Al-Israa 17:27

Al-Israa · from ayah 27

17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ؕ— وَكَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا ۟اِنَّ الۡمُبَذِّرِيۡنَ كَانُوۡۤا اِخۡوَانَ الشَّيٰطِيۡنِ‌ ؕ وَكَانَ الشَّيۡطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوۡرًا

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, the wasteful are brothers of the devils, and ever has Satan been to his Lord ungrateful.

— Saheeh International

Juz 15 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Israa

All translations of 17:27

فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیجا خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقین جانو کہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک بےجا خرچ کرنے والے ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان ہمیشہ سے اپنے رب کا بہت ناشکرا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا ناشکرا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

الّلے تللّے اڑا دینے والے شیطانوں کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہ بےجا خرچ کرنے والے یقینی طور پر شیطانوں کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک فضولیات میں اڑا دینے والے شیطانوں کے بھائی بند ہوتے ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً مال کو فضول اڑانے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور یقیناً شیطان اپنے رب کا بہت ہی نا شکرا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کی نعمتوں کا انکار کرنے والا ناشکرا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

for those who squander wastefully are Satan's brothers, and Satan is ever ungrateful to his Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, squanderers are brothers of satans, and the Satan is very ungrateful to his Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, squanderers are brothers of satans, and the Satan is very ungrateful to his Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, the spendthrifts are brothers of the Shayatin (devils), and the Shaytan is ever ungrateful to his Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! the squanderers were ever brothers of the devils, and the devil was ever an ingrate to his Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, the wasteful are brothers of the devils, and ever has Satan been to his Lord ungrateful.

— Saheeh International

Do not be a wasteful spender. Squanderers are the brothers of satan. Satan was faithless to his Lord.

— Muhammad Sarwar

Surely the squanderers are the fellows of the Shaitans and the Shaitan is ever ungrateful to his Lord.

— Muhammad Habib Shakir

Verily the squanderers are ever the brethren of the Satans, and the satan is ever unto his Lord ungrateful.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily spendthrifts are brothers of the Evil Ones; and the Evil One is to his Lord (himself) ungrateful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 17:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 26–28

ماں باپ سے حسن سلوک کی تاکید ماں باپ سے پھر جو زیادہ قریب ہو اور جو زیادہ قریب ہو، اور حدیث میں ہے جو اپنے رزق کی اور اپنی عمر کی ترقی چاہتا ہو اسے صلہ رحمی کرنی چاہئے۔ بزاز میں ہے اس آیت کے اترتے ہی رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ کو بلا کر فدک عطا فرمایا۔ اس حدیث کی سند صحیح نہیں۔ اور واقعہ بھی کچھ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا اس لئے کہ یہ آیت مکیہ ہے اور اس وقت تک باغ فدک حضور ﷺ کے قبضے میں نہ تھا۔ r007ھ میں خیبر فتح ہوا تب باغ آپ کے قبضے میں آیا پس یہ قصہ اس پر پورا نہیں اترتا۔ مساکین اور مسافرین کی پوری تفسیر سورة برات میں گزر چکی ہے یہاں دہرانے کی چنداں ضرورت نہیں۔ خرچ کا حکم کر کے پھر اسراف سے منع…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 25–27

سورة بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْل 27 اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے بعد انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے۔ اولاد کو والدین کا مطیع، خدمت گزار اور ادب شناس ہونا چاہیے۔ معاشرے کا اجتماعی اخلاق ایسا ہونا چاہیے جو اولاد کو والدین سے بےنیاز بنانے والا نہ ہو بلکہ ان کا احسان مند اور ان کے احترام کا پابند بنائے، اور بڑھاپے میں اسی طرح ان کی خدمت کرنا سکھائے جس طرح بچپن میں وہ اس کی پرورش اور ناز برداری کرچکے ہیں۔ یہ آیت بھی صرف ایک اخلاقی سفارش نہیں ہے بلکہ اسی کی بنیاد پر بعد میں والدین کے وہ شرعی حقوق و اختیارات مقرر کیے گئے جن کی تفصیلات ہم کو حدیث اور فقہ میں ملتی ہیں۔ نیز اسلامی معاشرے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تبذیر یعنی فضول خرچی کی ممانعت فضول خرچی کے معنی کو قرآن حکیم نے دو لفظوں سے تعبیر فرمایا ہے ایک تبذیز اور دوسرے اسراف تبذیر کی ممانعت تو اسی آیت مذکورہ میں واضح ہے اسراف کی ممانعت آیت وَلَا تُسْرِفُوْا سے ثابت ہے بعض حضرات نے فرمایا کہ دونوں لفظ ہم معنی ہیں کسی معصیت میں یا بےموقع بےمحل خرچ کرنے کو تبذیر کہتے ہیں اور جہاں خرچ کرنے کا جائز موقع تو ہو مگر ضرورت سے زائد خرچ کیا جائے اس کو اسراف کہتے ہیں اس لئے تبذیر بہ نسبت اسراف کے اشد ہے مبذرین کو شیطان کا بھائی قرار دیا گیا ہے۔ امام تفسیر حضرت مجاہد نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنا سارا مال حق کے لئے خرچ کردے تو وہ تبذیر نہیں اور اور اگر باطل کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 26–27

