Explained with ayahs 29–30
میانہ روی کی تعلیم
حکم ہو رہا ہے کہ اپنی زندگی میں میانہ روش رکھو نہ بخیل بنو نہ مسرف۔ ہاتھ گردن سے نہ باندھ لو یعنی بخیل نہ بنو کہ کسی کو نہ دو۔ یہودیوں نے بھی اسی محاورے کو استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان پر اللہ کی لعنتیں نازل ہوں کہ یہ اللہ کو بخیلی کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کریم و وھاب پاک اور بہت دور ہے۔ پس بخل سے منع کر کے پھر اسراف سے روکتا ہے کہ اتنا کھل نہ کھیلو کہ اپنی طاقت سے زیادہ دے ڈالو۔ پھر ان دونوں حکموں کا سبب بیان فرماتا ہے کہ بخیلی سے تو ملامتی بن جاؤ گے ہر ایک کی انگلی اٹھے گی کہ یہ بڑا بخیل ہے ہر ایک دور ہوجائے گا کہ یہ محض…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 30
یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان رزق کی بخشش میں کم و بیش کا جو فرق رکھا ہے انسان اس کی مصلحتوں کو نہیں سمجھ سکتا، لہٰذا تقسیم رزق کے فطری نظام میں انسان کو اپنی مصنوعی تدبیروں سے دخل انداز نہ ہونا چاہیے۔ فطری نا مساوات کو مصنوعی مساوات میں تبدیل کرنا، یا اس نا مساوات کو فطرت کی حدود سے بڑھا کر بےانصافی کی حد تک پہنچا دینا، دونوں ہی یکساں غلط ہیں۔ ایک صحیح معاشی نظام وہی ہے جو خدا کے مقرر کیے ہوئے طریق تقسیم رزق سے قریب تر ہو۔
اس فقرے میں قانون فطرت کے جس قاعدے کی طرف رہنمائی کی گئی تھی اس کی وجہ سے مدینے کے اصلاحی پروگرام میں یہ تخیل سرے سے کوئی راہ نہ…
Read the full tafseer →اللہ کی راہ میں اتنا خرچ کرنا کہ خود پریشانی میں پڑجائے اس کا درجہ
اس آیت سے بظاہر اس طرح خرچ کرنے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے جس کے بعد خود فقیر و محتاج ہوجائے اور پریشانی میں پڑجائے امام تفسیر قرطبی نے فرمایا کہ یہ حکم مسلمانوں کے عام حالات کے لئے ہے جو خرچ کرنے کے بعد تکلیفوں سے پریشان ہو کر پچھلے خرچ کئے ہوئے پر پچھتائیں اور افسوس کریں قرآن کریم کے لفظ مَّحْسُوْرًا میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے (کما قال المظہری) اور جو لوگ اتنے بلند حوصلہ ہوں کہ بعد کی پریشانی سے نہ گھبرائیں اور اہل حقوق کے حقوق بھی ادا کرسکیں ان کے لئے یہ پابندی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی عادت یہ تھی کہ کل کے لئے…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا۔
یہاں " یقدر " کے بعد بھی " لمن یشاء " ہے جو وضاحت قرینہ کی بنا پر حذف کردیا گیا ہے۔
رزق کی تنگی و کشادگی خدا کی مشیت پر منحصر ہے : اوپر والی آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ اور نہ تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھ کے رکھو، یہ آیت اسی کی وضاحت میں ہے کہ رزق کی تنگی و کشادگی کا انحصار آدمی کی اپنی تدبیروں پر نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر خدا کی حکمت و مشیت پر منحصر ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے اچھی طرح باخبر اور ان کا نگران و نگہبان ہے۔ وہی اپنی مشیت و حکمت کے تحت جس کے لیے رزق کو چاہتا ہے…
Read the full tafseer →30۔ 1 اس میں اہل ایمان کے لئے تسلی ہے کہ ان کے پاس وسائل رزق کی فروانی نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے اللہ کے ہاں ان کا مقام نہیں ہے بلکہ یہ رزق کی وسعت یا کمی، اس کا تعلق اللہ کی حکمت و مصلحت سے ہے جسے صرف وہی جانتا ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کو قارون بنا دے اور اپنوں کو اتنا ہی دے کہ جس سے یہ مشکل وہ اپنا گذارہ کرسکیں۔ یہ اس کی مشیت ہے۔ جس کو وہ زیادہ دے، وہ اس کا محبوب نہیں، اور وہ قوت لا یموت کا مالک اس کا مبغوض نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
