Al-Israa 17:31

Al-Israa · from ayah 31

17:31

وَلَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ ؕ— نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِیَّاكُمْ ؕ— اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا ۟وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَكُمۡ خَشۡيَةَ اِمۡلَاقٍ‌ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَاِيَّاكُمۡ‌ؕ اِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡاً كَبِيۡرًا

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔ (کیونکہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not kill your children for fear of poverty. We provide for them and for you. Indeed, their killing is ever a great sin.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:31

اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی در حقیقت اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔ (کیونکہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور مفلسی کے خوف سے اپنی اوﻻد کو نہ مار ڈالو، ان کو اور تم کو ہم ہی روزی دیتے ہیں۔ یقیناً ان کا قتل کرنا کبیره گناه ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے، اور تمہیں بھی۔ یقین جانو کہ ان کو قتل کرنا بڑی بھاری غلطی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے ڈر سے ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی، بیشک ان کا قتل بڑی خطا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور تم اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل مت کرو، ہم ہی انہیں (بھی) روزی دیتے ہیں اور تمہیں بھی، بیشک ان کو قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی۔ بیشک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور مفلسی کے اندیشہ سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ انھیں اور خود تمہیں بھی رزق ہم دیتے ہیں۔ انھیں قتل کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم اپنی اولاد کو ناداری کے اندیشہ سے قتل نہ کرو، ہم ہی ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی، بیشک ان کا قتل بہت بڑا جرم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اپنی اولاد کو قتل نہیں کرنا تنگ دستی کے خوف سے، کہ روزی ہم ہی دیتے ہیں ان کو بھی، اور تم کو بھی، بلاشبہ (بےگناہوں) کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اپنی اولاد کو ناداری کے اندیشہ سے قتل مت کردیا کرو۔ ہم ہی ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی۔ بیشک ان کا قتل کرنا بہت بڑا جرم ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو مفلسی کے اندیشے سے ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی یقیناً ان کو قتل کرنا بہت بڑی خطا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو کیونکہ ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں، کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

(vii) Do not kill your children for fear of want. We will provide for them and for you. Surely killing them is a great sin.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do not kill your children for fear of poverty. We provide sustenance to them and to you, too. Killing them is a great sin indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

Do not kill your children for fear of poverty. We provide sustenance to them and to you, too. Killing them is a great sin indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And kill not your children for fear of poverty. We shall provide for them as well as for you. Surely, the killing of them is a great sin.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Slay not your children, fearing a fall to poverty, We shall provide for them and for you. Lo! the slaying of them is great sin.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not kill your children for fear of poverty. We provide for them and for you. Indeed, their killing is ever a great sin.

— Saheeh International

Do not kill your children for fear of poverty. We will give sustenance to all of you. To kill them is certainly a great sin.

— Muhammad Sarwar

And do not kill your children for fear of poverty; We give them sustenance and yourselves (too); surely to kill them is a great wrong.

— Muhammad Habib Shakir

And saly not your offspring for fear of want; We provide for them and for yourselves; verily their slaying is a great crime.

— Abdul Majid Daryabadi

Kill not your children for fear of want: We shall provide sustenance for them as well as for you. Verily the killing of them is a great sin.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

