Explained with ayahs 26–28
ماں باپ سے حسن سلوک کی تاکید
ماں باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو، اور حدیث میں ہے جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔ بزاز میں ہے اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لئے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک حضور ﷺ کے قبضے میں نہ تھا۔ r007ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورة برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع…
Read the full tafseer →سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 28
ان تین دفعات کا منشاء یہ ہے کہ آدمی اپنی کمائی اور دولت کو صرف اپنے لیے ہی مخصوص نہ رکھے، بلکہ اپنی ضروریات اعتدال کے ساتھ پوری کرنے کے بعد اپنے رشتہ داروں، اپنے ہمسایوں اور دوسرے حاجتمند لوگوں کے حقوق بھی ادا کرے۔ اجتماعی زندگی میں تعاون، ہمدردی اور حق شناسی و حق رسانی کی روح جاری وساری ہو۔ ہر رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کا معاون، اور ہر مستطیع انسان اپنے پاس کے محتاج انسان کا مددگار ہو۔ ایک مسافر جس بستی میں بھی جائے، اپنے آپ کو مہمان نواز لوگوں کے درمیان پائے۔ معاشرہ میں حق کا تصور اتنا وسیع ہو کہ ہر شخص ان سب انسانوں کے حقوق اپنی ذات پر اور اپنے مال پر محسوس کرے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اس آیت میں حقوق العباد سے متعلق پانچواں حکم یہ دیا گیا ہے کہ اگر کسی وقت حاجت مندوں کو ان کی ضرورت کے مطابق دینے کا انتظام نہ ہو سکے تو اس وقت بھی ان کو روکھا جواب نہ دیا جائے بلکہ ہمدردی کے ساتھ آئندہ سہولت کی امید دلائی جائے آیت کی تفسیر یہ ہے۔
اور اگر (کسی وقت تمہارے پاس ان لوگوں کو دینے کے لئے مال نہ ہو اور اس لئے) تم کو اس رزق کے انتظار میں جس کی اپنے پروردگار سے توقع ہو (اس کے نہ آنے تک) ان سے پہلوتہی کرنا پڑے تو (اتنا خیال رکھنا ان سے نرمی کی بات کہہ دینا (یعنی دل جوئی کے ساتھ ان سے وعدہ کرلینا کہ انشاء اللہ کہیں سے آئے گا تو دیں گے دل آزار جواب مت دینا)
معارف و مسائل
اس…
Read the full tafseer →وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا۔
یہ اس حالت کے لیے ہدایت ہے جب کہ بروقت کوئی شخص اس پوزیشن میں نہ ہو کہ وہ اوپر بیان کیے ہئے حقوق ادا کرسکے۔ فرمایا کہ اگر تمہارے حالات ایسے ہوں کہ مذکورہ حق داروں میں سے کسی کی امداد سے تمہیں مجبوراً اعراض ہی کرنا پڑجائے اور تمہیں توقع ہو کہ مستقبل قریب میں تمہارے حالات درست ہوجائیں گے اور تم اس کی مدد کرسکوگے تو اس سے دلداری اور ہمدردی کی بات کرو اور آئندہ کے لیے اچھے وعدے کے ساتھ اس کو رخصت کرو۔
Read the full tafseer →28۔ 1 یعنی مالی استطاعت کے فقدان کی وجہ سے، جس کے دور ہونے کی اور کشائش رزق کی تو اپنے رب سے امید رکھتا ہے۔ اگر تجھے غریب رشتے داروں، مسکینوں اور ضرورت مندوں سے اعراض کرنا یعنی اظہار معذرت کرنا پڑے تو نرمی اور عمدگی کے ساتھ معذرت کر، یعنی جواب بھی دیا جائے تو نرمی اور پیار و محبت کے لہجے میں نہ کہ ترشی اور بد اخلاقی کے ساتھ، جیسا کہ عام طور پر لوگ ضرورت مندوں اور غریبوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
15: یعنی کسی ضرورت مند کو کچھ دینے سے اس لے انکار کرنے کی نوبت آجائے کہ اس وقت تمہارے پاس دینے کے لیے کچھ نہ ہو، لیکن تمہیں یہ توقع ہو کہ آئندہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے وسعت عطا فرما دیں گے تو ایسے میں اس ضرورت مند سے نرم الفاظ میں معذرت کرسکتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
