Explained with ayahs 29–30
میانہ روی کی تعلیم
حکم ہو رہا ہے کہ اپنی زندگی میں میانہ روش رکھو نہ بخیل بنو نہ مسرف۔ ہاتھ گردن سے نہ باندھ لو یعنی بخیل نہ بنو کہ کسی کو نہ دو۔ یہودیوں نے بھی اسی محاورے کو استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ ان پر اللہ کی لعنتیں نازل ہوں کہ یہ اللہ کو بخیلی کی طرف منسوب کرتے تھے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کریم و وھاب پاک اور بہت دور ہے۔ پس بخل سے منع کر کے پھر اسراف سے روکتا ہے کہ اتنا کھل نہ کھیلو کہ اپنی طاقت سے زیادہ دے ڈالو۔ پھر ان دونوں حکموں کا سبب بیان فرماتا ہے کہ بخیلی سے تو ملامتی بن جاؤ گے ہر ایک کی انگلی اٹھے گی کہ یہ بڑا بخیل ہے ہر ایک دور ہوجائے گا کہ یہ محض…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 29
ہاتھ باندھنا ہی استعارہ ہے بخل کے لیے، اور اسے کھلا چھوڑ دینے سے مراد ہے فضول خرچی۔ دفعہ 4 کے ساتھ دفعہ 6 کے اس فقرے کو ملا کر پڑھنے سے منشاء صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں اتنا اعتدال ہونا چاہیے کہ وہ نہ بخیل بن کر دولت کی گردش کو روکیں اور نہ فضول خرچ بن کر اپنی معاشی طاقت کو ضائع کریں۔ اس کے برعکس ان کے اندر توازن کی ایسی صحیح حس موجود ہونی چاہیے کہ وہ بجا خرچ سے باز بھی نہ رہیں اور بیجا خرچ کی خرابیوں میں مبتلا بھی نہ ہو۔ فخر اور ریاء اور نمائش کے خرچ، عیاشی اور فسق و فجور کے خرچ، اور تمام ایسے خرچ جو انسان کی حقیقی ضروریات اور مفید کاموں میں صرف ہونے کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لو (کہ انتہائی بخل سے بالکل ہاتھ خرچ کرنے سے روک لو) اور نہ بالکل ہی کھول دینا چاہئے (کہ ضرورت سے زیادہ خرچ کر کے اسراف کیا جائے) ورنہ الزام خوردہ (اور) تہیدست ہو کر بیٹھ رہو گے (اور کسی کے فقر و احتیاج پر اتنا اثر لینا کہ اپنے کو پریشانی میں ڈال لو کوئی معقول بات نہیں کیونکہ) بلاشبہ تیرا رب جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور وہی (جس پر چاہئے) تنگی کردیتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں (کی حالت اور ان کی مصلحت) کو خوب جانتا ہے دیکھتا ہے (سارے عالم کی حاجات پورا کرنا تو رب العالمین ہی کا کام ہے تم اس فکر میں کیوں پڑے کہ اپنے سے ہو سکے یا نہ ہو سکے اپنے…
Read the full tafseer →وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۔
ہاتھ کو گردن سے باندھ لینا، تعبیر ہے انتہائی بخل اور خست کی اور ہاتھ کو بالکل کھلا چھوڑ دینا تعبیر ہے اسراف و تبذیر کی۔
اوپر آیات 26۔ 27 میں اسراف و تبذیر کی جو ممانعت وارد ہوئی ہے اس کے باب میں غلط فہمی سے بچانے کے لیے یہ صحیح نقطہ اعتدال کی وضاحت فرمادی کہ منشائے الٰہی یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنی ضروریات کے معاملے میں بالکل ہی بخیل و خسیس بن کر رہا جائے بلکہ صرف یہ مطلوب ہے کہ وہ اعتدال و کفایت شعاری کا رویہ اختیار کرے، نہ اپنے ہاتھ بالکل باندھ ہی لے، نہ ان کو بالکل کھلا چھوڑے…
Read the full tafseer →29۔ 1 گزشتہ آیت میں انکار کرنے کا ادب بیان فرمایا اب انفاق کا ادب بیان کیا جا رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان بخل کرے کہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات پر بھی خرچ نہ کرے اور نہ فضول خرچی ہی کرے کہ اپنی وسعت اور گنجائش دیکھے بغیر ہی بےدریغ خرچ کرتا رہے۔ بخل کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انسان، قابل ملامت و ندمت قرار پائے گا اور فضول خرچی کے نتیجے میں محسور (تھکا ہارا اور پچھتانے والا) محسور اس جانور کو کہتے ہیں جو چل چل کر تھک چکا اور چلنے سے عاجز ہوچکا ہو۔ فضول خرچی کرنے والا بھی بالآخر خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے بندھا ہوا نہ رکھ، یہ کنایہ ہے بخل سے اور ' نہ اسے بالکل ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
