ناحق قتل
بغیر حق شرعی کے کسی کو قتل کرنا حرام ہے۔ بخاری مسلم میں ہے جو مسلمان اللہ کے واحد ہونے کی اور محمد ﷺ کے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو اس کا قتل تین باتوں کے سوا حلال نہیں۔ یا تو اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا شادی شدہ ہو اور پھر زنا کیا ہو یا دین کو چھوڑ کر جماعت کو چھوڑ دیا ہو۔ سنن میں ہے ساری دنیا کا فنا ہوجانا اللہ کے نزدیک ایک مومن کی قتل سے زیادہ آسان ہے۔ اگر کوئی شخص ناحق دوسرے کے ہاتھوں قتل کیا گیا ہے تو اس کے وارثوں کو اللہ تعالیٰ نے قتل پر غالب کردیا ہے۔ اسے قصاص لینے اور دیت لینے اور بالکل معاف کردینے میں سے ایک کا اختیار ہے۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے اس آیت کریمہ…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 33
قتل نفس سے مراد صرف دوسرے انسان کا قتل ہی نہیں ہے، بلکہ خود اپنے آپ کو قتل کرنا بھی ہے۔ اس لیے کہ نفس، جس کو اللہ نے ذی حرمت ٹھیرایا ہے، اس کی تعریف میں دوسرے نفوس کی طرح انسان کا اپنا نفس بھی داخل ہے۔ لہٰذا جتنا بڑا جرم اور گناہ قتل انسان ہے، اتنا ہی بڑا جرم اور گناہ خود کشی بھی ہے۔ آدمی کو بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی جان کا مالک، اور اپنی اس ملکیت کو باختیار خود تلف کردینے کا مجاز سمجھتا ہے۔ حالانکہ یہ جان اللہ کی ملکیت ہے، اور ہم اس کے اتلاف تو درکنار، اس کے کسی بےجا استعمال کے بھی مجاز نہیں ہیں۔ دنیا کی اس امتحان گاہ میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور جس شخص (کے قتل کرنے کو) اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل مت کرو ہاں مگر حق پر (قتل کرنا درست ہے یعنی جب کسی شرعی حکم سے قتل کرنا واجب یا جائز ہوجائے تو وہ حرم اللہ میں داخل نہیں) اور جو شخص ناحق قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث (حقیقی یا حکمی) کو اختیار دیا ہے (قصاص لینے کا) سو اس کو قتل کے بارے میں حد (شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہئے (یعنی قاتل پر قتل کا یقینی ثبوت ملے قتل نہ کرے اور اس کے اعزہ و اقارب وغیرہ کو جو قتل میں شریک نہیں ہیں محض جوش انتقام سے قتل نہ کرے اور اس کے اعزہ و اقارب وغیرہ کو جو قتل میں شریک نہیں ہیں محض جوش انتقام سے قتل نہ کرے اور قاتل کو بھی صرف قتل…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ۭ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا۔
قتل کی ممانعت اور اسلامی قانون کا مزاج : النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ ، یعنی ہر وہ جان جس کو اللہ نے محفوظ و مصئون قرار دیا ہے۔ جو مباح الدم نہیں ہے، کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو قتل کرے مگر حق کی بنا پر۔ یعنی صرف اس صورت میں جس میں شریعت نے اس کے قتل کا حکم دیا ہے۔ اگر کوئی شخص اس قانونی جواز کے بغیر قتل ہوا تو وہ مظلومانہ قتل ہوا۔ ایسی صورت میں فرمایا کہ " فقد جعلنا لیولیہ سلطانا " ہم…
Read the full tafseer →33۔ 1 حق کے ساتھ قتل کرنے کا مطلب قصاص میں قتل کرنا ہے، جس کو انسانی معاشرے کی زندگی اور امن و سکون کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح شادی شدہ زانی اور مرتد کو قتل کرنے کا حکم ہے۔
33۔ 2 یعنی مقتول کے وارثوں کو یہ حق یا غلبہ یا طاقت دی گئی ہے کہ وہ قاتل کو حاکم وقت کے شرعی فیصلہ کے بعد قصاص میں قتل کردیں یا اس سے دیت لے لیں یا معاف کردیں اور اگر قصاص ہی لینا ہے تو اس میں زیادتی نہ کریں کہ ایک کے بدلے میں دو یا تین چار کو مار دیں، یا اس کا مثلہ کر کے یا عذاب دے کر ماریں، مقتول کا وارث، مدد دیا گیا ہے، یعنی امرا و احکام کو اس کی مدد کرنے کی تاکید کی گئی ہے، اس لئے اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے…
