کبیرہ گناہوں سے ممانعت
زنا کاری اور اس کے اردگرد کی تمام سیاہ کاریوں سے قرآن روک رہا ہے زنا کو شریعت نے کبیرہ اور بہت سخت گناہ بتایا ہے وہ بدترین طریقہ اور نہایت بری راہ ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ ایک نوجوان نے زنا کاری کی اجازت آپ سے چاہی لوگ اس پر جھک پڑے کہ چپ رہ کیا کر رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے۔ آپ نے اسے اپنے قریب بلا کر فرمایا بیٹھ جا جب وہ بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا کیا تو اس کام کو اپنی ماں کے لئے پسند کرتا ہے ؟ اس نے کہا نہیں اللہ کی قسم نہیں یا رسول اللہ ﷺ مجھے آپ پر اللہ فدا کرے ہرگز نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر سوچ لے کہ کوئی اور کیسے پسند کرے گا ؟ آپ نے فرمایا اچھا تو اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 32
”زنا کے قریب نہ بھٹکو“ ، اس کے حکم کے مخاطب افراد بھی ہیں، اور معاشرہ بحیثیت مجموعی بھی۔ افراد کے لے اس حکم کے معنی یہ ہیں کہ وہ محض فعل زنا ہی سے بچنے پر اکتفا نہ کریں، بلکہ زنا کے مقدمات اور اس کے ان ابتدائی محرکات سے بھی دور ہیں جو اس راستے کی طرف لے جاتے ہیں۔ رہا معاشرہ، تو اس حکم کی رو سے اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اجتماعی زندگی میں زنا، اور محرکات زنا، اور اسباب زنا کا سدباب کرے، اور اس غرض کے لیے قانون سے، تعلیم و تربیت سے، اجتماعی ماحول کی اصلاح سے، معاشرتی زندگی کی مناسب تشکیل سے، اور دوسری تمام مؤثر تدابیر سے کام لے۔
یہ دفعہ آخرکار اسلامی نظام زندگی کے ایک…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور زنا کے پاس بھی مت پھٹکو (یعنی اس کے مبادی اور مقدمات سے بھی بچو) بلاشبہ وہ (خود بھی) بڑی بےحیائی کی بات ہے اور (دوسرے مفاسد کے اعتبار سے بھی) بری راہ ہے (کیونکہ اس پر عداوتیں اور فتنے اور تضبیع نسب مرتب ہوتے ہیں)
معارف و مسائل
یہ ساتواں حکم زنا کی حرمت کے متعلق ہے جس کے حرام ہونے کی دو وجہ بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ وہ بےحیائی ہے اور انسان میں حیا نہ رہی تو وہ انسانیت ہی سے محروم ہوجاتا ہے پھر اس کے لئے کسی بھلے برے کام کا امتیاز نہیں رہتا اسی معنی کے لئے حدیث میں ارشاد ہے اذا فاتک الحیاء فافعل ماشئت۔ یعنی جب تیری حیا ہی جاتی رہی تو کسی برائی سے رکاوٹ کا کوئی پردہ نہ رہا تو جو…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا۔
منہیات کا بیان : آیت 31 پر قرآنی اوامر، عدل، احسان، ایتائے ذی القربی، سے متعلق بنیادی مسائل ختم ہوئے اب آگے قرآنی منہیات۔ فحشاء، منکر، بغی کے تحت جو چیزیں آتی ہیں ان کا بیان شروع ہورہا ہے۔
زنا اور اس کے محرکات کی ممانعت : منہیات کے باب میں سب سے پہلے زنا کو لیا ہے اس لیے کہ یہ برائی صالح معاشرہ کی جڑ پر کلہاڑا مارنے والی برائی ہے۔ صالح معاشرہ کی بنیاد صالح خاندان پر ہے۔ صالح خاندان صحیح فطری جذبات کے ساتھ صرف اسی صورت میں وجود پذیر ہوسکتا ہے جب والدین کے ساتھ اولاد کا تعلق صحیح خون، صحیح نسب اور پاکیزہ رحمی رشتہ پر…
Read the full tafseer →32۔ 1 اسلام میں زنا چونکہ بہت بڑا جرم ہے، اتنا بڑا کہ کوئی شادی شدہ مرد یا عورت اس کا ارتکاب کرلے تو اسے اسلامی معاشرے میں زندہ رہنے کا ہی حق نہیں ہے۔ پھر اسے تلوار کے ایک وار سے مار دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ حکم ہے کہ پتھر مار مار کر اس کی زندگی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ معاشرے میں نشان عبرت بن جائے۔ اس لئے یہاں فرمایا کہ زنا کے قریب مت جاؤ، یعنی اس کے دواعی و اسباب سے بھی بچ کر رہو، مثلًا غیر محرم عورت کو دیکھنا، ان سے اختلاط، کلام کی راہیں پیدا کرنا، اسی طرح عورتوں کا بےپردہ اور بن سنور کر گھروں سے باہر نکلنا، وغیرہ ان تمام امور سے پرہیز ضروری ہے تاکہ اس بےحیائی سے بچا جاسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