15: یعنی کسی ضرورت مند کو کچھ دینے سے اس لے انکار کرنے کی نوبت آجائے کہ اس وقت تمہارے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو، لیکن تمہیں یہ توقع ہو کہ آئندہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وسعت عطا فرما دیں گے تو ایسے میں اس ضرورت مند سے نرم الفاظ میں معذرت کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →وہ اچھی طرح دیکھ کر کسی کو رزق میں راوانی دیتا ہے ، اور اچھی طرح دیکھ کر اور جان کر کسی کو رزق میں تنگ کرتا ہے ۔ وہ میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے اور بخل و اسراف کی ممانعت کرتا ہے اس لئے کہ وہ تمام حالات میں لوگوں کے بارے خبیر وبصیر ہے اور سب کچھ جانتا ہے اس لئے وہ اپنے علم کے مطابق حکم دیتا ہے۔ اور اس نے یہ قرآن نازل ہی اس لئے کیا ہے کہ تمام حالات میں یہ اچھی او سیدھی راہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
اہل جاہلیت اپنی لڑکیوں کو قتل کردیتے تھے ، اس ڈر سے کہ وہ ان پر بوجھ بن کر ان کو معاشی لحاظ سے کمزور کردیں گی اور ان کے لئے ان کا سنبھالنا مشکل ہوگا۔ سابقہ آیت میں چونکہ یہ حقیقت بتا دی گئی…
Read the full tafseer →4 یعنی تمہارے ہاتھ روکنے سے تم غنی اور دوسرا فقیر نہیں ہوجاتا۔ نہ تمہاری سخاوت سے وہ غنی اور تم فقیر بن سکتے ہو۔ فقیر و غنی بنانا اور روزی کا کم و بیش کرنا محض خدا کے قبضہ میں ہے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کہ افسوس آج ہمارے پاس نہیں ہے، یہ فقیر جو امید لے کر آیا تھا کیا کہے گا۔ فقر و غنی کے مختلف احوال بھیجنا اسی مالک علی الاطلاق کے قبضہ میں ہے۔ تمہارا کام میانہ روی سے امتثال حکم کرنا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی محتاج کو دیکھ کر بالکل بیتاب نہ ہوجا۔ اس کی حاجت روائی تیرے ذمہ نہیں۔ اللہ کے ذمہ پر ہے۔ لیکن یہ باتیں پیغمبر ﷺ کو فرمائی ہیں جو بیحد سخی واقع ہوئے تھے۔ باقی جس کے جی سے…
Read the full tafseer →آیت 30 اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ
بعض اوقات اللہ کا کوئی بندہ چاہتا ہے کہ میں کوشش کر کے اپنے فلاں نادار رشتہ دار کے حالات بہتر کردوں مگر اس کی پوری کوشش کے باوجود اس کے حالات نہیں سدھرتے۔ ایسی کیفیت کے بارے میں فرمایا گیا کہ کسی کے رزق کی تنگی اور فراخی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اس میں تم لوگوں کو کچھ اختیار نہیں۔ لہٰذا تم لوگ اپنی سی کوشش کرتے رہو اور نتائج اللہ پر چھوڑ دو۔
Read the full tafseer →35 دولتمندوں کے مال میں دوسروں کا حصہ :۔ تمہارے ہاتھ روکنے سے نہ تو تم غنی رہ سکتے ہو اور نہ ہی دینے سے فقیر ہوجاؤ گے اسی طرح جس سائل کو تم نے جواب دیا ہے اللہ اس کی ضرورت کسی اور جگہ سے پوری کرسکتا ہے اور اسے غنی بھی بنا سکتا ہے۔ رزق کی کمی بیشی سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیے خرچ کرنے میں تنگدل نہ ہونا چاہیے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ رزق کس محتاج کی دعاؤں سے تمہیں مل رہا ہے یا کس کس کا رزق تمہاری طرف منتقل ہو رہا ہے۔ لہذا تمہیں چاہیے کہ اپنے مال و دولت میں سے ضرورت مندوں پر خرچ کرتے اور ان کا حصہ انھیں ادا کرتے رہو۔