اسلام نے اقرباء ، مساکین اور مسافروں کے لئے لوگوں کے ذمہ ایک حق مقرر کیا ہے اور یہ حق ان مدات میں انفاق کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ نیز ان مدات پر خرچ محض خیرات اور مہربانی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو ہر مسلمان کی گردن پر لازم ہے۔ اور اس حق کو فریضہ قرار دینے کے بعد اسے اسلامی عقیدہ توحید اور اسلامی عبادت اور بندگی کے ساتھ منسلک کرکے اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا حق اور فریضہ ہے جس سے مکلف صرف ادائیگی کے بعد ہی بری المذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس مد میں خرچ کرنے والا تو اپنا فریضہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے اس کے اور مستفید کے درمیان محبت بھی پیدا ہوگی۔
اس کے بعد قرآن…
Read the full tafseer →2 یعنی جو کوئی ہمیشہ سخاوت کرتا ہے اور ایک وقت اس کے پاس نہیں ہے تو اللہ کے ہاں امید والے کا محروم جانا خوش نہیں آتا۔ اس محتاج کی قسمت سے اللہ سخیوں کو بھیج دیتا ہے۔ سو اس واسطے اگر ایک وقت تو نہ دے سکے تو نرم اور میٹھے طریقہ سے معذرت کر دے۔ مثلاً یہ کہہ دیا جائے کہ جب خدا ہم کو دے گا انشاء اللہ ہم تمہاری خدمت کریں گے۔ سختی اور بد اخلاقی سے جواب دینے میں اندیشہ ہے کہ کہیں اگلی خیراتیں بھی برباد نہ ہوجائیں۔
Read the full tafseer →آیت 28 وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا
کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ کوئی محتاج اپنی کسی حاجت برآری کے لیے ایسے موقع پر آپ کے پاس آتا ہے جب آپ کے پاس بھی اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ سے اچھے دنوں اور فراخ دستی کی امید تو ہے مگر وقتی طور پر آپ سائل کی حاجت سے اعراض کرنے پر مجبور ہیں اور چاہتے ہوئے بھی اس کی مدد نہیں کرسکتے۔ اگر تمہیں کسی وقت ایسی صورت حال کا سامان ہو :
فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا
ایسے موقع پر سائل کو جھڑکو نہیں بلکہ متانت اور شرافت سے مناسب الفاظ میں اس سے معذرت کرلو۔
Read the full tafseer →33 یعنی اگر تمہارا کوئی رشتہ دار اور کوئی غریب و مسکین تمہارے پاس قرض حسنہ یا امداد کے لیے آتا ہے اور تمہارے پاس دینے کو کچھ بھی موجود نہ ہو۔ البتہ یہ توقع ہو کہ اتنے دنوں تک فلاں رقم ملنے والی ہے اور اس وقت میں اسے قرض دینے یا مدد کرنے کے قابل ہوسکوں گا تو اسے نرم زبان سے بات سمجھا دو ۔ سختی اور بد اخلاقی سے جواب دینے میں یہ اندیشہ ہے کہ تم سے یہ نعمت کہیں چھن ہی نہ جائے۔
Read the full tafseer →41۔ یعنی نرم زبانی اور ان کی دلجوئی ملحوظ رکھ کر ان سے آئندہ کے لئے وعدہ کرلینا، کوئی کڑا اور دل شکن جواب انہیں ہرگز نہ دینا۔ (آیت) ” واما تعرضن عنھم “۔ یعنی جب وہ لوگ تم سے طالب اعانت ہوں اور عارضی طور پر تم خود اس وقت تہی دست ہو۔ (آیت) ” عنھم “۔ سے مراد وہی لوگ ہیں جن کا حقدار ہونا ابھی اوپر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
آیت نمبر 23 تا 30
ترجمہ : اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی بندگی نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس طریقہ پر کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں (اَحْدُھما، یَبْلُغَنَّ ) کا فاعل ہے اور ایک قراءت میں یَبْلُغان ہے، (اس صورت میں) احدھما، یَبْلُغان کے الف سے بدل ہوگا، تو تم ان سے، اُف، تک نہ کہنا، (اُفٍّ ) فاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یا تنوین اور بغیر تنوین مصدر ہے، معنی میں تَبًّا اور قُبْحًا کے ہے، (یعنی تیرا ناس ہو اور برا ہو) اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے احترام کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اور نرمی اور…