16: مشرکین عرب بعض اوقات تو لڑکیوں کو اس لئے دفن کردیتے تھے کہ اپنے گھر میں لڑکی کے وجود ہی کو وہ باعث شرم سمجھتے تھے، اس کے علاوہ بعض مرتبہ اولاد کو اس لئے قتل کردیتے تھے کہ ان کو کھلانے سے مفلس ہوجانے کا احتمال تھا۔
Read the full tafseer →اس لئے کہ قتل اولاد اور زنا کے درمیان تعلق موجود ہے ، نیز اس کے بعد قتل نفس کا مضمون آتا ہے۔ قتل اولاد ، زنا اور قتل نفس کے درمیان مخصوص تعلق موجود ہے۔ قتل اولاد توبعینہ قتل نفس ہے ، لیکن زنا بھی مختلف پہلوئوں سے دراصل قتل نفس ہی ہے۔ کیونکہ سب سے پہلے زانی حیات کو بےمحل گرانا ہے ، اگر زنا کے نتیجے میں کوئی اولاد پیدا ہوجائے تو اس سے فرار حاصل کیا جاتا ہے۔ پہلے جنہیں ہی کو قتل کردیا جاتا ہے ، ورنہ بچہ پیدا ہونے کے بعد بالعموم قتل کردیا جاتا ہے۔ پیدائش سے پہلے یا بعد وہ اگر زندہ رہ بھی جائے تو یا وہ مادر پدر آزاد ہوتا ہے یا پھر معاشرے میں ذلیل و خوار ہو کر رہتا ہے۔ بہرحال اگر قتل نہ ہو اور زندہ…
Read the full tafseer →8 یعنی زنا کرنا تو بڑی چیز ہے۔ اس کے پاس بھی مت جاؤ۔ گویا لاتقربوا میں مبادی زنا سے بچنے کی ہدایت کردی گئی۔ مثلاً اجنبی عورت کی طرف بدون عذر شرعی نظر کرنا یا بوس و کنار وغیرہ۔
9 کیونکہ زنا سے انساب میں گڑ بڑ ہوتی ہے اور بہت طرح کی لڑائیاں اور جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں اور سب کے لیے بری راہ نکلتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اگر یہ راہ نکلی تو ایک شخص دوسرے کی عورت پر نظر کرے، کوئی دوسرا اس کی عورت پر کرے گا۔ " مسند امام احمد میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے زنا کی اجازت دے دیجئے۔ حاضرین نے اسے ڈانٹ بتلائی کہ (پیغمبر خدا کے سامنے ایسی گستاخی ؟ ) خبردار چپ رہو۔ حضور ﷺ نے اس…
Read the full tafseer →آیت 32 وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى
یہاں ”زنا مت کرو“ کے بجائے وہ حکم دیا جا رہا ہے جس میں انتہائی احتیاط کا مفہوم پایا جاتا ہے کہ زنا کے قریب بھی مت پھٹکو۔ یعنی ہر اس معاملے سے خود کو محفوظ فاصلے پر رکھو جو تمہیں زنا تک لے جانے یا پہنچانے کا سبب بن سکتا ہو۔
Read the full tafseer →37 زنا کے راستے اور ان کے قریب جانے سے ممانعت :۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو بلکہ یوں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یعنی وہ تمام راستے اور طور طریقے جو زنا کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان سب سے اجتناب کرو۔ ایسے راستوں کا مفصل بیان تو سورة نور اور سورة احزاب میں آئے گا۔ مختصراً یہ کہ ہر وہ چیز جو انسان کی شہوت کی انگیخت کا سبب بن سکتی ہے۔ وہ زنا کا راستہ ہے مثلاً عورتوں سے آزادانہ اختلاط، عورتوں کا بےپردہ ہو کر بازاروں میں نکلنا، اجنبی مرد و عورت کی گفتگو بالخصوص اس صورت میں کہ وہ اکیلے ہوں۔ نظر بازی، عریاں تصویر، فلمیں، فحش لٹریچر، گندی گالیاں، ٹیوی اور ریڈیو پر فحش افسانے اور ڈرامے…