Read the full tafseer →43۔ مخلوقات کی ضرورتوں سے، مصلحتوں سے حق تعالیٰ سے بڑھ کر باخبر وواقف کار اور کون ہوسکتا ہے ؟ کیا انفرادا اور کیا اجتماعا اس کو سب کے ظاہر و باطن دونوں کی ہے۔ اس نے تقسیم دولت جملہ مقتضیات حکمت کے ساتھ کی ہے، کسی احمق، تنگ نظر، سطح بین کو اس پر زبان طعن دراز کرنے کا کوئی حق ہی نہیں۔ (آیت) ” یبسط الرزق لمن یشآء یقدر “۔ یعنی اس کی مشیت تکوینی جس کسی کے مناسب حال وسعت رزق سمجھتی ہے اس کے ذرائع وسیع کردیتی ہے، غ اور جس کے لئے اس کے برعکس سمجھتی ہے ذرائع رزق تنگ و محدود کردیتی ہے۔ غرض جو کچھ بھی ہورہا ہے یوں ہی اندھا دھند اور بغیر کسی مقصد ومصلحت کے نہیں ہورہا ہے۔ سب آئین حکمت اور نقشہ مصلحت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی بندگی نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس طریقہ پر کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں (اَحْدُھما، یَبْلُغَنَّ ) کا فاعل ہے اور ایک قراءت میں یَبْلُغان ہے، (اس صورت میں) احدھما، یَبْلُغان کے الف سے بدل ہوگا، تو تم ان سے، اُف، تک نہ کہنا، (اُفٍّ ) فاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یا تنوین اور بغیر تنوین مصدر ہے، معنی میں تَبًّا اور قُبْحًا کے ہے، (یعنی تیرا ناس ہو اور برا ہو) اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے احترام کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اور نرمی اور…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ : آپ کا رب جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی عطا فرماتا
ہے اور جس کا رزق تنگ کرنا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ لہٰذا تم اگر اپنی ضرورت کے مطابق کچھ مال روک لو گے تو تمہارا یہ عمل قابل ملامت نہیں۔
اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا : لاریب کہ وہ ہی اپنے بندوں سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے یعنی ان کے باطنی احوال کو بھی جانتا ہے اور ظاہری احوال کو بھی۔ بندوں کی جس بات میں مصلحت ہوتی ہے اللہ اس کا علم رکھتا ہے خواہ ان کو خود معلوم نہ ہو۔ آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ رزق کی تنگی و فراخی اللہ کے حکم سے ہوتی ہے اللہ ہی ان کے ظاہر…
Read the full tafseer →(30) بیشک آپ کا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے مال کی فراخی عطا فرماتا اور اس میں بھی اس کی حکمت ہوتی ہے اور اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے مال کی فراخی عطا فرماتا ہے اور اس میں بھی اس کی مصلحت ہوتی ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اور تنگی اور فراخی کو خوب دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ : یعنی اگر حد سے زیادہ خرچ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کسی کا فقر دور کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے اختیار میں نہیں، آپ جتنا بھی دے لیں اگر رب تعالیٰ اس کے رزق کا دروازہ کشادہ نہ کرے تو کوئی اسے نہیں کھول سکتا، آپ اللہ کے حکم کے مطابق اعتدال سے خرچ کریں، اس کے فقر و غنا کی فکر آپ کا کام نہیں اور نہ یہ آپ کے بس کی بات ہے۔ rnۭ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا : یعنی وہ خوب جانتا ہے کہ کسے کتنا رزق دینا ہے۔ کسی کو زیادہ اور کسی کو کم رزق دینا اس کی حکمت ہے۔ (دیکھیے شوریٰ : 27) اگر سب لوگ برابر ہوتے تو دنیا کے کام چل ہی نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
آیت نمبر 30 تا 31
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اس آیت کے بارے میں سورة الانعام میں بحث گزر چکی ہے، والحمدللہ۔ اور الإملاق سے مراد فقر و افلاس اور ملکیت کا نہ ہونا ہے۔ أملق الرجل یعنی اس کے لئے سوائے ملقات کے کچھ باقی نہیں رہا اور ملقات سے مراد بڑے بڑے ہموار اور چکنے پتھر ہیں
ہذلی نے شکاری کا وصف بنان کرتے ہوئے کہا ہے :
أتیح لھا أقیدر ذو حشیف إذا سامت علی الملقات ساما