تفسیر آیات 26 تا 27: وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا۔ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا۔ قرابت دار، مسکین اور مسافر کا حق : عدل اور احسان کے حکم کے بعد قرآنی اوامر کی تیسری اساسی چیز ایتائے ذی القربی یعنی عزیزوں اور قرابت داروں کی خدمت ہے۔ اب یہ اس کا بیان ہورہا ہے۔ فرمایا کہ قرابت دار، مسکین اور مسافر کو اس کا حق دو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر صاحب مال کے مال میں اس کے قرابت داروں، مسکینوں اور مسافروں کا بھی حق ہے۔ یہاں لفظ " حق " کا استعمال اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

27۔ 1 تبذیر کی اصل بذر (بیج) ہے، جس طرح زمین میں بیج ڈالتے ہوئے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ صحیح جگہ پر پڑ رہا ہے یا اس سے ادھر ادھر، بلکہ کسان بیج ڈالے چلا جاتا ہے (فضول خرچی) بھی یہی ہے کہ انسان اپنا مال بیج کی طرح اڑاتا پھرے اور خرچ کرنے میں حد شرع سے تجاوز کرے اور بعض کہتے ہیں کہ تبذیر کے معنی ناجائز امور میں خرچ کرنا ہیں چاہے تھوڑا ہی ہو۔ ہمارے خیال میں دونوں ہی صورتیں تبذیر میں آجاتی ہیں۔ اور یہ اتنا برا عمل ہے کی اس کے مرتکب کو شیطان سے مشابہت ہے اور شیطان کی مماثلت سے بچنا چاہیے وہ کسی ایک ہی خصلت میں ہو، انسان کے لئے واجب ہے، پھر شیطان کو کَفُوْر (بہت ناشکرا) کہہ کر مذید بچنے کی تاکید…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 26–27

14: قرآن کریم نے یہاں ”تبذیر“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ عام طور سے تبذیر اور اسراف دونوں کا ترجمہ فضول خرچی سے کیا جاتا ہے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ اگر جائز کام میں خرچ کیا جائے۔ لیکن ضرورت یا اعتدال سے زیادہ خرچ کیا جائے تو وہ اسراف ہے اور اگر مال کو ناجائز اور گناہ کے کام میں خرچ کیا جائے تو وہ تبذیر ہے اسی لیے یہاں ترجمہ ”بیہودہ کاموں میں مال اڑانے“ سے کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 26–28

اسلام نے اقرباء ، مساکین اور مسافروں کے لئے لوگوں کے ذمہ ایک حق مقرر کیا ہے اور یہ حق ان مدات میں انفاق کے ذریعہ پورا کیا جاسکتا ہے۔ نیز ان مدات پر خرچ محض خیرات اور مہربانی ہی نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو ہر مسلمان کی گردن پر لازم ہے۔ اور اس حق کو فریضہ قرار دینے کے بعد اسے اسلامی عقیدہ توحید اور اسلامی عبادت اور بندگی کے ساتھ منسلک کرکے اسے عبادت قرار دیا گیا ہے۔ یہ ایسا حق اور فریضہ ہے جس سے مکلف صرف ادائیگی کے بعد ہی بری المذمہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس مد میں خرچ کرنے والا تو اپنا فریضہ ادا کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب سے اس کے اور مستفید کے درمیان محبت بھی پیدا ہوگی۔ اس کے بعد قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی مال خدا کی بڑی نعمت ہے جس سے عبادت میں دلجمعی ہو، بہت سی اسلامی خدمات اور نیکیاں کمانے کا موقع ملے۔ اس کو بےجا اڑانا ناشکری ہے جو شیطان کی تحریک و اغواء سے وقوع میں آتی ہے اور آدمی ناشکری کر کے شیطان کے مشابہ ہوجاتا ہے۔ جس طرح شیطان نے خدا کی بخشی ہوئی قوتوں کو عصیان واضلال میں خرچ کیا۔ اس نے بھی حق تعالیٰ کی دی ہوئی نعمت کو نافرمانی میں اڑایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 27 اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ یہاں پر مبذرین کو جو شیاطین کے بھائی قرار دیا گیا ہے اس کی منطق اور بنیاد کیا ہے ؟ یہ بات جب میری سمجھ میں آئی تو مجھ پر قرآن کے اعجاز کا ایک نیا پہلو منکشف ہوا۔ سورة المائدۃ کی آیت 91 میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : اِنَّمَا يُرِيْدُ الشَّيْطٰنُ اَنْ يُّوْقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاۗءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ”شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرے شراب اور جوئے کے ذریعے سے“ اس آیت کے مضمون پر غور کرنے سے یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ شراب اور جوا شیطان کے وہ خطرناک ہتھیار ہیں جن کی مدد سے وہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 26–27