Read the full tafseer →وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا : اور اگر اپنے رب کی طرف سے جس رزق کے آنے کی تم کو امید ہو اس کے انتظار میں تم کو ان کی طرف سے رخ پھیرنا پڑے تو ان سے نرمی کے ساتھ بات کہہ دو ۔ (یعنی نرمی کے ساتھ ان سے معذرت کر دو ) تم ان پر رحم کرو گے اور نرمی سے کلام کرو گے تو اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ میسور ‘ یَسَرَ الاَّمرَسے ماخوذ ہے۔
بغوی نے لکھا ہے نرم بات کہنے سے یہ مراد ہے کہ ان سے نرمی کے ساتھ وعدہ کرلو۔ بعض کے نزدیک دعاء یسر کرنا مراد ہے یعنی ان کے لئے دعا کرو کہ اللہ تمہاری مشکل آسان کر دے۔ ہم کو اور تم کو اللہ رزق…
Read the full tafseer →(28) اور اپنے رب کی طرح طرف سے جس رزق کے آنے کی تجھے امید ہو اور اس پوشیدہ مال کے انتظار میں تجھے ان قرابت داروں اور محتاجوں سے بطور شفقت اور حیا کے پہلو تہی کرنا پڑے تو پھر ایسی صورت میں دلجوئی کے ساتھ ان سے وعدہ کرلینا کہ انشاء اللہ کہیں سے آئے گا تو دے دیا جائے گا۔
شان نزول : (آیت) ”۔ واما تعرضن عنہم“۔ (الخ)
سعید بن منصور رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عطا خراسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ مزنیہ کے کچھ لوگ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں سواری حاصل کرنے کے لیے آئے آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر میں تمہیں سوار کر دوں تو وہ روتے ہوئے غم و افسوس کے ساتھ واپس ہوئے اور…
Read the full tafseer →وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ۔۔ :”اِمَّا“ ”إِنْ“ اور ”مَا“ سے مرکب ہے، جس میں ”مَا“ ”إِنْ“ کی تاکید کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”اگر کبھی“ کیا گیا ہے، یعنی ذی القربیٰ ، مسکین اور ابن السبیل سے اعراض (بےرخی) بخل کرتے ہوئے ہرگز جائز نہیں، صرف ایک صورت میں جائز ہے کہ تمہارے پاس دینے کے لیے اس وقت کچھ نہ ہو، ہاں تمہیں اللہ کی رحمت (حلال اور وافر رزق) کے حصول کی امید ہو (جس سے ناامید ہونا کبھی جائز نہیں) تو ان سے ایسے الفاظ میں معذرت کرلو جن میں نرمی اور آسانی ہو۔ ”مَیْسُوْراً“ لفظ عموماً مجہول ہی آتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے : ”یُسِرَ فُلاَنٌ فَھُوَ مَیْسُوْرٌ، عُسِرَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 28
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اپنے اس قول کے ساتھ خاص کیا ہے : واما تعرضن عنھم ابتغآء رحمۃٍ من ربک ترجوھا اور یہ انتہائی عجیب اور خوبصورت تاویب ہے اور انتہائی عمدہ اور لطیف قول ہے، یعنی آپ ان سے غنی اور قدرت کے ہوتے ہوئے حقیر سمجھنے والوں کے اعراض کی طرح اعراض نہ کریں کہ آپ انہیں محروم کردیں۔ بلاشبہ کسی عارض آنے والے عجز اور پیش آنے والی رکاٹ (تنگدستی) کے وقت آپ کا ان سے اعراض کرنا (منہ پھیرنا) جائز ہے، اور آپ اس وقت اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے خوشحالی کا دروازہ کھولنے کی توقع اور مید رکھیں تاکہ آپ اس کے سبب سائل کی دلجوئی اور غمخواری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
1:۔ بخاری نے تاریخ میں ابن منذر نے اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے (آیت) ” وات ذا القربی “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس بار کی تعلیم دی ہے کہ کس طرح کرے جب انسان کے پاس مال ہو اور کس طرح کرنا چاہئے جب مال نہ ہو اور فرمایا۔ (آیت) ” واما تعرضن عنہم البتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا “ یعنی رشتہ دار واعزہ اگر تجھ سے سوال کریں اور تیرے پاس کوئی چیز نہ ہو تو اگر تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ملنے کا انتظار ہو۔ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ تو انشاء اللہ کہہ کر ان سے وعدہ کرلو سفیان نے فرمایا اور نبی کریم ﷺ سے وعدہ بھی ایک قرضہ ہے۔