ملقات کا واحد ملقۃ ہے۔ اور أقیدر، اقدا کی تصیغر ہے، مراد چھوٹے قد کا آدمی ہے۔ اور الحشیف من الشیاب سے مراد پرانا کپڑا ہے۔ اور سامت کا معنی مرت (وہ گزری) ہے، مراد شمرنے کہا ہے : املق لازم اور متعدی دونوں طرح ہے، املق جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
1:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے یسار بن حکم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عراق سے کپڑا لایا گیا اور آپ ﷺ بہت عطا فرمانے والے اور شریف تھے آپ نے وہ کپڑا لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیا یہ بات عرب کی ایک قوم کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس جاکر سوال کریں گے (جب یہ لوگ آئے) تو انہوں نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ کپڑا تقسیم کرنے سے فارغ ہوچکے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “ یعنی بندھا ہوا (آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما “ اور نہ بالکل کشادہ کردو ورنہ لوگ ملامت کریں گئے ” محسورا “ یعنی آپ کے ہاتھ میں کوئی چیز…
Read the full tafseer →[ان : بیشک ] [رَبَّكَ : تیرا رب ] [يَبْسُطُ : کشادہ کرتا ہے ] [الرِّزْقَ : روزی کو ] [لِمَنْ : اس کے لئے جس کے لئے ] [يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [وَيَــقْدِرُ : اور وہ اندازہ لگاتا ہے (یعنی ناپ تول کردیتا ہے جسے چاہتا ہے)] [انهٗ : یقینا وہ ] [كَان : ہے ] [بِعِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے ] [خَبِيْرًۢا : ہر حال میں باخبر رہنے والا ] [بَصِيْرًا : ہر حال میں دیکھنے والا ]
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًام بَصِیْرًا) (بلاشبہ تیرا رب جس کے لیے چاہے رزق میں فراخی دیتا ہے، اور وہ رزق میں تنگی فرما دیتا ہے بلاشبہ وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے دیکھنے والا ہے۔ )
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا تکوینی نظام بتایا ہے سب اس کے بندے ہیں وہ اپنی حکمت کے مطابق کسی کا رزق زیادہ فرماتا ہے اور کسی کے رزق میں تنگی فرما دیتا ہے وہ خبیر بھی ہے اور بصیر بھی ہے سب کا حال اسے معلوم ہے اس کے ذمہ کسی کا کچھ واجب نہیں ہے جس کو چاہے جتنا دے اور جس کو چاہے بالکل ہی نہ دے اسے پورا پورا اختیار ہے۔ بندے اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →30: یہ توحید کی تیسری عقلی دلیل ہے۔ رزق کی تنگی اور فراخی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے کوئی شخص اپنی عقل و دانش اور محنت و کاوش کے بل پر دولتمند نہیں بن سکتا۔ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں سے پورا پورا باخبر اور ان کے تمام اعمال و افعال کو دیکھ رہا ہے وہ اپنی حکمت بالغہ کے مطابق اپنے بندوں میں رزق تقسیم فرماتا ہے اللہ تعالیٰ جو سب کا رازق ومالک ہے اور پھر سب کچھ جاننے اور دیکھنے والا بھی ہے و ہی سب کا کارساز ہے لہذا اسی عبادت کرو، اسی کی نذریں منتیں دو اور حاجات میں صرف اسی کو پکارو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ پندرہ اصول بیان فرمائے ہیں جن پر اسلامی معاشرہ احسن طریقے سے چل سکتا ہے یہ گویا اسلامی ریاست یا خلافت کا منشور ہے ، اللہ نے پہلا اصول یہ بیان فرمایا کہ اس کی وحدانیت کو مانو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، دوسرا اصول یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور ان کے ساتھ نرمی ، عاجزی اور تواضع سے پیش آؤ ، اور بڑھاپے کی حالت میں ان کے ساتھ خاص طور پر احسان کرو ، اگرچہ ان کے مزاج میں درشتگی بھی آجائے تو انہیں اف تک نہ کہو ، پھر فرمایا کہ ماں باپ کے لیے نہایت عاجزی سے دعا بھی کریں کہ اے اللہ ! ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا 30ۧ