29 رشتہ داروں کے حقوق کی تفصیل کے لیے سورة نساء کی پہلی آیت کا حاشیہ نمبر 3 ملاحظہ فرمائیے۔ 30 فقراء اور مساکین کا ہر صاحب مال کے مال میں حق ہوتا ہے اور اس کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں زکوٰۃ کی تقسیم کے لئے آٹھ مدات بیان فرمائیں تو دوسرے نمبر پر فقراء و مساکین کا ذکر فرمایا۔ ہر صاحب مال پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے خاندان کے فقراء و مساکین پر زکوٰۃ کے علاوہ بھی خرچ کرے۔ 31 مسافروں کے حقوق کے لیے دیکھئے سورة نساء کی آیت نمبر 36 (حاشیہ نمبر 67) 32 اسراف اور تبذیر میں فرق :۔ اسراف اور تبذیر میں فرق یہ ہے کہ اسراف ضرورت کے کاموں میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کو کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

40۔ (کہ حق تعالیٰ نے اس کو دولت عقل کی دی تھی مگر اس نے اسے خدا تعالیٰ کی نافرمانی میں لٹادیا) (آیت) ” اخوان الشیطین “۔ یعنی ناشکری اور کفران نعمت میں شیطان کے مشابہ وہم سطح ہوتے ہیں۔ والمراد من ھذہ الاخوۃ التشبہ بھم فی ھذا الفعل القبیح (کبیر) (آیت) ” اخوان “۔ اخ کا اطلاق عربی میں بہت وسیع اور ہر قسم کے اشتراک ومشابہت کے لئے عام ہے۔ (آیت) ” یستعار فی کل مشارک لغیرہ فی القبیلۃ اوفی الدین اوفی صنعۃ اوفی معاملۃ اوفی غیرذلک من المناسبات (راغب) العرب یسمون الملازم للشیء اخالہ فیقولون فلاں اخوالکرم والجود واخوالسفر اذا کان موا ظبا علی ھذہ الاعمال (کبیر) انسان کی مذمت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 23–30

آیت نمبر 23 تا 30 ترجمہ : اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ بجز اس کے کسی کی بندگی نہ کرنا، اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا اس طریقہ پر کہ ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا، اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں (اَحْدُھما، یَبْلُغَنَّ ) کا فاعل ہے اور ایک قراءت میں یَبْلُغان ہے، (اس صورت میں) احدھما، یَبْلُغان کے الف سے بدل ہوگا، تو تم ان سے، اُف، تک نہ کہنا، (اُفٍّ ) فاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یا تنوین اور بغیر تنوین مصدر ہے، معنی میں تَبًّا اور قُبْحًا کے ہے، (یعنی تیرا ناس ہو اور برا ہو) اور نہ ان کو جھڑکنا، اور ان سے احترام کے ساتھ نرمی سے بات کرنا، اور نرمی اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ : درحقیقت مال کو برباد کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘ یعنی شرارت میں شیطانوں کی طرح ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی قوم کے طریقہ کا پابند ہوجائے تو وہ اس قوم کا بھائی ہے۔ وَكَان الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا : اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ یعنی منکر نعمت ہے کفر اور ناشکری میں بہت بڑھ چڑھ کر ہے اس لئے اس کی پیروی درست نہیں۔ اہل تحقیق کا قول ہے کہ کسی منعم کی عطا کردہ نعمت کو اس کی رضامندی کے زیر اثر صرف کرنا شکر ہے اور نافرمانی کے راستے میں صرف کرنا تبذیر ہے۔ گویا تبذیرشکر کی ضد ہے۔ لامحالہ تبذیر کرنے والا ناشکرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(27) ایسے لوگ جو اپنے اموال کو اگرچہ ایک کوڑی ہو، حقوق اللہ کے علاوہ اور دوسرے مقام پر خرچ کرتے ہیں یہ شیطانوں کے مددگار ہوتے ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا شکرا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ۔۔ : بےجا خرچ کرنے والوں کو ہمیشہ سے شیطانوں کے بھائی، یعنی شیطانوں کے ساتھی اور ان جیسے قرار دیا اور وجہ یہ بیان فرمائی کہ شیطان ہمیشہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کی ناشکری کرتے ہوئے انھیں غلط جگہ میں خرچ کرتا ہے، اسی طرح جو شخص مالک کے دیے ہوئے مال کو مالک کی نافرمانی میں خرچ کرتا ہے اس کا بھی یہی حال ہے۔ ترجمے میں ”ہمیشہ“ کا مفہوم ”کَانُوا“ اور ”کَانَ“ سے ظاہر ہو رہا ہے۔ مفسر طنطاوی لکھتے ہیں : ”وَکَان الشَّیْطَانُ فِيْ کُلِّ وَقْتٍ وَفِيْ کُلِّ حَالٍ جَحُوْدًا لِنِعَمِ رَبِّہٖ لَا یَشْکُرُہُ عَلَیْھَا“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 26–27