2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →[وَاِمَا : اور جب کبھی ] [تُعْرِضَنَّ : تو اعراض کرے ] [عَنْهُمُ : ان سے ] [ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ : ایسی رحمت کی تلاش کرنے میں ] [مِّنْ رَّبِكَ : اپنے رب سے ] [تَرْجوهَا : تو امید کرتا ہے جس کی ] [فَقُلْ : تب تو کہہ ] [لَهُمْ : ان سے ] [قَوْلًا مَّيْسُوْرًا : نرم کی ہوئی بات ]
Read the full tafseer →بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ذوی القربی اور مساکین اور مسافرین کو دینے کے لیے اپنے پاس مال نہیں ہوتا یا تھوڑا بہت ہوتا ہے ایسے موقع پر جو لوگ امیدوار ہوتے ہیں لیکن ان کی مالی خدمت کرنے سے معذوری اور مجبوری ہوتی ہے مگر ساتھ ہی خرچ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ سے یہ امید بھی بندھی ہوئی ہوتی ہے کہ انشاء اللہ مال آجائے گا ایسے موقع پر ان لوگوں سے اچھے الفاظ میں اور نرم لہجے میں معذرت کرلی جائے ان کی سرزنش نہ کرے اور ایسے الفاظ نہ کہے جن سے انہیں دکھ پہنچے، مفسر ابن کثیر (فَقُلْ لَّھُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ ای عدھم وعدا بسھولۃ ولین۔
لکھتے ہیں کہ حضرت بلال اور خباب (فقرائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–38
تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت
قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔
(ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…
Read the full tafseer →28:۔ اگر آدمی کی مالی حالت کمزور ہو اور وہ رشتہ داروں، غریبوں اور دیگر مستحقین کی مالی امداد کرنے سے قاصر ہو اور وہ رحمت خداوندی کا امیدوار اور فراخی رزق کا منتظر ہو (یہ بات تقریبا ہر شخص میں پائی جاتی ہے) تو اسے چاہئے کہ وہ مستحقین کو درشتی اور کج خلقی سے جواب نہ دے بلکہ نرمی سے بات کرے اور اچھے طریقہ سے اپنا عذر پیش کرے۔ القول المیسور ھو الرد بالطریق الاحسن (کبیر ج 5 ص 577) قولا میسوار سھلا لینا و عدھم وعدا جمیلا من یسر الامر (ابو السعود ج 5 ص 576) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
ربط آیات :
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ پندرہ اصول بیان فرمائے ہیں جن پر اسلامی معاشرہ احسن طریقے سے چل سکتا ہے یہ گویا اسلامی ریاست یا خلافت کا منشور ہے ، اللہ نے پہلا اصول یہ بیان فرمایا کہ اس کی وحدانیت کو مانو اور اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، دوسرا اصول یہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو اور ان کے ساتھ نرمی ، عاجزی اور تواضع سے پیش آؤ ، اور بڑھاپے کی حالت میں ان کے ساتھ خاص طور پر احسان کرو ، اگرچہ ان کے مزاج میں درشتگی بھی آجائے تو انہیں اف تک نہ کہو ، پھر فرمایا کہ ماں باپ کے لیے نہایت عاجزی سے دعا بھی کریں کہ اے اللہ ! ان پر اسی طرح رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری…
Read the full tafseer →وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا 28
اعرض
وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ
( ع ر ض ) العرض
اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔
ابتغاء
البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