Read the full tafseer →17: کسی کو قتل کرنے کا حق صرف چند صورتوں میں پہنچا ہے جن میں سے ایک اہم صورت کا ذکر اگلے جملے میں آرہا ہے اور وہ یہ کہ کسی شخص کو ظالمانہ طور پر قتل کردیا گیا ہو تو اس کے ولی یعنی وارثوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ بدلے میں عدالتی کاروائی کے بعد قاتل کو قتل کریں، یا کروائیں، اس بدلے کو ”قصاص“ کہا جاتا ہے۔
18: قاتل کو قصاص میں قتل کروانے کا حق تو اولیاء مقتول کو حاصل ہے لیکن اس سے زیادہ کسی کاروائی کا حق نہیں ہے۔ چنانچہ ہاتھ پاؤں یا دوسرے اعضاء کو کاٹنا یا قتل کرنے کے لیے کوئی زیادہ تکلیف دہ طریقہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ ایسا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے تو اسے قرآن کریم نے حد سے تجاوز قرار دیا…
Read the full tafseer →اسلام سلامتی کا دین ہے۔ اسلام میں شرک باللہ کے بعد سب سے بڑا جرم قتل ناحق ہے۔ زندگی دینے والا اللہ ہے ، اللہ کے سوا کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی سے اللہ کا یہ عطیہ سلب کرے ، الایہ کہ اللہ کے طے کردہ قوانین کے مطابق کسی کی زندگی لی جاسکتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بھی چند محدود جرائم پر انسانی جان لینے کی اجازت دی ہے۔ اور ان حدود میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے۔ یہ طے شدہ حدود کسی کی ذاتی رائے یا خواہش پر نہیں چھوڑ دئیے گئے۔ صحیحن میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” کوئی مسلمان جو کلمہ شہادت ادا کرتا ہے اور شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اس کا قتل جائز نہیں ہے۔ مگر…
Read the full tafseer →10 صحیحین میں ہے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں، جان کے بدلے جان، یا زانی محصن یا جو شخص دین کو چھوڑ کر جماعت سے علیحدہ ہوجائے۔
11 یعنی اولیائے مقتول کو اختیار ہے کہ حکومت سے کہہ کر خون کا بدلہ لیں، لیکن بدلہ لیتے وقت حد سے نہ گزریں۔ مثلاً قاتل کی جگہ غیر قاتل کو سزا دلوانے لگیں یا قاتل کے ساتھ دوسرے بےگناہوں کو بھی شامل کرلیں۔ یا قاتل کے ناک، کان وغیرہ کو کاٹنے اور مثلہ کرنے لگیں۔
12 یعنی خدا نے اس کی مدد کی کہ بدلہ لینے کا حق دیا اور حکام کو امر فرمایا کہ حق دلوانے میں کمی نہ کریں۔ بلکہ ہر کسی کو لازم ہے کہ خون کا بدلہ دلانے میں مدد کرے۔ نہ یہ کہ الٹا قاتل کی حمایت کرنے…
Read the full tafseer →آیت 33 وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ
یہاں ”حق“ سے مراد چند وہ صورتیں ہیں جن میں انسانی جان کا قتل جائز ہے۔ ان میں خون کا بدلہ خون ‘ اسلامی ریاست میں مرتد کی سزا موت ، شادی شدہ زانی اور زانیہ کا رجم اور حربی کافر کا قتل شامل ہے۔
وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا
اسلامی قانون میں مقتول کے ورثاء کو اختیار ہے کہ وہ جان کے بدلے جان کی سزا پر اصرار کریں یا معاف کردیں یا پھر خون بہا لے لیں۔ یہ تینوں اختیارات مقتول کے ورثاء ہی کو حاصل ہیں۔ کسی عدالت یا سربراہ مملکت کو اس میں کچھ اختیار نہیں۔
فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ
یعنی جان…
Read the full tafseer →38 قتل بالحق اور بغیر الحق کی صورتیں :۔ قتل کے سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انفرادی طور پر کسی شخص کو کبھی بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اٹھ کر کسی کو قتل کر دے۔ الا یہ کہ کوئی ڈاکو وغیرہ اس پر حملہ آور ہو اور وہ اپنی مدافعت کرے جس میں ڈاکو مارا جائے۔ حتیٰ کہ انسان خود کشی بھی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اس کی اپنی جان کا بھی وہ خود مالک نہیں ہے کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے بلکہ خود کشی بھی ایسا ہی جرم ہے جیسے کسی دوسرے شخص کو قتل کرنا۔ اسی طرح اپنی اولاد کو قتل کرنا بھی، خواہ اس کی وجہ کوئی بھی ہو، جرم عظیم ہے۔ قصاص لینا حکومت کے واسطہ ہی سے ہوتا ہے خواہ یہ قصاص جان کا ہو یا جوارح کا۔ بہر…