رزق
الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم،
( ر ز ق) الرزق
وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : الامخفف ان لایھ تفسیر ہے قضی کی وبالوالدین معطوف ہے الاتعبدوا پر ای قضی بالوالدین تقدیرہ و بان تحسنوا بالوالدین احسانا، امایبلغن اما ان ماتھا ان شرطیہ مازائدہ تاکید کے لیے یبلغن فعل شرط فلا تقل جواب۔ اُف اسم الفعل الذی ھوالتضجرو ھو مبنی علی الکسر لالتفاء الساکنین وتنوینہ فی قرأۃ نافع وحفص للتنکیر و من فتح طلب التخفیف مثل رب و من اتبع و من لم ینوں اراد التعریف۔ جناح الذل بالضم ضد العزو بالکسر ضدالصعوبۃ ھوالانقیاد وجعل للذل جناحاً کمافی قول لبید۔
وغداۃ ریحٍ قد کشفت وقرۃٍ
اذا اصبحت بیدالشمال زمامہا
للشمال یدوللقرۃ رمام
تفسیر : دارِآخرت کی سعی کا مجملاً ذکر ہوا ہے اب یہاں اس کی تفصیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
وَلاَ تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلاَ تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَمَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۔ اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطْ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ ط اِنَہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًم ا بَصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 29۔ 30)
(تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھے نہ رکھو اور نہ اس کو پوری طرح کھول دو کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ رہو۔ بیشک تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور ان کو دیکھنے والا ہے۔ )
اعتدال کی ہدایت
ہاتھ باندھنا استعارہ ہے بخل کے لیے اور ہاتھ کو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اخراجات میں اعتدال اختیار کرنے کے ساتھ غربت کی وجہ سے اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
بخل کا بنیادی سبب مال کم ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اسی اندیشہ کی وجہ سے لوگ اپنی اولاد کو قتل کرتے آرہے ہیں۔ بخل اور اولاد کا قتل اپنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ناصرف سنگین جرم ہیں۔ بلکہ ان کے پیچھے آدمی کے عقیدہ کی کمزوری کا بڑا عمل دخل ہوا کرتا ہے۔ ایسے سنگین جرائم سے روکنے اور عقیدہ توحید کے ضعف سے بچانے کے لیے یہ بات سمجھائی ہے کہ رزق کی کمی وبیشی انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کا رزق چاہے کشادہ فرمائے اور جس کا چاہے تنگ کر دے۔ وہ…
Read the full tafseer →رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے :
30: پھر اللہ تعالیٰ نے جو آپ ﷺ کو تنگی وغیرہ پیش آتی اس کے متعلق تسلی دی کہ یہ آپ ﷺ کی تذلیل کیلئے نہیں اور نہ آپ ﷺ کے متعلق کسی بخل کی بناء پر ہے بلکہ قدرت الٰہی کا اظہار ہے کہ رزق کا کھول دینا اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لئے فرمایا : اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآ ئُ (بےشک آپ کا رب جس کیلئے چاہتا ہے رزق کو فراخ کردیتا ہے) پس رزق کا کھول دینا آپ کے اختیار میں نہیں۔ وَیَقْدِرُ (اور تنگ کردیتا ہے) یعنی وہی تنگ کرتا ہے پس آپ پر کوئی ملامت نہیں اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًا ( بیشک وہ اپنے بندوں کے بارے میں خبردار ہے) یعنی ان کی مصلحتوں کا لحاظ کر کے…