آیت نمبر 26 تا 27 اس میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ قولہ تعالیٰ : واٰت ذا القربیٰ حقہ یعنی رشتہ دار کو اس کا حق اسی طرح دیا کرو جیسے تم والدین کے حق کی رعایت کرتے ہو اور صلہ رحمی کرو، پھر مسکین اور مسافر پر بھی صدقہ کرو، اور قول باری تعالیٰ : واٰت ذالقربیٰ حقہ کے بارے میں علی بن حسین نے کہا ہے : اس سے مراد حضور نبی مکرم ﷺ کے رشتہ دار ہیں، آپ ﷺ نے انہیں ان کے حقوق بیت المال سے دینے کا حکم فرمایا ہے، یعنی غزوہ اور مال غنیمت میں سے ذوالقربیٰ کے حصہ سے (ان کا حق ادا کرو) اور یہ خطاب والیوں یا ان کے قائم مقام حاکموں کو ہوسکتا ہے۔ اور اس آیت میں صلہ رحمی، حاجت کو پورا کرنے، ضرورت کے وقت مال کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 26–28

1:۔ بخاری نے تاریخ میں ابن منذر نے اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے (آیت) ” وات ذا القربی “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا اور اس بار کی تعلیم دی ہے کہ کس طرح کرے جب انسان کے پاس مال ہو اور کس طرح کرنا چاہئے جب مال نہ ہو اور فرمایا۔ (آیت) ” واما تعرضن عنہم البتغاء رحمۃ من ربک ترجوھا “ یعنی رشتہ دار واعزہ اگر تجھ سے سوال کریں اور تیرے پاس کوئی چیز نہ ہو تو اگر تجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق ملنے کا انتظار ہو۔ (آیت) ” فقل لہم قولا میسورا “ تو انشاء اللہ کہہ کر ان سے وعدہ کرلو سفیان نے فرمایا اور نبی کریم ﷺ سے وعدہ بھی ایک قرضہ ہے۔ 2:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان : بیشک ] [الْمُبَذِّرِيْنَ : بےجا مال اڑانے والے ] [كَانوْٓا : ہیں ] [اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے بھائی ] [وَكَان : اور ہے ] [الشَّيْطٰنُ : شیطان ] [لِرَبِهٖ : اپنے رب کا ] [كَفُوْرًا : انتہائی ناشکرا ] ب ذ ر [بَذْرًا : (ن) ] (1) کسی بات کو پھیلانا۔ اشاعت کرنا۔ (2) مال کو بکھیرنا۔ فضول خرچی کرنا۔ (تفعیل) تَبْذِیْرًا نام و نمود اور نمائش میں مال اڑانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 26 ۔ مُبَذِّرٌ اسم الفاعل ہے۔ نمائش میں مال اڑانے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 27

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں پر مال خرچ کرنے کا حکم فرمانے کے بعد فضول خرچی اور بےجا مال اڑانے سے منع فرمایا، سخاوت تو شریعت اسلامیہ میں محمود ہے لیکن مال کو ضائع کرنا بےجا اڑانا فضول خرچی کرنا ممنوع ہے، بہت سے لوگ گناہوں میں خرچ کردیتے ہیں اور بیوی بچوں کی فرمائشوں میں بےجا مال صرف کرتے ہیں اور اس کے لیے اپنے سر قرضے تھوپتے رہتے ہیں جن میں بعض مرتبہ سود کا لین دین بھی کر بیٹھتے ہیں اور اپنی جان کو مصیبت میں ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگ آیت کریمہ کے مضمون پر غور کریں۔ دوسرے مقام میں فرمایا ہے۔ (وَلَا تُسْرِفُوْا اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ ) (اور اسراف نہ کرو بلاشبہ اللہ اسراف کرنے والوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–38