Read the full tafseer →46۔ یعنی زنا بجائے خود بھی قبیح ہے اور بلحاظ دوسرے مفاسد کے بھی، افراد کی روحانی پاکیزگی اور اخلاقی طہارت کے بھی منافی اور صالح تمدن ومعاشرہ کی اجتماعی صالحیت کے بھی، روحانیت اور عبودیت کے چہرہ پر بھی ایک داغ اور جسمانی، معاشری، معاشی مضرتوں اور خطروں کے اعتبار ولحاظ سے بھی قابل نفرت۔ (آیت) ” ولا تقربوا الزنی “۔ الفاظ قرآنی پر غور ہو۔ (آیت) ” لاتزنوا “۔ ارشاد نہیں ہورہا ہے۔ ارشاد ہورہا ہے۔ (آیت) ” لاتقربوا الزنی “۔ زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو۔ اس کے مبادی دواعی مقدمات تک سے بچو۔ یقول تعالیٰ ناھیا عن الزنی وعن مقاربتہ ومخالطۃ اسبابہ ودواعیہ (ابن کثیر) وھو نھی عن دواعی الزنا ولوارید بالنھی عن نفس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
آیت نمبر 31 تا 40
ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا : اور زنا کے قریب 1 بھی نہ جاؤ بلاشبہ زنا بہت زیادہ اور
کھلی ہوئی برائی کا کام ہے اور برا راستہ ہے کہ اس سے قطع نسب ہوتا ہے اور فتنے بپا ہوتے ہیں۔ حضرت بریدہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ساتواں آسمان اور ساتوں زمینیں بوڑھے زانی پر لعنت کرتی ہیں اور (دوزخ کے اندر) زانیوں کی شرمگاہیں اپنی سڑی ہوئی بو سے دوزخیوں کو (بھی) اذیت پہنچائیں گی ‘ رواہ البزار۔
حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زنا پر قائم رہنے والا بت پرست کی طرح ہے۔ رواہ الخرابطی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →(32) اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ خفیہ طریقہ پر اور نہ علانیہ طور پر وہ بڑی معصیت اور گناہ کی بات ہے اور برا راستہ ہے۔
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى۔۔ :”فَاحِشَةً“ ایسا قول و فعل جو نہایت قبیح ہو۔ پچھلی آیت میں قتل اولاد سے منع فرمایا، جو نسل انسانی فنا کرنے کا باعث ہے اور اس آیت میں زنا کے قریب جانے سے منع فرمایا، کیونکہ یہ حد سے بڑھی ہوئی برائی کے ساتھ نسب کا نظام خراب کرنے کا باعث ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خاوند کو نہ بیوی پر اعتماد رہے گا اور نہ اسے اولاد کے اپنا ہونے کا یقین ہوگا، وہ غیرت کی وجہ سے بیوی بچوں کو قتل بھی کرسکتا ہے، جیسا کہ اکثر خبریں آتی رہتی ہیں۔ اگر یہ رسم بد عام ہوجائے تو رشتہ داری کا سارا نظام، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، ختم ہوجائے گا، نہ باپ کا پتا، نہ کوئی چچا نہ دادا، نہ ان کی اولاد کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 32
اس میں ایک مسئلہ ہے :
مسئلہ نمبر 1 ۔ علماء نے کہا ہے : قول باری تعالیٰ : ولا تقربوا الزنی یہ ولا تزنوا کہنے سے زیادہ بلیغ ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے تم بدکاری کے قریب نہ جاؤ۔ اور الزنی کے لفظ میں مد اور قصر دونوں لغتیں ہیں۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے :
جانت فریضۃ ما تقول کما کان الزناء فریضۃ الرجم
اور سبیلا تمیز کی بناء پر منصوب ہے : تقدیر کلام ہے : وساء سبیلہ سبیلاً (اور اس کا راستہ بہت ہی براراستہ ہے) یعنی کیونکہ یہ جہنم تک پہنچا دیتا ہے۔ اور زنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اور اس میں اور اس کی قبح میں کوئی اختلاف نہیں ہے بالخصوص جب یہ پڑوسی کی بیوی کیساتھ ہو، اس سے غیر کے بچے کو خادم اور…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقربوا الزنی “ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت حدود (کے احکام) نہیں تھے اس کے بعدسورۃ نور میں حدود (کے احکام) نازل ہوئے۔
2:۔ ابویعلی اور ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت (آیت) ” ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ۔ ومقتا وسآء سبیلا الا من تاب فان اللہ کان غفور ارحیما “ کو اس طرح پڑھا حضرت عمر ؓ کے سامنے اس بات کا ذکرہوا تو آپ ان کے پاس تشریف لائے اور اس قرأت کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح لیا ہے اور تیرے لئے کوئی عمل نہیں ہے مگر یہ کہ بقیع کی طرف چلے جاؤ۔