15: یعنی کسی ضرورت مند کو کچھ دینے سے اس لے انکار کرنے کی نوبت آجائے کہ اس وقت تمہارے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو، لیکن تمہیں یہ توقع ہو کہ آئندہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وسعت عطا فرما دیں گے تو ایسے میں اس ضرورت مند سے نرم الفاظ میں معذرت کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →اسلامی نظام زندگی میں توازن بنیادی اصول ہے ، تفریط کی طرح غلو بھی توازن میں خلل انداز ہوتا ہے۔ لیکن توازن کے بیان میں بھی تصویر کشی کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ بخیل کی تصویریوں کھینچی گئی کہ وہ ایک شخص ہے جس نے اپنے ہاتھ گردن کے ساتھ باندھ رکھے ہیں اور مسرف اور مبذر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ ایک شخص ہے جس نے اپنے دونوں ہاتھ اور بازو کھول رکھے ہیں۔ اور وہ کسی چیز کو اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اور بخیل اور مسرف دونوں کی تصویر کشی یوں کی گئی ہے کہ ایک شخس ہے جو ہر طرف سے مسترد شدہ ملامت کردہ ہے۔ اور عاجز و ناتواں اور لاچار ہے۔ محسور خیبر سے ہے اور خیبر اس سواری کو کہتے ہیں جو جعف و ناتوانی کی…
Read the full tafseer →3 سب الزام دیں کہ کنجوس مکھی چوس ہے یا یہ کہ اتنا کیوں دیا کہ آپ محتاج رہ گیا۔ غرض ہر معاملہ میں توسط و اعتدال مرعی رکھنا چاہیے۔ نہ ہاتھ اس قدر کھینچے کہ گردن سے لگ جائے اور نہ طاقت سے بڑھ کر خرچ کرنے میں ایسی کشادہ دستی دکھلائے کہ پھر بھیک مانگنی پڑے اور ہاتھ کھلے کا کھلا رہ جائے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں " فَتُعْطِیْ فَوْقَ طَاقَتِکَ وَتُخْرِجَ اَکْثَرُ مِنْ دَخَلِکَ " یعنی طاقت سے بڑھ کر یا آمدنی سے زائد خرچ کرنا بھی " ولاتبسطہا کل البسط " کے تحت میں داخل ہے۔ حدیث میں ہے " مَاعَالَ مَنِ اقْتَصَدَ " (جس نے میانہ روی اختیار کی محتاج نہیں ہوا)
Read the full tafseer →آیت 29 وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ
یہ استعارہ ہے بخل اور کنجوسی کا۔ یعنی آپ اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کے ساتھ باندھ کر کسی کو کچھ دینے سے خود کو معذور نہ کرلیں۔
وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ
بعض اوقات انسان کے اندر نیکی کا جذبہ اس قدر جوش کھاتا ہے کہ وہ اپنا سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا دینا چاہتا ہے۔
فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا
ایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں تو جذبات میں آکر انسان سارا مال قربان کر دے مگر بعد میں پچھتائے کہ یہ میں نے کیا کردیا ؟ اب کیا ہوگا ؟ اب میری اپنی ضروریات کہاں سے پوری ہوں گی ؟ چناچہ انسان کو ہر حال میں اعتدال کی روش اختیار کرنی چاہیے۔
Read the full tafseer →34 خرچ کرنے میں اعتدال :۔ اپنا ہاتھ گردن سے باندھنا محاورہ ہے جس کا معنی ہے بخل کرنا۔ یعنی خرچ کرتے وقت نہ تو بخل سے کام لینا چاہیے اور نہ اتنا زیادہ خرچ کردینا چاہیے کہ اپنی ضرورت کے لیے بھی کچھ نہ رہے اور خود انسان تکلیف میں پڑجائے۔ خواہ یہ خرچ اپنی ضرورت کے سلسلہ میں ہو یا انفاق فی سبیل اللہ کی صورت ہو۔ انفاق فی سبیل اللہ کی سب سے اونچی حد یہ ہے کہ وہ سب کچھ خرچ کردیا جائے جو ضرورت سے زائد ہو (2: 219) یعنی اس فرمان الٰہی میں بھی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنے کے لیے کہا گیا ہے سارا نہیں۔ اور رسول اللہ سے پوچھا گیا کہ افضل صدقہ کون سا ہے تو آپ نے فرمایا : الصدقۃ عن ظھر غنی یعنی وہ صدقہ جس کے…