Read the full tafseer →47۔ یعنی جب تک کوئی شرعی سبب وجوب قتل یا جواز قتل کا نہ پیدا ہوجائے اس وقت تک قتل ہرگز جائز نہ ہوگا۔ (آیت) ” ولا تقتلوا “۔ قتل یہاں اپنے وسیع لغوی معنی ہلاک کے مرادف ہے۔ محدود اصطلاحی فقہی معنی میں نہیں۔ جان لے لینے کی ہر صورت پر شامل ہے۔ یہ مراد نہیں کہ صرف دھار دار آہنی آلہ سے جان نہ لو۔ (آیت) ” النفس التی حرم اللہ “۔ اور جان تو ہر انسان کی محفوظ ہی ہے۔ تاآنکہ کوئی خاص سبب حسب قواعد شرعی اس کے واجب القتل یا مباح الدم ہونے کا نہ پیدا ہوجائے۔
48۔ (قصاص طلب کرنے گا) تسلطا علی القاتل فی الاقتصاص (مدارک) اے فی استیفاء القصاص من القاتل (کبیر) (آیت) ” ومن قتل مظلوما “۔ اس قتل ناحق کے تحت میں ہر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ ۭاور جس شخص کے قتل کو اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو
قتل مت کرو۔ ہاں مگر حق پر۔
نفس سے مراد ہے مسلمان یا ذمی کافر۔ الاّبالحق سے مراد ہے قصاص یا زنا یا بغاوت یا صحابہ کو گالیاں دینا وغیرہ (یعنی قصاص یا زنا یا بغاوت وغیرہ میں قتل کردینا ناحق قتل نہیں ہے) مرتد کا قتل نفس محرم کے قتل میں داخل نہیں ہے (یعنی مرتد کو قتل کردینا مباح الاصل ہے) اللہ نے فرمایا ہے اِنَّمَا جَزَآءُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَۂ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْا (باغیوں کے متعلق فرمایا) قَاتِلُوْا الَّتِیْ تَبْغِیْ (قصاص…
Read the full tafseer →(33) اور جس مومن کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرما دیا ہے اس کو مت قتل کرو ہاں مگر حق پر جیسا کہ زانی کو رجم کردیا جائے اور قصاص میں قاتل کی اور حال ارتداد میں مرتد کی گردن اڑا دی جائے۔
اور جس شخص کو ناحق دانستہ قتل کردیا جائے تو ہم نے ولی مقتول کو قاتل کے قتل کے بارے میں حد شرعی تجاوز نہیں چاہے وہ قاتل کو قتل کردے اور اگر چاہے تو معاف کردے تو ولی مقتول کو قاتل کے قتل کے بارے میں حد شرعی تجاوز نہیں کرنا چاہیے یعنی غیر قاتل کو نہ قتل کرے یا یہ کہ ایک کے عوض دس کو نہ قتل کرے، وہ طرف داری کے قابل ہے کہ قاتل کو قتل کردیا جائے اور اس کو معاف نہ کیا جائے۔
Read the full tafseer →وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ۔۔ : انسانی جان اور عزت کی حفاظت کے لیے قتل اولاد اور زنا کے قریب جانے سے منع کرنے کے بعد اب کسی بھی شخص کو ناحق قتل کرنے سے منع فرمایا۔ قتل مسلم کب ناحق ہے اور کب حق ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِیءٍ مُسْلِمٍ یَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ ، وَ أَنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلاَّ بِإِحْدٰی ثَلاَثٍ النَّفْسُ بالنَّفْسِ ، وَالثَّیِّبُ الزَّانِيْ ، وَالْمُفَارِقُ لِدِیْنِہِ التَّارِکُ لِلْجَمَاعَۃِ) [ بخاری، الدیات، باب قول اللّٰہ تعالیٰ : (إن النفس بالنفس۔۔) : 6878، عن عبد اللّٰہ بن مسعود ؓ ] ”کسی مسلمان کو، جو کلمہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 33
قولہ تعالیٰ : ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق سورة الانعام میں اس کے بارے کلام گزرچکی ہے۔ ومن قتل مظلومًا فقد جعلنا لولیہٖ سلطٰنًا فلا یسرف فی القتل ؕانہ کان منصورا۔
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ومن قتل مظلومًا اور جو آدمی بغیر ایسے سبب کے قتل کیا گیا جو قتل کو واجب اور ثابت کرتا ہو۔ فقد جعلنا لولیہٖ تو ہم نے اس کے یعنی اس کے خون کے مستحق کو (قصاص کے مطالبہ کا حق سے دیا ہے) ۔ ابن خویزمنداد نے کہا ہے : ولی کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرد ہو، کیونکہ لفظ مذکر کے ساتھ اسے ولایت کے ساتھ مفردذکر کیا ہے۔ اور اسماعیل بن اسحاق نے قول باری تعالیٰ : فقد جعلنا لولیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” ولا تقتلوالنفس التی حرم اللہ الا بالحق “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ فرمان مکہ مکرمہ میں نازل ہوا اور نبی کریم ﷺ وہیں تھے اور یہ پہلی چیز تھی جو قرآن مجید میں قتل کے بارے میں نازل ہوئی مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب کو دھوکے سے مار ڈالتے تھے آپ نے فرمایا مشرکین میں سے جس نے تم کو قتل کیا ہے تو اس کا قتل کرنا تم اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم اس کے باپ کو یا اس کے بھائی کو یا اس کے کنبے میں سے کسی ایک قتل کو دو اگرچہ وہ مشرکین ہیں لیکن تم قتل نہ کرو مگر صرف قاتل کو اور یہ حکم سورة برأۃ کے نازل ہونے سے پہلے کا تھا اور مشرکین سے قتال کرنے کے حکم…