Read the full tafseer →تفسیر : 30۔” ان ربک یبسط الرزق “ اس کا معنی ہے کہ وہ وسیع کر دے گا ۔” لمن یشاء و بقدر “ اس کو تنگ کر دے گا اور کم کر دے گا ” انہ کان بعبادہ خبیرا ً بصیراً “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
28۔ 30:۔ اوپر جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا ذکر تھا اسی کو پورا کرنے کے لیے فرمایا کہ کسی موقع پر تنگدستی کے سبب سے اگر ان لوگوں کو دینے کے قابل کچھ نہ ہو تو اللہ کے فضل کی توقع پر ان سے آئندہ سلوک کرنے کا وعدہ نرم لفظوں میں کیا جائے اب آگے بخیلی اور فراخ دستی کی ایک مثال بیان فرمائی کہ اس حسن سلوک میں نہ انسان بخیل بن جائے جیسے کسی نے اس کا ہاتھ گردن میں رسی سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ وہ دینے کے نام سے ہاتھ نہیں بڑھا سکتا نہ ایسا سخی بن جائے کہ دینے کے بعد پچھتانا پڑے۔ معتبر سند سے طبرانی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا جو شخص اپنے غریب رشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
آیت نمبر 26
(وات ذالقربیٰ حقہ) ، ، اور دے رشتے دار کو اس کا حق ، ، یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زبان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ (والمسکین) ، ، اور مسکین کو، ، یعنی زکوٰۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہوجائے۔ (وابن السمیل) ، ، اور مسافر کو ، ، اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے۔ جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ (ولا تبذیر تبذیراً ) ، ، اور بےجامت اڑا، ، پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زئا دہو جو دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اخراجات میں میانہ روی ہونی چاہیے
قول باری ہے (ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولاتبسطھا کل البسط فتفعد ملوما محسوراً اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو) یعنی …… واللہ اعلم …… ان حقوق کی ادائیگی میں بخل سے کام نہ نوجوان کے لئے واجب ہیں۔ یہ بطور مجاز بیان ہوا ہے اور اس سے مراد تر ک انفاق ہے۔ جائز خرچ سے ایک شخص ہاتھ روک کر گویا اسے اپنی گردن سے باندھ لیتا ہے اور اس طرح اپنے مال میں سے کسی کو کچھ دے نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ نجیل انسان کو ہاتھ کی تنگی کے وصف سے موصوف کرتے تھے اور کہتے فلان جعد الکفین “ (فلاں شخص…
Read the full tafseer →57۔ روزی کی تنگی و کشادگی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں :۔
سو اس سے اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ روزی کی تنگی اور کشادگی کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف ان کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب روزی کشادہ کرتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے جس کیلئے چاہتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے پوری طرح باخبر بھی ہے۔ اور سب کچھ دیکھتا جانتا بھی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے وہ اپنے بندوں کے حالات سے پوری طرح باخبر بھی ہے اور ان کو سنتا دیکھتا بھی ہے اور اس کا ہر حکم و فیصلہ حق وصدق اور اس کے بندوں کے لئے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
(رکوع نمبر 3)
اسرار و معارف
حقوق اللہ میں سب سے مقدم توحید ہے کہ جس نے توحید باری کو ہی کھو دیا اور عقیدہ درست نہ رکھا وہ بھلا اور کیا اطاعت کرسکے گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلا والدین کا ہے کہ تیرے پروردگار نے یہ طے فرما دیا کہ اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ،
(ماں باپ کے حقوق)