قتل اولاد کی مذمت دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ان کے ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے۔ ایک طرف ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنا مال اپنے بچوں کو بطور ورثے کے دو اور دوسری جانب فرماتا ہے کہ انہیں مار نہ ڈالا کرو۔ جاہلیت کے لوگ نہ تو لڑکیوں کو ورثہ دیتے تھے نہ ان کا زندہ رکھنا پسند کرتے تھے بلکہ دختر کشی ان کی قوم کا ایک عام رواج تھا۔ قرآن اس نافرجام رواج کی تردید کرتا ہے کہ یہ خیال کس قدر بودا ہے کہ انہیں کھلائیں گے کہاں سے ؟ کسی کی روزی کسی کے ذمہ نہیں سب کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سورة انعام میں فرمایا آیت (وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 31 یہ آیت ان معاشی بنیادوں کو قطعی منہدم کردیتی ہے جن پر قدیم زمانے سے آج تک مختلف ادوار میں ضبط ولادت کی تحریک اٹھتی رہی ہے۔ افلاس کا خوف قدیم زمانے میں قتل اطفال اور اسقاط حمل کا محرک ہوا کرتا تھا، اور آج وہ ایک تیسری تدبیر، یعنی منع حمل کی طرف دنیا کو دھکیل رہا ہے۔ لیکن منشور اسلامی کی یہ دفعہ انسان کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ کھانے والوں کو گھٹانے کی تخریبی کوشش چھوڑ کر ان تعمیری مساعی میں اپنی قوتیں اور قابلیتیں صرف کرے جن سے اللہ کے بنائے ہوئے قانون فطرت کے مطابق رزق میں افزائش ہوا کرتی ہے۔ اس دفعہ کی رو سے یہ بات انسان کی بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے کہ وہ بار بار…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور اپنی اولاد کو مفلسی کے اندیشہ سے قتل نہ کرو (کیونکہ سب کے رازق ہم ہیں) ہم ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی (اگر رازق تم ہوتے تو ایسی باتیں سوچتے) بیشک ان کا قتل کرنا بڑا بھاری گناہ ہے۔ معارف و مسائل سابقہ آیات میں انسانی حقوق کے متعلق ہدایات کا ایک سلسلہ ہے یہ چھٹا حکم اہل جاہلیت کی ایک ظالمانہ عادت کی اصلاح کے لئے ہے زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ ابتداء ولادت کے وقت اپنی اولاد خصوصا بیٹیوں کو اس خوف سے قتل کر ڈالتے تھے کہ ان کے مصارف کا بار ہم پر پڑے گا آیت مذکورہ میں حق تعالیٰ نے ان کی جہالت کو واضح کیا ہے کہ رزق دینے والے تم کون یہ تو خالص اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تمہیں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا۔ قتل اولاد کی ممانعت : یہ اوبر والی بات ہی پر متفرع ہے۔ یعنی جب اصل حقیقت یہ ہے کہ اصل رازق خدا ہی ہے تو کسی دوسرے کو یہ حق کہاں سے پہنچتا ہے کہ وہ کسی دوسری جان کو اس اندیشہ سے ہلاک کردے کہ وہ کھائے گی کیا۔ عرب جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کردینے کی جو سنگ دلانہ رسم جاری تھی اس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ عورت کوئی کماؤ فرد تو ہے نہیں تو لڑکیوں کی پرورش کا بوجھ کیوں اٹھایا جائے۔ قرآن نے اس سنگ دلانہ جرم کے اصل محرک پر ضرب لگائی اور اس بربریت کا خاتمہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

31۔ 1 یہ آیت سورة الا نعام، 151 میں بھی گزر چکی ہے، حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے شرک کے بعد جس گناہ کو سب سے بڑا قرار دیا وہ یہی ہے کہ ان تقتل ولدک خشیۃ ان یطعم معک۔ (صحیح بخاری) ' کہ تو اپنی اولاد اس ڈر سے قتل کردے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی ' آجکل قتل اولاد کا گناہ عظیم طریقے سے خاندانی منصوبہ بندی کے حسین عنوان سے پوری دنیا میں ہو رہا ہے اور مرد حضرات ' بہتر تعلیم و تربیت ' کے نام پر اور خواتین اپنے ' حسن ' کو برقرار رکھنے کے لئے اس جرم کا عام ارتکاب کر رہی ہیں۔ اعاذنا اللہ منہ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 31–32

16: مشرکین عرب بعض اوقات تو لڑکیوں کو اس لئے دفن کردیتے تھے کہ اپنے گھر میں لڑکی کے وجود ہی کو وہ باعث شرم سمجھتے تھے، اس کے علاوہ بعض مرتبہ اولاد کو اس لئے قتل کردیتے تھے کہ ان کو کھلانے سے مفلس ہوجانے کا احتمال تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی گمراہی کے نتیجے میں کسی بھی سوسائٹی کے اندر عملی خرابی پیدا ہوجاتی ہے۔ نظریاتی بےراہ روی کی وجہ سے صرف نظریہ ہی خراب نہیں ہوتا یا اس کے نتیجے میں محض مذہبی مراسم میں کمزوری نہیں آتی بلکہ سوسائٹی کا اجتماعی نظام بھی خراب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا نظریہ درست ہو تو صرف اس کی عبادت ہی درست نہیں ہوجاتیں بلکہ اس سوسائٹی کا عملی نظام ، اس کے اجتماعی ادارے بھی صحیح و سلامت ہوجاتے ہیں اور درست سمت میں کام کرتے ہیں۔ اور لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کی یہ رسم محض غلط عقیدے پر قائم کی تھی کہ لڑکیوں کی وجہ سے غربت آتی ہے ، جب یہ عقیدہ پیدا ہوا کہ رزاق صرف اللہ ہے تو اس کے بعد قتل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 بعض کافر اولاد کو مار ڈالتے تھے کہ ان کا خرچ کہاں سے لائیں گے۔ " سورة انعام " میں اسی مضمون کی آیت گزر چکی تفصیل وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔ 7 کیونکہ یہ بےرحمی کی حرکت نسل انسانی کے قطع کرنے کا موجب ہے اور ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا کرنے والے کو حق تعالیٰ کی رزاقی پر اعتماد نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 31 وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ قدیم زمانے میں قتل اولاد کا محرک افلاس کا خوف ہوا کرتا تھا۔ آج کل ہمارے ہاں برتھ کنڑول اور آبادی کی منصوبہ بندی کے بارے میں جو اجتماعی سوچ پائی جاتی ہے اور اس سوچ کے مطابق انفرادی اور اجتماعی سطح پر جو کوششیں ہو رہی ہیں ان کی کئی صورتیں بھی اس آیت کے حکم میں آتی ہیں۔ اس سلسلے میں مجموعی طور پر کوئی ایک حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ اس کی تمام صورتیں حرام مطلق نہیں بلکہ بعض صورتیں جائز بھی ہیں جبکہ بعض مکروہ اور بعض حرام۔ مگر ایسی سوچ کو ایک اجتماعی تحریک کی صورت میں منظم کرنا بہر حال ایمان اور توکل علی اللہ کی نفی ہے۔ اس کوشش کا سیدھا اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