ترکیب : الامخفف ان لایھ تفسیر ہے قضی کی وبالوالدین معطوف ہے الاتعبدوا پر ای قضی بالوالدین تقدیرہ و بان تحسنوا بالوالدین احسانا، امایبلغن اما ان ماتھا ان شرطیہ مازائدہ تاکید کے لیے یبلغن فعل شرط فلا تقل جواب۔ اُف اسم الفعل الذی ھوالتضجرو ھو مبنی علی الکسر لالتفاء الساکنین وتنوینہ فی قرأۃ نافع وحفص للتنکیر و من فتح طلب التخفیف مثل رب و من اتبع و من لم ینوں اراد التعریف۔ جناح الذل بالضم ضد العزو بالکسر ضدالصعوبۃ ھوالانقیاد وجعل للذل جناحاً کمافی قول لبید۔
وغداۃ ریحٍ قد کشفت وقرۃٍ
اذا اصبحت بیدالشمال زمامہا
للشمال یدوللقرۃ رمام
تفسیر : دارِآخرت کی سعی کا مجملاً ذکر ہوا ہے اب یہاں اس کی تفصیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
وَآتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلاَ تُبَذِّرْتَبْذِیْرًا۔ اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ط وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 26۔ 27)
(اور تم قرابت دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی، اور مال کو اللے تللے نہ اڑائو۔ اللے تللے اڑا دینے والے شیطانوں کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ )
اہلِ قرابت کے حقوق
اللہ تعالیٰ کے حق عبادت اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بعد تیسرا حق ذوی القربیٰ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عقیدہ توحید مسلمانوں میں ایک معنوی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : فضول خرچی سے روکنے کے ساتھ بخیلی اور کنجوسی سے بھی منع کیا گیا ہے۔
دین اسلام کی یہ بھی خوبی ہے کہ دین عبادات اور معاملات دونوں میں اعتدال کا حکم دیتا ہے۔ اس لیے حکم ہوا ہے کہ فضول خرچی سے بچنے کے ساتھ بخیلی سے بھی مکمل اجتناب کیا جائے۔ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر رسول مکرم ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اپنا ہاتھ نہ گردن کے ساتھ لٹکائیں اور نہ اسے کلی طور پر کھول دیں۔ اگر آپ اپنا ہاتھ پورے کا پورا کھول دیں گے تو ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ رہنمائی بھی کی گئی کہ اگر آپ کے پاس کسی کو دینے کے لیے کوئی چیز نہ ہو۔ لیکن آپ کو اپنے رب کی طرف سے کوئی چیز…
Read the full tafseer →28: وَاِمَّاتُعْرِضَنَّ عَنْھُمْ (اور اگر تمہیں ان سے رخ پھیرنا پڑے) اگر تم قرابت والوں اور مساکین، ابن سبیل سے واپس لوٹانے سے حیا کرتے ہوئے اعراض کرو۔ ابْتِغَآ ئَ رَحْمَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ تَرْجُوْھَا فَقُلْ لَّھُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا ( اس رزق کی امید میں جس کے تم اپنے رب کی طرف سے امیدوار ہو تو ان کو نرمی والی بات کہو) یعنی اگر تم اس رزق کے نہ ہونے کی وجہ سے اعراض کرتے ہو جس کے ملنے کی تمہیں امید ہے تو ان کو اچھی بات کہہ کر لوٹائو۔ آیت میں رزق کو رحمت سے تعبیر فرمایا۔ اور فقدؔ کی بجائے اِبْتِغَائکا لفظ لایا گیا۔ یہ اس کا لازم ہے کیونکہ رزق کو گم پانے والا اسکا متلاشی ہوتا ہے گویا فقد ؔ سبب…
Read the full tafseer →29۔” واما تعرضن عنھم ‘ ‘ اس آیت کا نزول مھجع ، بلال وصہیب وسالم و خباب کے بارے میں ہوا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا تو وہ کوئی چیز نہیں پاتے تھے ( کہ اس سے اپنی حاجت پوری کریں) آپ ﷺ کو ان کو دینے کے لیے کوئی چیز نہیں ملی ۔ آپ ﷺ نے ان سے اعراض کیا حیاء کے بسبب اور ان کی بات سے خاموشی اختیار کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” واما تعرضن عنھم “ آپ ان سے اعراض نہ کریں بلکہ ان کی حاجت رسائی کریں ۔ ” ابتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا “ اللہ کی طرف سے رزق کا انتظار کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کہیں سے دے گا تو آپ کو عطا کردیں گے۔” فقل لھم قولا ً میسورا ً “ ان کے ساتھ نرم کلام کرو، ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
