یبلغ اشدہ واوفوا بالعھد “ اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام پر عمل کرانے کا تم سے وعدہ لیا ہے اس کو پورا کرو اور لوگوں سے جو تم جائز معاملات کا وعدہ کرو اس کو بھی پورا کرو۔ بعض نے کہا کہ یہاں عہد سے مراد ہے جو انسان اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے اس کو بھی پورا کرے۔” العھد کان مسئو لاً “ سدی کا قول ہے تمہیں اس کے بارے میں طلب کیا جائے گا اور بعض نے کہا کہ صاحب عہد سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا اور عہد شکنی پر اس سے پوچھ گچھ کی جائے گی اور بعض نے کہا کہ جنہوں نے عہد کو توڑ دیا ان سے زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ کس لیے اس کو قتل کیا گیا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–40
32۔ 40:۔ اوپر کی آیتوں سے حق العباد کا ذکر چلا آتا ہے مثلا ماں باپ کا حق اولاد کو سمجھنا اور اولاد کا حق ماں باپ کو سمجھنا رشتہ داروں کا حق رشتہ داروں کو جاننا ایک کی ماں بہن بی بی سے دوسرا بدکاری کرے یا ایک کو دوسرا جان سے مار ڈالے یا ایک شخص اپنی اولاد اور مال چھوڑ کر مرجائے اور جس رشتہ دار کی پرورش میں وہ یتیم اولاد آوے وہ اس یتیم کا مال کھا اڑا دیوے یہ سب باتیں خدا کا گناہ ہونے کے سوا حق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حق العباد کے ذکر کے سلسلہ میں زنا قتل بےتصرف مال یتیم خلاف عہد کم تولنے اور کم ناپنے اور جھوٹی شہادت اور اترانے کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا دیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 34
یہ اللہ تعالیٰ کا اس یتیم پر اپنی رحمت اور لطف کرم کا اظہار ہے۔ جس کا باپ اس کی چھوٹی عمر میں فوت ہوجائے اور وہ ابھی اپنے مفادات کی معرفت رکھتا ہو نہ ان کا انتظام کرسکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یتیم کے سرپرستوں کو حکم دیا ہے کہ وہ یتیم اور اس کے مال کی حفاظت کریں اور اس کے مال کی اصلاح کریں اور یہ کہ اس کے قریب بھی نہ جائیں (الا بالتیھی احسن) ، ، مگر ایسے طریقے سے جو بہتر ہو، ، یعنی تم اس کے مال کی تجارت میں لگاؤ، اس کو اتلاف کے خطرے میں نہ ڈالو اور اس میں اضافے اور نشونما کی خواہش رکھو اور یہ صورت حال اس وقت تک رہے یہاں تک کہ (یبلغ اشدہ) ، ، وہ (یتیم) جوانی کو پہنچ جائے۔ ، ، یعنی…
Read the full tafseer →مال یتیم کی حفاظت کا حکم
قول باری ہے (ولا تقربوا مال الیتیم الا بالتیھی احسن حتی یبلخ اشدہ اور مال یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے) مجاہد کا قول ہے کہ (التیھی احسن) کی صورت تجارت ہے۔ ضحاک کا قول ہے کہ مال یتیم کے ذریعے اللہ کا فضل تلاش کیا جائے اور تلاش کرنے والے کا اس میں کوئی حصہ نہ ہو۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یتیم کا خصوصی طور پر ذکر ہو) اگرچہ تمام لوگوں کے اموال کے بارے میں یہی حکم ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یتیم کو اس کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اس کے مال میں لوگ دندان حرص و آز زیادہ تیز کرتے ہیں۔ قول باری (الا بالتیھی احسن) یتیم کے مال میں اس کے…
Read the full tafseer →64۔ مال یتیم کی حفاظت کی تعلیم و تلقین :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ پھٹکنا مگر اسی طریقے سے جو کہ سب سے اچھا ہو “۔ جس سے اس کا مال محفوظ رہے اور اس میں اسی کا فائدہ اور بھلا ہو۔ لہذا نیت اصلاح اور بہتری کی ہو نہ خورد برد اور ظلم و زیادتی کی۔ اور نیتوں کا معاملہ اللہ سے مخفی نہیں رہ سکتا۔ پس یتیم کے مال میں اس کے ولی کا وہی تصرف درست ہوسکتا ہے جس میں اس کے مال کی حفاظت ترقی اور اس کی نشوونما پیش نظر ہو۔ اور جس تصرف اور مداخلت میں خیانت اور خورد برد کا خوف وخدشہ ہو وہ درست نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور یتیم کے ولیوں کو بھی اس کے مال میں اس مداخلت اور تصرف کا حق اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔
(ضبط تولید)
آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات…
Read the full tafseer →ف 7 مثلاً یہ کہ کسی جائز اور نفع بخش کاروبار میں لگا دو ۔8 تباس کا مال اس کے حوالے کردو یا اس سے اجازت لے کر کاروبار کرو۔ (نیز دیکھیے سورة بقرہ آیت :220)9 اس میں ہر وہ اقرار شامل ہے جو اللہ تعالیٰ یا اس کے بندوں سے کیا جائے۔10 اور جو اقرار توڑے گا اسے سزا ملے گی۔ منافق کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ (بخاری مسلم)
Read the full tafseer →(17:34) لا تقربوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ تم قریب نہ جائو۔ تم پاس نہ جائو۔ تم ہاتھ میں نہ لو۔
الا بالتیھی احسن۔ ای الا بالطریقۃ التیھی احسن۔ بجز اس طریق کے جو (مالِ یتیم کی حفاظت ومنفعت کے بارہ میں) بہتر ہو۔ یبلغ اشدہ۔ اپنے سن پختگی کو پہنچ جائے۔
واوفوا بالعھد۔ تم عہد کی پابندی کرو۔ عہد کو پورا کرو۔ ایفائے عہد کرو یہ حکم یتیم کے ولی کے لئے ہے۔ کیونکہ جب وہ کسی کی سرپرستی قبول کرتا ہے تو خدا اور بندوں سے مال یتیم کی حفاظت کا عہد کرتا ہے۔ جس کا بجا لانا اس کا فرض ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 35
املاق غربت، آرام و آسائش۔ خطہ کبیر بڑی خطا، گناہ عظیم۔ لاتقربوا تم قریب نہ پھٹکو۔ ولی سرپرست، وارث۔ سلطان صاحب اختیار۔ لایسرف حد سے نہ بڑھو۔ منصور مدد کیا گیا۔ احسن بہترین۔ اشدہ اپنی طاقت، اپنی جوانی ۔ اوفوا پورا کرو، وفا کرو۔ الکیل تول۔ قسطاس ترازو۔ تاویل انجام۔
تشریح آیت نمبر 31 تا 35
سورۃ الاسراء میں چھ بنیادی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔
1- غربت و افلاس کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کرنا۔
2- زنا اور بدکاری کے ذریعہ بدترین راستوں کو کھولنا۔
3- ناحق کسی انسان جان کو لینا اور قتل کرنا۔
4- یتیم ( بےباپ کے بچوں) کے مال کو ہڑپ کر جانا۔
5- وعدہ خلافی کرنا۔
6- ماپ تول میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
حقوق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزوں کا ذکر اور کامیاب زندگی کا جامع اصول
ان ا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ زنا کو فحش اور برا راستہ کہا ہے۔ اس کی وجوہ ظاہر ہیں، اول تو اس میں اختلاط نسب ہے دوسرے جو بچہ اس بری صورت سے پیدا ہوا اس کے نفقہ کا کون ذمہ دار ہوگا اور بعض وقت جانیں بھی جاتی رہتی ہیں۔ عورت سے مقصود صرف شہوت رانی نہیں بلکہ اصلی مطلب یہ ہے کہ باہم مل کر خانہ داری میں ایک دوسرے کا معین (مدد گار) ہو بیماری میں بڑھاپے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے، زنا میں یہ بات ممکن نہیں ، زنا کو قطعی حرام ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ تاکید کی کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی۔ (1) پھر فرمایا کہ جس قتل کا کرنا شریعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
[30] یعنی اس کے خرچ کرنے کا ارادہ بھی نہ کرنا۔
[31] اور اپنے نفع نقصان کو خوب پہچاننے لگے اس وقت اس کی جائیداد اس کے حوالے کردی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