36 مفلسی کے ڈر سے قتل اولاد اور منصوبہ بندی :۔ مفلسی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت رزاقیت پر عدم توکل یا براہ راست حملہ کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ تمہیں بھی تو ہم رزق دے ہی رہے ہیں اور جیسے تمہیں دے رہے ہیں ویسے تمہاری اولاد کو بھی ضرور دیں گے اور اگر تمہیں مفلسی کا اتنا ہی ڈر ہے تو پہلے تمہیں خود مرجانا چاہیے۔ اولاد کو کیوں مارتے ہو ؟ تاکہ تمہاری یہ فکر ہی ختم ہوجائے اور آخر میں یہ فرما دیا کہ تمہارا یہ کام بہت بڑا گناہ کا کام ہے۔ عرب میں تو قتل اولاد کا سلسلہ انفرادی طور پر ہوتا تھا مگر آج کل ایسے ہی کام اجتماعی طور پر اور حکومتوں کی طرف سے ہو رہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44۔ قتل اولاد کی حمایت میں ایک بڑی دلیل جاہلی قوموں کے ہاتھ میں والدین کی مفلسی رہی ہے اور اسی دلیل سے کام لے کر آج بیسویں صدی میں بڑے طمطراق کے ساتھ ” منع حمل “ کی تحریک کو اٹھایا گیا ہے۔ قرآن مجید اس نظریہ باطل کی قطعی تردید کرتا ہے۔ سورة انعام، پ 8 میں اس پر حاشیہ گذر چکا۔ متعدد جاہلی قوموں کا نظریہ یہ رہا ہے کہ افراد کا سبہ چونکہ عورتوں میں نہیں، صرف مردوں ہی میں پیدا ہوتے ہیں، اس لئے عورت کو قومی دولت میں شرکت کا اور اس لئے زندہ رہنے کا بھی کوئی حق نہیں۔ عرب جاہلی میں بھی یہی نظریہ عام تھا۔ العرب کانوا یقتلون البنات لعجز البنات عن الکسب وقدرۃ البنین علیہ بسبب اقدامھم علی النھب والغارۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 31–40

آیت نمبر 31 تا 40 ترجمہ : اور تم اپنی اولاد کو افلاس کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم ان کو بھی رزق دیں گے اور تم کو بھی، اور بالشبہ ان کا قتل کرنا بڑا گناہ ہے اور زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو (یہ تعبیر) تم زنا نہ کرو کی تعبیر سے زیادہ بلیغ ہے، بلاشبہ وہ بہت برا فعل ہے اور نہایت برارستہ ہے اور قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ اور جو شخص مظلوماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے وارث کو قاتل سے قصاص کے مطابق کا حق عطا کیا ہے تو اس کو قتل میں (حد شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہیے بایں طور کہ غیر قاتل کو قتل کرے یا اس آلہ کے علاوہ سے قتل کتے کہ جس کے ذریعہ قتل کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ: اور اپنی اولاد کو یعنی لڑکیوں کو محتاجی کے کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم ان کو بھی رزق عطا کریں گے اور تم کو بھی۔ سب کو رزق دینے کی ہماری ذمہ داری ہے۔ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا : ان کو قتل کرنا یقیناً بڑا جرم ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا سب سے بڑا کون سا گناہ ہے۔ فرمایا (سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) اللہ کے مثل دوسروں کو قرار دے باوجودیکہ اللہ ہی نے تجھے پیدا کیا ہے ‘ میں نے عرض کیا یہ بیشک بڑا گناہ ہے اس کے بعد کون سا گناہ ہے فرمایا اپنی اولاد کو خود قتل کرنا یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(31) یہ آیت قبیلہ خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ وہ اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے، اس کی اللہ تعالیٰ نے ممانعت فرمائی کہ ناداری اور ذلت کے اندیشہ سے اپنی لڑکیوں کو زندہ مت دفن کیا کرو ہم ان لڑکیوں کو اور تم کو بھی رزق دیتے ہیں کردینا سزا کے اعتبار سے بہت بڑا بھاری گناہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ۧوَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ۔۔ : اگرچہ اولاد میں لڑکے لڑکیاں دونوں شامل ہیں، مگر عرب کی تاریخ میں اکثر لڑکیوں ہی کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ) [ التکویر : 8 ] ”اور جب زندہ دفن کی گئی سے پوچھا جائے گا۔“ ”الْمَوْءٗدَةُ“ مؤنث لانے سے ظاہر یہی ہے کہ زندہ درگور لڑکی ہی ہوتی تھی، لیکن اگر اسے ”نفس موء ودہ“ کہا جائے تو پھر لڑکا لڑکی دونوں مراد ہوسکتے ہیں، کیونکہ ”نفس“ کا لفظ زبان عرب میں مؤنث ہے، سو معنی ہوگا : ”اور جب زندہ درگور کی ہوئی جان سے سوال کیا جائے گا۔“ اور اگرچہ عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ وہ لڑکی کو غیرت کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 30–31