تفصیل اعمال آخرت و احکام ہدایت قال اللہ تعالیٰ : وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ .... الیٰ .... کل ذلک سیۂ عند ربک مکروھا۔ (ربط) گزشتہ آیات میں آخرت کی سعی اور اس کی جدوجہد کا بیان تھا کہ جو آخرت کے لیے سعی کرے گا ہم اسے آخرت کی نعمتیں عطا کریں گے اب ان آیات میں ان اعمال کی تفصیل فرماتے ہیں کہ جن کے ذریعہ انسان آخرت کی نعمتیں حاصل کرسکے اور ان احکام کو بیان کرتے ہیں جن کے ذریعہ انسان ہدایت حاصل کرسکے اور آخرت کی سعی اور جدوجہد کا ذریعہ یہ اعمال ہیں اور ان احکامات کو توحید ہی سے شروع کیا اور توحید ہی پر ختم کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ تمام گناہوں میں شرک بڑے درجہ کا گناہ ہے اور درمیان میں زیادہ تر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

27:۔ کیونکہ مال و دولت کو ناجائز اور خلاف شریعت کاموں میں خرچ کرنے والے شیطان ہیں جس طرح شیاطین کا کام ہے شر و فساد پھیلانا اسی طرح مبذرین بھی شرک اور فواحش و منکرات کو عام کر کے ملک میں شر و فساد بپا کرتے ہیں اذ المبذر ساع فی افساد کا لشیاطین (قرطبی ج 10 ص 248) ۔ شیطان اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی احسان فراموش اور ناشکر گذار ہے اس لیے اس کی پیروی نہ کرو وہ تمہیں کفران و طغیان ہی کی راہ دکھائیگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 26–27

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو اپنی اجتماعی زندگی جن اصولوں پر گزارنے کی تلقین فرمائی ہے ، ان میں سے پہلے دو اصول گذشتہ درس میں بیان ہوچکے ہیں یعنی عبادت صرف اللہ کی اور والدین سے حسن سلوک ، اب آج کے درس میں تیسرا اور چوتھا اصول آرہا ہے تیسرا اصول اللہ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ قرابتداروں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو ۔ اور چوتھا یہ کہ فضول خرچی سے اجتناب کرو۔ (3) (قرابتداروں کا حق) ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وات ذالقربی حقہ “۔ اور قرابت والے کو اس کا حق دے دو ، والدین کے حق کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرابتداروں کے حق کو فائق رکھا ہے ، قرابتداروں میں قریبی عزیز بھی ہیں ، جیسے بھائی ، بہن ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا 27؀ أخ أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله تعالی: أَخا عادٍ [ الأحقاف/ 21] ، سمّاه أخاً تنبيهاً علی إشفاقه عليهم شفقة الأخ علی أخيه، وعلی هذا قوله تعالی: وَإِلى ثَمُودَ أَخاهُمْ [ الأعراف/ 73] وَإِلى عادٍ أَخاهُمْ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–30

ترکیب : الامخفف ان لایھ تفسیر ہے قضی کی وبالوالدین معطوف ہے الاتعبدوا پر ای قضی بالوالدین تقدیرہ و بان تحسنوا بالوالدین احسانا، امایبلغن اما ان ماتھا ان شرطیہ مازائدہ تاکید کے لیے یبلغن فعل شرط فلا تقل جواب۔ اُف اسم الفعل الذی ھوالتضجرو ھو مبنی علی الکسر لالتفاء الساکنین وتنوینہ فی قرأۃ نافع وحفص للتنکیر و من فتح طلب التخفیف مثل رب و من اتبع و من لم ینوں اراد التعریف۔ جناح الذل بالضم ضد العزو بالکسر ضدالصعوبۃ ھوالانقیاد وجعل للذل جناحاً کمافی قول لبید۔ وغداۃ ریحٍ قد کشفت وقرۃٍ اذا اصبحت بیدالشمال زمامہا للشمال یدوللقرۃ رمام تفسیر : دارِآخرت کی سعی کا مجملاً ذکر ہوا ہے اب یہاں اس کی تفصیل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 26–28

وَآتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلاَ تُبَذِّرْتَبْذِیْرًا۔ اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ ط وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا۔ (سورۃ بنٓیْ اسرآئِ یل : 26۔ 27) (اور تم قرابت دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی، اور مال کو اللے تللے نہ اڑائو۔ اللے تللے اڑا دینے والے شیطانوں کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ ) اہلِ قرابت کے حقوق اللہ تعالیٰ کے حق عبادت اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کے بعد تیسرا حق ذوی القربیٰ کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح عقیدہ توحید مسلمانوں میں ایک معنوی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 26–27