زنا کے وقت ایمان دل سے نکل…
Read the full tafseer →[وَلَا تَقْرَبُوا : اور تم لوگ قریب مت ہو ] [الزِّنٰٓى: زنا کے ] [انهٗ : یقینا وہ ] [كَان : ہے ] [فَاحِشَةً : ایک بےحیائی ] [وَسَاۗءَ : اور برا ہے ] [سَبِيْلًا : بلحاظ راستہ کے ]
ز ن ی
[زِنًی : (ض) ] زنا کرنا۔ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ (اور وہ لوگ قتل نہیں کرتے اس جان کو جسے محترم کیا اللہ نے مگر حق کے ساتھ اور وہ لوگ زنا نہیں کرتے) ۔ 25:68 ۔
زِنًی اسم ذات بھی ہے۔ زنا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 32 ۔
زَانٍ اسم فاعل ہَے۔ زنا کرنے والا۔ اَلزَّنِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّازَانِیَۃً اَوْمُشْرِکَۃً (زنا کرنے والا نکاح نہیں کرتا مگر زنا کرنے والی سے…
Read the full tafseer →دوسرا حکم یوں دیا (وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنآی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃًط وَ سَآءَ سَبِیْلًا) (اور زنا کے پاس بھی مت پھٹکو بلاشبہ وہ بڑی بےحیائی اور بری راہ ہے) اس میں زنا کی ممانعت فرمائی اور یوں فرمایا کہ اس کے پاس بھی مت پھٹکو اور اسے بےحیائی اور بری راہ سے تعبیر فرمایا زنا ایسا برا عمل ہے اور ایسی لعنت کی چیز ہے جو کبھی کسی نبی کی شریعت میں حلال نہ تھی بلکہ اسلام کے علاوہ جو دوسرے ادیان ہیں مذہبی طور پر وہ بھی اسے ممنوع سمجھتے ہیں گو نفس و شیطان کے ابھار کی وجہ سے اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
آج جب کہ یورپ اور امریکہ میں بےحیائی کو ہنر اور حیا کو عیب سمجھا جانے لگا ہے وہاں زنا کاری بہت عام ہوچکی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →32:۔ یہ دوسرا ظلم ہے۔ یہ بھی ظلم ہے کیونکہ ولد الزنا کو یا تو مار ڈالیں گے یا پھر وہ مادر و پدر کی مشفقانہ پرورش سے محروم رہے گا۔ ” ولا تقربوا الزنا “ (زنا کے قریب بھی مت جاؤ) کی تعبیر میں ” لا تزنوا “ (زنا نہ کرو) کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے تمام کاموں سے بھی دور رہو جو زنا کا پیش خیمہ ہوں مثلاً غیر محرم عورتوں سے آزادانہ میل جول، بےتکلف گفتگو، بری نگاہ وغیرہ۔ ای لا تاتوا بدواعیھا من العزم علیہ او علی بعض مقدما تھا فضلا ان تباشروہ (مظہری ج 5 ص 436) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ربط آیات :
اس سے پیشتر اسلامی نظام معاشرت کے چھ اصول بیان ہوچکے ہیں ، یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر استقامت ، مال باپ کے ساتھ حسن سلوک ، قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کے حق کی ادائیگی ، فضول خرچی سے اجتناب اور اگر کسی وقت مالی حال کمزور ہو تو مستحقین کو نرمی سے جواب دہی بخل سے اجتناب اور اخراجات میں میانہ روی کو اپنانا ، سب کچھ بیک وقت خرچ کرنے کو بھی غیر مستحسن فرمایا کہ ایسا کرنے سے بعد میں پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔
(7) (قتل اولاد کی ممانعت)
اب آگے کچھ منہیات آرہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے چناچہ ساتویں اصول کے طور پر مفلسی کے خوف سے قتل اولاد سے منع فرمایا گیا ہے ، قرآن کریم…
Read the full tafseer →وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا 32
قرب
الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ «3» ، وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة .
نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35]
( ق ر ب ) القرب
والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ قرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ…
Read the full tafseer →ساتواں حکم : ولاتقربوا لزنٰی کہ زنا کے پاس بھی نہ جائو، زنا کی قباحت میں سلف سے خلف تک عقلاء کو اتفاق ہے اس میں یہ چند قباحت ہیں۔ (1) انساب کا خلط ملط ہونا یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ کس کا بیٹا ہے پھر باہمی حصہ ترکہ میں خرابی آتی ہے۔ (2) عورت کو شرعی یا عرفی طور پر اگر ایک شخص خاص سے تعلق نہ ہو جس کو نکاح کہتے ہیں تو اس کے پاس آنے والوں میں باہمی قتال وجدال کی نوبت آئے گی جیسا کہ مشاہدہ میں آتا ہے اور یہ بات تخریب عالم کا باعث ہے۔ (3) عورت سے مقصود صرف شہوت رانی ہی نہیں بلکہ باہم مل کر خانہ داری کے امور میں ایک دوسرے کا معین ہونا ‘ مرد کما کر لائے ‘ عورت دردمندی اور کفایت کے ساتھ اس کو گھر میں…
Read the full tafseer →وَلاَ تَقْرَبُوْا الزِّنٰٓی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً ط وَسَآئَ سَبِیْلاً ۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 32)
(اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ کیونکہ یہ کھلی ہوئی بےحیائی ہے اور نہایت برا راستہ ہے۔ )
منہیات میں سب سے پہلے قربت زنا کا ذکر
وہ اقدارِ حیا اور فضائل اخلاق جن پر اسلامی نظام کی عمارت استوار کی گئی ہے اور جن کی شکست و ریخت اسلام کسی طوربرداشت نہیں کرتا ان میں اہم ترین قدر شرم و حیا ہے۔ زنا سے اس بنیاد پر ضرب پڑتی ہے۔ اس لیے اسلام اسے ناقابل برداشت قرار دے کر انتہائی سخت سزائوں کے ذریعے اس کا وقوع مشکل سے مشکل بنا دیتا ہے۔ اس نے حکم یہ دیا کہ زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
فہم القرآن
ربط کلام : ضبط اولاد کے مصنوعی اور غیر شرعی طریقوں سے بدکاری کو رواج ملتا ہے۔ لہٰذا زنا کے راستوں اور طریقوں سے منع کیا گیا ہے۔ زنا کے نتیجہ میں حمل ٹھہر جائے تو بچہ ضائع کردیا جاتا ہے۔ اس لیے قتل اولاد سے منع کرنے کے بعد زنا سے بھی منع کیا گیا ہے۔
دین اسلام نہ صرف زنا سے منع کرتا ہے بلکہ وہ زنا کی قربتوں اور راستوں سے بھی روکتا ہے اور زنا کو بےحیائی اور برا راستہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے جن راستوں اور واسطوں کے ذریعے آدمی زنا کا مرتکب ہوتا ہے۔ ان سے اجتناب کرنے کا سختی کے ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ زنا ایسا برا عمل ہے جو آدمی سے یکدم سرزد نہیں ہوتا بلکہ پہلے کچھ اقدامات اور حرکات کرنا پڑتی…
Read the full tafseer →زنا کے قریب مت جائو :
32: وَلَاتَقْرَبُوا الزِّنٰٓی اس میں قصر اکثر استعمال ہوتا ہے اور مدؔ سے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور کبھی اس کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ اور اس صورت میں دواعیٔ وطی سے منع کرنے کو کہا جاتا ہے۔ مثلاً چھونا، بوسہ دینا وغیرہ۔ اگر نفس زنا سے روکا جاتا تو لاتزنوا کہتے۔ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً (بیشک وہ بےحیائی ہے) وہ ایسی معصیت ہے جو حد شرع اور حدود عقل سے تجاوز کرنے والی ہے۔ وَسَآ ئَ سَبِیْلًا (اور برا راستہ ہے) یعنی اس کا راستہ بدترین راستہ ہے۔
Read the full tafseer →32۔” ولا تقربوا الزناء انہ کان فاحشۃ وساء سبیلا ً “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–40