آیت نمبر 30 تا 31 اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اس آیت کے بارے میں سورة الانعام میں بحث گزر چکی ہے، والحمدللہ۔ اور الإملاق سے مراد فقر و افلاس اور ملکیت کا نہ ہونا ہے۔ أملق الرجل یعنی اس کے لئے سوائے ملقات کے کچھ باقی نہیں رہا اور ملقات سے مراد بڑے بڑے ہموار اور چکنے پتھر ہیں ہذلی نے شکاری کا وصف بنان کرتے ہوئے کہا ہے : أتیح لھا أقیدر ذو حشیف إذا سامت علی الملقات ساما ملقات کا واحد ملقۃ ہے۔ اور أقیدر، اقدا کی تصیغر ہے، مراد چھوٹے قد کا آدمی ہے۔ اور الحشیف من الشیاب سے مراد پرانا کپڑا ہے۔ اور سامت کا معنی مرت (وہ گزری) ہے، مراد شمرنے کہا ہے : املق لازم اور متعدی دونوں طرح ہے، املق جب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن ابی جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق “ (یعنی اولاد کو قتل نہ کرو فاقہ کے خوف سے) زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی لڑکیوں کو فاقہ کے ڈر سے قتل کردیتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کو نصیحت فرمائی اور ان کو بتایا کہ ان کا رزق اور ان کی اولاد کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے، اسی کو فرمایا (آیت) ” نحن نرزقہم وایاکم “ یعنی بڑا گناہ ہے (ان کا قتل کرنا) 2:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” خشیۃ املاق “ سے مراد ہے فاقہ اور غربت کا خوف۔ افلاس کے خوف سے اولاد کو قتل کرنا حرام ہے : 3:۔ طستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَا تَقْتُلُوْٓا : اور تم لوگ قتل مت کرو ] [اَوْلَادَكُمْ : اپنی اولاد کو ] [خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ : مفلس ہونے کے خوف سے ] [نَحْنُ : ہم ہی ] [نَرْزُقُهُمْ : رزق دیتے ہیں ان کو ] [وَاِيَّاكُمْ : اور تم کو بھی ] [ان : یقینا ] [قَتْلَهُمْ : ان کو قتل کرنا ] [كَان : ہے ] [خِطْاً كَبِيْرًا : ایک بڑی غلطی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اپنی اولاد کو قتل نہ کرو، زنا کے قریب نہ جاؤ، کسی جان کو بلاشرعی حکم کے قتل نہ کرو، یتیموں کا مال نہ کھاؤ ان آیات میں متعدد احکام ذکر فرمائے ہیں، پہلا حکم یہ فرمایا کہ اپنی اولاد کو تنگدستی کے ڈر سے قتل نہ کرو اہل عرب اولاد کو اس وجہ سے قتل کردیتے تھے کہ ہم اولاد کو کہاں سے کھلائیں گے جو لوگ تنگدستی میں ایسا کرتے تھے ان کے بارے میں فرمایا (وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ) یہ الفاظ سورة انعام میں ہیں اور کچھ لوگ اس لیے قتل کردیتے تھے کہ ممکن ہے آئندہ تنگدست ہوجائیں۔ ان کے لیے فرمایا (وَ لَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ ) تم تنگدستی کے ڈر سے اولاد کو قتل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–38

تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

31:۔ دفع عذاب کے لیے امر سوم کا ذکر یعنی مخلوق خدا پر ظلم نہ کرو یہاں چھ امور ظلم ذکر کیے گئے ہیں۔ یہ پہلا ظلم ہے یعنی تنگدستی اور تنگی رزق کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو اولاد کو قتل کرنا بہت بڑا کبیر گناہ ہے۔ آخر تم بھی رزق کھا کر ہی جی رہے ہو تمہیں روزی کون دیتا ہے جب میں تمہیں روزی دے رہا ہوں تو انہیں بھی دوں گا اس لیے تنگی رزق کا اندیشہ نہ کرو۔ عرب کے لوگ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ عورت چونکہ روزی نہیں کما سکتی اور والدین پر اس کی پرورش بوجھ بن جاتی ہے اس لیے وہ شروع ہی میں اسے ٹھکانے لگا دیتے تو اللہ تعالیٰ نے اس ظالمانہ حرکت سے منع فرمایا۔ خاندانی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 31–33

ربط آیات : اس سے پیشتر اسلامی نظام معاشرت کے چھ اصول بیان ہوچکے ہیں ، یعنی خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر استقامت ، مال باپ کے ساتھ حسن سلوک ، قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کے حق کی ادائیگی ، فضول خرچی سے اجتناب اور اگر کسی وقت مالی حال کمزور ہو تو مستحقین کو نرمی سے جواب دہی بخل سے اجتناب اور اخراجات میں میانہ روی کو اپنانا ، سب کچھ بیک وقت خرچ کرنے کو بھی غیر مستحسن فرمایا کہ ایسا کرنے سے بعد میں پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔ (7) (قتل اولاد کی ممانعت) اب آگے کچھ منہیات آرہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے چناچہ ساتویں اصول کے طور پر مفلسی کے خوف سے قتل اولاد سے منع فرمایا گیا ہے ، قرآن کریم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا 31؀ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ الاملاق الافتقار۔ ترکیب : خشیۃ املاق مفعول لہ۔ املاق فقر۔ الخطاء بکسر الخاء و سکون الطاء والھمز مصدر خطی و جاء بکسر الخاء وفتح الطاء من غیر ھمز ھوالاثم یقال خطی خطاء کا ثم اثما لاتقف الماضی منہ قفا اے متبع و یقرء بضم القاف واسکان الفاء مثل تقم وماضیہ قاف یقوف اذا تبتع کل اولئک مبتدأو اولئک اشارۃ الی السمع و البصر والفوا دوان کان الاشارۃ باولئک فی الاکثرالی من یعقل و لکن قد جاء لمن لایعقل۔ سیئۃ 1 ؎ بضم الھاء والھمزۃ بالاضافۃ ای سییء بعض المذکور المنہی عنہ مکروہ عنداللہ۔ پس سیئہٗ کان کا اسم مکروھًا خبر جملہ خبر کل ذالک نافع ابن کثیر الوعمرو نے سَیِۃٌ پڑھا ہے۔ تفسیر … چھٹا حکم : ولاتقتلو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلاَ تَقْتُلُوْٓا اَوْلاَ دَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلاَقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ ط اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 31) (اور نہ قتل کرو اپنی اولاد کو، ناداری کے اندیشہ سے، ہم ہی ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی، بیشک ان کا قتل بہت بڑا جرم ہے) قتلِ اولاد کی ممانعت اس سے پہلے ارشاد فرمایا گیا کہ رزق کے خزانے اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ اس کی مشیت ہے جس نے انسانوں میں رزق اور وسائل رزق میں تفاوت اور تفاضل رکھا ہے۔ وہ چونکہ حکیم ہے اس لیے خوب جانتا ہے کہ انسانوں میں مصنوعی طور پر رزق میں برابری کی کوشش اللہ تعالیٰ کے نظام میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔ اس کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 31–32