Read the full tafseer →[وَلَا تَقْتُلُوا : اور تم لوگ قتل مت کرو ] [النَّفْسَ الَّتِيْ : اس جان کو جس کو ] [حَرَّمَ : (قتل کرنا) حرام کیا ] [اللّٰهُ : اللہ نے ] [اِلَّا : مگر ] [بِالْحَقِّ : حق کے ساتھ ] [وَمَنْ : اور جو ] [قُتِلَ : قتل کیا گیا ] [مَظْلُوْمًا : مظلوم ہوتے ہوئے ] [فَقَدْ جَعَلْنَا : تو ہم نے بنادیا ہے ] [لِوَلِيِّهٖ : اس کے ولی کے لئے ] [سُلْطٰنًا : ایک اختیار ] [فَلَا يُسْرِفْ : تو اسے چاہیے کہ حد سے تجاوز نہ کرے ] [فِّي الْقَتْلِ : قتل کرنے میں ] [انهٗ : بیشک وہ ] [كَان : ہے ] [مَنْصُوْرًا : مدد کیا ہوا ]
نوٹ۔ 2: قتل نفس سے مراد صرف دوسرے انسان کا قتل ہی نہیں ہے، بلکہ خود اپنے آپ کو قتل کرنا بھی…
Read the full tafseer →تیسرا حکم یہ فرمایا کہ اللہ نے جس جان کو قتل کرنے سے منع فرمایا اسے قتل مت کرو۔ جس کسی جان کا قتل کرنا شریعت اسلامیہ میں حلال نہیں ہے اس کا قتل کردینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ اور اس بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں قتل کی بعض صورتوں میں قصاص اور بعض صورتوں میں دیت ہے اس کی تفصیلات سورة بقرہ کے اکیسویں رکوع میں اور سورة نساء کے تیرہویں رکوع میں اور سورة مائدہ کے ساتویں رکوع میں گزر چکی ہیں۔ (انوار البیان)
سورۃ نساء میں قتل کی وعیدیں بھی مذکور ہیں۔ وہاں ہم نے متعدد احادیث کا ترجمہ بھی لکھا دیا ہے قتل نفس کی حرمت بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →33:۔ یہ تیسرا ظلم ہے۔ کسی کو ناحق قتل نہ کرو۔ ” و من قتل مظلوما الخ “ مقتول کا قصاص لینے کے بارے میں اولیائے مقتول کو ہدایت کی گئی کہ قصاص لینے میں حد شرعی سے تجاوز نہ کرو مثلاً ایک کے بدلے ایک سے زیادہ کو قتل نہ کرو اور نہ مقتول کو بےحرمت کرو جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ربط آیات :
اس سے پیشتر اسلامی نظام معاشرت کے چھ اصول بیان ہوچکے ہیں ، یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر استقامت ، مال باپ کے ساتھ حسن سلوک ، قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کے حق کی ادائیگی ، فضول خرچی سے اجتناب اور اگر کسی وقت مالی حال کمزور ہو تو مستحقین کو نرمی سے جواب دہی بخل سے اجتناب اور اخراجات میں میانہ روی کو اپنانا ، سب کچھ بیک وقت خرچ کرنے کو بھی غیر مستحسن فرمایا کہ ایسا کرنے سے بعد میں پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔
(7) (قتل اولاد کی ممانعت)
اب آگے کچھ منہیات آرہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے چناچہ ساتویں اصول کے طور پر مفلسی کے خوف سے قتل اولاد سے منع فرمایا گیا ہے ، قرآن کریم…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ۭ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا 33
حرم
الحرام : الممنوع منه إمّا بتسخیر إلهي وإمّا بشريّ ، وإما بمنع قهريّ ، وإمّا بمنع من جهة العقل أو من جهة الشرع، أو من جهة من يرتسم أمره، فقوله تعالی: وَحَرَّمْنا عَلَيْهِ الْمَراضِعَ [ القصص/ 12] ، فذلک تحریم بتسخیر، وقد حمل علی ذلك :
وَحَرامٌ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْناها [ الأنبیاء/ 95] ، وقوله تعالی: فَإِنَّها مُحَرَّمَةٌ عَلَيْهِمْ أَرْبَعِينَ سَنَةً
[ المائدة/ 26] ، وقیل : بل کان حراما عليهم…