جس طرح کتاب اللہ میں والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے اسی طرح حدیث شریف میں اس کے بےپناہ فضائل ارشاد ہوئے ہیں ، بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ والدین تیری جنت یا دوزخ ہیں یعنی ان کی اطاعت میں جنت اور بےادبی میں دوزخ ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ سب گناہوں کی سزا مؤخر ہو سکتی ہے مگر والدین…
Read the full tafseer →ف 12 ہر ایک کی مصلحت خوب سمجھتا ہے کہ کسے دیا جائے اور کسے نہ دیا جائے ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ” میرے بعض بندے ایسے ہیں جن کو اگر فقیر کر دوں تو ان کا دین بگڑ جائے اور بعض فقیری میں اچھے رہتے ہیں اگر میں انہیں مالدار کر دوں تو ان کا دین بگڑ جائے۔ (ابن کثیر) اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان رزق کی تقسیم میں جو فرق رکھا ہے وہ ایک فطری چیز ہے جس کی حکمت و مصلحت اللہ تعالیٰ کے علم میں ملے اس نے مصنوعی طریقوں سے زبردستی ختم کرنا فطرت سے جنگ کرنا ہے جو کبھی پائیدار اور فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتی۔ البتہ اس فرق کا اعتدال پر رہنا ضروری ہے۔ اس بنا پر اسلام نے…
Read the full tafseer →17:30) یبسط۔ کھول دیتا ہے۔ مضارع واحد مذکر غائب کشادہ کردیتا ہے۔
یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ قدر مصدر (باب ضرب) وہ تنگ کرتا ہے۔ قد رعلی عیالہ اس نے اپنے اہل و عیال پر تنگی کی و قدرت علیہ الشیٔ۔ میں نے اس پر تنگی کردی گویا وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی۔ (بغیر حساب وبے اندازہ نہیں دی گئی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
ات دو ، ادا کرو۔ ذی القربی رشتے دار۔ لاتبذر فضول خرچی نہ کرو۔ اخوان بھائی۔ کفور ناشکرا، ناقدرا۔ تعرض نہ تو منہ پھیرے گا۔ ابتغاء تلاش کرنے کو۔ ترجوا تو امید رکھتا ہے۔ قول میسور نرم اور آسان بات۔ مغلولۃ بندھا ہوا۔ عنق گردن۔ لاتبسط نہ کھول۔ ملوم ملامت زدہ۔ محصور تھکا ہارا۔ یقدر اندازے سے دیتا ہے۔ تنگ کردیتا ہے۔ بصیر دیکھنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں۔
1- اپنے ضرورت مند رشتہ داروں، محتاجوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرنا۔
2- فضول خرچی سے بچنا کیونکہ فضول خرچی کرنے والا شخص اس شیطان کا بھائی ہے جو اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اب یہاں بخیلی اور فراخ دستی کی ایک مثال بیان فرمائی کہ اس حسن سلوک میں نہ انسان بخیل بن جاوے جیسے کسی نے اس کا ہاتھ گردن میں رسی سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ وہ دینے کے نام سے ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔ نہ ایسا سخی بن جاوے کہ دینے کے بعد پھر پچھتانا پڑے پھر آگے فرمایا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے، وہ اپنے بندوں کے حال سے خبردار ہے اور ہر ایک کی کیفیت دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[24] ہاتھ گردن سے باندھ لینا عربی میں کنایہ ہے بخل سے۔
[25] ہاتھ کھول دینا کنایہ ہے فضول خرچی سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
(ف 2) اس آیت میں مسلمانوں کو اعتدال کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے ، اور اسے کہا ہے کہ اپنی مالی حالت کا جائزہ لیتا رہے ۔ نہ اس قدر شاہ خرچ ہو ، کہ جو کچھ ہاتھ لگے صرف کردیا جائے ، اور بعد میں پشیمانی اٹھانا پڑے ، اور نہ بخل وامساک کا اظہار ہو ، بین بین رہے ، افسوس مسلمان آج خرچ کے معاملہ میں بالکل محتاط نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بکمال مہربانی ہے ہر بات سمجھا دی ہے ۔ مسلمان محنت سے روپیہ کماتا ہے ۔ اور رسم و رواج کی پابندیوں میں اڑا دیتا ہے ۔ اور وہ روپیہ جو اللہ کی نعمت ہے محض فضول باتوں میں ضائع ہوجاتا ہے ، آج کسب واکتساب کے جس قدر اسباب ہیں ، وہ سب مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں مگر پھر بھی…