فہم القرآن ربط کلام : ضبط اولاد کے مصنوعی اور غیر شرعی طریقوں سے بدکاری کو رواج ملتا ہے۔ لہٰذا زنا کے راستوں اور طریقوں سے منع کیا گیا ہے۔ زنا کے نتیجہ میں حمل ٹھہر جائے تو بچہ ضائع کردیا جاتا ہے۔ اس لیے قتل اولاد سے منع کرنے کے بعد زنا سے بھی منع کیا گیا ہے۔ دین اسلام نہ صرف زنا سے منع کرتا ہے بلکہ وہ زنا کی قربتوں اور راستوں سے بھی روکتا ہے اور زنا کو بےحیائی اور برا راستہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے جن راستوں اور واسطوں کے ذریعے آدمی زنا کا مرتکب ہوتا ہے۔ ان سے اجتناب کرنے کا سختی کے ساتھ حکم دیا گیا ہے۔ زنا ایسا برا عمل ہے جو آدمی سے یکدم سرزد نہیں ہوتا بلکہ پہلے کچھ اقدامات اور حرکات کرنا پڑتی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قتل اولاد کی ممانعت : 31: وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ (اور تم اپنی اولاد کو قتل نہ کرو) ۔ انہوں نے اپنی اولاد کو قتل اور بیٹیوں کو زندہ درگور کیا۔ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ (بھوک کے ڈر سے) اِمْلَاق کا معنی فقر آتا ہے۔ نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ (ہم ہی ان کو رزق دینے والے ہیں اور تمہیں بھی) ان کو اس قتل سے منع کیا اور ان کے رزق کی ضمانت دی۔ اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْأً کَبِیْرًا (انکا قتل کرنا یقینا بڑا جرم ہے۔ ) بڑا گناہ۔ کہا جاتا ہے خَطِئَی خطأً جیسے اَثِمَ اِثْمًا۔ قراءت : شامی نے خَطَأَ پڑھا ہے۔ یہ صَوَاب کی ضد ہے۔ اور اَخْطَأَ سے یہ اسم ہے۔ بعض کا قول یہ ہے کہ خطا اور خطأ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31۔” ولا تقتلوا اولاد کم خشیۃ املاق “ املاق سے فقر مراد ہے۔” نحن نرزقیھم وایاکم “ زمانہ جاہلیت میں لوگ فقر کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کو زندہ در گور کرتے تھے۔ اس آیت میں اس فعل سے نہی کی گئی ہے اور ان کو خبر دی کہ تمہارا رزق اور تمہاری اولاد کا رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔” ان قتلھم کان خطاً کبیراً “ ابن عامر اور جعفر کا قول ہے کہ ” خطائ “ طاء کے فتحہ کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ ابن کثیر نے خاء کے کسرہ کے ساتھ اور مد کے ساتھ پڑھا ہے ، دوسرے قراء نے خاء کے کسرہ اور طاء کے جزم کے ساتھ پڑھا ہے۔ سب کا معنی ایک ہی ہے یعنی بڑا گناہ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

31۔ : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اولاد کو ماں باپ کا حق ادا کرنے کی تاکید فرمائی تھی اب اس آیت میں ماں باپ کو اولاد کی شفقت کی تاکید ہے سورة الخل میں گذر چکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے سے پہلے عرب میں یہ رسم تھی کہ لڑکیوں کی آیت سے یہ بات نکالی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ماں باپ سے زیادہ شفیق ہے کیونکہ اہل عرب کے ان ماں باپ کی سختی کو جو لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے اللہ کی شفقت نے گوارا نہیں رکھا۔ اصل بات یہ ہے کہ علماء نے اس آیت سے وہ بات نکالی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شفقت ماں باپ کی شفقت سے بڑھی ہوئی ہے یہ مثال کے طور پر ایک کہنے کی بات ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو مخلوق کی شفقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت نمبر 31 یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندے پر بےپایاں رحمت ہے۔ وہ اپنے بندوں پر ان کے ماں باپ سے بھی زیادہ مہربانی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے والدین کو بھوک اور فقر کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا اور سب کی کفالت کا ذمہ لیا ہے اور آگاہ فرمایا ہے کہ اولاد کو قتل کرنا، بہت بڑی خطا اور کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ ہے اور اس کا سبب دل کا شفقت سے خالی ہونا اور بچوں کے قتل کی جسارت ہے جن سے کوئی گناہ اور معصیت سر زد نہیں ہوئی۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قتل اولاد کی ممانعت قول باری ہے (ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق۔ اور اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو) اس کلام میں اس سبب کا بھی ذکر موجود ہے جو اس کے نزول کا پس منظر ہے۔ وہ اس طرح کہ عرب کے اندر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو افلاس کے اندیشے سے اپنی بیٹیوں کو قتل کردیتے تھے تاکہ ان کے اخراجات کا بوجھ ان پر نہ پڑے اور اس طرح بچ رہنے والی رقم ان کی ذات اور اہل و عیال کے کام آ جائے۔ عربوں میں اس کا عام رواج تھا اور اس بری رسم کا دائرہ بڑا وسیع تھا۔ ایسی لڑکیاں موئودۃ کہلاتی تھیں۔ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کیا ہے (واذا الموودۃ سئلت بای ذنب قتلت اور جب زندہ درگور کی جانے والی لڑکی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58۔ ہر کسی کی روزی اللہ تعالیٰ ہی کے ذمے :۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” روزی سب کو ہم ہی دیتے ہیں ان کو بھی اور تم کو بھی “ کہ روزی رساں سب کے ہم ہی ہیں۔ اور جب روزی سب کی ہمارے ذمے ہے تو پھر تمہارے لئے اپنی اولاد کو تنگ دستی کے خوف سے قتل کرنا کس طرح جائز ہوسکتا ہے ؟ پس تم لوگ اپنی جہالت کی بناء پر اور شیطان کی اکساہٹ کے نتیجے میں کبھی بھی اپنی اولاد کے قتل کرنے کی اس ہولناک اور وحشیانہ جرم کا ارتکاب نہ کرنا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ بچوں کو خود قتل کرنا اور اس قسم کے ادہام کی بنا پر قتل کرنا بڑا ہی وحشیانہ اور سنگدلانہ فعل اور ہولناک گناہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–39

بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 31–40

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف اب اگلا حکم اولاد کے ساتھ تعلق کا ارشاد ہوا کہ لوگ اولاد کو قتل کردیتے خصوصا بیٹیوں کو اور یہ رواج عہد جاہلیت میں بڑے فخر کی بات سمجھا جاتا تھا اس پر ارشاد ہوا کہ اللہ جل جلالہ سب کا رازق ہے ، اولاد دیتا ہے تو اسے بغیر رزق کے دنیا میں پیدا نہیں کرتا بلکہ انہیں بھی رزق دیتا جیسے خود تمہیں دیتا ہے اور ان کا قتل تو بہت بڑا گناہ ہے ۔ (ضبط تولید) آج کے دور کا یہ مسئلہ کہ آبادی میں اضافہ روکنے کے لیے خاندانی منصوبہ بندی کے نام پر ضبط تولید کو رواج دیا جا رہا ہے بھی بہت ہی گناہ اگرچہ یہ قتل اولاد نہ بھی ہو تو گناہ تو بہت بڑا ہے کہ اس کا سبب بھی یہی بتایا جاتا ہے کہ ضروریات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 چاہے نہیں زندہ دفن کر کے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں بعض عرب قبائل کیا کرتے تھے اور چاہے ایسے مصنوعی طریقہ اختیار کر کے ان کی پیدائش کو ہی روک دیا جائے جیسا کہ منصوبہ بندی اور برتھ کنٹرول کو یہ بھی خشیتہ املا کے پیش نظر وادخفی کی ایک صورت ہے۔14 یعنی قطع نظر اس سے کہ رازق سب کا اللہ تعالیٰ ہے یہ فعل بذات خود بہت بڑا گناہ بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:31) خشیۃ۔ خوف۔ ڈر۔ ہیبت۔ خشیۃ اس خوف کو کہتے ہیں جس میں تعظیم شامل ہو۔ اسی بناء پر آیۃ شریفہ انما یخشی اللہ من عبادہ العلمؤ(35:28) اللہ کے بندوں میں سے اللہ سے وہی ڈرتے ہیں جو عالم ہیں۔ اس میں علماء کو خشیت سے مخصوص کیا گیا ہے املاق۔ مصدر (افعال) سے مفلس اور تنگ دست ہونا۔ فقروفاقہ۔ خشیۃ املاق مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول لہٗ ہے لا تقتلواکا۔ خطا۔ گناہ ۔ چوک۔ جرم۔ خطائ۔ خطیٔ یخطأ (سمع) کا مصدر ہے بمعنی گناہ کرنا کے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 31–35

لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 35 املاق غربت، آرام و آسائش۔ خطہ کبیر بڑی خطا، گناہ عظیم۔ لاتقربوا تم قریب نہ پھٹکو۔ ولی سرپرست، وارث۔ سلطان صاحب اختیار۔ لایسرف حد سے نہ بڑھو۔ منصور مدد کیا گیا۔ احسن بہترین۔ اشدہ اپنی طاقت، اپنی جوانی ۔ اوفوا پورا کرو، وفا کرو۔ الکیل تول۔ قسطاس ترازو۔ تاویل انجام۔ تشریح آیت نمبر 31 تا 35 سورۃ الاسراء میں چھ بنیادی اصولوں کو بیان کیا گیا ہے۔ 1- غربت و افلاس کے خوف سے اپنے بچوں کو قتل کرنا۔ 2- زنا اور بدکاری کے ذریعہ بدترین راستوں کو کھولنا۔ 3- ناحق کسی انسان جان کو لینا اور قتل کرنا۔ 4- یتیم ( بےباپ کے بچوں) کے مال کو ہڑپ کر جانا۔ 5- وعدہ خلافی کرنا۔ 6- ماپ تول میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اولاد کے قتل کی ممانعت : آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے سے پہلے عرب میں رسم تھی کہ لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے۔ اس خیال سے کہ لڑکیاں تو کچھ کما نہیں سکتیں لڑکے ان کے ساتھ لوٹ مار میں شریک ہوتے تھے۔ اس بد رسم کے بند کرنے کا حکم اس آیت میں دیا اور فرمایا کہ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ہم نے ذمہ لیا ہے کہ جس کو ہم پیدا کرتے ہیں اس کو رزق بھی دیتے ہیں ان کا قتل بہت بڑا گناہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–31