Read the full tafseer →آٹھواں حکم : ولاتقتلوا النفس التی حرم اللہ الخ کہ جن جانوں کا قتل کرنا شرع نے حرام کیا ہے ان کو ناحق قتل نہ کرو انسان خدا تعالیٰ کا مظہر اور اس کی خدائی کا آئینہ ہے اس کے قتل کا ارادہ کرنا خدائی کا مقابلہ کرنا ہے۔ پس یہ نہایت سنگین جرموں پر قتل کیا جاتا ہے۔ بضرورت اور وہ دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ خدائی جرائم کا ارتکاب کرے، مرتد ہوجائے، بغاوت کر کے امن عام میں خلل انداز ہو یا نکاح کرنے کے بعد بھی حرام کاری کرے۔ ان صورتوں میں انسان کی حرمت جاتی رہتی ہے اس کی طرف التی حرم اللہ الخ میں اشارہ کردیا وہ احادیث صحیحہ جن میں مرتد اور باغیوں اور رجم کا ذکر ذکر ہے گویا اسی جملہ کی شرح میں۔ دوسری یہ کہ یہ…
Read the full tafseer →وَلاَ تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ ط وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلاَ یُسْرِفِ فِّی الْقَتْلِ ط اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 33)
(اور نہ قتل کرو اس جان کو جسے اللہ تعالیٰ نے حرمت دی ہے مگر حق کے ساتھ، اور جس شخص کو ظلماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا ہے تو وہ قتل میں حدود سے تجاوز نہ کرے کیونکہ اس کی مدد کی گئی ہے۔ )
قتل کی ممانعت اور اسلامی قانون کا مزاج
اندازہ فرمایئے قتل نفس کا ذکر کرنے سے پہلے زنا کی حرمت کا ذکر کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی نگاہ میں کسی انسان کا قتل جو بہت بڑی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قتل اولاد، زنا اور عفت گری سے روکنے کے بعد انسانی جان کے قتل سے روکا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی ساری مخلوق میں انسان کو ظاہری اور جوہری صلاحیتوں کے لحاظ سے بہترین تخلیق فرما کر ارشاد فرمایا کہ میں نے انسان کو بحر و بر میں عزت و عظمت عنایت فرمائی ہے۔ (بنی اسرائیل : 70) اس کے مقام و مرتبہ اور ہر طرح سے امن وامان قائم رکھنے کے لیے اس کو شرم و حیا اور عفت و عصمت کی رکھوالی کا حکم دیا اور یہ بھی حکم صادر فرمایا ہے کہ نفس انسانی کا احترام اور تحفظ ہونا چاہیے۔ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے کو جائز حق کے بغیر قتل کرے۔ (المائدہ : 32) میں ارشاد فرمایا کہ جس نے کسی ایک کو…
Read the full tafseer →قتل مت کرو :
33: وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ (اور جس شخص کے قتل کو اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو مت قتل کرو۔ ہاں مگر حق کے ساتھ) یعنی اگر وہ کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرے جس سے اس کا خون مباح ہوجائے۔ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا ( جو قتل کیا گیا ناحق) یعنی وہ کسی ایسی چیز کا ارتکاب کرنے والا نہیں تھا۔ جس سے اس کا خون مباح ہوتا۔ فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَ لِیِّہٖ سُلْطٰنًا (پس ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا) یعنی قصاص لینے میں قاتل پر تسلط و غلبہ عنایت کیا ہے۔ فَـلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ ( وہ قتل میں اسراف نہ کرے) اس میں ضمیر ولی کی طرف لوٹ رہی ہے کہ وہ غیر قاتل…
Read the full tafseer →33۔” ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “ اس کے حق سے مراد نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے فرمایا کہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں مگر تین وجوہ سے ۔ ایک وہ شخص جو ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے، یا شادی شدہ ہو کر زنا کرے یا کسی نفس کے قتل کرنے کے بدلے میں اس کو قتل کردیا جائے گا ۔” ومن قتل مظلوما ً فقد جعلنا لولیہ سلطانا ً “ قوت اور ولایت حاصل ہو اس کے قتل کرنے کے ساتھ ، مجاہد کا قول ہے انہوں نے ضحاک کا قول نقل کیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس بات کا اختیار رکھتا ہے اگر چاہے تو وہ اس سے خود مستفید ہو اور اگر چاہے تو اس سے دیت لے اور اگر چاہے تو اسے معاف کردے۔