Read the full tafseer →-30 بلاشبہ تیرا پروردگار جس کے لئے چاہتا ہے اس کا رزق فراخ اور اس کی روزی کشادہ کردیتا ہے اور وہی رزق کو تنگ اور روزی کو کس دیتا ہے بلاشبہ وہ اپنے بندوں کے حال سے پوری طرح واقف ہے اور ان کی حالت کو دیکھنے الا ہے۔ یعنی جس کی روزی کو چاہتے ہیں وسیع کردیتے ہیں اور جس کو چاہیں اس کی روزی تنگ اور نپی تلی کردیتے ہیں۔
حدیث قدسی میں ہے کہ میں اپنے کسی بندے کے رزق میں زیادتی کرتا ہوں اور یہ جانتا ہوں کہ اگر اس کی روزی میں کمی کروں گا تو وہ کفر کا ارتکاب کر بیٹھے گا اور اگر کسی کی روزی میں کمی کرتا ہوں اور یہ جانتا ہوں کہ اگر اس کی روزی فراخ کی جائے تو یہ کفر اور نافرمانی کرے گا۔ اسی لئے فرمایا۔ انہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 4۔ کہ غایت بخل سے بالکل ہی ہاتھ روک لیا جاوے۔
5۔ کہ اسراف کیا جاوے
6۔ اس سے یہ مقصود نہیں کہ کوئی کسی کا غم نہ کرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دوسرے کے نفع کے لئے اپنے کو دینی ضرر پہنچانا یا ایسی دنیوی ضرر برداشت کرنا جس کا انجام دینی ضرر ہو یہ ممنوع ہے۔
Read the full tafseer →رزق کی فراخی اور اس کانپا تلا ہونا دونوں حالتوں سے اللہ واقف ہے :
40۔ رزق کی فراخی کی تقسیم کا مسئلہ بھی بہت عجیب ہے تم دیکھتے ہو کہ کہیں دولت کی فراوانی ہے اور کہیں فقر و افلاس نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں یہ قبض وبسط اللہ تعالیٰ کی حکمت کی جلوہ گری ہے ، رزق کی کشادگی وتنگی جو کچھ بھی ہوتی ہے اسی کی مشیت کی بنا پر ہوتی ہے اور اس کی اسی مشیت میں اس کی کچھ دوسری ہی مصلحتیں کار فرما ہیں کسی کو زیادہ رزق کے معنی لازما یہی نہیں ہیں کہ اللہ اس سے بہت خوش ہے اور اسے انعام دے رہا ہے ، بسا اوقات ایک شخص اللہ تعالیٰ کا نہایت مغضوب ہوتا ہے مگر وہ اسے بڑی دولت عطا کرتا ہے اور پھر عطا کرتا ہی چلا جاتا ہے…
Read the full tafseer →Spending in the way of Allah so liberally as would throw one in trouble: The pros and cons of it
The verse, given the outer view, seems to prohibit the kind of spending following which the spender himself ends up becoming poor and needy, a prey of all sorts of hardships and anxieties. Tafsir authority, al-Qurtubi has said that this injunction covers the general condition of Muslims who would, after such spending, find the resulting hardships distressing and the whole thing would make them contrite over past give-outs and grieve about it. The word: مَّحْسُورًا (mahsura: empty-handed - 29) of…
Read the full tafseer →30. That is, man cannot realize the wisdom of the disparity of wealth among the people. Therefore, man should not try to interfere by artificial means with the natural distribution of wealth. It is wrong to level down natural inequality or to aggravate it by artificial means so as to make it unjust. Both the extremes are wrong. The best economic system is that which is established on the divine Way of the division of wealth.
As a result of the realization of the wisdom of economic disparity, no such problems arose which might have made that disparity an evil in itself so as to demand the…
Read the full tafseer →