32۔ 40:۔ اوپر کی آیتوں سے حق العباد کا ذکر چلا آتا ہے مثلا ماں باپ کا حق اولاد کو سمجھنا اور اولاد کا حق ماں باپ کو سمجھنا رشتہ داروں کا حق رشتہ داروں کو جاننا ایک کی ماں بہن بی بی سے دوسرا بدکاری کرے یا ایک کو دوسرا جان سے مار ڈالے یا ایک شخص اپنی اولاد اور مال چھوڑ کر مرجائے اور جس رشتہ دار کی پرورش میں وہ یتیم اولاد آوے وہ اس یتیم کا مال کھا اڑا دیوے یہ سب باتیں خدا کا گناہ ہونے کے سوا حق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزیں ہیں اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حق العباد کے ذکر کے سلسلہ میں زنا قتل بےتصرف مال یتیم خلاف عہد کم تولنے اور کم ناپنے اور جھوٹی شہادت اور اترانے کا ذکر ان آیتوں میں فرمایا دیا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 32
زنا کے قریب جانے کی ممانعت، زنا کے مجرو فعل کی ممانعت سے زیادہ بلیغ ہے، اس لیے زنا کے قریب جانے کی ممانعت، زنا کے تمام مقدمات اور اس کے اسباب کو شامل ہے کیونکہ اگر کوئی بادشاہ کی مخصوص چراگاہ کے آس پاس پھرتا ہے تو ہوسکتا ہے وہ چراگاہ میں جاداخل ہو۔ خاص طور پر جب کہ بات یہ ہے کہ اکثر نفوس کے اندر زنا کا قوی ترین داعیہ ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے زنا کی برائیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا : (کان فاحشتہ) ، ، وہ بےحیائی، ، یعنی زنا عقل، شریعت اور فطرت انسانی کے نزدیک بہت بڑی برائی ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ ، عورت، اس کے گھر والوں اور اس کے شوہر کے حق میں ہتک حرمت، شوہر کے بستر کو خراب کرنے…
Read the full tafseer →زنا کے قریب نہ پھٹکو
قول باری ہے (ولا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وساء سجیلاً ۔ زنا کے قریب نہ پھٹکو وہ بہت برا فعل ہے اور بڑا ہ براہ راستہ) اس میں زنا کی تحریم کی خبر دی گئی ہے نیز یہ کہ یہ بہت قبیح فعل ہے۔ اس لئے کہ فاحشہ اس فعل کو کہتے ہیں جس کی قباحت بڑی زبردست اور بڑی واضح ہو۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ سمعی حجت کے ورود سے پہلے ہی زنا عقل انسانی کے نزدیک ایک قبیح فعل تھا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو فاحشہ کا نام دیا، سمعی حجت کے ورود سے قبل یا اس کے بعد کی حالت کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں کی۔ عقلی طور پر زنا ایک قبیح فعل ہے اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ زانی عورت پیدا ہونے والے بچے کا…
Read the full tafseer →59۔ زنا کے قریب پھٹکنے کی بھی ممانعت :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور (خبردار) کبھی زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کہ یہ بڑی سخت بےحیائی اور کھلی برائی ہے “ پس تم لوگ ان اسباب و وسائل اور دواعی محرکات سے بھی بچنا اور دور رہنا جو زنا کے اس سنگین جرم کا ذریعہ بن سکتے ہیں والعیاذ باللہ۔ جیسا کہ غیرمحرموں سے آزادنہ میل جول رکھنا۔ اجنبی عورتوں کو دیکھنا ایسی کسی عورت کو ہاتھ لگانا یا تنہائی میں اس کے پاس بیٹھنا اور آمد و روفت رکھنا وغیرہ وغیرہ کہ یہ سب ہی امور ممنوع اور اس بےحیائی میں مبتلا کرنے والے میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس حکم وارشاد کے مخاطب افراد بھی ہیں اور پورا معاشرہ اور حکومت کے ذمہ دار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–40