اسراف فی القتل کی تفسیر
”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–40
32۔ 40:۔ اوپر کی آیتوں سے حق العباد کا ذکر چلا آتا ہے مثلا ماں باپ کا حق اولاد کو سمجھنا اور اولاد کا حق ماں باپ کو سمجھنا رشتہ داروں کا حق رشتہ داروں کو جاننا ایک کی ماں بہن بی بی سے دوسرا بدکاری کرے یا ایک کو دوسرا جان سے مار ڈالے یا ایک شخص اپنی اولاد اور مال چھوڑ کر مرجائے اور جس رشتہ دار کی پرورش میں وہ یتیم اولاد آوے وہ اس یتیم کا مال کھا اڑا دیوے یہ سب باتیں خدا کا گناہ ہونے کے سوا حق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حق العباد کے ذکر کے سلسلہ میں زنا قتل بےتصرف مال یتیم خلاف عہد کم تولنے اور کم ناپنے اور جھوٹی شہادت اور اترانے کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا دیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 33
اس آیت کریمہ کا حکم ہر اس جان کو شامل ہے جس کے قتل کو (حراما اللہ) ، ، اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، ، وہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام اور مسلم ہو یا کافر معاہد (الا بالحق) ، ، سوائے اس (قتل) کے جو برحق ہو، ، مثلاً مقتول کے قصاص میں قاتل کو قتل کرنا، شادی شدہ زانی کو قتل کرنا، مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہونے والے مرتد کو قتل کرنا اور باغی کو بغاوت کی حالت میں قتل کرنا جبکہ اس کو قتل کئے بغیر بغاوت پر قابو نہ پایا جاسکتا ہو۔ (و من قتل مظلوماً ) ، ، اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے۔ ، ، یعنی جسے ناحق قتل کیا گیا ہو۔ (فقد جعلنا لولیہ) ، ، تو کی ہم نے اس کے ولی کے…
Read the full tafseer →قتل کی ممانعت
قول باری ہے (ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق اور قتل کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ تعالیٰ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ) اللہ تعالیٰ نے (الا بالحق) فرمایا اس لئے کہ قتل نفس حق نہ ہونے کے باوجود بھ یبعض دفعہ حق بن جاتا ہے جس کی صورتیں یہ ہیں۔ قصاص اور ارتداد کی بنا پر قتل اسی طرح غیر مسلموں سے قتال اور محاربت کی وجہ سے قتل، نیز محصن زانی کا رجم۔
مقتول کے قصاص کا حکم
قول باری ہے (ومن قتل مظلوماً فقد جعلنا لولیہ سلطاناً اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے) حضرت ابن عباس ، سعید بن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ سلطان حجت کو کہتے…
Read the full tafseer →61۔ قتل ناحق کی ممانعت :۔
سو فرمایا گیا ” اور قتل نہ کرنا کسی حرمت والی جان کو مگر حق کے ساتھ قتل کرنے کی صحیح حدیث کے مطابق بنیادی طور پر صورتیں ہیں۔ احصان کے بعد زنا کرنا۔ یا ناحق کسی کو قتل کرنا یا مرتد ہوجانا۔ والعیاذ باللہ۔ یعنی اگر کسی نے جریمہ زنا کا ارتکاب کیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جبکہ وہ محصن ہو تو اس کو سنگسار کیا جائے یا اگر کسی نے کسی حرمت والی جان کو قتل کیا تو اس کے بدلے میں اس کو قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ یا اگر کوئی دین حق سے پھر گیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ تو اس کے نتیجے میں اس کو قتل کیا جائے گا۔ کہ اسیے میں اس شخص کی جان محترم نہیں رہتی مباح الدم ہوجاتی ہے۔ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔
(ضبط تولید)
آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات…
Read the full tafseer →ف 3 مراد ہے ہر اسنانی جان حتی کہ آدمی کی اپنی جان بھی اسلام نے خود کشی کو بھی حرار قرار دیا ہے۔ جیسا کہ متعدد احادیث میں وارد ہے۔4 جس کیلئے شریعت نے جان لینا جائز قرار دیا یہ۔ حدیث میں ہے : لایحل دم امری مسلم الاباحدی ثلاث النفس بالنفس والثیب الرزانی والتاروں ولدینہ کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے الایہ کہ قصاص میں قتل کیا جائے، یا شادی شدہ ہو کر زنا کرے۔ یا مرتد ہوجائے۔ مگر یہ حصر حقیقی نہیں ہے، بلکہ بعض دوسرے جرائم میں بھی قتل کا جواز ثابت ہے۔ (روح)5 مثلاً قاتل کو عذاب دے کر قتل کرے یا جوش انتقام میں اس کے عالوہ اس کے عزیزوں کو بھی مار ڈالے۔6 اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے قصاص کا قانون مقرر…