(ف 2) اس آیت میں مسلمانوں کو اعتدال کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے ، اور اسے کہا ہے کہ اپنی مالی حالت کا جائزہ لیتا رہے ۔ نہ اس قدر شاہ خرچ ہو ، کہ جو کچھ ہاتھ لگے صرف کردیا جائے ، اور بعد میں پشیمانی اٹھانا پڑے ، اور نہ بخل وامساک کا اظہار ہو ، بین بین رہے ، افسوس مسلمان آج خرچ کے معاملہ میں بالکل محتاط نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بکمال مہربانی ہے ہر بات سمجھا دی ہے ۔ مسلمان محنت سے روپیہ کماتا ہے ۔ اور رسم و رواج کی پابندیوں میں اڑا دیتا ہے ۔ اور وہ روپیہ جو اللہ کی نعمت ہے محض فضول باتوں میں ضائع ہوجاتا ہے ، آج کسب واکتساب کے جس قدر اسباب ہیں ، وہ سب مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں مگر پھر بھی…
Read the full tafseer →-34 اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو ہاں مگر اس طریقہ کے ساتھ جو شرعاً بہتر ہو یہاں تک کہ وہ یتیم اپنے بلوغ اور اپنی قوت کو پہنچ جائے اور عہد و پیمان کو پورا کیا کرو بلاشبہ عہد کی باز پرس کی جائیگی۔ یعنی یتیم کے مال کو ہاتھ بھی نہ لگائو مگر ہاں اگر یتیم کے مال کی حفاظت اور خیر خواہی مقصود ہو تو مضائقہ نہیں اور جب یتیم بالغ ہوجائے تو اس کا مال اس کے سپرد کردو۔ تفصیل کئی جگہ گزر چکی ہے سورة نساء میں ملاحظہ کرلیا جائے۔ عہد سے مراد عہد مشروع ہے خواہ وہ اللہ تعالیٰ سے ہو یا اس کے بندوں سے ہو اس کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اس میں احکام الٰہی کی تعمیل بھی داخل ہوگئی اور بندوں کے حقوق اور عہد بھی آگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
ف 1۔ یعنی اس میں تصرف مت کرو۔
2۔ عہد میں تمام احکام الہیة اور تمام عقد جو فیما بین العباد ہیں داخل ہوگئے۔
Read the full tafseer →منشور اسلامی کی نویں اور دسویں شق یتیموں کے مال اور عہد کے پورا کرنے کے متعلق :
45۔ زیر نظر آیت میں منشور اسلامی کی نویں اور دسویں شق بیان کی گئی ہے ، نویں شق میں بےباپ بچوں کے مال کو ناجائز طریقے سے کھانے کی ممانعت ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت کا بیان ہے اور دسویں شق میں عہد کی پابندی کو نبھانے کا حکم ہے بےباپ بچے جو باپ کے سایہ محبت سے محروم ہیں جماعت کے ہر فرد کا فرض ہے کہ ان کی دیکھ بھال کرے اور ان کو آغوش محبت سے ‘ پیار سے ان کی نگرانی و حفاظت کرے اور خصوصا وہ لوگ جو کسی ایسے بچے کے کفیل ونگران مقرر ہوں وہ پوری دیانت وامانت سے اس کی کفالت ونگرانی کریں ، اس کی متروکہ جائیداد کی حفاظت کرتے…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the two verses cited above, there are three injunctions: the ninth, the tenth and the eleventh. They relate to financial rights. It will be recalled that previous verses dealt with physical rights while the financial ones appear here.
Caution in handling the property of orphans
The ninth injunction given in the first verse (34) concerns the protection of properties owned by orphans and the observation of caution in their handling. Laying emphasis on it, it was said: 'And do not go (even) near the property of orphans.' It means that there should be no free use of their…
Read the full tafseer →38. This too, was not merely a moral instruction. When the Islamic state was established, legal and administrative methods were adopted to safeguard the rights of orphans, the details of which are found in the literature of Hadith and Fiqh. Then this principle was extended to cover the cases of all those citizens who were unable to safeguard their own rights. The Prophet (peace be upon him) himself declared: I am the guardian of the one who has no guardian. And this is the basis of many rules and regulations of the Islamic law.
39. Fulfillment of pledges was not meant to be merely a moral…
Read the full tafseer →