28۔ 30:۔ اوپر جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا ذکر تھا اسی کو پورا کرنے کے لیے فرمایا کہ کسی موقع پر تنگدستی کے سبب سے اگر ان لوگوں کو دینے کے قابل کچھ نہ ہو تو اللہ کے فضل کی توقع پر ان سے آئندہ سلوک کرنے کا وعدہ نرم لفظوں میں کیا جائے اب آگے بخیلی اور فراخ دستی کی ایک مثال بیان فرمائی کہ اس حسن سلوک میں نہ انسان بخیل بن جائے جیسے کسی نے اس کا ہاتھ گردن میں رسی سے اس طرح باندھ دیا ہے کہ وہ دینے کے نام سے ہاتھ نہیں بڑھا سکتا نہ ایسا سخی بن جائے کہ دینے کے بعد پچھتانا پڑے۔ معتبر سند سے طبرانی میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول ﷺ نے قسم کھا کر فرمایا جو شخص اپنے غریب رشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
آیت نمبر 26
(وات ذالقربیٰ حقہ) ، ، اور دے رشتے دار کو اس کا حق ، ، یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زبان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ (والمسکین) ، ، اور مسکین کو، ، یعنی زکوٰۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہوجائے۔ (وابن السمیل) ، ، اور مسافر کو ، ، اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے۔ جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ (ولا تبذیر تبذیراً ) ، ، اور بےجامت اڑا، ، پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زئا دہو جو دی…
Read the full tafseer →سائل کو نرمی سے جواب دیا جائے
قول باری ہے (واما تعرضن عنھم ابتغآء رحمۃ من ربک ترجوھا فقل لھوق لا میسوراً اور اگر ان سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے) تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اس رحمت کو جس کے تم امیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو ) اس آیت کی تفسیر میں بھی دو قول ہیں۔ اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ سکھایا کہ اگر ہمارے پاس دینے کے لئے کچھ نہ ہو اور ہم خالی ہاتھ ہوں تو ایسی حالت میں ہمیں ایک مسلمان سائل یا رشتہ دار یا مسافر کو جواب دینے کا کونسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ اگر تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
53۔ بےجا خرچ کرنے کی ممانعت :۔
سو ارشاد فرمایا گیا ” اور بےجا خرچ نہیں کرنا “۔ یعنی مال کو اس کی معصیت و نافرمانی میں نہیں صرف کرنا کہ یہ اسراف ہے جبکہ نیکی میں جتنا بھی خرچ کیا جائے وہ اسراف نہیں۔ چناچہ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تبذیر واسراف ناحق میں خرچ کرنا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی سارا مال بھی راہ حق میں خرچ کرلے تو اسراف نہیں کہلائے گا۔ اور اگر غیر حق میں ایک مد بھی خرچ کرے گا تو وہ اسراف اور تبذیر کہلائے گا۔ (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو رشتہ داروں مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دینے کی تعلیم و تلقین کے ساتھ اس کی بھی ہدایت فرما دی گئی کہ مال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–39
بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول
تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
(رکوع نمبر 3)
اسرار و معارف
حقوق اللہ میں سب سے مقدم توحید ہے کہ جس نے توحید باری کو ہی کھو دیا اور عقیدہ درست نہ رکھا وہ بھلا اور کیا اطاعت کرسکے گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلا والدین کا ہے کہ تیرے پروردگار نے یہ طے فرما دیا کہ اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ،
(ماں باپ کے حقوق)