Read the full tafseer →(17:33) ولیہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا ولی ۔ اس کا وارث۔ جیسا کہ آیت شریف میں آیا ہے۔ ھب لی من لدنک ولیا (19:5) مجھے اپنے پاس سے وارث عطا فرما۔ قرآن مجید میں اور جگہ بمعنی مددگار۔ دوست ۔ رفیق بھی آیا ہے۔
سلطنا۔ برہان۔ دلیل۔ سند۔ اختیار۔ زور۔ قوت۔ حجت۔ حکومت۔ مادہ سلط۔ فقط جعلنا لولیہ سلطنا۔ تو ہم نے مقتول کے وارث کو (قصاص کے مطالبہ کا) حق دے دیا ہے ۔
لا یسرف۔ فعل نہی واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل ولی کی طرف راجع ہے۔ فلا یسرف فی القتل پس اسے چاہیے کہ قتل کے باب میں حد سے آگے نہ بڑھے۔ یعنی قتل کا بدلہ اگر قتل ہی لینا ہے تو قاتل کے سوا دوسرے کو قتل نہ کرے۔ اور نہ ہی ایک قتل کے بدلہ میں ایک سے زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 35
املاق غربت، آرام و آسائش۔ خطہ کبیر بڑی خطا، گناہ عظیم۔ لاتقربوا تم قریب نہ پھٹکو۔ ولی سرپرست، وارث۔ سلطان صاحب اختیار۔ لایسرف حد سے نہ بڑھو۔ منصور مدد کیا گیا۔ احسن بہترین۔ اشدہ اپنی طاقت، اپنی جوانی ۔ اوفوا پورا کرو، وفا کرو۔ الکیل تول۔ قسطاس ترازو۔ تاویل انجام۔
تشریح آیت نمبر 31 تا 35
سورۃ الاسراء میں چھ بنیادی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔
1- غربت و افلاس کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کرنا۔
2- زنا اور بدکاری کے ذریعہ بدترین راستوں کو کھولنا۔
3- ناحق کسی انسان جان کو لینا اور قتل کرنا۔
4- یتیم ( بےباپ کے بچوں) کے مال کو ہڑپ کر جانا۔
5- وعدہ خلافی کرنا۔
6- ماپ تول میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
حقوق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزوں کا ذکر اور کامیاب زندگی کا جامع اصول
ان ا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ زنا کو فحش اور برا راستہ کہا ہے۔ اس کی وجوہ ظاہر ہیں، اول تو اس میں اختلاط نسب ہے دوسرے جو بچہ اس بری صورت سے پیدا ہوا اس کے نفقہ کا کون ذمہ دار ہوگا اور بعض وقت جانیں بھی جاتی رہتی ہیں۔ عورت سے مقصود صرف شہوت رانی نہیں بلکہ اصلی مطلب یہ ہے کہ باہم مل کر خانہ داری میں ایک دوسرے کا معین (مدد گار) ہو بیماری میں بڑھاپے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے، زنا میں یہ بات ممکن نہیں ، زنا کو قطعی حرام ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ تاکید کی کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی۔ (1) پھر فرمایا کہ جس قتل کا کرنا شریعت…
Read the full tafseer →[27] یعنی ہم نے مقتول کے وارثوں کو قاتل کے اوپر پورا اختیار دے دیا ہے کہ وہ چاہیں تو اس سے قصاص لیں، چاہیں تو خوں بہا لیں اور اگر چاہیں تو معاف بھی کرسکتے ہیں۔
[28] یعنی یہ نہ کرے کہ جوش انتقام میں قاتل کے ساتھ غیر قاتل کو بھی قتل کر ڈالے یا قتل کے ایسے طریقے اختیار کرے جن سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ مثلاً قاتل کو عذاب دے کر مارنا یا آگ میں جلانا۔
[29] اس آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ اسلامی قانون میں قتل کے معاملے میں اصل مدعی کی حیثیت حکومت کی نہیں بلکہ مقتول کے وارثوں کی ہے۔ حکومت کا کام صرف یہ ہے کہ مقتول کے وارثوں کی مرضی ٹھیک ٹھیک نافذ کرا دے۔ حکومت مدعی صرف اس شکل میں ہوگی جب مقتول لاوارث ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