فہم القرآن ربط کلام : والدین کی خدمت کے بعد عزیز و اقرباء اور کمزور لوگوں کی خدمت کا حکم۔ والدین کے احترام و اکرام اور ان کی خدمت کا حکم دیتے ہوئے ان کی شان اور مرتبہ کے پیش نظر احسان کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس میں ہر قسم کا تعاون اور نیکی شامل ہے۔ لیکن رشتہ داروں پر خرچ کرنے کے لیے حق کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جس میں ایک قسم کی تاکید کے ساتھ یہ باور کروایا گیا ہے کہ رشتہ داری کے حوالے سے تمہارے مال میں ان کا حق ہے جو تمہیں ادا کرنا چاہیے۔ رشتہ داروں کے بعد مسکین اور مسافر پر خرچ کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ فضول خرچی سے بچو کیونکہ فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے ساتھی ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھو کہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تبذیر کی ممانعت : 27: اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ (بیشک فضول خرچی کرنے والے شیاطین کے بھائی ہیں) جو شرارت میں ان کی مثل ہیں۔ یہ انتہائی مذمت کا کلمہ ہے کیونکہ شیطان سے بڑھ کر کوئی شریر نہیں۔ نمبر 2۔ وہ ان کے بھائی اور دوست ہیں کیونکہ وہ اسراف وغیرہ کے کام جن کا وہ حکم دیتے ہیں ان میں ان کی پیروی کرتے ہیں۔ وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا (اور شیطان اپنے رب کا ناشکرا ہے) ان باتوں میں اطاعت کرنا مناسب ہے۔ شیطان اس کام کی طرف دعوت دیتا ہے۔ جو اس کے اپنے فعل کی طرح ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27۔” ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین “ یعنی شیطان کے دوست ہیں ۔ عرب کے قول کہ اگر کوئی شخص کسی قوم کے طریقے کا پابند ہوجائے تو وہ اس کا بھائی ہے۔ 28۔” وکان الشیطان لربہ کفورا ً “ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی نا شکری کرنے کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–27

23۔ 27:۔ سب سے بڑھ کر تو آدمی پر اللہ تعالیٰ کا حق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو پیدا کیا ہے پھر جب ماں کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کی ہر طرح کی پرورش اور تربیت دنیا میں ماں باپ کے سبب سے ہوتی ہے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور ماں باپ کا دنیوی حق یہ ذکر فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ ان بڑھاپے میں حسن سلوک سے پیش آوے اور دینی حق یہ فرمایا ان کے لیے دعا خیر کرتا رہے اگر ماں باپ کفر کی حالت میں مرجاویں اور اولاد مسلمان ہو تو ایسے ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت بموجب آیت (ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–30

آیت نمبر 26 (وات ذالقربیٰ حقہ) ، ، اور دے رشتے دار کو اس کا حق ، ، یعنی رشتہ دار کو واجب و مسنون حسن سلوک اور اکرام و تکریم میں سے اس کا حق ادا کرو اور یہ حق احوال، زبان و مکان، ضرورت اور عدم ضرورت اور اقارب میں تفاوت کے مطابق متفاوت ہوتا ہے۔ (والمسکین) ، ، اور مسکین کو، ، یعنی زکوٰۃ وغیرہ میں سے مسکین کو اس کا حق ادا کرو تاکہ اس کی مسکینی دور ہوجائے۔ (وابن السمیل) ، ، اور مسافر کو ، ، اس سے مراد وہ غریب الوطن شخص ہے۔ جو اپنے شہر سے دور پھنس کر رہ گیا ہو۔ (ولا تبذیر تبذیراً ) ، ، اور بےجامت اڑا، ، پس مال اس طریقے سے عطا کیا جائے کہ عطا کرنے والے کو نقصان پہنچے نہ اس مقدار سے زئا دہو جو دی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (ان المبذرینکانوا اخوان الشیاطین، فضول خرچ لوگ شیاھین نے بھائی ہیں) اس کی تفسیر میں دو قول ہیں اول یہ کہ انہیں شیاطین کے بھائی بند اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ ایسے لوگ ان کے نقش قدم پر چلتے اور ان کے طریقوں کو اپناتے ہیں۔ دوسرا یہ ہے کہ جہنم کے اندر ایسے لوگوں کو شیاطین سے قریب رکھا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 26–28

53۔ بےجا خرچ کرنے کی ممانعت :۔ سو ارشاد فرمایا گیا ” اور بےجا خرچ نہیں کرنا “۔ یعنی مال کو اس کی معصیت و نافرمانی میں نہیں صرف کرنا کہ یہ اسراف ہے جبکہ نیکی میں جتنا بھی خرچ کیا جائے وہ اسراف نہیں۔ چناچہ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ تبذیر واسراف ناحق میں خرچ کرنا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی سارا مال بھی راہ حق میں خرچ کرلے تو اسراف نہیں کہلائے گا۔ اور اگر غیر حق میں ایک مد بھی خرچ کرے گا تو وہ اسراف اور تبذیر کہلائے گا۔ (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو رشتہ داروں مسکینوں اور مسافروں کو ان کا حق دینے کی تعلیم و تلقین کے ساتھ اس کی بھی ہدایت فرما دی گئی کہ مال…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 23–39