جس طرح کتاب اللہ میں والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے اسی طرح حدیث شریف میں اس کے بےپناہ فضائل ارشاد ہوئے ہیں ، بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ والدین تیری جنت یا دوزخ ہیں یعنی ان کی اطاعت میں جنت اور بےادبی میں دوزخ ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ سب گناہوں کی سزا مؤخر ہو سکتی ہے مگر والدین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 10 یعنی انہیں نرمی اور خوش اسلوبی سے سمجھا دو کہ بھائی ذرا انتظار کرلو جونہی کچھ آگیا تمہیں ضرور دوں گا یہ نہیں کہ ان پر خفا ہونے لگو اور انہیں سخت جواب دو چناچہ آنحضرت کے پاس جب سائل آتا اور آپ کے پاس کچھ نہ ہوتا تو فرماتے یرزقنا اللہ وایاکم من فضلہ (قرطبی)11 یعنی بالکل بخیلی کرو گے تو سب الزام دیں گے کہ کنجوس مکھی چوس ہے اور جب سب کچھ اڑا دوں گے اور خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہو گے تو ممکن ہے بھیک مانگنے تک نوبت پہنچ جائے۔ اس لئے ہمیشہ اعتدال کی راہ اختیار کرو جسے ہمیشہ نبھایا جاسکے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ماعال من اقتصد وہ شخص فقیر نہ ہوا جس نے خرچ کرنے…
Read the full tafseer →(17:28) تعرضن۔ مضارع بانون ثقیلہ۔ واحد مذکر حاضر۔ اعراض (افعال) مصدر تو منہ پھیر لے۔ تو تغافل کرے (یعنی عدم استطاعت کی وجہ سے اعراض پر مجبور ہوجائے۔
ابتغائ۔ بروزن (افتعال) بمعنی چاہنا۔ تلاش کرنا (سخت کو شی کے لئے مخصوص ہے) یہ منصوب بوجہ مفعول لہٗ ہونے کے ہے۔ ابتغاء رحمۃ۔ رحمت کی تلاش۔ اللہ کی طرف سے رحمت کی امید۔
ترجوھا۔ جس کی تو توقع اور امید رکھتا ہے رجاء سے (نصر) ھاضمیر واحد مؤنث غائب جو رحمۃ کی طرف راجع ہے۔
میسورا۔ اسم مفعول واحد مذکر یسر سے۔ آسان ۔ نرم۔ عسر کی ضد۔ آیت کا ترجمہ ہوا۔ اگر اپنے رب کی طرف سے متوقع خوشحالی کی تلاش وجدوجہد کے دوران میں وقتی طور پر تنگدستی کی وجہ سے تجھے ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
ات دو ، ادا کرو۔ ذی القربی رشتے دار۔ لاتبذر فضول خرچی نہ کرو۔ اخوان بھائی۔ کفور ناشکرا، ناقدرا۔ تعرض نہ تو منہ پھیرے گا۔ ابتغاء تلاش کرنے کو۔ ترجوا تو امید رکھتا ہے۔ قول میسور نرم اور آسان بات۔ مغلولۃ بندھا ہوا۔ عنق گردن۔ لاتبسط نہ کھول۔ ملوم ملامت زدہ۔ محصور تھکا ہارا۔ یقدر اندازے سے دیتا ہے۔ تنگ کردیتا ہے۔ بصیر دیکھنے والا۔
تشریح : آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں۔
1- اپنے ضرورت مند رشتہ داروں، محتاجوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرنا۔
2- فضول خرچی سے بچنا کیونکہ فضول خرچی کرنے والا شخص اس شیطان کا بھائی ہے جو اللہ کا…
Read the full tafseer →تنگدستی کی حالت میں آئندہ حسن سلوک کرنے کا وعدہ
اوپر جن لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کا ذکر تھا اسی کو پورا کرنے کے لئے فرمایا کہ کسی موقع پر تنگ دستی کے سبب اگر ان لوگوں کو دینے کے قابل کچھ نہ ہو تو اللہ کے فضل کی توقع پر ان سے آئندہ سلوک کرنے کا وعدہ نرم لفظوں میں کیا جاوے۔
Read the full tafseer →[22] یعنی تنگ دستی کی حالت میں ہو اور رزق کی جستجو کر رہے ہو۔
[23] یعنی جب وہ لوگ تم سے مالی امداد کے طالب ہوں اور عارضی طور پر تم خود اس وقت تہی دست ہو تو ایسی صورت میں ان کی دل شکنی نہ کرو اور نرمی کے ساتھ سمجھا دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
انسانی حقوق کی رعایت :