Read the full tafseer →42۔ (جیسا کہ بےتحاشا اسراف کا نتیجہ لازمی طور پر نکلتا ہے) خرچ کے معاملہ میں اسلام کی تعلیم اعتدال، اقتصادی ومیانہ روی کی ہے۔ نہ اپنی حالت اور قدرت سے بڑھ کر خرچ اور نہ بالکل کنجوسی ہی نہ صرف بےمحل، خلاف موقع، نہ موقع ومحل پر صرف سے گریز۔ (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “۔ عربی محاورہ میں کنایہ ہے غایت بخل سے۔ اے لاتجعل یدک فی عنقھا منھا کا المغلولۃ الممنوعۃ عن الانبساط (کبیر) (آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط “۔ عربی محاورہ میں کنایہ ہے انتہائے اسراف سے۔ اے ولا تتوسع فی الانفاق توسعا مفرطا بحیث لایبقی فی یدک شیء (کبیر) (آیت) ” فتقعد “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 33۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی بندگی نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس طریقہ پر کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں (اَحْدُھما، یَبْلُغَنَّ ) کا فاعل ہے اور ایک قراءت میں یَبْلُغان ہے، (اس صورت میں) احدھما، یَبْلُغان کے الف سے بدل ہوگا، تو تم ان سے، اُف، تک نہ کہنا، (اُفٍّ ) فاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یا تنوین اور بغیر تنوین مصدر ہے، معنی میں تَبًّا اور قُبْحًا کے ہے، (یعنی تیرا ناس ہو اور برا ہو) اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے احترام کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اور نرمی اور…
Read the full tafseer →وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا : اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لو (کہ بالکل کنجوس ہوجاؤ) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سب مال فنا کر دو ) ورنہ الزام خوردہ تہی دست ہو کر بیٹھ رہو گے۔
ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود ؓ : کا بیان نقل کیا ہے ‘ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا ایک لڑکا رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میری ماں نے حضور ﷺ سے فلاں فلاں چیز مانگی ہے (یعنی کھانا یا کپڑا یا کچھ نقد وغیرہ) فرمایا آج تو ہمارے پاس کچھ نہیں ہے ‘ لڑکا بولا ‘ میری ماں کہتی ہے کہ اپنا کرتہ حضور مجھے عنایت کردیں آپ ﷺ…
Read the full tafseer →(29) اور نہ تو خرچ اور عطیہ سے اس طرح جیسا کہ ہاتھ گردن میں باندھ لیا جائے ہاتھ روک لیا جائے اور نہ بالکل ہی خرچ اور عطیہ میں اسراف کرنا چاہیے یعنی کہ اپنا تمام مال ایک محتاج اور صرف ایک قرابت دار کو نہ دینا چاہیے کہ دوسروں کا بالکل ہی نظر انداز کردیا جائے ورنہ الزام خوردہ خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہو گے کہ دوسروے فقراء اور قرابت دار الزام دیں گے اور تم سے علیحدہ ہوجائیں گے اور جو تمہارے پاس مال ہوگا وہ سب دوسرے تم سے لے جائیں گے۔
کہا گیا ہے کہ یہ آیت ایک عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جس نے رسول اکرم ﷺ سے کرتہ مانگا تھا تو آپ نے کرتہ اتار کر اس کو دے دیا اور خود برہنہ ہو کر بیٹھ گئے تو اللہ…
Read the full tafseer →وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً۔۔ : ”مَغْلُوْلَةً“ ”غُلٌّ“ سے مشتق ہے، جس کا معنی گردن کا طوق ہے، جس کے ساتھ ہاتھ بھی باندھ دیے جائیں، جیسا کہ مجرموں اور قیدیوں سے کیا جاتا ہے، مراد بخل اور کنجوسی ہے اور ”الْبَسْطِ“ (کھولنا) سے مراد سخاوت ہے۔ ”مَّحْسُوْرًا“ جو تھک ہار کر چلنے سے رہ جائے۔ یعنی بالکل بخیلی کرو گے تو خالق و مخلوق دونوں کے ہاں ملامت کیے ہوئے بن جاؤ گے اور پورا ہاتھ کھول دو گے اور سب کچھ دے کر خالی ہاتھ ہوجاؤ گے تو اہل و عیال کی ملامت کے ساتھ ساتھ زندگی کی دوڑ میں تھک ہار کر بیٹھ رہو گے، پھر ممکن ہے کہ بھیک مانگنے تک کی نوبت آجائے۔ سب سے بہتر میانہ روی ہے، جیسا کہ فرمایا :…
Read the full tafseer →آیت نمبر 29
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : ولاتجعل یدک مغلولۃً الی عنقک یہ مجاز ہے اور اس کے ساتھ اس بخیل کو تعبیر کیا گیا ہے جو اپنے دل سے اپنے مال میں سے کوئی شے نکالنے کی قدرت نہیں رکھتا، پس اس کی مثال اس طوق کے ساتھ بیان کی گئی جو تصرف بالید سے مانع ہوتا ہے۔ اور صحیح بخاری اور مسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے بخیل اور صدقہ کرنے والے کی مثال بیان فرمائی کہ وہ ایسے دو آدمیوں کی طرح ہیں جن پر لوہے کے دو جنے ہوں اس حال میں کہ ان کے ہاتھ ان کے سینے اور ان کی ہنسلی کی جانب جکڑے ہوئے ہوں پس صدقہ کرنے والا جب بھی کوئی صدقہ دیتا ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
1:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے یسار بن حکم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عراق سے کپڑا لایا گیا اور آپ ﷺ بہت عطا فرمانے والے اور شریف تھے آپ نے وہ کپڑا لوگوں کے درمیان تقسیم فرما دیا یہ بات عرب کی ایک قوم کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس جاکر سوال کریں گے (جب یہ لوگ آئے) تو انہوں نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ کپڑا تقسیم کرنے سے فارغ ہوچکے تھے اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “ یعنی بندھا ہوا (آیت) ” ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما “ اور نہ بالکل کشادہ کردو ورنہ لوگ ملامت کریں گئے ” محسورا “ یعنی آپ کے ہاتھ میں کوئی چیز…
Read the full tafseer →[وَلَا تَجْعَلْ : اور تو مت بنا ] [يَدَكَ : اپنے ہاتھ کو ] [مَغْلُوْلَةً : باندھا ہوا ] [اِلٰى عُنُقِكَ : اپنی گردن کی طرف ] [وَلَا تَبْسُطْهَا : اور تو مت کھول اس کو ] [كُلَّ الْبَسْطِ : جیسے بالکل کھولنا ہے ] [فَتَـقْعُدَ : نتیجۃً تو بیٹھ رہے ] [مَلُوْمًا : ملامت کیا ہوا ] [مَّحْسُوْرًا : تھکا ہارا ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَ لَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) (اور تو اپنے ہاتھ کو اپنی گردن کی طرف باندھا ہوا مت رکھ اور نہ اسے بالکل ہی کھول دے ورنہ تو ملامت کیا ہوا خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے گا) اس آیت میں خرچ کرنے میں میانہ روی اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے مال خرچ کرتا رہے (لیکن گناہوں میں خرچ نہ کرے اور بالکل ہی ہاتھ روک کر نہ بیٹھ جائے کہ خرچ نہ کرے) اور جب خرچ کرنے لگے تو بالکل پوری طرح ہاتھ نہ کھول دے (کہ سارا مال ختم کردے) کیونکہ ایسا کرنے سے ملوم بھی ہوگا اور محسور بھی ہوگا، ملوم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →29:۔ خرچ کرنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے کہ ایسے کنجوس اور بخیل بھی نہ بنو کہ غریبوں، محتاجوں اور ضرورت مند رشتہ داروں کی حالت پر تمہیں بالکل ہی رحم نہ آئے اور پھوٹی کوڑی بھی ان پر خرچ نہ کرو اور نہ اس قدر فراخی اور دریا دلی سے خرچ کرو کہ سب کچھ ہی دے ڈالو اور اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لیے کچھ بھی باقی نہ رہنے دو اور آخر خالی ہاتھ ندامت و حسرت سے کف افسوس ملتے رہو بالکل خیر الامور اوسطہا کے مطابق دونوں حدوں یعنی افراط وتفریط کے درمیان رہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ پندرہ اصول بیان فرمائے ہیں جن پر اسلامی معاشرہ احسن طریقے سے چل سکتا ہے یہ گویا اسلامی ریاست یا خلافت کا منشور ہے ، اللہ نے پہلا اصول یہ بیان فرمایا کہ اس کی وحدانیت کو مانو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، دوسرا اصول یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور ان کے ساتھ نرمی ، عاجزی اور تواضع سے پیش آؤ ، اور بڑھاپے کی حالت میں ان کے ساتھ خاص طور پر احسان کرو ، اگرچہ ان کے مزاج میں درشتگی بھی آجائے تو انہیں اف تک نہ کہو ، پھر فرمایا کہ ماں باپ کے لیے نہایت عاجزی سے دعا بھی کریں کہ اے اللہ ! ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری…
Read the full tafseer →وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا 29
يد
الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ،
( ی د ی ) الید
کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان
اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔
غل