بہترین آداب زندگی کے قرآنی اصول تشریح : جب ہم سوچتے ہیں کہ آخر وہ کون سی ایسی خاص بات تھی کہ جس کی وجہ سے ایک شخص اکیلا توحید کا پیغام لے کر کھڑا ہوا جو اس وقت کے لحاظ سے مالی طور پر کوئی خاص اہمیت نہ رکھتا تھا۔ اس وقت مکہ میں بہت بڑے بڑے رئوسا موجود تھے مگر اللہ نے اس شخص کو امانت، رسالت اور نبوت کے لیے منتخب کیا جو اخلاقی، کردار، حسن سلوک، پرہیزگاری، امانت دیانت اور محبت و خلوص میں سب سے بلند درجہ رکھتا تھا تو ظاہر ہوا کہ انسان کی روحانی حیثیت مادی حیثیت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے وہ مرد کامل حضرت محمد ﷺ اپنی روحانی بلندی کی وجہ سے مقبول الٰہی بندہ ہوگیا اور پھر اللہ کی وکالت اور مدد حاصل کر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 23–30

(رکوع نمبر 3) اسرار و معارف حقوق اللہ میں سب سے مقدم توحید ہے کہ جس نے توحید باری کو ہی کھو دیا اور عقیدہ درست نہ رکھا وہ بھلا اور کیا اطاعت کرسکے گا اور حقوق العباد میں سب سے پہلا والدین کا ہے کہ تیرے پروردگار نے یہ طے فرما دیا کہ اس کی ذات کے علاوہ کسی کی عبادت مت کر اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ، (ماں باپ کے حقوق) جس طرح کتاب اللہ میں والدین سے حسن سلوک کا حکم ہے اسی طرح حدیث شریف میں اس کے بےپناہ فضائل ارشاد ہوئے ہیں ، بلکہ یہاں تک ارشاد ہے کہ والدین تیری جنت یا دوزخ ہیں یعنی ان کی اطاعت میں جنت اور بےادبی میں دوزخ ہے اور یہ بھی ارشاد ہے کہ سب گناہوں کی سزا مؤخر ہو سکتی ہے مگر والدین…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اسی ” تبذیر “ کو یہاں سراف فرمایا اور مسرفین کو شیطان کا بھائی قرار دیا۔ کیونکہ جو شخص اپنے ملا کے دیئے ہوئے مال کو اس کی نافرمانی میں خرچ کرتا ہے وہ شیطان ہی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔9 یعنی مال بڑی نعمت ہے اللہ کی جس سے خاط رجمع ہو عبادت میں اور درجے بڑھیں بہشت میں اس کو بےجا اڑانا ناشکری ہے۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(17:27) المبذرین۔ فضول خرچ۔ فضول برباد کرنے والے۔ یذر۔ بیج جو کھیت میں بکھیرا جاتا ہے اسی رعایت سے مال کو (فضول) بکھیرنے والے کو مبذر کہتے ہیں۔ بذر یبذر (نصر) بکھیرنا۔ کفورا۔ صفت مشبہ۔ منصوب۔ نکرہ۔ ناشکرا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 26–30

لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30 ات دو ، ادا کرو۔ ذی القربی رشتے دار۔ لاتبذر فضول خرچی نہ کرو۔ اخوان بھائی۔ کفور ناشکرا، ناقدرا۔ تعرض نہ تو منہ پھیرے گا۔ ابتغاء تلاش کرنے کو۔ ترجوا تو امید رکھتا ہے۔ قول میسور نرم اور آسان بات۔ مغلولۃ بندھا ہوا۔ عنق گردن۔ لاتبسط نہ کھول۔ ملوم ملامت زدہ۔ محصور تھکا ہارا۔ یقدر اندازے سے دیتا ہے۔ تنگ کردیتا ہے۔ بصیر دیکھنے والا۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 30 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار بنیادی اصول ارشاد فرمائے ہیں۔ 1- اپنے ضرورت مند رشتہ داروں، محتاجوں اور مسافروں کے حقوق ادا کرنا۔ 2- فضول خرچی سے بچنا کیونکہ فضول خرچی کرنے والا شخص اس شیطان کا بھائی ہے جو اللہ کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں اسراف یعنی فضول خرچ کرنے سے روکا گیا ہے اور فضول خرچی برے مقامات پر خرچ کرنے کو کہتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا فضول خرچی نہیں ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کی نعمت کا ناشکرا ہے۔ پس انسان بھی اگر ناشکری کرے گا تو شیطان کا تابع کہلائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 26–27