(ف 1) اسلام جہاں عقائد پر زور دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ اللہ کی چوکھٹ پر جھک جائیں ، پاکباز بنیں ، اور تخلق باخلاق اللہ کے زبور سے آراستہ ہوں ، وہاں وہ حقوق انسانی کی مراعات کو بالخصوص ذکر کرتا ہے ، اور کہتا ہے عزیز داری اور قرابت کا خیال رکھو رشتہ وتعلق کی حرمت کو ملحوظ رکھو ، مسکینوں اور محتاجوں کا خیال رکھو ، مسافروں اور غریب الوطن لوگوں کی مدد کرو ، یعنی اسلام صرف زہد و تورع کا نام نہیں ، پرہیزگاری اور عبادت سے تعبیر نہیں ، بلکہ اسلام میں یہ بھی داخل ہے کہ تمہارے ماں باپ تم سے خوش ہوں ، تمہارے عزیزوں سے تمہارے تعلقات بہتر ہوں ، تمہارے دل میں مسکینوں اور غریبوں کے…
Read the full tafseer →-28 اور اگر کسی وقت مذکورہ اہل حاجت کے دینے کے لئیت یرے پاس کچھ نہ ہو اور تو اپنے رب کی اس روزی کی اور مال کی تلاش میں ہو جس کی توقع اور امید ہے اور اس مفلسی کی وجہ سے تجھ کو ان اہل حاجت سے پہلو بچانا اور اعراض کرنا پڑے تو ان سے نرم بات کہہ دیا کرو اور ان کی دل جوئی کا خیال رکھ۔ یعنی اگر کوئی ایسا موقعہ ہو کہ تمہارے پاس کچھ دینے کو نہ ہو اور تم خود اپنے رب کے اس مال کی یا روزی کی تلاش میں ہو جس کی تم کو اپنے پروردگار سے مل جانے کی امید ہو اور اس منتظرہ رزق یا مال کے آنے تک تو ان اہل حاجت سے پہلو بچانا چاہے تو اتنا ضرور کیا کر کہ اہل حاجت سے نرم بات کہہ دیا کر کہ اس وقت کچھ نہیں ایک جگہ سے آنے…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی دلجوئی کے ساتھ ان سے وعدہ کرلینا کہ انشاء اللہ تعالیٰ کہیں سے آوے گا تو دیں گے اور دل آزار جواب مت دینا۔
Read the full tafseer →38۔ بلاشبہ انسان استطاعت کے باوجود اپنے والدین اور عزیز و اقارب کی خدمت گزاری میں کوتاہی کرے تو یہ ہرگز قابل برداشت نہیں لیکن ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ اولاد خود افلاس وتنگ دستی میں گرفتار ہو ‘ وہ خود نان شبینہ کی محتاج ہو فرمایا اس مجبوری کے عالم میں وہ اپنے والدین کی خدمت کیونکر کرے گی ‘ ان کو بتایا جارہا ہے کہ محبت بھرے نرم نرم لہجہ میں باتیں کرنے پر تو کوئی لاگت نہیں آتی تو اگر اور کچھ نہیں کرسکتے تو اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے تو ان کا دل لبھاتے رہو اور دل میں یہ عزم رکھ کر کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رزق کا دروازہ کشادہ کیا تو میں اپنے والدین کی خدمت بجا لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں…
Read the full tafseer →Commentary
What an unusual moral training is being given here in this verse through the Holy Prophet ﷺ to the entire Muslim community! It is being said to them: If people needing help come to you and you have nothing to give to them, and for that reason you are compelled to turn away from them, even then, this act of turning away or excusing yourself should not be with an air of indifference, or with an attitude that could be insulting for the addressee. In fact, this turning away or seeking of excuse should be coupled with an expression of your inability or constraint.
Regarding the…
Read the full tafseer →28. These three articles are meant to impress that a man should not reserve his earnings and his wealth exclusively for his own person. He should do his utmost to fulfill his own necessities of life in a moderate way and render the rights of his relatives, neighbors and other needy persons as well. This attitude will help create the spirit of cooperation, sympathy and justice in the collective Islamic life. Thus every relative will cooperate with the other and every rich person will help the needy in his neighborhood and a wayfarer would find himself an honorable guest among generous hosts.…
Read the full tafseer →