[24] ہاتھ گردن سے باندھ لینا عربی میں کنایہ ہے بخل سے۔ [25] ہاتھ کھول دینا کنایہ ہے فضول خرچی سے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–35

(ف 2) اس آیت میں مسلمانوں کو اعتدال کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے ، اور اسے کہا ہے کہ اپنی مالی حالت کا جائزہ لیتا رہے ۔ نہ اس قدر شاہ خرچ ہو ، کہ جو کچھ ہاتھ لگے صرف کردیا جائے ، اور بعد میں پشیمانی اٹھانا پڑے ، اور نہ بخل وامساک کا اظہار ہو ، بین بین رہے ، افسوس مسلمان آج خرچ کے معاملہ میں بالکل محتاط نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بکمال مہربانی ہے ہر بات سمجھا دی ہے ۔ مسلمان محنت سے روپیہ کماتا ہے ۔ اور رسم و رواج کی پابندیوں میں اڑا دیتا ہے ۔ اور وہ روپیہ جو اللہ کی نعمت ہے محض فضول باتوں میں ضائع ہوجاتا ہے ، آج کسب واکتساب کے جس قدر اسباب ہیں ، وہ سب مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں مگر پھر بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-3 1 اور اپنی اولاد کو ناداری اور افلاس کے خوف سے قتل مت کیا کرو ہم ہی ان کو بھی روزی دیتے ہیں اور تم کو بھی رزق دیتے ہیں بلاشبہ ان کا قتل کردینا بڑا گناہ اور بڑی بھاری چوک ہے۔ دور جاہلیت میں غربت اور افلاس کی وجہ سے اولاد کو قتل کردیا کرتے تھے بیٹیوں کو تو عام طور سے زندہ درگور کردینے کی رسم تھی کوئی بیٹوں کو بھی قتل کردیتا ہوگا یا اولاد کا لفظ محض ترحم اور شفقت کی وجہ سے فرمایا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کافر بیٹیوں کو مار ڈالتے تھے کہ اس کا خرچ کہاں سے لائیں گے۔ 13

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ جاہلیت میں بعضے آدمی بیٹیوں کو خوف فقر سے مار ڈالتے تھے، پس اولاد سے مراد بنات ہوں گی۔ اور اولاد کے عنوان سے تعبیر کرنا اظہار وتعلق و اختصاص کے لئے ہے کہ جوش ترحم ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منشور اسلامی کی ساتویں شق اولاد کو افلاس کے ڈر سے قتل کرنے کی ممانعت : 41۔ افلاس کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا عربوں کے بعض قبیلون میں موجود تھا اور خصوصا دختر کشی کی وبا عام تھی ، بلاشبہ جزیرہ عرب ایک ایسا ملک تھا جہاں چار سو ریگزار ہی ریگزار پھیلے ہوئے تھے اور معاشی وسائل ان کے پاس بہت کم تھے ، پانی کی قلت اور زمین کی ناہمواری ان کی سب سے بڑی مجبور تھی یہی وجہ تھی کہ مرفہ الحال کا وہاں تصور تک نہ تھا ایسے حالات میں جب کہ اپنا پیٹ بھرنا مشکل تھا وہاں اولاد کی خوراک کا بندوبست کرنا بڑا ہی دشوار تھا اس لئے معاشی خستہ حالی کے باعث ان کے ہاں اولاد کے قتل کرنے کا رواج پایا جاتا تھا اور لڑکیوں کو قتل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Previous verses carried a series of instructions regarding human rights. The sixth injunction appearing here is to correct a cruel custom prevailing among the people of Arabs of Jahiliyyah. During that period of time, some people used to kill their children, particularly daughters, at birth in fear of having to face the expenses on their maintenance. In the verse cited above, Allah Ta` ala has admonished them for their ignorance in assuming the responsibility of providing sustenance - who are you to do that?' This is the exclusive domain of Allah Ta’ ala. He is the One who gives…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

31. This verse cuts at the very root of the movement of birth control, which has been going on from ancient times to our present age. It was the fear of want that induced people to kill their children or resort to abortion. In our age another plan has been added to these, i.e. contraception. This article of the Islamic manifesto prohibits the people from reducing the number of mouths by artificial means but exhorts them to increase the means of production according to the natural methods enjoined by Allah. According to this article, it is one of the biggest mistakes of man to check birth rate…

Read the full tafseer →