الغَلَلُ أصله : تدرّع الشیء وتوسّطه، ومنه : الغَلَلُ للماء الجاري بين الشّجر، وقد يقال له :
الغیل، وانْغَلَّ فيما بين الشّجر : دخل فيه، فَالْغُلُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : الامخفف ان لایھ تفسیر ہے قضی کی وبالوالدین معطوف ہے الاتعبدوا پر ای قضی بالوالدین تقدیرہ و بان تحسنوا بالوالدین احسانا، امایبلغن اما ان ماتھا ان شرطیہ مازائدہ تاکید کے لیے یبلغن فعل شرط فلا تقل جواب۔ اُف اسم الفعل الذی ھوالتضجرو ھو مبنی علی الکسر لالتفاء الساکنین وتنوینہ فی قرأۃ نافع وحفص للتنکیر و من فتح طلب التخفیف مثل رب و من اتبع و من لم ینوں اراد التعریف۔ جناح الذل بالضم ضد العزو بالکسر ضدالصعوبۃ ھوالانقیاد وجعل للذل جناحاً کمافی قول لبید۔
وغداۃ ریحٍ قد کشفت وقرۃٍ
اذا اصبحت بیدالشمال زمامہا
للشمال یدوللقرۃ رمام
تفسیر : دارِآخرت کی سعی کا مجملاً ذکر ہوا ہے اب یہاں اس کی تفصیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
وَلاَ تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ وَلاَ تَبْسُطْہَا کُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَمَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا۔ اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطْ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ ط اِنَہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًم ا بَصِیْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 29۔ 30)
(تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھے نہ رکھو اور نہ اس کو پوری طرح کھول دو کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ رہو۔ بیشک تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کو کشادہ کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور ان کو دیکھنے والا ہے۔ )
اعتدال کی ہدایت
ہاتھ باندھنا استعارہ ہے بخل کے لیے اور ہاتھ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : فضول خرچی سے روکنے کے ساتھ بخیلی اور کنجوسی سے بھی منع کیا گیا ہے۔
دین اسلام کی یہ بھی خوبی ہے کہ دین عبادات اور معاملات دونوں میں اعتدال کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے حکم ہوا ہے کہ فضول خرچی سے بچنے کے ساتھ بخیلی سے بھی مکمل اجتناب کیا جائے۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر رسول مکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اپنا ہاتھ نہ گردن کے ساتھ لٹکائیں اور نہ اسے کلی طور پر کھول دیں۔ اگر آپ اپنا ہاتھ پورے کا پورا کھول دیں گے تو ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ رہنمائی بھی کی گئی کہ اگر آپ کے پاس کسی کو دینے کے لیے کوئی چیز نہ ہو۔ لیکن آپ کو اپنے رب کی طرف سے کوئی چیز…
Read the full tafseer →بخل و اسراف کی ممانعت :
29: وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْ لَۃً اِلٰی عُنُقِکَ (اور تم اپنے ہاتھ کو گردن سے بندھا ہوا نہ کردو) وَلَاتَبْسُطْھَاکُلَّ الْبَسْطِ اور نہ بالکل کھول دو ) یہ مصدر کی طرف اضافت کی وجہ سے منصوب ہے۔ یہ صرف کے عطاء کرنے اور بخیل کے ہاتھ روک لینے کی تمثیل ہے۔ اس میں اسراف و بخل کو چھوڑ کر میانہ روی کا حکم دیا گیا ہے۔ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا (ورنہ بیٹھ جائو گے ملامت کئے ہوئے) پس تم ہوجائو گے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملامت کیے ہوئے کیونکہ مسرف اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اور لوگوں میں بھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ فقیرک ہے گا : اس نے فلاں کو دیا اور مجھے محروم کردیا۔ اور غنی کہے…