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔
(ضبط تولید)
آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی یہی نہیں کہ زنا سے بچو بلکہ ان کاموں سے بھی بچتے رہو جو اس کی طرف لے جانے والے ہیں اور اس کا پیش خیمہ ہوسکتے ہیں جیسے اجنبی عورت کی طرف دیکھنا یا اس کے ساتھ نتہائی اختیار کرنا، یا اس سے بوس و کنار میں مبتلا ہونا وغیرہ۔2 حدیث میں ہے : لایزنی الزانی حین یزنی وھو مومن کہ زانی زنا کی حالت میں مومن نہیں رہتا۔ بہرحال یہ کبائر میں سے ہے۔ اور اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرنا اکبر الکبائر میں داخل ہے اور بعض نے شرک کے بعد زنا کا درجہ رکھا ہے۔ (روح)
Read the full tafseer →(17:32) فاحشۃ۔ الفحش والفحشاء والفاحشۃ۔ اس قول یا فعل کو کہتے ہیں جو قباحت میں حد سے بڑھا ہوا ہو۔ ایسی بےحیائی جس کا اثر دوسرے پر پڑے۔ آیات الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ (4:19) ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں۔ اور والتی یاتین الفاحشۃ من نشائکم (4:5) تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں۔ ان دونوں آیات میں مراد زنا ہے۔ فاحشۃ منصوب بوجہ خبر کان کے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–35
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 35
املاق غربت، آرام و آسائش۔ خطہ کبیر بڑی خطا، گناہ عظیم۔ لاتقربوا تم قریب نہ پھٹکو۔ ولی سرپرست، وارث۔ سلطان صاحب اختیار۔ لایسرف حد سے نہ بڑھو۔ منصور مدد کیا گیا۔ احسن بہترین۔ اشدہ اپنی طاقت، اپنی جوانی ۔ اوفوا پورا کرو، وفا کرو۔ الکیل تول۔ قسطاس ترازو۔ تاویل انجام۔
تشریح آیت نمبر 31 تا 35
سورۃ الاسراء میں چھ بنیادی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔
1- غربت و افلاس کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کرنا۔
2- زنا اور بدکاری کے ذریعہ بدترین راستوں کو کھولنا۔
3- ناحق کسی انسان جان کو لینا اور قتل کرنا۔
4- یتیم ( بےباپ کے بچوں) کے مال کو ہڑپ کر جانا۔
5- وعدہ خلافی کرنا۔
6- ماپ تول میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–39
حقوق العباد میں رخنہ ڈالنے والی چیزوں کا ذکر اور کامیاب زندگی کا جامع اصول
ان ا آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ زنا کو فحش اور برا راستہ کہا ہے۔ اس کی وجوہ ظاہر ہیں، اول تو اس میں اختلاط نسب ہے دوسرے جو بچہ اس بری صورت سے پیدا ہوا اس کے نفقہ کا کون ذمہ دار ہوگا اور بعض وقت جانیں بھی جاتی رہتی ہیں۔ عورت سے مقصود صرف شہوت رانی نہیں بلکہ اصلی مطلب یہ ہے کہ باہم مل کر خانہ داری میں ایک دوسرے کا معین (مدد گار) ہو بیماری میں بڑھاپے میں ایک دوسرے کا ساتھ دے، زنا میں یہ بات ممکن نہیں ، زنا کو قطعی حرام ٹھہرایا۔ یہاں تک کہ تاکید کی کہ اس کے پاس جانے کی بھی ممانعت کردی۔ (1) پھر فرمایا کہ جس قتل کا کرنا شریعت…
Read the full tafseer →[26] یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو بلکہ فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو یعنی ان ابتدائی محرکات سے بھی بچو جو اس راستے کی طرف لے جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