[21] یعنی رشتہ داروں اور مسکینوں کی اعانت واجب ہے۔ ان کا حق ہے کہ وہ مالداروں سے اعانت طلب کریں اور مالداروں پر لازم ہے کہ ان پر احسان رکھ کر نہیں بلکہ اپنا فرض سمجھ کر ان کی اعانت کریں۔ مسکین کے بعد ابن السبیل یعنی مسافر کا حق ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ مسافر صرف مسافر ہونے کی بنا پر حقدار بنتا ہے اس امر میں شبہ نہیں ہے کہ حالت سفر بجائے خود ایسی چیز ہے جو عام حالات میں آدمی کو دوسروں کا محتاج بنا دیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–28

انسانی حقوق کی رعایت : (ف 1) اسلام جہاں عقائد پر زور دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگ اللہ کی چوکھٹ پر جھک جائیں ، پاکباز بنیں ، اور تخلق باخلاق اللہ کے زبور سے آراستہ ہوں ، وہاں وہ حقوق انسانی کی مراعات کو بالخصوص ذکر کرتا ہے ، اور کہتا ہے عزیز داری اور قرابت کا خیال رکھو رشتہ وتعلق کی حرمت کو ملحوظ رکھو ، مسکینوں اور محتاجوں کا خیال رکھو ، مسافروں اور غریب الوطن لوگوں کی مدد کرو ، یعنی اسلام صرف زہد و تورع کا نام نہیں ، پرہیزگاری اور عبادت سے تعبیر نہیں ، بلکہ اسلام میں یہ بھی داخل ہے کہ تمہارے ماں باپ تم سے خوش ہوں ، تمہارے عزیزوں سے تمہارے تعلقات بہتر ہوں ، تمہارے دل میں مسکینوں اور غریبوں کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-27 بلاشبہ مال کو بےجا اور بےموقعہ اڑانے والے شیاطین کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی مال بڑی نعمت ہے اللہ کی جس سے خاطر جمع ہو عبادت میں اور درجے بڑھیں بہشت میں اس کو بےجا اڑانا ناشکری ہے ۔ 12 خلاصہ یہ کہ مال اڑانے والا بھی ناشکر اور شیطان بھی ناشکر پس ناشکری میں دونوں بھائی بن گئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ اسراف و تبذیر کا حاصل ایک ہی ہے کہ محل معصیت میں خرچ کرنا خواہ وہ معصیت بالذات ہو جیسے شراب و قمار و زنا خواہ بالگیر ہو جیسے فعل مباح میں بہ نیت شہرت و تفاخر خرچ کرنا، اور بعض نے یہ فرق کیا ہے کہ اسراف میں جہل بالکمیة ہے کہ مقادیر حقوق سے تجاوز ہو، اور تبذیر میں جہل بالکیفیة ہے کہ محل و موقع نہ سمجے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بےمحل خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے : 37۔ اوپر بےمحل خرچ کرنے کی برائی کو بیان کیا گیا ہے ، زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت فرما دی اور اس سے سختی کے ساتھ منع کیا گیا اور بتایا کہ فضول خرچی یہ ہے کہ انسان اپنی حیثیت سے اور خصوصا موقع کی ضرورت سے زیادہ خرچ کرے چونکہ اسلام عرب میں آیا ہے اور عربوں کی فیاضی آج کل کے فیاضوں کی طرح فضول خرچی کی حد تک تھی اس لئے تمام مذاہب میں اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے فضول خرچی سے سختی سے منع کیا ہے اور انسان کو اپنی حد میں رہ کر خرچ کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ فضول خرچی کی عادت سے قومی سرمایاہ بہت بری طرح برباد ہو کر فنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The prohibition of spending wastefully (tabdhir) The Qur'an expresses the sense of spending wastefully through two words: (1) Tabdhir (تَبذیر), translated as 'squandering recklessly.' (2) Israf (اِسرِاف): extravagance. The prohibition of tabdhir is already clear in verse 26 here. The prohibition of israf has its proof in the verse of Surah al-A` raf: وَلَا تُسْرِ‌فُوا (and do not be extravagant - 7:31). Some commentators say that both words are synonymous. Any spending in sin or disobedience or a wrong occasion or place is called tabdhir and israf. There are others who refine it by saying…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–27

27. This verse enjoins that after Allah’s right, the greatest of all the human rights is the right of parents. Therefore, the children should obey and serve and respect their parents. The collective morality of society should make it incumbent on children to be grateful and respectful to their parents, they should serve them as they nursed and brought them up in their childhood. Above all, this verse is not merely a moral recommendation but is the basis of the rights and powers of parents the details of which we find in the Books of Hadith and Fiqh. Moreover, respectful behavior and obedience…

Read the full tafseer →