Read the full tafseer →29۔” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “ حضرت جابر ؓ کا قول ہے کہ ایک لڑکے نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ اے اللہ کے رسول (ﷺ) میری ماں آپ سے پہننے کے لیے ایک کرتہ مانگ رہی ہے۔ حضور ﷺ کے پاس سوائے اس کرتے کے جو پہنے ہوئے تھے اور کوئی کرتہ نہ تھا۔ فرمایا امید ہے کہ فلاں وقت سے فلاں وقت کچھ آجائے ، تم کسی اور وقت آنا ، لڑکا لوٹ کر اپنی ماں کے پاس چلا گیا ، پھر لوٹ کر آیا اور عرض کیا میری ماں کہتی ہے جو کرتہ آپ ﷺ پہنے ہوئے ہیں وہی مجھے دے دیجئے ۔ یہ درخواست سن کر رسول اللہ ﷺ گھر کے اندر تشریف لے گئے اور کرتہ اتار کر اس لڑکے کو دے دیا اور برہنہ ہونے کے سبب گھر میں بیٹھے رہے۔ پھر نماز کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
28۔ 30:۔ اوپر جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا ذکر تھا اسی کو پورا کرنے کے لیے فرمایا کہ کسی موقع پر تنگدستی کے سبب سے اگر ان لوگوں کو دینے کے قابل کچھ نہ ہو تو اللہ کے فضل کی توقع پر ان سے آئندہ سلوک کرنے کا وعدہ نرم لفظوں میں کیا جائے اب آگے بخیلی اور فراخ دستی کی ایک مثال بیان فرمائی کہ اس حسن سلوک میں نہ انسان بخیل بن جائے جیسے کسی نے اس کا ہاتھ گردن میں رسی سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ وہ دینے کے نام سے ہاتھ نہیں بڑھا سکتا نہ ایسا سخی بن جائے کہ دینے کے بعد پچھتانا پڑے۔ معتبر سند سے طبرانی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا جو شخص اپنے غریب رشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
آیت نمبر 26
(وات ذالقربیٰ حقہ) ، ، اور دے رشتے دار کو اس کا حق ، ، یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زبان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ (والمسکین) ، ، اور مسکین کو، ، یعنی زکوٰۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہوجائے۔ (وابن السمیل) ، ، اور مسافر کو ، ، اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے۔ جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ (ولا تبذیر تبذیراً ) ، ، اور بےجامت اڑا، ، پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زئا دہو جو دی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اخراجات میں میانہ روی ہونی چاہیے
قول باری ہے (ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولاتبسطھا کل البسط فتفعد ملوما محسوراً اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جائو) یعنی …… واللہ اعلم …… ان حقوق کی ادائیگی میں بخل سے کام نہ نوجوان کے لئے واجب ہیں۔ یہ بطور مجاز بیان ہوا ہے اور اس سے مراد تر ک انفاق ہے۔ جائز خرچ سے ایک شخص ہاتھ روک کر گویا اسے اپنی گردن سے باندھ لیتا ہے اور اس طرح اپنے مال میں سے کسی کو کچھ دے نہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ نجیل انسان کو ہاتھ کی تنگی کے وصف سے موصوف کرتے تھے اور کہتے فلان جعد الکفین “ (فلاں شخص…
Read the full tafseer →55۔ بخل اور کنجوسی سے ممانعت :۔
سو ارشاد فرمایا گیا کہ ” اور تم اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھ کر نہیں رکھنا “۔ یعنی ایسے بخیل اور کنجوس نہیں بن جانا کہ ضروری امور میں بھی خرچ نہ کرو۔ کہ ضرورت مند اور سائل کو کچھ بھی نہ دو کہ ایسا کرنا برا اور مکارم اخلاق کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ نہایت خست ودناءت کی نشانی ہے جو کہ مومن صادق کے شایان شان نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ مومن صادق مکارم اخلاق کا اعلی اور عمدہ نمونہ ہوتا ہے اور انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے مکارم اخلاق ہی سے ہے۔ جتنے کسی کے اخلاق صحیح اور اونچے ہوں گے اتنا ہی انسان اونچا اور سر بلند ہوگا۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
56۔ فضول خرچی سے ممانعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
(رکوع نمبر 3)
اسرار و معارف