(ف 2) اس آیت میں مسلمانوں کو اعتدال کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے ، اور اسے کہا ہے کہ اپنی مالی حالت کا جائزہ لیتا رہے ۔ نہ اس قدر شاہ خرچ ہو ، کہ جو کچھ ہاتھ لگے صرف کردیا جائے ، اور بعد میں پشیمانی اٹھانا پڑے ، اور نہ بخل وامساک کا اظہار ہو ، بین بین رہے ، افسوس مسلمان آج خرچ کے معاملہ میں بالکل محتاط نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بکمال مہربانی ہے ہر بات سمجھا دی ہے ۔ مسلمان محنت سے روپیہ کماتا ہے ۔ اور رسم و رواج کی پابندیوں میں اڑا دیتا ہے ۔ اور وہ روپیہ جو اللہ کی نعمت ہے محض فضول باتوں میں ضائع ہوجاتا ہے ، آج کسب واکتساب کے جس قدر اسباب ہیں ، وہ سب مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں مگر پھر بھی…
Read the full tafseer →-32 اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو اور قریب بھی نہ جائو بلاشبہ وہ بڑی بےحیائی کی بات ہے اور وہ بہت بری راہ ہے۔ یعنی فی حد ذات بیحیائی اور مفاسد کے اعتبار سے بری راہ ہے قریب نہ جانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے مبادی اور اس کے دواعی سے بھی دور رہو۔
حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اگر یہ راہ نکلے تو ایک دوسرے کی عورت پر نظر کرے کوئی اور اس کی عورت پر کرے۔ 12
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی اس کے مبادی و مقدمات سے بھی بچو۔
Read the full tafseer →زنا کے قریب بھی مت جاؤ کیونکہ یہ بڑی ہی بےحیائی کی بات ہے ۔
42۔ منشور اسلامی کی ساتویں شق میں زنا کی حرمت بیان کی گئی جس کے حرام ہونے کی دو وجہ بیان کی گئی ہیں اول یہ کہ وہ بےحیائی ہے اور انسان میں حیا نہ رہی تو وہ انسانیت ہی سے محروم ہوگیا کیونکہ بےحیاء وہی ہے جس میں برے بھلے کی تمیز نہ رہے اس لئے نبی اعظم وآخر ﷺ نے فرمایا ” اذا فاتک الحیاء فافعل ماشئت “ یعنی جب تیری حیا جاتی رہی تو کسی برائی سے رکاوٹ کا کوئی پردہ نہ رہا تو پھر جو چاہے کرتا رہ اور یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے حیاء کو ایمان کا ایک اہم شعبہ قرار دیا اور فرمایا والحیاء شعبہ من ال ایمان “۔ (بخاری) حیاء ایمان کا حصہ ہے ، دوسری وجہ…
Read the full tafseer →Commentary
The seventh injunction given here relates to the forbiddance of zina (fornication, adultery). Given here are two reasons as to why it has been forbidden: (1) This is a shame, gross and immodest. Whoever is denuded of modesty is denuded of human nobility itself and is rendered incapable of distinguishing the good from the bad. This is more succinctly said in a Hadith:
اِذَا فَاتَک الحیاء فافعل ماشٔت
When goes your sense of shame (that could become a barrier against evil), so then, you will do what you will.
Therefore, the Holy Prophet ﷺ has declared sense of shame (haya' ) as a…
Read the full tafseer →32.“And do not come near to adultery”. This commandment is meant both for individuals and society as a whole. It warns each individual not only to guard against adultery or fornication itself but against all those things that lead to or stimulate it. As regards to society as a whole the commandment enjoins it to make such arrangements as prevent adultery and eradicate the means and stimulants that lead to adultery. Therefore, the society should employ all those legal and educative means that help develop such an environment as prevents and eradicates indecency.
Finally, this article formed…
Read the full tafseer →