(ف 2) اس آیت میں مسلمانوں کو اعتدال کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے ، اور اسے کہا ہے کہ اپنی مالی حالت کا جائزہ لیتا رہے ۔ نہ اس قدر شاہ خرچ ہو ، کہ جو کچھ ہاتھ لگے صرف کردیا جائے ، اور بعد میں پشیمانی اٹھانا پڑے ، اور نہ بخل وامساک کا اظہار ہو ، بین بین رہے ، افسوس مسلمان آج خرچ کے معاملہ میں بالکل محتاط نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بکمال مہربانی ہے ہر بات سمجھا دی ہے ۔ مسلمان محنت سے روپیہ کماتا ہے ۔ اور رسم و رواج کی پابندیوں میں اڑا دیتا ہے ۔ اور وہ روپیہ جو اللہ کی نعمت ہے محض فضول باتوں میں ضائع ہوجاتا ہے ، آج کسب واکتساب کے جس قدر اسباب ہیں ، وہ سب مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں مگر پھر بھی…
Read the full tafseer →-33 اور جس شخص کے قتل کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے اس کو قتل نہ کرو مگر ہاں کسی شرعی حق کے ساتھ اور جو شخص ناحق قتل کردیا جائے تو ہم نے اس مقتول کے وارث کو قصاص لینے اور بدلہ لینے کا اختیار دیا ہے سو بدلہ لینے والے کو قتل کے بارے میں حد شرع سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے اور آگے نہیں نکلنا چاہئے کیونکہ وہ قصاص حاصل کرنے والا وارث مدد دیا گیا ہے اور اس کی طرف داری کی گئی ہے۔ بےگناہ کو قتل کرنے کی مذمت فرمائی اور بنی نوع انسان میں سے کسی انسان کو بلا وجہ قتل کرنے کی ممانعت فرمائی مگر حق پر قتل کرنا درست ہے اگر حق شرعی کی بنا پر اس کا قتل واجب یا مباح ہو مثلاً اس نے کسی کو بدون حق شرعی کے قتل…
Read the full tafseer →ف 9۔ یعنی جب وجوب یا اجاحت قتل کا کوئی سبب شرعی پایا جاوے تو قتل کرنا درست ہے، اور اس وقت وہ حرم اللہ میں داخل نہیں۔
10۔ ولی سے مراد وہ شخص ہے جس کو حق قصاص ہو اور کوئی واراث ہو، تو وہ ورنہ سلطان۔
Read the full tafseer →ناحق قتل نہ کرو جسے قتل کرنا اللہ نے حرام ٹھہرا دیا ہے :
43۔ منشور اسلامی کی یہ آٹھویں شق بیان کی جا رہی ہے جو ناحق قتل کی حرمت کے بیان میں ہے جس کا جرم عظیم ہونا دنیا کی ساری ہی جماعتوں ‘ مذہبوں اور فرقوں میں مسلم ہے حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ساری دنیا کی تباہی اللہ کے نزدیک اس سے ہلکی ہے کہ کسی مومن کو ناحق قتل کیا جائے اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کے لوگ کسی مومن کے قتل ناحق میں شریک ہوجائیں تو ان سب کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل کر دے گا ۔ (ابن ماجہ بسند حسن والبیھقی)
قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور جس نے ایک مسلمان کو…
Read the full tafseer →Commentary
This eighth injunction is about the prohibition of killing unjustly. Virtually all groups, religions and sects of the world take it to be a grave crime. In Hadith, the Holy Prophet ﷺ said, "The destruction of the en-tire world is lighter in the sight of Allah than the unjust killing of a believer." In addition to this, some reports also carry the words: "Even if the inhabitants of Allah's seven heavens and seven earths were to join in the killing of a believer unjustly, He will put all of them into the Hell." (Ibn Majah with a chain classified as Hasan and al-Baihaqi - from…
Read the full tafseer →33.“And do not kill a person”includes not only the prohibition of the killing of other souls but also his own soul as well for it is also included in the prohibition that immediately follows this command. Thus suicide is regarded as heinous a sin as murder. Some foolish people object to the prohibition of suicide saying that they themselves are the masters of their souls. Therefore, there is nothing wrong in killing one’s own self or in destroying one’s own property. They forget that every soul belongs to Allah, and none has any right to destroy it, nay, even to abuse it. For this world is a…
Read the full tafseer →