حقوق اللہ میں سب سے مقدم توحید ہے کہ جس نے توحید باری کو ہی کھو دیا اور عقیدہ درست نہ رکھا وہ بھلا اور کیا اطاعت کرسکے گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلا والدین کا ہے کہ تیرے پروردگار نے یہ طے فرما دیا کہ اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ،
(ماں باپ کے حقوق)
جس طرح کتاب اللہ میں والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے اسی طرح حدیث شریف میں اس کے بےپناہ فضائل ارشاد ہوئے ہیں ، بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ والدین تیری جنت یا دوزخ ہیں یعنی ان کی اطاعت میں جنت اور بےادبی میں دوزخ ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ سب گناہوں کی سزا مؤخر ہو سکتی ہے مگر والدین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 10 یعنی انہیں نرمی اور خوش اسلوبی سے سمجھا دو کہ بھائی ذرا انتظار کرلو جونہی کچھ آگیا تمہیں ضرور دوں گا یہ نہیں کہ ان پر خفا ہونے لگو اور انہیں سخت جواب دو چناچہ آنحضرت کے پاس جب سائل آتا اور آپ کے پاس کچھ نہ ہوتا تو فرماتے یرزقنا اللہ وایاکم من فضلہ (قرطبی)11 یعنی بالکل بخیلی کرو گے تو سب الزام دیں گے کہ کنجوس مکھی چوس ہے اور جب سب کچھ اڑا دوں گے اور خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہو گے تو ممکن ہے بھیک مانگنے تک نوبت پہنچ جائے۔ اس لئے ہمیشہ اعتدال کی راہ اختیار کرو جسے ہمیشہ نبھایا جاسکے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ماعال من اقتصد وہ شخص فقیر نہ ہوا جس نے خرچ کرنے…
Read the full tafseer →(17:29) مغلولۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ منصوب، بالکل بندھا ہوا۔ مغلولۃ الی عنق گردن سے بندھا ہوا۔ ہاتھوں کا گردن سے بندھا ہونا کے معنی دینے کے لئے کھلنے سے قاصر ہونا۔ لہٰذا بخیل کو کہیں گے کہ اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھ رہے ہیں۔ غل کے معنی ہیں باندھنا۔ جکڑنا۔ طوق۔ ہتھکڑی وغیرہ۔ ارشادہ ربانی ہے، خذوہ فغلوہ (29:30) پکڑو اس کو اور طوق پہنائو اس کو۔
ولا تبسطھا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ اور نہ ہی اسے (اپنے ہاتھ کو) بالکل کھول دے۔
فتقعد۔ تو بیٹھ جائے گا۔ ملاحظہ ہو 17:22 ۔ ملوما۔ اسم مفعول ۔ واحد مذکر۔ لوم مادہ۔ ملامت زدہ ۔ ملامت کیا ہوا۔
محسورا۔ اسم مفعول واحد مذکر۔ حسرت زدہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
ات دو ، ادا کرو۔ ذی القربی رشتے دار۔ لاتبذر فضول خرچی نہ کرو۔ اخوان بھائی۔ کفور ناشکرا، ناقدرا۔ تعرض نہ تو منہ پھیرے گا۔ ابتغاء تلاش کرنے کو۔ ترجوا تو امید رکھتا ہے۔ قول میسور نرم اور آسان بات۔ مغلولۃ بندھا ہوا۔ عنق گردن۔ لاتبسط نہ کھول۔ ملوم ملامت زدہ۔ محصور تھکا ہارا۔ یقدر اندازے سے دیتا ہے۔ تنگ کردیتا ہے۔ بصیر دیکھنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں۔
1- اپنے ضرورت مند رشتہ داروں، محتاجوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرنا۔
2- فضول خرچی سے بچنا کیونکہ فضول خرچی کرنے والا شخص اس شیطان کا بھائی ہے جو اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
اب یہاں بخیلی اور فراخ دستی کی ایک مثال بیان فرمائی کہ اس حسن سلوک میں نہ انسان بخیل بن جاوے جیسے کسی نے اس کا ہاتھ گردن میں رسی سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ وہ دینے کے نام سے ہاتھ نہیں بڑھا سکتا۔ نہ ایسا سخی بن جاوے کہ دینے کے بعد پھر پچھتانا پڑے پھر آگے فرمایا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے کم دیتا ہے، وہ اپنے بندوں کے حال سے خبردار ہے اور ہر ایک کی کیفیت دیکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
[24] ہاتھ گردن سے باندھ لینا عربی میں کنایہ ہے بخل سے۔
[25] ہاتھ کھول دینا کنایہ ہے فضول خرچی سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–35
(ف 2) اس آیت میں مسلمانوں کو اعتدال کے ساتھ رہنے کی تلقین کی ہے ، اور اسے کہا ہے کہ اپنی مالی حالت کا جائزہ لیتا رہے ۔ نہ اس قدر شاہ خرچ ہو ، کہ جو کچھ ہاتھ لگے صرف کردیا جائے ، اور بعد میں پشیمانی اٹھانا پڑے ، اور نہ بخل وامساک کا اظہار ہو ، بین بین رہے ، افسوس مسلمان آج خرچ کے معاملہ میں بالکل محتاط نہیں ، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بکمال مہربانی ہے ہر بات سمجھا دی ہے ۔ مسلمان محنت سے روپیہ کماتا ہے ۔ اور رسم و رواج کی پابندیوں میں اڑا دیتا ہے ۔ اور وہ روپیہ جو اللہ کی نعمت ہے محض فضول باتوں میں ضائع ہوجاتا ہے ، آج کسب واکتساب کے جس قدر اسباب ہیں ، وہ سب مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں مگر پھر بھی…
Read the full tafseer →-29 اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے بادنھ لے یعنی بالکل بخیل بن جائے اور نہ اس ہاتھ کو بالکل ہی کشادہ کر دے اور کھول دے کر پھر تو الزام خوردہ اور تنگ دست و تہیدست ہو کر بیٹھ رہے۔ یعنی دینے اور نہ دینے میں طریقہ متوسط تعلیم فرمایا کہ نہ تو بالکل ہی کنجوس ہو جائو کسی محتاج کو کچھ دو ہی نہیں نہ اس قدر خرچ کرو کہ بقول ابن کثیر آمدنی سے زیادہ خرچ کر ڈالو کہ محتاج ہو جائو اور ہر کوئی طعنہ دے کہ اندھے بن کر کیوں خرچ کیا تھا۔ اگر اس خرچ سے مراد وہ ہے جو غیر شرع مراسم میں خرچ کیا جائے تب ظاہر ہے کہ اوپر کی آیت میں فرمایا تھا اس کی تاکید ہوگی اور اس کے انجام کی طرف اشارہ ہوگا اور اگر خیرات کا خرچ مراد ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف 4۔ کہ غایت بخل سے بالکل ہی ہاتھ روک لیا جاوے۔
5۔ کہ اسراف کیا جاوے
6۔ اس سے یہ مقصود نہیں کہ کوئی کسی کا غم نہ کرے بلکہ مطلب یہ ہے کہ دوسرے کے نفع کے لئے اپنے کو دینی ضرر پہنچانا یا ایسی دنیوی ضرر برداشت کرنا جس کا انجام دینی ضرر ہو یہ ممنوع ہے۔
Read the full tafseer →فضول خرچی سے بچو اور جائز اخراجات سے مت گھبراؤ ‘ فضول خرچی نری ملامت ہے :
39۔ زیر نظر آیت جامع مواعظ میں سے ہے فرمایا مال و دولت خرچ کرنے اور دوسری ساری باتوں میں اعتدال کی راہ اختیار کرو کسی ایک ہی طرف کو جھک نہ پڑو مثلا خرچ کرنے پر آئے تو سب کچھ اڑا دیا ‘ احتیاط کرنی چاہی تو اتنی کی کنجوسی پر اتر آئے ، دراصل تمام محاسن کی بنیادی حقیقت توسط و اعتدال ہے اور جتنی برائیاں بھی پیدا ہوتی ہیں افراط وتفریط سے پیدا ہوتی ہیں ۔ زیر آیت میں (ملوما) کا لفظ آیا ہے لوم ملامت کرنے کو کہتے ہیں اور لائم ملامت کرنے والا ہے اس کی وضاحت عروۃ الوثقی جلد سوم کی آیت 54 میں ملے گی ۔ ” نہ تو اپنا ہاتھ اتنا سکیڑ لو…
Read the full tafseer →Commentary
The instruction for moderation in spending
In this verse, the Holy Prophet ﷺ is the direct addressee while the entire Muslim ummah is being addressed through him. The purpose is to teach a just and moderate course in spending which does not prevent one from helping others nor does it end up in a lot of trouble for him. There is an event in the background of the revelation of this verse. Ibn Marduwayh has reported it on the authority of Sayyidna ` Abdullah ibn Mas’ ud ؓ and al-Baghawi, on the authority of Sayyidna Jabir. According to this report, a boy came to the Holy Prophet ﷺ and…
Read the full tafseer →29.“And do not keep your hand fastened to your neck”, means: Do not be parsimonious.“Nor outspread it altogether widespread”means: Do not be extravagant. The Quran desires the people to follow the golden mean, i.e. they should neither be so parsimonious as to prevent the circulation of wealth nor so extravagant as to destroy their own economy. On the contrary, they should learn to behave in a balanced manner so that they should spend money wherever it should be spent and refrain from becoming spendthrifts so as to involve themselves into trouble. As a matter of fact, it is ingratitude towards…
Read the full tafseer →